باب 14
ہمارے آس پاس کی معاشی سرگرمیاں
(Economic Activities Around Us)
خوش حالی کی جڑ معاشی سرگرمی ہے، اس میں کمی مادی پریشانی لاتی ہے۔ نتیجه خیز معاشی سرگرمی کی کمی موجودہ خوش حالی اور مستقبل کی ترقی دونوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
-کوٹلیہ کا ارتھ شاستر
سوالات
- معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
- ان سرگرمیوں کے کیا اختیارات ہیں جن کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی شعبوں میں کی جاتی ہے؟
- یہ تینوں شعبی کس طرح باہم مربوط ہیں؟
تعارف (Introduction)
باب 13 میں ہم دو اقسام کی سرگرمیوں ۔ معاشی اور غیر معاشی سرگرمیوں کے بارے میں سیکھ چکے ہیں۔ وہ سر گر میاں جو مالی قدر پیدا کرتی ہیں انھیں معاشی سرگرمیاں کہتے ہیں۔ ہم نے غیر معاشی سرگرمیوں کی اہمیت کے بارے میں بھی سیکھا تھا۔ ان سرگرمیوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے ہم یہ سیکھیں گے کہ کس طرح معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو اس باب میں اُنھیں ممتاز کرتی ہے۔
مالی قدر :(Monetary) کسی چیز کی قدر جے پیسے کے اعتبار سے ناپا جا سکے۔
پچھلی دہائیوں میں معاشی سرگرمیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر لوگ کئی سر گرمیوں جیسے زراعت، مویشی پروری، اوزار سازی، مٹی کے برتن بنانا اور کپڑوں کی بنائی کے کام میں مصروف رہتے تھے۔ جوں جوں سماج میں ترقی ہوئی ان معاشی سرگرمیوں کی تعداد میں جن کے ذریعے لوگ روزی روٹی حاصل کرتے ہیں، بہت زیادہ اضافہ ہوا۔
آج مختلف معاشی سرگرمیاں ہیں جیسے کمپیوٹر، موبائل اور ڈرون سازی ، بینکوں ، اسکولوں اور ہوٹلوں میں کام کرنا، آمد ورفت کے لیے مختلف گاڑیوں کو چلانا، فرنیچر بنانا، مشینوں کے ذریعے کپڑوں کی سلائی، سافٹ ویئر بنانا، فرج اور کپڑے دھونے کی مشینوں کی مرمت وغیرہ۔ ان سب سرگرمیوں کی درجہ بندی سے ہم کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کس طرح یہ کام کرتے ہیں اور اُن کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔
معاشی سرگرمیوں کا معاشی شعبوں میں زمرہ بندی
(The Classification of Economic Activities into Economic Sectors)
بعض معاشی سرگرمیوں کی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں اور اس کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی ایک ساتھ بڑے گروپوں میں کی جاسکتی ہے۔ ان گروپوں کو سیکٹر یا معاشی شعبہ کہتے ہیں۔ معاشی شعبوں کی عام طور پر تین اقسام ہوتی ہیں۔ ابتدائی سیکٹر ، ثانوی سیکٹر اور درمیانی سیکٹر۔ ان شعبوں کی اہم سرگرمیوں کو صفحہ 197 پر دی گئی تصویروں میں دکھایا گیا ہے۔
A.ابتدائی سرگرمیاں (Primary Activities)
وہ معاشی سرگرمیاں جس میں لوگ اشیا کی پیداوار کے لیے براہ راست فطرت پر انحصار کرتے ہیں ابتدائی سیکٹر یا ابتدائی سیکٹر کی معاشی سرگرمیاں کہلاتی ہیں۔
)Primary Sectors( ابتدائی سیکٹر سرگرمیوں کا ایسا گروپ جس میں فطرت سے براہ راست خام مال نکالنا شامل ہے جیسے زراعت، ماہی گیری، جنگلات وغیرہ۔
اقتصادی شعبے :(Economic sectors) وسیع گروپ جس میں مختلف سر گر میاں شامل ہوتی ہیں اور جو کسی قسم کی معاشی خوش حالی میں مدد کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر ، زراعتی زمینوں سے اناج اور سبزیوں کی کاشت، جنگلات سے لکڑیاں اکٹھا کرنا، کانوں سے کوئلہ نکالنا، ماہی گیری کے مقامات سے مچھلیاں پکڑنا، پولٹری فارموں سے انڈے اٹھانا وغیرہ سبھی ابتدائی سیکٹر کی اقتصادی سرگرمیاں ہیں۔
عام ترین ابتدائی سرگرمیوں میں زراعت، کان کنی، ماہی گیری ، مویشی پروری، جنگل بانی وغیرہ آتی ہیں۔ ابتدائی سیکٹر کے اندر آنے والی سرگرمیوں کے کچھ اقسام درج ذیل ہیں۔
آئیے غور و فکر کریں
کیا آپ ایسی ابتدائی سر گرمیوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جنھیں آپ نے پہلے دیکھا ہے؟ ان سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے قدرتی وسائل کون سے ہیں؟ اُن میں سے کوئی دو نام لکھیے اور اپنے ہم جماعت طلبا کے سے دو ہم ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کیجیے۔
1.
2.
B. ثانوی سرگرمیاں (Secondary Activities)
وہ معاشی سرگرمیاں جن میں لوگ ابتدائی سیکٹر کی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں اور انھیں تبدیل کر کے مختلف اشیا تیار کرتے ہیں۔ انھیں ثانوی سرگرمیاں یا ثانوی سیکٹر کی اقتصادی سرگرمیاں کہتے ہیں۔ ثانوی سیکٹر میں عمارتوں، سڑکوں وغیرہ کی تعمیر اور پانی، بجلی، گیس جیسی ضروریات اور دیگر اشیا کی فراہمی شامل ہے۔ اس میں ابتدائی سیکٹر کے خام مال کو مشینی عمل سے گزار کر آگے بیچنے اور استعمال کی غرض سے کسی دوسری شکل میں لانے کے لیے کارخانوں اور پیداواری اکائیوں میں مصنوعات سازی بھی شامل ہے، جسے خرید و فروخت یا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ثانوی سیکٹر کی سرگرمیوں کی بعض مثالوں میں کھیتوں سے حاصل اناجوں سے ملوں میں آٹا تیار کرنے کے لیے مشینی عمل کاری، مونگ پھلی سے تیل نکالنا اور چائے حاصل کرنے کے لیے چائے کی پتیوں کی مشینی عمل کاری شامل ہیں۔ اسی طرح جنگلات سے حاصل کی گئی لکڑی کو فرنیچر اور کاغذ میں تبدیل کرنے، کپاس کا استعمال کپڑے کو بنانے میں اور کار ٹرک جیسی موٹر گاڑیاں بنانے کے لیے خام لوہے سے تیار کردہ اسٹیل وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ثانوی سیکٹر :(Secondary sector) ان سرگرمیوں کا مجموعہ جس میں ابتدائی سیکٹر سے حاصل خام اشیا کو فروخت یا استعمال کے لیے مشینی عمل سے گزارا جاتا ہے۔
اسے یاد رکھیں
| موٹر گاڑیوں کی اقسام | 2022 میں ہندوستان میں پیدا کردہ اکائیوں کی تعداد |
|---|---|
| مسافر موٹر گاڑیاں جیسے کاریں | 45 لاکھ |
| تجارتی موٹر گاڑیاں جیسے ٹرک | 10.3 لاکھ |
| تین پہیہ گاڑیاں | 8.6 لاکھ |
| دو پہیہ گاڑیاں | 2 کروڑ |
ماخذ : سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل مینو فیکچررس
https://www.siam.in/statistics.aspx?mpgid=8&pgidtrail=13
https://www.siam.in/statistics.aspx?mpgid=8&pgidtrail=13
آئیے معلوم کریں
ہم نے ثانوی سیکٹر کی سرگرمیوں کی کچھ مثالیں دیکھی ہیں۔ کیا آپ ثانوی سیکٹر کی دو مزید معاشی سر گر میاں بتا سکتے ہیں۔
1.
2.
C. ثالثی سرگرمیاں (Tertiary Activities)
وہ سبھی معاشی سرگرمیاں جو ابتدائی اور ثانوی سرگرمیوں میں شریک لوگوں کو سہارا دیتی ہیں اُنھیں ثالثی سرگرمیاں یا ثالثی سیکٹر کی معاشی سرگرمیاں کہتے ہیں۔ ان میں وہ خدمات شامل ہیں جنھیں ہم دیکھ نہیں سکتے ہیں لیکن پھر بھی وہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ٹرک ڈرائیور اناج اور سبزیوں کو کھیت سے کسی کار خانہ یا بازار تک پہنچاتا ہے۔
پھل یا سبزی فروش، گھریلو صارف کو زرعی پیداوار فروخت کرتا ہے۔ اسی طرح معالج، نرس، استاذ، وکیل اور پائلٹ ان لوگوں کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں جنھیں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ ٹیکنشین ہوتے ہیں جو الیکٹرانک چیزیں جیسے موبائل فون اور ٹیلی ویژن کی مرمت کرتے ہیں۔ مکینکس جو گاڑیوں جیسے کار اور ٹرک کی مرمت کرتے ہیں اور الیکٹریشین جو بجلی کی مستقل فراہمی کو یقینی بناتے ہیں، ان لوگوں کی خدمات، ہماری زندگیوں کو آسان بناتی ہیں۔ اسی طرح موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے مواصلاتی خدمات سافٹ ویئر تیار کرنا اور ہوٹلوں، ریستورانوں میں خدمات، بینک اسکول، اسپتال ، ہوائی اڈے ، دُکانوں اور مال گوداموں وغیرہ کی خدمات، یہ سب ثالثی سیکٹر کی معاشی سرگرمیوں کی مثالیں ہیں۔ اس سیکٹر کو سروس سیکٹر بھی کہتے ہیں۔
ثالثی سیکٹر :(Tertiary sector) ان سرگرمیوں کا مجموعہ ، جن کا تعلق ابتدائی اور ثانوی سیکٹروں کا تکملہ کرنے والی خدمات سے والی کے ہے جیسے نقل و حمل، بینک کاری، تجارت کا انتظام وانصرام وغیرہ۔
مال گودام :(Warehouses) وہ بڑی عمارت جو اشیا کو فروخت، استعمال کرنے دوکانوں کو کرائے پر دینے سے پہلے انھیں حفاظت کی غرض سے رکھا جاتا ہے۔
شعبوں کا باہمی انحصار
(Interdependence Among Sectors)
تینوں طرح کی معاشی سرگرمیاں یا معاشی سیکٹر ، قدرتی کچے مال کے آخری کھپت کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آیئے گجرات کے آنند ضلع میں واقع ایک گاؤں کی تصوراتی سیر کرتے ہیں اور ایک دل چسپ مثال کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے ہم جانیں گے کہ کس طرح یہ تینوں سیکٹر آپس میں مربوط ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔
ڈیری کو آپر ٹیو: کھیت سے پلیٹ تک
ان دنوں گجرات میں کسان صبح دودھ کی بالٹیوں کی کھنک سے اپنے بہترین دوستوں یعنی گایوں اور بھینسوں کا خوش ہو کر استقبال کرتے ہیں۔ کسان کی زندگیوں اور ان کے خاندانوں میں گایوں کی خاص اہمیت ہے۔ کسان گایوں کا دودھ نکال کر اُسے قریب کی ڈیری میں فروخت کرتے ہیں۔ مہینہ کے آخر میں اُنھیں دودھ کے معیار اور مقدار کی بنیاد پر رقم ادا کی جاتی ہے۔ حالاں کہ یہ صورت حال تقریباً 50 سال پہلے نہیں تھی۔
یہ حیرت انگیز کہانی آنند ملک یونین لمیٹڈ (امول Amul) کی ہے۔ 1940 کی دہائی کی شروعات میں آنند ضلع کے کسان قرب وجوار کے گاؤں میں دودھ فروخت کیا کرتے تھے۔ وہ دودھ بیچنے کے لیے سائیکل یا پیدل جھلسا دینی والی گرمی میں قریب کے گاؤں میں جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گرم موسم میں دودھ اور دہی بہت جلد خراب ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ دودھ خراب ہو جائے بہت جلد ہی کسان اُسے فروخت کر دیتے تھے۔ اتنی زیادہ محنت کرنے پر انھیں بہت کم رقم ملتی تھی۔ اس لیے وہ ان لوگوں پر انحصار کرتے تھے جسے ثالث (بچولیا) کہتے ہیں۔ وہ کسانوں سے دودھ بڑی مقدار میں معمولی قیمت پر خریدتے اور اُسے بازار میں فروخت کرتے تھے۔ کئی مرتبہ کسان بچولیوں کی وجہ سے دھو کہ یا ہر اساں محسوس کرتے تھے۔
lڈیری :(Dairy) وہ جگہ جہاں دودھ کو جمع کرکے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
ایک دن کسانوں نے اجتماعی طور پر ممتاز قومی رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سامنے اپنے مسائل رکھے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ وہ خود مختار بننے کے لیے ایک کو آپریٹیو (Cooperative) کی تشکیل کریں اور بچولیوں پر انحصار کرنا چھوڑ دیں۔ ایک کو آپریٹیو کی حیثیت سے کسان ایک گروپ کی شکل میں دودھ کی خرید و فروخت کر سکیں گے اور دودھ اکٹھا کرنے، اُسے مشین سے گزارنے اور اُس کی تقسیم کی دیکھ بھال وہ خود کریں گے۔ کسانوں نے سردار پٹیل کے مشورے پر عمل کیا۔
امول (Amul) تری بھون داس پٹیل (وکیل اور مجاہد آزادی) اور ڈاکٹرور گیز کورین ایک انجینئر جو ممبئی کے ایک ڈیری کار خانے میں کام کرتے تھے) کی قیادت میں 1946 میں قائم ہوا۔
امداد باہمی تنظیم :(Cooperative) ایسے لوگوں کا گروہ جو رضا کارانہ طور پر یک جا ہو کر ایک رسمی طریقے سے اپنی معاشی اور سماجی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وہ کو آپر ٹیو کے مالک ہوتے ہیں اور وہی ممبران اجتماعی طور پر فیصلے کرتے ہیں۔
تطهیر :(Pasteurisation) ایک ایسا عمل جس کے ذریعے دودھ کو محفوظ کرنے کے لیے کرنے کے لیے مخصوص درجہ حرارت پر گرم کر کے نقصان دہ بیکٹریا کو مار جاتا ہے۔
کارخانه / فیکٹری :(Factory) وہ عمارت یا عمارتوں کا مجموعہ جہاں مصنوعات تیار کی جاتی ہیں یا حتمی شکل میں کوئی چیز بنانے کے لیے مختلف اجزا کو باہم ملایا جاتا ہے۔
)Retail( خرده دوبارہ فروخت کے بجائے آخری صارف کے استعمال کے لیے سامانوں کا چھوٹی مقدار میں فروخت
)Export( برآمد مصنوعات اور خدمات جو ایک ملک میں پیدا کی جائیں اور کسی دوسرے ملک میں خرید اروں یا صارفوں کو فروخت کی جائیں۔
اس پہل سے کسان جس میں عورتیں بھی شامل ہیں ایک دوسرے کے قریب آئے اور انھیں پیداوار اور فروخت کا اختیار ملا۔ دودھ کے پیدا کاروں کو اجتماعی طور پر دودھ کی پاسچری اور فروخت سے متعلق تمام فیصلے لینے کی ذمے داریوں میں سب نے اشتراک کیا جس سے اُن کی آمدنی کے بہ تدریج اضافے میں مدد ملی۔ اب انھیں کسی بچولیے کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایک بڑے خاندان کی طرح ہو گئے۔
جوں جوں کسانوں کو کو آپریٹو کے فائدے نظر آنے لگے وہ ساتھ میں جڑتے چلے گئے۔ اکٹھا کی جانے والی دودھ کی مقدار اتنی زیادہ ہو گئی کہ اب کسانوں نے فیصلہ لیا کہ اس سے دیگر اشیا بنائی جائیں۔ انھوں نے آنند میں ایک کارخانہ لگا کر مکھن اور دودھ کا پاؤڈر بنانا شروع کر دیا۔
آج کو آپریٹو کے پاس پورے ہندوستان میں بہت سے دودھ پروسیسنگ پلانٹس اور کارخانوں میں تیار کردہ مصنوعات کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔ کیا آپ ان میں سے کچھ کے نام بتا سکتے ہیں ؟ پھر ان اشیا کو ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے پھٹکر دکانوں میں پہنچایا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ در اصل وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی اپنی مصنوعات بر آمد کرتے ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟
اس دل چسپ کہانی میں اس دودھ کو آپریٹو کے کسان اپنی گایوں کو دوہتے اور دودھ فروخت کرتے ہیں ۔ اس طرح کی معاشی سرگرمیوں کو بنیادی سیکٹر کی معاشی سرگرمی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ پیداوار ( دودھ ) براہ راست قدرتی وسیلے ( گایوں / مویشیوں ) سے حاصل کی جاتی ہے۔
تب کارخانوں میں دودھ کو مشینی عمل کاری کے ذریعے ایک شکل سے دوسری شکل مثلاً دودھ پاؤڈر، گھی اور دیگر کئی چیزوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان معاشی سرگرمیوں کو ثانوی سیکٹر کی معاشی سرگرمیاں کہتے ہیں۔
امول (Amul) اپنی تیار کردہ سبھی اشیا / مصنوعات کا کیا کرتا ہے ؟ وہ اُنھیں مختلف جگہوں پر فروخت کرتا ہے۔ امول (Amul) اپنے مصنوعات / اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے گاڑیوں، ٹرکوں، ریلوے ، ہوائی اور بحری جہازوں کا استعمال کرتا ہے۔ اس نے خُردہ فروشی کے اسٹور قائم کیے ہیں اور دودھ اور اس سے بنی اشیا کو پورے گجرات اور ہندوستان کی تمام ریاستوں کے شہروں، قصبوں اور گاؤوں میں فراہم کرتا ہے۔ یہاں نقل و حمل، تجارت اور خردہ فروشی ایک ثالثی سرگرمی ہے۔
اسے یاد رکھیں
درج ذیل تصویروں کی مدد سے آیئے دیکھیں جو کتابیں ہم آپ پڑھتے ہیں وہ کیسے بنتی ہیں۔ تصویریں یہ دکھاتی ہیں کہ گودا ( ایک درخت کی لکڑی کا ریشہ ) کاغذ اور چھپائی کے بعد درسی کتابوں میں تبدیل ہوتا ہے۔
اگر تینوں شعبے یا سیکٹرز آپس میں مل کر کام نہ کریں تو درختوں سے گودا کشید کرنے سے لے کر کاغذ سازی اور آخر کار کتابوں کی طباعت تک عمل کا حصہ بننے والی کوئی بھی سر گرمی ممکن نہ ہوتی۔
آئے غور و فکر کریں
آئیے معلوم کریں
صفحہ 206 کی شکل 14.1 میں دکھائے گئے السٹریشن کی تصویروں پر لیبل لگائیں
1. ابتدائی سیکٹر
2. ثانوی سیکٹر
3. ثالثی سیکٹر
اسے یاد رکھیں
ان دنوں ، استعمال شدہ کاغذ کو نیا کاغذ بنانے کے لیے ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ صرف ایک ٹن کاغذ کو ری سائیکل کرنے سے 17 درختوں کے ساتھ ساتھ 5-2 کیوبک میٹر لینڈ فل جگہ کی بچت ہوتی ہے ، جہاں فضلہ پھینکا جاتا ہے۔ لکڑی کے گودے سے نیا کاغذ بنانے کے مقابلے کاغذ کو ری سائیکل کرنے میں 70 فیصد کم توانائی اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آئیے معلوم کریں
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- اس باب میں ہم نے معاشی سرگرمیوں کے تینوں سیکٹر کے بارے میں سیکھا۔
- مختلف مثالوں اور تصاویر نے آپسی فرق اور ساتھ ہی تین قسموں کی معاشی سرگرمیوں یا شعبوں ، ابتدائی، ثانوی اور ثالثی کے بیچ باہمی انحصار کو سمجھنے میں مدد کی۔
سوالات، سرگرمیاں اور پروجیکٹس
- ابتدائی سیکٹر کیا ہے ؟ یہ کس طرح ثانوی سیکٹر سے مختلف ہے ؟ دو مثالیں دیجیے۔
- کس طرح ثانوی سیکٹر درمیانی سیکٹر پر منحصر ہے ؟ کچھ مثالیں دے کر سمجھائیے۔
- ابتدائی، ثانوی اور ثالثی سیکٹر کے باہمی انحصار کی کوئی مثال دیجیے۔ اسے ایک فلو ڈا ئیگرام (Flow diagram) کا استعمال کرتے ہوئے دکھائیے۔