دعا

خدایا! ہم ترے دربار میں اک عرض لائے ہیں
یہ اپنے سَر، تری سرکار میں ہم نے جھکائے ہیں
گزارے زندگی اب قوم اپنی اُن فضاؤں میں
مَسرّت ناچتی ہو رات دن جِن کی ہواؤں میں
جہاں خوددار اور بے خوف ہوں چھوٹے بڑے سارے
سدا خُلق و اُخوّت کے چمکتے ہوں جہاں تارے
جہاں ہر شخص ہو ہم درد اور غم خوار دنیا کا
جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا
جہاں ہر کام میں تکمیل ہو پیشِ نظر سب کے
جہاں بندے نہ ہوں افراد نفرت اور تعصّب کے
جہاں کے لوگ دور از کار رسموں کے نہ قائل ہوں
جہاں پر لوگ دل سے خدمتِ انساں پہ مائل ہوں
عمل میں راستی ہو، صِدق ہو اُن کی زبانوں پر
توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر
برابر ہو جہاں ہر ایک، ادنا ہو کہ اعلا ہو
جہاں انصاف کا اور عدل ہی کا بول بالا ہو
—محمدشفیع الدین نیّر

لفظ ومعنی
خوددار : غیرت مند
خُلق : اچھی عادت
اُخوّت : بھائی چارا، محبت
غم خوار : ہم درد،دکھ درد کا شریک
تکمیل : پورا کرنا
پیشِ نظر : نظر کے سامنے، موجود، روبرو
تعصّب : بے جا طرف داری
دور از کار : بے کار، پرانی
مائل : متوجہ
راستی : سچائی
صِدق : سچائی
توانا : طاقت ور
ناتواں : کم زور
عَدل : انصاف

غور کرنے کی بات
یہ نظم ٹیگور کی مشہور کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔
یہ ایک دعا ئیہ نظم ہے جس میں شاعرخداسے مخاطب ہے۔اس نظم میں شاعرنے مِل جُل کر اور پیارمحبت سے رہنے کی دعا مانگی ہے۔
لفظ ‘قوم’ سے مراد ہے ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ۔
سوچیے اور بتائیے
اس نظم میں ‘سرکار’سےکیامرادہے؟
‘خُلق اوراُخوّت کے تارےچمکنے’ کاکیا مطلب ہے؟
نظم میں کس چیز کے پھیلنے کی تمنا کی گئی ہے؟
دور از کار رسموں سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
عدل اورانصاف کابول بالاہونے کے کیا فائدے ہیں؟
نظم کو دوبارہ پڑھیے اور نیچے دیے گئے مصرعوں میں صحیح لفظ بھریے
گذارے زندگی اب قوم اپنی ان _________ میں
جہاں ہر شخص ہو ہم درد اور ___________ دنیا کا
جہاں ہر ________ میں تکمیل ہو پیشِ نظر سب کے
_______ پرلوگ دل سے خدمتِ انساں پہ مائل ہوں
عمل میں راستی ہو __________ ہو اُن کی زبانوں پر
برابر ہوجہاں ہر ایک ___________ ہو کہ اعلا ہو
وہ مصرعے تلاش کرکے لکھیے جن میں درج ذیل الفاظ آئے ہیں
عرض : ___________________________
مسرت : ___________________________
تکمیل : ___________________________
بندے : ___________________________
خدمتِ انساں : ___________________
شعر مکمل کیجیے
(الف) (ب)
جہاں خوددار اور بے خوف ہوں چھوٹے بڑے سارے ________________________
_______________________ جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا
عمل میں راستی ہو، صدق ہو اُن کی زبانوں پر ________________________
_______________________ جہاں انصاف کا اور عدل ہی کا بول بالا ہو
خوش خط لکھیے اور بلندآواز سے پڑھیے
فضا _______ _______
خوددار _______ _______
خُلق _______ _______
اخُوّت _______ _______
غم خوار _______ _______
مائل _______ _______
تعصّب _______ _______
دورازکار _______ _______
ناتواں _______ _______
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
اس نظم میں لفظ‘سدا’ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے ‘ہمیشہ’ ۔ ایک لفظ‘صدا’ بھی ہے جس کا مطلب ہے ‘آواز’۔ ایسے دو لفظوں کو جن کی آواز ایک ہو لیکن اِملا اور معنی کے اعتبارسے مختلف ہوں، ہم آواز الفاظ کہتے ہیں۔پانچ ایسے الفاظ لکھیے جن کی آواز ایک ہو لیکن املا اور معنی الگ ہوں:
..............................................................................
..............................................................................
..............................................................................
..............................................................................
بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا تلفّظ دوطرح سے ہوتاہے اوردونوں کےمعنی الگ ہوتےہیں جیسے لفظ ‘خلق’ اس کا ایک تلفّظ ہے‘خُلْق’جس کے معنی اچھی عادت اورخوش مزاجی کے ہیں اوردوسرا‘خَلْق’ جس کامطلب ہے دنیاکے لوگ،مخلوق۔خُلْق کی جمع اخلاق اورخَلْق کی جمع خلائق ہے۔ آپ پانچ ایسے الفاظ لکھیے جن کا تلفظ الگ الگ ادا کرنے سے معنی بدل جاتے ہوں:
____________________________
____________________________
____________________________
____________________________
____________________________
اس نظم میں دو لفظ ‘بے خوف’ اور ‘ہم درد’ آئے ہیں ۔لفظ خوف سے پہلے ‘بے’ اور درد سے پہلے ‘ہم’ لگاکر نئے الفاظ بنائے گئے ہیں۔ کسی لفظ کے شروع میں اگر کوئی اضافہ کیا جائے تو اسے سابقہ کہتے ہیں۔ آپ اسی طرح کے پانچ الفاظ لکھیے:
________________________
________________________
________________________
________________________
________________________
عملی کام
اس نظم کو یادکیجیے اور دعا ئیہ جلسے میں پیش کیجیے۔
اپنے اسکول کی لائبریری یا انٹرنیٹ کی مدد سے ایسی نظموں کا انتخاب کیجیے جن میں اللہ کی تعریف اور عظمت بیان کی گئی ہو۔
