Skip to content
Qr





باب 8
کثرت میں وحدت یا ایک میں انیک (Unity in Diversity or 'Many in the One')


ای مالک میری دعا کو قبول کر کہ میں ایک میں انیک کے لمس کی نعمت سے کبھی محروم نہ رہوں۔

- رابندر ناتھ ٹیگور

کثرت میں وحدت کا اصول جو ہندوستان میں ہمیشہ سے عام رہا ہے اور یہ اس کے وجود و بقا اور حقیقت کے لیے عین فطری اور ضروری ہے۔ ایک میں انیک اس کے سبھاؤ اور سودھرم کی یقینی بنیادوں پر استوار کرے گا۔

- سری اربندو

Screenshot 2026-04-17 123903
اہم
سوالات
  1. ہندوستان کے منظرنامے میں کثرت میں وحدت سے کیا مراد ہے؟
  2. ہندوستانی تنوع کے کون سے پہلو بہت زیادہ قابل توجہ ہیں؟
  3. ہم کثرت میں وحدت کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟

ثروت مند تنوع (A Rich Diversity)

اگر آپ ٹرین کے ذریعے ہندوستان میں سفر کریں تو آپ کو نہ صرف بدلتے ہوئے افقی مناظر بلکہ مختلف اقسام کے لباس اور کھانے بھی متوجہ کریں گے ۔ آپ مختلف مانوس اور نامانوس زبانیں سنیں گے اور راستے میں طرح طرح کے رسم الخط بھی دیکھیں گے۔ یہاں تک کہ آپ کو خود اپنے علاقے میں اکثر ہندوستان کے دوسرے حصوں کے ان لوگوں سے واسطہ پڑے گا جن کے مختلف رسم ورواج ہوں گے۔ یہی ہندوستان کا پر ثروت تنوع ہے اور غالباً یہی وہ پہلی چیز ہے جو ہمارے ملک میں آنے والے سیاحوں کو متوجہ کرتی ہے۔

1.4 بلین باشندوں ( دنیا کی آبادی کا 18 فی صد) کے ہوتے ہوئے اس طرح کا تنوع حیرت انگیز نہیں ہے۔ 20 ویں صدی کے اواخر میں بشریاتی جائزہ ہند نام کی قومی تنظیم نے تمام ریاستوں کی 4635 برادریوں کا ایک جامع جائزہ لیا جسے بھارت کے لوگ پروجیکٹ کہا گیا۔ اس میں 25 رسم الخط کو استعمال کرنے والی 325 زبانوں کو شمار کیا گیا اور یہ مشاہدہ کیا گیا کہ اس اعتبار سے بہت سے افراد اپنی جائے پیدائش کے یا اصل خاندانوں کے قریب نہیں رہتے ہیں اس لیے بہت سے ہندوستانیوں کو تارکین وطن کہا جا سکتا ہے۔

آئے معلوم کریں

کلاس سرگرمی کے طور پر (1) کم از کم پانچ ہم جماعتوں کی جائے پیدائش اور ان کے والدین کی جائے پیدائش (2) طلبا کی مادری زبان اور دوسری زبانیں جو وہ جانتے ہیں ، کی فہرستیں بنائیے۔ تنوع کے لحاظ سے نتائج پر بحث کیجیے۔

حالاں کہ تنوع واقعی خوب صورت ہے مگر اس کا احساس کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک صدی سے زیادہ پہلے برطانیہ کے تاریخ دان ونسنٹ اسمتھ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں حیرت کا اظہار کیا تھا:

اس حیران کن تنوع کے سامنے ہندوستان کی تاریخ کیسے لکھی جاسکتی ہے ؟۔۔۔ اس سوال کا جواب اس حقیقت میں ملتا ہے کہ ہندوستان کثرت ہے؟۔۔۔ میں وحدت پیش کرتا ہے۔“

کثرت میں وحدت سے کیا مراد ہے ؟ ہم اس اتحاد کو کیسے سمجھیں گے اور اس کا اظہار کیسے کریں گے ؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے ہم ہندوستانیوں کی زندگی کے کچھ پہلوؤں پر غور و فکر کریں گے۔

سب کے لیے غذا

آپ میں سے کچھ لوگوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کی غذائیں کھائی ہوں گی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہمارے ملک بھارت میں آپ لاکھوں نہ سہی، مگر ہزاروں طرح کے کھانوں اور پکوانوں کا مزہ چکھ سکتے ہیں۔ پھر بھی ملک کے تقریباً سبھی حصوں میں بعض غذائی اناج عام ہیں مثلاً چاول، جو اور آنا؛ باجرا، موتی باجرا، جوار ، راگی ، چنے اور مختلف اقسام کی دالوں کا پورے بھارت میں استعمال ہوتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 140437

اس لیے ان سب کو ہم مرغوب اناج کہتے ہیں کیوں کہ یہ بیشتر ہندوستانیوں کی بنیادی غذا ہے۔ (صفحہ 127 پر شکل 8.1) اسی طرح کچھ عام مصالحے جیسے ہلدی ، زیرہ، الائچی اور ادرک پورے ملک میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہم اس فہرست میں کچھ عام سبزیوں اور عام تیلوں وغیرہ کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی قسم کے اجزا (وحدت) کو بے شمار مقدار میں پکوان تیار کرنے کے لیے بہت سی تراکیب ( تنوع ) میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

  • کلاس سرگرمی کے طور پر اپنے گھر میں استعمال ہونے والے اجزا ( اناج، مصالحے وغیرہ) کی فہرست تیار کیجیے۔
  • کوئی ایک سبزی لیجیے اور سوچیے کہ آپ کتنی تعداد میں اس کے مختلف پکوان تیار کر سکتے ہیں۔

ٹیکسٹائل اور کپڑے

ہندوستان کے ہر علاقے اور برادری نے خود اپنے انداز کے پہناوے اور کپڑے تیار کیے ہیں۔ پھر بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کچھ ہندوستانی روایتی پہناؤوں میں یکسانیت ہے، چاہے ان میں کسی بھی طرح کا خام مال استعمال کیا گیا ہو۔ ایک واضح مثال کپڑے کی سادہ لمبائی ہے جسے ساڑی کہتے ہیں جو ہندوستان کے مختلف حصوں میں پہنا جانے والا لباس ہے اور خاص مختلف سوتی اور ریشمی ریشوں سے بنتی ہے لیکن آج کل مصنوعی ریشے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ریشمی ساڑی کے مشہور اقسام میں بنارسی، کانجی ورم، پٹھانی، پتن پٹولہ ، مو گا یا میسور ہیں۔ سوتی ساڑی کی اور بہت سی اقسام ہیں۔ مجموعی طور پر کپڑے کا یہ بغیر سلا ہوا ٹکڑا سینکڑوں اقسام میں آتا ہے۔ جو بنائی بائیں طرف شکل (8.3) اور ڈیزائننگ کے

Screenshot 2026-04-17 140640

مختلف طریقوں سے تیار کی جاتی ہیں۔ کچھ ڈیزائن کپڑے کا حصہ ہوتے ہیں جب کہ دیگر ڈیزائن کپڑے کی بنائی کے بعد چھپتے ہیں۔ آخر میں بے شمار رنگوں میں تغیرات آتے ہیں جو کئی اقسام کے رنگ و روغن کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اسی طرح ساڑی کی اپنی ایک طویل ترین تاریخ ہے۔ سنگی ابھرواں عکس (صفحہ 128 پر شکل 8.2) کا تعلق چند صدیوں پہلے ق ع . د کے ویشالی (اب بہار میں ہے) سے ہے۔

Screenshot 2026-04-17 140808

آئیے معلوم کریں

واضح کیجیے کہ کس طرح ساڑی کی مثال اتحاد اور تنوع دونوں کی عکاسی کرتی ہے۔ (150-100 الفاظ میں)

اسے یاد رکھیں

ایک طویل وقت تک ہندوستان پوری دنیا میں بہترین کپاس پیدا کرنے والا ملک تھا اور ہندوستانی کپڑے دور دراز یورپ تک برآمد کیے جاتے تھے ۔ یورپ میں 17 ویں صدی میں ایک خوب صورت چھاپے دار سوتی کپڑا جسے چنٹر کہتے تھے اتنا مقبول ہوا کہ بعض یورپی ملبوسات کی فروخت میں تیزی سے گراوٹ آگئی ۔ آخر کار خود اپنی مصنوعات کے تحفظ کے لیے انگلینڈ اور فرانس نے ہندوستان سے چنٹر کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

ساڑی پہننے کے کئی طریقے ہیں کیوں کہ یہ مختلف علاقوں اور برادریوں میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ دراصل اسے پہننے کے نئے طریقے اب بھی ایجاد ہو رہے ہیں مگر آخرکار یہ ایک قطعہ والا

سنگی ابھرواں عکس :(Relief) ایک ڈیزائن جو کسی پنسل (جو پتھر ، لکڑی ، مٹی یا کسی اور مواد کا ہو سکتا ہے ) کی سطح سے اوپر اُٹھارہتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 141025

لباس ہے یعنی ساڑی پچھلی صدیوں میں ہندوستان آنے والے سیاح اس کی سادگی، کفایت اور اس کے پہننے کے مختلف طریقوں پر حیرت کرتے تھے۔ مزید یہ کہ عورتیں ساڑی کو پہننے کے علاوہ دیگر کاموں میں بھی استعمال کرتی تھیں۔ شکل 8.4 میں دی گئی چھے تصویروں میں اس کے استعمال کے چند تخلیقی طریقوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

آئیے معلوم کریں

  • اوپر دی گئی شکلوں میں کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ ساڑی کا استعمال کس لیے کیا گیا ہے ؟
  • کیا آپ ساڑی کے استعمال کے دیگر طریقوں سے واقف ہیں یا اُن کا تصور کر سکتے ہیں ؟
Screenshot 2026-04-17 141159
جس طرح آپ نے ساڑی کی مختلف شکلوں اور استعمال کو دیکھا۔ اسی طرح ایک دوسر الباس دھوتی کے کپڑے (فیبرک) اور استعمالوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس کی مختلف شکلوں کی ایک فہرست تیار کیجیے۔ اس سر گرمی سے آپ کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں ؟

تیوہاروں کی چمک دمک

ہندوستان میں تیوہاروں کی بھر مار ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ تقریباً ایک ہی وقت میں پورے ہندوستان میں کچھ عام تیوہار منائے جاتے ہیں اگر چہ ان کے نام مختلف ہیں۔ ہم صرف ایک مثال مگر سکرانتی کی لیں گے جو ہندوستان کے بیشتر حصوں میں فصل کے موسم کے آغاز کی علامت ہے اور تقریباً 14 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ یہ نقشہ ہندوستان بھر میں ایک ہی تاریخ میں ایک جیسے تیوہاروں کے مختلف نام دکھاتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 141304

آئیے معلوم کریں

  • آپ کا پسندیدہ تیوہار کون سا ہے ؟ آپ کے علاقے میں یہ کیسے منایا جاتا ہے ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ہندوستان کے دیگر حصوں میں مختلف ناموں سے منایا جاتا ہے؟
  • اکتوبر اور نومبر کے مہینوں کے دوران بھارت میں کئی بڑے اور اہم تیوہار آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص تیوہاروں اور ملک کی دوسری زبانوں میں اس کے مختلف ناموں کی ایک فہرست بنائیے۔

رزمیے کی وسعت

ادب ہمارے سامنے کثرت میں وحدت، تنوع میں اتحاد کی ایک عمدہ مثال ہے۔ ہندوستانی ادبی سرمایہ حد درجه متنوع اور دنیا میں وافر ترین ذخیروں میں سے ہیں۔ صدیوں سے زبان، تکنیک وغیرہ میں فرق کے باوجود اہم موضوعات اور سروکاروں میں ان کا اشتراک رہا ہے۔ مثال کے طور پر پنچ تنتر کے بارے میں کس نے نہیں سنا ہو گا ؟ کہانیوں کا یہ دل کش مجموعہ ، جس میں جانور خاص کردار میں ہیں ، ہم کو زندگی کی ضروری مہارتوں کا درس دیتا ہے۔ اصل سنسکرت متن کم سے کم 2,200 سال پرانا ہے مگر اس کی کہانیوں کو تقریبا ہندوستان کی سبھی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ دراصل اس نے ہندوستان سے -باہر جنوب مشرقی ایشیا، عرب دنیا اور یورپ کا سفر کیا اور دورانِ سفر کہانیوں کے نئے مجموعوں کو تحریک دی۔ اندازہ ہے 50 سے زائد موجودہ زبانوں میں پنچ تنتر کی 200 قدرے تبدیل شدہ شکلیں موجود ہیں۔ یہ مثال ہے کہ کہانیوں کا ایک مجموعہ کس طرح بہت بن جاتا ہے۔

حیرت ناک ترین مثال ہندوستان کے دو بڑے رزمیوں (Epics) رامائن اور مہا بھارت کی ہے۔

سنسکرت کی یہ دو طویل نظمیں جو اصل زبان میں مجموعی طور پر 7,000 صفحات پر مشتمل ہیں ان بہادروں کی کہانیوں کو بیان کرتی ہیں جنھوں نے دھرم کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے جنگ کی تھی۔ مہا بھارت میں پانڈوؤں نے کرشنا کی مدد سے خود اپنے رشتے کے بھائیوں کو روؤں سے لڑائی کی تاکہ اپنی مملکت واپس لے سکیں۔ رامائن میں رام نے اپنے بھائی لکشمن اور ہنومان کی مدد سے شیطان راون کو ہرایا جس نے ان کی شریک حیات سیتا کو اغوا کیا تھا۔ ان کہانیوں میں اقدار پر مرکوز کئی مختصر حکایات ہیں جو مسلسل اس بارے میں یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔

رزمیه :(Epic) ایک طویل نظم جس میں عام طور پر بہادروں اور ماضی کی عظیم شخصیتوں کی مہمات اور کارناموں کو بیان کیا جاتا ہے۔

Screenshot 2026-04-17 141620

آئیے معلوم کریں

کلاس میں بحث کرتے ہوئے شکل 8.6 میں دکھائی گئی تصویر میں پیش کردہ واقعے اور اُس سے متعلق اہم تفصیلات کی نشان دہی کیجیے۔

دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے ان دو رزمیوں کا ہندوستان اور اس کے باہر علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا یا اُن سے اخذ کیا گیا ہے۔ چند سال پہلے تمل ناڈو میں ایک دانشور نے اکیلے ہی ایک جائزہ انجام دے کر ( مہا بھارت کے تقریباً سو متون کی نشان دہی کی جو لوک ادب کی شکل میں ہم تک آئے ہیں۔ اب آپ تصور کیجیے کہ پورے ہندوستان میں یہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے !

دراصل کئی برادریوں نے رامائن اور مہا بھارت کے خود اپنے ترجمے کیے ہیں۔ ان رزمیوں کے ساتھ انھوں نے خود اپنی تاریخ سے متعلق داستانوں کو محفوظ رکھا ہے۔ یہ بات خاص طور پر ہندوستان کی مختلف قبائلی برادریوں جیسے بھیل، گونڈ ، منڈا اور بہت سے قبیلوں کے بارے میں درست ہے۔

ہندوستان کے شمال مشرق کے اور ہمالیائی علاقے کے (جس میں کشمیر شامل ہے) بیشتر قبائل نے کسی ایک یا دونوں رزمیوں کے ترجمے خود کیے ہیں۔ ان قبائلی توافقات (adaptation) کو زبانی طور پر قصے کے ہم راہ اس بارے میں منتقل کیا گیا تھا کہ کس طرح رامائن اور مہا بھارت کے بہادر (عام طور پر کوئی ایک یا سبھی پانچوں پانڈوؤں، ان کی اہلیہ دروپدی بلکہ بعض اوقات ان کے رشتے کے بھائی اور حریف دریودھن ) اس قبیلے کے متعلقہ علاقوں کا سفر کیا تھا۔

جیسا کہ (صفحہ 126 پر) ذکر کیا گیا ہے کہ ماہر بشریات کے ایس سنگھ بھارت کے لوگ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ مہا بھارت کے بارے میں اُن کا مشاہدہ ہے۔ ”ملک میں شاید کوئی ایسا مقام ہو جس کا سفر لوک روایت کے مطابق پانڈو جیسے رزمیائی غازیوں نے نہ کیا ہو۔ “ اور یہی بات رامائن کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ صدیوں سے کسی دیگر متون کے مقابلے میں ان دو رزمیوں نے پورے ہندوستان اور ایشیا کے کئی حصوں میں ثقافتی تعاملات کا ایک گھنا جال بنا دیا ہے۔ یہ کثرت میں وحدت کی ایک اور مثال ہے۔

Screenshot 2026-04-17 142500

اس باب کے موضوع کی مزید مثال دینے کے لیے ہم اپنے سفر کو جاری رکھیں گے اور ہندوستانی ثقافت کے مزید پہلوؤں کی طرف رجوع کریں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے کلاسیکی آرٹ اور کلاسیکی فن تعمیر میں کثرت اور وحدت دونوں شامل ہیں جو بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں ( آپ ان موضوعات کا مطالعہ آرٹ کی تدریس کے دوران کریں گے)۔ آخر میں ہم کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستانی ثقافت میں تنوع یا کثرت کو ثروت مندی تصور کیا جاتا ہے اور بنیادی وحدت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا جو اس تنوع کی پرورش کرتی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

  • ہندوستانی منظر نامہ لوگوں، زبانوں، لباسوں ، غذا، تیوہاروں اور رواجوں کا وسیع تنوع پیش کرتا ہے۔
  • کثرت کو مختلف موضوعات میں بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے مگر اس میں ایک بنیادی وحدت بھی ہے۔
  • ہندوستانی وحدت کثرت کا جشن مناتی ہے کیوں کہ کثرت تقسیم نہیں کرتی ہے بلکہ ثروت مند بناتی ہے۔

سوالات، سر گرمیاں اور پروجیکٹس

  1. باب کے آغاز میں دیے گئے دو اقتباسات سے متعلق کلاس میں بحث کیجیے۔
  2. قومی ترانے اور اس کے ترجمے کو پڑھیے۔ اس میں آپ کہاں تنوع دیکھتے ہیں اور کہاں اتحاد ؟ اس پر دو یا تین پیرا گراف لکھیے۔
  3. پنچ تنتر سے کچھ کہانیاں منتخب کر کے بحث کیجیے کہ اس کے پیغامات آج بھی با معنی ہیں۔ کیا آپ اپنے علاقے سے ے متعلق اسی طرح کی کسی دیگر کہانی سے واقف ہیں؟
  4. اپنے علاقے سے چند لوک کہانیاں جمع کر کے ان کے پیغام پر گفتگو کیجیے۔
  5. کیا آپ نے کوئی قدیم کہانی، فن کی کسی شکل کے ذریعے پیش کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یہ کوئی مجسمہ ایک پینٹنگ اور رقص کی پیش کش ، کوئی فلم ہو سکتی ہے ، اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ گفتگو کیجیے۔
  6. ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے ذریعے آزادی سے قبل بھارت کے کئی حصوں کے سفر کے بعد کیے گئے اظہار پر مبنی مندرجہ ذیل اقتباس پر کلاس میں گفتگو کیجیے :

"ہر جگہ میں نے ایک ثقافتی پس منظر دیکھا جس نے اُن کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ ہندوستان کے قدیم رزمیوں رامائن اور مہا بھارت اور دیگر کتابوں کے مقبول تراجم اور مختصر وضاحتوں سے عوام خوب واقف تھے اور ہر واقعہ اور کہانی اور ان میں پوشیدہ اخلاقی پیغام اُن کے ذہنوں پر نقش تھے جس نے اُسے ثروت مند اور بامعنی بنایا۔ ناخواندہ دیہی باشندوں کو سیکڑوں شلوک یاد ہیں اور ان کی باہمی گفتگو میں اُن کے یا کسی قدیم کلاسک میں پوشیدہ اخلاقی پیغام کے حوالے جابجا ملیں گے۔“