Skip to content
Qr








باب 12

زمین کے اس پار
(Beyond Earth)



نبرا وادی(Nubra Valley) لداخ میں ایک خوب صورت مقام ہے۔ نبرا وادی کے ایک گائوں میں گیارہ سا ل کی ایک لڑکی یانگ ڈول اور اس کا جڑواں بھائی دورجے رہتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-36-22 fucu112.pdf

انھیں اپنے گردو پیش، دلکش پہاڑی چوٹیوں اور برف زاروں سے پیار ہے لیکن ان کی پسندیدہ چیزرات کا وقت ہے جب پوراآسمان ہزاروں ستاروں سے روشن ہوتا ہے۔ (شکل 12.1) نبرا بہت بلندی (سطح سمندر سے 3150 میٹر) پر واقع ہے اور وہاں آسمان بادلوں سے تقریباً خالی رہتا ہے۔ ہوا اور روشنی کی آلودگی تقریباً نہ ہونے کی وجہ سے شب آسمان بہت صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہر رات یانگ ڈول اور دورجے ستاروں کا مشاہدہ کرکے گہری حیرت کا احساس کرتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-36-29 fucu112.pdf

بڑے ہوتے ہوئے یانگ ڈول اور دورجے اپنے بزرگوں سے ستاروں کے بارے میں دلچسپ کہانیاں سنتے رہے ہیں۔ انھوں نے سنا ہے کہ صاف آسمان میں کس طرح بعض مخصوص ستاروں نے پرانے زمانوں میں سمت معلوم کرنے میں نبرا سے گزرنے والے کاروانوں کی مدد کی تھی۔ انھیں اس پر تعجب ہوتا ہےکہ ستارے کتنی دور اور کتنے بڑے ہیں۔ انھیں ستاروں کے درمیان بعض نمونے تلاش کرنے میں بھی مزہ آتا ہے جو انھیں مانوس اشیا کی یاد دلاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی آسمان میں ستاروں پر نظر ڈال کر انھیں خیالی لکیروں کے ذریعے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔بالکل کسی ڈرائنگ میں نقطوں اور لکیروں کی طرح۔


سرگرمی 12.1: آئیے شکل بنائیں

  • شکل 12.2 میں شب آسمان کے ایک حصے میں روشن ستارے دکھائے گئے ہیں۔
  • اس کی طرف غور سے دیکھیے اور ستاروں کے جھرمٹ سے بننے والے نمونے کا تصور کرنے کی کوشش کیجیے۔
  • ستاروں کو جوڑنے کے لیے ایک لکیر کھینچیے اور نمونہ بنائیے۔
  • ایسے کسی جانور یا چیز کے بارے میں سوچیےجو آپ کے بنائے گئے نمونے کی طرح ہی ہو۔
  • مندرجہ بالا مراحل کو دہرائیے اور کچھ مزید نمونے بنایئے۔
  • اب اپنے نمونوں کے بارے میں کوئی دلچسپ کہانی سوچیے ۔
Screenshot 2025-11-07 at 16-36-37 fucu112.pdf

اپنے نمونوں کا موازنہ اپنے دوستوں کے بنائے ہوئے نمونوں سے کیجیے۔ یہ نمونے یکساں ہیں یا مختلف ؟اپنی کہانی دوسروں کو سنائیے اور دوسروں کی کہانیاں سنیے۔
کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ہر شخص کے نمونے، نام اور کہانیاں مختلف ہیں؟ کیا یہ دلچسپ کھیل نہیں ہے؟

12.1 ستارے اور جھرمٹ

رات کے وقت جب ہم آسمان کو دیکھتے ہیں تو بہت سے ستارےنظر آتے ہیں۔ بعض ستارےزیادہ روشن ہوتے ہیں اور دوسرے کم روشن- ستارے خود اپنی روشنی کے سہارے چمکتے ہیں۔


کیا ہم ستاروں کے درمیان نمونے صرف تفریح کے لیے تلاش کرتےہیں، یا ان نمونوں کا کوئی استعمال بھی ہے؟

ستاروں کے بعض مجموعے ایسے نمونے بنائے ہوئے لگتے ہیں جو مانوس اشیا کی شکلوں جیسے ہوں۔ صدیوں پہلے شب آسمان میں ستاروں کا مشاہدہ ہمارے اسلاف کا پسندیدہ وقت گزاری کا مشغلہ تھا۔ وہ ستاروں کے ان نمونوں کی شناخت جانوروں یا کہانیوں کے کرداروں کے طور پر کرتے تھے۔ بہت سی ثقافتوں میں خود اُن کی کہانیوں کی بنیاد پر نمونوں کے نام ہوتے تھے۔ ان خیالی شکلوں سے انھیں آسمان میں ستاروں کی شناخت میں مدد ملتی تھی۔

ستاروں اور ان کے نمونوں کی شناخت کرنا پرانے وقتوں میں جہاز رانی کے لیے ایک مفید ہنر تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے پہلے یا یہاں تک کہ مقناطیسی کمپاس کی ایجاد سے پہلے بھی اس سے لوگوں، خصوصاً ملاحوں اور سیاحوں کو، سمند رمیں اور خشکی پر سمت معلوم کرنے میں مدد ملتی تھی۔ اس کا استعمال اب بھی ہنگامی حالا ت میں امدادی طریقے کے طور پر کیا جاتا ہے۔

پرانے وقتوں میں نمومے بنانے والے ستاروں کے مجموعوں کو جھرمٹ کہا جاتا تھا۔ اب آسمان کے اُن حصوں کو، جہاں یہ نمونے واقع ہیں، جھرمٹ کہا جاتا ہے۔اگرچہ جھرمٹ میں ستاروں کے نمونے کا عمل بہت نمایاں ہے۔ تاہم ستاروں کے مجموعوں کے لیےآج بھی جھرمٹ کی اصطلاح عموماً استعمال ہوتی ہے۔ ایک جھرمٹ کے اندر ستاروں کے متعدد نمونے ہو سکتے ہیں۔


پرانے زمانے میں مختلف ثقافتیں جھرمٹ کی حدبندی کومختلف طریقوں سے واضح کرتی تھی۔بیسوی صدی کے ابتدائی مرحلہ میں انٹرنیشنل ایسٹرونومکل یونین (IAU)نے ایک بین الاقوامی سطح کی متفقہ حد بندی کومتعارف کرایا ۔ اب فلکیات کے عالمی ادارے انٹرنیشنل ایسٹرونومکل یونین (IAU) نے پورے آسمان کو 88 جھرمٹوں میں تقسیم کیاہے۔آسمان کے ان حصوں کو اب جھرمٹ کہا جاتا ہے۔


مزید جانیے!

شکل 12.3 میں بعض جھرمٹ دکھائے گئے ہیں۔ ستاروں کو خیالی لکیروں سے جوڑا گیا ہے جو آسانی سے پہچان کے لیے کھینچی گئی ہیں۔اورائن (Orion) نام کا جھرمٹ اکثر شکاری کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔درمیان میں تین ستارے ہیں جو شکاری کی پیٹی کی علامت ہیں۔ بعض لوگوں کا تصو ر یہ ہے کہ شکاری اورائن جس کا تعاقب اس کا کتا (جھرمٹ’کلب اکبر‘Canis Major) کر رہا ہے کسی سانڈ (جھرمٹ ‘ثور’Taurus) سے لڑ رہا ہے۔ کلب اکبر میں ایک سیریئس (Sirius)نام کا ستارہ شامل ہے جو شب آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے۔ (شکل 12.3)

Screenshot 2025-11-07 at 16-36-49 fucu112.pdf

(لال لکیریں ستاروں کے نمونوں اور سبز لکیریں آسمان کے حصوں یعنی جھر مٹوں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ لکیریں آسمان میں دکھائی نہیں دیتیں، انھیں صرف آسانی سے پہچان کے لیے کھینچا گیا ہے۔)


Screenshot 2025-11-07 at 16-36-57 fucu112.pdf

ہندوستانی فلکیات میں نکشتر کی اصطلاح مخصوص ستارے یا ستاروں کے مجموعے کی نشاندہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے، مثلاً اردرا ( اورائن جھرمٹ میں Betelgeuse کہلانے والا ستارہ اور کرتیکا
(ثور جھرمٹ میں Pleiades کہلانے والا ستاروں کا مجموعہ)۔ ثور جھرمٹ میں ایک ستارے Aldebaran کو روہنی کہتے ہیں۔


مزید جانیے!

ستاروں کے دو نمایاں نمونےبگ ڈپر( Big Dipper) اور لٹل ڈپر (Little Dipper) کو شکل 12.4 میں دکھایا گیاہے۔قطب تارہ یا پولارس (Polaris) بھی جو لٹل ڈپر کاحصہ ہے کو (شکل 12.4)میں دکھا گیا ہے۔

قطب تارا شمال کی جانب ساکت حالت میں نمودار ہوتا ہے۔جو شمال میں شمال کی سمت شناخت کرنے میں مدد کرتا ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-37-09 fucu112.pdf

بگ ڈپرجھرمٹ دبِّ اکبر (Ursa Major)کا حصہ ہے جبکہ لٹل ڈپر جھرمٹ دبِّ اصغر (Ursa Minor) میں واقع ہے۔ Big Dipperکو سپت رِشی یا سیمائی کاڈو کہا جاتا ہے اور قطب تارا کو دھروتارا یا دھرونکشترم یا ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دیگر ناموں سے جانا جاتا ہے۔


مزید جانیے!


جھرمٹوں میں ستاروں سے متعلق عام علاقائی کہانیوں کے علاوہ ہندوستان میں جنگلوں میں رہنے والی آبادیوں یا قبائل کی اُن کی خوداپنی کہانیاں ہیں۔ مثال کے طور پر بگ ڈپرمیں چار ستارے جو تقریباً ایک مستطیل کی تشکیل کرتے ہیں، انھیں وسطی ہندوستان میں دادی ماں کی چار پائی تصور کرتے ہیں جسے تین چور (دیگر تین ستارے) چرا رہے ہیں۔ساحلِ کونکن کے ماہی گیر چاروں ستاروں کو ایک کشتی تصور کرتے ہیں جس میں آخری تین ستارے کشتی کی گردن ہیں۔


کیا آپ جانتے ہیں؟


آپ رات کے وقت آسمان میں ان میں سے بعض جھرمٹوں کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟


2.12 رات میں آسمان کا مشاہدہ

رات کو اگر آسمان پر بادل نہ گھرے ہوں تو اس میں بڑی تعداد میں ستارے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اگر آپ بڑے شہر میں رہتے ہیں تو شاید آپ جان سکتے ہیں کہ آسمان کبھی کبھار ہی صاف ہوتا ہے اور رات کے وقت آسمان میں چند ستارے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ روشنی کی آلودگی، دھواں اور گرد ہیں۔ رات کے وقت مصنوعی روشنی کی بکثرت موجودگی کو روشنی کی آلودگی کہتےہیں۔ گائوں یا ان علاقوں سے جہاں روشنی مدھم ہوتی ہے ، بڑی تعداد میں ستارے دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا گھراونچی عمارتوں اور درختوں سے گھرا ہو جو منظر میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ رات میں آسمان کو بہترین کھلے اورتاریک علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔


پوری دنیا میں روشنی کی آلودگی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے شب آسمان میں اشیا سے لطف اٹھانے اور اُن کا مشاہدہ کرنے کی صلاحیت میں کمی آ رہی ہے۔ دنیا بھر میں بعض تاریک آسمان والے محفوظ مکانات اور پارک قائم کیے گئے ہیں۔ محفوظ مقام پر روشنی کی آلودگی کی تحقیق کے لیے تاریک آسمانوں کو محفوظ رکھنے کی غرض سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ایسی چند تنظیمیں ہیں جو روشنی کی آلودگی کو کم کرنے سے متعلق لوگوں کو بیدار کر رہی ہیں۔


کیا آپ جانتے ہیں؟


کیا ہم کسی رات اپنے محلِ وقوع سے اپنی پسند کے کسی جھرمٹ یا ستارے کو دیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟

زمین پر تمام مقامات اور سال کی تمام راتوں میں تمام ستاروں اورجھرمٹوں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ مثال کے طور پر قطب تا رہ زمین کے جنوبی نصف کرے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کسی ستارے یا جھرمٹ کی شناخت کرنے کے لیے آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کوئی جھرمٹ کیسا دکھائی دیتا ہے اور شب آسمان میں اسے کہاں تلاش کیا جائے۔ جھرمٹ کے نمونے سے مانوس ہونے کے لیے آپ شبیہوں کا استعمال کر سکتے ہیں مثلاً شکلیں12.3 اور 12.4۔ یہ جاننے کے لیے کہ کس روز آسمان کے کس حصے میں کسی ستارے یا جھرمٹ کو آپ کے مقام سے دیکھا جا سکے گا، آپ اسکائی میپنگ ایپلی کیشنز کی مدد لے سکتے ہیں، جنھیں موبائل فون یا دیگر آن لائن وسائل پر ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔


گوگل اسکائی موبائل نمونوں سے نشاندہی کرنے کا بہت آسان ایپ ہے۔ اسٹیلیریم (Stellarium) اس طرح کی ایک اور ایپ ہے۔ ا سٹیلیریم کا کمپیوٹری روپ مفت ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے اور اس میں کئی خصوصیات ہیں۔


مزید جانیے!


شب آسمان کے مشاہدے کی تیاری

  • بالغ افراد کی رہنمائی میں شب آسمان کے مشاہدے کے لیے تاریک کھلی جگہ کی نشاندہی کیجیے۔ یہ جگہ روشنیوں، اونچی عمارتوں اور درختوں سے دور ہونی چاہیے۔
  • اس بنیاد پر کہ شب آسمان میں آپ کس چیز کی نشاندہی کا ارادہ رکھتے ہیں تاریخ اور دن کا انتخاب کیجیے۔
  • خصوصاً قطب تارے کے لیے جو بہت روشن نہیں ہوتا ،بادلوں سے خالی بغیر چاند والی رات کا انتخاب کیجیے۔
  • اسکائی میپ والا موبائل ایپ یا اُن جھرمٹوں کی جنھیں آپ دیکھنے کاارادہ رکھتے ہیں، پرنٹ آئوٹ شبیہیں رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔آپ سمتیں معلوم کرنے کے لیے مقناطیسی کمپاس اور اپنے مشاہدات درج کرنے یا ان کی تصویر بنانے کے لیے نوٹ بک بھی لا سکتے ہیں۔
  • مخصوص دن اور منتخب کردہ وقت پر کسی بالغ فرد کے سا تھ مقررہ مقام پر جائیے جہاں شب آسمان کا مشاہدہ کیا جا تا ہے۔
  • وہاں پہنچنے کے بعد تقریباً نصف گھنٹہ انتظار کیجیے تاکہ آپ کی آنکھیں تاریکی سے مانوس ہوجائیں۔ اس سے آپ کو بہتر طور پر شب آسمان کودیکھنے میں مدد ملے گی(شکل12.5)۔
Screenshot 2025-11-07 at 16-37-20 fucu112.pdf

انتباہ

کسی بالغ شخص کو اپنے ساتھ لیے بغیر رات کو تاریک کھلی جگہ پر نہ جائیں۔

آپ شب آسمان میں بگ ڈپر کی نشاندہی آسانی سے کر سکتے ہیں۔


سرگرمی 12.2: آئیے مقام کے تعین کی کوشش کریں

  • بگ ڈپر کی تلاش گرمی کے دنوں میں رات کے شروع کے حصے میں یعنی 9 بجے کے قریب کیجیے۔ آسمان کے شمالی حصے کی طرف افق کے اوپر آسمان کو دیکھیے اور بگ ڈپر کی نشاندہی کیجیے۔
  • جب آپ بگ ڈپرکی نشاندہی کرلیں تو قطب تارے کے مقام کے تعین کی کوشش کیجیے۔ ڈپر کی پیالی کے سرے پر موجوددو ستاروں کو دیکھیں اور شمال کی طرف اُن میں سے گزرتی ہوئی سیدھی لکیر کا تصور کیجیے۔ ان دو ستاروں کے درمیانی فاصلے کے تقریباً پانچ گنا فاصلے پر خیالی لکیر ایک اور ستارے کی طرف لے جائے گی جو بہت روشن نہیں ہے۔ یہی ستارہ قطب تارا ہے۔

سرگرمی 12.3: آئیے نشاندہی کی کوشش کریں

  • ہندوستان میں اورائن کو دسمبر سے اپریل کے مہینوں میں سورج ڈوبنےکے بعد دیکھا جا سکتا ہے۔ تو آپ اس مدت کے دوران اس کی تلاش کریں۔
  • تین روشن ستارے ایک مختصر سیدھی لکیر میں اورائن کے وسط میں موجود ہیں (جنھیں کسی شکاری کی پیٹی تصور کیا جاتا ہے)۔ان میں ستاروں کی نشاندہی پہلے کیجیے۔کیونکہ یہ اورائن کو پہچاننے کا بہترین طریقہ ہے۔
  • جب آپ اورائن کی نشاندہی کرلیں گے تو بہت روشن ستارے سیریئس کی نشاندہی آسان ہے جو اورائن سے قریب واقع ہے۔اورائن کے تین وسطی ستاروں سے گزرتی سیدھی لکیر کا تصور کیجیے اور اس لکیر کے متوازی مشرق کی طرف دیکھیے۔یہ آپ کو سیریئس تک پہنچائے گی۔

کون سا ستارہ ہم سے قریب ترین ہے؟


12.3 ہمارا نظام شمسی

سورج

سورج ایک ستارہ ہے ۔ یہی ستارہ ہم سے قریب ترین ہے۔ یہ گیسوں کی حد درجہ گرم گیند ہے۔ سورج ہمیں کثیر مقدار میں توانائی دیتا ہے اور اسی وجہ سے یہ اتنی تیز چمک رکھتا ہے۔ سورج گرمی اور روشنی پیدا کرتا ہے جو زمین پر توانائی کا اصل ذریعہ ہے (شکل 12.6)۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-37-31 fucu112.pdf

سورج کتنا بڑا ہے؟ یہ قطر میں زمین سے 100 گنا بڑا ہے۔ اور پھر بھی یہ اتنا چھوٹا نظر آتا ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت دور ہے۔


زمین سےسورج کا فاصلہ تقریباً 150 ملین کلومیٹر ہے۔ اس فاصلے کو فلکیاتی اکائی (au) کہتے ہیں۔ عام طور سے اس کا استعمال نظامِ شمسی میں فاصلے کی اکائی کے طور پر کیا جاتا ہے تاکہ نظامِ شمسی کے اندر طویل فاصلوں کو آسانی سے ظاہر کیا جا سکے۔


مزید جانیے!


سورج کو زمین پر روشن ترین چیز اور روشنی اور گرمی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے بیشتر قدیم تہذیبوں میں معبود کا درجہ حاصل تھا۔ ہندوستان میں آج بھی سورج کی پرستش سوریہ کے طور پر کی جاتی ہے۔سورج سے ملنے والی روشنی زمین کو ایسے درجۂ حرارت پر رکھتی ہے جو زندگی کو ممکن بناتا ہے۔سورج کی روشنی پوددوں کےاگنے کے لیے لازمی ہے، جو انسانوں اورجانوروں کو غذا اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ سورج پرہی آب و ہوا، موسموں، آبی گردش اور ہوائوں کا انحصار ہے جن میں سے ہر ایک زمین پر زندگی کی برقراری کے لیے ضروری ہے۔


ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ تو ایسا کیونکر ہے کہ سورج بڑا نظر آتا اور آسمان کو روشن کرتاہے جب کہ دیگر ستارے شب آسمان میں روشنی کے نقطوں جیسے نظر آتے ہیں اور دن کے وقت دیکھے نہیں جا سکتے؟

البتہ سورج دوسرے ستاروں کے مقابلے میں ہم سے بہت قریب ہے۔ چونکہ (سورج کے علاوہ) ستارے بہت زیادہ دوری پر واقع ہیں اس لیے وہ نقطوں جیسے نظر آتے ہیں اگرچہ اُن میں سے بعض ستارے ہمارے سورج کے مقابلے میں بہت بڑے ہیں۔ دن کے وقت سورج کی انتہائی چمک کی وجہ سے دوسرے ستاروں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے۔


سورج کے بعد ہم سے قریب ترین ستارہ پراکسیما سینٹوری (Proxima Centauri) ہے جو تقریباً 269000au پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کا فاصلہ سورج سے ہمارے فاصلے کا تقریباً 269000گنا ہے۔


مزید جانیے!

آسمان میں مزید بہت سی اشیا ہیں۔ ان اشیا کے ہمراہ ہماری زمین، اور سورج یہ سب مل کر ہمارے نظامِ شمسی کی تشکیل کرتے ہیں شکل 12.7۔ ان میں سے بیشتر چیزیں سورج کے گرد حرکت کرتی ہیں۔ سورج کے گرد کسی چیز کی حرکت کوrevolution کہتے ہیں۔


کیا ستارے آسمان میں موجود واحد شے ہیں؟ یا اس میں مزید ایسی اشیا ہیں جن پر ہم نے شاید غور نہیں کیا؟


سیّارے (Planets)

کوئی سیارہ ایک بڑی، تقریباً کروی چیز ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے۔ ہماری زمین ایک سیارہ ہے کیونکہ یہ سورج کے گرد گھومتی ہے جیسا کہ شکل 12.7 میں دکھا یاگیا ہے۔ زمین کو ایک طواف مکمل کرنے میں ایک سال کا وقت لگتا ہے۔ زمین کی طرح دوسرے سیارے بھی ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہیں۔


سورج کے گرد طواف کرتے ہوئے زمین اپنے محور پر گھومتی ہے۔ ایک مکمل گردش کے لیے زمین کو 24 گھنٹے لگتے ہیں جسے ایک دن کہتے ہیں۔ زمین کی طرح دیگر سیارے بھی سورج کا طواف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے محوروں پر گھومتے ہیں۔ اگلی جماعت میں آپ اس کے بارے میں مزید جانیں گے۔


مزید جانیے!

Screenshot 2025-11-07 at 16-37-41 fucu112.pdf

شکل 12.7: نظامِ شمسی کی فنکارانہ عکاسی

(اس شکل کو صفحے کے اندر بٹھانے کے لیے مختلف اشیا کے حجم اور فاصلوں کو ان کے حقیقی حجموں اور سائزوں کے باہمی تعلق کے اعتبار سے نہیں رکھا گیا ہے، یعنی حجم اور فاصلے شکل کے اندر پیمانے سے مطابقت نہیں رکھتے۔)

فاصلے کی ترتیب کے اعتبار سے سورج سے لے کر آٹھ سیارے عطارد(Mercury)، زہرہ(Venus)، زمین(Earth)، مریخ(Mars)، مشتری(Jupiter)، زحل(Saturn)، یورینس (Uranus)، اور نیپچون (Neptune) (شکل 12.7) ہیں۔


قدیم زمانے سے ہی ہندوستان کی مختلف زبانوں/خطوں میں سیاروں کے لیے مختلف نام استعمال ہوتے رہے ہیں جنھیں کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر بدھ (عطارد) ، شکر (زہرہ) پرتھوی (زمین) منگل (مریخ) برہسپت یا گرو (مشتری) اور شنی (زحل)۔


مزید جانیے!

سورج سے قریب ترین سیارےعطارد، زہرہ، زمین اور مریخ سائز میں نسبتاً چھوٹے ہیں۔ اُن کی سطحیں سخت ہیں جن پر چٹانیں پائی جاتی ہیں۔

زہرہ عام طور پر تیزی سے چمکتا ہوا اورسورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے کے بعد نظر آتا ہے اور اسے عموماً صبح یا شام کا ستارہ کہتے ہیں حالانکہ یہ ستارہ نہیں ہے۔ مریخ کو سرخ سیارہ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ سرخ نظر آتا ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ مریخ کی مٹی کا رنگ سرخی مائل ہے۔

سطح زمین کا ایک بڑا حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے اور اس طرح وہ خلا سے نیلی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے زمین کو نیلا سیارہ بھی کہتےہیں۔

چار بیرونی ترین سیارے مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون زمین کے مقابلے میں کافی زیادہ بڑے ہیں اور زیادہ تر گیسوں کے بنے ہوئے ہیں۔ اِن وسیع و عریض گیس دار سیاروں کے گرد بڑے بڑے چپٹے چھلے نما ڈھانچے ہوتے ہیں جو گرد کےذرا ت اور چٹانی مواد کے بنے ہیں۔

سیارے زیادہ تر توانائی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔کسی سیارے پر کرۂ باد کی موجودگی حرارت کو گرفت میں لے سکتی ہے جس سے کسی سیارے کے درجۂ حرارت میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثال کے طور پر زہرہ عطارد کے مقابلے میں زیادہ گرم ہے اگرچہ وہ سورج سے زیادہ دور ہے۔


ایک اور جسم فلکی پلوٹو ہے جونیپچون سے بھی آگے واقع ہے اور سورج کا طواف کرتا ہے۔ یہ زمین کے چاند سے بھی چھوٹا ہے ۔جب اس کی دریافت ہوئی تو اسے نظامِ شمسی کاایک سیارہ کہا جاتا تھا۔لیکن بعد میں جب ایسے ہی مزید چھوٹے اجسام دریافت ہوئے تو 2006 میں بین الاقوامی فلکیاتی انجمن (IAU) نےکسی جسم فلکی کے سیارے کہلانے کی شرائط کی دوبارہ تعریف وضع کی۔ اس تعریف کے مطابق، یہ مختصرتر اجسام، جن میں پلوٹو بھی شامل ہے، اب بونے سیارے کہلاتے ہیں۔


مزید جانیے!

سیاروں کے درمیان زہرہ(Venus)کو شناخت کرنا سب سے آسان ہے۔ سورج اور چاند کے بعد زہرہ آسمان میں روشن ترین فلکی جسم ہے۔ عطارد(Mercury)، مریخ(Mars)،مشتری(Jupiter)اورزحل (Saturn) دوربین کے بغیر دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ اتنی زیادہ دور ہیں کہ ستاروں کی طرح چمک دار اور نقطوں کے مانند نظر آتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کی الگ پہچان کیسے کر سکتے ہیں؟ سیاروں کے برخلاف ستارے بہت زیادہ ٹمٹماتے ہوئے لگتے ہیں۔


کیا ہم کھلی آنکھ سے بھی کسی سیارے کو دیکھ سکتے ہیں، اسی طرح جیسے ہم نے جھرمٹوں کو پہچانا۔


سرگرمی 12.4: آئیے شناخت کرنےکی کوشش کریں

  • سال کے زیادہ تر دنوں میں زہرہ کی شناخت سورج نکلنے سے پہلے یا سورج ڈوبنے کے بعد کی جا سکتی ہے۔
  • جب آپ صبح کے وقت دیکھ رہے ہوں تو سورج طلوع ہونے سے پہلے اسے مشرق کی سمت میں تلاش کریں۔
  • جب آپ شام کو دیکھ رہے ہوں تو اس کی تلاش سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی سمت میں کریں۔

ہم اُن سیاروں کو کیسے دیکھ سکتے ہیں جو کھلی آنکھ سے نظر نہیں آ سکتے؟

جہاں آسمان میں بہت سے اجسام کھلی آنکھوں سے براہ راست دیکھےجا سکتے ہیں وہیں ہم انھیں دوربین (telescope)کہلانے والے آلے (شکل 12.8) کی مدد سے زیادہ روشن اور زیادہ بڑی حالت میں دیکھ سکتے ہیں۔ دور بین بہت سی دھندلی اشیا کو دیکھنے میں بھی ہماری مدد کرتی ہے جنھیں ہم کھلی آنکھوں سے براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔

جب بھی آپ کے علاقے میں رات کے وقت آسمان کے مشاہدے کی تقریب کا اہتمام کیا جائے تو آپ کودوربین کے ذریعہ آسمان دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-37-57 fucu112.pdf

اعلیٰ تعلیم کے بہت سے ادارے اسکول کے بچوں کے لیے رات کے آسمان کے مشاہدے کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ملک بھرمیں شائقین کے فلکیاتی کلب ہیں جو وقتاً فوقتاً آسمان کے مشاہدے کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ عجائب گھروں اور تارا منڈلوں میں بھی ایسی ہی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


کیا آپ جانتےہیں؟


ہم جانتے ہیں کہ سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں۔ ایسے اجسام بھی ہیں جو سیاروں کے گرد حرکت ہوں؟


قدرتی سیارچے (Natural Satellies)

سیاروں کے گرد حرکت کرنے والے اجسام کو سیارچے(satellites) کہا جاتا ہے۔ وہ سائز کے اعتبار سے سیاروں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ چاند(moons)، سیاروں کے قدرتی سیارچے ہیں۔ زمین کا ایک چاند ہے جب کہ مریخ کے دو چاندہیں۔ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کے چاند کثیرتعداد میں ہیں۔


چاند (Moon)

زمین کا سیارچہ چاند زمین کے گرد ایک طواف مکمل کرنے میں تقریباً 27 دن لگاتا ہے۔ یہ خلا میں ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے ۔ زمین کے برخلاف چاند پر شاید ہی کوئی کرۂ باد ہو۔ زمین کے مقابلے میں چاند کتنا بڑاہے؟ چاندکا قطر زمین کے سائز کا تقریباً چوتھائی ہے۔ چاند کی سطح پر دائروی پیالوں جیسی ساختوں کو قمری گڈھے (craters) (شکل 12.9) کہتےہیں۔ ان میں زیادہ تر گڈھے خلا سے گرنے اور چاند کی سطح سے ٹکرانے والے اسٹیرائڈوں یا چٹانوں کی وجہ سے بنتے ہیں۔ چونکہ چاند پرکوئی کرۂ باد نہیں ہے، لہٰذا چاندکی سطح پر یہ خصوصیات طویل وقت تک باقی رہتی ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-38-04 fucu112.pdf

عام طور پر کافی بڑے جسمِ فلکی کے گرد حرکت کرنے والے جسمِ فلکی کو بھی سیارچہ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو سورج کا سیارچہ سمجھا جا سکتا ہے۔


مزید جانیے

چاند زمین سے 3,84000 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

اگرچہ چاند زمین سے بہت دور ہے، انسانوں نے چاند کی چھان بین اور اس کے بارے میں مزید سمجھنے کے لیے خلائی گاڑیاں بھیجی ہیں۔ ہندستان نے بھی چاند کے مطالعے کے لیے تین چندریان مشن بھیجے ہیں اور مزید ایک مشن کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔


چاند کے بارے میں اپنی فہم کو بہتر بنانے کے لیے چاند کے پہلے ہندوستانی مشن چندریان کو 2008 میں داغا گیااور دوسرے مشن چندریان کو 2019 میں داغا گیا۔ تیسرے مشن چندریان 3 کو جولائی 2023 میں بھیجا گیا اور اس کا پرگیان روور بردار وکرم لینڈر 23 اگست 2023کو چاندپر بحفاظت اُترا۔ اس مشن کے ساتھ ہندوستان چاند کے کم دریافت شدہ جنوبی قطب کے پاس مصنوعی سیارچہ اُتارنے والا دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ اس کامیابی کو یاد رکھنے کے لیے حکومتِ ہندنے 23 اگست کو ہندوستان میں قومی یوم خلا کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ ایک چوتھے مشن چندریان 4 کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد چاند پر سے مٹی اور چٹان کے نمونے واپس لانا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟


اسٹیرائڈ (Asteroids)

سورج اور سیارے تقریباً کروی شکل کے ہیں۔ نظامِ شمسی میں چٹانی اور ناہموار شکل والے بہت سے اجسام ہیں۔ انھیں اسٹیرائڈ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی اسٹیرائڈ اُن روشوں پر سورج کا طواف کرتے ہیں جو مریخ اور مشتری کے درمیان واقع ہیں۔ اس علاقے کو اسٹیرائڈکی پٹی (asteroid belt) کہتے ہیں (شکل 12.7)۔ کبھی کبھی اسٹیرائڈزمین کے بہت قریب ہوکر گزرتے ہیں۔


اسٹیرائڈ کا سائز 10 میٹر سے تقریباً 500 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔


مزید جانیے!


دُم دار ستارے (Comets)

بعض اوقات نظام شمسی کے باہری علاقوں سے بھی ہمیں کچھ اجسام فلکی نظر آسکتے ہیں۔ لمبی دم والے ان اجسام کو دُم دار ستارے (Comets) کہا جاتاہے (شکل 12.10)۔ وہ گرد، گیسوں، چٹانوں اور برف کےبنے ہوتے ہیں۔ دُم دارستارے کے سورج کے قریب پہنچنے پراس کے اندر کے منجمد مواد کی تبخیر ہونے لگتی ہے۔ اس تبخیری مواد سے دُم دار ستارے کی دُم بنتی ہے۔ سورج سے ہٹنے پر دُم دار ستارے مدھم پڑجاتے ہیں اور اس کے بعد انھیں کھلی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں رہتا۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-38-13 fucu112.pdf

ایسے بہت سے دُم دار ستاروں کا پتہ چلا ہے جو سورج کا طواف کرتے ہیں۔ یہ دُم دار ستارے مقررہ وقفوں سے سورج کے قریب آتے ہیں۔تاہم چند دُم دار ستارے ایسے ہیں جو نظامِ شمسی سے بچ کر باہر نکل جاتے ہیں۔ چند دیگر، دُم دار ستارے سورج یا دیگر سیاروں کے قریب آنے پر ٹوٹ جاتے ہیں یا اُن میں گرجاتے ہیں۔

ہم نے ان اجسام فلکی کے بارے میں جانا جن سے ہمارا نظامِ شمسی تشکیل پاتا ہے۔ یہ اجسامِ فلکی کیا ہیں؟ سورج، آٹھ سیارے، اُن کے سیارچے اور بہت سے مختصر اجسام جن میں اسٹیرائڈ، اور دُم دار ستارے بھی شامل ہیں، یہ تمام مل کر نظامِ شمسی کی تشکیل کرتے ہیں۔

ہمارا ستارہ سورج نظامِ شمسی میں سب سے بڑا اور
سب سے وزنی جسمِ فلکی ہے۔نظامِ شمسی کی تمام توانائی سورج ہی فراہم کرتا ہے۔ ہمارے نظامِ شمسی میں تمام دیگر اجسام سورج کی اس روشنی کی وجہ سے چمکتے ہیں جسے وہ اپنی سطحوں سے منعکس کرتے ہیں۔


ایک مشہور دُم دار ستارہ’ ہیلے کومٹ‘ (Halley’s Comet) ہے جو ہر 76 سال پر ظاہر ہوتاہے۔ یہ آخری بار 1986 میں دیکھا گیا تھا۔


مزید جانیے!

سنسکرت اور چند دیگر ہندوستانی زبانوں میں دم دار ستارے کو دھوم کیتو (Dhoomketu) کہتے ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے قبائل بھی اسے ’پچھل تارو‘ (دُم والا ستارہ) یا جھنڈیا تارو (جھنڈے جیسا ستارہ) کہتے ہیں۔


نظامِ شمسی سے آگے کیا ہے؟


12.4 ملکی وے کہکشاں

رات کے وقت آسمان پر جب چاند نہ ہو شہر کی روشنیوں سے دور تاریک مقامات سے نظر ڈالنے پر ہم آسمان میں شمال کے قریب سے جنوب تک روشنی کا ایک توسیع شدہ دھندلاخدشہ دیکھ سکتے ہیں (شکل 12.11)۔
یہ ہماری اپنی کہکشاں ہے جسے ملکی وے (Milky Way Galaxy)کہکشاں یا آکاش گنگاکہتے ہیں۔ کسی کہکشاں میں کھربوں ستارے ہو سکتے ہیں۔ہمارا نظام شمسی ملکی وےکہکشاں کا حصہ ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-38-21 fucu112.pdf

12.5 کائنات

ہماری کہکشاں سے آگے یا بیرونی خلا میں بہت سی کہکشائیں ہیں۔ سائنسداں اُن کا مطالعہ ستاروں، کہکشائوں اور کائنات کو سمجھنے کے لیے کرتے ہیں۔

ہم نہیں جانتے کہ کائنات میں کہیں اور بھی زندگی کا وجود ہے۔ بہت سے سیاروں کو ہماری کہکشاں میں دوسرے ستاروں کا طواف کرتے ہوئے دریافت کیا گیاہے۔ اب تک سائنسدانوں کو دیگر ستاروں کا طواف کرنے والے ان بیرونی سیاروں پر زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے لیکن زندگی کی تلاش جاری ہے۔


ملکی وےکہکشاں سے آگے کیا ہے؟


کیا کائنات میں کہیں اور بھی زندگی ہے؟

Screenshot 2025-11-07 at 16-38-28 fucu112.pdf

خلاصہ

کلیدی نکات


  • آسمان خطوں میں منقسم ہے جنھیں جھرمٹ کہتے ہیں جو ستاروں کے مجموعوں میں نمودار ہوتے ہیں اور نمونے کہلاتے ہیں۔
  • قطب تارہ شمال کی سمت میں ساکن نظر آتا ہے جس سے شمالی نصف کرے میں شمال کی سمت معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • سورج ایسا ستارہ ہے جو حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔
  • سیارہ ایک بڑا تقریباً دائروی جسم ِفلکی ہے جو سورج کا طواف کرتا ہے۔
  • سورج سے دوری کی ترتیب میں آٹھ سیارے عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری ، زحل یورینس اور نیپچون ہیں۔
  • زمین تقریباً ایک سال میں سورج کے گرد ایک طواف مکمل کرتی ہے۔
  • سیاروں کے گرد حرکت کرنے والے اجسام عموماً سیارچے کہلاتے ہیں۔
  • چاند زمین کا فطری سیارچہ ہے۔
  • چاند تقریباً 27 دن میں زمین کے گرد ایک طواف مکمل کرتا ہے۔
  • سورج، آٹھ سیارے اور اُن کے سیارچے اور بہت سے چھوٹے اجسام جن میں اسٹیرائڈ اور دُم دار ستارے بھی شامل ہیں یہ تمام مل کر نظامِ شمسی کی تشکیل کرتے ہیں۔
  • ہمارا نظامِ شمسی ملکی وےکہکشاں کا حصہ ہے۔

آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں

  1. مندرجہ ذیل کو ملائیے۔
  2. کا لم I

    کا لم II

    (i) زمین کا سیارچہ

    (a) اورائن

    (ii) سرخ سیارہ

    (b) زہرہ

    (iii) ستاروں کا جھرمٹ

    (c) مریخ

    (iv) وہ سیارہ جو عموماً شام کا ستارہ کہلاتا ہے

    (d) چاند

  3. (i) مندرجہ ذیل معمہ حل کیجیے۔

میرا پہلا حرف MANمیں ہے لیکن CANمیں نہیں

میرا دوسرا حرف ACE میں ہے لیکنFAN میں نہیں

میرا تیسرا حرف RAT میں ہے لیکن CAT میں نہیں

میرچوتھا حرف SUN میں ہے لیکن FUN میں نہیں

میں ایسا سیارہ ہوں جو سورج کے گرد گردش کرتاہے۔

(ii) اسی طرح کے دو معمے خود بنائیے۔

  1. مندرجہ ذیل میں سے کون سا ہمارے نظام شمسی کا رکن نہیں ہے؟

(i) سیریئس (sirius) (ii) دُم دار ستارہ

(iii) ا سٹیرائڈ (iv) پلوٹو

  1. مندرجہ ذیل میں سے کون ساسورج کا سیارہ نہیں ہے؟

(i) مشتری (ii) پلوٹو

(iii) نیپچون (iv) زحل

  1. کون سا ستارہ روشن تر ہے قطب تارہ یاسیریئس (Sirius)؟
  2. Screenshot 2025-11-07 at 16-38-38 fucu112.pdf
  3. نظام شمسی کی ایک فنکارانہ شبیہ شکل 12.12 میں پیش کی گئی ہے۔ کیا سیاروں کی ترتیب درست ہے؟اگر نہیں تو شکل میں دیے گئے خانوں میں درست ترتیب لکھیے۔
  4. شکل 12.13 میں رات کے وقت آسمان کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔بگ ڈپر اورلٹل ڈپر کے ستاروں کو جوڑنے کے لیے لکیریں کھینچیں۔قطب تارے کی شناخت کرکے اُس پرلیبل لگائیے۔آپ حوالے کے لیے شکل 12.4دیکھ
    سکتے ہیں۔
  5. Screenshot 2025-11-07 at 16-38-44 fucu112.pdf
  6. شکل 12.14میں شب آسمان کے ایک حصے کو دکھایا گیا ہے۔اورائن کے جھرمٹ کے ستاروں کو آپس میں جوڑنے کے لیے لکیریں کھینچیں اورسیریئس (Sirius)ستارے پر لیبل لگائیے۔ آپ شکل 12.3 سے مدد لے سکتے ہیں۔
  7. Screenshot 2025-11-07 at 16-38-51 fucu112.pdf
  8. آپ سورج نکلنے سے پہلے ستاروں کو دھندلاتے ہوئے اور سورج ڈوبنے کے بعد نکلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ دن کے دوران ہم ستاروں کو نہیں دیکھتے۔ اس کی وجہ بیان کیجیے۔
  9. کسی ایسی رات میں جب آسمان صاف ہو، 2 سے 3گھنٹے کے وقفے سے 4-3 بار بگ ڈپر (سپترشی) کے مشاہدے کی کوشش کیجیے۔ ہر بار قطب تارے کی شناخت کی بھی کوشش کیجیے۔ کیا بِگ ڈپرحرکت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر معاملے میں وقت ظاہر کرتے ہوئے اس کے تفصیلی بیان کے لیے تقریبی خاکہ کھینچیے۔
  10. شب آسمان کے بارے میں سوچ کر اس پر کوئی نظم یا کہانی لکھیے۔

مزید آموزش

  • اپنی مقامی زبان میں سیاروں کے نام جاننے کی کوشش کیجیے۔ اپنے علاقے میں جھرمٹوں میں ستاروں سے متعلق کہانیاں تلاش کیجیے۔ ان کہانیوں کو تصویری شکل میں پیش کیجیے۔
  • قریبی تارا منڈل کی سیرکیجیے۔ اگر آپ کے قریب کوئی تارا منڈل کا سائنس میوزیم ہے،تو آپ وہاں جا سکتے ہیں۔ خصوصاً اگر انھوں نےآسمان کےمشاہدے کی نشست کا وقت مقرر کیا ہے ۔ آپ کو دوربین کے ذریعے چاند، سیارے اور ستارے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اگر آپ افلاک گاہ میں دن کے وقت جاتے ہیں تو اُن کے ماڈلوں، تصویروں او راجسامِ فلکی کے شو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
  • Screenshot 2025-11-07 at 16-38-58 fucu112.pdf
  • اس کا پتہ لگائیں کہ کیا بڑھتی ہوئی روشنی کی آلودگی انسانوں، حیوانوں اور ماحول کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے۔ کوئی اقدام تجویز کیجیے جوآپ ذاتی سطح پرروشنی کی آلودگی پر قابوپانے کے لیے کریں گے۔
  • یہ بتائیے کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسٹروفزکس (IIA)نے رصد گاہ قائم کرنے کے لیے ہانلے، لداخ کا انتخاب کیوں کیا؟
  • اگر آپ کو کشیدہ کاری میں مزہ آتاہے توکالے رنگ کے کپڑے پر اُن جھرمٹوں کی شکلیں بنائیے جو آپ نے دیکھی ہیں (شکل 12.15) یا پھر آپ اپنی تخلیقیت سے کام لیتے ہوئے فن اور حرفت کے مختلف تصورات کی مدد سے کئی اور طریقوں سے ان جھرمٹوں کی عکاسی کر سکتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-39-06 fucu112.pdf

ہندوستانی فلکیاتی رصدگاہ، ہانلے، لداخ، ہانلے میں دِگپا رستاری (Digpa-rasta-Ri) پہاڑی سلسلے کی سب سے اونچی چوٹی کے اوپر واقع ہے۔ اس پہاڑ کا نام بدل کر مائونٹ سراوستی رکھا گیا ہے۔

اس میں کئی دوربینیں ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہمالیائی چندرا ٹیلی اسکوپ کہتے ہیں۔ اس کا یہ نام نوبیل انعام یافتہ سائنسداں سبرامنیم چندرا شیکھر کی مناسبت سے پڑا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ اونچائی پر واقع رصد گاہوں میں سے ہے۔

دسمبر 2022 میں اس رصدگاہ کے اطراف کے علاقے کو ہانلے ڈارک اسکائی ریزرو (HDSR)کی حیثیت سے مخصوص کیا گیاتھا۔ یہ ریزرو پورےسال عوام کے لیے کھلا رہتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسٹروفزکس نے مقامی افرادکو چھوٹی دور بینیں فراہم کی ہیں اور سیاحوں کو فلکیات کے سفیر بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ ادارہ علاقے میں فلکیاتی سیاحت کو فروغ دے گا۔


مزیدجانیے!

Screenshot 2025-11-07 at 16-39-14 fucu112.pdf

!یہ خاتمہ نہیں ہے میرےدوست

ممکن ہے کہ یہ اس کتاب کا آخری صفحہ ہو، لیکن ہمارے تجسس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس کتاب کے عنوان نے نہ صرف ہمیں حیرت انگیز دنیا کی سیر کرائی بلکہ انسان ہونے کا مطلب بھی بتایا ۔ ہم ایک انتہائی متجسس نوع ہیں ۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کے اور اس کے باہر تمام جہانوں کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں۔ ابھی تک آپ نے شاید پودوں اور جانوروں کی دنیا کے تعلق سے کچھ پڑھا ہے۔ کچھ لطف اندوز سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ یہ سیکھا ہے کہ پیمائش کیسے کی جاتی ہے ۔ آسمان میں کالی رات کو چمکنے والے تاروں نے حیرت زدہ کیا ہے اور بہت کچھ ۔ لیکن یاد رکھیے یہ صرف آغاز ہے۔ سائنس ایک نہ ختم ہونے والی مہم ہے۔ جس میں ہمہ وقت نئی دریافتیں شامل ہوتی رہتی ہیں اور جیسا کہ آپ مڈل اسٹیج کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا آپ جن چیزوں سے روبرو ہوں گے وہ آپ کے ارد گرد کی دنیا کو مزید جاننے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس کا راز اسی تجسس میں پوشیدہ ہے۔جسے آپ نے اس پورے سفر کے دوران پروان چڑھایا ہے۔ اپنے آس پاس کی دنیا کا مشاہدہ کرتے رہیے۔ سوالات پوچھتے رہیےاور تجربہ کرنے سے خوف مت کھائیے۔ یاد رکھیے کہ بڑی سے بڑی دریافت بھی ایک سادہ سوال ’کیوں‘ سے شروع ہوتی ہے ۔ ایسے بےشمار سوالات ہیں جو جوابوں کے منتظر ہیں اور بے شمار جوابات بھی ہیں جن پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان سائنسداں ہونے کے ناطے آپ انھیں ڈھونڈسکتے ہیں۔ چنانچہ آگے بڑھئےاور کھوج بین کیجیے۔ سائنس میں مزید مہارت کے لیے اگلے گریڈ میں دوبارہ پھر آپ سے ملاقات ہوگی۔

Screenshot 2025-11-07 at 16-39-25 fucu112.pdf
Screenshot 2025-11-07 at 16-39-32 fucu112.pdf