2
خطوط اور زاویے
(Lines and Angles)
اس باب میں ہم جیومیٹری کے بنیادی تصورات جیسے نقطے، خطوط، عمودی لکیریں (Rays) ، قطع خطوط اور زاویوں کا جائزہ لیں گے۔ یہ تصورات مستوی جیومیٹری (Plane Geometry) کے بلڈ نگ بلاکوں کی تشکیل کرتے ہیں اور جیومیٹری کے مزید اعلیٰ موضوعات جیسے کہ مختلف شکلوں کی تشکیل اور تجزیے کو سمجھنے میں ہماری مدد کریں گے۔
2.1 نقطه
پنسل کی نوک سے ایک کاغذ پر ایک نقطہ (Dot) لگائیے۔ پنسل کی نوک جتنی باریک ہو گی، نقطہ اتناہی باریک ہو گا۔ یہ چھوٹا نقطہ آپ کو ایک نقطے کا تصور دے گا۔ کوئی نقطہ کسی متعینہ مقام کی نشان دہی کرتا ہے لیکن اس کی کوئی لمبائی، چوڑائی یا اونچائی نہیں ہوتی۔ ذیل میں نقطہ کے کچھ نمونے دیے گئے ہیں۔
سوئی کانو کیلا سرا پنسل کی تراشی ہوئی نوک پر کار کی نوک اگر آپ کسی کاغذ پر تین نقطے لگائیں تو آپ کو ان تینوں نقطوں کے درمیان فرق کرنے ! کی ضرورت پڑے گی۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر نقطہ کو الگ الگ انگریزی کے بڑے حرف
P Z اور T سے ظاہر کر سکتے ہیں۔ ان نقطوں کو ، نقطہ Z ، نقطہ P اور نقطہ T کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ یقینا، یہ نقطے مخصوص مقامات کی نمائندگی کرتے ہیں اور انھیں بہت باریک اور غیر مرئی تصور کیا جاتا ہے۔
2.2 قطع خط
ایک کاغذ کو موڑ کر پھر کھول دیجیے۔ کیا آپ کو کوئی شکن نظر آتی ہے؟ اس سے قطع خط کے تصور کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں دو سرے ہوتے ہیں، A اور B۔ کاغذ کے کسی ٹکڑے پر دو نقطے A اور B کے نشان لگائیے۔ A اور B کو مختلف راستوں سے ملانے کی کوشش کیجیے۔ (شکل 2.1)
BA تک سب سے مختصر راستہ کون سا ہے؟ یہاں دکھایا گیا سب سے چھوٹا راستہ (جس میں A اور B بھی شامل ہیں) ایک قطع خط ہے۔ اس کو AB یا BA سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ نقطے A اور B قطع خط AB کے میرے کے نقطے (End Points) کہلاتے ہیں۔
2.3 خط
تصور کیجیے کہ A سے B تک قطع خط ( یعنی (AB) کو ایک سمت میں A سے آگے بڑھایا جائے اور دوسری سمت میں B سے آگے بڑھایا جائے اور اس میں کوئی سرا نہ ہو۔ (شکل 2.2 دیکھیے ) یہ ایک خط کا ماڈل ہے ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک مکمل خط کی تصویر بنا سکتے ہیں؟ نہیں، کیوں؟
دو نقطوں A اور B سے گذرنے والے خط کو AB لکھا جاتا ہے۔ اس کو دونوں طرف سے ہمیشہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھی خط کو 1 یا m جیسے حروف سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ m B 2.2 شکل غور کیجیے کہ کسی خط کو بنانے کے لیے دوہی نقطے کافی ہوتے ہیں اور ان دو نقطوں سے ایک منفر د خط بنتا ہے۔
2.4 عمودی لکیر
عمودی لکیر (Ray)، خط کا ایک حصہ ہوتی ہے جو ایک نقطہ سے شروع ہوتی ہے (جسے ہم عمودی لکیر کا شروعاتی نقطہ یا ابتدائی نقطہ کہتے ہیں) اور آگے کسی سمت میں لامحدود طور پر بڑھتی رہتی ہے۔ ذیل میں عمودی لکیر کے کچھ ماڈل دیے گئے ہیں:
عمودی لکیر کے ڈائی گرام کو (شکل 2.3) دیکھیے۔ اس پر دو نقطے نشان زد کیے گئے ہیں۔ ایک شروعاتی نقطہ A ہے اور دوسرا نقطہ P ہے جو عمودی لکیر کے راستے پر ہے۔ ہم اس عمودی لکیر کو AP سے ظاہر کرتے ہیں۔
معلوم کیجیے
شیل نے کسی کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دو نقطے بنائے ہیں۔ ان دو نقطوں سے گزرتے ہوئے وہ کتنے مختلف خطوط کھینچ سکتی ہے؟
کیا آپ ان کے جوابات تلاش کرنے میں ریحان اور شیتل کی مدد کر سکتے ہیں؟
2 شکل 2.4 میں دکھائے گئے قطع خطوط کو نام دیجیے۔ پانچوں نشان زد نقطوں میں سے کون سے نقطے دیے ہوئے قطع خطوط میں سے کسی ایک قطع خط پر مکمل طور سے ہیں؟ قطع خطوط کے وہ دو نقطے کون سے ہیں؟
3 شکل 2.5 میں دکھائی گئیں عمودی لکیروں کے نام بتائیے ۔ کیا T ہر ایک عمودی لکیر کا شروعاتی نقطہ ہے؟
4 ایک رف (Rough) شکل بنائیے اور صحیح طریقے سے انھیں نام دیجیے تا کہ مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک کی وضاحت ہو : .a .C OP اور 6 نقطہ '' پر ملتے ہیں۔ اور PQ نقطہ M پر قطع کرتے ہیں۔ نقطے E اور F خط پر واقع ہیں لیکن نقطہ D نہیں ہے۔ نقطہ AB P پر واقع ہے۔
5 شکل 2.6 میں مندرجہ ذیل نام بتائیے :
- پانچ نقطے
- ایک خط
- چار عمودی لکیریں
- پانچ قطع خطوط کے
6 یہاں ایک عمودی لکیر ہے ( شکل (2.7)۔ یہ '' سے شروع ہوتی ہے اور نقطہ A سے گزرتی ہے۔ یہ نقطہ B سے بھی گزرتی ہے۔
- کیا آپ اس کو OB نام بھی دے سکتے ہیں؟ کیوں؟
- کیا ہم OA کو AD لکھ سکتے ہیں؟ کیوں اور کیوں نہیں؟
2.5 زاویه(Angle)
ایک زاویہ دو عمودی لکیروں سے مل کر بنا ہے جن کا شروعاتی نقطہ مشترک ہے۔ یہاں ایک زاویہ ہے جو عمودی لکیریں BD اور BE سے بنا ہے جہاں B مشترک شروعاتی نقطہ ہے (شکل 2.8)۔ E نقطه B زاویہ کا راس (Vertex) کہلاتا ہے اور عمودی لکیر BD
سکتے ہیں؟ ہم صرف راس کو استعمال کر سکتے ہیں اور اسے زاویہ B کہہ سکتے ہیں۔ زاویے کے نام کو بتانے کے لیے اور اس بات کو واضحکرنے کے لیے ہم راس کے ساتھ زاویے کے ہر بازو پر ایک ایک نقطہ لگائیں گے۔ اس صورت حال میں اس زاویہ کو ہم زاویہ DBE یا زاویہ EBD سے مخاطب کریں گے۔ لفظ زاویہ کو ہم علامت دے سے بدل سکتے ہیں، یعنی DBE کے یا EBD ۔ یہ بات دھیان میں رہے کہ زاویہ کو ظاہر کرنے میں راس کو ہمیشہ درمیانی حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔
زاویہ کی نشان دہی کرنے کے لیے راس پر ایک چھوٹی منحنی (Curve) کا استعمال کرتے ہیں۔ (شکل 2.9)۔ وڈیا نے ابھی اپنی کتاب کھولی ہے۔ آئیے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ کتاب کی جلد کو کتنے مختلف مناظر میں کھولتی ہے۔
کیا آپ ان میں سے ہر صورت میں بنائے گئے زاویوں کو دیکھتے ہیں؟ کیا آپ ان زاویوں کے راس اور بازوؤں کی نشان دہی کر سکتے ہیں؟
کون ساز او یہ نسبتا بڑا ہے۔ صورت حال 1 کا زاویہ یا صورت حال 2 کا زاویہ ؟ جس طرح ہم خط کی لمبائی کی بنیاد پر اس کے سائز کے بارے میں بات کرتے ہیں، ویسے ہی ہم زاویوں کے سائز کی بات اس کی گردش محوری (Rotation) کی مقدار کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
اس لیے صورت حال 2 کا زاویہ نسبتا بڑا ہے جیسا کہ اس صورت حال میں وڈیا کو ضرورت ہے کہ اس جلد کو زیادہ گھمائے۔ اسی طرح صورت حال 3 کا زاویہ صورت حال 2 سے بھی بڑا ہے، کیوں کہ اس میں اور زیادہ گردش عودی ہے، اور حالت 4، 5 اور 6 مسلسل اسی طرح گردش عودی بڑھنے کے ساتھ اور بڑے زاویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
گھماؤ کی مقدار زاویے کی جسامت ہے۔
عمودی لکیر کی ابتدائی حالت
آئیے ہم ایسی کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں جہاں حقیقی زندگی میں گردش محوری یا گھماؤ سے زاویوں کی تشکیل ہوتی ہے : پر کار یا ڈیوائیڈر میں، ہم بازوؤں کو گھما کر ایک زاویہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان کا راس وہ ہوتا
پر کار یا ڈیوائیڈر میں، ہم بازوؤں کو گھما کر ایک زاویہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان کا راس وہ ہوتا ہے جہاں دونوں بازو ملتے ہیں۔ زاویہ کے بازوؤں اور راس کی شناخت کیجیے۔
ہے جہاں دونوں بازو ملتے ہیں۔ زاویہ کے بازوؤں اور راس کی شناخت کیجیے۔ ایک قینچی کے دو بلیڈ ہوتے ہیں۔ جب ہم کوئی چیز کاٹنے کے لیے انھیں کھولتے (یا گھماتے) ہیں تو اس کے دونوں بلیڈ ایک زاویہ بناتے ہیں۔ بازوؤں اور ر اس کی شناخت کیجیے۔عینک ، بٹوہ اور دوسری عام اشیا کی تصویروں کو دیکھیے۔ بازوؤں اور راسوں کو نشان زد کرتے ہوئے زاویوں کی شناخت کیجیے۔
کیا آپ دیکھتے ہیں کہ کیسے ایک بازو کو دوسرے بازوؤں کی مناسبت سے موڑ کر یہ زاویے بنتے ہیں؟
استاد کے لیے نوٹ
اساتذہ کو طلبا کے ساتھ مل کر کچھ سرگرمیاں انجام دینی چاہیے۔ تا کہ وہ زاویے کے سائز کو گردش عودی کی مقدار کے طور پر پہچان سکیں۔
1 کیا آپ ذیل میں دی گئی تصویروں میں زاویے معلوم کر سکتے ہیں؟ ان میں سے کوئی ایک زاویہ بنانے والی عمودی لکیروں کو نشان زد کیجیے اور زاویہ کے راس کا نام بتائیے۔
2. ST اور SR بازوؤں کا ایک زاویہ بنائیے اور اس کو لیبل کیجیے۔
3. APC کو P کیوں نہیں لکھا جا سکتا، وضاحت کیجیے۔
4. درج ذیل تصویر میں نشان زد کیے گئے زاویوں کے نام لکھیے۔
5 کاغذ پر تین ایسے نقطے نشان زد کیجیے جو ایک خط پر نہ ہوں۔ ان کو B ،A اور C سے لیبل کیجیے۔ ان نقطوں کے جوڑوں سے گذرتے ہوئے تمام ممکنہ خطوط کھینچیے۔ آپ کو کتنے خطوط حاصل ہوئے؟ ان کے نام لکھیے۔ آپ C، B ،A کو استعمال کرتے ہوئے کتنے زاویوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ ان کو لکھیے اور ان میں ہر ایک کو ایک منحنی سے نشان زد کیجیے جس طرح شکل 2.9 میں دکھایا گیا ہے۔
6. اب آپ اپنے کاغذ پر کوئی ایسے چار نقطے نشان زد کیجیے جن میں سے تین ایک خط میں نہ ہوں۔ ان کو C، B، A اور D سے لیبل کیجیے۔ ان نقطوں کے جوڑوں سے گزرتے ہوئے تمام ممکنہ خطوط کھینچیے۔ آپ کو کتنے خطوط حاصل ہوتے ہیں؟ ان کے نام بتائیے۔ C، B ، A اور D کو استعمال کرتے ہوئے آپ کتنے زاویوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ ان تمام کو لکھیے اور ان میں سے ہر ایک کو سختی سے نشان زد کیجیے۔ جیسا کہ شکل 2.9 میں دکھایا گیا ہے۔
2.6 زاویوں کا موازنہ
ان جانوروں کو منھ کھولتے ہوئے دیکھیے۔ کیا آپ یہاں کوئی زاویہ دیکھتے ہیں؟ اگر ہاں، تو ہر ایک کے راس اور بازوؤں کو نشان زد کیجیے۔ کچھ منھ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کھلتے ہیں، جبڑے جتنے زیادہ کھلیں گے، زاویہ اتنا ہی بڑا ہو گا، کیا آپ ان زاویوں کو سب سے چھوٹے سے سب سے بڑے کی ترتیب میں لکھ سکتے ہیں؟
انطباق (Superimposition) کے ذریعے زاویوں کا موازنہ کسی بھی دو زاویوں کا ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر موازنہ کیا جاسکتا ہے یعنی انطباق کے ذریعے۔ انطباق کرتے وقت دونوں زاویوں کے راس بالکل ایک دوسرے کے اوپر ہوں۔ انطباق کے بعد یہ صاف ہو جاتا ہے کہ کون ساز او یہ چھوٹا ہے اور کون سا بڑا ہے۔
تصویر میں دوز او مین طبق ہیں۔ اب یہ صاف ہو گیا کہ PQR کے سے ABC کے بڑا ہے۔
مساوی زاویہ (Equal angle). اب آپ شکل میں AOB اور XOYے پر غور کریں۔ ان میں کون سا بڑا ہے؟
ان دونوں زاویوں کے کونے (راس) اور دونوں بازو بالکل ایک دوسرے کو ڈھک رہے ہیں۔ یعنی OX OA اور OYOB۔ اس لیے یہ زاویے جسامت میں مساوی ہیں۔
یہ زاویے پیمائش میں برابر ہیں، کیوں کہ جب ہم گردش محوری سے بننے والے ہر ایک زاویہ کو دیکھتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ OB سے OA تک حرکت کرنے اور or سے Ox تک حرکت کرنے میں گردش محوری کی ضروری مقدار برابر ہے۔
انطباق کے نظریہ سے جب دو زاویے ایک دوسرے پر منطبق ہوتے ہیں تو دونوں زاویوں کا مشترک راس اور دونوں بازو ٹھیک ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ تب
زاویوں کی پیمائش برابر ہوتی ہے۔
ہم کہاں کہاں موازنہ کے لیے انطباق کا استعمال کرتے ہیں؟
معلوم کیجیے
1 ایک مستطیل نما کاغذ کے ٹکڑے کو موڑیے۔ پھر بنی ہوئی کریز کے ہمراہ ایک خط کھینچے مستطیل سیٹ کے کنارے اور موڑ کے درمیان بننے والے زاویوں کو نام دیجیے اور ان کا موازنہ کیجیے کسی مستطیل کاغذ کی شیٹ کو موڑ کر مختلف زاویے بنائیے اور ان کا موازنہ کیجیے۔ آپ کے ذریعے بنائے گئے زاویوں میں کون ساز اد یہ سب سے بڑا ہے اور کون سا سب سے چھوٹا؟ 2 ہر حالت میں کون سازاد یہ بڑا ہے اور کیوں، معلوم کیجیے۔
- ∠XOY ∠AOB
- ∠XOB ∠AOB
- ∠XOC ∠XOB
3 کون ساز او یہ بڑا ہے۔ XOY یا AOB ؟ وجہ بتائیے؟ انطباق کے بغیر زاویوں کا موازنہ دو ہنس آپس میں بحث کر رہے ہیں کہ کون اپنا منھ
دو ہنس آپس میں بحث کر رہے ہیں کہ کون اپنا منھ زیادہ کھول سکتا ہے، یعنی دونوں میں کون بڑا زاویہ بناتا ہے۔
آیئے ہم پہلے ان کے زاویے بناتے ہیں۔ ہم کیسے جانیں گے کہ کون سا زاویہ بڑا ہے؟ جیسے پہلے دیکھا گیا، ہم ان دونوں زاویوں کو بنا کر انطباق کے ذریعے جانچ کر سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہم بغیر انطباق کے موازنہ کر سکتے ہیں؟ فرض کیجیے ہمارے پاس ایک شفاف دائرہ ہے۔ جس کو ہم حرکت دے سکتے ہیں اور مختلف شکلوں پر رکھ سکتے ہیں۔ کیا ہم موازنہ کرنے کے لیے اس کا استعمال کر سکتے ہیں؟ آیئے ہم دائروی کاغذ کو پہلے ہنس کے ذریعے بنائے گئے زاویہ پر رکھتے ہیں۔ دائرہ کو زاویہ پر اس طرح رکھتے ہیں کہ اس کا مرکز
کیا ہم اس کا استعمال کر کے معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ زاویہ دوسرے ہنس کے زاویے سے بڑا ہے، مساوی ہے یا چھوٹا ہے؟ آپ اس دائرہ کو دوسرے زاویے پر اس طرح رکھیں کہ اس کار اس دائرہ کے مرکز پر منطبق ہو اور اس کا ایک بازو OA سے B. Y 0 AX ہو کر گزرے۔
اگر آپ ایک شفاف دائروی کاغذ کی شیٹ بنا سکیں تو اس طریقہ سے شکل 10. 2 میں دیے گئے زاویوں کا موازنہ ایک دوسرے سے کرنے کی کوشش کیجیے۔
استاد کے لیے بیضروری ہے کہ وہ زاویہ کے تصور سے تعلق طلبا کی تفہیم کی جانچ کرے طلبا کبھی کبھی سوچ سکتے ہیں کہ زاویہ کے بازوؤں کی لمبائی بڑھانے سے زاویہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مسئلہ کے لیے طلبا کے سامنے مختلف حالات رکھے جانے چاہیے جن سے اس تصور پر ان کی تفہیم کی جانچ ہو سکے۔
2.7 گردشی باز و بنانا
آیئے ، ہم مندرجہ ذیل اقدامات کو اپناتے ہوئے ، دو کاغذ کی اسٹر از (Straws) اور ایک کاغذ کلپ کو لے کر گردشی بازو بنائیں:
1 کاغذ کے دو اسٹر از اور ایک کلپ لیجیے۔
2 دونوں اسٹراز کو کاغذ کے کلپ میں داخل کیجیے۔
3 آپ کا گردشی باز و تیار ہے !
بازوؤں کے درمیان مختلف زاویوں سے کچھ گردشی بازو بنائیے موازنہ کرتے ہوئے اور انطباق کے عمل کو استعمال کرتے
ہوئے آپ کے ذریعے بنائے گئے زاویوں کو سب سے چھوٹے سے سب سے بڑے کی ترتیب میں لگائیے۔ ورہ سے گذرتے ہوئے: مختلف زاویوں والے گردشی بازوؤں کو اکٹھا کیجیے، اس سرگرمی کے دوران گردشی بازوؤں کو نہ گھمائیے۔
ایک گتہ لیجیے اور اس میں گردشی بازو کی شکل کو معلوم کرتے ہوئے اور کاٹتے ہوئے ایک زاویائی شکل کی درہ بنائیے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
اب تمام گردشی بازوؤں کو ہلا کر ایک ساتھ ملادیجیے۔ کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ کون سا گردشی باز و دڑے سے گزرے گا؟ گردشی بازوؤں کو درے پر رکھ کر صحیح جواب معلوم کیا جاسکتا ہے۔ آئیے ہم اس عمل کو دوسرے گردشی بازوؤں کے ساتھ کرتے ہیں۔
2.8 مخصوص قسم کے زاویے
آیئے ہم وڈیا کی کاپی کی طرف واپس چلتے ہیں۔ آئیے ہم مختلف حالتوں میں اس کے ذریعے کتاب کی جلد کو کھولنے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جب کتاب کو پکڑے ہوئے اسے لکھنا ہوتا ہے تو وہ کتاب کی جلد کو پوری طرح گھما لیتی ہے۔
جب وہ کھلی ہوئی کتاب کو میز پر رکھتی ہے تو کتاب کی جلد کو آدھا گھماتی ہے۔ اس صورت حال میں بنے ہوئے زاویوں کے بازوؤں کا مشاہدہ کیجیے۔ یہ ایک افقی خط میں ہوتے ہیں۔ ایسا زاویہ، زاویہ متقی کہلاتا ہے۔
آئیے ہم ایک زاویہ تقیم LAOB پر غور کرتے ہیں۔ دیکھیے کہ کوئی عمودی لکیر DC اس زاویے کو دوزاویوں، AOC اور COB میں تقسیم کرتی ہے۔
کیا ممکن ہے کہ OC کو اس طرح کھینچا جائے کہ دونوں زاویے سائز میں ایک دوسرے کے برابر ہوں؟
آیئے ہم معلوم کرتے ہیں
کاغذ کے ایک ٹکڑے کا استعمال کرتے ہوئے ہم اس مسئلے کا حل معلوم کر سکتے ہیں۔ یاد کیجیے، جب کاغذ کو موڑا جاتا ہے تو ایک کریز بن جاتی ہے، جو سیدھی ہوتی ہے۔
مستطیل نما کاغذ کا ایک ٹکڑا لیجیے اور اس کی ایک سطح پر زاویہ مستقیم LAOB نشان زد کیجیے۔ اس کاغذ کو موڑ کر ایک ایسا خط ( کریز ) حاصل کیجیے جوں سے گزرتے ہوئے AOB کو دو برابر زاویوں میں تقسیم کر دے۔
یہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
اس کاغذ کو اس طرح موڑیے کہ OA OB کو پوری طرح منطبق کرلے۔ کریز اور دو بننے والے زاویوں کا مشاہدہ کیجیے۔
وضاحت کیجیے کہ دونوں زاویے برابر کیوں ہیں۔ کیا انطباق کے طریقے سے اس کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ کیا کاغذ کو موڑ نے سے یہ انطباق ہو سکتا ہے؟
ان بننے والے برابر زاویوں میں سے ہر ایک کو زاویہ قائمہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح ایک زاویہ متقیم میں دو زاویہ قائمہ موجود ہوتے ہیں۔
اگر ایک زاو میر تقیم کسی چیز کو محور پر آدھا گھمانے سے بنتا ہے تو زاویہ قائمہ محور پر کتنا گھمانے سے بنے گا؟
دیکھیے کہ زاویہ قائمہ '' سے مشابہ ہے۔ ایک زاویہ بھی صرف زاویہ قائمہ ہوتا ہے جب وہ زاویہ مستقیم کا ٹھیک آدھا ہو۔ دو
خطوط جو ایک دوسرے سے زاویہ قائمہ پر ملتے ہیں ، عمودی خطوط (Perpendicular lines) کہلاتے ہیں۔
معلوم کیجیے
1. آپ کے کلاس روم کی کھڑ کی میں کتنے زاویہ قائمہ ہیں؟ کیا آپ اپنے کلاس روم میں کہیں اور بھی زاویہ قائمہ دیکھتے ہیں؟
4.
کاغذ پر ایک ترچھی کریز بنائیے۔ اب ایک ایسی دوسری کریز بنانے کی کوشش کیجیے جو اس ترچھی کریز پر عمودی ہو۔
- اب آپ کے پاس کتنے زاویہ قائمہ ہیں ؟ تصدیق کیجیے کہ یہ زاویے کیوں بالکل زاویہ قائمہ ہیں۔
- وضاحت کیجیے کہ آپ کاغذ کو کیسے موڑیں گے کہ کوئی دوسرا شخص جو اس عمل کو نہ جانتا ہو وہ آپ کی وضاحت کو اپناتے ہوئے زاویہ قائمہ کو اس عمل سے سمجھ سکے۔
جیسا کہ درج ذیل میں دکھایا گیا ہے، زاویے تین گروپ میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ سبھی زاویہ قائمہ دوسرے گروپ میں دکھائے گئے ہیں۔ باقی دو گروپوں میں کیا خصوصیت یکساں ہو سکتی ہے؟
پہلے گروپ میں سبھی زاویے، زاویہ قائمہ سے کم ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ چوتھائی دائرے سے کم ہیں۔ ایسے زاویے زاویہ حادہ
(Acute angles) کہلاتے ہیں۔
تیسرے گروپ میں سبھی زاویے زاویہ قائمہ سے زیادہ ہیں مگر مستقیم زاویے سے کم ہیں۔ اس میں گھماؤ چو تھائی دائرے سے زیادہ ہے اور آدھے دائرے سے کم ہے۔ ایسے زاویے، منفرجہ زاویے (Obtuse angles) کہلاتے ہیں۔
معلوم کیجیے
1. پچھلی شکلوں میں حادہ، قائمہ ، منفرجہ اور مستقیم زاویوں کی شناخت کیجیے۔
2 کچھ حادہ اور کچھ منفرجہ زاویے بنائیے۔ ان کو بنانے کے لیے مختلف تشریق (Orientation) کا استعمال کیجیے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ لفظ حادہ اور منفرجہ کے کیا معنی ہیں؟ حادہ کے معنی ہیں شدید اور منفرجہ کے معنی ہیں ماند
(موٹے سرے یانشان والا ) ۔ آپ کو کیا لگتا ہے یہ الفاظ کیوں چنے گئے ہیں؟
4 مندرجہ ذیل شکلوں میں حادہ زاویوں کی تعداد معلوم کیجیے۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ دو زاویوں کا موازنہ کیسے کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم صحیح معنوں میں کسی زاویے کا دوسرے زاویے سے موازنہ کیے بغیر صرف عدد استعمال کرتے ہوئے ، اس کی مقدار کا تعین کر سکتے ہیں؟
ہم نے دیکھا کہ مختلف زاویوں کا موازنہ دائرے کے استعمال سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ شاید زاویوں کی پیمائش کے لیے ایک دائرے کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟
زاویوں کی پیمائش کا صحیح تعین کرنے کے لیے ریاضی دانوں نے ایک خیال پیش کیا۔ انھوں نے ایک دائرے کا استعمال کیا اور اس کے مرکز کے زاویے کو 360 برابر زاویوں یا حصوں میں تقسیم کیا۔ ہر حصے کے زاویے کے پیمائش 1 ڈگری ہے، جسے ہم 10 لکھتے ہیں۔
اس اکائی والے حصے کا استعمال کسی بھی زاویے کی پیمائش متعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے : کسی زاویے کی پیمائش اس میں موجود 10 اکائی والے حصوں کی کل تعداد پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل شکل دیکھیے :
اس میں 10 والی کل 130 کائیاں موجود ہیں اور اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس زاویے کی پیمائش 300 ہے۔ مختلف زاویوں کی پیمائش: ڈگریوں میں ایک پورے چکر کی پیمائش کیا ہے ؟ جیسا کہ ہم نے اس میں 360 ڈگری لی ہے، اس لیے اس کی پیمائش 360 ہے۔
آدھا 180 ہے۔ ڈگری میں زاویہ قائمہ کی پیمائش کیا ہوتی ہے؟ دو زاویہ قائمہ مل کر ایک زاویہ مستقیم بناتے ہیں۔ جیسا کہ ایک زاویہ مستقیم کی پیمائش 1800 ہوتی ہے، تو زاویہ قائمہ °90 ہوگا۔
تاریخ سے ایک چٹکی
ایک پورا چکر 360 میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ 360 ہی کیوں؟ ابھی تک ہمیں 360 استعمال کرنے کی وجہ کمل طور پر معلوم نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں ایک دائرے کو 360 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہزاروں سال قبل رگ وید، جو انسانیت کے سب سے پرانے متن میں سے ایک ہے، کے مطابق ایک پیسے میں 360 پتلیاں تھیں (مصرع 1.164.48)۔ بہت سے قدیم کیلنڈر جو 3000 سال سے بھی قدیم ہیں۔ جیسے ہندوستان، فارس، بابل اور مصر کے کیلنڈر اس پر منحصر تھے کہ۔ ایک سال میں 360 دن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بابل کے ریاضی دانوں نے سیکس جیسمل (Sexagesimal) اعداد اور 60 کی گنتی کی وجہ سے 60 اور 360 کی تقسیم کا کثرت سے استعمال کیا۔
تاریخ سے ایک چٹکی
ایک پورا چکر 360 میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ 360 ہی کیوں؟ ابھی تک ہمیں 360 استعمال کرنے کی وجہ مکمل طور پر معلوم نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں ایک دائرے کو 360 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہزاروں سال قبل رگ وید، جو انسانیت کے سب سے پرانے متن میں سے ایک ہے، کے مطابق ایک پہلے میں 360 پتلیاں تھیں (مصرع 1.164.48)۔ بہت سے قدیم کیلنڈر جو 3000 سال سے بھی قدیم ہیں۔ جیسے ہندوستان، فارس، بابل اور مصر کے کیلنڈر اس پر منحصر تھے کہ ایک سال میں 360 دن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بابل کے ریاضی دانوں نے سیکس جیمل (Sexagesimal) اعداد اور 60 کی گنتی کی وجہ سے 60 اور 360 کی تقسیم کا کثرت سے استعمال کیا۔
وجہ سے 60 اور 360 کی تقسیم کا کثرت سے استعمال کیا۔ ریاضی داں برسوں سے 360 ڈگری کو پسند کرتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ شاید اس کا سب سے اہم اور عملی جواب یہ ہے کہ 360 وہ سب سے چھوٹا عدد ہے جو 7 کے علاوہ 10 تک کے تمام اعداد سے برابر تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے کوئی بھی دائرے کو 1، 2، 3، 4، 5، 6، 8، 9 یا 10 مساوی حصوں میں توڑا جاسکتا ہے اور پھر بھی ہر حصے میں مکمل اعداد کی ڈگری موجود ہو گی ! یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ 360، 12 سے بھی برابر تقسیم ہو سکتا ہے، جو سال کے مہینوں کی تعداد ہے، اور 24 سے، جو دن کے گھنٹوں کی تعداد ہے۔ یہ تمام حقیقتیں عدد 360 کو کافی مفید بناتی ہیں۔
ذیل میں دیا گیا دائرہ 1، 2، 3، 4، 5، 6، 8، 9، 10 اور 12 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نتیجے میں حاصل ہونے والے زاویوں کی ڈگری پیمائش کیا ہے ؟ نشان لگے ہوئے زاویوں کے قریب ان کی ڈگری کی پیمائش لکھیے۔
مختلف زاویوں کی ڈگری پیمائش
ہم دوسرے زاویوں کی پیمائش ڈگری میں کر سکتے ہیں؟ اس مقصد کے لیے ہمارے پاس ایک آلہ ہے جسے چاندہ (Protractor) کہتے ہیں۔ جو یا تو ایک دائرہ ہے جس کو 360 مساوی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جیسا کہ (شکل 2.12، صفحہ 32) میں دکھایا گیا ہے یا نصف دائرہ ہے جس کو 180 مساوی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
بغیر نشانات والا چانده
یہاں ایک چاندہ ہے۔ کیا آپ مرکز پر موجود زاویہ مستقیم کو 1 ڈگری کی 180 اکائیوں میں منقسم دیکھ رہے ہیں؟ حالاں کہ زاد میر تقیم کو تقسیم کرتے ہوئے خطوط کا کچھ حصہ نظر آرہا ہے!
قاعده (Base) کے ٹھیک دائیں طرف کی
نشان دہی سے شروع کرتے ہوئے، ہر 100 پر ایک لمبا نشان لگا ہوا ہے۔ اس طرح کے ہراک لمبے نشان سے 50 کے بعد ایک نصف نشان ہے۔
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل میں دیے گئے زاویوں کی پیمائش لکھیے :
a. ✓ KAL
غور کیجیے کہ اس زاویے کار اس، چاندہ کے مرکز سے ملا ہوا ہے۔ اس لیے KA اور AL کے درمیان 1 ڈگری زاویہ کی اکائیوں کی تعداد KAL کی پیمائش ہوگی۔ گنتی کرنے پر ہمیں یہ ملتا ہے :
KAL = 30°
لمبے مارک اور درمیانی سائز کے مارک کا استعمال کرتے ہوئے، کیا ممکن ہے کہ ہم اکائیوں کی تعداد کو 5 یا 10 کے گروپ میں شمار کرسکیں۔
b. WAL
c. TAK
نشانات والا چانده
یہ ایک چاندہ ہے جو آپ کے جیومیٹری باکس میں ہوتا ہے۔ بظاہر یہ اوپر والے چاندہ جیسا ہے، سوائے اس کے کہ اس پر اعداد لکھے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کو ان اعداد سے زاویہ پڑھنے میں آسانی ہو گی؟
اس چاندہ میں اعداد کے دو سیٹ ہیں: ایک دائیں سے بائیں بڑھ رہا ہے اور دوسرا بائیں سے دائیں بڑھ رہا ہے۔ اس چاندے میں اعداد کے دو سیٹ کیوں شامل ہیں؟ مندرجہ ذیل شکل میں موجود مختلف زاویوں کی پیمائش اور ان کے نام لکھیے۔
کیا آپ نے زاویے مثلاً TOQ کو شامل کیا ہے؟
آپ نے مارکنگ کا کون سا سیٹ استعمال کیا۔ اندرو الا یا باہر والا ؟
TOS کی پیمائش کیا ہے ؟
کیا آپ نشانات کی گنتی کیے بغیر صرف نشان لگے ہوئے اعداد کا استعمال کر کے زاویہ معلوم کر سکتے ہیں؟
اکائیاں موجود ہیں؟
یہاں OT اور OS باہری پیمانے کے اعداد 20 اور 55 سے گزرتے ہیں۔ ان دو بازوؤں کے درمیان 1 ڈگری کی کتنی
اکائیاں موجود ہیں؟
یہاں OT اور OS باہری پیمانے کے اعداد 20 اور 55 سے گزرتے ہیں۔ ان دو بازوؤں کے درمیان 1 ڈگری کی کتنی
کیا یہاں گھٹاؤ کا استعمال کر سکتے ہیں؟
بغیر تفریق کیے ہم زاویوں کی پیمائش کس طرح کر سکتے ہیں؟
چاندہ کو اس طرح رکھیں کہ مرکز زاویہ کے راس پر ہو۔
چاندہ کو ایسے رکھیے کہ زاویہ کا ایک بازو چاندہ کے 00 مارک والے خط پر ہو جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔
اکائیاں موجود ہیں؟ یہاں OT اور OS باہری پیمانے کے اعداد 20 اور 55 سے گزرتے ہیں۔ ان دو بازوؤں کے درمیان 1 ڈگری کی کتنی کیا یہاں گھٹاؤ کا استعمال کر سکتے ہیں؟ بغیر تفریق کیے ہم زاویوں کی پیمائش کس طرح کر سکتے ہیں؟ چاندہ کو اس طرح رکھیں کہ مرکز زاویہ کے راس پر ہو۔ چاندہ کو ایسے رکھیے کہ زاویہ کا ایک بازو چاندہ کے 00 مارک والے خط پر ہو جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔
AOB کی ڈگری کی پیمائش کیا ہے؟
اپنا چاندہ خود بنائیے!
آپ نے شاید سوچا ہو گا کہ چاندے پر موجود مختلف برابر فاصلہ والے نشانات کیسے بنائے جاتے ہیں۔ اب ہم ان میں سے کچھ نشانات بنا کر دیکھیں گے!
1 کسی کاغذ کی شیٹ پر ایک مناسب نصف قطر کا دائرہ بنائیے۔ اس دائرے کو تراشے (شکل 2.13)۔ ایک دائرہ یا پورا چکر 360 ہے۔°
2 دائرے کو اس طرح موڑیے کہ آپ کو دو برابر کے حصے حاصل ہوں اور کریز سے کاٹ کر نصف دائرہ حاصل کیجیے۔ نصف دائرے کی دائیں جانب نیچے کونے پر 00 لکھیے۔
![]() |
نصف دائرے کی پیمائش پورے چکر کا ہے۔ (شکل: 2.14) اس لیے نصف چکر کی پیمائش اس طرح سے نصف دائرہ کی بائیں جانب کے نچلے کونے پر لکھیے ۔ | ![]() |
3 نصف دائرہ شیٹ کو آدھا موڑیے جیسا کہ شکل 2.15 میں دکھایا گیا ہے۔ تا کہ ایک ربع دائرہ (ایک چوتھائی ) تشکیل ہو۔
![]() |
ایک ربع دائرے کی پیمائش پورے چکر کی ہے۔ 1 چکر کی پیمائش = 3600 کا = 4 یا چکر کے کی پیمائش = نصف 6180^ = 1/2 6./ = 1/2 90 اکائیاں A اس طرح سے نصف دائرے کے اوپر 900 لکھیے۔ | ![]() |
4 شیٹ کو دوبارہ موڑے جیسا کہ شکل 2.16 اور 2.17 میں دکھایا گیا ہے :
اس طرح موڑنے کے بعد دائرے کا حاصل ہوتا ہے، یا ایک پورے چکر کا یا 360 ڈگری کا ، یا 180 ڈگری کا یا -= 90 ڈگری کا
نئی کریز بنانے سے ہمیں 450 اور 1350 - 45 - 1800 کی پیمائشیں ملتی ہیں، جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔ نصف دائرے
کے کنارے کے ہمراہ نئی کریزوں پر صحیح جگہ اعداد 450 اور 1350 لکھیے۔
5 جیسا کہ شکل 2.18 میں دکھایا گیا ہے۔ ایک دوسرے آدھے موڑ سے عمل جاری رکھتے ہوئے ہمیں پیمائش کا زاویہ حاصل ہوتا ہے۔
6 کاغذ کو کھو لیے اور کریزوں پر OB اور OC نشان زد کیجیے، جیسا کہ شکل 2.19 اور 2.20 میں دکھایا گیا ہے۔
سوچیے !
∠HOI=/GOH=/FOG=
کیوں؟
ہر مرحلہ پر ہم نے نصف حصوں میں موڑا کسی دیے ہوئے زاویے کے آدھے کو حاصل کرنے کے اس عمل کو زاویہ کو دو برابر حصوں میں بانٹنے (Bisecting the angle) کا عمل کہتے ہیں۔ وہ خط جو زاویے کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے وہ زاویہ کا نصف کہلاتا ہے۔ اپنے ہاتھ سے بنائے گئے چاندے میں زاویوں کے نصفوں کی شناخت کیجیے۔ کاغذ کو موڑ کر زاویے کے نصف کے تصور کا استعمال کرتے ہوئے کچھ مختلف زاویے بنانے کی کوشش کیجیے۔
معلوم کیجیے
1. اپنے چاندے کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل زاویوں کی ڈگری پیمائش کیجیے۔
2 چاندے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کلاس روم میں موجود مختلف زاویوں کی ڈگری پیمائش کیجیے۔
ضروری ہے کہ طلبا اپنا چاندہ بنائیں اور اسے معیاری چاندہ استعمال کرنے سے پہلے مختلف زاویوں کو پیمائش کرنے کے لیے استعمال کریں تا کہ وہ معیاری چاندہ کی مارکنگ کے تصور کو آسانی سے سمجھ لیں۔
3 ذیل میں دیے گئے زاویوں کی ڈگری کی پیمائش کیجیے۔ جانچ کیجیے کہ آیا آپ اپنا کاغذی چاندہ یہاں استعمال کر سکتے ہیں!
4 چاندہ استعمال کر کے نیچے دیے گئے زاویے کی ڈگری پیمائش آپ کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟
5 ذیل میں دیے گئے ہر زاویے کی ڈگری پیمائش معلوم کیجیے اور لکھیے۔
کی ڈگری پیمائش معلوم کیجیے۔ ⦣BXC اور AXB XE ∠BXE 6
7 PQS, PQR اور LPQT کی ڈگری پیمائش معلوم کیجیے۔
8 درج ذیل ہدایات کے مطابق ایک پیپر کرافٹ بنائیے۔ پھر پیپر کو پورا کھو لیے اور سیدھا کیجیے۔ بنائی گئی کریز پر خطوط بنائیے اور اس سے بننے والے زاویوں کی پیمائش کیجیے۔
و شکل 2.21 (a) میں دکھائے گئے مثلث کے تینوں زاویوں کی پیمائش کیجیے اور ان کے متعلقہ زاویوں کے نزدیک ان کی پیمائش لکھیے۔ اب ان تینوں پیمائشوں کو جمع کیجیے۔ آپ کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ ایساہی عمل کل 2.21 (b) اور (c) میں دیے گئے مثلثوں کے لیے کیجیے۔ دوسرے مختلف مثلثوں کے ساتھ بھی اسے آزمائیے اور پھر اپنے نتائج کی بنا پر کہ عام طور پر کیا ہوتا ہے ، اس کے لیے ایک قیاس کیجیے، اس عمل کو ہم آگے آنے والے برسوں میں پڑھیں گے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
غلطی دیکھیے اور اس کو درست کیجیے!
ایک طالب علم نے چاندہ استعمال کر کے ذیل میں دیے گئے زاویوں کی پیمائش کی۔ ہر شکل میں چاندے کے غلط استعمال کی شناخت کیجیے اور گفتگو کیجیے کہ ریڈنگ کس طرح لی جا سکتی تھی اور سوچیے کہ اسے کیسے صحیح کیا جاسکتا ہے؟
معلوم کیجیے
زاویے کہاں ہیں؟
1 گھڑی میں زاویے :
گھڑی کی سوئیاں مختلف وقتوں میں مختلف زاویے بناتی ہیں۔ 1 بجے سوئیوں کے درمیان زاویہ 300 ہوتا ہے۔ کیوں؟
گھڑی میں 2 بجے ، 4 بجے اور 6 بجے کیا زاویے ہوں گے؟
گھڑی کی سوئیوں سے بننے والے دوسرے
زاویوں کو تلاش کیجیے۔
2 ایک دروازے کا زاویہ :
کیا ممکن ہے کہ آپ زاویوں کو استعمال کرتے ہوئے بتادیں کہ دروازہ کتنا کھلا ہوا ہے؟ زاویہ کار اس کیا ہو گا اور زاویے کے بازو کیا ہوں گے؟
وڈ یا جھولے میں مزے سے جھول رہی ہے۔ وہ غور کرتی ہے کہ جس قدر بڑے زاویے سے وہ جھولنا شروع کرتی ہے، اسی قدر جھولے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ لیکن زاد یہ کہاں ہے؟ کیا آپ کو کوئی زاویہ نظر آتا ہے؟
.4 یہاں ایک ایسا کھلونا ہے جس کے اطراف سے ڈھلوان سلیب (Slanting slabs) منسلک ہے سیلیب کے زاویے یا شیبیں جس قدر بڑے ہوں گے، اس قدر تیز گیندیں اس پر گھو میں گی۔ کیا سلیب کے نشیب کو بیان کرنے کے لیے زاویوں کا استعمال ہو سکتا ہے؟ ہر زاویے کے بازو کیا ہیں؟ کون ساباز و نظر آتا ہے اور کون سا نہیں؟
5 مندرجہ ذیل تصاویر کا مشاہدہ کیجیے جس میں ایک کیڑا اور اس کی گھومی ہوئی تصویریں دی گئی ہیں۔ کیاز اویوں کا استعمال گردش محوری کی مقدار کو واضح کرنے کے لیے ہو سکتا ہے؟ کیسے ؟ زاویے کار اس اور اس کے بازو کیا ہوں گے؟
اشارہ کیڑوں کو چھونے والے افقی خط کا مشاہدہ کیجیے۔
ری ضروری ہے کہ طلبا اپنی روز مرہ زندگی میں ریاضی کے تصورات کے اطلاق کو دیکھیں۔ استاد کچھ ایسی سرگرمیاں منظم کر سکتے ہیں جہاں طلبا اپنی حقیقی زندگی میں زاویوں کے عملی اطلاق کو سمجھ سکیں، جیسے گھڑیاں، دروازے، جھولے، پڑھان اور ڈھلان کے تصورات، سورج کا مقام، سمتوں کا تعین وغیرہ۔
2.10 زاویے بنانا
وڈ یا چاندہ استعمال کرتے ہوئے 300 کا ایک زاویہ بنانا چاہتی ہے اور اسے TIN کے نام دینا چاہتی ہے۔
← قدم 1: ہم بنیاد سے شروع کرتے ہیں اور IN کھینچتے ہیں:
قدم 2 ہم چاندہ کے مرکزی نقطہ کو پر رکھیں گے اور IN کو خط کے ہمراہ کریں گے۔
قدم 3 : اب چاندے پر 0 سے شروع کرتے ہوئے آپ ڈگری (10،0 ،30) کو 30 تک شمار کیجیے۔ °30 پر نقطہ آنشان زد کیجیے۔
قدم 4 : پیمانه استعمال کرتے ہوئے اور T نقطے کو ملائیے۔ مطلو به زاویہ TIN = 300 ہے۔
آئیے ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں #1
یہ زاویہ کا اندازہ لگانے والا کھیل ہے ! اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ دو ٹیمیں ، ٹیم 1 اور ٹیم 2 ، بناکر یہ کھیل کھیلے۔ یہاں کھیل کے
اصول اور ہدایات درج ہیں:
- ٹیم 1 خفیہ طور پر کسی زاویہ کی پیمائش کا انتخاب کرے گی مثلاً 490 جو ٹیم 2 کو دکھائے بغیر ، کسی چاندہ کا استعمال کرتے ہوئے اس کی پیمائش کا زاویہ بناتی ہے۔
- ٹیم 2 اب اس زاویہ کو دیکھتی ہے۔ پھر ٹیم 2 کو جلدی سے زاویے میں درج ڈگریوں کی تعداد پر تبادلۂ خیال کرنا اور
- اندازہ لگانا ہے۔ (چاندہ استعمال کیے بغیر !)۔
- ٹیم 1 اب چاندہ سے زاویے کی صحیح پیمائش کا مظاہرہ کرتی ہے۔
- ٹیم 2 اتنے پوائنٹس کی تعداد حاصل کرتی ہے جتنے ان کے اندازے اور صحیح پیمائش کا مطلق فرق ڈگریوں میں ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ٹیم 2 390 قیاس کرتی ہے تب وہ لوگ 10 پوائنٹس اسکور کرتے ہیں (390-490)۔
- ہر ٹیم کو پانچ مواقع ملتے ہیں جس ٹیم کا اسکو رسب سے کم ہے، وہ فاتح ہے !
آیئے ہم کھیل کھیلتے ہیں # 2
اب ہم کھیل کے کچھ اصول بدلتے ہیں۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ دوبارہ دو ٹیمیں، ٹیم 1 اور ٹیم 2 بناکر اس کھیل کو کھیلے۔ اس سلسلے میں یہاں کچھ ہدایات اور اصول دیے گئے ہیں:
- ٹیم 1 سب کے لیے زاویے کی ایک پیمائش کا اعلان کرتی ہے، مثال کے طور پر 340۔
- ٹیم 2 کا ایک کھلاڑی چاندہ کا استعمال کیے بغیر اس زاویہ کو بورڈ پر ضرور بنائے۔ ٹیم 2 کے باقی ممبر ان اس کھلاڑی کی مدد کر سکتے ہیں جیسے اس کو تھوڑا بڑا بناؤ ! یا اس کو تھوڑا چھوٹا بناؤ! کہہ کر۔
- ٹیم 1 کا کوئی کھلاڑی سبھی کے دیکھنے کے لیے چاندہ استعمال کرتے ہوئے اس زاویے کی پیمائش کرتا ہے۔
- ٹیم 2 کے پوائنٹ کا اسکورٹیم 2 کے متوقع زاویے کی ڈگری اور اصل زاویہ یعنی (340) کا مطلق فرق ہے۔ مثال کے طور پر اگر ٹیم 2 کے کھلاڑی کے ذریعہ بنائے گئے زاویہ کی پیمائش 250 ہے توٹیم 9،2 پوائنٹس اسکور کرتی ہے - (34 deg - 25 deg)
- ہر ٹیم کو پانچ مواقع ملتے ہیں جس ٹیم کا اسکو رسب سے کم ہے، وہ فاتح ہے۔
ی کھیل زادیوں اور ان کی پیمائش کی تفہیم کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زاویوں کے تخمینہ کی مشق کرنے کے لیے اس کھیل کو مختلف دنوں میں کم از کم ایک یا دو مرتبہ دہرائیے۔ یہ بات نوٹ کیجیے کہ یہ کھیل طلبا کے جوڑوں میں بھی کھیلے جاسکتے ہیں۔
معلوم کیجیے
1 شکل 2.23 کے تمام ممکنہ زاویوں کی فہرست بنائیے۔ کیا آپ نے ان سب کو تلاش کر لیا ؟ اب تمام زاویوں کی پیمائش کا اندازہ لگائیے۔ پھر کسی چاندہ سے ان زاویوں کی پیمائش کیجیے۔ تمام اعداد کو ایک جدول میں لکھیے۔ دیکھیے کہ آپ کے اندازے اصل پیمائشوں کے کتنے نزدیک ہیں؟
2 مندرجہ ذیل ڈگری پیمائش والے زاویے بنانے کے لیے کسی چاندہ کا استعمال کیجیے :
a. 110 deg
b. 40 deg
с. 75 deg
d. 112 deg
e 134 deg
3 دیے گئے زاویے کی ڈگری پیمائش کے برابر ایک زاویہ بنائیے:
اس کے علاوہ، آپ نے اس زاویے کو بنانے میں جو طریقے اپنائے ہیں، ان کو بھی لکھیے۔
2.11 زاویوں کی قسمیں اور ان کی پیمائشیں
اس باب میں ہم لوگ مختلف قسم کے زاویوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ہم لوگ دیکھ چکے ہیں کہ زاویہ مستقیم 1800 اور زاویہ قائمہ 900 ہوتا ہے۔ دیگر قسم کے زاویوں حادہ اور منفرجہ کو ان کی ڈگری پیمائشوں میں کیسے واضح کریں گے؟
زاوية حادہ: زاویے جو زاویہ قائمہ سے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی 900 سے کم اور 100 سے زیادہ ہوتے ہیں، زاویہ حادہ کہلاتے ہیں۔
زاویه منفرجہ : زاویے جو زاویہ قائمہ سے بڑے اور زاویہ مستقیم سے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی 900 سے بڑے اور 1800 سے چھوٹے، زاویہ منفرجہ کہلاتے ہیں۔
کیا ہم زاویوں کی تمام ممکنہ پیمائشوں کو عمل میں لا چکے ہیں؟ یہاں دوسری طرح کا ایک زاویہ ہے۔ معکوس زاویہ: زاویے جو زاد میر تقسیم سے بڑے اور مکمل زاویہ سے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی 1800 سے بڑے اور °360 سے چھوٹے، زاور معکوس کہلاتے ہیں۔
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل ہرگرڈ میں، نقطہ A کو گرڈ کے باقی نقطوں سے ایک خط مستقیم کے ذریعے اس طرح ملائیے کہ ہمیں حاصل ہو :
a ایک زاویہ حاده
زاویوں کو ظاہر کرنے کے لیے اوپر ملے زاویوں کو ایک خط منحنی سے نشان زد کیجیے۔ آپ کے لیے ایک کیا جا چکا ہے۔
2 چاندہ استعمال کر کے ہر زاویے کی پیمائش کیجیے۔ پھر ہر زاویے کو حادہ، منفرجہ ، قائمہ اور معکوس کے طور پر درجہ بندی کیجیے۔
a. PTR
b. ∠PTQ
c. PTW
d. WTP
دریافت کیجیے
اس شکل میں angle TER = 80 deg ہے۔ BET کی پیمائش کیا ہے؟
SET کی پیمائش کیا ہے؟
اشارہ مشاہدہ کیجیے کہ REB ایک زاویہ تقیم ہے۔ اس لیے اس کی ڈگری پیمائش = 180 deg * zeta REB ہے جس میں 80 deg TER کے ہے۔ اسی طرح کی دلیل SET کی پیمائش معلوم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل ڈگری پیمائش کے زاویے بنائیے:
a. 140 deg
b .82 deg
c. 195 deg
d 0.7 deg
e. 35 deg
2 ہر زاویہ کے سائز کا اندازہ لگائیے اور پھر چاندہ کی مدد سے اس کی پیمائش کیجیے :
ان زاویوں کو ، حادہ، قائمہ ، منفرجہ یا معکوس زایوں کے طور پر درجہ بندی کیجیے۔
3 ایک ایسی شکل بنائیے جس میں تین زاویہ حادہ ایک قائمہ زاویہ اور دو منفرجہ زاویے ہوں۔
4 حرف M کو اس طرح بنائیے کہ اطراف کے ہر ایک زاویے 40 deg کے ہوں اور بیچ کا زاویہ 60 ہو۔
5 حرف Y کو اس طرح بنائیے کہ اس میں بننے والے تین زاویے بالترتیب 150^ ,; 60 deg * 150 deg ہوں۔
6 اشوک چکر میں 24 تیلیاں ہیں۔ دو لگا تار تیلیوں کے درمیان کے زاویے کی ڈگری پیمائش کیا ہے؟ دو تیلیوں کے درمیان بننے والے سب سے بڑے زاویہ حادہ کی ڈگری پیمائش کیا ہے؟
7 معمہ: میں ایک زاویہ حادہ ہوں۔ اگر آپ میری پیمائش کو دو گنا کر دیتے ہیں تو آپ کو ایک زاد یہ حادہ ملتا ہے۔ اگر آپ میری پیمائش کو تین گنا کر دیں تو آپ کو پھر سے زاویہ حادہ ملے گا۔
اگر آپ میری پیمائش کو چار گنا کر دیں تو آپ کو پھر ایک زاویہ حادہ ملے گا لیکن اگر آپ میری پیمائش کو 5 سے ضرب کر دیں تو آپ کو زاویہ منفرجہ ملے گا۔ میری پیمائش کے ممکنہ امکانات کیا ہیں؟
خلاصه
- ایک نقطہ : مقام کا تعین کرتا ہے۔ اس کو بڑے
- (Capital) حرف سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
- ایک قطع محط: دو نقطوں کے درمیان سب سے چھوٹا فاصلہ ہے۔ S اور T سے مل کر بنے والے قطع خط کو ST سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
- ایک خط : حاصل ہوتا ہے جب ہم کسی قطع خط جیسے ST کو دونوں طرف لامحدود طور پر بڑھاتے ہیں؛ یہ ST سے ظاہر کیا جاتا ہے یا کبھی کبھی اسے چھوٹے (Small) حرف جیسے m سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
- عمودی لکیر : خط کا وہ حصہ ہے جو ایک نقطہ D سے شروع ہو کر ایک سمت میں لامحدود طور پر بڑھتی رہتی ہے۔ اس کو ہم DP سے ظاہر کرتے ہیں جہاں P اس عمودی لکیر پر ایک دوسر انقطہ ہے۔
- کسی مشترک ابتدائی نقطہ سے بنے والی دو عمودی لکیروں سے ہم زاویہ کے تصور کو سمجھ سکتے ہیں۔ دو عمودی لکیر میں OP اور O زاویہ کی تشکیل کرتی ہیں POM اس کو MOP بھی کہا جاتا ہے؛ یہاں زاویہ کا راس کہلاتا ہے اور OP اور OM کی عمودی لکیریں زاویہ کے بازو کہلاتی ہیں۔
- زاویہ کا سائز ، راس کے گرد، زاویہ کی ایک عمودی لکیر سے دوسری عمودی لکیر تک گردش محوری یا گھماؤ کی مقدار ہے۔
- زاویوں کے سائز کی پیمائش ڈگری میں کی جاسکتی ہے۔ ایک پوری محوری گردش یا چکر 360 ڈگری کا ہوتا ہے اور اس کو ہم °360 سے ظاہر کرتے ہیں۔
- زاویوں کی ڈگری پیمائش چاندہ ( پروٹر یکٹر ) سے کی جاسکتی ہے۔
- زاویه تقیم: (1800) زاویه قائمه (900) ، زاویہ حادہ (00) سے زیادہ اور 900 سے کم)، زاویہ منفرجہ (°90 سے زیادہ اور 1800 سے کم) ، زاویہ معکوس (1800 سے زیادہ اور 3600 سے کم ہو سکتے ہیں۔



