5
مفرد وقت
(Prime Time)
5.1 مشترک ضعف اور مشترک جزو ضربی
اڈلی - وڑا کھیل
بچے ایک دائرے میں بیٹھیں گے اور اعداد کا ایک کھیل کھیلیں گے۔
بچوں میں سے ایک کھلاڑی 1 کہہ کر شروع کرتا ہے۔ دوسرا کھلاڑی 2 کہتا ہے اور باقی اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن جب 3 ، 6 ، 9 ، (3) کے اضعاف) کی باری آتی ہے تو کھلاڑی کو عدد کے بجائے اڈلی کہنا چاہیے۔ جب 5 ، 10 . (5) کے اضعاف) کی باری آتی ہے تو کھلاڑی کو اعداد کے بجائے دوڑا' کہنا چاہیے۔ اور جب کوئی عدد دونوں کے اضعاف یعنی 3 کے اضعاف اور 5 کے اضعاف ہوں گے تو کھلاڑی کو کہنا چاہیے اڈلی وڑا! اگر کوئی کھلاڑی غلطی کر دیتا ہے تو وہ آؤٹ ہو جائے گا۔
ی کھیل چلتا رہتا ہے جب تک کہ صرف ایک کھلاڑی نہیں بچتا۔
کون سے اعداد کے بجائے کھلاڑی کو اڈلی کہنا ہے ؟ یہ 3، 6، 12،9، 18،... کی ترتیب سے ہوں گے۔
کون سے اعداد کے بجائے کھلاڑی کو وڑا کہنا ہے ؟ یہ 5، 10، 20، ... کی ترتیب سے ہوں گے۔
کون سا پہلا عدد ہو گا جس کے لیے کھلاڑیوں کو اڈلی وڑا کہنا چاہیے؟ یہ 15 ہو گا جو کہ 3 کا ضعف ہے اور 5 کا بھی ضعف ہے۔ ایسے ہی دوسرے اعداد تلاش کیجیے جو 3 اور 5 دونوں کے ضعف ہوں یہ اعداد کہلائیں گے۔
معلوم کیجیے
- کون سے عدد کو دسویں باری میں ”اڈلی وڑا“ کہا جائے گا؟
- اگر کھیل 1 سے لے کر 90 تک کے درمیان کھیلا جارہا ہے تو تلاش کیجیے:
- .a بچے کتنی مرتبہ اڈلی کہیں گے؟ ( کتنی مرتبہ اڈلی وڑا کہا گیا، اس کو شامل کر کے)
- .b بچے کتنی مرتبہ وڑا کہیں گے؟ ( کتنی مرتبہ اڈلی وڑا کہا گیا، اس کو شامل کر کے)
- .C بچے کتنی مرتبہ اڈلی وڑا کہیں گے؟
4 کیا شکل کسی طریقے سے اڈلی وڑا، کھیل سے متعلق ہے؟
اشارہ تصور کیجیے کہ کھیل 30 تک کھیلا گیا۔ اگر کھیل 60 تک ہو گا تو شکل 5.1 کی طرح اُس کی شکل بنائیے۔
- آیئے ہم اب مختلف جوڑوں کے اعداد کے ساتھ اڈلی وڑا“ کا کھیل کھیلتے ہیں۔
- 2 اور 5
- 3 اور7
- 4 اور6
چھوٹے عدد کے اضعاف کو ہم ' اڈلی کہیں گے، بڑے اعداد کے اضعاف کو دوڑا کہیں گے اور مشترک اضعاف کو اڈلی وڑا کہیں گے۔ اگر کھیل 60 تک کھیلا جارہا ہے تو شکل (5.1) کے مماثل شکل بنائیے۔
اوہ، تو وہ اعداد کون کون سے ہو سکتے ہیں؟
کل ہم نے یہ کھیل دو اعداد کے ساتھ کھیلا تھا۔ ہم نے اس کو صرف اڈلی یا اڈلی وڑا کہہ کر مکمل کیا لیکن کسی نے صرف وڑا نہیں کہا۔
ان میں ایک عدد تو 4 تھا۔
ان میں سے کون سے دوسرے اعداد ہو سکتے ہیں:
10 ،8،5 ،3 ،2
جمپ جیک پوٹ
جمپی اور گرمپی نے ایک کھیل کھیلا۔
- گرمپی نے کسی عدد پر ایک خزانہ رکھا۔ مثال کے طور پر وہ اس کو 24 کے عدد پر رکھتا ہے۔
- جمپی نے اپنی چھلانگ کا سائز چنا۔ اگر وہ اس کے لیے 4 کو چنا ہے تو 0 سے شروع کر کے 4 کے اضعاف پر چھلانگ لگاتا ہے۔
- اگر جمپی اس عدد پر چھلانگ لگاتا ہے جہاں گرمپی نے اس کو رکھا تھا تو وہ اس خزانے کو حاصل کر لے گا۔
1 اور 24 کی چھلانگوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ہاں وہ بھی 24 کے عدد پر اتریں گے۔ 1، 2، 3، 4، 6، 8، 12 ، 24 یہ تمام اعداد 24 کو برابر تقسیم کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس طرح کے اعداد کو 24 کے جز و ضربی یا قاسم کہتے ہیں۔
گرمی کھیل کے درجے کو بڑھاتا ہے۔ دو مختلف اعداد پر وہ دو خزانے رکھتا ہے۔ جمپی کو ایک چھلانگ کا سائز چلنا ہے اور اس پر قائم رہنا ہے، جمپی کو صرف تبھی خزانہ حاصل ہو گا جب وہ دونوں اعداد پر اپنی چنی ہوئی اس ایک چھلانگ کے سائز سے پہنچ جائے۔ جیسے پہلے جمپی نے 0 سے آغاز کیا۔
گر میں نے خزانے کو 14 اور 36 پر رکھا ہے اور جمپی چھلانگ کا سائز 7 چنتا ہے۔ کیا جمپی دونوں خزانوں پر پہنچ جائے گا ؟ 0 سے آغاز کر کے وہ چھلانگ - 7 - 14 - 21 - 28 - 35 -42 ... تک چھلانگ لگاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ 14 کے عدد پر اترا ہے لیکن 36 پر نہیں اُتر تا۔ اس لیے وہ خزانہ حاصل نہیں کر پاتا ہے۔ اسے چھلانگ کے کون سے سائز کو اختیار کرنا چاہیے تھا؟
14 کے جزو ضربی ہیں: 1 ، 2 ، 7 ، 14 - اس لیے یہ چھلانگ کے سائز 14 پر اتریں گے۔
اور 36 کے جزو ضربی ہیں 1، 2، 3، 4، 6، 9، 12 ، 18 ، اور 36 یہ چھلانگ کے سائز 36 پر اتریں گے۔
اس لیے 1 یا 2 کے چھلانگ سائز 14 اور 36 دونوں پر اتریں گے۔ غور کیجیے کہ 1 اور 2 ، 14 اور 36 کے مشترک
ہیں۔ )Common factors( جز وضرب
چھلانگ کے وہ سائز جن سے دونوں خزانوں تک پہنچا جاسکے وہ ان دونوں اعداد جہاں خزانے رکھے گئے ہیں ان کے مشترک جز و ضربی ہوں گے۔
15 اور 30 دونوں تک پہنچنے کے لیے چھلانگ کا سائز کیا ہو سکتا ہے ؟ اس میں متعدد چھلانگ سائز میں ممکن ہیں۔ ان سب کو معلوم کرنے کی کوشش کیجیے۔
نیچے دیے گئے جدول کو دیکھیے۔ آپ نے کیا غور کیا؟
جدول میں:
- 1. کیا رنگین اعداد میں کچھ مشترک ہے؟
- 2 کیا دائرے کے اندر کے اعداد میں کچھ مشترک ہے؟
- کون سے اعداد رنگین بھی ہیں اور دائرے کے اندر بھی ہیں؟ ان اعداد کو کیا کہتے ہیں؟
- 1 310 اور 410 کے درمیان 40 کے سبھی اضعاف معلوم کیجیے۔
- 2 میں کون ہوں؟
معلوم کیجیے
- 1 310 اور 410 کے درمیان 40 کے سبھی اضعاف معلوم کیجیے۔
- 2 میں کون ہوں؟
- میں 40 سے کم ایک عدد ہوں۔ میرا ایک جزو ضربی 7 ہے۔ میرے ہندسوں کی جمع 8 ہے۔
- میں 100 سے کم ایک عدد ہوں ۔ میرے دو جزو ضربی 3 اور 5 ہیں۔ میرا ایک ہندسہ دوسرے ہند سے سے ایک زیادہ ہے۔ .b
4 مشترک جز و ضربی معلوم کیجیے :
a 50 اور 35
(b) 12 8,4 اور
(c) 25 15,5 اور
5 تین ایسے اعداد معلوم کیجیے جو 25 کے اضعاف تو ہوں مگر 50 کے اضعاف نہ ہوں۔
6 انشو اور اس کے دوست دو اعداد کی مدد سے اڈلی سوڑا کھیل کھیلتے ہیں جو دونوں 10 سے چھوٹے ہیں۔ پہلی بار جب کوئی اڈلی وڑا کہتا ہے۔ وہ عدد کون سے 50 کے بعد ہے۔ وہ دو اعداد کیا ہو سکتے ہیں جو اڈلی اور وڑا“ کو ظاہر کر سکتے ہیں؟
7 خزانے تلاش کرنے والے کھیل میں گرمی نے 28 اور 70 پر خزانے رکھے ہیں۔ ان دونوں اعداد پر اترنے کے لیے چھلانگ کا سائز کیا ہو گا؟
نیچے دی گئی تصویر میں گونا نے مشترک اضعاف کو چھوڑ کر سارے اعداد مٹادیے معلوم کیجیے وہ کون سے اعداد ہو سکتے ہیں، اور خالی علاقوں میں گم شدہ اعداد کو بھر لیے۔
و سب سے چھوٹا عدد معلوم کیجیے جو 7 کو چھوڑ کر 1 سے 10 تک کے سبھی اعداد کا اضعاف ہو۔
10. سب سے چھوٹا عدد معلوم کیجیے جو 1 سے 10 تک کے بھی اعداد کا اضعاف ہو۔
5.2 مفرد اعداد
گونا اور انشو اپنے کھیتوں میں پیدا ہونے والے انجیر کو پیک کرنا چاہتے ہیں۔ گونا ہر ڈبے میں 12 انجیر ڈالنا چاہتا ہے اور انشو ہر ایک
ڈبے میں 7 انجیر ڈالنا چاہتا۔
اس کی کتنی ترتیبیں ممکن ہوں گی؟
سوچیے اور مختلف طریقے معلوم کیجیے۔
- 1 گونا 12 انجیروں کو ایک مستطیلی ترتیب میں کیسے منظم کر سکتا ہے؟
- 2 انشو 7 انجیروں کو ایک مستطیلی ترتیب میں کیسے منظم کر سکتا ہے؟
گونا نے ان ممکنہ ترتیبوں کی فہرست بنائی۔
ہر انتظام میں قطاروں اور کالموں کی ترتیب کا مشاہدہ کیجیے۔ ان سب کا 12 سے کیا تعلق ہے؟
دوسری ترتیب میں، مثال کے طور پر ، 12 انجیروں کو 6 کے دو کالموں میں ترتیب دیا گیا یا 12 = 2 * 6
انشو صرف ایک ترتیب بنا سکتا تھا: 1 × 7 یا 7 ×1 ۔ اس کے علاوہ دوسری مستطیلی ترتیبیں ممکن نہیں ہیں۔
گونا کے ہر انتظام میں، قطاروں کی تعداد کو کالموں کی تعداد سے ضرب کرنے سے 12 کا عدد ملتا ہے۔ اس لیے قطار میں اور کالمیں
مستطیل میں کر سکتے ہیں کیوں کہ 12 کے 2 سے زیادہ جزو ضربی ہیں
7 کو صرف ایک ہی طریقے سے منظم کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ اس کے صرف 2 جزو ضربی ہیں 1 اور 7 ۔
وہ اعداد جن کے صرف 2 جزو ضربی ہوتے ہیں وہ مفرد اعداد (Prime numbers) یا مفردات (Primes)
کہلاتے ہیں۔ یہاں کچھ ابتدائی مفردات ہیں 2 ، 3 ، 5 ، 7 ، 11 ، 13 ، 17 ، 19 ۔ غور کیجیے کہ مفرد عدد کے دو جز و ضربی 1 اور خود وہی عدد ہوتے ہیں۔
آپ ان اعداد کے بارے میں کیا جانتے ہیں جن کے دو سے زیادہ جزو ضربی ہوں وہ مرکب اعداد (Composite numbers) کہلاتے ہیں۔ کچھ ابتدائی مرکب اعداد ہیں۔ 4، 6، 8، 9، 10، 12، 14، 15، 16، 18، 20۔
1 کے بارے میں کیا خیال ہے، جس کا صرف ایک ہی جز و ضربی ہے ؟1 کا عدد نہ تو مفرد نہ ہی مرکب عدد ہے۔
21 سے 30 کے درمیان کتنے مفر داعداد ہیں؟ 21 سے 30 کے درمیان کتنے مرکب اعداد ہیں؟
کیا ہم 1 سے 100 تک تمام مفر واعداد کی فہرست بنا سکتے ہیں؟
مفرد اعداد کو تلاش کرنے کا یہاں ایک دل چسپ طریقہ ہے۔ صرف نیچے دی گئیں ہدایات پر عمل کیجیے اور دیکھیے کہ کیا واقع
ہوتا ہے؟
قدم 1: 1 کو کاٹ دیجیے کیوں کہ یہ نہ تو مفرد اور نہ ہی مرکب ہے۔
قدم 2: 2 پر دائرہ لگائیے اور اس کے بعد کے سارے اضعاف کو کاٹ دیجیے، یعنی 4، 6 ، 8 اور آگے اسی طرح۔
قدم 3: 3 آپ دیکھیں گے کہ اگلا عدد جو کاٹا نہیں گیا وہ 3 ہے۔ 3 کے گرد دائرہ بنائیے اور اس کے بعد 3 کے سارے اضعاف کو کاٹ دیجیے۔ یعنی 6، 9، 12 اور آگے اسی طرح۔
قدم 4: 14 گلا عدد جو کاٹا نہیں گیا وہ 5 ہے۔ 5 کے گرد دائرہ بنائیے اور اس کے بعد 5 کے سارے اضعاف کو کاٹ دیجیے یعنی 10، 15، 20 اور آگے اسی طرح۔
قدم 5 اس عمل کو اس وقت تک جاری رکھیے جب تک سارے اعداد کے گرد دائرے بنا دیئے جائیں یا وہ کاٹ دیے جائیں۔ سارے دائرے والے اعداد مفرد اعداد ہیں۔ 1 کو چھوڑ کر، سارے کاٹے گئے اعداد مرکب اعداد ہیں۔ یہ طریقہ ایراٹوس تھینس کی چھلنی کہلاتا ہے۔ (Sieve of Eratosthenes)اس طریقہ کار کو 100 سے بڑے اعداد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایرانوس تھینس ایک یونانی ریاضی داں تھا جو تقریباً 2200 سال قبل رہتا تھا اور اس نے مفردات کی فہرست بنانے کا یہ طریقہ تیار کیا تھا۔
یقینی طور پر یہ کوئی جادو نہیں ہے ؟ اس کے کام کے ہونے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے
گونا اور انشو حیرت زدہ ہیں کہ کس طرح اس آسان طریقے کے ذریعے ہم مفرد اعداد معلوم کر سکتے ہیں ! سوچیے کہ یہ طریقہ کیسے کام کرتا ہے ؟ او پر دی گئیں ہدایات کو دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ ہر قدم پر عمل کرنے کے بعد کیا واقع ہوتا ہے۔
معلوم کیجیے
1 ہم دیکھتے ہیں کہ 2 ایک مفرد اور ایک جفت عدد (Even number) بھی ہے۔ کیا کوئی دوسرا جفت مفرد عدد ہے؟
1 ہم دیکھتے ہیں کہ 2 ایک مفرد اور ایک جفت عدد (Even number) بھی ہے۔ کیا کوئی دوسرا جفت مفرد عدد ہے؟
2 100 تک گنتی میں مفردات کی فہرست دیکھیے۔ دولگا تار مفردات کے درمیان سب سے چھوٹا فرق کیا ہے؟ سب سے بڑا فرق کیا ہے؟
کیا پچھلے صفحے کے جدول میں مفردات کی تعداد ہر قطار میں مساوی ہے ؟ سب سے کم مفر داعداد والی دہائی کون سی ہے؟
کس دہائی میں سب سے زیادہ مفردات ہیں؟
مفردات کی تاریخی حیثیت
مفرد مرد اعداد تمام مکمل اعداد کے بلڈ نگ بلاک ہیں۔ یونانی تہذیب کے دور سے لے کر (2000 سال قبل سے زیادہ) آج تک ریاضی داں ان اعداد کے پوشیدہ راز جاننے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔
سوچ کے لیے غذا: کیا کوئی سب سے بڑا مفرد عدد ہے ؟ یا مفر د اعداد کی فہرست بغیر ختم ہوئے اسی طرح چلتی رہے گی؟ ایک ریاضی داں جس کا نام یو کلڈ تھا ، اسے اس کا جواب مل گیا اور آپ کو بھی آئندہ جماعتوں میں مل جائے گا!
تفریحی حقیقت: سب سے بڑا مفرد عدد جو کسی نے لکھا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کو لکھنے کے لیے 6500 صفحات در کار ہوں گے! اس لیے ریاضی داں اسے کسی کمپیوٹر پر ہی لکھ سکتا تھا!
نیچے دیے ے گئے اعداد میں سے کون سے مفر د اعداد ہیں: 23، 51، 37، 26؟
5 مفرد اعداد کے تین ایسے جوڑے بنائیے جو 20 سے چھوٹے ہوں اور ان کا حاصل جمع 5 کا ضعف ہو۔
6 13 اور 31 مفرد اعداد ہیں۔ ان دونوں اعداد کے یکساں ہند سے 1 اور 3 ہیں۔ 100 تک ایسے مفرد اعداد کے جوڑے معلوم کیجیے۔
7. 1 اور 100 کے درمیان سات لگا تار مرکب اعداد معلوم کیجیے۔
8 جڑواں مفردات، مفردات کے وہ جوڑے ہیں جن میں 2 کا فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ، 3 اور 5 جڑواں مفردات ہیں۔ اسی طرح 17 اور 19 بھی۔ 1 اور 100 کے درمیان دوسرے جڑواں مفردات معلوم کیجیے۔
شناخت کیجیے کہ نیچے دیے گئے اصول صحیح ہیں یا غلط۔ وضاحت کیجیے۔
- کوئی ایسا مفرد عدد نہیں ہے جس کی اکائی ہندسہ 4 ہو۔
- ردات کا حاصل ضرب بھی مفرد ہو سکتا ہے۔
- مفرد اعداد کے کوئی جزو ضربی نہیں ہوتے۔
- سارے جفت اعداد مرکب اعداد ہوتے ہیں۔
- 2 ایک مفرد ہے اور اسی طرح اس کا اگلا عدد 3۔ ہر دوسرے مفرد کے لیے، اگلا عدد مرکب ہے۔
11. آپ 2 4 اور 5 میں سے ہر ایک کو ایک بار استعمال کر کے کتنے تین ہندسوں کے مفر داعداد بنا سکتے ہیں؟
12 مشاہدہ کیجیے 3 ایک مفرد عدد ہے ، اور 2 * 3 + 1 = 7 بھی ایک مفرد ہے۔ کیا کئی مفردات ایسے ہیں جو 2 سے ضرب ہو جائیں اور 1 سے جمع ہو کر دوسرا مفر د بنادیں؟ اس طرح کی کم از کم پانچ مثالیں دیجیے۔
5.3 خزانے کی حفاظت کے لیے ہم مفر د اعداد
کون سے جوڑے محفوظ ہیں؟
آئیے ہم دوبارہ خزانے کی تلاش کے کھیل میں جاتے ہیں۔ اس مرتبہ خزانے دو اعداد پر رکھے ہوئے ہیں۔ جمپی صرف تب ہی خزانے حاصل کر سکتا ہے جب وہ یکساں چھلانگ کے سائز سے دونوں اعداد تک پہنچ جائے۔ یہاں ایک نیا اصول اور ہے۔ سائز 1 کی چھلانگ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
گرمی کو خزانہ اب کہاں رکھنا چاہیے تا کہ جمپی ان دونوں خزانوں تک نہیں پہنچ سکے ؟
کیا 12 اور 26 پر خزانہ رکھنا کام آئے گا؟ نہیں! اگر چھلانگ کا سائز 2 چنا گیا ہے تب جمپی 12 اور 26 پر پہنچ جائے گا۔
4 اور 9 کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جمپی 1 کے علاوہ کسی بھی چھلانگ کا سائز استعمال کر کے دونوں تک نہیں پہنچ سکتا۔
اس لیے گر میسی جانتا ہے کہ 4 اور 9 کا جوڑا محفوظ ہے۔
جانچ کیجیے کہ یہ جوڑے محفوظ ہیں؟
39 2) 15 اور(
(b)
29 18 اور )c(
(d)
محفوظ جوڑوں کے بارے میں کیا خاص بات ہے؟ ان کے پاس 1 کے علاوہ کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہے۔ دو اعداد ایک
دوسرے کے ہم مفرد اعداد تب کہلاتے ہیں جب 1 کے علاوہ ان کا کوئی مشترک جز و ضربی نہ ہو۔
مثال: جیسا کہ 15 اور 39 میں 3 ایک مشترک جزو ضربی ہے، وہ ہم مفر نہیں ہیں۔ لیکن 4 اور 9 ہم مفر د ہیں۔
مندرجہ ذیل جوڑوں میں سے اعداد کے کون سے جوڑے ہم مفرد ہیں؟
415 30 (c) 37 15 اور )b( 35 2) 18 اور( 18 81 اور)( 69 1) 17 اور(
مختلف اعداد کے جوڑوں سے اڈلی وڑا کا کھیل کھیلتے ہوئے ، انشو نے کچھ دلچسپ مشاہدہ کیا !
- 1 کبھی کبھی پہلا مشترک اضعاف دو اعداد کے حاصل ضرب کے برابر تھا۔
- 2 بعض دفعہ پہلا مشترک اضعاف دو اعداد کے حاصل ضرب سے کم تھا۔
ہم مفرد کافن
دیے گئے دھاگوں کے فن (Thread art) کا مشاہدہ کیجیے۔ پہلی تصویر میں 12 کھونٹے ہیں اور ہر ریاضی بات چیت چوتھے مونٹے میں دھا گا باندھا گیا ( ہم کہتے ہیں کہ دھاگے کا فاصلہ 4 ہے) دوسری تصویر میں 13 کھونٹے ہیں اور دھاگے کا فاصلہ اس میں 3 ہے۔ دوسری تصاویر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ان تصویروں کا مشاہدہ کیجیے۔ اپنے نتائج کو جماعت میں شیئر کیجیے اور ان پر بحث کیجیے۔
کچھ تصویروں میں دھا گا ہر کھونٹے میں بندھا ہوا ہے۔ کچھ میں نہیں۔ کیا یہ دو اعداد ( کھونٹوں کی تعداد اور دھاگوں کا فاصلہ ) بحیثیت ہم مفرد کے کوئی تعلق رکھتے ہیں؟
مندرجہ ذیل کے لیے ایسی تصویریں بنائیے:
10 کھونٹے، 7 دھاگوں کے فاصلے سے
آٹھ کھونٹے، 3 دھاگوں کے فاصلے سے
15 کھونٹے ، 10 دھاگوں کے فاصلے سے
14 کھونٹے، 6 دھاگوں کے فاصلے سے
5.4 مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل (Prime Factorisation)
جانچیے اگر دو اعداد ہم مفرد ہیں:
استاد : کیا 56 اور 63 ہم مفرد ہیں؟
انشو اور گونا : اگر 1 کے علاوہ ان کے پاس اور مشترک جزو ضربی ہیں تو وہ ہم مفرد نہیں ہیں۔ آئیے ہم معلوم کرتے ہیں۔
انشو میں 56 = 14 * 4 اور 3 × 21 = 63 لکھ سکتا ہوں۔ اس لیے 14 اور 4، 56 کے جزو ضربی ہیں۔ مزید ، 21 اور 3، 21 کے جزو ضربی ہیں۔ اس لیے کوئی بھی مشترک جزو ضربی نہیں ہے۔ یہ اعداد ہم مفرد اعداد ہیں۔
گونا: ٹھہریئے۔ ہم 56 = 7 * 8 اور 97 63 بھی لکھ سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ 7 دونوں اعداد کا جزو ضربی ہے،
اس لیے یہ ہم مفرد اعداد نہیں ہیں۔
واضح طور پر گو نا صیح ہے کیوں کہ 7 ایک مشترک جز و ضربی ہے۔
لیکن انشو نے کہاں غلطی کی ؟
56 = 14 * 4 لکھنا، ہمیں یہ بتاتا ہے کہ 14 اور 4 دونوں 56 کے جز وضر بی ہیں لیکن یہ میں 56 کے سارے جزو
ضربی نہیں بتاتا۔ یہی بات 63 کے جز وضر بی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
ایک اور مثال سے کوشش کیجیے : 80 اور 63۔ دونوں اعداد کے جز و ضربی کی تحلیل کے مختلف طریقے ہیں۔
80 = 40 * 2 = 20 * 4 = 10 * 8 = 16 * 5 =???
63 = 9 * 7 = 3 * 21 =????
ہم نے ؟؟؟ یہ بتانے کے لیے لکھا ہے کہ ان اعداد کے جزو ضربی بنانے کے اور مختلف طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر دیا گیا کوئی جزو ضربی لیتے ہیں مثال کے طور پر 5 × 16 = 180 اور 63 = 9 * 7 تب وہاں کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہیں۔
کیا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ 80 اور 63 ہم مفرد ہیں؟ جیسا کہ انشو کی غلطی سے ظاہر ہوتا ہے، ہم یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے ہیں کیوں کہ جز وضر بی نکالنے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اور زیادہ منظم طریقہ اپنانا ہو گا۔ معلوم کرنے کے لیے کہ آیاد و اعداد ہم مفرد ہیں۔
مفرد اجزائے ضربی میں تحلیل(Factorisation Prime)
ایک عدد لیتے ہیں جیسے 56۔ یہ ایک مرکب ہے، جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اسے 56 = 4 * 14 کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے، 4 اور 14 دونوں 56 کے جزو ضربی ہیں۔ اب ان میں سے ایک ، جیسے 14 کو لیجیے۔ یہ بھی مرکب ہے اور اس کو 14 = 2 * 7 لکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے - 56 = 4 * 2 * 7 اب 4 مرکب ہے اور 4 = 2 * 2 لکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے 56 = 2 * 2 * 2 * 7 یہاں آنے والے تمام جزو ضربی 2 اور 7 ، مفر داعداد ہیں، اس لیے ہم ان کو مزید تقسیم نہیں
نتیجے کے طور پر ، ہم نے 56 کو مفرد اعداد کے حاصل ضرب کی شکل میں لکھا ہے۔ اسے 56 کی مفرد اجزائے تحلیل کہتے ہیں۔ اس کے انفرادی اجزائے ضربی مفرد اجزائے ضربی کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، 56 کے مفر د اجزائے ضربی 2 اور 7 ہیں۔ ہر عدد جو 1 سے بڑا ہوتا ہے اس کی مفرد اجزائے ضربی میں تحلیل ہوتی ہے۔ یہاں بھی طریقہ وہی اپنایا جاتا ہے کہ مرکب اعداد کو اجزائے ضربی میں اس وقت تک تحلیل کرتے رہیں جب تک کہ صرف مفرد اعداد باقی نہ بچے۔ عدد 1 مفرد اجزائے ضربی میں تحلیل نہیں ہوتا۔ یہ کسی بھی مفرد عدد سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ مفرد عدد جیسے 7 کے مفرد اجزائے ضربی کیا ہیں؟ یہ صرف 7 ہے ( ہم اسے مزید توڑ نہیں سکتے )۔
آیئے ہم کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے ہم 63 کو لکھ سکتے ہیں جیسے 7 3 3 اور 31 × 7 × 3 کیا ۔ مختلف ہیں؟ واقعی نہیں! کیوں کہ دونوں ہی حالتوں میں مفرد اعداد 3 اور 7 ظاہر ہوتے ہیں مزید یہ کہ دونوں حالتوں میں 3 دو مرتبہ آتا ہے اور 7 ایک بار آتا ہے۔ یہاں 36 کے مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل حاصل کرنے کے لیے آپ 4 مختلف طریقے دیکھتے ہیں۔ مشاہدہ کیجیے کہ چاروں حالتوں میں دو 2 اور دو 3 ملتے ہیں۔ دوبارہ ضرب کر کے دیکھیے کہ چاروں صورت حال میں آپ کو واپس 36 ملتا ہے۔
کسی بھی عدد کے لیے یہ ایک غیر معمولی حقیقت ہے کہ صرف ایک مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل ہوتی ہے سوائے اس کے کہ ان کے مفرد جزو ضر بی مختلف ترتیب میں آسکتے ہیں۔ جیسا ہم نیچے واضح کرتے ہیں کہ ترتیب اہم نہیں ہے۔ تاہم، جیسا کہ ہم نے ان مثالوں میں دیکھا کہ اجزائے ضربی تحلیل تک پہنچنے کے مختلف طریقے ہیں۔
کیا ترتیب اہم ہے؟
اس شکل کو استعمال کرتے ہوئے، کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ چاہے 2 ، 3 اور 5 کو ضرب کرنے کا کوئی بھی طریقہ اپنایا جائے،
\mathbb{C} * sqrt(30) = 2 * 2 * 5
جب اعداد کو ضرب دیا جاتا ہے، تو ہم ایسا کسی بھی ترتیب میں کر سکتے ہیں۔ نتیجہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے جب دو 2 اور دو 3 کو کسی بھی ترتیب میں ضرب دیا جاتا ہے، تو ہمیں 36 حاصل ہوتا ہے۔ آگے کی جماعت میں ہم اس کو ضرب کی تقلیبی اور
کے تحت پڑھیں گے۔ )Community and associativity of multiplication( مناسبتی خصوصیت
اس لیے ترتیب اہم نہیں ہے، عموما ہم مفرد اعداد کو بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھتے ہیں۔
30 = 2 * 3 * 51 یا 225 = 3 * 3 * 5 * 5 پر طور کے مثال
دو اعداد کے حاصل ضرب کے مفرد اجزائے ضربی
جب ہم کسی عدد کے مفرد اجزائے ضربی معلوم کرتے ہیں تو پہلے ہم اسے دو اجزائے ضربی کے حاصل ضرب کی شکل میں لکھتے ہیں مثال کے طور پر 72 = 12 * 6 پھر ہم ہر جز و ضربی کے مفرد اجزائے ضربی نکالتے ہیں۔ اوپر دی گئی مثال میں 3 12= 2 * 2 * اور 6 = 2 * 31 ہے۔ کیا آپ اب 72 کے مفر واجزائے ضربی بتا سکتے ہیں؟
اصل عدد کے مفرد اجزائے ضربی حاصل کرنے کے لیے ان دونوں اعداد کے اجزائے ضربی کو اکٹھا کر لیتے ہیں۔
72 = 2 * 2 * 3 * 2 * 3
ہم اس کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں 3 × 3 × 2 × 2 × 2 اسے ضرب کر کے جانچ لیجیے آپ کو دوبارہ 72 حاصل ہوتا ہے !
مشاہدہ کیجیے کہ 72 کے اجزائے ضربی میں ہر فر د جز وضر بی کتنی مرتبہ ظاہر ہوا ہے۔
اس کا موازنہ کیجیے کہ 12 اور 6 کے اجزائے ضربی کی تحلیل میں یہ کتنی مرتبہ آتا ہے۔
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل اعداد کے مفر و اجزائے ضربی نکالیے :
105, 243, 320, 141, 1728, 729, 1024, 1331, 1000
2 ایک عدد کے مفرد اجزائے ضربی میں ایک 2 ، دو 3 اور ایک 11 ہے۔ وہ عدد کیا ہے؟
3 تین مفر داعداد معلوم کیجیے جو 30 سے چھوٹے ہیں اور جن کا حاصل ضرب 1955 ہے۔
4 پہلے بغیر ضرب کیے، ان اعداد کے اجزائے ضربی معلوم کیجیے۔
a. 56 x 25
b. 108 x 75
c. 1000 x 81
5 وہ سب سے چھوٹا عدد کونسا ہے جس کے مفرد اجزائے ضربی میں:
- تین مختلف مفرد اعداد ہوں۔
- چار مختلف مفر داعداد ہوں۔
اعداد کے مطالعے میں مفرد اجزائے ضربی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آئیے ہم ان دو طریقوں پر بات کرتے ہیں، جن میں ی مفید ہو سکتے ہیں۔
مفرد اجزائے ضربی کا استعمال کرتے ہوئے ہم مفرد اعداد کی جانچ کریں
آئیے ہم ایک بار پھر اعداد 56 اور 63 کو لیتے ہیں۔ ہم کیسے جانچ سکتے ہیں کہ وہ ہم مفرد ہیں؟ ہم دونوں اعداد کے مفرد اجزائے
ضربی معلوم کر سکتے ہیں۔
633×3×7 56 × 2 × 2 × 2 = 56 اور
اب ہم دیکھتے ہیں کہ 7، 56 اور 63 دونوں کا مفرد جز و ضربی ہے۔ اس لیے 56 اور 63 ہم مفرد نہیں ہیں۔
80 اور 63 کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ان کے مفر د اجزائے ضربی کی تحلیل درج ذیل ہیں:
63 = 3×3×7 5×2×2×2 × 2 = 80 اور
ان میں کوئی مشترک جز و ضربی نہیں ہے۔ کیا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ ہم مفرد ہیں؟ مان لیجیے ان میں ایک مشترک جز و ضربی ہے جو مرکب ہے۔ تو کیا اس مرکب مشترک جزو ضربی کے مفرد اجزائے ضربی 80 اور 63 کے مفرد اجزائے ضربی میں ظاہر ہو رہے ہیں یا نہیں؟
اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی مشترک مفرد جز و ضربی نہ ہو تب دو اعداد ہم مفر د ہوتے ہیں۔
آیئے ہم کچھ مثالیں دیکھتے ہیں۔
مثال: 40 اور 231 پر غور کیجیے۔ ان کی مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل درج ذیل ہیں:
مثال: 40 اور 231 پر غور کیجیے۔ ان کی مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل درج ذیل ہیں:
231 = 3 * 7 * 11 اور 40 = 2 * 2 * 2 * 5
ہم دیکھتے ہیں کہ 40 اور 231 دونوں کو تقسیم کرنے والے کوئی مشترک مفردات نہیں۔
در حقیقت 40 کے مفرد اجزائے ضربی 2 اور 5 ہیں جب کہ 231 کے مفرد اجزائے ضربی 3 ، 7 اور 11 ہیں اس لیے 40
اور 231 ہم مفرد ہیں!
مثال: 242 اور 195 پر غور کیجیے۔ ان کے مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل درج ذیل ہیں:
195 = 3 * 5 * 13 اور 242 = 2 * 11 * 11
242 کے مفرد اجزائے ضربی 2 اور 11 ہیں۔ 195 کے مفرد اجزائے ضربی 3, 5 اور 13 ہیں۔ اس میں کوئی مشترک
مفرد اجزائے ضربی نہیں ہے۔ اس لیے 242 اور 195 ہم مفرد ہیں۔
مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل کا استعمال کر کے یہ جانچنا کہ آیا ایک عدد دوسرے عدد سے قابل تقسیم ہے
ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب ایک عدد دوسرے عدد سے تقسیم ہوتا ہے تو دوسرے عدد کا مفرد اجزائے ضربی پہلے عدد کے مفرد
اجزائے ضربی میں شامل ہے۔
مثال: کیا 168 ، 12 ست تقسیم ہو جاتا ہے ؟ دونوں کے مفر د اجزائے ضربی معلوم کیجیے۔
اور 168 = 2 * 2 * 2 * 3 * 7 12 = 2 * 2 * 3
کیوں کہ ہم ان کو کسی بھی ترتیب میں ضرب دے سکتے ہیں تو یہ واضح ہے کہ، 168 = 2 * 2 * 3 * 2 * 7 = 12 * 14
اس لیے 168 ، 12 سے تقسیم ہو جائے گا۔ ۔
مثال: کیا 75 کو 21 تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ دونوں کے مفر د اجزائے ضربی معلوم کیجیے۔
21 = 3 × 7 5 × 5 × 3 = 75 اور
اوپر کی بحث سے ہم نے دیکھا، اگر 75، 21 کا ضعف ہوتا تو 21 کے سارے مفرد اجزائے ضربی بھی 75 کے مفرد اجزائے ضربی ہوتے۔ حالاں کہ 7، 21 کا جزو ضربی ہے مگر 75 کا جزو ضربی نہیں ہے۔ اس لیے 75 کو 21 سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثال: کیا 42 کو 12 تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ دونوں کے مفر داجزائے ضربی معلوم کیجیے:
122 x 2 x 3 7×3× 2 = 42 اور
12 کے سارے مفرد اجزائے ضربی 42 میں بھی شامل ہیں۔ لیکن 12 کے مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل 42 کے اجزائے
ضربی کی تحلیل میں شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 12 کے مفرد اجزائے ضربی میں 2 دوبار ہے لیکن 42 کے مفرد اجزائے ضربی میں یہ صرف ایک بار آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 42 کو 12 سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں اگر ایک عدد دوسرے عدد سے قابل تقسیم ہے تو دوسرے عدد کے مفر د اجزائے ضربی پہلے عدد کے مفرد اجزائے ضربی میں شامل ہے۔
1 کیا نیچے دیئے گئے اعداد کے جوڑے ہم مفرد ہیں؟ پہلے اندازہ لگائیے اور پھر مفر د اجزائے ضربی کی تحلیل کے استعمال سے اپنے جواب کی تصدیق کیجیے :
45 30 اور (a) (c) 85 57 اور (b) 1331 121 اور (d)
2 کیا پہلا عدد دوسرے عدد سے قابل تقسیم ہے؟ مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل کا استعمال کیجیے :
(a) 27 2252 اور (c) (b) 17 343 اور 99 999 اور (d) 3 پہلے عدد کا مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل 2x3x7 ہے اور دوسرے عدد کے مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل 3x7x11 ہے۔ کیا یہ ہم مفرد ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی دوسرے کو تقسیم کرتا ہے؟
4 گونا کہتا ہے " کوئی دو مفر دعدد، ہم مفر د ہوتے ہیں ؟ کیا وہ صحیح ہے؟
5.5 تقسیم پذیری کی جانچ (Divisibility Tests)
اب تک ہم مختلف سیاق و سباق میں اعداد کے اجزائے ضربی کی تحلیل تلاش کرتے رہے ہیں، بشمول یہ تعین کرنا کہ اعداد مفرد ہیں یا نہیں، یا آیا دیے گئے اعداد کا جوڑا ہم مفر د ہے یا نہیں۔
چھوٹے اعداد کے جز وضربی معلوم کرنا آسان ہے۔ ہم بڑے اعداد کے جز و ضربی کیسے معلوم کرتے ہیں؟
آئیے ہم 8560 کو لیتے ہیں۔ کیا اس میں 2 سے 10 (2، 3، 4، 5، 9، 10 ) کے درمیان کوئی جزو ضربی ہیں؟
کچھ اعداد کے جزو ضر بی ہم آسانی سے لمبی تقسیم کے بغیر معلوم کر سکتے۔ کیا آپ ان کو معلوم کر سکتے ہیں؟
10 کے ذریعے تقسیم پذیری
ہے آئیے ہم 10 کو لیتے ہیں۔ کیا 8560 کو ہم 10 سے تقسیم کر سکتے ہیں؟ یہ پوچھنے کا دوسرا طریقہ ہے کہ کیا 10، 8560 کا جز ضربی ہے۔
اس کے لیے ہم 10 کے اضعاف کے پیٹرن میں دیکھ سکتے ہیں۔ 10 کے کچھ ابتدائی اضعاف ہیں:
10، 20، 40،30.....، تواتر کو جاری رکھیے اور پیٹرن پر غور کیجیے۔
کیا 10،125 کا اضعاف ہے؟ کیا یہ عدد پچھلے تو اتر میں ظاہر ہو گا؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
اب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ 8560 کو 10 تقسیم کیا جاسکتا ہے؟
اس بیان پر غور کیجیے:
اعداد جو 10 سے تقسیم ہو سکتے ہیں، وہ ہیں جن کے آخر میں عدد 0 ہوتا ہے۔ کیا آپ اس متفق ہیں؟
5 کے ذریعے تقسیم پذیری
5 وہ دوسرا عدد ہے جس کی تقسیم پذیری کی جانچ بہ آسانی کی جا سکتی ہے۔ یہ ہم کیسے کرتے ہیں؟
دی گئی فہرست میں موجود اضعاف پر غور کیجیے : 5، 10، 15، 20، 25، ..... آپ ان اعداد کے بارے میں کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا آخری ہند سے میں آپ کوئی پیٹرن دیکھتے ہیں؟
399 سے چھوٹا سب سے بڑا اعدد کیا ہے جو 5 سے تقسیم ہو سکتا ہے؟ کیا 8560 کو 5 سے تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ اس بیان پر غور کیجیے
اعداد جو 5 تقسیم ہو سکتے ہیں وہ ہیں جن کے آخر میں 10 یا 5 ہوتا ہے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
2 کے ذریعے کی گئی تقسیم پذیری
اس بیان پر غور کیجیے
اعداد جو 5 تقسیم ہو سکتے ہیں وہ ہیں جن کے آخر میں 10 یا 5 ہوتا ہے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
2 کے ذریعے کی گئی تقسیم پذیری
2 کے ابتدائی چند اضعاف یہ ہیں: 2، 4، 6، 8، 10، 12 ، 14 ، 16 ، 18 ، 20... آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا آخری
ہند سے میں آپ کوئی پیٹرن دیکھتے ہیں؟ کیا 682 کو 2 سے تقسیم کیا جا سکتا ہے؟
کیا ہم بغیر لبی تقسیم کے اس کا جواب دے سکتے ہیں؟ کیا 8560 کو 2 تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
اس بیان پر غور کیجیے
ہوتا ہے۔ کیا اعداد جو 2 سے تقسیم ہو سکتے ہیں وہ ہیں جن کے آخر میں 0، 2، 4، 6، یا 8 ہوتا ہے۔ کیا آپ
آپ
اس سے متفق ہیں؟
399 اور 411 کے درمیان آنے والے 2 کے سارے اضعاف کیا ہیں؟
4 کے ذریعے تقسیم پذیری
معلوم کرتے ہیں کہ اگر کوئی عدد جو 4 سے قابل تقسیم ہے، کیا اسے آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے ! اس کے اضعاف کو دیکھیے:
.....32،28،24 ،20 ،16،12،8،4
کیا آپ کو کوئی ایسا پیٹرن نظر آرہا ہے جو اس کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ 10 ، 5 اور 2 کے اضعاف اعداد کے آخر میں ایک خاص ترتیب نظر آتی ہیں جنھیں ہم تقسیم پذیری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کیا کسی بھی اعداد کا آخری ہندسہ دیکھ کر ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ 4 سے تقسیم ہو سکتا ہے؟
یہ کام نہیں کرے گا! 12 اور 22 کو دیکھیے، ان کے بھی آخری ہند سے یکساں ہیں لیکن 12 ، 4 کا اضعاف ہے لیکن 22 نہیں ہے۔ اسی طرح 14 اور 24 کا آخری ہندسہ یکساں ہے لیکن 14 ، 4 کا اضعاف نہیں ہے جب کہ 24 ہے۔ اسی طرح 16 اور 26 یا 18 اور 28 کا معاملہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اعداد کے آخری ہند سے دیکھ کر ہم ہی علوم نہیں کر سکتے ہیں کہ وہ عدد 4 کا ضعف ہو سکتا ہے یا نہیں۔
کیا ہم مزید ہند سے دیکھ کر اس سوال کا جواب معلوم کر سکتے ؟ 1 سے 200 کے درمیان 4 کے اضعاف کی فہرست بنائیے
330 اور 340 کے درمیان وہ اعداد معلوم کیجیے جو 4 سے تقسیم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح 1730 سے 1740 کے درمیان اور 2030 سے 2040 کے درمیان وہ اعداد معلوم کیجیے جو 4 سے تقسیم ہو سکتے ہیں۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا 8536 کو 4 سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ان بیانات پر غور کیجیے
1. یہ طے کرنا ہو کہ کوئی عدد 4 سے تقسیم ہوتا ہے یا نہیں تو صرف آخر کے دو ہند سے اہمیت رکھتے ہیں۔
2 اگر آخری دو ہندسوں سے بنا ہوا عدد 4 سے تقسیم ہو جاتا ہے تو اصل عدد بھی 4 سے قابل تقسیم ہے۔
3 اگر اصل عدد 4 سے تقسیم ہوتا ہے تو آخری دو ہندسوں سے بنا عدد بھی 4 سے قابل تقسیم ہے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
8 کے ذریعے تقسیم پذیری
دلچسپ بات یہ ہے کہ 8 سے تقسیم پذیری کی جانچ کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ کیا آخری دو ہندسوں کو اس کے لیے استعمال
کیا جا سکتا ہے؟
120 سے 140 کے درمیان ایسے اعداد تلاش کیجیے جو 8 سے تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی طرح 1120 سے 1140 اور 3120 سے 3140 کے درمیان بھی ایسے اعداد تلاش کیجیے جو 8 سے تقسیم ہوتے ہیں۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ؟
8560 کے آخری دو ہندسوں کو اس طرح بدل دیجیے کہ حاصل ہونے والا عدد 8 کا ضعف ہو۔
1. اگر یہ طے کرنا ہو کہ کوئی عدد 8 تقسیم ہوتا ہے یا نہیں تو صرف آخر کے تین ہند سے اہمیت رکھتے ہیں۔
2 اگر آخری تین ہندسوں سے بنا ہوا عدد 8 سے تقسیم ہو جاتا ہے تو اصل عدد بھی 8 سے قابل تقسیم ہے۔
3. اگر اصل عدد 8 تقسیم ہو جاتا ہے تو آخری تین ہندسوں سے بنے والا عد د بھی 8 سے قابل تقسیم ہے۔
ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ہم نے 10 ،2،5، 4، 8 سے تقسیم پذیری کے کچھ آسان طریقوں کا مشاہدہ کیا۔ کیا ہمارے پاس دوسرے اعداد کے لیے بھی ایسے ہی آسان طریقے ہیں؟ ہم آگے آنے والی جماعتوں میں 6،3، 7 اور 9 کی تقسیم پذیری کی جانچ کرنے کے آسان طریقوں پر گفتگو کریں گے!
4 کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
ہم نے یہ دیکھا کہ کوئی عدد کسی کا جز و ضربی ہے یا نہیں، اس کی جانچ کرنے کے لیے لمبی تقسیم کی ہمیشہ
معلوم کیجیے
1 2024 ایک لیپ سال (جیسا کہ فروری کے 29 دن ہوتے ہیں) ہے۔ لیپ سال ہر چار سال بعد آتا ہے۔ لیپ سال وہ ہیں جو 4 کے ضعف ہیں ، سوائے ان سالوں کے جو 100 سے مکمل تقسیم ہوتے ہیں لیکن 400 سے نہیں۔
.a
آپ کی پیدائش کے سال سے اب تک کتنے لیپ سال آئے ہیں؟
.b سال 2024 سے 2099 تک کتنے لیپ سال ہیں؟
سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے 4 ہندسوں والے اعداد معلوم کیجیے جو 4 تقسیم ہوتے ہیں اور وہ مقلوب مستوی
بھی ہوں۔ )Palindromes(
دریافت کیجیے اور بتائیے کہ ہر بیان ہمیشہ صیح ہے، کبھی کبھی صحیح ہے، کبھی صحیح نہیں ہے۔ آپ اپنے جواب کے حق میں کچھ مثالیں دے سکتے ہیں۔
دو جفت اعداد کا حاصل جمع 4 کا ضعف دیتا ہے۔
دو طاق اعداد کا حاصل جمع 4 کا ضعف دیتا ہے۔
مندرجہ ذیل اعداد جب 2-10-5- تقسیم کیے جاتے ہیں تو حاصل تفریق (Remainders)
4
تلاش کیجیے
78, 99, 173, 572, 980, 1111, 2345
5. استاد نے پوچھا کیا 14560 کو 2، 4، 5، 8 اور 10 تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ گونا نے 14560 کی تقسیم پذیری کو صرف ان میں سے دو اعداد سے جانچا اور اعلان کر دیا کہ یہ عدد تمام سے تقسیم ہو سکتا ہے۔ وہ دو عدد کون سے ہو سکتے ہیں؟
مندرجہ ذیل میں کون سے اعداد 2، 4، 5، 8 اور 10 تقسیم ہو جائیں گے؟
572, 2352, 5600, 6000, 77622160.
دو ایسے عدد لکھیے جن کا حاصل ضرب 10000 ہو ۔ ان دونوں اعداد کی اکائی کے ہند سے میں نہیں ہونا چاہیے۔
5.6 اعداد کے ساتھ تفریح
مخصوص اعداد
اس خانے میں چار اعداد دیئے گئے ہیں۔ آپ کو کون ساعد د خاص معلوم ہوتا ہے؟ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟
دیکھیے گونا کے ہم جماعتوں نے کیا بتایا :
- کرناوتی کہتی ہے : "9 خاص ہے کیوں کہ یہ ایک ہندسی عدد ہے جب کہ باقی تمام دو ہند سی عدد ہیں۔“
- گرو پریت کہتی ہے : "9 خاص ہے کیوں کہ یہ واحد عدد ہے جو 3 کا ضعف ہے۔“
- مروگن کہتا ہے : "16" خاص ہے کیوں کہ یہ واحد جفت عدد ہے اور 4 کا ضعف بھی ہے۔“
- گو پر کا کہتی ہے : "25 خاص ہے کیوں کہ یہ واحد عدد ہے جو 5 کا ضعف ہے۔“
- یاد ینکی کہتی ہے: "43 خاص ہے کیوں کہ یہ واحد مفرد عدد ہے“۔
- رادھا کہتی ہے: "43 خاص ہے کیوں کہ یہ واحد عدد ہے جو مربع عدد نہیں ہے“۔
بائیں جانب کی شکل معمے کو دکھاتی ہے۔ دائیں جانب کی شکل معمے کا حل بتاتی ہے سوچیے کہ معمے کو حل کرنے کے لیے اصول کیا ہو سکتے ہیں؟ ایک مفرد معمہ
گرڈ کو مفرد اعداد سے اس طرح پر کیجیے کہ ہر ایک قطار کا حاصل ضرب ہر قطار کے دائیں طرف موجود عدد ہو اور ہر کالم کا حاصل ضرب کالم کے نیچے والا عدد ہو ؟ اصول
خلاصه
- اگر ایک عدد دوسرے عدد سے تقسیم ہوتا ہے تو دو سر اعدد پہلے کا جزو ضربی ہے۔ مثال کے طور پر 4 ،12 کا جز و ضربی ہے کیوں کہ 12 کو 4 تقسیم کیا جاسکتا ہے (3 = 4 : 12)۔
- مفرد اعداد ( Prime numbers) وہ اعداد ہیں جیسے 2 ، 3 ، 5 ، 7 ، 11 ..... جن کے صرف دو جز و ضربی ہیں یعنی 1 اور خود وہ عدد
- مرکب اعداد ( Composite numbers) وہ ہوتے ہیں جیسے 4، 6، 8، 9 ... وغیرہ جن کے 2 سے زیادہ جزو ضربی ہیں، یعنی 1 اور خود کے علاوہ کم سے کم ایک جزو ضر بی مثال کے طور پر 8 کا جزو ضربی 4 ہے اور 9 کا جزو ضربی 3 ہے، اس لیے 8 اور 9 دونوں مرکب اعداد ہیں۔
- ہر عدد جو 1 سے بڑا ہے اسے مفر د اعداد کے حاصل ضرب کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ یہ اسے مفرد اجزائے ضربی کی تحلیل 84 = 2 * 2 * 3 * 7 پر طور کے مثال ۔ جاتاہے کہا )Prime factorisation(
- اضعاف کی ترتیب کے علاوہ مفردات میں اجزائے ضربی معلوم کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے۔
- دو اعداد جن کے درمیان 1 کے علاوہ کوئی اور مشترک جزو ضربی نہیں ہوتا، ہم مفرد (Co-prime) کہلاتے ہیں۔
- معلوم کرنے کے لیے کہ دو عدد ہم مفرد ہیں یا نہیں سب سے پہلے ہم ان کے مفرد اجزائے ضربی معلوم کر سکتے ہیں۔ پھر اس میں دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی مشترک جزو ضربی ہے یا نہیں۔ اگر کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہے تو وہ ہم مفرد ہیں ورنہ نہیں۔
- ایک عدد دوسرے عدد کا جز وضر بی ہوتا ہے جب پہلے عدد کی اجزائے ضربی کی تحلیل میں دوسرے عدد کی اجزائے ضربی کی تحلیل شامل ہو۔