Skip to content
Qr





باب 9
خاندان اور برادری (Family and Community)


محبت اور فرض خاندانی زندگی کے پھول اور پھل ہیں۔

-ترو ولور

اہم
سوالات
  1. خاندانی اکائی کیوں اہم ہے؟
  2. برادری کیا ہے اور اس کا کیا کردار ہے؟

خاندان (Family)

تقریباً ہم سب ایک خاندان میں رہتے ہیں۔ خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اور قدیم ترین اکائی ہے۔ آج کے ہندوستانی معاشرے میں مشترکہ خاندانوں سے لے کر وحدانی خاندانوں Nuclear) (families تک کئی اقسام کے خاندان ہیں۔ ایک مشتر کہ خاندان میں کئی نسلیں ایک ساتھ رہتی ہیں: دادا دادی، والدین، چاچا چاچی، بھائی، بہن اور چچیرے بھائی بہن۔

Screenshot 2026-04-17 145838
Screenshot 2026-04-17 145857

دوسری طرف وحدانی خاندان ماں باپ اور ان کے بچوں اور کبھی کبھی ماں یا باپ اور بچوں تک محدود ہوتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

  • آپ اپنے آس پاس کس قسم کے خاندان دیکھتے ہیں؟ ہر قسم کے خاندانوں کی تعداد کے ساتھ ان کی فہرست تیار کیجیے۔
  • کس طرح کے خاندانوں کی تعداد زیادہ ہے ؟ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟
  • کلاس سرگرمی کے طور پر آپ حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنے ہم جماعتوں کی معلومات سے موازنہ کر کے تبادلۂ خیال کیجیے۔

انگریزی میں خاندانی رشتوں کو بیان کرنے کے لیے زیادہ اصطلاحات نہیں ہیں۔ ہم نے ان میں سے بعض اصطلاحات پہلے پیراگراف میں دیکھی ہیں۔ ہندوستانی زبانوں میں خاندانی رشتوں کی بہت سی اصطلاحات ہیں۔ مثال کے طور پر ہندی میں ہوا، تاؤ، تائی، چاچا، موسی، نانا، نانی اور بہت کچھ ہیں۔ کچھ زبانوں جیسے عمل میں بھی بڑے بھائی بہن یا چھوٹے بھائی بہن کے لیے مختلف اصطلاحات ہیں۔ لیکن ہندوستانی زبان میں کزن کے لیے کیا لفظ ہے ؟ آپ کو زیادہ تر ہندوستانی زبانوں میں ایسا کوئی لفظ نہیں ملے گا کیوں کہ کزن کا استعمال صرف بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے خاندان کے تمام بچوں کے درمیان گہرے رشتوں کا پتا چلتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

  • اپنے خاندان کے سبھی افراد کی ایک فہرست بنائیے جس میں آپ کے خیال میں دور کے چند رشتے دار بھی شامل ہوں۔ ان کی اصطلاحات کو اپنی مادری یا علاقائی زبان میں درج کیجیے اور انگریزی میں مساوی (اصطلاحات) تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔ ہندی کے لیے دو مثالیں ذیل میں درج ہیں :
نام ہندی اصطلاح انگریزی میں تفصیل / اصطلاح
رانی بہن ماں کے بھائی کی بیٹی (کزن ) ( دوسرے ممکنہ معنوں میں سے ایک)
سمیر چاچا والد کے چھوٹے بھائی (انگل)

  • آپ دیکھیں گے کہ کس طرح زیادہ تر آپ کی اپنی مادری یا علاقائی زبان میں اکثر ایک لفظ کی درست توضیح کے لیے انگریزی کے کئی لفظوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

حیثیتیں اور ذمے داریاں
(Roles and Responsibilities)

خاندان کے افراد کے درمیان تعلقات، آپسی محبت، شفقت، تعاون اور باہمی انحصار پر مبنی ہوتے ہیں۔ تعاون کا مطلب ہے مل کر کام کرنا۔ خاندان کے ہر فرد کا دوسرے افراد کے تئیں کچھ فرض اور ذمے داریاں ہیں۔ مثال کے طور پر والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو خوش حال اور معاشرے کا ذمے دار فرد بنائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں وہ گھر کے دیگر افراد چاہے وہ والدین ہوں، بہن یا بھائی وغیرہ کی مدد کے لیے گھر میں مزید ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔ بچے روزانہ کے معمولات کے ذریعے گھریلو کاموں میں حصہ لینا سیکھتے ہیں۔ بہت سے گھروں میں بچے کچھ ایسی روایات اور طریقوں کو بھی سیکھتے ہیں جن پر ان کا خاندان کئی نسلوں سے عمل کرتا رہا ہے۔

آئیے معلوم کریں

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے اور اپنے چند ہم جماعتوں کے ساتھ ان کا موازنہ کیجیے :
  • آپ کے خاندان میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ بازار سے کیا لانا ہے ؟
  • آپ کے گھر میں کھانا کون پکاتا ہے ؟
  • آپ کے خاندان میں سب سے زیادہ عمر کس کی ہے؟
  • آپ کے گھر میں فرش کون صاف کرتا ہے ؟
  • آپ کے گھر میں بر تن کون صاف کرتا ہے؟
  • ہوم ورک کرنے میں آپ کی مدد کون کرتا ہے؟

اپنے دھرم پر عمل کرنا یا اپنا فرض ادا کر نا ہندوستانی تہذیب کا اہم اصول رہا ہے۔ خاندان بھی ایک اسکول ہے جہاں بچے اہنسا (عدم تشدد ) دان (خیرات) ، سیوا (خدمت) اور تیاگ (قربانی) جیسی ضروری قدریں سیکھتے ہیں۔ خاندان کے افراد اکثر خاندان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لیے اپنی ضرورتوں کو ترک کر دیتے ہیں۔

آئیے ایک ایسی ہی کہانی پڑھتے ہیں:

Screenshot 2026-04-17 151520 شانی اپنے خاندان کے ساتھ کیرالہ کے ایک قصبے میں رہتی ہے۔ اس کے والد کا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے اور اس کی والدہ قریبی اسکول میں ایک ٹیچر ہے۔ شالنی کا ایک چھوٹا بھائی ہے۔ اس کی دادی Screenshot 2026-04-17 151816 اچما (والد کی والدہ)، چتپا (والد کے بھائی چا) اور اس کی چتی ( چی یا چا کی بیوی) ساتھ میں رہتے ہیں۔ چنی ان کی ایک بیٹی ہے جو شالنی کی چچیری بہن ہے۔ شانی کے چچا کی کچھ دنوں پہلے نوکری چلی گئی ہے اور اس کی بچی ایک گھریلو خاتون ہیں۔ پورا خاندان اونم کے تیوہار کی تیاریاں کر رہا تھا۔ اچھا نے شالنی کے والد کو بتایا کہ اس کے بھائی کو مالی دشواریوں کا سامنا ہے، اس لیے وہ تیوہار کے موقع پر نئے کپڑے خریدنے کے قابل نہیں ہیں۔ جب شالنی کے والدین اسے اور اس کے بھائی کو خریداری کے لیے لے گئے تو انھوں نے صرف اپنے لیے نہیں بلکہ چنتا ، چتی اور چنی کے لیے بھی نئے کپڑے خریدے۔ نتیجے کے طور پر شالنی کو وہ ریشمی لباس نہیں مل سکا جس کی اسے توقع تھی۔ اسے ایک سادہ سوتی لباس سے ہی سمجھوتا کرنا پڑا۔ اچھا نے شالنی کو سمجھایا کہ اسی طرح خاندان ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے ساجھا کرتے ہیں۔ شالنی کو اپنے سادہ لباس پر کوئی افسوس نہیں تھا۔ اسے اس بات کی خوشی تھی کہ سب کو نئے کپڑے مل گئے۔

آئیے معلوم کریں

  • سات افراد پر مشتمل اس خاندان کا ایک سادہ شجرہ نسب بنائیے۔
  • آپ کے خیال میں شالنی کے والدین نے سب کے لیے کپڑے کیوں خریدے؟
  • اگر شالنی کی جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟
یہ کہانی تو کیرالہ کی ہے۔ آئیے اب دور شمال مشرق میں میگھالیہ کے ایک گاؤں کی طرف چلتے ہیں۔
میرا نام تیزنگ ہے۔ میں جن پہاڑوں میں رہتا ہوں مجھے ان سے پیار ہے۔ حالاں کہ زندگی بعض اوقات مشکل ہوتی ہے۔ میرے والد کی کرانے کی ایک چھوٹی سی دکان ہے۔ میری والدہ ایک مقامی دست کاری سرکاری تنظیم ( جہاں سیاحوں کو فروخت کرنے کے لیے خوب صورت اور روایتی کپڑے، لکڑی پر نقاشی اور Screenshot 2026-04-17 152238 دیگر سامان تیار کیے جاتے ہیں) میں کام کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے میرے والد گھر کی صفائی ستھرائی ، سبزیوں کے باغیچے کی دیکھ بھال اور دوسرے گھریلو کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ اکثر وہ ہم سب کے لیے کھانا بنانے میں میری دادی کی مدد کرتے ہیں۔
دادی کے پاس مجھے سنانے کے لیے ہمیشہ ہر طرحکی مزاح اور حکمت سے بھری دل چسپ کہانیاں ہوتی ہیں۔ لوگوں کو ان سے بہتر طریقے سے سمجھنے والا شاید کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ میرے دادا پڑھائی میں میری مدد کرتے ہیں اور مجھے اسکول کے بس اسٹاپ تک لے جاتے ہیں۔ وہ ہماری کالونی میں سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہمارے علاقے میں بجلی چلی جاتی ہے تو وہ قریبی بجلی دفتر جاتے اور شکایت درج کراتے ہیں۔ جب طوفان میں ہمارے پڑوس کے گھروں کو نقصان پہنچتا ہے تو ان کی مرمت کے لیے سبھی پڑوسیوں سے کچھ رقم جمع کرتے ہیں۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے والدین کھانے اور کپڑے جیسی ہماری بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ جب کسی خاص اخراجات کی بات ہوتی ہے تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وہ سبھی سے اس پر بات کرتے ہیں۔ میری والدہ کہتی ہیں کہ ہمیں مستقبل کی غیر متوقع ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ کچھ رقم بچا کر رکھنی چاہیے۔

آئیے غور و فکر کریں

  • تیز نگ کے والد خاص اخراجات کے لیے اپنی بیوی سے کیوں مشورہ کرتے ہیں ؟
  • گھریلو کاموں میں تیز نگ کے والد کی حصے داری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
  • تیز نگ کے دادا دادی کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

آئیے معلوم کریں

  • ہندوستان میں کسی علاقہ کے ایک ایسے خاندان کی کہانی تخلیق کیجیے جہاں ہم لوگوں کو کچھ خاندانی قدروں پر عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اسے اپنی کلاس میں تحریر یا تصویر (ڈرائنگ) کے ذریعے ساجھا کیجیے۔
  • دو یا تین خاندانوں پر مشتمل اپنی کلاس کے تمام ساتھیوں کے ساتھ ایک منی ڈراما اسٹیج کیجیے۔ آپ کا لکھا ہو اڈر اما ایسے مشکل حالات پر بھی ہو سکتا ہے جن کا سامنا خاندانوں نے کیا ہو اور یہ دکھائیے کہ انھیں کس طرح حل کیا گیا ہے۔
  • شالنی اور تیز نگ کی کہانیوں میں ہم مشتر کہ خاندانوں کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں جدید زندگی کے وہ کون سے پہلو ہیں جن کی وجہ سے کچھ جوڑے وحدانی خاندان کا انتخاب کرتے ہیں (یعنی پرانی نسلوں اور دوسرے رشتے داروں سے الگ رہنا )۔ دونوں طرح کے خاندانوں کے کیا فائدے اور نقصانات ہو سکتے ہیں ؟

برادری (Community)

خاندان نہ صرف اپنے اندر بلکہ دوسرے خاندانوں اور ان کے آس پاس کے لوگوں سے بھی مربوط ہوتے ہیں۔ لوگوں کے باہم منسلک ایسے گروپ کو برادری کہا جا سکتا ہے۔ (سیاق و سباق کے اعتبار سے برادری کے اور بھی معنی ہیں) مختلف وجوہات کی بنا پر کسی برادری کے افراد اکٹھے ہوتے ہیں جیسے تیوہاروں کو منانا، دعوتوں، شادیوں اور دوسری تقریبات کا اہتمام کرنا۔ کچھ دیہاتوں میں لوگ زرعی اعمال جیسے گٹائی اور بوائی کے لیے زمین کی تیاری کے وقت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادریاں اکثر مشتر کہ قدرتی دولت اور وسائل مثلاً پانی، چرا گاہ اور جنگلاتی پیداوار کے استعمال کے کچھ طریقوں پر متفق ہو جاتی ہیں۔ کئی قبائلی برادریوں اور بعض دیہی کے ساتھ ساتھ کچھ گاؤں کی برادریوں کا بھی یہی حال ہے۔ ہندوستان کے گاؤں کی برادریوں میں آج بھی کسی حد تک یہی صورت حال ہے۔ ان عوامل نے جنھیں ہم ضابطے کہہ سکتے ہیں اور شاید ہی تحریری شکل میں لائے گئے ہوں، برادریوں کو وسائل تک محفوظ رسائی فراہم کی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی برادری کے تمام خاندانوں اور افراد کے کچھ مخصوص فرائض ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں برادری آسانی سے کام نہیں کر پائے گی۔

اسے یاد رکھیں

  • گزشتہ برسوں کے دوران مدھیہ پردیش کے جھبوا قصبے کے آس پاس کے علاقے پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بحران کے وقت کسی بھی فرد یا خاندان کی مدد کے لیے اکٹھا ہونے کی (صفحہ 145 دیکھیں) اپنی حلما روایت کی پیروی کرتے ہوئے بھیل برادری نے سیکڑوں گاؤں میں ہزاروں درخت لگانے کا فیصلہ کیا۔ بھیلوں نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بہت سی خندقیں بھی کھو دیں اور پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے دوسرے ڈھانچے بھی بنائے۔ انھوں نے اس کام کے لیے مزدوری نہیں لی بلکہ اسے انھوں نے اپنی برادری اور ماحول کے تئیں اپنا فرض سمجھ کر کیا۔ حلما روایت کا مقصد مادر گیتی کی مدد کرنا ہے۔ شیو گنگا تحریک سے وابستہ شری مہیش شرما کو 2019 میں بھیل برادریوں کے ساتھ ان کے انقلابی کارنامے کے لیے پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔
  • چنئی میں 2015 کے سیلاب کے دوران سڑکیں ندیوں میں تبدیل ہو گئیں اور لوگ ادھر اُدھر نہیں جاسکتے تھے۔ تقریباً سبھی دکانیں بند تھیں اور عوامی خدمات میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ بہت سے ذاتی گروپس بالخصوص روحانی اور مذہبی تنظیموں نے بڑی مقدار میں کھانا پکایا اور اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا۔
  • اسی طرح دیگر مثالیں موجود ہیں ، جب لوگ کسی معاوضے کے حصول کے بغیر برادری کے مفاد میں کچھ کر گزرنے کے جذبے کے تحت ایک ساتھ جمع ہوئے۔ کیا آپ نے ایسے کسی واقعہ کے بارے میں سنا ہے ؟

درج بالا حقیقی زندگی کی کہانیاں دیہی تناظر میں برادری کی عکاسی کرتی ہیں۔ شہری تناظر میں بھی برادری کا وجود ہے۔ حالاں کہ یہ شاید کچھ مختلف انداز میں کام کرتی ہیں۔ آئیے ایک اور حقیقی زندگی کی کہانی سے ایک مثال دیکھتے ہیں۔

Screenshot 2026-04-17 155523

ہیں سال سے زیادہ عرصہ قبل احمد آباد (گجرات) کے ایک علاقے میں ایک چھوٹی آٹو فیبر یکیشن ورک شاپ کے مالک کمل پر مار نے سڑک پر پس ماندہ بچوں کے ایک گروپ کو دیکھا۔ کچھ بچوں نے اسکول چھوڑ دیا تھا جب کہ دوسرے کبھی اسکول نہیں گئے تھے۔ کمل نے انھیں اپنے روزانہ معمولات کے بعد شام ساڑھے پانچ بجے سے ساڑھے نو بجے تک ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ انھوں نے بچوں کو شام کا کھانا مفت دیا۔ جلد ہی 150 بچے ان کلاسوں میں با قاعدہ شرکت کرنے لگے اور اسباق میں گہری دل چسپی لینے لگے۔

ایک مقامی اسکول کے چند اساتذہ کو ان کلاس کے بارے میں پتا چلا اور وہ کچھ دیر کے لیے تدریس میں بھی شامل ہو گئے۔ ان میں سے ایک نے مشاہدہ کیا کہ ”بیٹھنے کے لیے ان بچوں کے لیے مناسب بینچ نہیں ہے، کلاس روم میں کوئی سازگار ماحول نہیں ہے کیوں کہ وہاں سے گزرنے والی گاڑیاں بہت شور مچاتی ہیں پھر بھی وہ اساتذہ کی باتوں پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ اس نے میرے دل کو چھو لیا۔ ان سے مجھے جو محبت اور اپنائیت ملی وہ نا قابل یقین تھی۔ کچھ بڑے بچے، جو باضابطہ اسکولوں میں جاتے تھے ، رضا کار کے طور پر پڑھانے کے لیے کمل کی کلاس میں شامل ہو گئے۔ ان میں سے ایک نے تبصرہ کیا ”ہم وہاں پڑھانے گئے تھے، لیکن ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔“

Screenshot 2026-04-17 155625
  • اپنی جماعت میں اس کہانی پر بحث کیجیے۔ اس سے برادری کے بارے میں کس رویے کا پتا چلتا ہے ؟
  • کمل پر مار کی پیش قدمی میں کون سی اقدار جھلکتی ہیں ؟
  • ان پس ماندہ بچوں کے بارے میں سوچیے۔ کیا آپ کے خیال میں معاشرہ ان کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے ؟
  • تمام بچوں کی تعلیم تک کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے معاشرے کو کیا کرنا چاہیے ؟
Screenshot 2026-04-17 155735

گزشتہ تیس یا چالیس برسوں میں نئی قسم کی برادریاں بھی ابھری ہیں۔ بہت سے شہری علاقوں میں فلاح باشندگان کی انجمن ( ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز ( آر ڈبلیو اے ) اُن برادریوں کی مثالیں ہیں جو اپنے اصول و ضوابط خود بناتی ہیں۔ یہ تنظیمیں کوڑے کرکٹ کے با ، بند و بست ، عام علاقوں کی صفائی، پالتو جانوروں کی دیکھ بھال وغیرہ کے بارے میں اصول وضوابط مرتب کرتی ہیں۔ کمیونٹی میں رہنے والے لوگ ایسے اصول و ضوابط بنانے میں حصہ لیتے ہیں۔

بہر حال برادریاں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر فلاح باشندگان کی یہی انجمن اشیا کی فراہمی اور فضلے کی نکاسی کے لیے تجارتی برادری اور میونسپل کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ہمارے پیچیدہ معاشروں میں ہر کوئی دوسرے لوگوں اور برادریوں پر منحصر ہوتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

اپنے خاندان سے باہر کے ان لوگوں کی ایک فہرست بنائیے جو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے کام کے ذریعے آپ کی مدد کر رہے ہیں۔

اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ برادری ایک لچک دار تصور ہے۔ اس کی کچھ دیگر مثالیں ہیں:

  • کوئی جاتی یا اس کی ذیلی تقسیم کو برادری بھی کہا جاتا ہے۔
  • کسی خاص مذہب، علاقے، مشتر کہ کام یا دل چسپی کے لوگوں کے ایک گروپ، خاص طور پر ایک چھوٹے گروپ کو بھی برادری کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ممبئی کی پارسی برادری، چنٹی کی سکھ برادری، امریکہ کی ہندوستانی برادری، کیرالہ کی سائنس برادری، ہمارے اسکول کی آرٹ برادری، گاؤں کی کسان برادری وغیرہ۔ یہ فہرست لا محدود ہے۔
  • آپ اپنے اسکول میں یقیناً مختلف برادریوں کا حصہ ہو سکتے ہیں، کلاس کے ساتھ ساتھ اسپورٹس برادری، نیشنل سروس اسکیم، نیشنل کیڈٹ کارپس (NCC)، سائنس یا ڈراما کلب گروپ و غیره کا بھی حصہ ہو سکتے ہیں۔

آئیے معلوم کریں

  • آپ کسی قسم کی برادری کا حصہ ہیں ؟
  • کیا آپ کے اسکول میں کوئی کلب ہے جس کا آپ حصہ ہیں؟ یہ کیسے کام کرتا ہے؟

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

  • خاندان انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔ مثال کے طور پر ایک خاندان کے افراد بہت سے فرائض اور کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔
  • برادری، ایک بڑی اکائی ہے ، کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ برادری کی تعریف مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے اور برادری کی کئی قسمیں ہیں۔
  • بہر حال برادریاں ایک دوسرے پر منحصر ہوتی ہیں۔

سوالات، سر گر میاں اور پروجیکٹس

  1. آپ اپنے خاندان اور پڑوس میں کن اصولوں کی پابندی کرتے ہیں؟ وہ کیوں اہم ہیں؟
  2. کیا آپ کے خیال میں کچھ اصول خاندان یا برادری کے چند لوگوں کے لیے غیر مناسب ہیں؟ کیوں ؟
  3. اپنے مشاہدے میں آنے والے ایسے حالات بیان کریں جہاں برادری کی مدد کرنے سے فرق پڑتا ہے۔ آپ ان کے بارے میں کوئی خاکہ بنا سکتے یا لکھ سکتے ہیں۔