باب 5
انڈیا جو بھارت ہے
(India, That Is Bharat)
"ہندوستان میں ابتدائی زمانے میں ہی روحانی اور ثقافتی اتحاد قائم ہوگیا تھا جو بمالیہ اور دو سمندروں کے درمیان کی اس عظیم انسانی سلسلے کی زندگی کا خاص اور اہم جزو بن گیا تھا۔ “
- سری اربندو
سوالات
- ہم بھارت کو کیسے واضح کرتے ہیں؟
- بھارت کا قدیم نام کیا تھا؟
آج کا بھارت ایک جدید ملک ہے جس کی واضح سرحدیں، مقرر کیے ہوئے صوبے اور ایک معلوم آبادی ہے۔ حالاں کہ یہ 500 سال پہلے 2000 سال پہلے یا اس سے بھی 5000 سال پہلے بہت مختلف تھا۔ دنیا کا یہ خطہ جسے ہم اکثر بر صغیر ہند کہتے ہیں بہت سے مختلف ناموں اور بدلتی ہوئی سرحدوں کا حامل ہے۔ ہم بھارت کے ماضی اور ارتقا کے بارے میں بہت سے مختلف ذرائع سے جان سکتے ہیں۔ آیئے دریافت کریں۔
آئیے غور و فکر کریں
تاریخ میں ہندوستان کو بہت سے ناموں سے پکارا جاتا تھا جنھیں ملک کے باشندے اور باہر سے آنے والے سیاح دونوں ہی بولتے تھے۔ یہ نام ہمیں قدیم تحریروں سے، سیاحوں اور زائرین کے دستاویزوں سے اور پتھروں پر کھدی ہوئی عبارتوں سے حاصل ہوئے ہیں۔
بھارتیوں نے بھارت کا نام کیسے رکھا؟
رگ وید بھارت کی سب سے قدیم کتاب ہے۔ جیسا کہ ہم باب 7 میں دیکھیں گے، یہ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس میں بر صغیر کے شمال مغربی خطے کا نام نسپت سندھوا ہے یعنی 'سات دریاؤں کی زمین ۔ سندھوا لفظ سندھو سے آیا ہے جس سے انڈس ندی، مراد ہے یا کبھی کبھی عمومی طور پر ایک دریا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہمیں ادب میں بھارت کے دیگر علاقوں کے نام بھی
باشندے (Inhabitants) وہ لوگ جو کسی خاص جگہ میں رہتے ہیں۔
ملنے لگتے ہیں۔ مہا بھارت ، بھارت کے بے حد مشہور متنوں میں سے ایک ہے۔ (ہم اس کے بارے میں موضوع ہمارا ثقافتی ورثہ اور علمی روایات میں پڑھیں گے)۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے خطوں کی فہرست دی گئی ہے جیسے کشمیر (قریب قریب آج کا کشمیر)، کرو چھیتر ( آج کے ہریانہ کا علاقہ )، ونگ (بنگال کا علاقہ )، پراگ جیوتشی ( تقریباً آج کے آسام کا علاقہ )، کچھ ( آج کا کچھ)، کیرالہ ( تقریباً آج کا کیرالہ) وغیرہ۔
آئیے معلوم کریں
لیکن پورے بر صغیر ہند کے نام سے ہم کب واقف ہوئے؟ کیوں کہ قدیم ہندوستانی تحریریں آج تک مشکل بنی ہوئی ہیں۔ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے۔ مہا بھارت نے اس کے لیے لفظ بھارت ورش اور جمبو ڈویپ استعمال کیا ہے اور علما عام طور پر متفق ہیں کہ یہ لمبی نظم قبل مسیح سے کچھ صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔
پہلا لفظ بھارت ورش واضح طور پر پورے بر صغیر کے لیے ہے اور اس نظم میں بہت سے دریاؤں اور لوگوں کے نام شامل ہیں۔ بھارت ورش مطلب بھارتیوں کا ملک۔ بھرت وہ نام ہے جو پہلی بار رگ وید میں سامنے آتا ہے جو کہ ایک خاص ویدک لوگوں سے متعلق ہے۔ بعد کے ادب میں بہت سے راجاؤں کے نام بھرت بتائے گئے ہیں۔
دوسری اصطلاح جمبو ڈویپ کا مطلب ہے جامن کے درخت کے پھل کا جزیرہ ۔ یہ حقیقت میں بھارت کا ایک عام درخت ہے جسے جمبل ٹری ، مالا بار یکم ٹری، وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ جمبو دویپ سے مراد بر صغیر ہند ہے۔
در حقیقت اس سلسلے میں ہمیں ایک ہندوستانی شہنشاہ کے پاس ایک اچھا اشارہ ملتا ہے ، ان کا نام اشوک ہے اور ان پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ فی الحال اس کا زمانہ ہم تقریبا 250 قبل مسیح لیے سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے بہت سے کندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان میں سے ایک یہی جمبود ویپ نام اس نے پورے بھارت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے جس میں اس وقت آج کے بنگلہ دیش، پاکستان اور کچھ حصے افغانستان کے بھی شامل تھے۔
کچھ صدیوں بعد بھارت ، نام عام طور سے بر صغیر ہند کے لیے استعمال ہونے لگا۔ مثال کے طور پر ایک قدیم کتاب جسے وشنو پر ان کہتے ہیں اس میں ہم پڑھتے ہیں۔
کچهنم ورسم تد بهارتم نما
” وہ ملک جو سمندر کے شمال میں اور برفیلی پہاڑوں کے جنوب میں واقع ہے بھارت کہلاتا ہے۔“
یہ نام بھارت آج بھی استعمال میں ہے۔ شمالی بھارت میں یہ عام طور سے بھارت جب کہ جنوبی بھارت میں یہ زیادہ تر بھار تم لکھا جاتا ہے۔
آئیے غور و فکر کریں
یہ دل چسپ بات ہے کہ اس ملک کے مختلف حصوں نے یہی مطلب بھارت کے لیے قبول کیا ہے۔ مثال کے طور پر تقریباً 2,000 سال پہلے کی قدیم تمل ادب کی ایک نظم میں ایک بادشاہ کی تعریف کی گئی ہے جس کا نام ” جنوب میں ( کیپ ) کماری سے ، شمال میں عظیم پہاڑ سے ، مشرق اور جنوب میں سمندروں سے ... جانا جاتا ہے۔ اب آپ شمال میں عظیم پہاڑ کو پہچان سکتے ہیں اور کیپ کماری کو پہچاننا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ قدیم ہندوستانی لوگ اپنی جغرافیہ کو به خوبی جانتے تھے۔
اسے یاد رھیں
آئیے معلوم کریں
غیر ملکیوں نے انڈیا کیسے نام دیا
غیر ملکیوں میں، سب سے پہلے قدیم ایران (فارس) کے باشندوں نے بھارت کا ذکر کیا تھا۔ وہ ایران کے قدیم باشندے تھے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں ایک فارسی بادشاہ نے فوجی مہم کی کارروائی کی اور سندھ ندی کے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا جو ہم نے دیکھا کہ پہلے سندھو کہا جاتا تھا۔ اس طرح یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان کی ابتدائی دستاویزوں اور پتھروں پر لکھی عبارتوں میں فارسیوں نے بھارت کو ہند' یا ہندو لکھا ہے جو کہ ان کی اپنی زبان میں سندھو سے تبدیل ہوئے لفظ ہیں۔ (یاد رہے کہ قدیم فارسی میں ہندو خالصتاً جغرافیائی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد یہاں ہندو مذہب نہیں ہے )۔ ان فارسی مآخذ کی بنیاد پر قدیم یونانیوں نے اس خطے کو انڈوئی (Indoi) یا انڈیکے (Indike) نام دیا ہے۔ انھوں نے پہلا حرف '' (h) ہندو (Hindu) سے ہٹا دیا کیوں کہ یونانی زبان میں اس حرف کا وجو د ہی نہیں ہے۔
قدیم چینیوں نے بھی بھارت سے تعلق قائم کیا۔ بہت سی تحریروں میں انھوں نے بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے دین تو (Yintu) یا دین دو (Yindu) کا استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ بھی اصل میں سندھو (Sindhu) سے بنا ہے۔ حسب ذیل طریقے سے:
آئین :(Constitution) ایک دستاویز جس میں کسی ملک کے بنیادی اصولوں اور قانونوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔ بھارت کا آئین 1950 میں نافذ کیا گیا۔ جو کلاس 7 میں پڑھایا جائے گا۔
اسے یاد رکھیں
دوسرا چینی لفظ جو سندھو سے لیا گیا ہے وہ تیان زہو (Tianzhu) تھا، لیکن یہ لفظ جنت کا مالک کے معنی میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم چینی لوگ بدھ کی زمین کے طور پر ہندوستان کا کتنا احترام کرتے تھے۔
ممکن ہے آپ ایک حالیہ لفظ 'ہندوستان سے کافی واقف ہوں لیکن آپ شاید یہ نہ جانتے ہوں کہ یہ پہلی بار فارسی دستاویزات میں تقریباً 1800 سال پہلے استعمال ہوا ہے۔ بعد میں یہ لفظ ہندوستان کے زیادہ تر حملہ آوروں نے بر صغیر ہند کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔
آئیے معلوم کریں
| فارسی | |
| یونانی | |
| لاطینی | انڈیا (India) |
| چینی | |
| عربی اور فارسی | |
| انگریزی | انڈیا (India) |
| فرانسیسی | انڈی (Inde) |
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں۔۔۔
← بھارت ایک قدیم ملک ہے جس کی تاریخ میں کئی نام ملتے ہیں۔
← یونان قدیم ہندوستانی باشندوں نے ایران میں جمہوریہ اور بھارت شامل ہیں۔ ‘بھارت’ لفظ وقت کے ساتھ عام ہو گیا اور بھارت کا زیادہ تر زبانوں میں یہی نام ملا ہے۔
← بھارت کے غیر ملکی سیاحوں اور حملہ آوروں نے سندھ (Indus) سے یہ نام اخذ کیا۔
← اس کے نتیجے میں ہند، ‘انڈوئی’ (Indoi) اور آخرکار انڈیا نام پڑا۔
سوالات، سرگرمیاں اور پروجیکٹس
1. باب کے آغاز میں دیے گئے نقشے کا کیا مطلب ہے؟ اس پر بحث کیجیے۔
2. صحیح یا غلط؟
← رگ وید میں ہندوستان کے پورے خُطّے کو بیان کیا گیا ہے۔
← شتپتھ برہمن میں پورے برِصغیر کو بیان کیا گیا۔
← اشوک کے زمانے میں جمہوریتیں موجود رہیں۔ بھارت، افغانستان کے کچھ حصے، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے۔
← مہابھارت میں شمال مشرقی پہاڑوں اور کلنگ کا ذکر نہیں ہے۔
← ہندوستان کا اصل نام تقریباً 2000 سال پہلے یونانی تحریروں میں ظاہر ہوا۔
← قدیم فارسی میں لفظ ‘ہند’ سے مراد ہندوستان ہے۔
← بھارت ایک نیا نام ہے جو غیر ملکی سیاحوں نے ہندوستان کو دیا ہے۔
3. اگر آپ پیدائش تقریباً 2000 سال پہلے ہوتی اور آپ اپنے ملک کا نام رکھتے تو آپ کون کون سے نام تجویز کرتے اور کیوں؟ اپنے خیالات کا استعمال کریں۔
4. قدیم زمانے میں لوگ دنیا کے مختلف حصوں سے بھارت کا سفر کیوں کرتے تھے؟ ان کا سفر کرنے کے لیے کن چیزوں نے تحریک دی ہوگی؟ (اشارہ: سکے، چارہ، تجارت، موسیقی)