7
کسری اعداد
(Fractions)
یاد کیجئے جب چیزوں کی مکمل تعداد کچھ لوگوں میں برابر حصوں میں بانٹی جاتی ہیں، تو ہمیں کسری اعداد بتاتے ہیں کہ ہر حصے کی مقدار کتنی ہے۔
کیا آپ کو یاد ہے ، اگر ایک روٹی دو بچوں کے بیچ برابر حصوں میں تقسیم کی جاتی ہے تو ہر بچے کو کتنی روٹی ملے گی ؟ شبنم
سکتا۔ ہر بچے کو آدھی روٹی ملے گی۔ شبنم کسری اعداد (Fraction) نصف کو لکھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ہم 2
اسے ایک بٹادو بھی پڑھتے ہیں۔ سکتا۔ اگر ایک روٹی 4 بچوں کے بیچ برابرتقسیم کی جاتی ہے، تو ہر ایک بچہ کو کتنی روٹی
ملے گی؟
شبنم ہر بچے کے حصے میں 1/4 روٹی آئے گی۔
مکتا اور کون ساز یادہ ہے 3 روٹی یا روٹی؟
شبنم جب 2 بچوں کے بیچ میں 1 روٹی برابر حصوں میں تقسیم کی جاتی ہے، تو ہر بچے کو روٹی ملے گی۔ جب 1 روٹی 4 بچوں کے بیچ میں تقسیم کی جائے گی توہ ہر بچے کے حصے میں لے روئی آئے گی۔
دوسرے گروپ میں یہ ایک روٹی زیادہ بچوں میں تقسیم کی جاتی ہے، اس گروپ کے ہر بچے کو کم حصہ ملتا ہے، اس لیے کی روٹی کے روٹی سے زیادہ ہے۔
7.1 کسری اکائیاں اور برابر کے حصے
بینی کون سا کسری عدد بڑا ہے ؟ یا ؟
ارون 59 سے بڑا ہے۔ تو میرا اندازہ ہے کہ 3 سے بڑا ہو گا۔ کیا میں صحیح ہوں؟
بینی نہیں ! یہ ایک عام غلطی ہے۔ ان کسری اعداد کو حصوں کی طرح سوچو۔
ارون اگر ایک روٹی 5 بچوں میں تقسیم کی گئی تو ہر ایک کے حصے میں روئی آئے گی۔
اگر ایک روٹی 9 بچوں میں تقسیم کی جاتی ہے تو ہر ایک کے حصے میں 3 روٹی آئے گی۔
بینی بالکل صحیح اب دوبارہ سوچو۔ کون سا حصہ زیادہ ہو گا؟ سا
ارون اگر میں زیادہ لوگوں کے ساتھ تقسیم کروں گا تو مجھے کم ملے گی۔ اس لیے 1 - 1 -
بینی تم سمجھ گئے!
جب ایک اکائی کو کئی برابر حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، تو ہر حصہ کسری اکائی (Fractional unit) کہلاتا ہے۔ یہ بھی کسری اکائیاں ہیں:
'10'.. 100، وغیرہ۔ ،... ، ... '50'... کبھی کبھی کسری اکائیوں کو ہم، کسری اعداد بھی کہتے ہیں۔
کبھی کبھی کسری اکائیوں کو ہم، کسری اعداد بھی کہتے ہیں۔
معلوم کیجیے
خالی جگہوں کو کسری اعداد سے پر کیجیے۔
- 1 چار امرود کا وزن ایک کلو گرام ہے۔ اگر موٹے طور پر وہ ایک ہی سائز کے ہیں، تو ہر امرود کاوزن کلو گرام ہو گا۔
- 2 ایک تھوک سامان کا تاجر ایک کلو گرام چاول کو برابر وزن کے چار پیکٹ میں پیک کرتا ہے۔ ہر ایک پیکٹ کا وزن کلو گرام ہو گا۔
کسری اعداد کا نام اور استعمال ہندوستان میں قدیم زمانے سے ہوتا آرہا ہے ۔ رگ وید میں کسری اعداد کو تری پدا“ کہا گیا ہے۔ اس کا وہی مطلب ہے جو آج بھی بہت سی ہندوستانی زبانوں میں کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثال کے طور پر ہندی بول چال کی زبان میں ، تین پاؤ اور تمل میں مکال (Mukkaal)۔ در حقیقت آج بہت سی ہندوستانی زبانوں میں استعمال ہونے والے کسری اعداد کے الفاظ قدیم زمانے سے چلے آرہے ہیں۔
معلوم کیجیے کہ آپ کے گھر ، شہر یا صوبہ میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں کسری اعداد کے لیے کون سے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اپنے دادا دادی، والدین، اساتذہ اور ہم جماعتوں سے پوچھیے کہ وہ مختلف کسری اعداد کے لیے کون سے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ ڈیڑھ تین چوتھائی ، سوا، آدھا، پاؤ اور اڑھائی اور انھیں یہاں لکھیے:
5 ذیل میں خالی خانوں میں چھوٹے سے بڑے تک کسری اعداد کے الفاظ کو سائز کے اعتبار سے ترتیب دیجیے : ایک اور آدھا، تین چوتھائی، ایک اور ایک چوتھائی ، آدھا، پاؤ اور اڑھائی۔
7.2 کسی مکمل کے حصے کی شکل میں کسری اکائیاں
یہ تصویر ایک مکمل چکی کو ظاہر کرتی ہے۔
نیچے ایک مکمل چکی کو دو برابر حصوں میں توڑنے کی تصویر دکھائی گئی ہے۔ اصل چکی کا ہر حصہ کتنا ہو گا ؟
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بڑے حصے میں چکی والے 3 ٹکڑے ہیں ۔ اس لیے ہم بڑے ٹکڑے کو کسری اکائی کا استعمال کر کے ناپ سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ بڑا ٹکڑا چکی ہے۔ 1/4 3/4
سندرجہ ذیل تصویریں مکمل چکی کے مختلف کسری اکائیوں کو دکھاتی ہیں۔ مکمل چکی کا ہر حصہ کتنا ہو گا ؟
7.3 کسری اکائیوں کا استعمال کرتے ہوئے پیمائش
کاغذ کی ایک پٹی لیجیے۔ ہم اس کاغذ کی پٹی کو ایک اکائی لمبی تصور کرتے ہیں۔
پٹی کو دو برابر حصوں میں موڑیئے اور پھر اس پٹی کو دوبارہ کھو لیے ۔ اگر پٹی کی لمبائی ایک اکائی مان لی جائے تو کریز کے ذریعے بنے والی پٹی کے دو نئے حصوں کی لمبائی کیا ہو گی؟
اگر آپ پہلے سے موڑی ہوئی پٹی کو دوبارہ دو برابر حصوں میں موڑتے ہیں تو آپ کو کیا حاصل ہو گا ؟ آپ کو اب چار برابر حصے ملیں گے۔
اس کو ایک بار پھر سے دہرائیے! اور خالی جگہ کو بھر لیے۔
کسری اکائیوں کو ایک ساتھ جمع کر کے ہم بتا سکتے ہیں کہ مقدار کتنی ہے۔
معلوم کیجیے
- 1 کے اس جدول کو مزید 2 مراحل تک جاری رکھیے۔
- 2 کیا آپ کے لیے ایسا ہی جدول بنا سکتے ہیں؟
- 3 کاغذ کی بیٹی کا استعمال کر کے لیے بنائیے۔ کیا اس پٹی کا استعمال آپ کے بنانے میں کر سکتے ہیں؟
- 4 ایک تصویر بنائیے اور مندرجہ ذیل کو دکھانے کے لیے اوپر کی طرح ایک اضافی بیان لکھیے :
ایک روٹی کا 7 ، 9 مرتبہ ۔
5 ہر ایک کسری اکائی کو اس کی صحیح تصویر سے ملائیے :
36 4 ہم عام م طور پر کسری عدد کو تین چوتھائی یا تین بٹا چار پڑھتے ہیں، لیکن اس کو 3 بار 1 پڑھنے سے ہمیں کسری عدد کے سائز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیوں کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسری اکائی (1) کیا ہے اور ایسی کتنی کسری اکائیاں ہیں۔
کسری اکائی کے تصور کو سمجھنے کے لیے بچوں کو مختلف شکلوں جیسے دائرے، مربع، مستطیل، مثلث کے ذریعے مواقع فراہم کیجیے۔
7.4 کسری لمبائی کی عددی خط پر نشاندہی
ہم نے عددی خط پر 1 ، 2 ، 3 ..... اکائیوں کے برابر لمبائیاں نشان زد کی ہیں۔ اب ہم عددی خط پر کسری اکائیوں کے برابر لمبائیوں کونشان زد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نیلے خط کی لمبائی کیا ہے؟ نیلے خط کی لمبائی بتانے والے کسری عدد کو خالی خانے میں لکھیے۔
0 اور 1 کے بیچ کا فاصلہ ایک اکائی طویل ہے۔ اسے دو برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس لیے ہر حصے کی لمبائی 1/2 اکائی ہے۔ اس لیے یہ نیلا خط 1/2 اکائی لمبا ہے۔
اب، کیا آپ مندرجہ ذیل مختلف نیلے خطوط کی لمبائی بتا سکتے ہیں؟ خالی خانوں کو بھی پر کیجیے۔
1. یہاں پر کسری اکائی 1 کائی لمبائی کو تین برابر حصوں میں تقسیم کر رہی ہے۔ خالی خانے یا اپنی کاپی میں نیلے خط کی لمبائی بتانے والا کسری اعداد کو لکھیے۔
یہاں پر ایک اکائی کو پانچ برابرحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے متعلقہ خانوں میں یا اپنی کاپی میں نیلے خطوط کی لمبائی بتانے والا کسری عدد لکھیے۔
اب ایک اکائی 8 برابر حصوں میں تقسیم ہے۔ صحیح کسری اعداد کو اپنی کاپی میں لکھیے۔
معلوم کیجیے
31 6 1. ایک عددی خط پر ، اور کی لمبائی کے خطوط بنائیے۔ ، 10
2 اپنی پسند کے 5 اور کسری اعداد لکھیے اور ان کو عددی خط پر ظاہر کیجیے۔
با
3 0 اور 1 کے درمیان کتنے کسری اعداد آتے ہیں، اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بحث کیجیے اور اپنا جواب لکھیے۔
4 ذیل میں دیا گیا نیلا خط اور سیاہ خط کی لمبائی کیا ہے ؟ 0 اور 1 کے درمیان کی لمبائی ایک اکائی ہے، اور اسے دو برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصے کی لمبائی ہے۔ اس لیے نیلا خط اکائی لمبا ہے، خالی خانے میں سیاہ خط کی لمبائی کے کسری اعداد لکھیے۔ 1/2
5 متعلقہ خالی خانوں میں سیاہ خطوط کی لمبائی کا کسری عدد لکھیے۔
بورڈ پر یہ خط کھینچے اور طلبا سے اپنی نوٹ بک میں جواب لکھنے کو کہیے۔
7.5 مخلوط کسری اعداد
ایک سے بڑے کسری اعداد
آپ نے پہلے عددی خط پر کچھ کسری اعداد کو نشان زد کیا تھا، کیا آپ نے محسوس کیا کہ سبھی نیلے خطوط کی لمبائیاں ایک سے کم تھیں اور
سبھی سیاہ خطوط کی لمبائیاں ایک سے زیادہ تھیں؟
ان سبھی کسری اعداد کو لکھیے جنھیں آپ نے عددی خط پر پہلے نشان زد کیے تھے۔
اب آئیے ! ہم ان کو دو گروہ میں بانٹتے ہیں:
| ایک اکائی سے کم لمبائیاں | ایک اکائی سے زیادہ لمبائیاں |
کیا آپ نے 1 سے بڑے کسری اعداد میں کچھ یکساں دیکھا؟
1اکائی سے چھوٹے کسری اعداد میں شمار کنندہ (Numerator)، نسب نما (Denominator) سے چھوٹا ہوتا ہے،
جب کہ 1 ا کائی سے بڑے کسری اعداد میں شمار کنندہ، نسب نما سے بڑا ہوتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ 5/2, 3/2 اور 7/2 اکائی سے بڑے ہیں لیکن کیا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان سب میں کتنی مکمل اکائیاں ہیں؟
3/2 = 1/2 + 1/2 + 1/2 = 1 + 1/2
5/2 = 1/2 + 1/2 + 1/2 + 1/2 + 1/2 = 2 + 1/2
معلوم کیجیے
- 1 میں کتنی مکمل اکائیاں ہیں؟
- 4 2 اور 3 میں کتنی مکمل اکائیاں ہیں؟
ہم نے نے دیکھا ہے کہ - 3/2 = 1 + 1/2
ہم دوسرے کسری اعداد کو بھی اسی طرح سے لکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر،
4/3 = 1/3 + 1/3 + 1/3 + 1/3 = 1 + 1/3
3 * 1/3 = 1
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل کسری اعداد میں ہر ایک کی مکمل اکائیوں کی تعداد معلوم کیجیے :
a. 8/3
b. 11 /5
C. 9/4
ہم نے دیکھا کہ
8/3 = 2 + 2/3
مخلوط عدد
کسری عدد
اس عدد کو دو اور دو تہائی بھی کہا جاتا ہے۔ ہم اسے 2 لکھ سکتے ہیں۔
2 کیا تمام کسری اعداد جو 1 سے بڑے ہوں، انھیں مخلوط اعداد میں لکھا جا سکتا ہے؟
درج ذیل کسری اعداد کو مخلوط کسری اعداد کے طور پر لکھیے۔ (مثال 4 = 2)
a.9/2
b.9/5
с. 21 /19
d.47/ 9
e. 12/ 11
f. 19/ 6
ہاں ! میں نے مخلوط عدد کو عام کسری عدد کی شکل میں لکھنے کا ایک طریقہ نکالا ہے۔
7.6 مساوی کسری اعداد
ایک کسری دیوار کا استعمال کر کے مساوی کسری لمبائیوں کو نکالنا !
پچھلے حصے میں، آپ نے کاغذ موڑنے کی ترکیب کا استعمال کر کے مختلف کسری اعداد کو کسری اکائیوں کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ آئیے ہم اسی طرح کے کاغذ کی پٹیوں سے کچھ اور سرگرمیاں کرتے ہیں۔
آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
- کیا اور لمبائیاں برابر ہیں؟ 2/4 1/2
- کیا 2/4 لمبائیاں برابر ہیں؟ 4/8
- ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1/2 = 2/4 = 4/8
یہ سب مساوی کسری اعداد ہیں، جو ایک جیسی لمبائی کو دکھاتے ہیں، لیکن انھیں مختلف کسری اکائیوں کے لحاظ سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ کاغذ کی پیٹیوں کا استعمال کرتے ہوئے جانچیے کی اور تجھے مساوی کسری اعداد ہیں یا اعداد ہیں یا نہیں۔ تصویر میں دکھائی گئی پٹیوں کا استعمال کر کے اپنی کسری دیوار بنائیے! کسری دیوار کو دیکھ کر درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے :
- 1 کیا اور لمبائیاں برابر ہیں؟ 1 3/6
- 2 2 کیا ہے اور مساوی کسری اعداد ہیں ؟ 3 کیوں؟ 4/6
- لمبائی کے کتنے ٹکڑے مل کر 1/2 لمبائی بنائیں گے؟
- 4 لمبائی کے کتنے ٹکڑے مل کر لمبائی 6 بنائیں گے؟
اس خیال کو بڑھا کر اسے ایک کسری دیوار میں تبدیل کر سکتے ہیں، جو 1 کسری اکائی تک ہو۔ ( یہ کسری دیوار کتاب کے 10 آخر میں دی گئی ہے۔)
معلوم کیجیے
- 1 کیا مساوی کسری اعداد ہیں؟ کیوں؟
- 2 کے دو مساوی کسری اعداد لکھیے۔
- 3. (جتنے آپ لکھ سکتے ہیں اتنے لکھیے)۔
برابر کے حصوں کا استعمال کر کے مساوی کسری اعداد کو سمجھنا
ایک روٹی چار بچوں میں برابر تقسیم کی گئی ہے۔
ہر بچے کو مکمل روٹی کا کتنا حصہ ملا؟
پاس والی تصویر میں ایک روٹی کی تقسیم چار بچوں میں دکھائی گئی ہے۔
ہر بچے کو روٹی کا کسر حاصل ہوا۔
آپ اس واقعہ کا مظاہرہ تقسیمی حقائق، اضافی حقائق اور ضربی حقائق سے بھی کر سکتے ہیں۔
تقسیمی حقائق 1/4 = 1/4
اضافی حقائق ہے 1 = 1/4 + 1/4 + 1/4 + 1/4 ضربی حقائق 1 = 4 * 1/4
معلوم کیجیے
. چار بچوں کے ذریعے تین روٹیاں برابر حصوں میں تقسیم کی گئیں تقسیم کو تصویر کے ذریعہ دکھائیں اور ہر بچے کے حصے میں آئی روٹی کی کسر لکھیے متعلقہ تقسیم کے حقائق ، اضافی حقائق اور ضربی حقائق بھی لکھیے۔
ہر بچے کو ملی روٹی کا کسری عدد ___ پرچے
تقسیمی حقائق :
اضافی حقائق:
ضربی حقائق:
اپنی تصویر اور جوابوں کا موازنہ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کیجیے!
ایک ایسی تصویر بنائیے جس میں یہ دکھایا جا سکے کہ اگر دو روٹیوں کو چار بچوں میں برابر تقسیم کی جائے تو ہر بچے کو کتنا حصہ ملے گا؟ متعلقہ تقسیم کے حقائق، اضافی حقائق اور ضربی حقائق بھی لکھیے۔
3 ایل ایک ایسے گروپ میں تھا جس میں دو کیک پانچ بچوں میں برابر تقسیم کیا گیا۔ انل کو کتنا کیک ملے گا؟
اب ہم مندرجہ ذیل صورتوں میں ہر بچے کے حصے کا جائزہ لیتے ہیں۔
- 1 روٹی 2 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کی گئی۔
- 2 روٹیاں 4 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کی گئیں۔
- 3 روٹیاں 6 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کی گئیں۔
کیا آپ نے دیکھا کہ ہر صورت میں ہر بچے کا حصہ یکساں ہے؟ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ - 1/2 = 2/4 = 3/6
اس لیے، 2/4, 1/2 اور 3/6 سبھی مساوی کسری اعداد ہیں۔
کچھ ایسے کسری اعداد نکا لیے جو 1/2 کے مساوی ہوں۔ انہیں ذیل میں دیے گئے خانوں میں لکھیے۔
مندرجہ ذیل صورتوں میں روٹیوں کو برابر تقسیم کیجیے اور ہر بچے کا حصہ لکھیے۔ کیا تمام صورتوں میں بچوں کا حصہ یکساں ہے؟
کیوں؟
معلوم کیجیے
غیر موجود اعداد کو تلاش کیجیے:
دوستوں کے درمیان یکساں طور پر تقسیم ہونے والے 5 گلاس جوس برابر ہیں۔ جوس کے گلاس جو 8 دوستوں میں یکساں تقسیم کیے گئے۔
اس لیے، Box 8 = 5/4 تھیلوں میں برابر طور پر تقسیم کیے گئے 4 کلوگرام آلو برابر ہیں۔ تھیلوں میں برابر طور پر تقسیم کیے گئے 12 کلو گرام آلو کے۔ اس لیے 12 Box = 4/3 .
5 بچوں کے درمیان تقسیم کی گئیں 7 روٹیاں برابر ہیں روٹیوں کے جو بچوں ۔
بچوں کے درمیان تقسیم ہو ئیں ہوئیں۔
اس لیے ==
کس گروپ میں بچے کو زیادہ چکی ملے گی۔
1 چکی جب 2 بچوں کے بیچ تقسیم کی جاتی ہے یا 5 چگی کو جب 8 بچوں کے بیچ تقسیم کی جاتی ہیں۔
مکتا تو ہمیں اور کا موازنہ کرنا چاہیے۔ کون سا حصہ بڑا ہے۔
شبنم: ٹھیک ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ = ، اور واضح طور پر دی ہے۔ لہذا، جن بچوں میں 5 چکیاں 8 حصوں میں برابر تقسیم کی گئیں ہیں ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ ملے گی جہاں ایک چکی کو دو بچوں میں برابر تقسیم کی گئی۔ دوسرے گروپ کے ہر بچے کو زیادہ چکی ملے گی۔
مندرجہ ذیل گروپوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ کون سے گروپ میں ہر بچے کو زیادہ حصہ ملے گا؟
1 چگی کو دو بچوں کے بیچ تقسیم کی جاتی ہے یا 4 چکیاں 7 بچوں کے بیچ تقسیم کی جاتی ہے۔
شبنم اس بار کس گروپ کے بچوں کو زیادہ چکی ملے گی۔
سکتا ہمیں اور 4 کا موازنہ کرنا چاہیے۔
4 8 = 1 2 ; vec g * 4/8 = (1 * 4)/(2 * 4)
شبنم: لیکن یہاں پر آپ نے شمار کنندہ اور نسب نما کو دوبارہ 4 سے کیوں ضرب دیا؟
سکتا: آپ دیکھیں گی۔!
مان لیجیے کہ بچوں کی تعداد کو یکساں رکھی جاتی ہے، لیکن تقسیم کی جانے والی اکائیوں کی تعداد بڑھادی جاتی ہے؟ اب آپ ہر بچے کے حصے کے بارے میں کیا کہیں گے؟ کیوں؟ بیان کیجیے کہ آپ کا استدلال کس طرح وضاحت کرتا ہے۔
اب فیصلہ کیجیے کہ کون سے دو گروپوں میں ہر بچے کو زیادہ حصہ ملے گا:
- گروپ 1: 3 گلاس گنے کے رس کو 4 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کیا گیا۔
- گروپ 2: 7 گلاس گنے کے رس کو 10 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کیا گیا۔
- گروپ 3 4 گلاس گنے کے رس کو 7 بچوں کے بیچ برا برتقسیم کیا گیا۔
- گروپ 4 5 گلاس گنے کے رس کو 7 بچوں کے بیچ برابر تقسیم کیا گیا۔
کون سے گروپوں کا موازنہ کرنا آسان تھا؟ کیوں؟ شبنم: پہلے دو گروپوں کا موازنہ کرنے کے لیے ہمیں کسری اعداد اور 7 کے مساوی کسری اعداد کو تلاش کرنا ہو گا۔ 10 7 سکتا: = اور کیسے؟ 4 = 10
سکتا: 3 = اور = کیسے؟ 63 8-4 8 7 30-10
شبنم: یہاں ایک شرط ہے۔ کسری اکائی جس کا استعمال دونوں کسری اعداد کے لیے کیا جاتا ہے یکساں ہونا چاہیے! جیسے کہ تھے اور 3 6 21 دونوں میں ایک ہی کسری اکائی (یعنی ان کے نسب نما یکساں ہیں ) ہے لیکن اور میں کسری اکائی یکساں نہیں 30
ہیں (ان کے نسب نما مختلف ہیں)۔
سکتا: ٹھیک ہے، آیئے ہم اب مساوی کسری اعداد بنانا شروع کرتے ہیں: - 2 - 2 - 8 - 3 لیکن میں کب رکوں؟ = 12 20 16 = ... 4 = 6 9 812 = بر شبنم: سمجھ میں آگیا! 4 * 10 = 40 تک جانے میں کیا خیال ہے۔ سکتا: تمہارا مطلب ہے دو نسب نماؤں کی حاصل ضرب ؟ سننے میں اچھا لگتا ہے ! اگر ہمارے پاس اور 7 ہیں۔ تو دونوں نسب نماؤں کا حاصل ضرب (4 اور 10) 40 ہے۔ 3 4 10
شبنم: اس لیے اور کے مساوی کسری اعداد ایک ہی کسری اکائی ( یکساں نسب نماؤں) کے ساتھ ، 30 اور 28 یا ) 14 اور 20 ہیں۔ 10 15 چوں کہ واضح طور پر 0 28 ہے تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ 3 > ہے۔ 40
دیے ہوئے کسری اعداد جوڑوں کے لیے مساوی کسری اعداد تلاش کیجئے جن کی کسری اکائیاں یکساں ہوں۔
کسی کسری عدد کو کمترین شکل (Lowest Form) میں ظاہر کرنا ( یا اس کی سادہ ترین شکل میں)
کسی بھی کسی بھی کسری عدد میں ، اس کے شمار کنندہ اور نسب نمادونوں میں 1 کے علاوہ کوئی مشترک جز وضر بی نہیں ہو، تو اس کسری عدد کو اس کی کمترین شکل یا سادہ ترین شکل میں کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ایک کسر اپنی ادنی شکل میں کہا جاتا ہے اگر اس کا شمار کنندہ اور نسب نما ممکنہ طور پر سب سے چھوٹے ہوں۔
کسی بھی کسری عدد کو کمترین شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے اگر ہم ایسا مساوی کسری عدد تلاش کر پائیں جس کا شمار کنندہ اور نسب نما ممکنہ طور پر سب سے چھوٹے ہوں۔
آئیے ! ہم اب دیکھیں کہ کسری عدد کو کمترین شکل میں کیسے تبدیل کرتے ہیں۔
مثال: کیا کسری عدد 10 کمترین شکل میں ہے؟ نہیں ، 16 اور 20 کا مشترک جزو ضربی 4 ہے۔ 20
آئیے ، ہم اب 20 کو اس کی کمترین شکل میں بدلتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ 16 ( شمار کنندہ) اور 20 (نسب نما) دونوں 4 تقسیم ہوتے ہیں۔
4 16 4 اب 4 اور 5 کے درمیان کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہیں، اس لیے 10 کی کمترین شکل ہے۔ اس لیے، ، 10 کی ساده ترین شکل ہے، کیوں کہ 4 اور 5 میں 1 کے علاوہ کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہے۔
کسی کسری عدد کو اس کی کمترین شکل میں مرحلے وار بھی کیا جاسکتا ہے۔
مان لیجیے کہ ہم 30 کو کمترین شکل میں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم غور کرتے ہیں کہ دونوں شمار کنندہ اور نسب نما دونوں جفت عدد ہیں۔ اس لیے ہم دونوں کو 2 سے تقسیم کرتے ہیں اور حاصل ہوتا ہے، 30 - 18 -= 30-60 شمار کنندہ اور نسب نماد ونوں پھر سے جفت عدد ہیں ، اس لیے دوبارہ ہم دونوں کو 2 سے تقسیم کر سکتے ہیں، ہمیں 18 = 1 حاصل ہوتا ہے۔
اب ہم غور کرتے ہیں کہ ، 9 اور 15 دونوں 3 کے اضعاف ہیں، اس لیے ہم دونوں کو 3 سے تقسیم کرتے ہیں تا کہ 3 = 3 حاصل ہو۔
اب 3 اور 5 میں 1 کے علاوہ کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہے اس لیے کی کمترین شکل کی ہے۔
متبادل صورت میں ، ہم غور کر سکتے تھے کہ 30 میں شمار کنندہ اور نسب نما دونوں 12 کے اضعاف ہیں: ہم دیکھتے کہ × 5 = 60۔ اس لیے ہم سیدھے طور پر 30 = دو یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ -60 = 5 × 12 12 × 3 = 36 اور 36 5-60
ہم کوئی سا بھی طریقہ اختیار کریں ہمیں ایک ہی جواب ملے گا لیکن کبھی کبھی مرحلے وارحل کرنا آسان ہوتا ہے۔
معلوم کیجیے
مندرجہ ذیل کسری اعداد کو ان کی کمترین شکل میں بیان کیجیے :
a.17 /51
b. 64/ 144
C. 126/ 147
d. 525 /112
7.7 کسری اعداد کا موازنہ
کون سا بڑا ہے، یا ؟ اس طرح دو کسری اعداد کا سیدھے طور پر موازنہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی نسب نما والے دو کسری اعداد کے مساوی کسری اعداد کو کیسے تلاش کیا جاتا ہے۔ آیئے ہم دیکھتے ہیں انہیں کیسے استعمال کر سکتے ہیں:۔
4/5 = (4 * 9)/(5 * 9) = 36/45
7/9 = (7 * 5)/(8 * 5) = 35/45
صاف طور سے 30/45 - 35/ 45 17 4 95 اس لیے، !
آئیے ہم اسے دوسرے جوڑے کے لیے آزما کر دیکھتے ہیں: 7 اور 7 کے لیے۔ 21
7/9 = (7 * 7)/(9 * 7) = 49/63, 17/21 = (17 * 3)/(21 * 3) = 51/63
آیئے ہم خلاصہ کرتے ہیں!
دو یا دو سے زیادہ دیے گئے کسری اعداد کا موازنہ کرنے کے مراحل:
مرحلہ 1: دیے گئے کسری اعداد کو مساوی کسری اعداد میں تبدیل کیجیے تا کہ ان سب کو یکساں نسب نمایا کسری اکائی میں ظاہر کیا جاسکے۔
مرحله 2: اب مساوی کسری نہ کرکے رکھتے ہوئے۔ اعداد کا مواز نه صرف شمار کنندہ کا موازنہ کر کے کیجیے، یعنی ، ہر ایک کسری اکائی کی تعداد کو ملحوظ
7.8 کسری اعداد کی جمع اور تفریق
مینا کے والد نے کچھ چکی بنائی۔ مینا نے اس کا کھایا اور اس کے چھوٹے بھائی نے اس کا کھایا۔ مینا اور اس کے بھائی نے مل کر کل چکی کا کتنا حصہ کھایا؟
اس تصویر کو دیکھ کر ہم اس کے جواب تک پہنچ سکتے ہیں۔ آئیے ہم اب چکی کا ایک ٹکڑا لیتے ہیں اور اسے پہلے اس طرح دو نصف حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
مینا نے اس کا حصہ کھایا جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ 1/2
6 آئیے ہم اب بچے ہوئے نصف حصے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے ہر ٹکڑا مکمل چگی کا حصہ ہے۔ 1/4
مینا کے بھائی نے مکمل چکی کا 1/4 حصہ کھایا، جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے
کھائی گئی کل چکی 1/2 مینا کے ذریعے )
اور 1/4 اس کے بھائی کے ذریعے)
کھائی گئی کل چکی
= 1/2 + 1/4
= 1/4 + 1/4 + 1/4
= 3 * 1/4 = 3/4
پوری چکی کا کتنا حصہ باقی بچا ہے؟
یکساں نسب نماؤں یا کسری اکائی والے کسری اعداد کو جوڑنا
مثال تھے اور کا حاصل جمع تلاش کیجیے۔
آئیے ہم مستطیل پیٹیوں کا استعمال کرتے ہوئے دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں دونوں کسری اعداد میں کسری اکائی یکساں ہے، یعنی ۔ اس لیے ہر پٹی 5 مساوی حصوں میں تقسیم کی جائے گی۔
اس لیے، تے کو اس طرح دکھایا جائے گا۔
اور1/5 کو اس طرح دکھایا جائے گا۔
دیے گئے دو کسری اعداد کو جمع کرنا ایساہی ہے جیسا کہ رنگے ہوئے حصوں کی کل تعداد معلوم کرنا، جن میں سے ہر ایک کسری اکائی کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس صورت میں ، رنگے ہوئے خانوں کی کل تعداد 3 ہے۔ چوں کہ ہر رنگا ہوا خانہ کسری اکائی کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ 3 رنگے ہوئے خانے مل کر کسری اعداد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس لیے، 3/5 = 1/5 + 2/5
مثال: 1 اور 2 کا حاصل جمع تلاش کیجیے۔
آئیے ہم دوبارہ دونوں کو مستطیل پٹی کا استعمال کرتے ہوئے ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں دونوں کسری اعداد میں، کسری اکائی ایک ہی ہے، یعنی ہے ، اس لیے ہر پٹی 7 برابر حصوں میں تقسیم ہو گی۔
پھر 7 کو اس طرح سے دکھایا جائے گا۔
اور ہے کو اس طرح سے دکھایا جائے گا۔
اس صورت میں رنگے ہوئے حصّوں کی کل تعداد 10 ہے اور ہر رنگا ہوا حصہ کسری اکائی 7 کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے 10 رنگے ہوئے حصے مل کر کسری عدد 10 کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں دکھایا گیا ہے۔
مختلف نسب نمایا کسری اکائیوں والے کسری اعداد کو جوڑنا
مثال: 1 اور کا حاصل جمع معلوم کیجیے۔
مختلف کسری اکائیوں کے ساتھ کسری اعداد کو جوڑنے کے لیے، پہلے کسری اعداد کو ایک ہی نسب نمایا کسری اکائی کے ساتھ مساوی کسری اعداد میں تبدیل کیجیے۔ اس صورت میں، مشترک نسب نما کو بنایا جاسکتا ہے، یعنی ہم کسری اکائی کے ساتھ مساوی کسری اعداد کو معلوم کر سکتے ہیں۔ 12 = 3 * 4
آیئے ہم دیے گئے ہر کسری اعداد کے لیے مساوی کسری عدد لکھتے ہیں۔
3 اب اور کی کسری اکائی ایک ہی ہے، یعنی 12 -4 12
جمع کرنے کا یہ طریقہ، جو کسری اعداد کے کسی بھی عدد کو جمع کرنے میں کارگر ہے، اسے سب سے پہلے برہم گیت نے سال 628 عیسوی میں بیان کیا تھا ! ہم بعد کے باب میں مزید تفصیل سے کسری اعداد کی نشو و نما کی تاریخ بیان کریں گے۔ فی الحال ہم برہم گپت کے طریقے کے مطابق کسری اعداد کو جوڑنے کے اقدامات کا خلاصہ کرتے ہیں۔
کسری اعداد کو جوڑنے کا برہم گیت کا طریقہ
- 1 ایسے مساوی کسری اعداد کو تلاش کیجیے جن میں سبھی کسری اعداد کے لیے یکساں کسری اکائی ہو ۔ ایسا نسب نماؤں کے (یعنی نسب نما کی ضرب، یا نسب نما کی سب سے چھوٹی مشترک ضعف) مشترک ضعف تلاش کر کے کیا جا سکتا ہے۔
- 2 مساوی کسری اکائیوں کے ساتھ جوڑیئے۔ شمار کنندہ کو جوڑ کر اور نسب نما کو یکساں رکھ کر ایسا کیا جا سکتا ہے۔
- 3 اگر ضرورت ہو تو نتیجے کو ادنی شکل میں ظاہر کیجیے۔
آیئے ہم اب برہم گیت کے طریقے کی دوسری مثال بیان کرتے ہیں۔
مثال: کیے اور کا حاصل جمع معلوم کیجیے۔
دیے گئے کسری اعداد کے نسب نما 3 اور 5 ہیں۔ 3 اور 5 کا سب سے چھوٹا مشترک ضعف 15 ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ
2/3 = (2 * 5)/(3 * 5) = 10/15, 1/5 = (1 * 3)/(5 * 3) = 3/15 2/3 + 1/5 = 10/15 + 3/15 = 13/15
مثال اور کا حاصل جمع معلوم کیجیے۔ 36
3 اور 6 کا سب سے چھوٹا مشترک ضعف 6 ہے۔
اب کسری عدد اس کی کمترین مقدار میں دوبارہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایسا شمار کنندہ اور نسب نمادونوں کو 3 (3 اور 6 کا سب سے بڑا جز و ضربی ) سے تقسیم کر کے کیا جا سکتا ہے : 3/6
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل کسری اعداد کو برہم گیت کے طریقے سے جوڑیئے :
2.رحیم 2/3کے لیٹر پیلے رنگ کے پینٹ کو لیٹر نیلے رنگ کے ساتھ ملا کر ہر رنگ بناتا ہے۔ ہرے رنگ کے پینٹ کی مقدار کیا ہے جو اس نے بنایا ؟
3 گیتا نے 1 میٹر لمبائی کے احاطہ والے میز پوش کے کناروں پر لگانے کے لیے میٹر بیل خریدی اور شمیم نے اسی طرحکی 3 میٹر بیل خریدی خریدی گئی بیل کی کل لمبائی معلوم کیجیے۔ کیا پورے کناروں پر لگانے کے لیے کل خریدی گئی بیل 2/5 کافی ہوگی؟
ایک ہی نسب نماؤں یا کسری اکائیوں والے کسری اعداد کی تفریق
برہم گیت کا طریقہ کسری اعداد کی تفریق کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ! 64 آئیے ہم اب سے 7 کی تفریق کرنے کے مسئلے سے شروع کرتے ہیں، یعنی 4- کیا ہے؟
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم پھر مستطیل پٹی والے ماڈل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ دونوں کسری اعداد میں کسری اکائی ایک ہی ہے، یعنی 7 - آیئے ہم سب سے پہلے بڑے کسری اعداد کو مستطیل پٹی والے ماڈل کا استعمال کر کے ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔
ہر رنگا ہوا خانہ 7 کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب ہمیں میں سے 7 کو تفریق کرنا ہے۔ اس کو حل کرنے کے لیے ہم رنگے ہوئے خانوں میں سے 4 خانوں کو ہٹا دیتے ہیں۔
اس لیے اب ہمارے پاس دو رنگے ہوئے خانے بچے ہیں، یعنی - 6/7 - 4/7 = 2/7 یہی مشق عددی خط کا استعمال کرتے ہوئے کرنے کی کوشش کیجیے۔
معلوم کیجیے
مختلف نسب نماؤں یا کسری اکائیوں والے کسری اعداد کی تفریق
مثال: کیا ہے؟ 3 2 4-3
جیسا کے ہم پہلے سے ہی یکساں کسری اکائیوں والے کسری اعداد کی تفریق کرنے کا طریقہ جانتے ہیں، آئیے ہم اب ہر دیے ہوئے کسری اعداد کو یکساں کسری اکائیوں میں تبدیل کرتے ہیں۔
کسری اعداد کی تفریق کے لیے برہم گیت کا طریقہ
- 1 دیے ہوئے کسری اعداد کو یکساں کسری اکائی والے مساوی کسری اعداد میں تبدیل کیجیے، یعنی یکساں نسب نماؤں میں۔
- یکساں کسری اکائیوں والے کسری اعداد کی تفریق کیجیے۔ یہ شمار کنندہ کی تفریق کر کے اور ایک ہی نسب نمار کھ کر کیا جاسکتا ہے۔
- .3 اس نتیجے کو ضرورت پڑنے پر کمترین شکل میں تبدیل کیجیے۔
معلوم کیجیے
1 برہم گیت کے طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے درج ذیل تفریق کو انجام دیجیے:
3 مندرجہ ذیل سوالوں کو حل کیجیے :
- جیا کا اسکول اس کے گھر سے 7 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے لے کلومیٹر کے لیے آٹو لیتی ہے۔ اور پھر اسکول پہنچنے کے لیے باقی دوری کو پیدل چل کر طے کرتی ہے۔ اسکول پہنچنے کے لیے وہ روزانہ کتنی دوری پیدل طے کرتی ہے ؟
- جیوریکا ایک پارک کا پورا چکر لگانے میں 10 منٹ لیتی ہے اور اس کا دوست نمت ایسا کرنے میں 13 منٹ لیتا ہے۔ کون کم وقت لیتا ہے اور کتنا ؟
7.9 تاریخ سے ایک چٹکی
کیا آپ جانتے ہیں کے قدیم ہندوستان میں کسری عدد کو کیا کہتے تھے ؟ اس کو سنسکرت میں بھن (Bhinna) کہتے تھے، جس کا مطلب ہے ٹوٹا ہوا۔ اس کو بھاگ یا انش یعنی حصہ یا ٹکڑا بھی کہا جاتا تھا۔
آج کل پوری دنیا میں جس طرح کسری اعداد کو لکھا جاتا ہے ، دراصل اس کی شروعات ہندوستان میں ہوئی۔ قدیم ہندوستانی ریاضی کی کتابوں میں ، جیسا کہ بکشالی دستاویز ( تقریباً 300 عیسوی سے ) جب وہ لکھنا چاہتے تھے، تو وہ اسے 3 لکھتے تھے جو کہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ہم آج کل لکھتے ہیں۔ کسری اعداد کے ساتھ لکھنے اور کام کرنے کا یہ طریقہ ہندوستان میں اگلی کئی صدیوں تک جاری رہا، جس میں آریہ بھٹ (499) عیسوی)، برہم گپت (628 عیسوی) ، سری دھر آچاریہ (750 عیسوی)، مہاویر آچاریہ (850 عیسوی) شامل ہیں۔ اور دیگر شمار کنندہ اور نسب نما کے بیچ جو لکیر کا حصہ ہے اسے بعد میں
مراقشی (Moroccan) ریاضی دان الحصار نے 12 ویں صدی میں ) متعارف کرایا۔ اس کے بعد چند صدیوں میں یہ علامت یا لکھنے کا طریقہ یورپ اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔
کسری اعداد کا استعمال دوسری ثقافتوں مثلاً مصری اور بابلی تہذیبوں (Babylonion) میں بھی کیا گیا تھا، لیہ لیکن شروعات میں انہوں نے صرف کسری اکائی کا استعمال کیا۔ یعنی 1 شمار کنندہ والا کسری اعداد - مزید کسری اعداد کو کسری اکائیوں کا حاصل جمع کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا، اب یہ مصری کسری اعداد “ کہلاتے ہیں۔ اعداد کو کسری اکائیوں کا حاصل جمع کے طور پر لکھنا مثال کے طور پر، یہ ایک فن ہو سکتا ہے جو خوبصورت پہیلیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ہم نیچے اسی طرح19/24 = 1/2 + 1/6 + 1/8 کی ایک پہیلی پرغور کریں گے۔
عام کسری اعداد (جن میں شمار کنندہ کا 1 ہونا ضروری نہیں ہے ) پہلی بار ہندوستان میں متعارف کیے گئے تھے ، ان کے حسابی عمل جیسے کہ جمع، تفریق، ضرب اور حتی کہ کسری اعداد کی تقسیم کے قواعد بھی۔ قدیم ہندوستانی تحریریں، جن کو سولبہ - سوترہ (Sulba-sutras) کہتے ہیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ویدک دور میں بھی ہندوستانیوں نے کسری اعداد کے ساتھ عمل کے قواعد دریافت کر لیے تھے۔ کسری اعداد کے ساتھ کام کرنے اور انہیں حاصل کرنے کے عمومی اصول اور طریقہ کار کو سب سے پہلے برہم گیت نے باضابطہ اور جدید شکل میں مرتب کیا تھا۔
برہم گیت کے کسری اعداد کے ساتھ کام کرنے اور حساب کرنے کے طریقے اب بھی وہی ہیں جو ہم آج استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، برہم گیت نے بیان کیا کہ کسری اعداد کی جمع اور تفریق کیسے کی جاتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے :
ہر ایک کسری اعداد کے شمار کنندہ اور نسب نما کو دوسرے نسب نما سے ضرب دینے سے کسری اعداد کو ایک مشترک نسب نما میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پھر جمع کے معاملے میں شمار کنندہ کو (مندرجہ بالا کمی کے بعد حاصل ہوئے ) جمع کیا جاتا ہے اور تفریق کے معاملے میں ان کے درمیان کا فرق نکالا جاتا ہے۔ برہم گیت، برہم اسپوت سدھانت ، بول 12.2 ، 628 عیسوی)۔
کسری اعداد سے متعلق ہندوستانی تصورات اور طریقے جو اگلی چند صدیوں میں عربوں کے ذریعے یورپ میں منتقل ہوئے اور 17 ویں صدی کے قریب یورپ میں عام استعمال میں آئے اور پھر پوری دنیا میں پھیل گئے۔
اگر ایک ہی کسری اکائی استعمال کی جائے تو کسری اکائیوں کو جمع کر کے حاصل جمع 1 حاصل کرنا آسان ہے، مثال کے طور پر،
تاہم، کیا آپ مختلف کسری اکائیوں کو اس طرح جمع کرنے کا طریقہ سوچ سکتے ہیں کہ حاصل جمع 1 بن جائے؟ دو مختلف کسری اکائیوں والے کسری اعداد کو جوڑ کر 1 حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کے لیے سب سے بڑی کسری اکائی ہے، اور 3 + 1 = 1 ہوتا ہے۔
مختلف کسری اکائیاں حاصل کرنے کے لئے ہمیں کم سے کم ایک کو کچھ چھوٹی کسری اکائیوں والے کسری اعداد سے بدلنا پڑے گا لیکن اس کے بعد حاصل جمع 1 سے کم ہو گا! اس لیے دو مختلف کسری اکائی والے کسری اعداد کو جمع کر کے 1 حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہم اس کے بجائے 1 کو تین مختلف کسری اکائیوں کے مجموعے کے طور پر لکھنے کا طریقہ تلاش کر سکتے ہیں۔
1. کیا آپ تین مختلف کسری اکائیوں کو تلاش کر سکتے ہیں جن کو جمع کر کے 1 حاصل کیا جا سکتا ہے؟ یہ پتہ چلتا ہے کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے (3) کسری اعداد کی ترتیب بدلنے کے علاوہ )! کیا آپ اسے تلاش کر سکتے ہیں؟ آگے پڑھنے سے پہلے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔
یہاں حل تلاش کرنے کا ایک منظم طریقہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہے۔ مختلف کسری اکائیاں حاصل کرنے کے لیے ہمیں کسی ایک میں اضافہ کرنا پڑے گا اور دوسرے میں سے کم سے کم کسی ایک کو گھٹانا پڑے گا۔ دوسری کسری اکائی میں اضافہ کرنے کا واحد طریقہ ہے کہ ہم اسے 3 سے بدل دیں۔ اس لیے سبھی کسری اکائیوں میں سے ایک کسری اکائی ہونی چاہیے۔ 1 2 1 = 1/3 + 1/3 + 1/3
اب مختلف کسری اکائیاں حاصل کرنے کے لیے ہمیں 1 میں سے ایک کا اضافہ کرنا ہو گا اور اضافے کی تلافی کے لیے دوسرے کو گھٹانا ہو گا۔ اب دوسری کسری اکائیوں میں کا اضافہ کرنے کا واحد طریقہ ہے کہ اسے کیسے بدل دیا جائے جو لے سے مختلف ہو۔ اس لیے تمام کسری اعداد میں سے دو کسری اعداد اور ہوں گے پھر تیسرا کسری عدد کیا - 1/2 + 1/4 + 1/4 = 1
ہو گا، تا کہ تینوں کسری اعداد جمع ہو کر 1 بنائیں؟
یہ واضح کرتا ہے کیوں اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے۔
1/2 + 1/3 + 1/6 = 1
اگر ہم 4 مختلف کسری اکائیاں تلاش کریں جو جمع ہو کر 1 بناتے ہیں تو کیا؟
2 کیا آپ چار مختلف کسری اکائیاں تلاش کر سکتے ہیں، جو جمع ہو کر 1 بنائیں؟
آپ ان سب کو تلاش کر سکتے ہیں؟ آپ اسی استدلال کا استعمال کر سکتے ہیں جو دو اور تین کسری اکائیوں کے لیے کر رہے تھے۔ یا خود اپنا طریقہ تلاش کیجیے!
ایک بار آپ کو ایک حل مل جائے، تو اسے تصور میں لانے کے لیے اوپر دی گئی تصویر کی طرح دائرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کیجیے۔
خلاصه
- کسری عدد برابر حصوں کی شکل میں : جب ایک مکمل عدد کی اکائیوں کو برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور مساوی طور پر بانٹا جاتا ہے تو ہمیں ایک کسری عدد ملتا ہے۔
- کسری اکائیاں: جب ایک مکمل بنیادی اکائی کو برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر حصہ کسری اکائی کہلاتا ہے۔
- کسری اعداد کا مطالعہ : ایک کسری عدد مثلاً میں ، 5 شمار کنندہ کہلاتا ہے اور 6 نسب نما کہلاتا ہے۔
- مخلوط کسری اعداد میں ایک مکمل عددی حصہ اور ایک کسری حصہ ہوتا ہے۔
- عددی خط کسری عدد کو عددی خط پر بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ ہر کسری عدد کے ساتھ عددی خطوط پر ایک متعلقہ نقطہ ہوتا ہے۔
- مساوی کسری اعداد : جب دو یا دو سے زیادہ کسری اعداد برابر حصے یا عدد کی نمائندگی کرتے ہیں تو وہ مساوی کسری اعداد کہلاتے ہیں۔
- کمترین ارکان (Lowest terms) ایک کسری عدد جس کے شمار کنندہ اور نسب نما کے درمیان 1 کے علاوہ کوئی مشترک جزو ضر بی نہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ وہ کسری عدد اپنے کمترین ارکان میں ہے یا سادہ شکل میں ہے۔
- کسری اعداد کو جمع کرنے کے لیے برہم گیت کا طریقہ : جب کسری اعداد کو جمع کرتے ہیں، تو انھیں ایک ہی کسری اکائی
- (یعنی ایک ہی نسب نما) کے ساتھ مساوی کسری اعداد میں تبدیل کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد جمع حاصل کرنے کے لیے ہر کسری اکائیوں کی تعداد کو جمع کیجیے۔ ایسا شمار کنندہ کو جمع کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
- کسری اعداد کی تفریق کے لیے برہم گیت کا طریقہ : جب کسری اعداد کی تفریق کرتے ہیں تو انہیں مساوی کسری اکائی ( یعنی
- ایک ہی نسب نما) کے ساتھ مساوی کسری عدد میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر کسری اکائیوں کی تعداد کی تفریق کرتے ہیں۔ به شمار کنندہ کو تفریق کر کے اور نسب نما کو وہی رکھ کر حاصل کرتے ہیں۔