باب 10
زمینی سطح پر جمہوریت - حصہ 1
حکمرانی
(Grassroots Democracy - Part 1 Governance)
"راجا نام دهرم گوپتارم دهر مور کشتی رکشته"
حکمران قانون کی حفاظت کرتا ہے اور قانون ان کی حفاظت کرتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
-مها بهارت
"انصاف کے بغیر امن نہیں؛ مساوات کے بغیر انصاف نہیں؛ ترقی کے بغیر مساوات نہیں؛ عوام اور تہذیبوں کی شناخت اور وقار کے احترام کے بغیر جمہوریت نہیں۔“
-رگو برٹا مینچوتم
سوالات
- حکمرانی سے کیا مراد ہے؟
- ہمیں حکومت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
- جمہوریت کے کیا معنی ہیں؟ یہ کیوں اہم ہے ۔
تعارف
انسان ایک طویل عرصے سے برادریوں میں رہتا آیا ہے۔ جب بڑی تعداد میں لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں تو اختلافات اور بد نظمی کا امکان یقینی ہے۔ ایسے میں، معاشرے میں امن و امان اور ہم آہنگی بر قرار رکھنے کے لیے اصول اور ضابطے ضروری ہو جاتے ہیں۔
گھر میں شاید کچھ عام اصول ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے کی آپ سے امید کی جاتی ہے۔ جس اسکول میں آپ پڑھتے ہیں اس کے بھی اصول ہیں، کچھ طلبا کے لیے، کچھ اساتذہ کے لیے۔ اعلیٰ سطحکی کلاسوں میں امتحانات میں شامل ہونے والے طلبا کے لیے خاص اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سڑک پر چلنے والے ڈرائیوروں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ سڑک پر چلنے کے اصولوں کی پابندی کریں گے۔ ہر قسم کی ملازمتوں سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی اپنے آجر کی طرف سے طے کیے گئے اصولوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح آجروں کو بھی ان اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے جو انھوں نے اپنے ملازمین کے لیے بنائے ہیں۔
اگر کوئی ان اصولوں پر عمل نہ کرے تو کیا ہو گا؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ معاشرہ اپنے انتظام وانصرام پر قادر نہیں رہ سکے گا۔
آئیے معلوم کریں
- صفحہ 151 پر شکل 10.1 میں دی گئی دو شکلوں کی وضاحت کیجیے۔ آپ دونوں میں کیا فرق دیکھتے ہیں ؟
- آپ اس کا تعلق اصولوں پر ہماری بحث سے کس طرح قائم کر سکیں گے ؟
- آپ کے اسکول کے بعض اصول کیا ہیں؟ انھیں کس نے بنایا؟
اصول کون بناتا ہے اور کیوں بناتا ہے ؟ وہ کیسے بنائے جاتے ہیں؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ہم اس باب میں تلاش کریں گے۔ فیصلے لینے، معاشرے کی زندگی کو مختلف اصولوں کے ساتھ ترتیب دینے اور ان کے مطابق چلنے کو یقینی بنانے کے عمل کو حکمرانی کہتے ہیں۔ افراد کا مجموعہ یا وہ نظام جو اصول بناتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ ان کی پیروی کی جائے، حکومت کہلاتی ہے۔ اصولوں میں سے کچھ زیادہ اہم اصول قانون کہلاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اصول اور قوانین ایک بار ہی ہمیشہ کے لیے مرتب کر لیے جاتے ہیں، جس طرح آپ گھر پر اپنے والدین کے ساتھ کسی خاص اصول پر بات کر سکتے ہیں یا جس طرح طلبا کی کوئی کمیٹی اسکول سے یا یونیورسٹی انتظامیہ سے کوئی اصول تبدیل کرنے کو کہہ سکتی ہے۔ اسی طرحشہریوں کو بھی معاشرے کا نظام چلانے کے اصول اور قانون میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ کس طرح سے ہوتا ہے۔
آیئے معلوم کریں
- کیا آپ صفحہ 152 پر شکل 10.2 کی دس تصویروں میں عوامی خدمت یا دیگر سرگرمیوں کے زمروں کی نشان دہی کر سکتے ہیں ؟
- آپ کے خیال میں حکومت ان سرگرمیوں میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟
- کیا آپ اپنی روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں پر غور و فکر کر سکتے ہیں جن میں حکومت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حکومت کے تین ادارے
پوری دنیا میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی معاشروں کے کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ ہندوستان میں صرف 30 سال پہلے تک لوگ دور کسی رشتے دار کو پیسے بھیجنا چاہتے تھے تو انھیں فارم بھر کر منی آرڈر کرنے کے لیے ڈاک خانے میں قطار لگانی پڑتی تھی یا کسی کاروبار کے لیے انھیں پیسے بھیجنے ہوتے تھے تو انھیں ڈیمانڈ ڈرافٹ بنوانے کے لیے اپنے بینک میں قطار لگانی پڑتی تھی۔ جسے پھر انھیں ڈاک کے ذریعے بھیجنا پڑتا تھا۔ آپ نے شاید یہ اصطلاحیں ( منی آرڈر یا ڈیمانڈ ڈرافٹ) کبھی نہیں سنی ہوں گی کیوں کہ آج کل فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے بھیجنے کے ہمارے پاس ڈیجیٹل ذرائع موجود ہیں۔
تاہم اس سے مجرموں کا ایک نیا طبقہ بھی پیدا ہوا ہے جس نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے ہی لوگوں کے پیسے چرانے کے ڈیجیٹل طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی حکومتوں نے ایسی مجرمانہ سرگرمیوں سے (جنھیں 'سائبر کرائم کہتے ہیں) لڑنے کے لیے نئے قوانین منظور کیے ہیں۔ ان مجرموں میں سے کچھ ایسے مجرم جو اپنی صلاحیتوں کا استعمال معاشرے میں اپنا تعاون دینے کے بجائے معصوم لوگوں کی محنت کی کمائی لوٹنے میں یقین رکھتے ہیں، گرفتار بھی کیے گئے ہیں اور عدالت نے انھیں سزا بھی دی ہے۔ ان پر اکثر جرمانہ لگایا گیا ہے اور کچھ برسوں کی جیل بھی ہوئی ہے۔
اس مثال کے ذریعے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کسی طرح حکومت کی تین شاخیں یا ادارے مل کر کام کرتے ہیں:
- قانون ساز اسمبلی وہ ادارہ ہے جو نئے قانون بناتا ہے ( یا قانون سازی کرتا ہے )۔ کبھی کبھی یہ موجودہ قوانین میں رد و بدل کرتا ہے یا انھیں منسوخ کر دیتا ہے۔ یہ کام عوامی نمائندوں کی اسمبلی کرتی ہے۔ ہم ابھی یہ جانیں گے کہ ہندوستانی نظام کیسے کام کرتا ہے۔
- عاملہ وہ ادارہ ہے جو قوانین پر عمل کراتا ہے۔ اس میں ملک کا سر براہ (جو صدر، وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ہو سکتا ہے ) وزرا اور قانون وضابطے کے نفاذ کی ذمے دار ایجنسی شامل ہیں۔ (مندرجہ بالا مثال میں سائبر پولیس ایسی ہی ایک ایجنسی ہے )
- عدلیہ عدالتوں کا وہ نظام ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کسی نے اگر قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔ بعض اوقات عدلیہ یہ جانچ بھی کرتی ہے کہ عاملہ نے جو فیصلہ لیا ہے وہ صحیح ہے یا قانون ساز اسمبلی نے جو قانون منظور کیا ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں اچھی طرح سوچا سمجھا اور سب کے ساتھ انصاف کرنے والا ہے کہ نہیں۔
آئیے معلوم کریں
حکمرانی کے کسی اچھے نظام میں یہ تینوں ادارے ایک دوسرے سے علاحدہ رکھنے چاہئیں حالاں کہ وہ آپس میں تال میل رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ علاحدگی اختیارات کی علاحدگی کہلاتی ہے۔ (شکل 10.3) اس کا مقصد جانچ اور توازن کا نظام قائم کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا ہر ادارہ یہ جانچ سکتا ہے کہ دوسرا ادارہ کیا کر رہا ہے اور اگر وہ اپنی متوقع حیثیت سے ہٹ کر کام کر رہا ہے تو اس کے کام میں توازن بحال کر سکے۔
آئیے معلوم کریں
حکومت کی تین سطحیں
کوئی بھی حکومت کم سے کم دو سطحوں پر کام کرتی ہے۔ مقامی اور قومی بشمول ہندوستان کئی ملکوں میں یہ تین سطحوں یا طبقوں پر کام کرتی ہے۔ مقامی ، صوبائی یا علاقائی اور قومی۔ ہر سطح کا کام مختلف ہوتا ہے۔ به طور موازنہ ، اگر آپ کے گھر میں ایک بلب نہ جل رہا ہو تو آپ بلب سونچ، فیوز وغیرہ کی جانچ کریں گے۔ اگر اس سے کام نہیں بنتا ہے تو آپ بجلی مستری کو بلائیں گے اور اگر یہ پتا چلتا ہے کہ آپ کے گھر کے اندر کہیں کوئی خرابی نہیں ہے تو آپ کو بجلی گھر جا کر شکایت درج کرانی ہو گی۔ یہ بھی مسئلے کو حل کرنے کی تین سطحیں ہوئیں۔
ہندوستان میں مقامی حکومتیں، صوبائی حکومتیں اور مرکزی یا وفاقی حکومتیں (صفحہ 155 پر شکل 10.4) ہیں۔ تصور کیجیے کہ چند دن بھاری بارش کے بعد کسی ضلع میں کہیں سیلاب آگیا ہے۔ اگر یہ بہت شدید نہیں ہے تو مقامی انتظامیہ اس پر قابو پاسکتی ہے۔ اگر اس کی زد میں کئی بستیاں اور کئی گاؤں آجاتے ہیں تو صوبائی حکومت قدم اٹھاتی ہے اور امدادی ٹیمیں متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے بھیجتی ہے لیکن اگر یہ بہت بڑے علاقوں کو متاثر اور شدید سیلاب کی شکل لے لیتا ہے تو مرکزی حکومت بھی امدادی اشیا بھیج کر مدد کر سکتی ہے۔ اس مثال میں بھی آپ حکومت کے تین سطحوں پر کام دیکھ سکتے ہیں۔
اسے یادرکھیں
آئندہ صفحے پر دی گئی جدول مختصر اقومی اور صوبائی سطح کی حکومت کے تینوں اداروں کے اہم کاموں کا ایک معمولی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔ ان کی تفصیلات (اسمبلیوں کی مخصوص ذمے داریوں کو شامل کرتے ہوئے) زیادہ گہرائی سے کلاس 7 میں پڑھائی جائیں گی۔ (مقامی حکومت کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ زیادہ تفصیل سے اسے ہم اگلے دو ابواب میں پڑھیں گے۔)
آئیے معلوم کریں
- آئندہ صفحے پر جدول ( شکل (10.5) کو غور سے دیکھیے ۔ ایسے کاموں اور ذمے داریوں پر روشنی ڈالیے جو آپ کی زندگی کو زیادہ متاثر کرتے ہیں؟
- دو یا تین بالغ افراد سے حکومت سے ان کے تعلق یا تعامل اور تجربوں کے سلسلہ میں پوچھیے۔ یہ تعلق کس سطح پر اور کس مقصد کے تحت ہوا؟
| ملکی سطح | صوبائی سطح | |
|---|---|---|
| عدلیہ | پریمیئر کورٹ آف انڈیا | ہائی کورٹ |
| صوبائی سطح | قومی سطح | |
|---|---|---|
| ایک صوبائی اسمبلی یا دو ایوان (واضح رہے کہ زیادہ تر صوبوں میں ایک ہی اسمبلی ہے، جب کہ کچھ صوبوں میں دو ایوان بھی ہو سکتے ہیں) | دو اسمبلیاں (ایوان) — لوگ سبھا اور راجیہ سبھا۔ قومی سطح پر قانون بناتے ہیں۔ | مفہوم |
| مرکزی حکومت | صوبائی حکومت | |
|---|---|---|
| عالمه |
صدر جمہوریہ (ریاست کا نام سربراہ) اور ہندوستانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر وزیر اعظم ملک کے سربراہ |
گورنر (ریاست کا سربراہ)، جس کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ بحیثیت عامل سربراہ |
| عاملہ کے کام اور ذمہ داریاں (یہ تفصیلی فہرست نہیں ہے) |
|
|
ایوان
:(House)
اسمبلی جہاں قوانین پر بحث ہوتی ہے اور انھیں منظور کیا جاتا ہے۔
برائے نام
:(Nominal)
صرف نام کے لیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے معاملے میں صدر جمہوریہ ہند اور ریاستی گورنر حقیقت میں نفاذ کے ادارے کے سربراہ نہیں ہیں۔ وہ خاص حالات میں مخصوص اختیار رکھتے ہیں لیکن عام طور سے مرکزی یا صوبائی حکومت کے کام میں دخل نہیں دیتے ہیں۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام
تمل ناڈو کے رامیشورم میں ایک غریب خاندان میں 1931 میں اے پی جے. عبد الکلام پیدا ہوئے۔ وہ ایک مشہور و معروف سائنس داں تھے جنھیں ہندوستان کے خلائی پروگرام، میزائل پروگرام اور جوہری صلاحیتوں کی ترقی میں اہم کردار کے لیے میزائل مین آف انڈیا کا خطاب دیا گیا۔
ڈاکٹر عبد الکلام نے 2002 سے 2007 تک ہندوستان کے گیارھویں صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنی اعلیٰ حیثیت کے باوجود وہ اپنے اچھی تعلیم اور اختراع کے جذبے کے ساتھ لوگوں اور خصوصاً نوجوانوں سے قریبی رابطے میں رہے۔ انھوں نے اپنی انکساری، سماجی کاموں کے لیے لگن اور قوم کے تئیں احساس ذمے داری کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ انھوں نے بڑے خواب دیکھنے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کرنے کے لیے ہندوستانی نوجوانوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی۔
ڈاکٹر ٹر کلام نے ثابت کر دیا کہ صدر جمہوریہ ہند کے طور پر ان کا عہدہ بھلے ہی برائے نام ہے لیکن پھر بھی وہ بے شمار لوگوں کی زندگی کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آئیے ان کے چند متاثر کن اقوال پر غور کریں:
جمہوریت
آپ نے غور کیا ہو گا کہ ہم نے اس سے پہلے عوامی نمائندوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ نظام حکومت کے بنیادی پتھروں میں سے ایک پتھر ہے جسے دنیا کے بیشتر ملکوں نے اپنایا ہے۔ جمہوریت اس کا انگریزی لفظ (ڈیمو کریسی) دو یونانی الفاظ ڈیموس معنی عوام اور کریٹس معنی حکمرانی یا طاقت سے آیا ہے۔ اس طرح ڈیمو کریسی ، ( جمہوریت) کا مطلب ہے عوام کی حکمرانی۔
لیکن کیا حقیقت میں تمام لوگ حکومت کر سکتے ہیں ؟ یہ واضح طور پر نا ممکن ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کی کلاس میں کوئی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ پر اسکول پرنسپل کو توجہ دلانا ہے۔ مثلاً آپ کی کلاس میں کوئی پریشانی ہے یا اسکول کے سازو سامان میں کوئی خرابی ہو یا شاید آپ سیر و تفریح کے لیے باہر جانے کی خاص تاریخ تجویز کرنا چاہتے ہیں تو کیا پوری کلاس پر نسپل کے پاس جائے گی ؟ ظاہر ہے یہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ کئی اسکولوں میں کلاسوں میں کلاس مانیٹر ہوتے ہیں یا کلاس کا نمائندہ ہوتا ہے جسے پوری کلاس منتخب کرتی ہے۔ اگر کوئی نہ بھی ہو تو ایک نمائندہ اس خاص مقصد کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے۔ اس نمائندے کو پرنسپل کے پاس بھیجنا کافی ہو گا۔
یہی اصول صوبائی یا قومی سطح پر انتخاب کے ذریعے اپنایا جاتا ہے۔ ان نمائندوں کے حق میں ووٹ دیتے ہیں جو اپنی متعلقہ اسمبلیوں کے منتخب ممبر ہوں گے۔ وہ عام طور سے ریاستی سطح پر قانون ساز اسمبلی کے ممبر یا ایم ایل اے اور قومی سطح پر ممبر پارلیمنٹ یا ایم پی کہلاتے ہیں۔ یہ سبھی ممبر قانونی مسائل اور ان کے حل پر اسمبلی میں بحث اور غور و فکر کرتے ہیں۔ اختلاف رائے ہونے پر مکالمے اور بحث و مباحثہ کے ذریعے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کسی جدید جمہوریت کی طرحہی ہندوستان ایک عوامی جمہوریت ہے۔ یہ 2024 میں 97 کروڑ رائے دہندگان والی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ سبھی اٹھارہ سال سے زیادہ عمر والے ہندوستانی شہری الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔
تصور کیجیے کہ آپ کی کلاس پکنک پر جانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ دو ممکنہ مقامات ہیں۔ 'الف' اور 'ب' ۔ کلاس کے طلبا دونوں کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث کرتے ہیں۔ جیسے دوری، وقت، خرچہ ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی وغیرہ۔ کسی فیصلے پر پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔ آخر آپ کے استاد یہ طے کرتے ہیں کہ ووٹ کر کے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ جو طلبا مقام الف کے حق میں ہیں وہ اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں پھر جو طلبا مقام 'ب' کے حق میں ہیں وہ اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جس مقام کے حق میں زیادہ ہاتھ اٹھتے ہیں فیصلہ اسی مقام کے حق میں لے لیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ووٹ کرنا کہتے ہیں۔ یہ معاملہ راست جمہوریت کا ہے جس میں مقام کا فیصلہ کرنے میں ہر طالب علم کی رائے لی گئی۔
زمینی سطح پر جمہوریت کی اصطلاح ایک ایسے نظام کو پیش کرتی ہے جو عام شہریوں کی حصے داری طے کرتی اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس کو ہم نے صفحہ 155 شکل 10.4 میں ہرم کی اساس میں دیکھا ہے۔ اس طرح کے نظام میں شہریوں کو ایسے فیصلوں میں اپنی رائے رکھنے کا حق ہوتا ہے جو ان کو متاثر کرتے ہیں۔
ہم ہندوستانی جمہوریت کے اور پہلوؤں کا مطالعہ اگلے دو ابواب میں اور بعد کی جماعتوں میں بھی کریں گے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- کوئی بھی ملک بغیر حکمرانی یا حکومت کے نہیں چل سکتا۔
- نئے دور کی حکومت کے تین ادارے ہیں: مقننہ ، عاملہ اور عدلیہ ۔ جنھیں ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
- ہندوستانی حکومت تین سطحوں پر کام کرتی ہے: مرکزی یا قومی، صوبائی اور مقامی۔
- جمہوریت ہی کل ملا کر اس نظام کا ڈھانچہ ہے۔ یہ نظام منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے صوبائی اور قومی دونوں سطحوں پر کام کرتا ہے۔
سوالات، سر گر میاں اور پروجیکٹس
- خود کو جانچیے : جمہوریت کے کیا معنی ہیں؟ جمہوریت اور نمائندہ جمہوریت کے درمیان کیا فرق ہے؟
- حکومت کے تین ادارے بتائیں؟ ان کے مختلف کام کیا ہیں ؟
- بھارت کے تناظر میں ہمیں حکومت کے تین اداروں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟
- پروجیکٹ: 2019 میں کو رونا عالمی دبا کے دوران لگا لاک ڈاؤن آپ کو یاد ہو گا۔ اس وقت جو اقدام کیے گئے تھے ان کی فہرست بنائیے۔ حکومت کے کون کون سے ادارے اس صورت حال کو قابو میں لانے کے کام میں لگے ہوئے تھے ؟ حکومت کے ہر شعبے نے کیا کر دار ادا کیا تھا؟