Skip to content
Qr






باب 2
سمندر اور براعظم (Oceans and Continents)


سمندر سب کچھ ہے۔ یہ زمینی دنیا کے ساتویں حصے پر محیط ہے۔ اس کی ہوا خالص اور صحت مند ہے۔ یہ ایک بہت بڑا صحرا ہے، جہاں انسان کبھی تنہائی محسوس نہیں کرتا، کیوں کہ وہ زندگی کے چاروں طرف ہلچل محسوس کرتا ہے۔ سمندر قدرت کا وسیع ذخیرہ ہے۔ کائنات کی ابتدا سمندر سے ہوئی اورکون جانتا ہے کہ اس کا خاتمہ بھی اسی -پر ہوگا۔

- جولیس ورنے(1870)

Screenshot 2026-04-15 102520
شكل 2.1 خلا سے نظر آنے والی زمین ) تصویر به شکریه قمری کهوجی مدار) یه منظر بحر الکاہل پر مرکوز ہے جس میں بائیں جانب افریقہ، ہندوستان اور ایشیا کا کچھ حصہ ہے، اوپر دائیں جانب آسٹریلیا اور نیچے انٹارکٹکا ہے۔

اہم
سوالات

  1. سمندر اور براعظم کسے کہتے ہیں؟ ان کے نام کیا ہیں اور ان کی تقسیم کیسے ہوئی؟
  2. سمندر اور براعظم زمین پر بشمول انسانی زندگی کے کس طرحاثر انداز ہوتے ہیں؟

آئیے اب ہم اپنی دنیا میں واپس آتے ہیں اور اسے آہستہ سے گھماتے ہیں۔ یا چاند سے نظر آنے والی زمین کی تصویر دیکھیے۔ آپ سب سے زیادہ پھیلا ہوا رنگ کیا دیکھتے ہیں؟ ظاہر ہے، نیلا ہے مگر یہ کس چیز کی نمائندگی کر رہا ہے ؟ یقیناً آپ نے جواب کا اندازہ لگا لیا ہو گا۔ یہ پانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کی زیادہ تر سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے۔ حقیقت میں یہ سطح کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا سے دیکھنے پر زیادہ تر زمین نیلی دکھائی دیتی ہے۔ در در حقیقت ابتدائی خلا بازوں نے پیار سے زمین کو نیلا سیارہ کہا ہے۔
کرہ ارض پر نظر آنے والے سب سے بڑے آبی ذخائر کو مسمندر کہا جاتا ہے۔ لیکن زمین کی تصویر میں (شکل 2.1) آپ کم از کم ایک اور رنگ دیکھ سکتے ہیں اور وہ ہے بھورا۔ یہ دراصل زمین کا ایک رنگ ہے جو دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو محیط ہے۔ زمین کے ایک بڑے حصے کو زمینی خطہ (Land mass) کہتے ہیں اور زمین کے مستقل پھیلاؤ کو براعظم کہتے ہیں۔
سمندر اور براعظم دونوں آب و ہوا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں بشمول نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ہم اپنی تاریخ و ثقافت اور روزمرہ کی زندگی میں اس کے اثرات دیکھتے ہیں۔

اسے یادر کھیں


ہندوستان بحریہ کا نشان جس کا نعرہ سام نو ورونه ہے۔ جس کا مطلب ہے ” اے ورون ! ہمارے لیے نیک بنو۔ “ عام طور پر سمندروں، آسمانوں اور پانی سے وابستہ ایک ویدک دیوتا ورونا کے لیے ایک مناجات ہے۔ Screenshot 2026-04-15 103328

زمین پر پانی اور خشکی کی تقسیم
(The Distribution of Water and Land on the Earth)

اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سمندر اور براعظم کو شمالی اور جنوبی نصف کرہ کے درمیان یکساں طور پر تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔

Screenshot 2026-04-15 110935

آئیے اوپر کے دونوں نقشوں شکل 2.2 کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں بھی نیلے رنگ کے علاقے سمندر پر مشتمل ہیں۔ ان کے چھوٹے پھیلے ہوئے حصوں کے مختلف نام سمندر ، خلیج ، کھاڑی وغیرہ ہیں۔

آئیے معلوم کریں


  • ہر نقشے کی دائرہ نما لکیروں کو کیا کہتے ہیں؟ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ دو قطبوں سے باہر نکلنے والی لکیروں کو کیا کہتے ہیں؟ ( اشارہ: آپ پچھلے باب میں ان کا مطالعہ کرچکے ہیں مگر یہاں اسے دوسری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
  • کسی نصف کرے میں زیادہ پانی ہے ؟
  • آپ کے خیال میں شمالی یا جنوبی نصف کرہ میں تخمیناً پانی کا کیا تناسب ہو گا؟ گروپ میں بحث کیجیے۔
  • کیا کبھی سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یا وہ ایک دوسرے سے الگ ہیں ؟
Screenshot 2026-04-15 111130

زمین پر دست یاب پانی کا زیادہ تر حصہ سمندروں کا ہے۔ لیکن یہ پانی کھارا ہے اور زمین پر رہنے والے زیادہ تر جانوروں بشمول انسانوں کے استعمال کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ دوسری طرف میٹھا پانی زمین کے آبی وسائل کے کافی چھوٹے حصے پر مشتمل ہے۔ یہ برف کے تودوں (Glaciers) ، دریاؤں، جھیلوں، فضا میں اور زیر زمین بھی پایا جاتا ہے۔ (آخری کو زیر زمین پانی کہتے ہیں۔)

آیئے غور و فکر کیجیے

  • اگر کرہ ارض پر پانی کی اتنی فراوانی ہے تو پانی کی قلت یا پانی کے بحران، پر اتنی بات کیوں کی جاتی ہے ؟
  • آپ پانی کو بچانے کے کن طریقوں سے واقف ہیں؟ آپ نے اپنے گھر، اپنے اسکول ، اپنے گاؤں، قصبہ یا شہر میں کس طریقے کو دیکھا ہے؟

سمندر

صفحہ 32 پر شکل 2.3 میں دنیا کے نقشے پر ہم پانچ سمندروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ بحر الکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند ، بحر آرکٹک اور بحر جنوبی ( یا انٹار کٹک)۔
گرچہ ہم نے پانچ سمندروں کا ذکر کیا ہے لیکن دیے گئے نقشے سے واضح ہے کہ یہ واقعی الگ الگ نہیں ہیں۔ نقشے پر ان کو تقسیم کرنے والی لکیریں رسمی (خیالی) ہیں۔ حقیقی دنیا ایسی کسی روایتی سرحدوں کی پابند نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سمندر کا پانی مختلف سمتوں میں مسلسل بہتا رہتا ہے جس سے سمندری زندگی میں بھر پور تنوع قائم رہتا ہے۔ بہت سے پودوں اور جانوروں کی اقسام الگ الگ سمندروں میں پائی جاتی ہیں۔
بحری نباتات میں الگی کہلانے والے مختصر پودے اور ہر طرح کی سمندری کائیاں شامل ہیں سمندری حیوانات ، رنگ برنگی مچھلی، ڈالفین، وہیل اور لاتعداد پر اسرار گہرے سمندر کی ہزاروں اقسام کی مخلوقات پر مشتمل ہے۔ سمندر کا ہر حصہ سورج کی روشنی والی سطح سے لے کر اندھیری گہرائیوں تک اس کی اپنی زندگی کی متنوع شکلیں ہیں۔

(Marine)سمندر سمندر یا بحر سے متعلق یا پائے جانے والی۔

(Flora) باتات کسی مخصوص مقام پر یا مخصوص وقت میں پیڑ پودوں کی زندگی۔

(Fauna) حیوانات کسی مخصوص مقام یا مخصوص وقت میں رہنے والے جانوروں کی زندگی۔

Screenshot 2026-04-15 111657

آئیے معلوم کریں


پانچ سمندروں کو تلاش کریں اور نیچے دی گئی جدول میں نصف کڑے کو یا اس نصف کرے کو نشان زد کریں جس سے ان کا تعلق ہے۔
شمالی نصف کره جنوبی نصف کره
بحر الکاہل
بحر اوقیانوس
بحر ہند
بحر جنوبی
بحر آرکٹک

نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحر الکاہل سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد بحر اوقیانوس ہے بحر ہند تیسر ا سب سے بڑا ہے جب کہ بحر جنوبی چو تھا اور بحر آرکٹک سب سے چھوٹا ہے۔

اسے یادر کھیں


  • جیسا کہ سمندروں کے نقشے سے واضح ہے کہ بحر ہند کی اہم حدود شمال میں ایشیا ، مغرب میں افریقہ اور مشرق میں آسٹریلیا ہے ۔ جنوب میں بحر جنوب اس کے علاوہ ہے۔
  • ہندوستان کے دونوں طرف ہمیں بحر ہند کے دو حصے ملتے ہیں ۔ مغرب میں بحیرہ عرب اور مشرق میں خلیج بنگال ۔
Screenshot 2026-04-15 113551
شكل 2.4 ) دائیں جانب سے) ہندوستان کا یه نقشه شكل 1.6 کی طرح ہی ہے۔ لیکن اس میں بحر عرب اور خلیج بنگال کا اضافہ ہے۔ ہندوستان کے جزائر کے دو حصوں کو بھی اس میں نشان زد کیا گیا ہے۔ جزیروں کے لیے مزید ذیلی حصے دیکھیں۔

سمندر اور آفات (Oceans and Disasters)

اس باب کے آغاز میں زمین کی شکل پر واپس آتے ہوئے آپ نے پورے گلوب میں سفید شکلیں دیکھی ہوں گی۔ کیا آپ نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ یہ بادلوں کے بڑے بڑے ٹکڑے ہیں۔ یہ بادل بر اعظموں پر پانی برساتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر بار موسم گرما میں ہم جس مانسون کی بارش کی توقع ہندوستان میں کرتے ہیں ، اس کی ابتدا سمندر سے ہوتی ہے۔ اس طرح کی بارشوں کے بغیر ہماری زراعت اور زندگی متاثر ہوتی ہے۔ لیکن سمندر اکثر طوفانوں اور پر تشد دواقعات کا بھی سبب بنتے ہیں۔ جن میں شدید بارش ہوتی ہے یا بہت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جیسے سمندری طوفان (Cyclone) جو دنیا کے ساحلی علاقوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سونامی ایک اور قدرتی آفت ہے جو سمندر میں پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی اور طاقت ور لہر ہوتی ہے جو عام طور پر شدید زلزلہ آنے یا سمندر کی تہہ میں آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سونامی ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتے ہوئے ساحلی علاقوں کو زیر آب کر سکتی ہے۔

اسے یادر کھیں


  • 26 دسمبر 2004 کو ہندوستان اور بحر ہند کے آس پاس کے دیگر تقریباً 13 ممالک انڈو نیشیا میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے ایک طاقت ور سونامی کی زد میں آگئے ۔ 2 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہندوستان میں انڈمان نکو بار کے جزائر (دیکھیے او پر شکل 2.4 اور نیچے ذیلی جزائر بھی) تمل ناڈو اور کیرلا کے ساحلی علاقے شدید متاثر ہوئے اور بھاری تباہی اور جانی نقصان ہوا۔
  • اس طرح کی سونامی بہت کم مگر انتہائی خطرناک ہوتی ہیں ۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اکثر ان کے آنے سے قبل پتا چل جاتا ہے۔ کئی ممالک آپسی تعاون سے فوری انتباہی نظام قائم کرتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر بحر ہند انتباہی نظام قابل ذکر ہے۔ اس سے جان و مال کی حفاظت کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • ایسے واقعات جن سے جان و مال کا نقصان ہوتا ہے آفات سے نمٹنے کے نظام کے تحت قابو پائے جاتے ہیں ۔ ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کا اپنا قومی انسداد آفات مقتدرہ ہے جو ایسے ہر طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ( اگلے باب میں ہم مزید مثالیں دیکھیں گے )

بر اعظم (Continents)

سمندروں کے نقشے پر براعظم کو دیکھ سکتے ہیں۔ (شکل 2.3) آپ کتنے گن سکتے ہیں؟ اس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ کئی طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری مرضی پر منحصر ہے۔ ہم چار اور سات کے درمیان کسی بھی براعظم کی فہرست بنا سکتے ہیں۔ وجہ یہاں ہے :
  • شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کو عام طور پر دو براعظم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر انھیں ایک ہی خطہ ارض (Land mass) کے طور پر دیکھا جائے تو انھیں بھی ایک ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
  • یورپ اور ایشیا کو عام طور پر دو براعظم سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ نقشے سے بالکل واضح ہے کہ وہ ایک ہی خطہ ارض کی تشکیل کرتے ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی وجوہات کی بنا پر ایشیا کے مقابلے میں پورب کا ارتقا بہت مختلف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں دو بر اعظموں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اکثر ماہرین ارضیات انھیں ایک براعظم سمجھتے ہیں جسے یوریشیا کہا جاتا ہے۔
  • افریقہ اور یوریشیا کو عام طور پر دو براعظموں کے طور پر سمجھا جاتا ہے لیکن بعض اوقات انھیں ایک ہی سمجھا جاتا ہے۔
آئیے مختلف تعدادوں کی تلخیص ایک جدول میں کریں:
براعظموں کی تعداد حروف تہجی کے اعتبار سے )
چار براعظم افریقہ - یوریشیا، امریکہ ، انٹارکٹکا، آسٹریلیا
پانچ براعظم افریقہ ، امریکہ ، انٹارکٹکا، آسٹریلیا، یوریشیا
چھے براعظم افریقہ ، انٹارکٹکا، آسٹریلیا، یوریشیا، شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ ( شکل 2.3 صفحہ نمبر 6 پر اس کی عکاسی کی گئی ہے)
سات بر اعظم افریقہ ، انٹارکٹکا، ایشیا، آسٹریلیا، یورپ، شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ

عملی طور پر سات براعظموں کی آخری فہرست وہ ہے جسے سب سے زیادہ تسلیم اور استعمال کیا جاتا ہے

اسے یادرکھیں


آپ نے اولمپک کے پانچ دائرے ضرور دیکھے ہوں گے جو اولمپک کھیلوں کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا بھر سے کھلاڑیوں کے اجتماع کی علامت کو ظاہر کرتے ہیں۔ دائروں کا انتخاب پانچ آباد براعظموں افریقہ ، امریکہ ، ایشیا، آسٹریلیا اور یورپ کی نمائندگی کے لیے کیا گیا تھا۔ Screenshot 2026-04-15 121440

آئیے اب ہم صفحہ نمبر 36 پر دیے گئے خاکے کو دیکھتے ہیں جو سات براعظموں کی فہرست پر مبنی ہے۔ یہ اپنی حقیقی شکلوں کو نہیں دکھاتا ہے بلکہ اس سے متعلقہ سائز کو دکھاتا ہے۔

Screenshot 2026-04-15 121530

آیئے معلوم کریں

  • مربعوں کی تعداد گنتے ہوئے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے براعظم کا نام بتائیے۔
  • ان میں سے کون بڑا ہے۔ شمالی امریکہ یا جنوبی امریکہ ؟ افریقہ یا شمالی امریکہ ؟ انٹارکٹکا یا آسٹریلیا ؟
  • یورپ اور ایشیا کے لیے ایک ہی رنگ سے خاکے کو دوبار رنگیے اور نتیجے کے طور پر اس کا نام یوریشیا رکھیں۔ اس کے سائز کا جنوبی امریکہ کے ساتھ موازنہ کیجیے۔
  • چھوٹے سے بڑے براعظموں کی ایک فہرست بنائیے۔

جزائر

اگر آپ نے اس باب میں ( شکل (2.2 اور 2.3) میں پہلے دونوں نقشوں کا بہ غور مشاہدہ کیا ہے تو آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ براعظموں میں زمین کے تمام بڑے حصے شامل نہیں ہیں ۔ زمین کے کچھ چھوٹے ٹکڑے رہ گئے ہیں اور چاروں طرف پانی سے گھرے ہوئے ہیں انھیں جزائر کہتے ہیں۔ (براعظم بھی پانی سے گھرے ہوتے ہیں لیکن چوں کہ وہ بہت بڑے ہیں اس لیے انھیں جزائر نہیں سمجھا جاتا ہے ) کرہ ارض پر مختلف سائز کے لاکھوں جزیرے ہیں۔

اسے یادرکھیں


  • گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے ( اسے گلوب یا نقشے پر تلاش کریں )۔ اس کے سائز تک پہنچنے کے لیے آپ کو ہندوستان کی 10 سب سے بڑی ریاستوں کے علاقوں کو شامل کرنا ہو گا۔
  • ہندوستان میں 1300 سے زیادہ چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں، ان میں دو بڑے مجموعے ہیں جو خلیج بنگال میں جزائر انڈمان نکوبار اور بحر عرب میں جزائر لکش دیپ ہیں ( شکل 2.4 دیکھیں)۔
  • ہندوستانی انٹار کٹیکا پروگرام 1981 سے انٹار کٹیکا کی تلاش کر رہا ہے، ایک براعظم جس میں انتہائی سرد آب و ہوا اور سخت ماحول ہے۔ (شکل 2.1 کے نیچے سفید پھیلاؤ کو دیکھیے جس کا بیش تر حصہ برف ہے )۔ ہندوستان نے 1983 میں وہاں اپنا پہلا سائنسی اساسی اسٹیشن قائم کیا جو جنوبی گنگوتری کہلایا۔ (بعد میں دو مزید اساسی نظام قائم کیے گئے دور دراز علاقے میں خاص طور پر آب و ہوا اور ماحولیات کے ارتقا پر ہندوستانی سائنس دانوں کی تقریباً 40 ٹیموں نے تحقیق کی، جس بستی میں سائنس داں رہتے تھے وہاں ایک لائبریری اور یہاں تک کہ ایک ڈاک خانہ بھی ہے۔

سمندر اور زندگی (Oceans and Life)

سمندر اور براعظم ماحول کے اہم حصے ہیں اور اگر ہم اس پر توجہ نہ دیں تو ہماری زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں ۔ ہم نے ذکر کیا ہے کہ سمندر بر اعظموں میں بارش بھیجتے ہیں۔ یہ زمین کے آبی دور کا حصہ ہے جس کا مزید مطالعہ آپ سائنس میں کریں گے۔ مثال کے طور پر سمندروں کے بغیر بارش نہیں ہو گی تو زمین صحر ابن جائے گی۔ مزید برآں دنیا کی آدھی سے زیادہ آکسیجن سمندروں کے نباتات سے پیدا ہوتی ہے اس لیے انھیں سیارے کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر آب و ہوا کو منظم کرنے اور زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سمندروں نے بہت سے دوسرے طریقوں سے انسانیت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ابتدائی زمانے میں لوگوں نے براعظموں اور سمندروں کو دوسرے خطوں کی طرف ہجرت کرنے، ہر قسم کے سامان کی تجارت کرنے، فوجی مہم چلانے اور ماہی گیری کے ذریعے خوراک کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ سمندروں نے پوری دنیا کے ساحلی لوگوں کی ثقافتوں کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ ان میں سے تقریباً سبھی کے پاس سمندر، سمندری دیوتاؤں اور دیویوں، سمندری راکشسوں اور سمندر کے خزانوں کے متعلق کہانیاں اور داستانیں موجود ہیں۔ سمندروں سے خطرات ہیں لیکن ان کے فوائد بھی ہیں۔

اسے یادرکھیں


اقوام متحدہ نے 8 جون کو عالمی سمندر کا دن کے طور پر نام زد کیا ہے ”ہم سب کو اس اہم کردار کے متعلق یاد دلانے کے لیے جو سمندر روز مرہ کی زندگی میں ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمارے سیارے کے پھیپھڑوں، خوراک اور ادویات کا ایک اہم ذریعہ اور حیاتیات کا ایک اہم حصہ ہیں۔“ سائنسی مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے سمندر کس طرح آلودہ ہوتے ہیں۔ ہم ہر سال سمندروں میں کئی ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پھینکتے ہیں جس سے سمندری زندگی کا دم گھٹتا ہے۔ آلودگی کی کئی دوسری شکلیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں سمندری ماحول کو خطرہ لاحق ہے۔ ضرورت سے زیادہ ماہی گیری (زیادہ سے زیادہ ماہی گیری ) سمندری حیات کے زوال کی ایک اور وجہ ہے۔ کرہ ارض اور انسانیت کے مستقبل کے لیے سمندروں کی حفاظت کرنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

  • سطح زمین پر سمندر کہلانے والے بڑے آبی ذخائر اور بر اعظم کہلانے والے بڑے خشکی کے حصے ہیں۔ سمندر آپس میں ملے ہوتے ہیں۔ براعظموں کو مختلف طریقوں سے شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی عام طور پر تعداد سات ہے۔
  • شمالی نصف کرہ میں جنوبی نصف کرہ سے زیادہ زمین ہے۔
  • سمندر ہر قسم کی آبی زندگی کی حمایت کرتے ہیں اور عالمی آب و ہوا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب وہ انسانی سرگرمیوں سے شدید متاثر ہیں اور انھیں ہمارے اجتماعی تحفظ کی ضرورت ہے۔

سوالات، سرگرمیاں اور پروجیکٹس

  1. 1 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی وضاحت کیجیے
    1. براعظم
    2. بحر اعظم
    3. جزیره
  1. آئیے بنائیں: اس باب میں نقشے کو دیکھے بغیر براعظموں کو کاغذ پر ہاتھوں سے بنائیے اور ان میں رنگ بھر لیے۔ پھر باب میں موجود بحر اعظموں اور براعظموں کے نقشے سے اپنی ڈرائنگ کا موازنہ کیجیے۔
  2. آئیے ہم کریں: نیچے دیے گئے دنیا کے نقشے پر سبھی براعظموں اور سمندروں کو نشان زد کیجیے۔
Screenshot 2026-04-15 123119
  1. اس کر اس ورڈ کو انگریزی لفظوں کی مدد سے حل کریں
Screenshot 2026-04-15 123232

بائیں سے دائیں

اوپر سے نیچے

  1. سمندروں سے بہت زیادہ پیداوار
  2. زمین کا سب سے بڑا جزیرہ
  3. زمین کا ایک بڑا پھیلاؤ
  4. سمندر سے ایک بہت بڑی تباہ کن لہر
  5. سب سے چھوٹا براعظم
  6. ایک بڑا براعظم ہندوستان جس کا ایک حصہ ہے
  7. زمین پر پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ
  8. سمندروں کی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ
  9. سمندریا بحر کے آس پاس زمین کا ایک بڑا ٹکڑا ( بر اعظم نہیں)
  10. سردترین بر اعظم