باب 11
زمینی سطح پر جمہوریت - حصہ 2
دیہی علاقوں میں مقامی حکومت
(Grassroots Democracy – Part 2
Local Government in Rural Areas)
اصل ہندوستان دیہی علاقوں میں بستا ہے۔
-موہن داس کرم چند گاندھی
سوالات
- پنچایتی راج ادارے کسے کہتے ہیں؟
- ان کے کیا کام ہیں ؟
- حکومت اور جمہوریت میں اُن کی اہمیت کیوں ہے ؟
ہم آیئے دیکھتے ہیں کہ مقامی سطح پر حکومت کیسے کام کرتی ہے۔ اس باب میں ہماری توجہ دیہی علاقوں کی مقامی حکومت پر ہو گی۔ اگلے باب میں ہم شہری علاقوں کی طرف بڑھیں گے۔
ہندوستان بڑا عظیم اور تنوع والا ملک ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً 6,00,000 گاؤں، 8,000 قصبات اور 4,000 شہر ہیں۔ ہماری آبادی 1.4 بلین سے تجاوز کر چکی ہے۔ قریب دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ سماج میں ہم اپنی حکومت کس طرح چلاتے ہیں ؟
آیئے ہمالیہ کے دامن کوہ (فٹ ہلس) میں ایک چھوٹے سے گاؤں لکشمن پور کا سفر کرتے ہیں۔ یہاں 200 گھر ہیں اور قریب 700 کی آبادی ہے جن میں بیشتر کسان ہیں۔ وہاں کے لوگ اپنی زمینوں
پر کاشت کرتے ہیں اور گائے یا بکریاں پالتے ہیں۔ ان کے کچھ رشتے دار مسلح افواج میں ملازمت کرتے ہیں۔ کچھ دیہاتی نوجوان نوکری ڈھونڈنے کے لیے شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اس گاؤں کی کیا ضروریات ہیں۔ شاید کھیتوں کے لیے پانی، بھاری بارش کی وجہ سے ٹوٹی سڑکوں کی مرمت یا گاؤں کے ابتدائی اسکولوں کی دیکھ ریکھ ؟ گاؤں کے یہ لوگ ان مسائل کے لیے کون سے فیصلے لیتے ہیں جو ان کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں؟ اور اپنی ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کہاں سے وسائل حاصل کرتے ہیں؟ کیا ہو گا جب ان کی زمین سے متعلق کوئی تنازعہ پیدا ہو یا کوئی فصل چوری ہو جائے۔ اس طرح کے کئی سوالات ایک گاؤں میں پیدا ہوتے ہیں کیا لوگ ایسے ہر مسئلے کے لیے ریاستی یا صوبائی دارالحکومت کا رخ کریں گے ؟
پنچایتی راج نظام
ہندوستان کے ہر گاؤں کی طرح لکشمن پور کے لوگوں کے پاس ایک مقامی حکومت کا نظام ہے جسے پنچایت کہتے ہیں۔ جس سے مراد دیہی کونسل ہے۔ پنچایت، حکومت کو لوگوں کے قریب لاتی ہیں تا کہ وہ فیصلہ لینے کے عمل میں فعال طور پر حصہ لینے کے قابل بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنچایتی نظام جسے پنچایتی راج بھی کہتے ہیں، ذاتی حکومت کی ایک شکل ہے۔ پنچایتیں، زمینی سطح تک مقامی مسائل حل کرنے، ترقی کو فروغ دینے اور یہ یقینی بنانے میں کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد زمینی سطح پر لوگوں تک پہنچ رہے ہیں، اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
جیسا کہ خاکے سے صاف ظاہر ہوتا ہے ، پنچایتی راج نظام تین سطحوں پر کام کرتا ہے۔ نیچے سے اوپر گاؤں ، بلاک اور ضلع۔ اسے سہ طبقی نظام کہتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان اداروں کی ذمے داریاں، زراعت، مکان، سڑکوں کی مرمت، پانی کے وسائل کا انتظام ، تعلیم ، حفظانِ صحت اور سماجی فلاح و بہبود سے لے کر ثقافتی سرگرمیوں تک ضلع کی زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔
گرام پنچایت
آئے صفحہ 164 پر شکل 11.1 کی نچلی سطح سے آغاز کریں۔ گرام پنچایت جو کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے قریب ترین ہے۔ اس کے ممبران گرام سبھا سے براہ راست منتخب کیے جاتے ہیں۔ گرام سبھا کسی گاؤں ( قرب وجوار کے گاؤں کے مجموعے) کے بالغ لوگوں کا ایک گروہ ہوتا ہے جو ووٹر کی حیثیت سے اندراج شدہ ہوتے ہیں۔ گرام سمبھا میں مرد اور عورت اپنے علاقے کے سبھی مسائل پر بات چیت کرتے اور فیصلہ لیتے ہیں۔ ہر گرام پنچایت ایک صدر یا سر براہ کو منتخب کرتا ہے جسے سر پینچ یا پر دھان کہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ عور تیں سر پینچ بن رہی ہیں۔
مثالی سر پینچ
دیا نیشور کا مبلے ایک کٹر ہے جسے 2017 میں مہاراشٹرا کے سولا پور کے ایک گاؤں ترنگ فل کا سر پیچ منتخب کیا گیا۔ کا میلے کا نعرہ ہے لوک سیوا ، گرام سیوا یعنی گاؤں کی خدمت عوام کی خدمت ہوتی ہے ۔ کا مبلے چھے امید واروں کو شکست دے کر سر پہنچ بنا۔
وندنا بہادر میرا جو مدھیہ پردیش کے کھان کھانڈوی گاؤں کی بھیل برادری کی ایک فرد ہے۔ وہ پدری نظام کی خلاف ورزی کر کے اپنے گاؤں کی پہلی عورت سر پینچ بن گئی۔ اس نے گاؤں کی عورتوں کو قائل کیا کہ وہ سبھا کے اجلاس میں شرکت کریں اور اس نے تعلیم اور صفائی جیسے اہم مسائل کو اٹھایا جس سے دور دراز تک اعلیٰ پیمانے پر اسے پہچان ملی۔ وند ناکا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ کس طرح عورتیں دیہی ہندوستان میں تبدیلی لانے کے لیے ایک قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے ایک گاؤں ہو رے بازار اکثر خشک سالی اور کمزور زرعی پیداوار کا شکار رہتا تھا۔ پوپٹ راؤ با گوجی پوار اس کے سر پیچ بنے تو انھوں نے انا ہزارے کے بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری، تقسیم آب کے تحفظ اور بڑے پیمانے پر لاکھوں کی تعداد میں شجر کاری کے ماڈل کو اپنانا شروع کر دیا، جس سے زیر زمین پانی کو دوبارہ اوپر لانے میں مدد ملی۔ گاؤں والوں کے اشتراک سے کچھ برسوں میں ہی ہورے بازار ایک سر سبز و شاداب اور خوش حال گاؤں بن گیا۔ 2020 میں پوپٹ راؤ پوار کو پدم شری ایوارڈ دیا گیا۔
گرام پنچایت کو پنچایت سکریٹری سے تعاون ملتا ہے جو میٹنگیں بلانے اور ریکارڈ کی دیکھ بھال جیسے دفتری کام کو انجام دیتا ہے۔ ہندوستان کے کئی حصوں میں بیشتر گرام پنچایت کی مدد ایک افسر بھی کرتا ہے۔ جسے پٹواری کہتے ہیں۔ جو گاؤں والوں کی زمینوں کے ریکارڈ رکھتا ہے۔ بعض حالات میں پٹواری کئی نسلوں کے پرانے نقشے بھی سنبھال کر رکھتا ہے۔
آئیے غورو فکر کریں
طفل دوست پنچایت کی پہل
پنچایت کا مقصد تمام لوگوں کی آوازوں کو جس میں بچوں کی آواز بھی شامل ہے ، سننا ہے۔ طفل دوست پنچایت کی پہل بچوں کے لیے اپنی فلاح سے متعلق معاملات میں آرا اور خیالات کے اظہار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ باضابطہ طور پر بال سمجھا اور بال پنچایت میں بچوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف ریاستوں میں اقدام کیے گئے ہیں جہاں گاؤں کے بزرگ ان کے معاملات کے حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر مہاراشٹر میں کچھ بال پنچایتوں نے طفل مزدوری اور شادی اطفال کے خاتمے کے لیے کام کیا ہے۔ وہ بہت سے بچوں کو اسکول میں واپس لائے۔ بال پنچایت کے ممبر ان والدین کو سمجھانے کے لیے یک جا ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کو واپس اسکول میں بھیجیں اور اُن بچیوں کی شادی نہ کریں جن کو ابھی پڑھنا چاہیے۔
طفل دوست اقدامات کرنے کے لیے کئی گرام پنچایتوں کو انعامات دیے گئے ہیں۔ یہاں سکم سے ایک مثال دی جارہی ہے :
مغربی سکم کے سانگ کھورا دھو کھانڈو گرام پنچایت نے بچوں کی ضروریات اور حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پنچایت نے اسکول کے لیے چار دیواری کی تعمیر کی۔ بچوں کے دو پہر کا کھانا حفظانِ صحت کے اعتبار سے پکنے کو یقینی بنانے کے لیے گرام پنچایت نے اسکولوں میں مطبخوں کی تعمیر کی۔ ان سب کوششوں کے لیے سانگ کھو رادھو کھانڈو کو طفل دوست گرام پنچایت قرار دیا گیا ہے۔
آئیے ایک اور مثال راجستھان سے دیکھتے ہیں:
کئی دہائیوں پہلے بنکر رائے نے بیر فوٹ کالج کے ایک جزو کے طور پر چلڈرن پارلیمنٹ کی شروعات کی تھی ، اس نے راجستھان کے دیہی علاقوں میں تعلیم اور جمہوری شراکت کے ذریعے پس ماندہ بچوں کو با اختیار بنایا۔ حکمرانی کے عمل سے وابستہ کیے گئے 8 سے 14 سال کے بچے شبینہ اسکولوں اور پارلیمنٹ جیسے انتخابات کے ذریعے جمہوریت اور سماجی ذمے داری کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ نے رسمی طور پر کام کیا جس میں ووٹر شناختی کارڈ اور تشہیری مہم شامل ہیں۔ منتخب نمائندوں نے ایک کابینہ تشکیل کی جو اسکول انتظامیہ کی نگرانی اور اجتماعی ضروریات کی وکالت کرتی ہے۔ اس اقدام نے قائدانہ صلاحیتوں اور سماجی بیداری کو پروان چڑھایا جس سے بچے سماج کے بنائے ہوئے اصولوں کا مقابلہ کرنے اور تبدیلی کی وکالت کرنے کے قابل ہو سکے۔ بچوں نے فعال طور پر برادری کی ترقی میں تعاون، تعلیم تک رسائی، صفائی ستھرائی اور سماجی مساوات جیسے مسائل کی
طرف توجہ دی۔ بچوں کی پارلیمنٹ کے اقدام کی بہت تحسین و ستائش ہوتی ہے جس میں 2001 کا عالمی اعزازی انعام برائے اطفال بھی شامل ہے۔
آئیے معلوم کریں
پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد
اسی طرح کے ملتے جلتے ادارے بلاک کی سطح پر اور ضلعی سطح پر پائے جاتے ہیں جو گاؤں کی سطحسے اوپر کے ہیں۔ ان کے ناموں کو اہرام شکل 11.1 میں صفحہ 164 پر دکھایا گیا ہے۔ بلاک سطحپر پنچایت سمیتی ضلع سطح پر گرام پنچایت اور ضلع پریشد کے درمیان ایک کڑی ہے۔ ان اداروں کے ممبران کو مقامی افراد منتخب کرتے ہیں مگر ان میں گرام سر پہنچ اور ریاستی قانون ساز اسمبلی کے ممبران بھی ہو سکتے ہیں۔
پنچایت سمیتی کا ڈھانچہ مختلف ریاستوں میں الگ الگ ہوتا ہے مگر مقامی لوگوں کی شرکت کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار برابر ہوتا ہے۔ مثلاً وہ تمام گرام پنچایتوں سے ترقیاتی منصوبے جمع کر کے اور بالترتیب ضلعی یا ریاستی سطحوں پر پیش کرنے کی غرض سے یک جا کرنے کے لیے گرام پنچایتوں کے درمیان معاملات میں معاونت کرتے ہیں۔ اس سے پر دھان منتری گرام سڑک یوجنا جیسے ترقیاتی پروجیکٹوں اور سرکاری اسکیموں کے لیے رقوم مختص کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ان تینوں سطحوں پر خاص ضابطے بنائے گئے ہیں تاکہ آبادی کے پس ماندہ طبقات جیسے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی ضروریات اور ان کے مسائل پر توجہ دی جاسکے۔ ان اداروں میں عورتوں کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کرنے کی بھی سہولت ہے۔
آئیے غور و فکر کریں
آئیے معلوم کریں
- پنچایتی سطح اور مرکزی سطح پر سرکاری نظام میں کیا یکسانیت اور فرق ہے (اشارہ : اگر ضرورت ہو تو باب 10 کو دیکھیں)
- اگر آپ کو پنچایت کے ممبران سے ملاقات کا موقع ملے تو آپ ان سے کون کون سے سوالات پوچھیں گے ؟ ایک سوال نامہ تیار کر کے چھوٹا سا گروپ بنائیں۔ چند گرام پنچایت ممبر ان سے ملاقات کیجیے یا انھیں اپنے اسکول میں مدعو کیجیے۔ اپنے سوال نامے میں شامل سوالات کیجیے اور ایک مختصر رپورٹ لکھیے۔
ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ تمام ریاستوں میں پنچایتی راج اداروں کی ساخت اور کاموں میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ان اداروں پر ریاستوں کا کنٹرول ہوتا ہے مگر ان کے مقاصد ایک ہی ہوتے ہیں۔ یہ گاؤں کے لوگوں کو مقامی علاقوں اور گاؤں کے انتظام اور ترقی میں فعال طور پر حصہ لینے کے اہل بناتی ہے۔
را جاہر 10 گاؤں کے لیے ایک سنگرہن (ذیلی ضلع صدر مقام)؛ ہر 100 گاؤں کے لیے کروائیکا، ضلع صدر مقام ؛ ہر 400 گاؤں کے لیے درون مکھ اور ہر 800 گاؤں کے لیے استهانیه (صوبائی صدر مقام ) قائم کرے گا۔
آج کی زبان میں ان چاروں زمروں کو ہم کیا نام دیں گے ؟ کیا یہ حیرت ناک نہیں ہے کہ اس طرح کا تصور کئی صدیوں پہلے ذہن میں آیا تھا؟
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ... ...
- دیہی علاقوں میں مقامی حکومت کو سہ طبقی نظام کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔
- پنچایتی راج نظام میں جمہوریت لوگوں کی براہ راست شرکت اور ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔
- پنچایتی راج ادارے دیہی علاقوں میں لوگوں کو ذاتی حکمرانی کا پیمانہ دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے مسائل کو حل کر سکیں اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کر سکیں۔
سوالات، سرگرمیاں اور پروجیکٹس
- اوپر دیے ہوئے متن کو دیکھے بغیر خود اپنی جانچ کریں کہ کیا آپ پنچایتی راج نظام کے تینوں طبقوں کا نام بتا سکتے ہیں۔ ان تینوں طبقوں کے خاص کام کیا ہیں ؟
- اپنے گاؤں کی سڑکوں پر پڑے پلاسٹک کے تھیلوں کے مسئلے پر سر پیچ کو ایک خط لکھیے۔
- آپ کے خیال میں گرام پنچایت کا ممبر کون بن سکتا ہے؟
- ایسا مان لیں کہ آپ گاؤں کے ایک اسکول میں پڑھتے ہیں۔ اسکول ہائی وے کے بالکل قریب واقع ہے۔ دن کے آخر میں جب طلبہ اسکول سے واپس آتے ہیں اور اسکول جاتے ہیں تو انھیں سڑک پار کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے متبادلات کون سے ہیں ؟ کون سا پنچایتی راج ادارہ اس میں آپ کی مدد کر سکتا ہے ؟ طلبا کیا کر سکتے ہیں ؟