باب 3
سمندر اور براعظم
(Landforms and Life)
"میری دعا ہے کہ انسانوں کے بوجھ سے آزاد زمین اپنے بے شمار پہاڑوں، ڈھلوانوں اور وسیع میدانوں اور طرح طرح کی قوتوں سے آراستہ پیڑ پودوں کو لیے ہوئے ہمارے لیے باہیں پھیلائے رہے اور ہمارے خزانے ہم پر کھول دے۔۔۔۔ زمین میری ماں ہے اور میں اس کا بچہ ہوں۔“
-اتهروید زمین کے لیے تسبیح (Hymn to the Earth)
اہم
سوالات
- زمینی شکلوں کے خاص اقسام کیا ہیں؟ زندگی اور ثقافت کے لیے ان کی کیا اہمیت ہے؟
- بر زمینی شکل سے وابسته زندگی کے چیلنچز اور مواقع کیا ہیں؟
تعارف (Introduction)
انسان اور زیادہ تر دودھ پلانے والے جانور زمین پر رہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ زمین کی کئی شکلیں اور خصوصیات ہیں۔ اس کا ظہور ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک تبدیل ہوتا ہے۔ مان لیجیے آپ جھار کھنڈ کے ایک علاقہ جسے چھوٹا ناگپور کہتے ہیں بذریعہ سڑک سفر کرتے ہیں اور اتر پردیش کے پریاگ راج پہنچتے ہیں اور اتراکھنڈ میں الموڑا تک جاتے ہیں۔ راستے میں آپ زمین کے مختلف افقی منظر دیکھیں گے۔ دراصل آپ تین خاص زمینی شکلوں کا سامنا کریں گے جس کی اب ہم تفصیل پڑھیں گے۔
آئیے معلوم کریں
- ایک جماعت کی سر گرمی کے طور پر چار سے پانچ طلبا کا گروپ بنائیے اور اسکول کے ارد گرد کا مشاہدہ کیجیے کہ کس قسم کی زمین کا افقی منظر آپ دیکھتے ہیں؟ کیا زمین کا افقی منظر کچھ کلو میٹر آگے تبدیل ہو جائے گا یا کچھ 50 کلو میٹر کے اندر تبدیل ہو جائے گا۔ دیگر گروپ کے ساتھ موازنہ کیجیے۔
- اسی گروپ میں اس سفر پر بات کریں جو آپ میں سے کسی نے ہندوستان کے کسی علاقے کا کیا۔ راستے میں دیکھے گئے مختلف مناظر کی فہرست بنائیے۔ دیگر گروپوں کے ساتھ موازنہ کیجیے۔
کوئی زمینی شکل ہمارے سیارے کی زمینی سطح پر ایک طبیعیاتی خصوصیت ہے۔ زمینی شکلیں کئی ملین برسوں میں وجود میں آتی ہیں اور اس کا ہماری زندگی اور ماحولیات سے ایک اہم ربط ہے۔ ان کو مختصر اتین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہاڑ، پٹھار اور میدان (شکل 3.1)
یہ زمینی شکلیں مختلف آب وہو اور موسمی حالات رکھتی ہیں اور ان میں طرح طرح کے نباتات اور حیوانات پائے جاتے ہیں۔ انسانوں نے خود کو انسانی شکلوں کے مطابق ڈھالا ہے لیکن مختلف زمینی شکلوں پر رہنے والے افراد کی تعداد دنیا میں الگ الگ ہے۔
پہاڑ (Mountains)
پہاڑ زمین کی وہ شکل ہے جو زمین کے افقی مناظر کے ارد گرد سے کافی اونچا ہوتا ہے اسے ایک وسیع البنیاد ، ڈھلان اور ایک کھڑی تنگ چوٹی سے پہچانا جاتا ہے۔ اپنی اونچائی کے حساب سے کچھ پہاڑ برف سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ کم اونچائی پر یہ برف ہر سال گرمیوں میں پگھلتی ہے اور پانی میں تبدیل ہو جاتی ہے
جو دریاؤں کو غذا دیتی ہیں۔ زیادہ اونچائی پر برف شاید کبھی پگھلتی نہیں ہے اور پہاڑ کو مستقل طور پر برف سے ڈھکا ر کھتی ہے۔
کم اونچائی، کم کھڑی ڈھلوانوں اور گول چوٹیوں والی دوسری اونچائیوں کو پہاڑی کہتے ہیں۔
آئیے غور و فکر کریں
برف کے کہتے ہیں ؟ اگر آپ ہمالیہ خطے (جیسے کشمیر لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم ، ارونا چل پردیش و غیره میں نہیں رہتے ہیں، تو ممکن ہے کہ برف کو کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ ہندوستان کے بقیہ حصے میں بیشتر ترسیب بارش اور اولے کی شکل میں ہوتی ہے لیکن زیادہ بلند مقامات پر اگر بہت سردی ہے تو برف گرے گی جو افقی منظر کو ملائم اور خوب صورت سفید کمبل سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ برف اور اولے ٹھوس شکل میں پانی کی ترسیب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔
ترسیب (Percipitation): کسی بھی شکل میں جو پانی ماحول سے زمین تک پہنچتا ہے اسے ترسیب کہتے ہیں۔ بارش، برف اور اولے ترسیب کی کچھ عام -شکلیں ہیں۔
دنیا کے بیشتر پہاڑوں کی زمرہ بندی سلسلہ کوہ (Mountain range) میں کی جاتی ہے جیسے ایشیا میں ہمالیہ ، یوروپ میں ایپس جنوبی امریکہ میں اینڈس۔ کچھ سلسلہ کوہ ہزاروں کلومیٹر تک پھیلے ہوتے ہیں۔
شکل 3.2 میں دنیا کے چھے پہاڑوں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ شکل 3.3 اوپر سے نیچے تک ان کی نسبتی بلندیوں کا بھری تاثر دینے کے لیے انھیں اکٹھا کرتا ہے۔ ہمالیائی سلسلہ کوہ کی دو سب سے اونچی چوٹیوں میں ایک ماؤنٹ ایوریسٹ ہے جو ( تبت ، ( چین ) اور نیپال کے درمیان ہے) اور دوسری کنچن جنگا ہے جو ہندوستان کے صوبہ سکم اور نیپال کے درمیان میں ہے )۔ ماؤنٹ ایکو نکاگوا ( جنوبی امریکہ میں اینڈس کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ ماؤنٹ کلی من جارو مشرقی افریقہ کا ایک الگ تھلک پہاڑ ہے یعنی وہ کسی سلسلہ کوہ کا حصہ نہیں ہے۔ ماؤنٹ بلانیک مغربی یورپ کے الپس کا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اناموڈی ( جسے کیرل میں انائی چوٹی بھی کہتے ہیں) جنوبی ہند کا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔
وہ پہاڑ جو اونچے اور نکیلے ہیں جیسے ہمالیہ وہ نسبتاً جوان ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین کی تاریخ میں حال ہی میں اٹھے ہیں لیکن پھر بھی لاکھوں سال پہلے سے ہیں۔ چھوٹے اور گول شکل میں پہاڑ اور پہاڑیاں جیسے اراولی سلسلہ کوہ بہت پرانے ہیں وہ کٹاؤ کی وجہ سے گول شکل میں ہیں۔ کبھی کبھار جیسے کہ ہمالیہ کے ساتھ یہ دونوں عمل اونچائی اور کٹاؤ آج کی تاریخ تک ہیں۔ ( ان عملیات اور ان کی وجوہات کے بارے میں آپ سائنس میں مزید سیکھیں گے ؟ ہم یہاں صرف یہ بتاتے ہیں کہ ہمالیہ کی طرحدنیا کے کچھ پہاڑ اب بھی اونچائی میں بڑھ رہے ہیں)
پہاڑی ماحول (Mountain Environment)
پہاڑ کے ڈھال جنگل کے جسم سے ڈھکے ہوتے ہیں جسے جنگلی پہاڑ کہتے ہیں جہاں پر مخروطی درخت جیسے چیڑ کا درخت، شاہ بلوط ، دیودار وغیرہ عام ہیں۔ یہ مخروطی درخت لمبے اور مخروطی شکل کے پتلے، نوکیلے پتوں کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ اونچی بلندی پر درخت گھاسوں ، کائیوں اور کائی نما گھاسوں کو جگہ دیتے ہیں۔
پہاڑوں کا بادشاہ ہمالیہ، زمین کی پیمائش کرنے والے اور مغرب سے مشرق کے سمندروں تک پھیلے ہوئے ایک زندہ معبود کے مانند شمال میں طلوع ہوتا ہے۔ باد نسیم اس سے اترتی ہے نیچے آئی ہوئی گنگا کے چشمے کو لیے ہوئے ، دیودار کے درختوں کو ہلاتے ہوئے ، مور کی دم کے پروں کو کھولے ہوئے اور ہرن کے شکار کے بعد پہاڑ کے باسیوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہوئے۔
کلاس میں ان آیات اور مندرجہ ذیل سوالات پر بحث کیجیے:
- مغرب سے مشرق سمندر تک سے کیا مراد ہے ؟ کیا آپ ان کی نشان دہی شکل 5.2 پر پہاڑوں کے بادشاہ کے ساتھ کر سکتے ہیں ؟
- گنگا کا ذکر کیوں کیا گیا ہے ؟ ( اشارہ: اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔)
پہاڑوں میں گہرے جنگلات، بہتے دریا، جھیلیں، گھاس کی زمین اور غاریں متنوع جانوروں کے لیے گھر فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہر اعقاب، ہجرتی باز ، کناڈین بن بلاؤ، برفانی تیندوا، پہاڑی بکرا، ہمالین بکرا، نیلگری بکرا، پاک، سرمئی لومڑی، کالا ہرن (شکل: 3.4)۔
اسے یاد رکھیں
گنگا ، ہمالیہ سے نکلنے والے سب سے بڑے دریا کا ہندوستانی نام ہے۔ انگریزی میں گینگس (Ganges) بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 2500 کلومیٹر لمبی اس دریا کی بے شمار معاون ندیاں بھی ہیں ( اس میں شامل ہونے والی دوسری ندیاں)۔ ان میں چند ہمالیہ سے نکلنے والی ندیاں ہیں جیسے یمنا اور گھاگرا۔ اس کے علاوہ سون جو وندھیا سلسلہ کوہ سے شروع ہوتی ہے اور گنگا کے جنوبی میدان تک جاتی ہے۔
پہاڑوں میں زندگی (Life in mountains)
پہاڑی محطہ عموما ناہموار اور اوبر کھابڑ ہوتا ہے اور اس میں کھڑی ڈھلا نہیں ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے که با قاعدہ کاشت کاری صرف کچھ وادیوں میں کی جاسکتی ہے۔ ڈھلانوں پر سیڑھی دار کاشت کاری یعنی
خطه :(Terrain) طبیعیاتی خصوصیات کے نقطہ نظر سے زمین کا کوئی قطعہ یا حصہ
زمین کو کاٹ کر اس کی سیڑھی پر کاشت کاری کرنا ایک عام طریقہ کار ہے۔ (شکل 3.5) اسے سیڑھی دار زراعت کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف پہاڑی علاقوں میں مویشی پروری کو زراعت پر ترجیح دی جاتی ہے۔
پہاڑوں میں رہنے والوں کے لیے اکثر سیاحت آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ پہاڑوں کی کر کری ہوا اور قدرتی خوب صورتی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کچھ لوگ وہاں کھیلوں جیسے اسکینگ، ہائی کنگ، کوہ پیمائی اور پیراگلائیڈنگ کے لیے بھی جاتے ہیں۔ کئی صدیوں سے لوگوں نے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وہاں کا سفر بھی کیا ہے مگر زائرین کی بہت زیادہ آمد نازک پہاڑوں کو بھی دباؤ میں رکھتے ہیں۔ وہاں صحیح توازن بر قرار رکھنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔
اسے یاد رکھیں
- بچندری پال (Bachendri Pal) نے کم عمری سے ہی چوٹیوں پر چڑھنا شروع کر دیا تھا اور خواتین کی کئی کوہ پیمائی مہمات کی قیادت کی تھی۔ وہ پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے 1984 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا اور اسی سال انھیں پدم شری اور 2019 میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔
- ارونما سنها ( Arunima Sinha) کی ایک ٹانگ ایک حادثے میں اس وقت ضائع ہو گئی جب وہ 22 سال کی تھیں۔ بچندری پال کی حوصلہ افزائی اور تربیت کے ساتھ وہ 2013 میں ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھنے میں کامیاب ہوئیں اور انٹارکٹکا میں ماؤنٹ ونسن سمیت ہر براعظم کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کے لیے آگے بڑھ گئیں۔ انھیں 2015 میں پدم شری سے نوازا گیا۔
آئیے معلوم کریں
ان تصاویر سے ان مسائل کا پتا چلتا ہے (صفحہ 50 پر شکل 3.6) جن کا پہاڑ پر رہنے والے لوگوں کو سامنا ہو سکتا ہے۔ کلاس میں گروپ بنا کر ان پر بحث کیجیے اور ہر ایک پر ایک پیراگراف لکھیے اور اس پر تبادلہ خیال کیجیے۔ اس طرح کے مسائل کے باوجود لوگ پہاڑوں میں رہنے کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟
اسے یاد رکھیں
دنیا کے بہت سی روایتی برادریوں نے پہاڑوں کو قابل تعظیم تصور کیا ہے اور اس کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایوریسٹ جو کہ پوری دنیا میں سب سے اونچا 8,849 میٹر پہاڑ ہے۔ جس کے بہت سے نام ہیں۔ تبت کے لوگ اسے چومو لنگما کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے دنیا کی دیوی ماں اور پہاڑ کی اسی طرح عبادت کرتے ہیں۔ نیپال کے لوگ اسے دسگرما تھا، کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ” آسمان کی دیوی“۔ اسی طرح ماؤنٹ کیلاش جو تبت میں ہے وہ ہندومت، بدھ مت، جین مت اور بون ( ایک قدیمی تبت کا مذہب کے ماننے والوں کے نزدیک مقدس مانا جاتا ہے۔ پہاڑی چوٹیوں کی یہ تعظیم ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
پٹھار (Plateaus)
پٹھار ایک زمینی شکل ہے جو آس پاس کی زمین سے اوپر اٹھتی ہے اور کم و بیش اس کی سطح برابر ہوتی ہے۔ اس کی کچھ سمتیں اکثر کھڑے ڈھلان کی ہوتی ہیں۔ پہاڑ کی طرح پٹھار بھی زمین کی تاریخ کے لحاظ سے نئے اور پرانے ہوتے ہیں۔ پٹھار کی دو مثالیں ہیں۔ تبت کا پٹھار جو پوری دنیا میں سب سے بڑا اور سب سے اونچا ہے اور دوسر اد کن کا پٹھا ر ہے۔ پٹھاروں کی اونچائی سیکڑوں میٹر سے لے کر ہزاروں میٹر تک ہو سکتی ہے۔
اسے یاد رکھیں
- تبت کے پٹھار کی اوسط بلندی 4,500 میٹر ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ اس کا عرفی نام دنیا کی چھت ہے۔ مشرق سے مغرب تک یہ تقریباً 2,500 کلو میٹر لمبی ہے جو چنڈی گڑھ سے کنیا کماری تک کا فاصلہ ہے۔
- مرکزی اور جنوبی ہند کا دکن پٹھار دنیا کا سب سے پرانا پٹھار ہے جو لاکھوں سال پہلے آتش فشاں سر گرمی کے ذریعے بنا ہے۔
پہاڑوں کی طرح پٹھار معدنی ذخائر سے مالا مال ہیں۔ انھیں معدنیات کے گودام“ کہا جاتا ہے، نتیجے کے طور پر پٹھاروں میں کان کنی ایک اہم سرگرمی ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی کا نہیں پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مشرقی افریقہ کے پٹھار سونے اور ہیرے کی کانوں کے لیے مشہور ہیں۔ ہندوستان میں چھوٹا ناگپور کے پٹھار میں لوہا، کوئلہ اور میگنیز کا ذخیرہ کافی مقدار میں موجود ہے۔
دنیا بھر میں پٹھاروں کا ماحول بہت متنوع ہے۔ بہت سے پٹھاروں میں پتھریلی مٹی ہوتی ہے جو میدانی علاقوں کو نسبتا مٹی سے کم زرخیز بناتی ہے ۔ ( اگلا حصہ دیکھیے ) اس لیے پٹھار زراعت کے لیے کم موزوں ہیں۔ لیکن (آتش فشاں کی سرگرمیوں سے بننے والے ) لاوا کے پٹھار زرخیز ہیں کیوں کہ اس میں بھر پور کالی مٹی پائی جاتی ہے۔
پٹھار میں کئی دل کش آبشار بھی ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں زمبیزی دریا پر وکٹوریہ آبشار ہے۔ چھوٹا ناگپور کے پٹھار میں سبر نریکھا دریا پر ہند رو آبشار (Hundru falls) ہیں اور مغربی گھاٹ کے شراوتی دریا پر جوگ آبشار اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ (میگھالیہ میں) چیرانچی پٹھار سے 340 میٹر کی اونچائی سے نوہ کالی کالی آبشار گرتی ہیں۔ (شکل 3.7)
میدان (Plains)
میدان زمین کی وہ شکلیں ہیں جو وسیع چیپٹے آہستہ سے ڈھلتی ہوئی سطح ہوتی ہے۔ ان میں بڑی پہاڑیاں اور گہری وادیاں نہیں ہوتی ہیں۔ ان کی اونچائی عام طور پر سمندر کی سطح سے 300 میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔
سیلابی میدان اس قسم کے میدانوں کو کہتے ہیں جو پہاڑوں کے سلسلہ کوہ سے پیدا ہونے والی دریاؤں سے بنتے ہیں جہاں وہ پہاڑوں کے ذرات اور مٹی کو، جسے تلچھٹ کہتے ہیں، اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ یہ تلچھٹ میدانی علاقوں تک تمام راستوں سے ہو کر آتے ہیں جہاں دریا انھیں جمع کرتے ہیں اور مٹی کو بہت زرخیز بناتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں یہ میدان ہر قسم کے اناج کو اگانے کے لیے مثالی ہوتے ہیں ۔ اس زمینی شکل ( میدان) میں زراعت ایک اہم معاشی سرگرمی ہے۔ یہ میدان متنوع نباتیات -اور حیوانیات کے لیے بھی مدد گار ہوتے ہیں۔
سطح سمندر :(Sea level) سمندروں کی اوپری تہہ کی اوسط سطح جسے اوسط سطحسمندری کہا جاتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
آئیے معلوم کریں
- گنگا میدان کس رنگ کا ہے؟
- سفید وسعت کیا ظاہر کرتی ہے ؟
- شکل کے نیچے بائیں کتھئی (خاکی) پھیلاو کیا ظاہر کرتا ہے؟
میدانوں میں زندگی
ہزاروں سال پہلے ، پہلی تہذیب کی نشو و نما زرخیز میدانوں میں دریاؤں کے ارد گرد ہوئی۔ ہمارے وقت میں بھی دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ میدانوں میں رہتا ہے۔
تقریباً 40 کروڑ لوگ ، جو کل ہندوستانی آبادی کا ایک چوتھائی سے زیادہ ہیں ، ہندوستان کے (گنگا کے میدان جسے اکثر گنگا کا میدان Gangeticplain کہا جاتا ہے ) میں رہتے ہیں۔ دنیا کے دیگر میدانی علاقوں کی طرح اہم پیشہ جس میں ماہی گیری اور زراعت شامل ہیں ۔ غذائی فصلیں جیسے چاول، آٹا، مکئی، جو ، باجرا اور ریشے دار فصلیں جیسے سوت، جوٹ اور بھانگ کو پیدا کیا جاتا ہے۔ روایتی زراعت زیادہ تر بارش پر مشتمل (بارش کے ذریعہ پانی) ہوتی ہے مگر حالیہ دس سالوں میں زراعت تیزی سے آب پاشی کی محتاج ہو گئی ہے جس میں پانی کو نہروں کے نیٹ ورک کے ذریعے کھیتوں میں لایا جاتا ہے یا زمینی پانی سے پمپ کے ذریعے سینچا جاتا ہے۔ جہاں آب پاشی نے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا وہیں یہ زیر زمین پانی میں کمی کا باعث بنا، اس سے خطہ میں زراعت کے مستقبل کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ دیگر مسائل جو گنگا کے میدانوں کو متاثر کرتے ہیں ان میں زیادہ آبادی اور آلودگی شامل ہیں۔
دریا چاہے پہاڑی سلسلوں میں ہوں یا میدانی علاقوں میں ۔ دنیا بھر میں دریاؤں کے ساتھ بے پناہ ثقافتی اقدار وابستہ ہیں۔ خاص طور پر ، بہت سی برادریوں نے کسی دریا نکلنے کی جگہ یا دیگر دریاؤں کے ساتھ اس کے سنگم کو مقدس سمجھا ہے۔ ہندوستان میں ایسے مقامات پر بے شمار تیوہار ، تقاریب اور رسومات منائی جاتی ہیں۔
چوں کہ میدان کافی برابر ہوتے ہیں اس سے دریاؤں کی سمت شناسی آسان ہو جاتی ہے اور بیشتر معاشی سرگرمیوں کو مدد ملتی ہے۔ قدیم دنوں میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے میں بھی دریاؤں کا استعمال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آج بھی (شکل 3.10 صفحہ 56) گنگا کے کنارے پھیلے علاقوں میں لوگ آمد ورفت کے لیے کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
- کیا آپ اپنے علاقوں میں دریاؤں کے نکلنے کی جگہوں اور سنگم کی مثالیں دے سکتے ہیں جو کسی برادری کے لیے مقدس مانی جاتی ہے ؟
- کسی قریب ترین دریا کا دورہ کیجیے اور وہاں کی سبھی سر گرمیوں کا مشاہدہ کیجیے چاہے وہ معاشی یا ثقافتی ہوں۔ انھیں لکھیے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ بحث کیجیے۔
- ہندوستان کے کچھ سیاحتی مقامات کے نام بتائیے اور ان سے متعلق زمینی شکلوں کی اقسام کی نشان دہی کیجیے۔
سنگم :(Confluence) وہ مقام جہاں دو یا زائد دریا آپس میں ملتے ہیں۔
اس باب میں ہم نے تین اہم زمینی شکلوں کو سمجھا۔ مگر اس کی سطح پیچیدہ ہے اور ماہرین اکثر کچھ اور زمینی شکلوں کو بیان کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شکل ریگستان ہے۔ ریگستان کو بڑے اور نایاب ترسیب کے ساتھ خشک توسیع مانا جاتا ہے۔ ان کے نباتیات اور حیوانیات ان کے لیے نادر ہوتے ہیں۔ کچھ ریگستان بہت گرم ہوتے ہیں جیسے افریقہ میں صحارا ریگستان یا بر صغیر ہند کے شمال مغرب میں تھار ریگستان۔ دیگر ٹھنڈے ہیں جیسے ایشیا میں گوبی ریگستان ہے ( کچھ ماہرین نے براعظم انٹار کٹیکا کو بھی ایک ریگستان کی شکل میں بیان کیا ہے )
ان سخت حالات زندگی کے باوجود انسانوں نے بیشتر ریگستانوں کو اپنایا ہے۔ تھار ریگستان میں رہنے والی برادریاں یا اس ریگستان کے راستے ہجرت کرنے والی برادریوں کے پاس ریگستان کے متعلق لوگ گیتوں اور داستانوں جیسی بھر پور ثقافتی روایات ہیں۔
متنوع طریقے جن سے انسانوں نے تمام زمینی شکل کو اپنا گھر بنایا ہے وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور لچیلے پن کا ثبوت ہیں۔
لیک :(Resilience) چیلنج اور مشکلات کا مقابلہ کرنے، ان کے مطابق ڈھالنے یا ان پر قابو پانے کی صلاحیت
| تنائی | افقی مناظر | خاص پیشے |
|---|---|---|
| کورنجی | پہاڑی علاقے | شکار اور جمع |
| ملائی | گھاس کا میدان اور جنگلات | مویشی پالنا |
| مدورم | زرخیز زراعتی میدان | کاشت کاری |
| نائیڈل | ساحلی علاقے | ماہی گیری اور سمندری ماہی گیری |
| پلائی | بنجر، ریگستان جیسے علاقے | سفر اور لڑائی |
اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ...
- زمینی شکلوں کی تین خاص اقسام میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پہاڑ، پٹھار اور میدان۔ ان کی مختلف جسمانی خصوصیات اور ماحول ہوتے ہیں۔
- پوری تاریخ میں لوگوں کی زندگی اور سرگرمیاں اس قسم کی زمینی شکل سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ زمینی شکلیں پوری دنیا کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ہندوستانی ثقافت میں خاص طور پر ان کو مختلف طریقوں سے منایا گیا ہے۔
- ہر زمینی شکل مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیش کرتی ہے۔
سوالات / سرگرمیاں اور پروجیکٹس
- آپ جس شہر / گاؤں / قصبہ میں رہتے ہیں وہاں کون سی زمینی شکل ہے ؟ اس باب میں کن خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ اپنے آس پاس دیکھتے ہیں ؟
- آئیے اپنے ابتدائی سفر چھوٹا ناگپور سے پریاگ راج اور الموڑا واپس چلتے ہیں۔ راستے میں ملنے والے تین زمینی شکلوں کی وضاحت کیجیے۔
- زمینی شکلوں کے ساتھ ہندوستان کے چند مشہور زیارت گاہوں کی ایک فہرست بنائیے۔ جہاں وہ پائے جاتے ہیں ؟
- بتائیے کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔
- ہمالیہ جو ان پہاڑ اور اس کی چوٹیاں گول ہیں۔
- پٹھار ( چٹانیں) عام طور پر ایک جانب پر تیزی سے اٹھتا ہے۔
- پہاڑ اور پہاڑیاں ایک ہی زمینی شکل سے تعلق رکھتے ہیں۔
- ہندوستان میں پہاڑ ، پٹھار اور دریاؤں کی ایک ہی قسم کی نباتات اور حیوانات ہوتے ہیں۔
- گنگا جمنا کی ایک معاون ندی ہے۔
- ریگستان کے نباتات اور حیوانات منفر د ہوتے ہیں۔
- پگھلتی ہوئی برف دریاؤں کو خوراک دیتی ہیں۔
- دریاؤں سے تلچھٹ میدانوں میں اکٹھا ہو کر زمین کو زرخیز بناتی ہیں۔
- سبھی ریگستان گرم ہوتے ہیں۔
- الفاظ کے جوڑے بنائیے :
| ماؤنٹ ایوریسٹ | افریقہ |
|---|---|
| چوب بندی | دنیا کی چھت |
| اونٹ | چاول کے کھیت |
| پٹھار | ریگستان |
| گنگا کا میدان | دریا |
| آبی گزر گاہیں | گنگا |
| ماؤنٹ کلی من جارو | معاون ندی |
| جمنا | چڑھنا |