آئیےمعلوم کریں
- اوپر دی گئی تصویر کا مشاہدہ کیجیے ۔ آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے کہ :
- جھیل میں پانی کہاں سے آتا ہے؟
- سڑک کس نے بنائی؟
- اس چھوٹے سے گھر میں رہنے والے لوگوں کی کون سی سرگرمیاں ہو سکتی ہیں۔ ان کی تاریخ کس طرح کی ہوگی ؟ اُن کا مستقبل کیا ہو گا؟
- اپنے جوابات لکھیے اور اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔
- آپ سامنے کے صفحے کی تصویر کو دیکھیے۔ آپ کے ذہن میں کس طرح کے خیالات آتے ہیں؟ انھیں لکھیے۔
- آپ ان دو تصویروں سے متعلق سوالوں کے جواب تلاش کرنے کا کیا طریقہ تجویز کرتے ہیں؟
مندرجہ بالا سوالات سماجی علوم کے لیے کس طرح بامعنی ہیں؟ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ اس عدد کا واقعی کیا مطلب ہے تو جلد ہی آپ اس کے بارے میں جانیں گے)۔ ہر شخص اس سے اتفاق کرے گا کہ یہ خاص طور پر انسانیت کے لیے مشکل وقت ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے جو ہماری زندگی میں کئی طرح کی تبدیلیاں لا رہی ہے ۔
دوسری جانب دنیا کو متعدد جنگوں ، مسلح تصادمات اور بڑھتے ہوئے سماجی تناؤ کا سامنا ہے۔ ہمارے سیارے یعنی زمین کے ماحول پر حد درجہ دباؤ پڑ رہا ہے۔ ہم وسیع امکانات لیکن سنگین مسائل کے دور میں جی رہے ہیں۔
دنیا بھر میں بے شمار افراد حیرت میں ہیں کہ ”ہم انسانیت کو در پیش مسائل کیسے حل کریں ؟ ہمارے معاشرے امن و امان سے رہنا کیسے سیکھ سکتے ہیں ؟ ہم اس زمین کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں جو ہم سب کی ہے اور صرف اپنے لیے ہی محفوظ نہ رکھیں بلکہ تمام جانداروں کے لیے جو اس پر رہتے ہیں ؟“
یہ بنیادی سوالات آسان ہیں لیکن اُن کے جواب آسان نہیں۔ وہ آسان ہو بھی نہیں سکتے کیوں کہ انسانی معاشرے بہت متنوع اور پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد کرنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنی دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہو گی اور خصوصاً انسانی معاشروں کو ۔ سماجی علم کا تعلق انھیں باتوں سے ہے۔
آپ کو شاید اس پر تعجب ہو کہ کیا یہ سائنس ہے ، مثلاً طبیعیات یا کیمیا۔ یہ سائنس نہیں ہے، جہاں کہیں بھی ممکن ہو اس میں سائنسی طریقے ضرور استعمال کیے جاتے ہیں ( آپ اس درسی کتاب میں ہیں گے ) لیکن اس کا نقطہ ارتکاز ، یعنی انسانی معاشرہ بھی اتنا متنوع ہے کہ مقرر کردہ طریقوں اور متغیر نتائج کی اجازت نہیں دیتا جو سائنس پیش کرتی ہے۔
سماجی علوم کے کئی ذیلی شعبے ہیں: جغرافیہ، تاریخ، سیاسیات، معاشیات، سماجیات، بشریات، آثاریات، نفسیات وغیرہ وغیرہ۔ آپ کو ان تمام اصطلاحات سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ چوں کہ آپ ان ذیلی شعبوں میں سے بعض شعبوں کے بارے میں ثانوی مرحلے میں پڑھیں گے۔ ہم نے متوسط یا مڈل اسکول کے مرحلے میں اس پر روشنی نہیں ڈالی ہے۔ اس کے بجائے ہم نے پانچ اجمالی موضوعات کا انتخاب کیا ہے۔ آئیے ہم مختصراً ان پر نظر ڈالیں۔
موضوع (A) - ہندوستان اور دنیا : زمین اور عوام
پہلے موضوع میں ہمارے ارد گرد کی دنیا سے متعلق بنیادی باتیں شامل ہیں۔ یعنی ہمارے سیارے کی بعض اہم خصوصیات اور انھیں نقشے پر ظاہر کرنے کا طریقہ ۔ یہ موضوع کیوں اہم ہے جب کہ آج ہم موبائل فون پر عمدہ نقشے حاصل کر سکتے ہیں ؟ کیوں کہ یہ طریقہ نقشوں کے مقابلے میں زیادہ پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے اور یہ سوال بھی کرتا ہے کہ کس طرح سمندروں، پہاڑوں اور دریاؤں جیسی جغرافیائی خصوصیات نے اُن کے تاریخی سفر میں تمام تر تہذیبوں کو شکل عطا کی ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اس کا تعلق اس سوال سے بھی ہے کہ اس قدیم تہذیب کو ایک منفر د شناخت دینے میں اس کے قدرتی خدو خال کا کیا تعاون رہا ہے۔
موضوع (B) - ماضی کے نقوش
کینوس نما کپڑے کا ایک بڑا سا قطعہ ہے جو عموماً دیوار گیری کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ اس پر تصویریں اور نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات وہ کوئی تاریخی بیانیہ بھی تشکیل کرتے ہیں ۔ ہماری Tapestry وہ ہے جہاں ہم ہندوستان کے ماضی سے آغاز کرتے ہوئے ماضی کے مناظر کی نقش گیری کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا سر و کار ماضی سے ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ یہی حال کو سمجھنے کی کلید ہے اور اس موضوع پر مبنی ابواب اس تعلق کو زیادہ واضح کر دیتے ہیں۔ ماضی ہماری شناختوں کا اہم ترین ذریعے ہے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ماضی اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ اور چوں کہ تمام تر تاریخ کا تعلق خوش گوار تبدیلیوں سے نہیں ہے۔ یہ سمجھنا مفید ہو گا کہ عوام ، حکومتوں یا حکمرانوں سے کہاں غلطی ہوئی۔ تبھی ہم ان غلطیوں کی تکرار سے بچ سکتے ہیں۔
موضوع (C) - ہمار ا ثقافتی ورثہ اور علمی روایات
یہ اکثر کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک ثروت مند اور قدیم ثقافت کا مالک ہے۔ یہ درست ہے، لیکن اس کے اصل اوصاف کیا ہیں ؟ اس کے رہنما اصول کیا ہیں ؟ اُس نے خود کو ہندوستان کی تاریخ میں کس طرحپیش کیا ہے ؟ اور یہ اپنے زمانے میں ہمارے مسائل کے حل میں ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے ؟ یہ بعض یہ ! ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کی تلاش اس مقصد کو سامنے رکھ کر اس موضوع میں کی گئی ہے کہ ہر طالب علم ہماری تہذیب کی بعض ثقافتی بنیادوں کو سمجھ جائے اور ان کی قدر کی ستائش کرنا سیکھ جائے۔
موضوع (D) - حکمرانی اور جمہوریت
کسی بھی ملک کے شہریوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اُن کا سیاسی نظام کیسے کام کرتا ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے مختلف سطحوں پر کام کرنے والا ایک وسیع نظام رکھتا ہے۔ اُس کے نمایاں اوصاف اور عناصر کیا ہیں؟ عوام مجموعی طور پر حکمرانی میں کیسے شرکت کرتے ہیں؟ ان کے حقوق، ذمے داریاں اور فرائض کیا ہیں ؟ کیا دیگر ممالک میں مختلف طرح کے نظام ہیں اور اگر ایسا ہے تو کس نوعیت کے ہیں ؟ دیگر ممالک میں کس طرح کا تعامل کا تصور کیا جاتا ہے ؟ اس موضوع کا مطالعہ کر کے ہم زیادہ ذمے دار شہری بن سکتے ہیں اور یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حکومت کے شعبے کس طرح کام کرتے ہیں اور اُن پالیسیوں میں اپنی رائے دینا سیکھتے ہیں جو مقامی یا قومی سطح پر ہم سب کو متاثر کرتی ہیں۔
موضوع (E) - ہمارے اطراف میں معاشی زندگی
کوئی بھی خاندان روز مرہ زندگی کے لازمی اجزا کے بغیر خوش نہیں رہ سکتا۔ یعنی پہلے مرحلے میں کم از کم غذا، لباس، مکان، پانی تک رسائی۔ اور دوسرے مرحلے میں بالغوں کے لیے ذریعے معاش اور نابالغوں کے لیے تعلیم تک رسائی۔ اسی طرح مضبوط معیشت کے بغیر کوئی ملک موزوں طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن کوئی معیشت خصوصاً ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں کیسے کام کرتی ہے ؟ صحیح معنی میں زریا پیسہ کیا ہے ؟ یہ کہاں سے آتا ہے ؟ اس میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ افراد خود کو کن معاشی سرگرمیوں میں مشغول کر سکتے ہیں؟ قدرتی اور انسانی وسائل کی دیکھ بھال بہترین طور پر کیسے کی جاسکتی ہے ؟ اس موضوع میں ایسے بعض اہم تصورات اور طریقے پیش کیے جائیں گے جو ان سوالوں کے جواب میں ہماری مدد کریں گے۔
آپ یہ محسوس کریں گے کہ گزشتہ پیرا گراف میں کئی سوالات ہیں۔ جیسا کہ ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ سماجی علوم کا تعلق بھی صحیح سوالات پوچھنے کے فن سے ہے۔ تبھی ہم صحیح جوابات کی تلاش شروع کرتے ہیں۔ اس کتاب کے ہر باب کی شروعات اہم سوالات سے کی گئی ہے، جو مذ کورہ بالا حقیقت کی وضاحت کرتا ہے۔
آپ شاید بظاہر جغرافیہ سے بحث کرنے والے ابواب میں شطرنج کا کھیل یا قدیم تحمل شاعری پاکر چونک جائیں، ثقافتی ورثے سے متعلق باب میں ساڑی کے فوائد پر گفتگو مل جائے، معاشیات پر مرکوز ابواب میں سیوا یا خدمت کا تصور اور تیوہاروں کا تذکرہ مل جائے۔ ایسا دانستہ طور پر کیا جا رہا ہے۔ ہم متنوع میدانوں کے عناصر کو یک جا کرنے میں یقین رکھتے ہیں ( یہ آپ بعد میں جانیں گے کہ اس طریقے کو بین موضوعاتی طریقہ کہا جاتا ہے )۔ اس سے ہمارے تناظر میں وسعت آتی ہے۔ واقعتاً زندگی میں مستقل بے شمار عناصر کی آمیزش ہوتی ہے تو ہم کیوں نہ ایسا کریں؟
اب تک یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر چہ سماجی علوم ماضی سے مستقل استفادہ کرتا ہے یہ حال کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مستقبل کی تعمیر میں ہماری مدد کر سکے۔ یہ ایک جستجو ہے اور ایک مہم بھی۔
باب 1
زمین پر مقامات کی نشان دہی
(Locating Places on the Earth)
کره زمین خلا میں واقع ہے۔ یہ پانی، مٹی، آگ اور ہوا سے بنا ہوا اور کروی شکل کا ہے۔ خشکی اور پانی کی تمام مخلوقات سے گھرا ہوا ہے۔
-آریہ بھٹ (500 عیسوی)
اہم
سوالات
- نقشه کیا ہے اور ہم اسے کیسے استعمال کرتے ہیں؟ اس کے خاص اجزا کیا ہیں؟
- محدد کیا ہیں؟ زمین پر کسی مقام کا پتا لگانے کے لیے عرض البلد اور طول البلد کو کیسے استعمال کرتے ہیں؟
- مقامی وقت اور معیاری وقت طول البلد سے کیسے منسلک ہیں؟
تصور کیجیے کہ آپ کوئی شہر پہلی بار دیکھنے آئے ہیں۔ آپ ان مقامات کا کیسے پتا لگائیں گے جہاں آپ کو جانا ہے ؟ شاید آپ کسی مقامی شخص کی مدد لیں گے یا آپ اس شہر کا نقشہ دیکھیں گے۔ پچھلی جماعتوں میں آپ نے نقشوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اس باب میں ہم ان کا زیادہ تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔
آئیے ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ اس چھوٹے شہر کے نقشے کو غور سے دیکھیے (شکل 1.1) تصور کیجیے کہ آپ ابھی ابھی ٹرین سے ریلوے اسٹیشن پر اترے ہیں اور آپ ایک بینک جانا چاہتے ہیں جو نقشہ پر نشان زد ہے۔ آپ کدھر سے جائیں گے ؟ کیا دوسرے ممکنہ راستے ہیں ؟ کیا آپ پبلک گارڈن، اسکول اور عجائب گھر کی نشان دہی کر سکتے ہیں ؟ اگر آپ بینک سے بازار جانا چاہتے ہیں تو آپ کس راستے سے جائیں گے ؟ ایسے مواقع پر نقشہ ہی کام آتا ہے۔
نقشہ کسی خزانہ کے رہبر کی طرح ہوتا ہے۔ یہ آپ کو دکھاتا ہے کہ چیزیں کہاں کہاں ہیں اور ان تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ نقشے کے بائیں کونے میں اوپر کی طرف کے چار تیروں پر غور کیجیے۔ ہم آگے دیکھیں گے کہ کس طرح وہ مخصوص سمتوں کو واضح کرتے ہیں اور نقشے کو اور بھی زیادہ مدد گار بناتے ہیں۔
نقشہ کسی خزانہ کے رہبر کی طرح ہوتا ہے۔ یہ آپ کو دکھاتا ہے کہ چیزیں کہاں کہاں ہیں اور ان تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ نقشے کے بائیں کونے میں اوپر کی طرف کے چار تیروں پر غور کیجیے۔ ہم آگے دیکھیں گے کہ کس طرح وہ مخصوص سمتوں کو واضح کرتے ہیں اور نقشے کو اور بھی زیادہ مدد گار بناتے ہیں۔
آئیےمعلوم کریں
- صفحہ 8 پر دی گئی شکل 1.1 میں نقشہ پر۔
- اسپتال کو نشان زد کیجیے۔
- نیلے رنگ کی جگہوں کا کیا مطلب ہے ؟
- ریلوے اسٹیشن سے کون زیادہ دور ہے۔ اسکول ، ٹاؤن ہال یا پبلک گارڈن ؟
- کلاس میں سرگرمی کے طور پر تین تین، چار چار طلبا کے گروپ بنائیے۔ ہر گروپ کو اپنے اسکول کا نقشہ بنانے کو کہیے اور کچھ ایسی گلیوں اور راستوں کو جو اس تک جاتے ہیں اور کچھ آس پاس کی عمارتوں کا بھی نقشہ بنائے۔ آخر میں سبھی نقشوں کا موازنہ کیجیے اور ان پر گفتگو کیجیے۔
نقشہ اور اس کے اجزا
(A Map and Its Components)
اس آسان سی مثال سے ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ نقشہ کسی جگہ کی نمائندگی یا خطی نمائندگی ہے۔ یہ جگہ چھوٹی بھی ہو سکتی ہے (گاؤں ، قصبہ وغیرہ) زیادہ بڑی بھی ہو سکتی ہے ( مثلاً آپ کا ضلع یا صوبہ ) یا کوئی بہت بڑی جگہ جیسے ہندوستان یا پھر پوری دنیا ہی۔ نقشہ میں آپ سطح کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے کہ آپ اسے کسی بلند جگہ سے دیکھ رہے ہوں۔
اٹلس نقشوں کی ایک کتاب یا مجموعہ ہوتا ہے۔
جیسا کہ آپ کو پتا چلے گا کہ نقشوں کی کئی قسمیں ہیں:
- طبیعی نقش (Physical maps) : جو خاص طور سے فطرت سے متعلق چیزیں دکھاتے ہیں جیسے پہاڑ ، سمندر اور دریا (اسی درسی کتاب میں شکل 5.2 میں مثال دیکھیے۔)
- سیاسی نقشے (Political maps): جو ملکوں یا صوبوں ، سرحدوں، شہروں وغیرہ کو دکھاتے ہیں (مثال کے طور پر اپنے سبھی صوبوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ان کے دارالحکومتوں کو دکھاتا ہندوستان کا نقشہ )
- موضوعاتی نقشے (Thematic maps): ایک خاص قسم کی معلومات سے متعلق (مثال کے طور پر اس درسی کتاب کی شکل 6.3 اور شکل 8.1 شامل ہیں۔)
کسی بھی نقشہ کے تین اہم اجزا ہوتے ہیں۔ فاصلہ، سمت اور علامتیں۔ آپ پہلے ہی شکل 1.1 کے نقشے میں کے تین ہوتے ہیں ہمت اور مکمل 11 کے نقشے اول الذکر دونوں سے واقف ہو چکے ہیں۔ آیئے اب ہم انھیں زیادہ تفصیل کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔
کیا آپ کو کبھی حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ایک بہت بڑی جگہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر آسکتی ہے۔ یہ سب نقشے کے پیمانے (Scale) کی بدولت ہے۔ آئیے واپس اس چھوٹے شہر (شکل 1.1) کے نقشے کی طرف چلتے ہیں ۔ اس چھپے ہوئے نقشے میں ہر ایک سینٹی میٹر زمین پر ایک خاص فاصلہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ یہ فاصلہ 500 میٹر ہے۔ اسے ہم کہتے ہیں کہ پیمانہ 1 سینٹی میٹر = 500 میٹر ہے۔ اب اس درسی کتاب کے باب 5 کے شکل 5.2 میں ہندوستان کا نقشہ دیکھیے۔
اسکیل، نیچے بائیں کونے میں ایک رولر کے ذریعے دکھائی گئی ہے جس کی لمبائی کے اوپر 500 اور کنارے پرک. م.“ لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ رولر مطلوبہ نقشے میں 2.5 سینٹی میٹر نا پتا ہے ، وہ زمین پر 500 کیلومیٹر کو دیکھاتا ہے۔
اس طرح اس نقشے پر دو نقطوں کے درمیان دکھائے گئے اصل فاصلہ کا انحصار اس پیمانے پر ہوتا ہے جسے نقشے میں استعمال کیا گیا ہے۔
آئیےمعلوم کریں
- کسی اسکول کے کھیل کے میدان کا ایک سادہ نقشہ بنائیے۔ ہم مان لیتے ہیں کہ یہ مستطیل یا چوکور ہے۔ 40 میٹر لمبا اور 30 میٹر چوڑا۔ اسے اپنی انچ پٹری (پیمانہ) کے ساتھ 1 سینٹی میٹر = 10 میٹر کے پیمانہ پر صحیح طریقے سے بنائیے۔
- اب مستطیل کے اخترن کی پیمائش کیجیے۔ کتنے سینٹی میٹر آپ کو حاصل ہوتے ہیں؟ پیمانہ کا استعمال کرتے ہوئے کھیل کے میدان کے اخترن کی میٹر میں صحیح لمبائی کا شمار کیجیے۔
آئیے واپس ہم چھوٹے شہر کے نقشے (شکل 1.1) کے سب سے اوپر دائیں جانب کے چار شہروں کی طرف چلتے ہیں۔ وہ چار سمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ شمال سب سے اوپر اور گھڑی کی سوئیوں کے مطابق چلتے ہوئے مشرق جنوب اور مغرب ہیں۔ یہ اصل سمتیں یا اصل نقطے کہلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ درمیانی سمتیں بھی استعمال کی جاتی ہیں جو کہ شمال مشرق (NE)، جنوب مشرق (SE) جنوب مغرب (SW) اور شمال مغرب (NW) ہیں۔ بہت سے نقشے ایسے بھی ہیں جن میں صرف ایک تیر کا نشان حرف این 'N' کے ساتھ ہوتا ہے اور جو شمال سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آئیےمعلوم کریں
- اس چھوٹے شہر کے نقشہ پر دوبارہ غور کیجیے اور حسب ذیل فہرست میں صحیح اور غلط بیانات کی شناخت کیجیے :
- بازار اسپتال کے جنوب میں ہے۔
- عجائب گھر بینک کے جنوب مغرب میں ہے
- ریلوے اسٹیشن اسپتال کے شمال مشرق میں ہے۔
- جھیل اپارٹمنٹ کی عمارتوں کے جنوب میں ہے۔
- کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اپنے اسکول کو آغاز کی جگہ مانتے ہوئے کس صحیح سمت میں آپ کا گھر واقع ہے ؟ اس پر اپنے استاد اور والدین کے ساتھ بات چیت کیجیے۔
علامتیں نقشوں کا ایک اور اہم جز ہیں۔ ہمارے نقشے میں اصلی عمارتوں کے چھوٹے خطوط اور کچھ دوسرے عناصر ہوتے ہیں لیکن ایک بڑے شہر یا ملک کو دکھانے کے لیے نقشے میں زیادہ گنجائش نہیں ہوتی ہے بلکہ ایک علامت کے ذریعے ان چیزوں کو دکھایا جاتا ہے۔ یہ علامتیں مختلف قسم کی عمارتوں (مثال کے طور پر ریلوے اسٹیشن ، اسکول، ڈاک خانہ) سڑکوں اور ریل پٹڑیوں اور قدرتی چیزوں جیسے دریا، تالاب یا جنگل کے لیے ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے بہت ساری تفصیلات کسی نقشے میں تھوڑی سی جگہ میں دکھائی جاسکتی ہے۔
نقشہ استعمال کرنے والے مختلف لوگوں کے لیے آسانی سے سمجھ میں آجائے اس کے لیے نقشے بنانے والے مخصوص علامتوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ مختلف ممالک مختلف علامتوں کے سیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایک سرکاری ادارہ، سروے آف انڈیا نے ہندوستان کے نقشوں ( یا ہندوستان کے علاقوں) کے لیے علامتوں کا ایک سیٹ مقرر کیا ہے۔ ان کا ایک چھوٹا سا انتخاب صفحہ 12 کی شکل 1.2 میں دکھایا گیا ہے۔
آئیےمعلوم کریں
زمین کی نقشہ سازی (Mapping the Earth)
زمین کی نقشہ سازی کچھ زیادہ ہی مشکل ہے کیوں کہ ہمارے اس سیارہ کی سطح ہموار نہیں ہے۔ اس کی شکل تقریباً گول ہے ( تقریباً اس لیے کہا کیوں کہ یہ بالکل گول نہیں ہے بلکہ قطبین (سروں) کی طرف چپٹا ہے۔ بہر حال عام استعمال کے اعتبار سے ہم اسے گول مان لیتے ہیں۔) گولائی والی شکل کو درست طریقے سے سادے کاغذ پر دکھانا ممکن نہیں ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ ایسا کیوں ہے آپ ایک سنترے کو اس طرح چھیلئے کہ چھلکوں کے صرف تین یا چار ٹکڑے ہو جائیں۔ انھیں پھر میز پر سیدھا کرنے کی کوشش کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے کناروں کو الگ کیے بغیر آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔
اب ایک کرہ زمین پر غور کیجیے جو کہ گول ہے اور اس پر نقشہ بنا ہوا ہے۔ اس نقشے میں ، چاند، مریخ سیارہ، تارے اور آسمان میں تارا منڈل وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ طبعی چیز ، جیسا کہ اگلے صفحہ پر ڈرائنگ میں دکھایا گیا ہے، یہ گول ہے جو کہ عام طور سے دھات ، پلاسٹک یا گئے سے بنایا جاتا ہے۔
یہاں ہم کرہ زمین کا مطالعہ کریں گے جو زمین کا جغرافیہ دکھاتا ہے۔ کرہ زمین کے جغرافیہ کو سپاٹ نقشے سے بہتر طور پر پیش کرتا ہے کیوں کہ کرہ زمین اور زمین ایک جیسی گول شکل کے ہیں۔
اب ہم اس کی کچھ خصوصیات دریافت کرتے ہیں:
(a) محددات کو سمجھنا (Understanding Coordinates)
تصور کیجیے ایک شہر یا قصبے کے بازار کا جس میں ایک ہی ناپ کی دکانوں کی سیدھی قطاریں ہیں۔ آپ بازار کے اندر ایک
اسٹیشنری کی دکان پر کسی دوست سے ملنا چاہتے ہیں لیکن آپ کا دوست نہیں جانتا کہ اسٹیشنری کی دکان کہاں ہے ؟ لہذا آپ اسے اس طرح کی ہدایت دیتے ہیں ”داخلی دروازے سے پانچویں قطار میں ساتویں دکان پر شام 6 بجے مجھ سے ملیے “۔ اس سے آپ کا دوست آپ کے مقام کا صحیح تعین کر سکے گا۔
اب ایک شطرنج کی بساط پر غور کیجیے۔ بڑے کھلاڑیوں کی چالوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے اہم مہروں کے برابر میں حروف (a' سے 'h تک شکل دیکھیے ) اور ہند سے (1 سے 8 تک) / دونوں طرف لگائے گئے ہیں۔ یہ آسان سا طریقہ کھلاڑیوں کو ہر خانے کو نشان زد کرنے اور ہر چال کو ریکارڈ کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس میں ابھی سفید مہروں والے کھلاڑی نے رانی مہرہ کو دو خانے آگے بڑھاتے ہوئے کھیل کو شروع کیا ہے (شروع کرنے کا یہ بہت عام طریقہ ہے) اس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ مہرا 12 سے بڑھا کر d4 میں رکھا گیا ہے۔
آئیےمعلوم کریں
ان دونوں مثالوں میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اسے محددات کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ ان کے دو محددات کی بدولت اسٹیشنری کی دکان اور اسی طرح شطرنج کی بساط میں شطرنج کے خانے کا صحیح طور سے تعین کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کے محددات کا نظام نقشے میں کسی جگہ کے محل وقوع کا تعین کرنے کے لیے نقشوں کی دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔
(b) عرض البلد (Latitude)
آئیے ہم کرہ ارض کی طرف لوٹیں۔ اس پر قطب شمالی اور قطب جنوبی کو پہچاننا آسان ہے۔ کرہ ارض کو گھمائیں۔ جب یہ گھومتا ہے تو اوپر اور نیچے دو مقررہ مقام دو قطب ہیں۔ ان کے درمیان آدھا رستہ یا راسته (Half way) خط استوا ہے۔ اُسے نشان زد کرنے والے دائرے پر غور کریں (دیکھیے شکل 1.3)۔فرض کیجیے کہ آپ خط استوا پر کھڑے ہیں اور ایک قطب کی طرف سفر کرتے ہیں۔ خط استوا سے آپ کی دوری بڑھتی ہے۔ عرض البلد خط استوا سے اس دوری کو نا پتا ہے۔ اس سفر کے کسی مقام پر آپ خط استوا کے برابر مشرق سے مغرب تک جانے والی ایک خیالی لکیر کھینچ سکتے ہیں۔ اس طرحکی لکیر کو متوازی عرض البلد کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کے گرد ایک دائرہ بناتی ہے۔ مزید یہ کہ گلوب کے بارے میں یہ مشاہدہ کرنا آسان ہے کہ سب سے بڑا دائرہ خط استوا ہے جب کہ جیسے جیسے ہم شمال کی جانب یا جنوب کی جانب بڑھتے ہیں تو متوازی عرض البلد سے نشان زد دائرے چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں (شکل 1.3)۔
عرض البلد کو درجوں (Degrees) میں بیان کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق خط استوا عرض البلد 00 ( درجہ صفر ) ہے جب کہ دو خطوں کے عرض البلد بالترتیب 900 شمال اور 900 جنوب ہیں۔ یہ 900 N اور °90 S سے دکھائے گئے ہیں۔
عرض البلد اور آب و ہوا کے درمیان ایک تعلق ہے۔ خط استوا کے گرد آب و ہوا عام طور سے گرم ہوتی ہے ( اسے سخت گرمی torrid بھی کہتے ہیں)۔ جب آپ خط استوا سے دونوں خطوں میں سے کسی ایک کی طرف سفر کرتے ہیں ( دوسرے لفظوں میں جیسے جیسے آپ کا عرض البلد بڑھتا ہے ) تو آب و ہوا میں گرمی کم ہوتی جاتی ہے ( یا معتدل) اور شمالی یا جنوبی قطب کے نزدیک پہنچتے پہنچتے آب و ہوا میں ٹھنڈک ( یا کافی سردی بڑھتی جاتی ہے۔ آپ سائنس میں سیکھیں گے کہ ایسا کیسے ہوتا ہے اور اسی طرح کیوں ہم سال بھر میں مختلف موسموں کا سامنا کرتے ہیں۔
(c)طول البلد (Longitudes)
فرض کیجیے کہ آپ ممکنہ سب سے چھوٹی لکیر کے سہارے شمالی قطب سے جنوبی قطب کی طرف سفر کرتے ہیں۔ گلوب کو غور سے دیکھیے۔ آپ دیکھیں گے کہ یورپ اور افریقہ سے گزرنے کے بجائے آپ ایشیا سے ہوتے ہوئے ہی گزریں گے تو بھی فاصلہ برابر ہی ہو گا۔ یہ لکیریں طول البلد کا نصف النہار (شکل 1.3) کہلاتی ہیں۔ یہ سب نیم دائرے ہیں جو کہ ایک قطب سے دوسرے قطب تک جاتے ہیں۔
آپ سائنس میں یہ بھی جانیں گے کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے۔ اسی کو آسانی سے سمجھنے کے لیے آئیے گلوب سے تھوڑے فاصلے پر ایک ڈسک لیمپ (Desk lamp) رکھیں۔ اس پر غور کریں اور تصور کریں کہ یہ سورج ہے جو زمین کو روشن رکھتا ہے۔ گلوب کو مشرق کی طرف آہستہ آہستہ گھماتے نے ہو۔ ہوئے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ زمین کے کچھ حصوں پر صبح ہے جب کہ کچھ حصوں میں دو پہر،
شام یا رات ہوتی ہے۔ جب ایک ملک میں ناشتے کا وقت ہوتا ہے تو دوسرے ملک میں دو پہر کے کھانے کا جب کہ تیسرے ملک میں لوگوں کی گہری نیند کا۔ اس طرح جب ہم کسی جگہ کے طول البلد کی پیمائش کر رہے ہیں تو اس جگہ کے وقت کی بھی پیمائش کر رہے ہوتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں یہ کیسے ہوتا ہے؟
طول البلد کی پیمائش کے لیے ہمیں خط نصف النہار (صفحہ 15 کی شکل 1.3) کہلانے والے ایک نقطہ حوالہ کی ضرورت ہے۔ اسے گرین وچ نصف النہار بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ 1884 میں بعض ممالک نے فیصلہ کیا کہ انگلستان میں لندن کے ایک علاقے گرین وچ سے گزرنے والا نصف النہار، خط نصف النہار کے لیے بین الاقوامی معیار بن جائے گا۔ اسے 00 ڈگری طول البلد کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔
اگر آپ قطبین میں سے کسی ایک کی طرف سفر کرتے ہیں تو جس طرح عرض البلد خط استوا سے فاصلے کا ایک پیمانہ ہے ٹھیک اسی طرح اگر آپ خط استوا کے ساتھ سفر کرتے ہیں تو طول البلد خط نصف النہار سے فاصلے کا ایک پیمانہ ہے۔ طول البلد کی پیمائش ڈگری میں بھی کی جاتی ہے۔ مغرب کی طرف یا مشرق کی طرف اس کی قدر میں 10 سے 180 کا اضافہ ہوتا ہے۔ حرف ڈبلیو (W) یا ای (E) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر صفری عدد کا استعمال کرتے ہوئے نیو یارک کا طول البلد 74°W ہے جب کہ دہلی کا 77°E اور ٹوکیو کا°E 140 ہے۔
اسے یادر کھیں
عرض البلد اور طول البلد ایک جگہ کے دو محددات ہیں۔ ان کی مدد سے اب آپ زمین پر کسی بھی جگہ کو تلاش کر سکتے ہیں۔ اب آپ اس بیان کو سمجھ سکتے ہیں جیسے کہ دہلی 29 عرض البلد اور 77°E طول البلد پر واقع ہے “ یہ عدد تخمینی ہے نہ کہ حتمی )۔
صفحہ 15 کی شکل 1.3 میں عرض البلد کی متوازی اور طول البلد کے نصف النہار کو ایک ساتھ نیلی لکیروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
یہ سبھی لکیریں مل کر دنیا کے لیے ایک جال بناتی ہیں۔ انھیں گرڈ لائنز (Grid lines) بھی کہا جاتا ہے۔
آئیے غور و فکر کریں
اگر آپ کی کلاس کے گلوب یا اٹلس میں عرض البلد اور طول البلد اچھی طرح نشان زد ہیں تو (1) ممبئی ، (2) کولکاتا (3) سنگاپور (4) پیرس کے عرض البلد اور طول البلد کے تخمینی اقدار کو نوٹ کرنے کی کوشش کیجیے۔
اسے یادر کھیں
ہندوستانی ماہرین فلکیات عرض البلد اور طول البلد بشمول صفر یا خط نصف النہار کی ضرورت کے تصورات سے واقف تھے۔ اجینی نصف النہار تمام ہندوستانی فلکیاتی تحریروں میں حساب لگانے کے لیے ایک حوالہ بن گیا۔
اس نقشے میں اجینی نصف النہار کے قریب چند قدیم ہندوستانی شہر دکھائے گئے ہیں۔ کچھ اس کے بہت ہی قریب ہیں جب کہ چند ذرا فاصلے پر ہیں۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ طول البلد کی پیمائش کے لیے درست وقت کا تعیین ضروری تھا، جس میں آج جیسی در سنگی نہیں تھی۔

وقت کے منطقوں کو سمجھنا (Understanding Time Zones)
آئے کرہ ارض کو دوبارہ مغرب سے مشرق کی طرف گھمائیں کہ کس طرح ہر 24 گھنٹے میں ایکآئے کرہ ارض کو دوبارہ مغرب سے مشرق کی طرف گھمائیں کہ کس طرح ہر 24 گھنٹے میں ایک دور مکمل کرتے ہوئے ہمارا سیارہ اپنے محور کے گرد گھومتا ہے۔ ایک مکمل دور 360 deg کا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے 15 deg فی گھنٹہ - (15 * 24 = 360) آئیے اب طول البلد کے نصف النہار کو ہر 15 deg پر نشان زد کریں۔ خط نصف النہار سے مشرق کی طرف بڑھتے ہوئے ہمیں 00 ، ،E°15 450 اور اسی طرح ہر 150 سے 180 deg * E تک ملتا ہے۔ یہ ہر ایک نصف النہار کے ساتھ مقامی وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کرنے جیسا ہے۔ اگر گرین وچ پر 12pm یا دو پہر ہے تو 15°E پر مقامی وقت 1pm ہے ، 2p*m_{7} * 30 deg * E اور آگے اسی طرح لیکن دوسری جانب مغرب کی طرف جاتے ہوئے 11AM مقامی وقت 15 deg * W پر اور 10AM ، 30 پر ہو گا وغیرہ۔ / 30 deg * E
آئیےمعلوم کریں
زمین پر کسی بھی جگہ کے مقامی وقت کا حساب لگانے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کسی ملک کے لیے کئی مقامی وقتوں کا استعمال کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اسی لیے زیادہ تر ممالک اپنے درمیان سے گزرنے والے نصف النہار (Meridian) کی بنیاد پر معیاری وقت اپناتے ہیں۔ ہندوستانی معیاری وقت (IST) گرین وچ میں مقامی وقت ( جسے گرین وچ مین ٹائم یا GMT کہا جاتا ہے) سے 5 گھنٹے 30 منٹ (5.5 گھنٹہ بھی نوٹ کیا گیا) آگے ہے۔
آئیےمعلوم کریں
یہ تمام معیاری اوقات وقتی منطقوں (Time zones) میں ترتیب دیے گئے ہیں جو گراف (شکل 1.7) میں 150 کے منطقوں سے اجمالاً مطابقت رکھتے ہیں لیکن آئیے ذیل میں دنیا کے نقشے پر غور کریں (شکل 1.8)۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وقت کے منطقوں کو تقسیم کرنے والی لکیریں بالکل سیدھی نہیں ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھیں ہر ملک کے مقامی وقت کا احترام کرنا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ بین الاقوامی سرحدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ کچھ ملکوں کے اندر لکھے گئے اعداد ان گھنٹوں کی تعداد ہیں جن کا اضافہ مثبت نشان ہونے پر GMT میں کیا جائے گا اور منفی نشان ہونے پر GMT میں سے انھیں منہا کیا جائے گا تا کہ اُن کے معیار بند اوقات معلوم کیے جاسکیں۔
اسے یادر کھیں
اسی طرح شکل 1.9 میں ہندوستان پر مرکوز عالمی نقشے میں GMT کے حوالے سے چند ممالک کے معیاری وقتوں کو دکھایا گیا ہے۔ آخر میں، گرین وچ، مخالف لکیر تقریباً 1800 طول البلد پر جب آغازی نصف النهار (Prime Meridian) مقرر کر دیا گیا، اسے بین الاقوامی خط تاریخ International) (Date Line کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ آپ نقشے پر دیکھ سکتے ہیں کہ اس لکیر (لائن) پر 12 + اور 12- وقت کے منطقے ایک دوسرے کو مس کرتے ہیں۔ اگر آپ اسے جہاز یا ہوائی جہاز سے پار کرتے ہیں تو آپ کو گھڑی میں تاریخ تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اگر آپ اسے مشرق کی طرف سفر کرتے ہوئے پار کرتے ہیں
تو آپ کو ایک دن گھٹانا ہو گا (مثلاً پیر سے اتوار ) ۔ اگر آپ اسے مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے پار کرتے ہیں تو ایک دن کا اضافہ کرنا ہو گا (مثلاً اتوار سے پیر)۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ بین الا قوامی خط تاریخ تقریبا 180 طول البلد پر ہے کیوں کہ یہ کچھ ممالک کو دو مختلف دنوں میں تقسیم کرنے سے بچنے کے لیے کئی جگہوں پر انحراف کرتا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں
- زمین کے کسی علاقے کی نمائندگی کرنے کے لیے نقشے خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے بہت مفید وسیلے ہیں۔ نقشے کے اہم اجزا فاصلہ ، سمت اور علامتیں ہیں۔
- زمین پر ہر جگہ کا ایک مقرر مقام ہوتا ہے جسے بالترتیب مغرب ( خط استوا کے متوازی) اور شمال سے جنوب ( قطب سے قطب تک ) جانے والی خیالی لکیروں۔ عرض البلد اور طول البلد کے ایک گرڈ کی مدد ے ے قطعی طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔
- طول البلد وقت کو بھی نشان زد کرتا ہے اور وقت تک کے منطقے کی وضاحت کرتا ہے۔
- بین الاقوامی خط تاریخ، خط نصف النہار کے بالمقابل تقریباً 180 ڈگری طول البلد پر واقع ہے۔ بین الاقوامی خط تاریخ کو عبور کرنے سے تاریخ ایک دن بدل جاتی ہے۔
سوالات، سر گر میاں اور پروجیکٹس
- اس درسی کتاب کے باب 5 کے صفحہ 10 اور شکل 5.2 پر واپس جا کر سب کے 2.5cm = 500km / j مانتے ہوئے نرمد اندی کے مہانے سے گنگا ندی کے مہانے کے حقیقی فاصلے کا حساب لگائیے (اشارہ؛ اپنی پیمائش کو نقشے پر صفری عدد میں دکھائیے )
- لندن میں جب دن میں 12 بجتے ہیں یا دو پہر ہوتی ہے تو ہندوستان میں شام کے 5.30 کیوں بجے ہوتے ہیں ؟
- نقشے میں ہمیں علامتوں اور رنگوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟
- معلوم کیجیے کہ آپ کے گھر یا اسکول سے آٹھ سمتوں میں آپ کے پاس کیا ہے؟
- مقامی وقت اور معیاری وقت میں کیا فرق ہے؟ اس پر گروپ میں بحث کیجیے۔ ہر گروپ 100 سے 150 لفظوں میں جواب تحریر کرے۔ جوابات کا موازنہ کریں۔
- دہلی اور بینگلورو کے عرض البلد بالترتیب 29 اور 130 ہیں ؛ ان کے طول البلد تقریباً یکساں ہیں، 77°E - دونوں شہروں کے درمیان مقامی وقت میں کیا فرق ہو گا ؟
- درج ذیل بیانات کو صحیح یا غلط کے طور پر نشان زد کیجیے۔ ایک یا دو جملوں میں اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
- عرض البلد کے ہر متوازی کی لمبائی ایک جیسی ہوتی ہے۔
- طول البلد کے ایک نصف النہار کی لمبائی اس کے خط استوا سے آدھی ہوتی ہے۔
- قطب جنوبی کا عرض البلد °90 ہے۔
- آسام میں مقامی وقت اور عالمی معیاری وقت (IST) ایک جیسے ہیں۔
- وقت کے منطقوں کو الگ کرنے والی لکیریں طول البلد کے نصف النہار کے ساتھ ایک جیسی ہیں۔
- خط استوا بھی عرض البلد کا ایک متوازی ہے۔
- درج ذیل معما (Crossword) حل کیجیے۔
آرپار
نیچے کی طرف
- آپ کو اپنے نقشے میں ایک بڑے علاقے کو بہت مختصر کر کے دکھانے دیتا ہے۔
- ان دونوں کے ذریعے کسی جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں۔
- ان دونوں کے ذریعے ہم کسی جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں۔
- ایک آسان دائرہ
- عرض البلد کا طویل ترین متوازی
- عرض البلد اور طول البلد مل کر کیا تخلیق کرتے ہیں۔
- وہ جگہ جس سے خط نصف النہار منسلک ہے۔
- وہ وقت جس کی پابندی ہم ہندوستان میں کرتے ہیں۔
- آپ کا راستہ تلاش کرنے کے لیے بہت آسان
- یہ دونوں قطب الگ ہیں۔
- خط استوا سے فاصلے کا ایک پیمانہ
- اس لکیر کا مخفف جسے پار کرنے پر دن اور تاریخ بدل جاتی ہیں۔