باب 12
زمینی سطح پر جمہوریت-حصہ 3
شہری علاقوں میں مقامی حکومت
(Grassroots Democracy - Part 3
Local Government in Urban Areas)
میری تمنا ہے کہ..... فوری طور پر ایک مقامی ادارہ قائم کیا جائے، ..... تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو سکے کہ واقعی انتظامیہ کیا ہے، حقوق رائے دہندگی کیا ہیں، اختیارات کیا ہوتے ہیں؟ ایک مختصر علاقے میں لوگوں کے اپنے ہی حلقے میں، خود ان کے اپنے گاؤں میں حقوق اور مراعات کیا ہوتے ہیں؟
-رستم کے سدھوا، رکن، دستور ساز اسمبلی
(13) اکتوبر 1949 کودستور ساز اسمبلی کے مباحثوں کے درمیان
سوالات
- شہری بلدیاتی ادارے کیا ہیں اور ان کے کام کیا ہیں؟
- وہ نظام حکومت اور جمہوریت میں کیوں اہم ہیں؟
تعارف
پچھلے ابواب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرحجمہوریت میں اچھی حکمرانی کا مقصد شہریوں کو با اختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے کام کاج میں فعال طور پر شامل ہو سکیں اور خواہ اس کا تعلق دیہی ، علاقائی ، شہری، ریاستی یا قومی جس سطح سے بھی ہو اس میں حصہ لے سکیں۔ یہ )Participatory شراکتی جمہوریت (democracy کا وسیع تر تصور ہے۔ ہم نے نظام کی بنیادی باتوں کو دیہی تناظر میں دیکھا۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ یہ شہری منظر نامے میں کس طرح کام کرتے ہیں۔ کیوں کہ بعد والا پہلے والے سے زیادہ متنوع اور پیچیدہ ہے۔ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ شہری نظام حکمرانی کو بھی زیادہ پیچیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم یہاں خود کو اس کے بنیادی اصولوں تک ہی محدود رکھیں گے۔
آئیے معلوم کریں
- ممبئی، کولکاتا یا چنئی جیسا کوئی شہر ایک گاؤں یا شہر کے مقابلے میں کیوں زیادہ متنوع اور پیچیدہ ہے ؟
- اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ کسی بھی شہر میں رہنے والے متنوع برادریوں کی جن سے آپ واقف ہیں فہرست بنائیے۔ آپ کتنوں کو اپنی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں ، آپ کو فہرست میں اور کیا نظر آیا؟
اس سے قبل کہ ہم شہری علاقوں میں نظم و نسق کا جائزہ لیں۔ مجموعی طور پر دیہی سے لے کر قومی سطح تک ہندوستانی نظام حکومت کا جائزہ لینا ہمارے لیے مدد گار ہو گا جیسا کہ اس سلسلے میں صفحہ نمبر 175 پر شکل 12.2 میں دکھایا گیا ہے ۔ اہرام کی بنیاد مقامی سطح ہے جو عوام سے قریب تر ہوتی ہے جب کہ سب سے اوپر کا حصہ قومی سطح ہے۔ ہم نے اہرام کے بائیں حصے کا جائزہ لیا ہے۔ اب ہم اس کے دائیں حصے پر نظر ڈالیں گے۔
آئیے معلوم کریں
شہری مقامی ادارے
شہری علاقوں میں مقامی ڈھانچے کو، شہری مقامی ادارے کہا جاتا ہے۔ اُنھیں مرکزیت سے الگ رکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی اعلیٰ مرکزی ادارے کے تحت کام کرنے کے
بجائے اس بارے میں براہِ راست رائے دینے کا حق مقامی برادریوں کو حاصل ہو گا کہ اُن کے علاقوں کا انتظام کیسے سنبھالا جائے گا اور اُنھیں در پیش مسائل کیسے حل ہوں گے ۔ کسی ایک علاقے میں رہنے والے شہریوں کے لیے یہ ایک طریقہ کار ہے کہ ایک ساتھ آئیں اور فیصلہ کریں کہ ان کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔
شہروں اور قصبوں کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنھیں وارڈ یا حلقے کہتے ہیں اور وارڈ کمیٹیاں صحت کے کیمپوں کے انعقاد ، ایک بار کے استعمال والے پلاسٹک کے خلاف مہم جیسی سر گر میوں میں تعاون دیتی ہیں۔ یہ ہر اس چیز پر بھی نظر رکھتے ہیں جو غلط ہو سکتی ہیں ، مثلاً پانی کار ساؤ، بند ہونے والی نالی، خراب سڑک وغیرہ اور حکام کو اس طرح کے مسائل کی اطلاع دیتے ہیں۔ تاہم وارڈوں کا مخصوص طریقہ کار مختلف ریاستوں میں ان کے بنائے ضابطوں کے مطابق الگ الگ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر شہری بلدیاتی ادارے مختلف کاموں کے ذمے دار ہوتے ہیں مثلاً بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال ، قبرستان ، شمشان کی مرمت، کوڑا اٹھانا اور اس کی نکاسی ، سرکاری اسکیموں کے نفاذ کی جانچ ، مقامی ٹیکس اور جرمانے کی وصولی وغیرہ۔ ان کی ذمے داری کسی حد تک علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کی منصوبہ بندی بھی ہے۔ تاہم مؤثر طور پر ذمے داریاں نبھانے میں ان اداروں کی مدد کے لیے شہری باشندوں کو اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں جس کا مطلب یہ ہے انھیں اپنے علاقے
کی دیکھ بھال اور فکر مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ (واضح رہے کہ یہ شراکتی جمہوریت ہے )۔ مثلاً اگر لوگ فضلے کی چھنٹائی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں تو کوڑا اُٹھانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ یا اگر وہ کسی گلی میں پانی کا رساؤ دیکھتے ہیں ، تو اس کی فوری اطلاع دینے سے پانی جیسی قیمتی شے کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
شكل 12.3 مدراس کارپوریشن
مدراس کارپوریشن اب گریٹر چینی کار پوریشن)، جس کا قیام 29 ستمبر 1688 کو عمل میں آیا تھا، ہندوستان کا قدیم ترین بلدیاتی ادارہ ہے۔ اس سے ایک سال پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک میثاق یا چارٹر جاری کر کے فورٹ سینٹ جارج کے قصبے اور فورٹ سے 16 کلومیٹر کے اندر واقع علاقوں پر مشتمل ایک کارپوریشن کی تشکیل کی۔ 1792 میں ایک پارلیمانی ایکٹ نے مدراس کارپوریشن کو شہر میں بلدیاتی ٹیکس لگانے کا اختیار دیا۔ اسی وقت سے بلدیاتی انتظامیہ کی با ضابطہ ابتدا ہوئی۔
آئیے غور و فکر کریں
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ چنئی اور اندور کے شہری اداروں میں سب سے اوپر میونسپل کارپوریشن ہے۔ صرف 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سب سے بڑا ادارہ میونسپل کارپوریشن ( جسے مہا نگر نگم بھی کہا جاتا ہے ) ہوتا ہے۔ ایک لاکھ سے دس لاکھ آبادی والے علاقوں میں بڑا ادارہ میونسپل کونسل ( اسے نگر پالیکا بھی کہا جاتا ہے ) ہوتا ہے۔ زیادہ چھوٹی آبادی والے شہروں اور قصبوں میں نگر پنچایت ہوتی ہے۔
آئیے معلوم کریں
- اپنی ریاست اور چند پڑوسی ریاستوں سے کچھ شہر منتخب کیجیے ۔ ان میں وہ شہر شامل ہو سکتا ہے جس میں آپ رہتے ہیں یا وہ شہر جو آپ کے قصبے یا گاؤں سے قریب ترین ہو۔ آپ کیسے جائیں گے کہ ان میں کہاں کہاں نگر پنچایت، میونسپل کونسل یا میونسپل کارپوریشن ہے؟ شہروں کے ناموں اور ان میں سے ہر ایک میں موجود شہری مقامی ادارے کی قسم کا ایک جدول بنائیں۔
- شہری بلدیاتی ادارے اپنی سرگرمیوں کی مالی کفالت کیسے کرتے ہیں؟ (اشارہ : صفحہ 176 شكل 12.4 میں اندور میونسپل کارپوریشن کے ذریعے انجام دی گئی خدمات کی تصویروں کو غور سے دیکھیے) کیا ان میں سے بعض خدمات کے واجبات مقرر کیے گئے ہیں ؟
سمیر : ہیلو میں نے اس سے پہلے آپ کو یہاں نہیں دیکھا، کیا آپ اس گاؤں میں نئی ہیں ؟
انیتا: ہیلو جی میں یہاں اپنے نانا کے گھر آئی ہوں، جو یہیں قریب میں ہی رہتے ہیں۔ میرا تعلق شہر سے ہے وہ جگہ یہاں سے بالکل مختلف ہے۔
سمیر : اوہ ! واقعی ، شہر کیسا ہوتا ہے ؟
انیتا جی ! شہر میں مصروفیت اور بھیڑ بھاڑ زیادہ ہے۔ وہاں چاروں طرف بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ ہر وقت بہت
سے لوگ ادھر ادھر آتے جاتے رہتے ہیں۔ شہر میں یہاں کی خاموشی کے مقابلے میں شور زیادہ ہے۔ شہر میں لوگ زیادہ خود مختار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر وہ اپنے پڑوسیوں کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔
سمیر : اوہو ! یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے اور ہر وقت ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تیوہار مناتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک برادری کے طور پر مل جل کر فیصلے لیتے ہیں۔
انیتا : بہت خوب! شہروں میں اب بھی معاشرے کے تئیں احساس کی کچھ خوبی باقی ہے ۔ ابھی کل کی ہی بات ہے ، زبردست بارش کی وجہ سے دو گلی چھوڑ کر ایک مکان گر گیا۔ ملبے کو ہٹانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اندر پھنسا ہوا نہ ہو درجنوں لوگ مدد کے لیے جمع ہو گئے ۔
سمیر : کیا مقامی حکومت اس طرح کے معاملے میں کوئی مدد نہیں کرتی؟
انیا : ہاں کرتی ہے، بلکہ ہمارے یہاں بلدیاتی ادارے اور منتخب نمائندے ہیں جو ہماری اور ہمارے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سمیر : اچھا! یہ تو ہمارے گاؤں کی پنچایت جیسا لگتا ہے ۔ ہاں صرف اُس سے بڑا ہے۔ اس میں بھی اراکین منتخب کیے جاتے ہیں ، لیکن چوں کہ وہ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ اس لیے بہت زیادہ لوگ حصہ لے سکتے ہیں اور گاؤں سے متعلق ہر قسم کے مسائل پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ ہم بچوں کی باتیں بھی سنی جاتی ہیں۔
انیتا : واقعی ؟ آپ کچھ بڑھا چڑھا کر تو نہیں بتا رہے ہیں؟
سمیر : قطعاً نہیں ! کچھ دنوں پہلے کچھ بچوں نے دیکھا کہ بجلی کا ایک تار خطرناک حد تک نیچے لٹک کر ایک عمارت کی چھت کو تقریباً چھو رہا تھا۔ ہم لوگوں نے نہ صرف اس کی اطلاع دی بلکہ اپنے ایک گرام سبھا ممبر کو سمجھایا کہ بجلی کا کھمبا تھوڑا سا ہٹا دیا جائے اور یہ کام ہو گیا۔
انیتا : بہت خوب ! میرا خیال ہے کہ جمہوریت کو اسی طرح کام کرنا چاہیے۔ شہر میں یہ ذرا پیچیدہ لگتا ہے۔ لیکن خیال یکساں ہے کہ ہر آدمی کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔ سمیر : ہاں ! ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن معاف کیجیے اب مجھے جانا ہے۔ میری امی کو ذرا خریداری میں مدد کے لیے میری ضرورت ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ کہ شہر کے بارے میں آپ نے یہ باتیں بتائیں۔
انیتا : آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے مجھے گاؤں کے متعلق اہم باتیں بتائیں۔ میں اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کروں گی۔
سمیر : بہت شکریہ ! ممکن ہے ہم پھر دوبارہ ملیں۔ الوداع !
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- شہری علاقوں میں مرکزی حکومت شہری مقامی اداروں سے الگ کام کرتی ہے جو شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے مختلف فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔
- دیہی پس منظر میں ، شہری بلدیاتی اداروں میں ایسے اراکین منتخب ہوتے ہیں جو شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
- شہریوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بلدیاتی ادارے اپنی ذمے داریوں کو بہتر طریقے سے نبھائیں ۔
سوالات، سرگره سر گرمیاں اور پروجیکٹس
- اسکول جاتے ہوئے آپ اور آپ کے دوستوں نے دیکھا کہ پانی کا پائپ رس رہا ہے۔ رساؤ کی وجہ سے بہت سا پانی ضائع ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں آپ اور آپ کے دوست کیا کریں گے؟
- اپنے قریب کے شہری مقامی ادارے کے کسی رکن کو اپنی کلاس میں مدعو کیجیے۔ ان کے ساتھ ان کے کام اور ذمے داریوں پر بات چیت کیجیے۔ ان سے پوچھنے کے لیے سوالات کا ایک مجموعہ تیار کیجیے تا کہ ملاقات نتیجہ خیز ہو۔
- اپنے خاندان اور پڑوس کے بالغ افراد سے گفتگو کیجیے اور شہری مقامی اداروں سے ان کی توقعات کی فہرست بنائیے۔
- ایک اچھے شہری مقامی ادارے کی خصوصیات کی فہرست بنائیے۔
- دیہی علاقوں کے پنچایتی راج نظام اور شہری مقامی اداروں کے درمیان کیا مماثلتیں اور اختلافات ہیں ؟