Skip to content
Qr





باب 7
ہندوستان کی ثقافتی جڑیں (India's Cultural Roots)


"وہ شے جسے جسے چوری نہیں کی جاسکتی، جسے حکمراں ضبط نہیں کر سکتے ... جو کوئی بوجھ نہیں ہے کیوں کہ یہ کسی چیز کا وزن نہیں ہے؛ وہ اگرچہ استعمال کی جاتی ہے لیکن پھر بھی ہر دن بڑھتی جاتی ہے۔ یہ سب سے بڑی دولت ہے، یعنی سچے علم کی دولت۔“

-سبها شيت دانش مندانه قول

Screenshot 2026-04-28 100112
اہم
سوالات
  1. وید کیا ہیں؟ ان کا پیغام کیا ہے؟
  2. پہلے الفیه ق . ع . د میں کون سے نئے مکاتب فکر وجود میں آئے؟ ان کے بنیادی اصول کیا ہیں؟
  3. ہندوستانی ثقافت میں لوک یا قبائلی روایات کا کیا حصہ ہے؟

کسی بھی اندازے سے ہندوستانی ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے۔ کسی قدیم درخت کی طرح اس کی کئی جڑیں اور کئی شاخیں ہیں۔ جڑیں ایک مشترک تنے کی پرورش کرتی ہیں اور تنے سے بہت ساری شاخیں نکلتی ہیں جو ہندوستانی ثقافت کے مختلف مظاہر ہیں۔ پھر بھی وہ ایک مشترک تنے کے ساتھ آپس میں مربوط ہیں۔
ان میں سے کچھ شاخیں آرٹ، ادب، سائنس، طب، مذہب، فن، حکمرانی، مارشل آرٹ وغیرہ سے متعلق ہیں۔ اسی طرح مکاتب فکر بھی ہیں جن سے ہماری مراد مفکروں کی جماعت یا روحانیت کے سالکین ہیں جو انسانی زندگی، دنیا وغیرہ کے بارے میں ایک ہی طرح کے خیالات پیش کرتے ہیں۔
بہت سے ماہرین آثار قدیمہ اور عالموں نے نشان دہی کی ہے کہ ہندوستان کی بعض ثقافتی جڑیں سیدھے سندھو یا ہر پا یا سندھو سر سوتی تہذیب ( جو ہم باب 6 میں پڑھ چکے ہیں) تک جاتی ہیں۔ اس کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں سیکڑوں مکاتب فکر وجود میں آئے۔ ہم یہاں کچھ ابتدائی مکاتب پر نظر ڈالیں گے جنھوں نے ہندوستان کو ایک غیر معمولی حیثیت والے ملک کی شکل عطا کی۔ انھیں اور ان کی جڑوں کو سمجھ کر ہم انڈیا یعنی بھارت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

وید اور ویدک ثقافت
(The Vedas and Vedic Culture)

A. وید کیا ہیں ؟

وید لفظ ود سے آیا ہے جس کے معنی علم کے ہیں ( اسی طرح و دیا مثال کے طور پر )۔ ہم نے پچھلے ابواب میں مختصر طور پر رگ وید کے بارے میں ذکر کیا تھا۔ اصل میں وید چار ہیں : رگ وید ، یجروید ، سام وید اور اتھر وید۔ یہ ہندوستان کی سب سے قدیم تحریریں ہیں اور حقیقت میں دنیا کی بھی سب سے قدیم تحریروں میں سے ہیں۔
وید ہزاروں بھجنوں پر مشتمل ہیں ، یعنی نظموں اور گیتوں کی شکل میں ایسی دعائیں ہیں جو لکھی ہوئی نہیں بلکہ زبانی ادا کی گئی تھیں۔ یہ بھجن سپت سندھو خطے میں تخلیق کیے گئے (جو ہم باب 5 میں پڑھ چکے ہیں۔) یہ کہنا مشکل ہے کہ رگ وید جو کہ چاروں ویدوں میں سب سے پرانا ہے


روحانی :(Spiritual) روح سے متعلق ہے ( آتما سنسکرت اور بہت سی ہندوستانی زبانوں میں ) روحانیت ہماری موجودہ شخصیت سے بڑھ کر زیادہ گہرے اور اونچے مقام کی تلاش ہے۔

سالک :(Seeker) وہ شخص جو اس دنیا کی حقیقتوں کو تلاش کرتا ہے۔ یہ کوئی صوفی، سنت ، یوگی، فلسفی وغیرہ ہو سکتا ہے۔

واقعی کب تخلیق کیا گیا ؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اُن کا زمانہ پانچویں سے دوسرے الفیہ ق . ع . د کے درمیان کا ہے ۔ اس لیے 100 اور 200 نسلوں کے درمیان یہ تحریریں سخت تربیت کے ذریعے یادداشت میں پیوست رہی ہیں اور کسی بھی تبدیلی کے بغیر زبانی طور پر ایک سے دوسرے تک پہنچتی رہی ہیں۔

اسے یادر کھیں

ہزاروں سال پر محیط یہ منتقلی واضح کرتی ہے کہ 2008 میں یونیسکو نے کیوں ویدک جاپ کو انسانیت کا ایک زبانی اور غیر مادی ورثہ کا شاہکار، تسلیم کیا ہے۔

ویدک بھجن رشیوں ، اہل بصیرت و حکمت) اور رشی کاؤں (خاتون) نے سنسکرت زبان کی ابتدائی شکل میں ترتیب دیے تھے۔ انھوں نے شاعرانہ زبان میں بہت سے معبودوں (دیوتاؤں یا دیویوں) کو جیسے اندر ، اگنی، درون، منترا، سرسوتی، اونتا اور کئی دیگر کو مخاطب کیا ہے۔ اصحاب کشف کے ساتھ ان معبودوں نے رتم یا حق اور نظم و ضبط کو انسان کی زندگی اور کائنات میں قائم کیا ہے۔ قدیم رشیوں اور رشیکاؤں نے ان دیوی اور دیوتاؤں کو ایک ہی روپ میں دیکھا، الگ الگ نہیں۔ جیسا کہ یہ ایک مشہور بھجن سے ظاہر ہوتا ہے:

الم ست و برا بهودها و دنتی وجود (جو کہ اعلیٰ حقیقت ہے ) ایک ہی ہے لیکن اہل حکمت اسے کئی نام دیتے ہیں

اس تصویر عالم میں ”حق“ سے آغاز کرتے ہوئے جو کہ اکثر خدا کا دوسرا نام مانا جاتا تھا، کچھ اقدار خاص طور سے اہم تھیں۔ رگ وید کے آخری منتروں ( اشلوکوں) میں بھی لوگوں کے درمیان اتحاد پر تاکید کی گئی ہے:


یونیسکو :(UNESCO) یونیسکو سے مراد اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ ہے۔ یہ تعلیم ، سائنس اور ثقافت کے ذریعے لوگوں اور ملکوں کے مابین بات چیت کو بڑھاوا دیتا ہے۔

کا سموس :(Cosmos) ایک منظم اور ہم آہنگ نظام کے طور پر دنیا، اس کی ابتدا یا اس کے کام کے طریقوں سے متعلق مخصوص نظریہ یا خیال

تصور عالم :(Worldview) دنیا کے آغاز اور اس کے طریقہ کار کے -بارے میں مخصوص نظریہ یا فہم ۔


ایک ساتھ آئیے، ایک ساتھ بولیے؛ آپ کے ذہن مشترک ہوں، آپ کے خیالات ہم آہنگ ہوں آپ کے مقصد میں اتحاد ہو، آپ کے دل متحد ہوں ....... آپ کے دل ملے ہوئے ہوں تاکہ سب میں اتفاق ہوسکے

B. ویدک معاشره

ابتدائی و یدک معاشرہ مختلف خاندانوں یا گھرانوں یعنی لوگوں کے بڑے مجمع میں منظم تھا۔ اکیلے رگ وید میں اس طرح کے 30 سے زیادہ خاندانوں کی فہرست دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر بھارت، پرو کرو، ید و، تر واسهاس وغیرہ۔ ہر گھرانہ بر صغیر کے خاص شمال مغربی علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔

Screenshot 2026-04-17 101036

اس کا زیادہ علم نہیں ہے کہ یہ جنہیں یعنی خاندان اپنے معاشرے کو کس طرح چلاتے تھے۔ ویدوں میں ہمیں صرف کچھ اشارے الفاظ کی شکل میں ملتے ہیں جیسے راجا ( بادشاہ یا حاکم) ، سبھا اور دسمیتی سے مراد کسی جگہ جمع ہونا یا لوگوں کا اجتماع تھا۔
ویدک تحریروں میں بہت سے پیشوں کا ذکر ہے جیسے کاشت کار، بنکر ، کمھار، معمار، بڑھئی، معالج ، رقاص، حجام، پجاری وغیرہ۔

آئیے معلوم کریں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ جس معاشرے میں عوام اپنار ہنما منتخب کرتے ہیں اس کے لیے کیا اصطلاح ہے ؟ آپ کے خیال میں لوگ ایسے حالات میں کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ؟ اگر انھیں ایسے رہنماؤں کے تحت رہنا پڑے جنھیں انھوں نے منتخب ہی نہیں کیا تو کیا ہو گا؟ (اشارہ : غور کیجیے کہ آپ حکمرانی اور جمہوریت موضوع میں کیا پڑھ رہے تھے) اپنے خیالات 150-100 الفاظ پر مشتمل ایک پیراگراف میں لکھیے۔

C. ویدک مکاتب فکر

ویدک ثقافت نے بہت سی رسومات ( یجن، جو اکثر یگیہ پڑھا جاتا ہے) وضع کیں جو انفرادی یا اجتماعی مفاد اور فلاح کے لیے مختلف معبودوں (دیوتاؤں اور دیویوں) سے منسوب تھیں۔ روز مرہ کی رسومات عموماً آگ کی دیوی اگنی کی پوجا اور اسے پیش کیے جانے والے نذرانوں کی شکل میں تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ رسومات زیادہ سے زیادہ پیچیدہ ہوتی چلی گئیں۔
تحریروں کا ایک مجموعہ جسے ' جسے اپنشد کہا جاتا ہے ویدک تصورات پر مبنی ہے اور کچھ نئی چیزوں سے متعارف کراتا ہے جیسے تجدید حیات ( پنر جنم ۔ بار بار پیدا ہونا) اور کرما ہمارے اعمال اور ان کے نتیجے )۔ ایک مکتب فکر کے مطابق جو کہ ویدانت کے نام سے جانا جاتا ہے ہر چیز یعنی انسانی زندگی ، فطرت اور کائنات ایک الوہی جو ہر ہے جسے برہمن کہا جاتا ہے ( غلطی سے اسے دیوتا بر ہما نہ سمجھیں) یا کبھی کبھی صرف تت (وہ)۔ اسی کو دو مشہور منتروں میں سادگی لیکن گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے :


معالج :(Healer) وہ شخص جو روایتی طریقوں سے امراض دور کرتا یا ان کا علاج کرتا ہے۔


اہم بر ہم اسمی
میں برہمن ہوں“ (یعنی میں خدا ہوں)
تت توم اسی...
”وہ برہمن آپ ہی ہیں“

اپنشد نے ہی آتما یا خود کی ذات کو متعارف کرایا کہ خداوہ ہے جو ہر ذات میں موجود ہے، لیکن بہر حال وہی ہے جو برہمن ہے۔ اس میں یقین رکھتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے یہ ایک عمومی دعا کی وضاحت کرتا ہے جو کہ سرو بھا ونتو سکهینه یا ساری مخلوق خوش رہے، سے شروع ہوتی ہے اور آگے ان کے لیے دعا کرتی ہے کہ وہ سب بیماری اور تکلیف سے محفوظ رہیں۔

آئیے غور و فکر کریں

کیا آپ نے کوئی اور بھی کہانی سنی یا پڑھی ہے جو کوئی اہم پیغام دیتی ہو؟ اس نے آپ کو کون کون سی قدریں سکھائیں؟

پہلے ق. ع . د کے الفے کی شروعات میں ویدوں سے کئی اور مکاتب فکر وجود میں آئے۔ ان میں سے ایک یو گا تھا جس نے ایسے طریقے اختیار کیے جن کا مقصد کسی کے شعور میں برہمن کی سمجھ پیدا کرنا تھا۔ ساتھ ہی یہ مکاتب اُس طرزِ فکر کی بنیاد بن گئے جسے آج ہم ہندو ازم کہتے ہیں۔

بوده مت

ایسے دوسرے مکاتب فکر بھی وجود میں آئے جنھوں نے ویدوں کے تسلط کو قبول نہیں کیا اور اپنے ہی طور طریقوں کو ترقی دی۔ ان میں سے ایک بودھ مت ہے۔
تقریبا ڈھائی ہزار سال پہلے ایک نوجوان شہزادہ سدھارتھ گو تم لمبنی ( موجودہ نیپال) میں پیا پیدا ہوا تھا۔ دست یاب شدہ مآخذ کے مطابق ماہرین ان کی پیدائش کے درست سال کے بارے میں جن نتیجوں پر پہنچے ہیں ان میں کافی اختلاف ہے۔ باب 4 میں ہم نے 560 ق. ع . د کو تقریبی سال مان لیا ہے۔ بہر حال اس سے یہاں ہماری کہانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔


شعور :(Consciousness) آگہی کا معیار یا اس کی کیفیت مثلاً خود اپنی ذات کے اندر کی کسی چیز کی کیفیت۔


اپنشد کی بہت سی کہانیاں ہمیں سوالات پوچھنے کی اہمیت بتاتی ہیں چاہے یہ سوالات مرد کرے، عورت یا بچے۔

شویت کیتو اور حقیقت کے بیچ
(چهاندوگیه اپنشد)

رشی اڈالک ارونی نے اپنے بیٹے شویت کیتو کو گرو کل میں ویدوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ جب شویت کیتو 12 سال بعد واپس آیا تو اس کے والد کو محسوس ہوا کہ اسے اپنے علم پر بہت ناز ہو گیا ہے اس لیے اڈالک نے برہمن کی نوعیت پر سوالات کرتے ہوئے اس کا امتحان لیا جن کا وہ جواب نہیں دے سکا۔
Screenshot 2026-04-17 102919 اڈ الک نے اُسے مزید سمجھاتے ہوئے کہا کہ کیسے برہمن ہو کہ نظر نہیں آتا ہے ، ہر جگہ موجود ہے۔ اسی طرح جیسے کہ برگد کے پھل کا بیچ کھولے جانے پر خالی دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں پہلے سے ہی مستقبل کا برگد کا درخت موجود ہوتا ہے یا جیسے طرح طرح کے برتن ایک ہی مٹی سے بنائے جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح ہمارے چاروں طرف کی ہر چیز ایک ہی جوہر سے پیدا ہوئی ہے اور وہ ہے برہمن۔ انھوں نے اپنا درس ان الفاظ پر ختم کیا ہر چیز میں یہ لطیف جو ہر شامل ہے ... تم بھی وہی ہو ، شویت کیتو “

نچی کیتا اور اس کی جستجو
(کتها اپنشد)

ایک بار ایک شخص نے اپنا سارا مال و دولت، آل اولاد ایک رسم ادا کرنے میں لگا دیا تھا۔ اس کا بیٹا نچی کیتا اس سے پوچھتا رہا کہ اسے کسی دیوتا کی نذر کیا جارہا ہے؟ والد کو غصہ آیا اور جواب دیا ” میں تمھیں تم کو دے رہا ہوں“ جو کہ موت کا دیوتا ہے۔
نچی کیتا پھر یم کی دنیا میں چلا گیا۔ لمبے انتظار کے بعد وہ اس زبر دست دیوتا سے ملا۔ اس کے دماغ میں بس ایک سوال تھا:

Screenshot 2026-04-17 103125

جسم کی موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟“ یم نے جواب نہ دینے کی کوشش کی لیکن لڑکے نے اصرار کیا۔ یم خوش ہوا اور اس نے سمجھایا کہ آتما یا اپنا وجود ہر مخلوق میں پوشیدہ ہے۔ یہ نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مرتی ہے۔ یہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یہ گہرا علم حاصل کر کے نچی کیتا اپنے والد کے پاس واپس آیا جنھوں نے خوش ہو کر اس کا استقبال کیا۔

گار گی اور یا گیہ ولکیہ کی بحث
(بر بدارنیکا اپنشد)

ایک بار دانش مند راجا جنگ نے ایک فلسفیانہ بحث میں جیتنے والے کے لیے انعام رکھنے کا اعلان کیا۔ ایک مشہور و معروف رشی یا گیہ ولکیہ راجا کے دربار میں حاضر ہوئے اور کئی دانشوروں کو شکست دی یہاں تک کہ ایک رشید کا گارگی سے پہلے تک کئی گارگی نے ان سے دنیا کی حقیقت پر سلسلے وار سوالات کیے اور آخر میں برہمن کی حقیقت بھی دریافت کی۔ تبھی یا گیہ ولکیہ نے اس سے آگے اور سوالات نہ کرنے کے لیے کہا۔ بہر حال اس کے بعد گارگی نے پھر سے اپنے سوالات پوچھنا شروع کر دیے اور یا گیہ ولکیہ بتاتے رہے کہ کس طرح برہمن وہ ہے جو دنیا کو ، موسموں کو، دریاؤں کو اور باقی ہر شے کی تخلیق کرتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 103412

اسی طرح جب کہانی آگے بڑھتی ہے تو سدھارتھ گوتم محل میں ایک محفوظ زندگی گزارتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ ایک دن جب وہ 29 سال کے تھے، انھوں نے رتھ میں سوار ہو کر شہر کی سیر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اپنی زندگی میں پہلی بار ایک بزرگ، ایک بیمار آدمی اور ایک لاش کے پاس سے گزرے۔ انھوں نے ایک سنیاسی کو بھی دیکھا جو خوش اور مطمئن دکھائی دیتا تھا۔ اس تجربے کے بعد سدھارتھ نے اپنی بیوی اور بیٹے کو چھوڑ کر اپنی عیش و عشرت کی زندگی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سنیاسی کے طور پر پیدل سفر کرتے ہوئے اور دوسرے سنیاسیوں اور گیانیوں سے ملنے کے بعد انھوں نے انسانی زندگی میں تکلیفوں کی بنیادی وجوہات تلاش کیں۔
بودھ گیا جو آج بہار میں ہے) میں ایک پیپل کے درخت کے نیچے کئی دنوں کے مراقبے کے بعد انھیں گیان حاصل ہوا۔ انھیں محسوس ہوا کہ او ڈیا ( لا علمی) اور لگاؤ انسانی تکلیفوں کا اصل سبب ہے۔ انھوں نے ان دونوں وجوہات کو دور کرنے کا ایک اصول بتایا۔ سدھارتھ کو اس طرح بودھ کے نام سے جانا جانے لگا جس کا مطلب ہوتا ہے روشن خیال یا بیدار-
Screenshot 2026-04-17 105427 بودھ نے جو کچھ حاصل کیا تھا اس کا درس دینا بھی شروع کر دیا۔ اس میں اہنسا کا نظریہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ عام طور سے عدم تشدد کیا جاتا ہے لیکن اصل میں اس کا مطلب چوٹ نہ پہنچانا یا زخم نہ دینا ہے۔ انھوں نے پر خلوص اندرونی نظام پر بھی زور دیا۔ ان کے نظریے کو حسب ذیل قول کی روشنی میں بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے:

سنیاسی :(Ascetic) ایسا شخص جو اعلی تر درجے کا شعور حاصل کرنے کے لیے با مشقت نظم و ضبط پر عمل کرتا ہے۔

لگاؤ :(Attachment) خصوصاً جذبہ یا عادت کے ذریعے کسی شخص یا چیز سے گہرے تعلق کی حالت


"کوئی پانی سے پاک صاف نہیں ہو جاتا ہے اگر چہ بہت سے لوگ نہاتے ہیں ( مقدس دریاؤں میں) لیکن پاک وہ ہے جس میں حق اور دھرم (اصول) بستے ہیں۔
اپنے آپ کو فتح کرنا میدان جنگ میں ایک ہزار آدمیوں کو ہزاروں بار شکست دینے سے بڑھ کر ہے۔“

بودھ نے سنگھ یعنی بھکشوؤں یا راہوں ( اور بعد میں بھکشیوں یا راہباؤں) کی ایک جماعت بنائی جس نے ان کی تعلیمات پر عمل کرنے اور انھیں پھیلانے میں اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ ان کا ہندوستان پر اور حقیقت میں پورے ایشیا پر بڑا ز بر دست اثر پڑا۔ جس کی ہم بعد میں کھوج بین کریں گے ، یہ آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 105801

راہب :(Monk) وہ شخص جو دنیا کی عام زندگی ترک کر دیتا ہے اور خود کو مذہبی یا روحانی حصول کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ راہب عام طور سے عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک با ضابطہ زندگی گزارنے کے لیے سخت اصولوں پر چلنے میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں گے۔

راجیہ :(Nun) راہب خاتون

آئیے معلوم کریں

  • درج بالا پتھر کی تختی میں بودھ کو جس طرح دکھایا گیا ہے اس پر بحث کیجیے۔
  • کیا آپ ہندوستان کی کچھ ریاستوں یا چند دیگر ملکوں کے نام بتا سکتے ہیں جہاں آج بھی بودھ مت ایک بڑا مذہب ہے ؟ ان کو دنیا کے نقشے پر دکھانے کی کوشش کیجیے۔

جین مت (Jainism)

جین مت ایک اور اہم مکتب فکر ہے جو ایک ہی وقت میں بودھ مت کے ساتھ پھیلا۔ حالاں کہ اس کی جڑیں بہت زیادہ قدیم بتائی جاتی ہیں۔ سدھارتھ گوتم کی طرح شہزادہ وردھمان بھی چھٹی صدی ق . ع . د شاہی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی جائے پیدائش موجودہ بہار ویشالی شہر کے قریب ہوئی تھی۔ 30 سال کی عمر میں انھوں نے گھر چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا اور روحانی علم کی تلاش میں نکل پڑے۔ انھوں نے ترک دنیا کے اصولوں کی ریاضت کی اور بارہ سال کے بعد لا محدود علم یا اعلیٰ حکمت حاصل کی۔ وہ مہاویر دیا، عظیم ہیرو کے نام سے مشہور ہو گئے اور جو کچھ انھوں نے محسوس کیا تھا اس کی تبلیغ شروع کر دی۔

Screenshot 2026-04-17 115723

اسے یادر کھیں

لفظ جین یا جینا جن سے آیا ہے جس کا مطلب ہے فاتح۔ یہ سرحد یادشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے معنوں میں استعمال نہیں ہو تا بلکہ اس سے لا علمی اور لگاؤ پر فتح مراد ہے تا کہ گیان تک پہنچا جا سکے۔

جین کی تعلیمات میں انساانیکانتاواد (Anekantavada) اور اپری گرہ (Aparigraha) شامل ہیں۔ یہ نظریات جو بڑی حد تک بودھ مت اور ویدانت مکتب فکر سے ملتے جلتے ہیں ہندوستانی تہذیب کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے والے کو مہاویر کے اس قول سے واضح کیا جا سکتا ہے:

سانس لینے والی، وجو درکھنے والی، جاندار ، احساس رکھنے والی تمام مخلوقات کی نہ تو جان لی جائے ، نہ اُن پر تشدد کیا جائے، نہ اُن سے بد سلوکی کی جائے ، نہ اُنھیں اذیت دی جائے اور نہ اُنھیں دور بھگایا جائے“

آئیے آخری دو اصولوں کو آسان لفظوں میں بیان کریں:

  • انیکتا واد کا مطلب ہے صرف ایک پہلو یا نقطہ نظر نہیں۔ یعنی صداقت کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور کسی ایک بیان سے اسے پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکتا ہے۔
  • اپری گرہ کا مطلب ہے غیر ملکیت، جو مادی اثاثوں سے لا تعلقی اور خود کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں تک محدود رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔

جین مت بھی انسانوں سے لے کر نظر نہ آنے والے جانداروں تک تمام مخلوقات کے باہمی ربط اور باہمی انحصار پر اصرار کرتا ہے کیوں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ فطرت، نباتات اور حیوانات کا مطالعہ کرنے والے سائنس دانوں نے ہمیشہ اس بنیادی صداقت کو قبول کیا ہے۔

جاتک کہانیاں جن سے ہندوستانی بچے اور بالغ افراد کی نسلوں نے لطف اُٹھایا ہے، بودھ کی سابقہ پیدائشوں کی کہانیاں بیان کرتی ہیں اور آسان لفظوں میں بودھ مت کی قدروں کا اظہار کرتی ہیں۔
ایک مشہور کہانی میں ، بودھ بندروں کی ایک بڑی فوج کا بادشاہ تھا۔ وہ ایک بڑے درخت کے پاس رہتے تھے جس میں الو ہی خوش بو اور ذائقے والا پھل تھا۔ بندروں کے بادشاہ کی ہدایت کے باوجود کوئی پھل بچنا نہیں چاہیے، ایک دن پکا ہوا ایک پھل نیچے ندی میں گر گیا۔ پانی میں بہتے ہوئے پھل جال میں پھنس کر محل میں پہنچ گیا۔ بادشاہ کو اس کا ذائقہ اس قدر پسند آیا کہ اس نے اپنے سپاہیوں کو اس درخت کا پتا لگانے کا حکم دیا جس کا یہ پھل تھا۔

کافی تلاش کے بعد انھیں درخت کا پتا چل گیا۔ دیکھا کہ بندر درخت کے پھلوں کا مزا لے رہے تھے۔ سپاہیوں نے بندروں پر حملہ کر دیا۔ بندروں کے بادشاہ کے پاس بندروں کو بچانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ انھیں ندی کو پار کرنے میں مدد کرے لیکن وہ خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ ان سے کافی بڑا ہونے کی وجہ سے بندروں کے بادشاہ نے دوسرے کنارے پر ایک درخت کو پکڑ لیا اور انھیں ندی کو پار کرنے کے لیے اپنے جسم کو پل کی طرحاستعمال کرنے دیا، حالاں کہ وہ بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور آخر کار اس کی موت ہو گئی۔
بادشاہ جو دور سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا، بندروں کے بادشاہ کی بے لوث قربانی سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اپنی رعایا کے تئیں بادشاہ کی ذمے داری کے بارے میں سوچا۔ پتھر کی تختی (بھر ہوٹ، مدھیہ پردیش میں بندر بادشاہ کی کہانی کی عکاسی کرتی ہے۔

Screenshot 2026-04-17 120501

ایک جین کہانی (A Jain Story)

روہنیا ایک غیر معمولی ہنر مند چور تھا جس نے اپنے پکڑے جانے کی تمام کوششوں کو شکست دے دی۔ کسی شہر کی طرف جاتے ہوئے اس نے اتفاقاً ایک نصیحت کے چند جملے سنے جو مہاویر لا علمی کی عام زندگی سے نجات حاصل کرنے کے بارے میں دے رہے تھے۔ شہر پہنچنے پر روہنیا کی شناخت کرلی گئی اور اسے پکڑ لیا گیا۔ اس نے ایک عام کسان ہونے کا بہانہ کیا۔ ایک وزیر نے اسے اپنی شناخت کا اقرار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک کارگر منصوبہ بتایا لیکن روہنیا مہاویر کے لفظوں کو یاد کرتے ہوئے وزیر کے منصوبے کا پتا لگانے اور اسے شکست دینے میں کامیاب رہا۔
شرمندگی محسوس کرتے ہوئے روہنیا نے مہاویر کے پاس آکر اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ چوری کیے ہوئے خزانے واپس کر دیے اور معاف کرنے کے لیے کہا۔ وہ ایک راہب بن گیا۔ اس وہم کو محسوس کیا جس میں وہ مبتلا تھا اور اعلی علم حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی۔
یہ کہانی صحیح عمل اور صحیح سوچ کی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ ہر شخص کو دو سر اموقع ملنا چاہیے۔

Screenshot 2026-04-17 120605

آئیے معلوم کریں

اوپر دی گئی پتھر کی تختی کا مشاہدہ کیجیے (نئی دہلی کے ایک جین مندر سے ) اس میں کیا خاص بات ہے؟ یہ کیا پیغام دیتی ہے ؟

آئیے غور و فکر کریں

بودھ مت اور جین مت دونوں میں اہنسا کا مطلب کسی شخص یا جانور پر جسمانی تشدد سے پر ہیز کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تشدد کے بارے میں سوچنے سے بھی پر ہیز کیا جائے، جیسے کہ کسی کے بارے میں برے جذبات رکھنا۔ اگر ہم خود اپنے مشاہدے پر غور کریں تو ہم ایسے منفی خیالات کو محسوس کر سکتے ہیں اور انھیں کر مثبت فکر میں بدلنا سیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے منفی خیالات بعض اوقات خود اپنی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

بودھ مت اور جین مت دونوں میں راہب اور بعض اوقات راہبان بھی اپنی اپنی تعلیمات کو دور دراز تک پھیلانے کے لیے پورے ملک کا سفر کرنے لگے ۔ ان میں سے کچھ نے دور دراز مقامات پر نئے راہب خانقاہ تعمیر کیے جب کہ دوسروں نے چٹانوں میں تراشے ہوئے غاروں میں اپنی زاہدانہ زندگیاں گزاری۔ آثار قدیمہ کی دریافتوں سے ان خانقاہوں کے بہت سے آثار کا پتا چلا ہے۔ بعض میں ان راہبوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو پتھروں کے تراشے ہوئے غاروں میں رہتے تھے اور پتھروں کے بستر پر سوتے تھے۔

Screenshot 2026-04-17 120853

آئے غور و فکر کریں

ہندومت، بودھ مت، جین مت اور سکھ مت پر اکثر انگریزی میں مذہب کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے اس اصطلاح سے گریز کیا ہے ، بلکہ مکتب فکر اور (اس باب کے آخر میں ) عقیدے کے نظام کو ترجیح دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے ان مکاتب اور نظام کے بہت سے پہلو ہیں جن کو ہم بہ تدریج دریافت کریں گے ۔ اُن میں سے چند فلسفیانہ پہلو، روحانی پہلو، مذہبی پہلو ، اخلاقی پہلو ، سماجی پہلو جن میں سے یہ کچھ نام ہیں۔ بہت سے دانشور اس بات سے متفق ہیں کہ لفظ 'مذہب ہندوستانی تہذیب کے تناظر میں بہت محدود ہے۔

اس وقت دوسرے مکاتب فکر بھی موجود تھے۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک چارواکا مکتب فکر ( کبھی کبھی لو کا پتا بھی کہا جاتا ہے) کا عقیدہ تھا کہ یہ مادی دنیا واحد چیز ہے جس کا وجو د ہے۔ اس لیے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہو سکتی۔ اس مکتب فکر کو زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ غائب ہو گیا۔ ہم اس کا ذکر یہ ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ فکری یا روحانی اعتقاد کے نظام میں ایک وسیع تنوع تھا۔ لوگ اس بات کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد تھے کہ ان کے لیے کیا مناسب ہے۔

اگر چه ویدک، بودھ مت اور جین مکاتب فکر میں اہم اختلافات کے باوجود ان میں کچھ مشترک تصورات بھی تھے۔ مثلاً دھرم، کرما، دوسرا جنم ، مصیبتوں اور لاعلمی کے خاتمے کی تلاش اور دوسری اہم قدریں۔ یہ درخت کا تنا ہے جس سے ہم نے یہ باب شروع کیا تھا۔

عوامی اور قبائلی جڑیں (Folk and Tribal Roots)

اب تک ہم نے جو تہذیبی جڑیں دیکھی ہیں بہت سے متون میں انھیں اچھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ہندوستان میں بھی بھر پور زبانی روایات موجود ہیں۔ یعنی غیر تحریری متن (جیسا کہ ویدوں کا معاملہ ہے) کے بغیر روز مرہ کے معمولات کے ذریعے منتقل ہونے والی تعلیمات اور طور طریقے۔ ان میں بہت سی لوک روایات ہیں، جو عام لوگوں کے ذریعے منتقل ہوئی ہیں اور قبائلی روایات جو قبیلوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔

قبیلہ کیا ہے ؟

اس سماجی شناخت کی بہت سی تعریفیں ہیں۔ جدید ماہرین بشریات عام طور پر ایک قبیلے کو خاندانوں یا قبیلوں کا ایک ایسا گروہ سمجھتے ہیں جن میں نسل، تہذیب اور زبان کی روایات مشترک ہوتی ہیں، ایک سردار کے ماتحت ایک مربوط برادری کے طور پر رہتے ہیں اور کسی نجی جائداد کے مالک نہیں ہوتے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ قدیم ہندوستان میں قبیلہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔ قبائل صرف مختلف جن تھے جو ایک مخصوص ماحول جیسے جنگلوں یا پہاڑوں میں رہتے تھے۔ ہندوستان کے آئین میں انگریزی میں کی (Janjati) اور ہندی میں جن جاتی (Tribal communities) اور قبائلی برادریوں (Tribes)قبائل اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں۔ 2011 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں 705 قبائل پھیلے ہوئے تھے جن کی آبادی 104 ملین یعنی آسٹریلیا اور مملکت متحدہ کی آبادیوں سے زیادہ تھی۔
انیسویں صدی میں قبائل کا مطالعہ کرنے والے ماہر بشریات نے اکثر انھیں مہذب لوگوں کے مقابلے میں غیر ترقی یافتہ یا کمتر قرار دیا ہے۔ قبائلی برادریوں اور ان کی اہم اور پیچیدہ ثقافتوں کے گہرے مطالعات کے نتیجے میں اس طرح کے متعصبانہ فیصلوں کو زیادہ تر ترک کر دیا گیا ہے۔

لوک اور قبائلی روایات نیز نمائندہ مکاتب فکر کے درمیان ایک مستقل تال میل رہا ہے جیسا کہ ہم نے اس باب میں ذکر کیا ہے۔ دونوں سمتوں میں دیوتاؤں، تصورات، داستانوں اور رسومات کا آزادانہ تبادلہ ہو تا رہا ہے۔ مثال کے طور پر روایت کے مطابق جگن ناتھ ، جس کی پوجا پوری (اڈیشہ ) میں کی جاتی تھی، اصل میں ایک قبائلی دیوتا تھا۔ دیوی ماں کی مختلف شکلوں کا بھی یہی معاملہ ہے جس کی پوجا پورے ہندوستان میں کی جاتی ہے۔ دوسری جانب کچھ قبائلیوں نے بہت پہلے ہندو دیوتاؤں کو اپنایا تھا اور ان کے پاس مہا بھارت اور رامائن کے اپنے نسخے ہیں۔ ہندوستان کے شمال مشرقی ریاستوں سے لے کر تمل ناڈو تک اسے اچھی دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 122416

اتنے لمبے عرصے تک اور قدرتی طور پر اس طرحکے آپسی معاملات کیسے قائم رہے ؟ یہ اس لیے ہے کیوں کہ آخر کار لوک، قبائلی اور ہندو عقائد کے نظام میں بہت سے تصورات یکساں ہیں۔ مثال کے طور پر ان تینوں میں فطرت کے عناصر جیسے پہاڑ، دریا، درخت، پودے اور جانور اور کئی طرح کے پتھر بھی مقدس سمجھے جاتے ہیں کیوں کہ ان سبھی کے پس پشت شعور ہوتا ہے۔ دراصل قبائل عام طور پر قدرتی عناصر سے جڑے ہوئے بہت سے معبودوں کی پوجا کرتے ہیں۔ تمل ناڈو کے نیلگر نر کے لڈ ڈا قبائل کے نزدیک، مثال کے طور پر ( ان میں سے ایک تصویر کو بائیں طرف کی تصویر میں دکھایا گیا ہے ) اس پہاڑی سلسلے کی تیس سے زیادہ چوٹیاں کسی دیوتا یا دیوی کی رہائش گاہیں ہیں۔ وہ چوٹیاں اتنی مقدس ہیں کہ ٹوڈا قبائل ان کی طرف انگلی سے اشارہ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
لیکن معبودوں کی اس کثرت کے باوجود جیسا کہ ہندومت کے ساتھ بہت سے قبائلی گروپوں کے پاس ایک اعلیٰ ربوبیت یا اعلیٰ ہستی کا تصور ہے۔ مثال کے طور پر اروناچل پردیش کے بہت سے قبائل ڈونیو پولو (Donoyipolo) کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ سورج اور چاند کی مشتر کہ شکل ہے جس نے بعد میں اعلیٰ معبود کے اعلیٰ درجے کی حیثیت حاصل کرلی۔ یہی معاملہ وسطی ہندوستان کے خند و با (Khandoba) معبود کا بھی ہے۔ مشرقی ہندوستان میں منڈا اور سنتھال قبائل ، دوسروں کے درمیان، سنگبونگا (Singbonga) کی پوجا کرتے ہیں جو ایک اعلیٰ معبود ہے جس نے اس پوری دنیا کو خلق کیا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں۔
ہندوستانی ماہر سماجیات آندرے بیٹیل نے اس صورت حال کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا ہے:
" بر صغیر ہند کی ہزاروں ذاتوں اور قبیلوں نے تاریخ کے آغاز اور اس سے پہلے اپنے مذہبی عقیدوں اور طریقوں میں ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے۔ وسیع طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ قبائلی مذاہب کو ہندومت نے متاثر کیا ہے لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ ہندومت نہ صرف اپنے تشکیلی مرحلے میں بلکہ پورے ارتقا کے دوران قبائلی مذاہب سے متاثر رہا ہے۔“
واضح طور پر اس طویل آپسی معاملات کا نتیجہ باہمی میل جول کو فروغ دینا رہا ہے۔ اس طرحلوک اور قبائلی عقیدوں اور طور طریقوں کا شمار ہندوستان کی ثقافتی جڑوں میں ہوتا ہے۔ اس نکتے پر مزید بات چیت ہم اگلے باب میں کریں گے۔


اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ... ...

  • ویدوں یعنی ہندوستان کی ابتدائی تحریروں نے کئی مکاتب فکر کو جنم دیا ان میں ویدانت اور یوگا زیادہ مشہور ہیں۔
  • بودھ مت اور جین مت نے ویدوں کے تسلط سے انکار کر دیا اور کچھ مخصوص قدروں اور طور طریقوں پر زور دیا۔
  • اگر چہ ان مکاتب کے مختلف اصول اور طریقے تھے تاہم انھوں نے کچھ اہم تصورات میں بھی اشتراک کیا۔ وہ سب مصیبتوں کا سبب اور لاعلمی کو دور کرنے کا ذریعہ تلاش کر رہے تھے۔
  • قبائلی عقیدوں کے نظام اور فن کا تعلق ہندومت کے ساتھ صدیوں سے رہا ہے۔ دونوں طرف سے آزادانہ لین دین تھا۔ عام طور پر قبائلی عقائد کے نظام میں زمین اور اس کی خصوصیات کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اکثر ایک ہی وقت میں الوہیت کا اعلیٰ تصور رکھتے ہیں۔

سوالات، سر گر میاں اور پروجیکٹس

  1. اگر آپ نچی کیتا ہوتے تو یم سے کون سے سوالات پوچھنا پسند کرتے ؟ آپ انھیں 100 سے 150 لفظوں میں لکھیے۔
  2. بودھ مت کے چند مرکزی نظریات کی وضاحت کیجیے۔ ان پر مختصر تبصرہ کیجیے۔
  3. کلاس میں بودھ کے اس قول پر بحث کیجیے جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ”پانی سے کوئی پاک نہیں ہوتا حالاں کہ یہاں ( مقدس دریاؤں میں ) بہت سے لوگ نہاتے ہیں۔ تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سب کو اس قول کا مطلب معلوم ہو گیا ہے۔
  4. جین مت کے چند مرکزی نظریات کی وضاحت کیجیے۔ ان پر مختصر تبصرہ کیجیے۔
  5. آندرے سیٹیل کے خیال پر غور کیجیے اور کلاس میں اس پر بحث کیجیے (دیکھیے صفحہ 122)۔
  6. اپنے علاقے کے مشہور دیوی دیوتاؤں اور ان سے متعلق تیوہاروں کی ایک فہرست بنائیے۔
  7. کلاس سر گرمی کے طور پر اپنے علاقے یا صوبے کے دو یا تین قبائلی گروہوں کی فہرست بنائیے۔ ان کے کسی فن اور عقیدوں کے نظام کے بارے میں لکھیے۔

صحیح یا غلط

  1. ویدک بھجن کھجور کی پتیوں پر لکھے گئے تھے۔
  2. وید ہندوستان کی قدیم ترین تحریریں ہیں۔
  3. ویدک بیان اکم است و پر ا بہو دھا و دنتی آسمانی طاقتوں کے اتحاد میں یقین کی عکاسی کرتا ہے۔
  4. بوده مت ویدوں سے زیادہ قدیم ہے۔
  5. جین مت بودھ مت کی ایک شاخ کے طور پر ابھرا۔
  6. بودھ مت اور جین مت دونوں نے پر امن بقائے باہمی اور تمام جانداروں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کی وکالت کی۔
  7. قبائلی عقیدوں کے نظام روحوں اور معمولی دیوتاؤں پر اعتقاد تک محدود ہیں۔

کلاس سرگرمی

  1. موت کے دیو تایم کے ساتھ ایک چھوٹا ڈراما اسٹیج کیجیے جس میں کئی نچی کیتا اس سے زندگی کے بارے میں سوالات پوچھ رہے ہوں۔
Screenshot 2026-04-17 123018