باب 6
ہندوستانی تہذیب کا آغاز
(The Beginnings of Indian Civilisation)
"ہندوستان کی قدیم ترین تہذیب جسے متعدد ناموں جیسے بڑیا، سندھ یا سندھ سرسوتی تہذیب کے نام سے جانا جاتا ہے، واقعی کئی معنوں میں بڑی اہم تھی۔ اس نے ثابت کیا کہ کیسے ایک متوازن معاشرہ اچھی طرح زندگی گزارتا ہے۔ جہاں امیر اور غریب کے مابین کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ اصل میں ہڑپائی تہذیب استحصال کی نہیں بلکہ باہمی رواداری کی منظر نامہ تھی۔“
-بی بی لال
سوالات
- تہذیب کسے کہتے ہیں؟
- بر صغیر ہند کی ابتدائی تہذیب کون سی تھی ؟
- بر صغیر ہند کی اہم حصولیابیاں کیا تھیں؟
تہذیب کیا ہے ؟
باب 4 کے آخر میں ہم نے دیکھا کہ کیسے انسانوں کا پہلا گروہ ایک مقام پر رہنے لگا، کاشت کاری کرنے لگا اور کچھ تکنیکوں (مثلاً تعمیرات، فلزیات اور نقل و حمل ) کو فروغ دیا اور تہذیب کی طرف گامزن ہوئے۔
آخر تہذیب کیا ہے؟ عام طور پر یہ اصطلاح انسانی معاشروں کے ترقی یافتہ مرحلے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ حتمی طور پر آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی تہذیب میں درج ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں:
- حکومت اور انتظامیہ کی کوئی شکل جو معاشرے کی پیچیدگیوں اور اس کی سر گرمیوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
- شہر کاری۔ شہری منصوبہ بندی، شہروں کی ترقی اور ان کا انتظام جس میں عمومی طور پر پانی کا انتظام اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام شامل ہیں۔
- مختلف اقسام کی دست کاری جس میں خام مواد (مثلاً پتھر یا دھات) تیار شدہ اشیا (مثلاً زیورات اور اوزار) وغیرہ کی پیداوار۔
- تجارت ہر قسم کے اشیا کی اندورنی (کسی شہر یا علاقے کے اندر ) اور بیرونی (دور دراز علاقوں یا دنیا کے دیگر حصوں) کے ساتھ تجارت۔
- تحریر کی کوئی شکل جس کی ضرورت ریکارڈ رکھنے اور تبادلۂ خیال کے لیے ہوتی ہے۔
- زندگی اور دنیا کے بارے میں ثقافتی خیالات اس میں زندگی اور دنیا کے بارے میں جن کا اظہار آرٹ، فنِ تعمیر ، ادب، زبانی روایات یا سماجی رسوم کے ذریعے ہوتا ہے۔
- پیداواری زراعت جو نہ صرف دیہاتوں بلکہ شہروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی کافی ہو۔
آئیے غور و فکر کریں
فلزیات :(Metallurgy) اس میں زمین سے دھات کو نکالنے ، ان کو صاف کرنے یا یک جا کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ دھاتوں اور ان کی خصوصیات کا سائنسی مطالعہ بھی شامل ہے۔
آئیے معلوم کریں
یہ تمام خصوصیات آج کی دنیا کے بیشتر معاشرے میں آسانی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہیں
لیکن جس پس منظر میں ہم نے ابھی اس کی وضاحت کی ہے اس میں تہذیب کا آغاز کب ہوا؟
دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں تہذیب کا آغاز ہوا۔ اس خطے میں جسے میسوپوٹامیا ( جدید عراق اور شام) کہا جاتا ہے ، 6000 سال قبل تہذیب وجود میں آئی اور چند صدیوں بعد قدیم مصری تہذیب کا آغاز ہوا۔ آگے کے درجات میں آپ ان کے بارے میں اور کچھ دیگر تہذیبوں کے بارے میں پڑھیں گے۔ حقیقی معنوں میں ان قدیم تہذیبوں کے زبر دست تعاون اور ان قدیم تہذیبوں کی ترقیات کے بغیر انسانیت آج اپنے موجودہ مرحلے تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔
فی الحال ہم برصغیر ہند اور شمال مغربی خطے پر روشنی ڈالیں گے جہاں سے ہماری کہانی شروع ہوتی ہے۔
گاؤں سے شہر کی طرف
پنجاب کے وسیع میدانی علاقے (جو آج ہندوستان اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے ) اور سندھ (اب پاکستان میں ) کو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیاں سیراب کرتی ہیں۔ اس سے ان میدانوں میں زرخیزی آئی ہے اور اسی وجہ سے یہ زراعت کے لیے ساز گار ہیں۔ اس سے ذرا آگے مشرق میں چند ہزار سال پہلے ایک اور دریا سر سوتی، ہمالیہ کے دامن سے ہریانہ، پنجاب، راجستھان اور گجرات کے علاقوں سے ہوتا ہوا بہتا تھا ( دیکھیے شکل 6.3)۔ اس پورے علاقے میں تقریباً 3500 ق . ع . د سے گاؤں ترقی کرتے کرتے قصبات کی شکل اختیار کر گئے۔ تجارت اور دوسرے تبادلوں میں اضافے کے ساتھ یہ قصبے مزید بڑھ کر شہروں کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ تبدیلی تقریباً 2600 ق. ع . د کے آس پاس ہوئی۔
آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس تہذیب کو کئی نام دیے ہیں۔ مثلاً سندھ تہذیب، ہڑپا تہذیب، سندھ سر سوتی تہذیب اور سندھو سر سوتی وغیرہ۔ ہم ان سبھی اصطلاحات کو استعمال کریں گے ۔ اس کے باشندوں کو ہر پائی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔
معاون ندی :(Tributary) وہ ندی جو بڑے دریا (یا جھیل ) میں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر جمنا گنگا کی ایک معاون ندی ہے۔
اسے یاد رکھیں
آئیے معلوم کریں
| ہڑپائی شہر | جدید ریاست / خطہ |
|---|---|
| دھولاویرا | پنجاب |
| ہڑپہ | گجرات |
| کالی بنگا | سندھ |
| موہنجودڑو | ہریانہ |
| راکھی گڑھی | راجستھان |
دریائے سرسوتی
نقشہ (صفحہ 89، شکل 6.3) میں سندھ (یا سندھ) اور اس کی پانچ اہم معاون ندیوں کو دکھایا گیا ہے۔ اہم شہروں کی نشوونما ان پانچ دریاؤں کے کنارے ہوئی جیسے موہنجودڑو اور ہڑپہ۔
لیکن دریائے سرسوتی کے ساتھ ساتھ بہت سے مقامات بھی پائے گئے ہیں۔ آج بھی راجستھان میں گھگھر اور پاکستان میں ہاکڑا (دریائے گھگھر-ہاکڑا) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
اب اسے ایک مردہ دریا بھی کہا جاتا ہے، مگر یہ ماضی میں بہتا تھا۔
دریائے سرسوتی کا ذکر پہلی بار رگ وید میں ملتا ہے، جو ویدوں کا قدیم مجموعہ ہے۔ اس متن میں سرسوتی کو دیوی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
قصبات منصوبہ بندی (Town-Planning)
ہڑپہ اور موہنجودڑو (جو اب پاکستان میں ہیں) اس تہذیب کے دریافت ہونے والے پہلے دو شہر تھے۔
اس تہذیب کی شناخت ایک صدی پہلے 1924 میں کی گئی تھی۔ چونکہ سندھ کے میدانی علاقوں میں کئی مقامات کی دریافت ہوئی، اس لیے اس تہذیب کو ابتدا میں وادی سندھ کی تہذیب کہا گیا۔
بعد میں دوسرے بڑے شہروں جیسے لوٹھل (گجرات میں)، دھولاویرا (گجرات میں)، کالی بنگا (راجستھان میں) اور دیگر مقامات دریافت ہوئے۔
ان میں سے کچھ کی کھدائی کی گئی اور اسی دریافتوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
آئے غور و فکر کریں
یہاں یہ بات بہت دل چسپ ہے کہ سرسوتی کی وادی میں نہ صرف دو بڑے شہر راکھی گڑھی اور گنویری والا شامل ہیں بلکہ کئی چھوٹے شہر ( ہریانہ میں فرمانا، راجستھان میں کالی بنگا) اور چند قصبے (بھرانا اور بناولی، دونوں ہریانہ میں ) بھی شامل ہیں۔ در حقیقت یہ نقشہ (صفحہ 89 پر شکل 6.3) اس خطے میں مقامات کے انتہائی گھنے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
ہڑپا کے بڑے شہروں کو خاص منصوبہ بندی کے تحت تعمیر گیا تھا۔ ان کی چوڑی سڑکیں تھیں (صفحہ 92 کی 6.4 اور 6.5 شکلیں) جن کی رُخ بندی زیادہ تر بنیادی سمتوں پر کی گئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر شہر فصیلوں سے گھرے ہوئے ہیں اور ان کے دو نمایاں حصے تھے۔ اوپری قصبہ جہاں شاید مقامی اشرافیہ (طبقہ ) آباد تھا اور نچلا قصبہ جہاں عام لوگ رہتے تھے۔
کچھ بڑی عمارتیں اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں مثلاً گودام جہاں سامانوں کو آگے بھیجنے کے لیے رکھا جاتا تھا۔ سڑکوں اور چھوٹی گلیوں میں مختلف سائزوں کے انفرادی مکانوں کی قطاریں تھیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ چھوٹے اور بڑے مکانات کی تعمیر کا معیار یکساں تھا۔ وہ تمام عمار تیں عام طور پر اینٹوں سے بنی تھیں۔
بعض عمارتوں کا مقصد آج بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ موہن جو داڑو کے مشہور عظیم حمام (Great bath) سے متعلق ہے۔ (صفحہ نمبر 93 پر شکل 6.6) ایک چھوٹا لیکن وسیع حوض جس کی پیمائش تقریباً 7 × 12 میٹر تھی اور جس میں واٹر پروف مواد ( جیسے قدرتی بٹو من (رال)، تار کی ایک قسم) احتیاط سے بچھائی گئی اینٹوں کے اوپر لگایا جاتا ہے۔ حوض چھوٹے کمروں سے گھرا ہوا تھا جن میں سے ایک میں کنواں تھا۔ حوض کے ایک کونے میں ایک نالی تھی جو گاہے بہ گاہے حوض کو خالی کرنے اور اسے تازہ پانی سے بھرنے کے کام آتی تھی۔
قلعہ بندی
:(Fortification)
ایک بڑی دیوار کسی بستی یا شہر کے گرد بنائی جاتی ہے ، جو عموماً دفاعی مقاصد کے لیے ہوتی ہے۔
اشرافیہ
:(Elite)
یہاں اس لفظ سے مراد معاشرے کے اعلی درجے ہیں جیسے حکمراں، حکام ، منتظم اور پادری۔

اس طرح کی عمارت کا کیا مقصد تھا؟ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے اس کی کئی ممکنہ تشریحات پیش کی ہیں۔ لوگوں کے لیے عوامی غسل خانہ ، صرف شاہی خاندان کے لیے غسل خانہ، یا مذہبی رسومات کے لیے استعمال ہونے والا حوض پہلی تشریح کو اب مسترد کر دیا گیا ہے کیوں کہ اب یہ پتا چلا ہے کہ اس شہر کے زیادہ تر گھروں میں انفرادی غسل خانے تھے۔
آئیے معلوم کریں
پانی کا انتظام
ہر پائی باشندے پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے گھروں میں اکثر نہانے کے لیے الگ الگ جگہیں ہوتی تھیں۔ یہ نالوں کے ایک لمبے جال ( نیٹ ورک) سے جڑے ہوئے تھے (شکل 6.7) جو عام طور پر سڑکوں سے نیچے کی طرف بہتے تھے اور گندے پانی کو دور لے جاتے تھے۔
موہن جو داڑو میں لوگ اینٹوں سے بنے ہوئے سیکڑوں کنوؤں سے پانی نکالتے تھے لیکن دوسرے علاقوں میں یہ تالابوں، قریبی چشموں (ندیوں) یا انسانوں کے ذریعے بنائے ہوئے آبی ذخیروں سے لیا جاتا ہو گا۔ دھولا ویرا (گجرات میں کچھ کے رن) میں سب سے طویل آبی ذخیرے کی لمبائی 73 میٹر تھی۔
آئیے معلوم کریں
دھولا ویرا میں تقریباً چھے آبی ذخیرے پتھروں سے بنائے گئے تھے یا انھیں چٹانیں کاٹ کر بنایا گیا تھا (شکل 6.8)۔ ان میں سے زیادہ تر پانی کی مؤثر ذخیرہ کاری اور تقسیم کے لیے زیر زمین نالوں سے مربوط تھے۔
ذخائر :(Reservoir) ایک بڑی قدرتی یا مصنوعی جگہ جہاں پانی جمع کیا جائے۔
آئیے غور و فکر کریں
ہر پائی تہذیب کے لوگ کیا کھاتے تھے ؟
ہڑپا تہذیب کے لوگوں نے چھوٹی اور بڑی ندیوں کے آس پاس اپنی بستیاں بسائیں۔ پانی تک آسان رسائی اور زراعت کے لیے یہ ایک منطقی انتخاب کہا جا سکتا ہے کیوں کہ دریا اپنے آس پاس کی مٹی کو زرخیز بناتے ہیں۔ آثار یاتی دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہڑپائی باشندے مختلف سبزیوں کے علاوہ جو ، گندم ، باجرا اور بعض اوقات چاول جیسے اناج کی کاشت کیا کرتے تھے۔ وہ یوریشیا میں سب سے پہلے کپاس اگانے والے لوگ بھی تھے۔ جس سے وہ کپڑے بناتے تھے۔ وہ زراعت کے اوزار بھی بناتے تھے جس میں ہل بھی شامل ہے ( دیکھیں شکل (6.9) ان میں سے کچھ زرعی اوزار کو کسان اس جدید دور میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔
اس وسیع زرعی سرگرمی کا انتظام سیکڑوں چھوٹے دیہی مقامات یا گاوؤں کرتے تھے۔ آج کی طرح اس وقت بھی شہروں کا وجو د اسی وقت تک باقی رہ سکتا تھا۔ جب روزانہ کی بنیاد پر کافی زرعی پیداوار گاؤں سے اُن تک پہنچتی رہے۔
ہڑپا کے لوگ گوشت کے استعمال کے لیے بہت سے جانور پالتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ندیوں اور دریاؤں سے مچھلی کا شکار بھی کرتے تھے۔ کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں جانوروں اور مچھلیوں کی ہڈیوں کی دریافت سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔
ہڑپا کے لوگوں کے پکانے کے برتنوں میں کیا ہوتا تھا؟ مٹی کے برتنوں کے سائنسی مطالعے سے کچھ سوالات کے جوابات ملتے ہیں جن میں متوقع چیزیں ( دودھ سے بنی مصنوعات ) اور حیران کن اشیا (مثلاً ہلدی ، کیلے اور ادرک) دونوں ہی طرح کے باقیات ملتے ہیں۔ واضح طور پر کہہ سکتے ہیں ان کی خوراک میں کافی تنوع تھا۔
آئیے معلوم کریں
سرگرم تجارت
ہڑپا کے لوگ نہ صرف اپنی تہذیب کے اندر ( قریب یا دور کے دوسرے شہر ) بلکہ ہندوستان کے اندر اور باہر دیگر تہذیبوں اور ثقافتوں کے ساتھ تجارت میں سر گرم عمل تھے۔ زیورات ، لکڑیاں اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزیں ( دیکھیں شکل 6.11 صفحہ 98) اور شاید سونا، چاندی کے علاوہ وہ کھانے پینے کی اشیا بھی درآمد کرتے تھے۔ اُن کے سب سے پسندیدہ ترین زیور کار نیلین کے موتی ہوا کرتے تھے، (شکل 6.10 صفحہ 98) یہ ایک نیم سرخی مائل قیمتی پتھر تھا جو گجرات میں پایا جاتا تھا۔ ہڑپا کے کاریگروں نے ان میں سوراخ کرنے کے لیے ایک خاص تکنیک تیار کی تاکہ دھاگہ ان کے درمیان سے گزر سکے اور انھیں مختلف طریقوں سے سجایا جا سکے۔ انھوں نے سیپ سے خوب صورت چوڑیاں بھی تیار کیں اور چوں کہ یہ کافی سخت ہوتے ہیں تو اس پر کام کرنے کے لیے انھوں نے جدید ترین تکنیک کا استعمال کیا۔ ہڑپا کے باشندے برآمد شدہ اشیا کے بدلے کیا درآمد کیا کرتے تھے یہ واضح نہیں ہے۔ ممکن ہے اُن میں شاید تانبے کا استعمال شامل تھا کہ وہاں اس دھات کا استعمال عام نہیں تھا۔
آئیے معلوم کریں
اس طرح کی تجارت کرنے کے لیے انھوں نے زمینی، دریائی اور زیادہ دور دراز علاقوں کے لیے سمندری راستوں کا استعمال کیا۔ یہ ہندوستان میں اولین بحری سر گرمی تھی۔
یہاں تک کہ ہڑپا کی کچھ بستیاں اب بھی گجرات اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود ہیں۔ لو تھل گجرات میں ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ وہاں ایک بیسن کی بازیافت ہوئی ہے
جو 217 میٹر لمبا اور 36 میٹر چوڑا ہے۔ آپ اسے دو چھوٹے
فٹ بال کے میدان کے برابر بھی سمجھ سکتے ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ جہازوں کے مرمت کی جگہ رہی ہوگی۔ یعنی سامان کی آگے منتقلی کے لیے کشتیوں کو موصول کرنے اور بھیجنے کے لیے استعمال میں آنے والی عمارت۔
اس طرح کی وسیع تجارت کے لیے تاجروں کو اپنے سامان اور خود کی شناخت کے لیے ایک خاص پہچان کی ضرورت پڑتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لیے ہزاروں قسم کے مہریں رہی ہوں گی جن کی دریافت متعدد بستیوں کی کھدائی کے دوران ہوئی ہے۔ اسے بنانے کے لیے ایک
خاص قسم کے پتھر ابرق (Steatite) کا استعمال ہوتا تھا۔ ایک نرم قسم کا پتھر جو گرم کرنے سے سخت ہو جاتا تھا۔ اس کی ناپ چند سینٹی میٹر کی ہی ہوتی ہے اور عام طور پر ان پر جانوروں کی شبیہوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اُن کے اوپر کچھ حصوں میں ایسی تحریری علامات بھی تھیں جو کسی تحریری نظام کا حصہ ہوں۔ لیکن ہنوز ان نشانیوں اور جانور وغیرہ کی تصاویر کو سمجھنا ایک مشکل کام ہے۔ یقیناً اُن کا تعلق تجارتی سرگرمیوں سے تھا۔
آئیے غور و فکر کریں
آئے غور و فکر کریں
- صفحہ نمبر 100 اور 101 کے سازوسامان یا اس باب میں دکھائی گئی دوسری چیزوں کو دیکھتے ہوئے کیا آپ ان سرگرمیوں اور زندگی کے دوسرے پہلوؤں کا پتا لگا سکتے ہیں، جو ہڑپا تہذیب کے افراد کے لیے ضروری تھے ؟
آئیے معلوم کریں
- لو تھل والے بر تن پر دی گئی شکل کی کہانی کو مکمل کیجیے۔ آپ کے خیال میں آج سے 4000 سال پہلے اس کہانی کو کس انداز میں یاد کیا جاتا تھا ؟
- رقص کرتی ہوئی لڑکی کے مجسمے پر غور کریں۔ لڑکی کی شکل سے کس تاثر کا اظہار ہوتا؟ اس کی چوڑیوں پر غور کریں جو اس طرح مکمل بازو کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ رواج ابھی بھی گجرات اور راجستھان کے کچھ علاقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس باب میں آپ اس طرح کی چوڑیاں پہنے ہوئے کہاں دیکھتے ہیں ہیں؟ اس سے ہمیں کون سا نتیجہ اخذ کرنا چاہیے ؟
اختتام یا نئی شروعات ؟
تقریباً 1900 ق. ع.د کے آس پاس یہ سندھو سرسوتی تہذیب اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود منتشر ہونے لگی۔ شہر ایک ایک کر کے اجڑنے لگے۔ اگر کچھ باقی بھی رہ گئے تو انھوں نے بدلتے حالات کے ساتھ دیہی طرز زندگی اختیار کر لیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومت یا انتظامیہ کے آثار اب باقی نہیں رہے۔ بتدریج ہڑپا کے لوگ ہزاروں نہیں تو کم از کم سیکڑوں چھوٹی چھوٹی دیہی بستیوں میں منتشر ہو گئے۔
آئے غور و فکر کریں
اس زوال کی وجہ کیا تھی ؟ ماہرین آثارِ قدیمہ اس کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہیں ۔ بہت ، پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ و جدل نے ان شہروں کو تباہ کیا۔ حالاں کہ اس جنگ و جدل کے کوئی ثبوت
نہیں ملتے۔ جہاں تک ثبوت ملتا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہڑپن کے پاس فوج یا جنگی ہتھیار نہیں تھے۔ مجموعی طور پر ہڑپا امن پسند تھے۔
فی الحال دو اسباب پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اول موسمیاتی تبدیلی جس نے 2200 ق. ع. د کے بعد سے زیادہ تر دنیا کو متاثر کیا اور اس کی وجہ بارش کا نہ ہونا اور خشک سالی ہے۔ اس سے زراعت مشکل اور شہروں تک خوراک کی فراہمی مشکل ہو گئی۔ دوم دریائے سرسوتی اپنے مرکزی طاس میں خشک ہو گیا۔ اچانک وہاں کے شہر مثلاً کالی بنگا اور بناولی جیسے شہر خالی ہو گئے۔ ممکن ہے اس کی کچھ اور بھی وجوہات ہوں مگر یہ دو اسباب ہمیں اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ ہم اپنی فلاح و بہبود کے لیے آب و ہوا اور ماحول پر کس قدر انحصار کرتے ہیں۔
شہروں کے غائب ہو جانے کے باوجود بہت سی ہڑ پائی ثقافت اور تکنیک کا خاصا حصہ باقی رہا اور ہندوستانی تہذیب کے دوسرے دور تک منتقل ہوا۔ جس پر ہم کسی اگلے باب میں گفتگو کریں گے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- سندھ ، ہڑپا یا سندھو سرسوتی تہذیب ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے باشندے خاص طور پر ہڑپا کے لوگوں نے منظم شہر قائم کیے جس میں ایک طرف بہترین پانی کا نظم تھا تو دوسری جانب مختلف قسم کے فنون اور تیز رفتار تجارت کا بھی وجود تھا۔
- ایک پیدواری زراعت شہروں میں مختلف قسم کی فصلیں لاتی تھی۔
- کوئی تہذیب اچانک زوال پذیر نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجوہات ہوتی ہیں جس میں موسمی اور ماحولیاتی تبدیلی شامل ہے۔ اس کی ایک وجہ دیہی طرز زندگی کی جانب لوگوں کا لوٹنا بھی ہے۔
سوالات ، سرگرمیاں اور پروجیکٹس
- 1 اس باب میں زیر مطالعہ تہذیب کے مختلف نام کیوں ہیں؟ ان کی اہمیت پر گفتگو کیجیے۔
- 150 سے 200 الفاظ پر مشتمل ایک مختصر رپورٹ لکھیے جس میں سندھ سر سوتی تہذیب کی کچھ حصول یابیوں کا مختصر اذکر ہو۔
- تصور کیجیے کہ آپ کو ہڑپا شہر سے کالی بنگا کا سفر کرنا ہے۔ آپ کے پاس مختلف متبادلات کیا ہیں ؟ کیا آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر متبادل میں کتنا وقت لگ سکتا ہے ؟
- تصور کیجیے کہ ہڑپا کے کسی فرد کو آج کے عہد میں کسی مطبخ کا دورہ کرایا جائے؟ ان کے لیے چار یا پانچ چیزیں حیرت انگیز کیا ہوں گی؟
- اس باب میں شکلوں کو دیکھ کر ان زیورات / طرز / اشیا کی فہرست بنائیں، جو آج بھی اکیسویں صدی میں رائج ہیں ؟
- دھولا ویرا میں آبی ذخائر کا نظام کس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
- موہن جو داڑو میں اینٹوں سے بنائے گئے تقریباً 700 کنوؤں کی گنتی کی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کئی صدیوں سے باقاعدگی سے زیر استعمال رہے ہیں اور اُن کی دیکھ بھال ہوتی رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے مضمرات پر بھی بحث کیجیے۔
- یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہڑپا کے لوگ اعلیٰ تمدنی شعور رکھتے تھے۔ اس قول کی اہمیت پر بحث کیجیے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ ہندوستان کے آج کے شہریوں سے اس کا موازنہ کیجیے۔