باب 4
تاریخ کی وقوعی ترتیب اور اُس کے ماخذ
(Timeline and Sources of History)
تاریخ حال اور ماضی کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والا مکالمہ ہے ... موجودہ سماج کے درمیان اور گزرے ہوئے سماج کے درمیان ... ماضی کی روشنی میں ہی ہم مکمل طور پر حال کو سمجھ سکتے ہیں۔“
-ای ایچ کار
سوالات
- ہم تاریخی زمانہ کی پیمائش کس طرح کرتے ہیں؟
- تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ مختلف ذرائع ہماری مددکس طرح کر سکتے ہیں؟
- زمانہ قدیم میں انسان کیسے زندگی گزارتے تھے؟
ہم ماضی کے متعلق کیسے سیکھتے ہیں؟
آئیے غور و فکر کریں
- سب سے پرانی یاداشت کون سی ہے جسے آپ پھر سے تازہ کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کو یا د ہے آپ کی عمر اس وقت کتنی تھی ؟ شاید پانچ یا چھے سال قبل کی وہ تمام یادیں ایک ساتھ آپ کے ماضی کا حصہ ہیں۔
- آپ یہ کیسے سمجھتے ہیں کہ ماضی کو سمجھنے سے آپ کو موجودہ دنیا کو سمجھنے میں مدد ملے گی؟
سائنس کی جماعت میں آپ کو معلوم ہو گا کہ زمین کی بہت ہی طویل تاریخ ہے جس میں ہم انسانوں کی تاریخ جدید ترین اور ایک مختصر حصہ ہے۔
تاریخ :(History) انسان کے ماضی کا مطالعہ
بہت سے لوگ زمین کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کو زمین کی سطح کے نیچے رہ جانے والے رازوں سے پردہ اٹھانے میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اس طرح زمین کے ماضی اور ہمارے ماضی کے متعلق جاننے میں مدد کرتے ہیں۔
اوپر دی گئی چاروں تصویروں سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ لیجیے۔
- ماہرین ارضیات (شکل 4.2.1) زمین کی طبیعی خصوصیات کا مطالعہ کرتے ہیں جیسے کہ مٹی، پتھروں، پہاڑوں، دریاؤں، سمندروں، بحروں اور زمین کے دوسرے حصے۔
- ماہرین حیاتیات ( شکل (4.2.2) تجریہ کی صورت میں لاکھوں سال پہلے کے پودے، جانوروں اور انسانوں کی باقیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
- ماہرین بشریات (شکل 4.2.3) قدیم زمانے سے لے کر موجودہ زمانے تک انسانی معاشرتوں اور ثقافتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
- ماہرین آثار قدیمہ ( شکل (4.2.4) لوگوں، پودوں اور جانوروں کے ذریعے اپنے پیچھے چھوڑے گئے باقیات جیسے اوزار، برتن، موتیوں، مجسمے، کھلونے انسانوں اور جانوروں کی ہڈیاں اور دانت، جلے ہوئے اناج، مکان کے حصے یا اینٹیں وغیرہ اور دیگر اشیا کو کھود کر کے ماضی کا مطالعہ کرتے ہیں۔
تجریه :(Fossils) مٹی یا چٹانوں کی تہوں کے اندر محفوظ پائے جانے والے پودوں یا جانوروں کے قدموں کے نشانات
تاریخ میں وقت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے ؟
ہر معاشرے اور ثقافت کے پاس وقت کے تعین کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ اہم واقعات جیسے کہ کسی خاص شخص کی پیدائش یا کسی حکمران کے دور کا آغاز ، اکثر ایک نئے دور کے آغاز کی نشان دہی کرتے ہیں۔ فی الحال گریگورین کیلنڈر کا استعمال دنیا بھر میں کیا جاتا ہے ساتھ ساتھ ہندو، مسلم،
دور :(Era) وقت کا کوئی مخصوص دور
یہودی، چینی اور دیگر کیلنڈروں کا بھی استعمال تیوہاروں کی تاریخوں اور دوسرے مبارک واقعات کا حساب لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
مغرب میں عیسی مسیح کی پیدائش کے روایتی سال کو عام طور پر اس کلینڈر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ سالوں کو اسی نقطے سے آگے شمار کیا جاتا ہے اور AD سے نشان زد کیا جاتا ہے (جو لاطینی فقرے کا مخفف ہے جس کا مطلب پیغمبر عیسی کی پیدائش کے بعد کے سال)۔ تاہم اب دنیا بھر میں اس کو عام دور ( Common era) یا CE کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان 1947 میں آزاد ہوا۔ اسے 1947 عیسوی (کبھی کبھی عیسوی سن (1947) یا 1947CE (انگریزی میں ) لکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح عیسی مسیح کی روایتی تاریخ پیدائش سے پہلے کے برسوں کو پیچھے کی ترتیب میں لگے ہوئے BC (قبل مسیح) سے نشان زد کیا جاتا رہا ہے۔ اب اُنھیں قبل عام دور یا BCE کہا جاتا ہے۔ مثلاً 560BCE کے قریب گوتم بدھ کی پیدائش ہے ۔ ( جن کے بارے میں ہم باب 7 میں پڑھیں گے )۔ کیا آپ حساب لگا سکتے ہیں کہ ان کی پیدائش آج سے کتنے سال قبل ہوئی تھی ؟
گریگورین کیلنڈر (Gregorian calendar) اب دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کیلنڈر میں 365 دنوں کے 12 مہینے ہوتے ہیں اور ہر چار سال کے بعد سال کبیسہ ہوتا )Leap Year( ہے۔ تاہم صدی کے سال جیسے 1800 -2000-1900 اسی حالت میں سال کبیر ہوں گے جب وہ 400 سے تقسیم ہو جائیں۔ اس طرح مذکورہ بالا تین صدی برسوں میں صرف 2000 ہی سال کبیسہ ہے۔ سعد / مبارک :(Auspicious) ساز گار یا خوش قسمتی لانے والا واقعہ مثلاً کوئی مبارک لمحہ ۔
اس درسی کتاب میں ہم نے BCE کے لیے قبل عام دور (ق . ع . د) اور CE کے لیے عام دور (ع . د) کا مخفف استعمال کیا ہے۔
آئیے معلوم کریں
- اس طرح کے حسابات آسان ہوتے ہیں لیکن اس میں ایک پیچیدگی ہے۔ گریگورین کیلنڈر میں کوئی سال صفر ، نہیں ہوتا ہے۔ سال CE1 سال BCE1 کے فوراً بعد آتا ہے۔ 2 BCE سے 2 CE تک ہر سال کو نشان زد کرتے ہوئے وقوعی ترتیب بنائیے۔ سال صفر کی کی عدم موجودگی کی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ ان دو تاریخوں کے درمیان میں صرف 3 سال گزرے ہیں۔
- اس لیے ق . ع . د (BCE) تاریخ اور ع. د (CE) تاریخ کے درمیان برسوں کی تعداد کا حساب لگانے کے لیے آپ کو ان کا اضافہ کرنا چاہیے لیکن اوپر کی صورت میں 1 کو گھٹائیں 3= 1-2+2
- نے ہم جماعت طلبا کے ساتھ کچھ مثالوں کی مشق کریں۔ مثال کے طور پر مہاتما بدھ کے متعلق سوال پر واپس چلیں اور فرض کریں کہ اب ہم سال 2024 عیسوی میں ہیں تو 12583-2024+ 560 سالوں پہلے مہاتما بدھ کی پیدائش ہوئی تھی۔
اس طرح کے واقعات کو نشان زد کرنے کے لیے وقوعی ترتیب (Timeline) ایک آسان طریقہ کار ہے، (دیکھیے صفحہ 62 اور 63 شکل (4.3) کیوں کہ یہ کسی خاص دور کی تاریخوں اور واقعات کو سلسلے وار دکھاتا ہے۔ یہاں وقوعی ترتیب میں انسانی تہذیب کی ابتدا سے لے کر حال تک کے سفر کو دکھایا گیا ہے۔ زمانی حدود پر نقطوں کے ذریعے اہم تاریخی واقعات کو نشان زد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ زمانی حدود پر نشان زد حصہ چھوڑے گئے ادوار کی نشان دہی کرتا ہے۔ ورنہ زمانی حدود تقریباً تین میٹر لمبی ہوتی۔
وقوعی ترتیب (Timeline) اس ترتیب کو سمجھنے میں بھی مدد کرتی ہے جس میں تاریخی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر تاریخوں کو دیکھے بغیر بھی اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بدھ کی پیدائش عیسی مسیح سے پہلے ہوئی تھی۔
اسے یاد رکھیں
- صدی: یہ 100 سال کی مدت ہوتی ہے۔ تاریخ میں 1 سے لے کر ہر 100 کے لیے صدی شمار کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم ابھی 21 ویں صدی عیسوی (CE) میں ہیں جو کہ 2001 سے 2100 تک چلے گی۔ قبل مسیح کا حساب لگانے کے لیے ہم BCE 1 سے شروع کر کے گزرے ہوئے وقت کی طرف چلتے ہیں۔ مثال کے طور پر تیسری صدی قبل مسیح میں سال 300 قبل مسیح سے لے کر 201 قبل مسیح تک شامل ہوں گے۔
- الفیہ : یہ 1,000 سالوں کی کوئی مدت ہوتی ہے ۔ تاریخ میں مخصوص صدیوں کا شمار سال 1 صدی عیسوی سے لے کر ہر 1,000 سال پر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم ابھی تیسرے الفیہ عیسوی صدی میں ہیں جو 2,001 عیسوی سے شروع ہوتا ہے اور 3,000 عیسوی تک جائے گا۔ صدیوں کی طرح ہی الفیہ (Millenniums) قبل مسیح کا حساب بھی 1 عیسوی سے شروع ہو کر پیچھے تک جاتا ہے۔ اس سے پہلے الفیہ قبل مسیح میں 11 BCE اور 1000 BCE کے سال شامل ہوں گے۔ صفحہ 62 اور 63 (شکل 4.3) پر دی گئی وقوعی ترتیب میں ، کیا آپ آٹھویں صدی قبل مسیح کے آغاز کو نشان زد کر سکتے ہیں؟ (نوٹ : انگریزی میں Millennium کی جمع Millenniums یا Millennia ہے؛ دونوں درست ہیں۔
آیئے معلوم کریں
اسے یاد رکھیں
تاریخ کے مآخذ کیا ہیں ؟
آیئے معلوم کریں
تاریخ کا ماخذ :(Source of history) ماخذ کسی جگہ کوئی مقام، شخص یا کوئی چیز جس سے ہم کسی گزشتہ واقعہ یا دور کے بارے میں معلومات جمع کر سکیں۔
| رشتہ | نام | پیشہ | جائے پیدائش | معلومات کا ماخذ |
|---|---|---|---|---|
| دادا/دادی (والد سے منسوب) |
||||
| نانا/نانی (والدہ سے منسوب) |
||||
| پردادا/پردادی (والد سے منسوب) |
||||
| پرنانا/پرنانی (والدہ سے منسوب) |
آپ نے اپنے خاندان کے ماضی سے متعلق معلومات کیسے حاصل کیں؟ ان معلومات کو حاصل کرنے کے لیے کیا آپ نے تصویروں ، ڈائریوں ، شناختی کارڈوں وغیرہ کی مدد لی یا صرف اپنے والدین اور رشتے داروں کی یادداشت پر ہی انحصار کیا؟
آئیے غور و فکر کریں
ہر ایک شے یا ڈھانچہ ایک کہانی بتاتی ہے اور وہ جگسو پھیلی (Jigsaw puzzle) کے ایک حصے کی طرح ہوتی ہے۔ آپ اپنے گھر کے آس پاس جو چیزیں دیکھتے ہیں وہ آپ کو آپ کے خاندان کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاتی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح مختلف ذرائع سے ہم تاریخی واقعات کو جمع کر سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ تاریخ کے معاملے میں پہیلی کے کچھ ٹکڑے غائب رہ جاتے ہیں۔ نیچے دی گئی شکل کو غور سے دیکھیے۔ یہ تاریخ کے اہم ذرائع کو جمع کرتی ہے۔ آپ کو یہ سب یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ ہم آگے بڑھتے ہوئے ان میں سے کچھ استعمال کریں گے۔
اب ان سب کو یاد رکھیں؟ آگے بڑھتے ہوئے ہم ان میں سے کچھ کا استعمال کریں گے۔
تاریخ دان جب 1500 سال پہلے کے کسی بادشاہ یا ملکہ کسی قدیم تاریخی عمارت، جنگ یا بعض تجارتی اشیا کا مطالعہ کرتے ہیں، تو وہ زیادہ سے زیادہ ذرائع سے معلومات اکٹھا کرنے میں بہت احتیاط برتتے ہیں جنھیں وہ تلاش کر سکتے ہیں اور رجوع کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات، ذرائع ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں ( جگسو کے ٹکڑے ملتے ہیں)؛ جب کہ کبھی کبھی ذرائع متضاد معلومات دے سکتے ہیں ( جگسو کے ٹکڑے ملتے نہیں ہیں ) ایسی صورت میں انھیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس ماخذ پر زیادہ اعتماد کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ جس دور کا مطالعہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ کے ان ذرائع میں کون تعاون کرتا ہے ؟ خود مورخین ، بلکہ آثار قدیمہ کے ماہرین، کتبہ به شناس ( جو قدیم نوشتہ جات کا مطالعہ کرتے ہیں ) ، ماہرین بشریات، ( جو انسانی معاشروں اور ان کی ثقافتوں کا مطالعہ کرتے ہیں) ادب اور زبان کے ماہرین اور دیگر ۔ اس کے علاوہ گزشتہ تقریباً 50 سال میں سائنسی علوم ماضی کی تعمیر نو میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر قدیم آب و ہوا کا مطالعہ ، کھدائی میں ملی اشیا کا کیمیائی مطالعہ اور قدیم لوگوں کے جینیات کے مطالعے نے تازہ بصیرت فراہم کیے ہیں جو زیادہ عام مآخذ کا تکملہ کرتے ہیں اور جب مورخین حالیہ ترین تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ( جس کا مطلب عام طور سے پچھلی دو یا تین صدیوں سے ہوتا ہے ) اس کا ایک اور ذریعہ اخبار ہے۔ پچھلے چند دہائیوں سے الیکٹرونک میڈیا ( ٹیلی ویژن، انٹر نیٹ وغیرہ) سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
مورخ :(Historian) ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ماضی کا مطالعہ کرتا ہے ہے اور اس کے بارے میں لکھتا ہے۔
جینیات :(Genetics) حیاتیات کی وہ شاخ جو اس بات کا مطالعہ کرتی ہے کہ پودوں ، جانوروں ، انسانوں میں ، کچھ خصوصیات اور امتیازات ایک نسل سے دوسری نسل تک کیسے منتقل ہوتے ہیں۔
انسانی تاریخ کا آغاز
جدید انسان (Homo sapiens) تقریباً ، 3 لاکھ سال 300000 سے کرہ ارض پر رہ رہے ہیں۔ یہ ایک طویل مدت معلوم ہوتی ہے۔ پھر بھی یہ زمینی تاریخ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ آئیے اپنی ابتدائی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔
آئیے معلوم کریں
ابتدائی انسانوں نے فطرت کی پیدا کردہ بہت سی دشواریوں کا سامنا کیا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے جماعت یا گروپ میں رہتے تھے۔ وہ مسلسل پناہ گاہ اور خوراک کی تلاش میں رہتے تھے اور بنیادی طور پر شکاری اور ذخیرہ اندوز تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی بقا کے لیے شکار کرنے اور کھائے جانے والے پودے اور پھل جمع کرنے پر انحصار کرتے تھے۔ ہمارے ابتدائی آباؤ اجداد بھی قدرتی عناصر کے بارے میں کچھ عقائد رکھتے تھے اور ممکنہ طور پر موت کے بعد زندگی (Afterlife) کے بارے میں بھی ان کے کچھ عقائد تھے۔
موت کے بعد زندگی :(Afterlife) موت کے بعد شروع ہونے والی زندگی۔
یہ گروپ عارضی کیمپوں، چٹانی پناہ گاہوں یا غاروں میں رہتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسی زبان میں تبادلۂ خیال کرتے تھے جو اب ختم ہو چکی ہیں۔ انھوں نے آگ کا استعمال کیا اور ایسی چیزیں بنانا شروع کیں جن سے ان کی زندگی آسان ہو گئی۔ جیسے پتھر کی کلہاڑی اور بلیڈ ، تیر کے سرے اور دیگر اوزار ۔ ان کی زندگی کی جھلکیاں دنیا بھر کے سیکڑوں غاروں میں پائی جانے والی چٹانی تصاویر میں نظر آتی ہیں۔ ان میں سے کچھ شکلیں سادہ شکلوں یا چند علامتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ کچھ زیادہ وضاحتی ہیں اور جانوروں یا انسانوں کے ساتھ مناظر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان ابتدائی انسانوں نے سادہ زیورات بنانا سیکھا جیسے کہ پتھر یا سیپ کی موتیوں کے ہار، جانوروں کے دانتوں سے بنے لاکٹ اور بعض اوقات ان کا دوسرے گروہوں کے ساتھ تبادلہ بھی کرتے تھے۔
شروعاتی فصلیں
طویل مدتوں کے دوران زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ بعض اوقات یہ بہت ٹھنڈی تھی اور زمین کا بیشتر حصہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہ برفانی عہد کہلاتا ہے۔ جیسا کہ آپ سائنس میں مزید تفصیل سے پڑھیں گے۔ بعد میں جب آب و ہوا گرم ہوئی تو یہ برف جزوی طور پر پگھل گئی اور اس کے نتیجے میں پانی موجودہ دریاؤں سے ابل کر بالآخر سمندروں میں بہہ گیا۔ آخری برفانی دور 1 لاکھ سال پہلے سے تقریباً 12 ہزار سال پہلے تک ہے۔
اس کے بعد انسانوں کے لیے حالات زندگی بہتر ہوئے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں انھوں نے آباد ہونا شروع کیا اور اناج اگانے لگے ۔ وہ گائے ، بکری جیسے جانور کو پالنے لگے۔ زیادہ خوراک دست یاب ہونے پر یہ برادریاں حجم اور تعداد میں بڑھنے لگیں اور اکثر ندیوں کے قریب آباد ہوئیں۔ اس کی وجہ نہ صرف پانی کی دست یابی تھی بلکہ اس لیے بھی زیادہ کہ وہاں کی مٹی زیادہ زرخیز ہوتی ہے۔ اس سے فصلوں کو اگانے کا عمل آسان ہو گیا۔
آئیے معلوم کریں
آئیے غور و فکر کریں
- اس سے پہلے دکھائی گئی چٹانی پناہ گاہ اور مذکورہ بالا تصویر دونوں میں مردوں اور عورتوں کو مخصوص کردار میں دکھایا گیا ہے۔ اگر چہ یہ فطری نظر آتے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ درست ہوں مام حالات کا احاطہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی چٹانی پناہ گاہ میں عورت نے چٹان کو رنگنے کے لیے رنگ تیار کرنے میں مدد کی ہو گی یا خود مصوری کی ہو گی۔ دونوں مناظر میں ہو سکتا ہے کہ مردوں نے کھانا پکایا ہو یا بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کی ہو۔
- یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ہمارے پاس صرف محدود معلومات ہیں، اس طرح کے کردار اور حالات کے متعلق سوچیے اور کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
جوں جوں برادریاں بڑھتی گئیں ان کی سماجی پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ سربراہ یا قبیلہ کا سردار لوگوں کی فلاح و بہبود کے ذمے دار ہوتے تھے اور برادری کی فلاح و بہبود کے لیے سبھی مل جل کر کام کرتے تھے۔ مثال کے طور پر انفرادی ملکیت کا وہاں کوئی احساس نہیں تھا، زمینیں اجتماعی طور پر ہوئی جاتی اور فصل کائی جاتی۔
وقت گزرنے کے ساتھ چھوٹے گاؤں یا بستیاں بڑھ کر بڑے گاؤں یا بستی میں تبدیل ہو گئے، جو زیادہ تر خوراک ، لباس اور اوزار کی صورت میں سامان کا تبادلہ کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ ان گاؤں کے درمیان مواصلات اور تبادلے کا نظام قائم ہوا اور ان میں سے کچھ چھوٹے شہروں میں پھیل گئے۔ نئی تکنیکیں سامنے آئیں۔ مثال کے طور پر برتن اور مٹی کی دیگر چیزیں بنانے کے لیے ظروف سازی، برتن بنانے کے لیے مٹی اور دوسری چیزوں اور دھات کا استعمال ( پہلے تانبا، بعد میں لوہا) جس نے پائدار اوزار اور روز مرہ کے استعمال کی اشیا اور زیورات بنانے میں مدد کی۔
ہم باب 6 میں دیکھیں گے کہ اس مرحلے نے تہذیب کے ظہور کے لیے کس طرح راہ ہموار کی۔ فی الحال یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کس طرح انسانیت کی اس ابتدائی پیش رفت کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نازک وقتوں میں انسانیت تقریبا ختم ہو سکتی تھی جیسا کہ کچھ پہلے کی نسلوں نے کیا تھا۔ ہم ان قدیم انسانوں کو کبھی نہیں جان پائیں گے جن کی ہمت اور استقامت کی بدولت آج ہمارا وجود ہے۔
بہود :(Welfare) صحت خوشحالی اور تندرستی
قریه :(Hamlet) چھوٹی بستی یا چھوٹا گاؤں۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- اپنے ماضی کے بارے میں جاننے کے لیے ہم نے کچھ طریقے دریافت کیے ہیں۔ وقوعی ترتیب کا تصور ہمیں مختلف اوقات اور تاریخی واقعات کی ترتیب کو سمجھے میں مدد دیتا ہے۔
- وقت کی پیمائش کے مختلف طریقے ہیں : سال، دہائیاں ، صدیاں اور الفیے۔
- تاریخ کے بہت سے مآخذ ہیں جو تاریخی واقعات کی تشکیل نو اور تشریح میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
- ہم نے ابتدائی انسانوں کی زندگیوں پر بھی ایک مختصر نظر ڈالی ہے اور یہ کہ کس طرح انسانی معاشرے وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتے گئے۔
سوالات، سرگرمیاں اور پروجیکٹس
- ایک پروجیکٹ کے طور پر اپنے پاس دستیاب تاریخی مآخذ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خاندان کی ( یا گاؤں کی اگر آپ کسی گاؤں میں رہتے ہیں) تاریخ لکھیے۔ اپنے استاد سے رہنمائی کی درخواست کیجیے۔
- کیا ہم مورخین کا موازنہ جاسوسوں سے کر سکتے ہیں؟ اپنے جوابات کی وجوہات پیش کیجیے۔
- تاریخوں کے ساتھ چند مشقیں۔
- ان تاریخوں کو تاریخ کے مطابق وقوعی ترتیب میں لکھیں: 323 عیسوی، 323 قبل مسیح، 100 عیسوی، 100 قبل مسیح، 1900 عیسوی ، 1900 قبل مسیح، 2024 عیسوی۔
- اگر را جا چندر گپت 320 عیسوی میں پیدا ہوا تھا تو اس کا تعلق کسی صدی سے تھا؟ اور وہ مہاتما بدھ کی پیدائش سے کتنے سال بعد تھا؟
- جھانسی کی رانی 1828 میں پیدا ہوئیں۔ وہ کسی صدی سے تعلق رکھتی تھیں ؟ یہ ہندوستان کی آزادی سے کتنے سال پہلے کا زمانہ تھا۔ ؟
- 12000 سال قبل کو ایک تاریخ میں تبدیل کیجیے۔
- قریبی میوزیم کی سیر کا منصوبہ بنائیے ۔ میوزیم کی نمائشوں کے بارے میں کچھ پیشگی تحقیق کے ساتھ سیر کی تیاری کرنی چاہیے۔ سیر کے دوران ملاحظات لکھیے۔ اس کے بعد ایک مختصر رپورٹ لکھیے ، اس بات کو نمایاں کرتے ہوئے کہ اس سیر اور نمائش میں کیا غیر متوقع / دل چسپ / اور پُر لطف چیزیں تھیں ۔
- اپنے اسکول میں ماہر آثار قدیمہ یا تاریخ داں کو مدعو کیجیے اور ان سے اپنے علاقے کی تاریخ پر بات کرنے کو کہیے اور یہ کہ اُسے جاننا کیوں ضروری ہے۔