چڑیا کا گھونسلا
درختوں کے پتےّ جھڑ نا شروع ہو گئے تھے۔ رات میں ہلکی ہلکی ٹھنڈک رہنے لگی تھی۔ سردیوں کی آمد آمد تھی۔ ننھی چڑیا نے سوچا کہ گرمیاں تو ہنس کھیل کر گزار لیں ، اب سردیوں کی کچھ فکر کرنی چاہیے، اگر گھونسلا نہیں ہوا تو سردیوں میں ٹھٹھر کر رہ جاؤں گی ۔ آخر ایک روز اس نے گھونسلا بنانا شروع کیا۔ چھوٹی سی تو تھی، گھونسلا بنانا کیا جانے ! جو کچھ سن رکھا تھا اس کے مطابق اِدھر اُدھر سے دو چار تنکے جمع کیے اور ایک درخت کی شاخ پر پتّوں کے درمیان انھیں رکھ کر سوچنے لگی کہ اب کیا کروں ؟ کس سے پوچھوں کہ ان تنکوں کو کیسے جوڑا جائے ؟ اسی سوچ میں تھی کہ اتنے میں ایک ہُد ہُد اُسی درخت پر آبیٹھا۔ سلام دعا کے بعد ہُد ہُدکہنے لگا !
“کہو ننّھی منّی ، یہ تنکے کیوں لیے بیٹھی ہو؟”
”سوچ رہی ہوں ایک گھونسلا بنالوں ۔ سردیاں آرہی ہیں، چند تنکے تو جمع کر لیے ہیں ، اب انھیں جوڑنے کی فکر ہے۔“ ننّھی چڑیا نے جواب دیا۔
اُس کی بات سن کرہُد ہُدقہقہہ مار کر ہنسا اور بولا: ” اری بے وقوف! بھلاتنکوں سے کہیں گھونسلا بنتا ہے۔ گھونسلا تو درخت کو کھود کر بنایاجا تا ہے۔“

چڑ یا حیرت سے بولی!“درخت کو کھود کر !درخت کو کھود کر بھلا کیسے ؟”
” لو بھلا یہ کون سا مشکل کام ہے۔“ ہُد ہُد نے کہا اور یہ کہہ کر اُس نے اپنی لمبی اور نوک دار چونچ درخت پر باربار مارنی شروع کی ۔ کھٹ۔ کھٹ۔ کھٹ اس کی تیز چونچ لگنے سے آواز پیدا ہوئی اور درخت سے لکڑی کا تھوڑا سا برادہ نکل آیا۔ درخت کے تنے پر چھوٹا گڑھاپڑگیا۔ ’’دیکھا ! اِس طرح کھودتے رہنے سےبڑی سی کھوہ بن جاتی ہے۔ میں تو اسی طرح گھونسلا بناتا ہوں ۔ ہم سارے ہُد ہُدیہی کرتے ہیں۔ درختوں کے تنوں کو کھود کر ان میں رہتے ہیں، تم بھی یہی کرو۔“

یہ کہہ کر ہُد ہُدتو اُڑگیا مگر ننّھی چڑیا کو پریشان کر گیا۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر ہُد ہُد کی بات مان لوں تو اس جیسی تیز چونچ کہاں سے لاؤں جس سے درخت کا تنا کھود ڈالوں ؟ آخراس نے سوچا کہ آزمانے میں حرج کیا ہے اور اپنی چونچ درخت پر مارنے لگی لیکن اس کی چھوٹی سی چونچ سے گڑھا تو کیا بنتا،اُلٹی اس کی چونچ زخمی ہوگئی۔
اب میں کیا کروں؟ چڑیا نے اداس ہوکر سوچا۔
اچانک اس کی نظر خرگوش پر پڑی جو درخت کے نیچے سے گزر رہا تھا۔
“بھائی خرگوش! ”چڑیا نے اسے آواز دی۔
“کہو ننّھی منّی ! کیا حال ہے؟”خرگوش نے رُک کر اُسے دیکھا اور بولا ۔
“بھائی مجھے گھونسلا بنانا سکھا دونا ۔” چڑیا نے اس کی بات کا جواب دینے کےبجائے کہا۔
“گھونسلا ؟ بھلا میں گھونسلا بنانا کیا جانوں ۔ ہم خرگوش تو زمین میں بِل بنا کر رہتےہیں۔”خرگوش نے جواب دیا۔
“بِل بنا کر !ز مین میں؟”چڑیا نے حیرت سے کہا۔
”ہاں! ہم اپنے پنجوں سے زمین کھودتے ہیں اور جب کافی گہرا گڑھا بن جا تا ہے تو اس میں رہنے لگتے ہیں۔ تم بھی بِل کیوں نہیں بنالیتیں؟ اچھا اب میں چلوں، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ ابھی مجھے رات کے کھانے کے لیے سبزیاں جمع کرنی ہیں۔“
اس طرح خرگوش بھی چلا گیا اورننھی چڑیا کو ایک نئی الجھن میں ڈال گیا۔ اب میں کیا کروں، بِل کیسے بناؤں؟ وہ سوچنے لگی ۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سوچ کر اس نے درخت سے اُتر کر اپنے چھوٹے چھوٹےکم زور پنجوں سے زمین کھودنی شروع کر دی لیکن ان نازک پنجوں میں اتنی طاقت کہاں سے آتی کہ زمین کھود سکیں ؟ چونچ کی طرح اس کے پنجے بھی زخمی ہو گئے۔
یہ دیکھ کر چڑیا رونے لگی۔ ایک تو چونچ اور پنجے دونوں زخمی ہو گئے تھے۔ دوسرے رہ رہ کر یہ خیال بھی آتا تھا کہ اگر گھونسلا نہ بن سکا تو میں سردیوں میں ٹھٹھرکر مر جاؤں گی۔

اتنے میں وہاں سے بھالو کا گزر ہوا۔ اُسے روتا دیکھ کر بھالو ٹھہر گیا اور کہنےلگا؛ ”کیا بات ہے ننّھی منّی! کیوں رو رہی ہو؟“چڑیا نے اسے ساری بات بتائی۔ بھالو اس کی بات سن کر مسکرایا ۔
”دیکھو ننھی مُنی! میں تمھیں ایک ایسی ترکیب بتاتا ہوں کہ تمھیں نہ گھونسلا بنانا پڑے گا اور نہ ہی بِل۔ تم ایسا کرو کہ میری طرح غار میں رہا کرو۔ نہ کھودنے کی مصیبت نہ بنانے کا غم! بس جاؤ اور رہنا شروع کرو۔ جنگل میں بہت سارے غار ہیں چھوٹے بھی اور بڑے بھی، تم ان میں سے کسی ایک میں کیوں نہیں چلی جاتیں۔“ یہ کہہ کر بھالو تو چل دیا اور ننھی چڑیا کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کرگیا۔
چڑیا پہاڑ پر پہنچی، وہاں پہنچ کر اس نے ایک چھوٹا سا غار بھی تلاش کرلیا، لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس میں بہت سی چمگادڑیں رہتی تھیں۔ چڑیا نے سوچا کہ میں ایک کونے میں رہ لوں گی، لیکن جب غار کے ایک کونے میں جاکر بیٹھی تو اسے احساس ہوا کہ غار کی زمین پتھریلی ہے۔ اس نے سوچا کہ غار میں بھی تنکے جمع کرکے ایک چھوٹا سا گھونسلا جیسا تو بنانا ہی پڑے گا۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ تنکے لاؤں یا نہیں کہ چمگادڑوں نے اس پر حملہ کردیا۔ بے چاری چڑیا بڑی مشکلوں سے وہاں سے جان بچاکر بھاگی۔ آخر پھر اسی درخت پر آبیٹھی۔ وہ زور زور سے رونے لگی۔ اتفاق سے اسی وقت اس درخت کے نیچے سے ڈاکٹر ہم درد گزر رہے تھے۔ وہ جنگل میں ہی ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔ وہ بہت ہم درد اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ اکثر جنگل کے جانوروں کی مدد کرتے اور ان کا علاج کرتے ۔ اسی لیے جنگل کے سب جانور اُن سے مانوس تھے اور اُن سے محبت کرتے تھے۔
ڈاکٹر ہم درد کو دیکھ کر چڑیا اسی لیے فوراً ان کی انگلی پر جا بیٹھی اور ساری بات انھیں کہہ سنائی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیگ سے دوا نکال کر چڑیا کے زخموں پر لگائی اور اُسے اپنی ہتھیلی پر بٹھاکر بولے:
”ننّھی منّی ! میری باتیں غور سے سننا اور ہمیشہ یادرکھنا۔ پہلی بات تو یہ کہ تمھیں اِس دنیا میں مشورہ دینے والے بہت ملیں گے جو بالکل مفت مشورہ دیں گے، لیکن ان میں سے ہر ایک کی بات مان لینے سے نقصان ہی ہوگا۔ جو شخص ہر ایک کا مشورہ مان لیتا ہے وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ مشورہ دینے والے اپنے حالات کے مطابق تمھیں مشورہ دیں گے۔ جیسا کہ ہُد ہُد ،خرگوش اور بھالو نے تمھیں دیا، لیکن ان کے مشورے صحیح ہونے کے باوجود تمھارے کسی کام کے نہیں تھے کیوں کہ تم ان سے مختلف ہو۔ ایک چڑیا ، ہُد ہُدکے گھر میں یا بِل میں یا غار میں نہیں رہ سکتی۔ اسےگھونسلے میں ہی رہنا پڑے گا۔ ہُد ہُدکی تیز نوک دار چونچ ہے تو اُسے درخت کھودکر گھر بنانا آسان ہے۔ اور یہ کام کسی دوسرے کے بس کا نہیں ۔“

چڑیا نے زور زور سے سر ہلا کر ہاں کہا اور بولی “تو پھر اب میں کیا کروں؟”
”تم چوُں چوُں چڑیا کے پاس جاؤ، وہ تمھیں گھونسلا بنانا بھی سکھائے گی ۔ آج کی رات تمھیں اپنے گھونسلے میں سونے بھی دے گی اور کھانا بھی کھلائے گی ۔ وہ بہت اچھی چڑیا ہے۔“
چڑیا نے جواب دیا؛”بہت اچھا ، اب میں ایسا ہی کروں گی اور بہت جلد گھونسلا بنانا بھی سیکھ لوں گی ۔ ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ! آپ نے میری مدد بھی کی اور مجھے کام کی بات بھی سکھائی ۔“
یہ کہہ کر چڑیا پُھر سے اُڑ گئی اور ڈاکٹر بھی روانہ ہو گیا۔ چوں چوں چڑیا نے ننّھی چڑیا کو نہ صرف اپنے گھونسلے میں رکھا ، اُسے کھانا کھلایا بلکہ اُسے گھونسلا بنانابھی سکھا دیا۔ آج ننّھی منّی چڑیا اپنے گھونسلے میں رہتی ہے۔

لفظ و معنی
آمد آمد : شروع ہونا، آنے کی خبر
روانہ : چلا جانا
غور کرنے کی بات
پرندے عموماً گھونسلوں میں رہتے ہیں۔ یہ اپنا گھونسلا بنانے میں بہت محنت کرتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایک درخت پر طرح طرح کے پرندے ہوتے ہیں۔ سب کے گھونسلے الگ الگ طرح کے ہوتے ہیں۔
بعض پرندے نہایت خوب صورت گھونسلے بناتے ہیں جیسے ‘ بَیا ’ جس کا گھونسلا صنعت کاری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ زیادہ تر پرندے اپنے گھونسلے درختوں پر بناتے ہیں۔ کچھ تو بس تنکوں کو جوڑ کر بیٹھنے کی جگہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے، کچھ گھاس پھونس اور تنکوں سے بنائے جاتے ہیں اور ان کی شکل چھوٹے سے پیالے جیسی ہوتی ہے۔ کچھ گھونسلے تنکوں اور گھاس سے بنائے جاتے ہیں اور یہتھیلی کی صورت میں درختوں سے لٹکے ہوتے ہیں۔ کچھ پرندے جیسے کہ ہُد ہُد، اپنے گھونسلے درختوں کے تنے میں کھود کرکے تیار کرتے ہیں۔
پرندے ہمارے ماحول کو خوش گوار بناتے ہیں۔ ناچتا مور، کوکتی کوئل، بولتے طوطا مینا، پانی میں تیرتی بطخیں، ہوا میں اونچے اُڑتے کبوتر اور چہکتی چڑیا دیکھ کر کتنا لطف آتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم پرندوں کی حفاظت کریں۔
سوچیے اور بتائیے
چڑیا کو گھونسلا بنانے کی فکر کیوں تھی؟
درخت میں کھود کربنانے کا مشورہ چڑیا کے لیے صحیح کیوں نہیں تھا؟
چڑیا زمین کو کھود کر بِل کیوںنہیں بنا سکتی تھی؟
جوڑے بنائیے
(الف) (ب)
چڑیا بِل
ہُد ہُد گھونسلا
خرگوش کھود

خالی جگہوں کو دیے ہوئے لفظوں سے بھریے
بھلا _______ سے کہیں گھونسلا بنتا ہے؟ ( تیلیوں / تنکوں)
اس نے سوچا کہ آزمانے میں _______کیا ہے۔ (فرق /حرج)
_______بھائی مجھے گھونسلا بنانا سِکھادو نا۔ (بڑے/ اچھے)
چونچ کی طرح اس کے _______بھی زخمی ہوگئے۔ (پنجے /پاؤں)
جو شخص ہر ایک کا _______ مان لیتا ہے وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ (مشورہ/ کہنا)
ذیل میں سے کون پرندہ نہیں ہے، لکھیے
چڑیا ہُد ہُد خرگوش سارس
واحد کی جمع بنائیے
حال _______ مشورہ _______
گھونسلا _______ سبزی _______
پڑھیے،سمجھیے اور لکھیے
نیچے دی گئی عبارت کو غور سے پڑھیے:
میری باتیں غور سے سننا اور ہمیشہ یادرکھنا۔ پہلی بات تو یہ کہ تمھیں اِس دنیا میں مشورہ دینے والے بہت ملیں گے جو بالکل مفت مشورہ دیں گے، لیکن ان میں سے ہر ایک کی بات مان لینے سے نقصان ہی ہوگا۔ جو شخص ہر ایک کا مشورہ مان لیتا ہے وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ مشورہ دینے والے اپنے حالات کے مطابق تمھیں مشورہ دیں گے۔
اس عبارت میں کئی الگ الگ جملے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ یہاں ہر جملہ اپنے آپ میں مکمل اور واضح ہے۔ یعنی الفاظ کا وہ مجموعہ جن سے بات مکمل اور واضح ہو جائے، جملہ کہلاتا ہے۔آپ کسی موضوع کا انتخاب کیجیے۔ موضوع سے متعلق ایک پیراگراف لکھیے جس میں ہر جملہ الگ ہو، لیکن اپنے آپ میں مکمل اور واضح ہو۔
آپ جانتے ہیں کہ پہیلی اس جملے یا کلام کو کہتے ہیں جس میں چھپےُ معانی کو الفاظ میں اس طرح پیش کیا جا تا ہے کہ ذرا سا ذہن پر زور ڈالنے کے بعد اسے بآسانی حل کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر
عجب سنی ایک بات نیچے پھل ہوں اوپر پات (جواب : انناس)
پہیلیاں بوجھنے سے سوچنے، اَن مل اور بے جوڑ باتوں میں ربط پیدا کرنے اور جانی پہچانی چیزوں کے بارے میں نئے ڈھنگ سے سوچنے کی صلاحیت فروغ پاتی ہے۔ نیچے کچھ پہیلیاں دی جارہی ہیں۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں یا گھر کے بڑوں کے ساتھ مل کر ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کیجیے:
ایک پھل اوپر سے ہرا اندر سے سینہ لال
رس سے بھرا ہوا ہے سارا کھانے میں لگتا وہ پیارا
ایک پھول ہے کالے رنگ کا سب کے سر ُسہائے
تیز دھوپ میں کھلا رہے سایہ دیکھ ُکمھلائے
بالا تھا جب سب کو بھایا بڑا ہوا کچھ کام نہ آیا
خسرو کہہ دیا اس کا ناؤں بوجھے نہیں تو چھوڑو گاؤں
اس کے کان پہ میرا منھ میرے منھ پر اُس کا کان
پاس نہیں ہم دونوں پھر بھی باتیں کیں کیسے؟ پہچان
عملی کام
اپنے آس پاس پائے جانے والے پرندوں کی فہرست تیار کیجیے، ان کی تصویریں جمع کیجیے اور ان کی خصوصیات بھی معلوم کیجیے۔

