Skip to content


فصلوں کے تہوار


ہندوستان مختلف مذہبوں،تہذیبوں اورروایتوں کے ساتھ ایک زرعی ملک بھی ہے۔یہاں مذہبی عقائد  پر مبنی تہواروں کے علاوہ ایسے تہواربھی منائے جاتے ہیں جوفصلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان تہواروں کومنانے کے پیچھے کئی قدیم روا یتیں اورمذہبی عقیدے ہیں۔کچھ تہوارفصل کی کٹائی سے قبل توکچھ فصل کٹنے کے بعدمنائے جاتے ہیں۔ لوہڑی کا تہوار ہرسال 13یا  14جنوری کوپورے  ملک میں منایا جاتا ہے۔ لوہڑی کے اگلے ہی دن ‘مکرسنکرانتی’ کا تہوار منایا جا تا  ہے،جومختلف صوبوں  میں الگ     الگ ناموں سے جانا جاتا ہے ،جیسے گجرات میں ‘اترائین’،آسام میں ‘بیہو’،تمل ناڈو     میں ‘پونگل’ ، کرناٹک،کیرل اورآندھراپردیش میں‘سنکرانتی’ اورکچھ صوبوں میں اسے ‘کھچڑی’ بھی کہا جاتا ہے۔ اُس دن اچھی فصل ہونے کی خوشی میں کسان سورج دیوتااوراگنی دیوتاکی پوجاکرکے ان کاشکراداکرتے ہیں کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ سورج دیوتا اپنی گرمی سے اناج کوپکاتے اورفصل کوپالےاورکہرےکے نقصانات سے بچاتے ہیں۔اس دن میلے لگتے ہیں۔ لوگ گنگا، جمنایا دوسری ندیوں میں نہاتے  ہیں اور تِل، گُڑ اور کھچڑی وغیرہ کا دان کرتے  ہیں۔
Screenshot 2024-07-13 124300

14یا        15فروری کوموسم بہارکی آمدپربسنت پنچمی کاتہوارمنایاجا   تاہے۔اُس دن عام طور پر گھر گھر   پیلے چاول پکائے جاتے اورپیلے کپڑے پہنے جاتے ہیں۔خوشی کے اس موقعے پرمختلف قسم کی تقریبات کابھی انعقادکیاجاتاہے جیسے ناچ گانے اورپتنگ اُڑانے وغیرہ کا۔
مارچ کے مہینے میں ہولی کاتہوارمنایا جا   تا ہے۔اس دن ہولیکا دہن ہوتا ہےاور اگلے دن رنگ کھیلا جا تا ہے۔ اس موقعے پر کسان گیہوں کی بالیاں بھون کرکھاتے ہیں  اورآپس میں اناج کی تقسیم بھی کرتے ہیں۔
Screenshot 2024-07-13 124314
ا پریل کے وسط میں بیساکھی کاتہوارمنایاجاتاہے ۔اس دن کسان ربیع کی فصل کولہلہاتے اورپھلتے پھولتے دیکھ کرخوش ہوتے    ہیں ،اس لیے وہ ناچتے، گاتے اور بھانگڑا کرتے ہیں۔اس موقعے پرجگہ جگہ مختلف قسم کی تقریبات بھی  منعقد کی جاتی ہیں ۔
ستمبرکے مہینے میں کیرل میں  دھان کی اچھی فصل پیداہونے کی خوشی  میں مسلسل دس دنوں تک ‘اونم’      کاتہوارمنایاجاتاہے۔ان دنوں میں گھروں کوپھولوں سے سجایاجاتاہے۔اس کے علاوہ اس موقع پرمختلف قسم کے پروگرام ہوتے ہیں جیسے ‘نوکا دوڑ’ اور‘بھینسادوڑ’کے مقابلےوغیرہ۔
ان کے علاوہ ہمارے ملک میں فصل سے متعلق دیگرعلاقائی تہواربھی منائے جاتے ہیں جیسے: میگھالیہ کا‘ونگالہ’ تہوار جو ’سو ڈرم‘  تہوارکے نام سے بھی جانا  جاتا  ہے ۔یہ سالجونگ نام کے سورج دیوتاکوخوش کرنے کے لیے نومبرکے مہینے میں منایاجا  تاہے۔یہ کھیتوں میں اچھی فصل  کی امیداورموسم ِسرماکی شروعات کی علامت بھی ہے۔
کیرل کا‘وشو’  تہوار اپریل ماہ میں زرعی موسم کی شرو عات کی خوشی میں منایاجا  تاہے۔اسی طرح لدّاخ میں ‘لداخ فصل میلا’ستمبرکے مہینے میں فصل کی کٹائی کی خوشی میں لگتا ہے جو عام طور پر پندرہ دنوں تک چلتا ہے۔ اس موقعے پر ناچ گانے  اور تیر اندازی وغیرہ کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ 
جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ میں ‘نواکھائی ’ تہوارستمبر کے مہینے میں اور‘اگادی’تہوار  کرناٹک، آندھرا  پردیش اور تلنگانہ میں مارچ یا اپریل کے مہینے میں نئی فصل    پیدا ہونے کی خوشی میں منائے جاتے ہیں۔
Screenshot 2024-07-13 124335

لفظ ومعنی
زرعی : کھیتی سے متعلق
عقائد : عقیدہ کی جمع، یقین
قدیم : پرانا
انعقادکرنا : کسی پروگرام کا ہونا
تقریبات : پروگرام
تیراندازی : تیرچلانے کا فن

Screenshot 2024-07-13 124345
 غورکرنے کی بات
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے۔ کثیرآبادی کا ذریعۂ معاش زراعت ہی ہے۔ اس لیے کئی ایسے تہوار ہیں جو فصلوں کی کاشت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تہواروں کا تعلق فصل کے بونے سے لے کر کٹنے تک ہوتا ہے۔ 
عام طور پر فصلوں کے بونے اور کاٹنے کے دو موسم ہوتے ہیں۔ ایک ربیع کی فصل کا اور دوسرا خریف کا۔  ربیع کی فصلوں کا موسم ماہ  اکتوبر    تا     ا پریل ہے۔ اس دوران گیہوں، جَو، چنا، مٹر، سرسوں، اور آلو وغیرہ کی کاشت کی جاتی ہے۔ خریف کی فصلوں کا موسم جون تا اکتوبرہے۔ اس دوران چاول، جوار، باجرا، مکئی، تِل، مونگ پھلی وغیرہ کی کاشت کی جاتی ہے۔ ربیع اور خریف کے درمیان تربوز، خربوزہ، ککڑی، کھیٖرا  اور کچھ سبزیاں  پیدا کی جاتی ہیں۔اسے زائد فصل کہتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے
1.مکرسنکرانتی کے وقت کون ساموسم ہوتاہے اورکسانوں کوسورج سے کیاامیدہوتی ہے؟
2. بسنت پنچمی کے دن لوگ کیا کرتے ہیں؟
3. آپ کو کون سا تہوار سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور کیوں؟
4. ‘نوکادوڑ’سے کیامرادہے اوریہ کس علاقے میں ہوتی ہے؟
5. تہوار کے روز آپ کے گھر میں کون کون سے پکوان بنتے ہیں اور انھیں کون بناتا ہے؟

خالی جگہوں کودیے ہوئے لفظوں سے بھریے
شروعات میگھالیہ انعقاد ستمبر تیراندازی
خوشی کے اس موقع پر مختلف قسم کی تقریبات کا بھی    _______کیا جا  تا ہے۔
  _______ کا ‘ونگالہ ’تہوار جوسو ڈرم نام کے تہوار سے بھی جانا جا  تا ہے۔
کیرل کا ‘وشو’ اپریل ماہ میں زرعی موسم کی  _______کی خوشی میں منایا جا  تا ہے۔
‘لدّاخ فصل میلا’   _______کے مہینے  میں فصل کی کٹائی کی خوشی میں منایا جا  تا ہے۔
اس موقعے پر ناچ گانے اور   _______ وغیرہ کے مقابلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔
  کالم‘الف’اور‘ب’ کے صحیح جوڑ ملائیے
  (الف) (ب)

جنوری بسنت پنچمی
فروری ہولی
 مارچ لوہڑی
اپریل اونم
اگست بیساکھی
  نیچے دیے ہوئے جملوں میں ایک لفظ غلط ہے، سبق سے تلاش کرکے اس کی جگہ صحیح لفظ لکھیے۔
1. ان تہواروں کو منانے کے پیچھے کئی نئی روایتیں اور مذہبی عقیدے ہیں۔
2. اس تہوار کے دن آدمی سورج دیوتا کی پوجا کرکے اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔
3. اس موقعے پر کسان دھان کی بالیاں بھون کر کھاتے ہیں۔
4. اپریل کے وسط میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے۔

 سبق میں کس کاذکر نہیں آیا ہے، اسے تلاش کرکے لکھیے
1. لوہڑی ہولی دسہرہ وشو اونم _________
2. مہاراشٹر راجستھان میگھالیہ تلنگانہ پنجاب _________
3. جنوری  فروری اپریل         ستمبر جون _________
4. بھانگڑا ڈرم گھڑدوڑ   پتنگ اڑانا بھینسادوڑ _________
5. گنگا جمنا تِل         گڑ تیل _________

 پڑھیے ،سمجھیے اور لکھیے

نیچے دی گئی عبارت کو غور سے پڑھیے۔

لوہڑی کا تہوار ہرسال 13یا     14جنوری کوپورے  ملک میں منایا جاتا ہے۔ لوہڑی کے اگلے ہی دن ‘مکرسنکرانتی’  کا تہوار منایا جاتا  ہے،جومختلف صوبوں  میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے ،جیسے گجرات میں ‘اترائین’،آسام میں ‘بیہو’،تمل ناڈو میں ‘پونگل’ ، کرناٹک،کیرل اورآندھراپردیش میں‘سنکرانتی’ اورکچھ صوبوں میں اسے ‘کھچڑی’ بھی کہا جاتا ہے۔
اوپر دی گئی عبارت میں گجرات ، آسام، تمل ناڈو، کرناٹک، کیرل اور آندھرا پردیش صوبوں کے نام ہیں جو علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح لوہڑی، مکر سکرانتی، اترائن، بیہو وغیرہ تہواروں کے نام ہیں۔   کسی شخص جگہ یا چیز کے نام کو اسم کہتے ہیں۔ آپ سبق کو دوبارہ پڑھیے اور اسم کے الفاظ تلاش کرکے لکھیے۔

نیچے دیے گئے جملے پر غور کیجیے۔

   اب پچھتاوے کیا ہوت،  جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت
یہ ایک کہاوت ہے اور  اِس کے معنی ہیں نقصان ہوجانے کے بعد پشیمان ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک کہاوت اور ہے ’کوّا چلا ہنس کی چال  اپنی چال بھی بھولا۔‘   یعنی اپنی روش چھوڑکر دوسروں کی نقل کرنے سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔
کہاوتیں ایسے جملے ہوتے ہیں جنھیں لوگ اپنی بات کو اور زیادہ با اثر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کہاوت کے چند الفاظ وہ بات بیان کردیتے ہیں جس کے لیے کئی صفحات کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ہر کہاوت انسانی تجربے کا نچوڑ پیش کرتی ہے۔ نیچے کچھ کہاوتیں اور ان کے معنی دیے گئے ہیں۔ آپ انھیں پڑھیے اور اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:
   - طوطا چشم ہونا : بے مروت ہونا
 - آدھا تیتر آدھا بٹیر : وہ بات یا کام جو ایک اصول کے تحت نہ ہو، بے میل ،بے جوڑ چیز
- بگلا بھگت ہونا : ایسا شخص جس کا ظاہر اچھا اور باطن بُرا ہو

 عملی کام
آپ کے علاقے میں فصل سے متعلق جو تہوار منایا جا  تا ہے، اس کے بارے میں مختصر مضمون لکھیے۔
آپ جن فصلوں کے نام جانتے ہیں ،ان کی فہرست بنائیے۔

میٹھے بول

ہم سب بولتے ہیں، باتیں کرتے ہیں۔ باتیں کرنا کِسے اچھّا نہیں لگتا؟ اہم بات یہ نہیں ہے کہ ہم بول رہے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ ہم جو کچھ بول رہے ہیں کیا وہ سُننے والوں کو اچھا بھی لگ رہا ہے؟اگر ہمارا بولنا دوسروں کو اچھّا نہیں لگ رہا ہے تو ہمارا بولنا فضول ہے۔ 

میٹھی بولی سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے۔ اگر فائدہ نہ بھی ہو تو نقصان تو کبھی نہیں ہوتا۔لیکن سخت لہجہ ہمیشہ نقصان دہ  ہوتا ہے۔ میٹھی بولی خود اپنے کو بھی اچھی لگتی ہے، دوسروں کو بھی۔خدا نے یہ چھوٹی سی زبان جو ہمارے منہ میں دی ہے اس سے ہم دنیا کو اپنا دوست بھی بناسکتے ہیں اور دُشمن بھی۔دوستی اگر بہت اچھی چیز ہے تو دُشمنی بہت خراب۔ سوال یہ ہے کہ دشمن بنائے ہی کیوں جائیں؟دوست ہی کیوں نہ بنائے جائیں؟  بات سختی سے کیوں کی جائے؟ نرمی سے کیوں نہ کی جائے؟

Screenshot 2024-07-13 124609

میٹھی بولی انسان کا زیور ہے۔ میٹھی بولی سے انسان سماج کا بہترین فرد بن جاتا ہے۔ مُلک کا بہترین شہری بن جاتا ہے۔ دراصل بات چیت کرنے کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس میں چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ تہذیب اور تمیزداری کا خیال بھی رہے۔ عام طور پر ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو سُننے والوں کو اچھّے لگیں، جن سے کسی کو بے عزّتی محسوس نہ ہو، جن سے کسی کا دل نہ دُکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بات چیت کرتے وقت لہجہ بھی نرم ہو۔ لہجے کی سختی اور اکھڑپن بھی کسی کو اچھّا نہیں لگتا۔ نرم لہجے میں کی گئی بُرائی بھی ناگوار نہیں گزرتی ۔ سخت لہجے میں کی گئی تعریف بھی پسند نہیں آتی۔ سخت لہجے میں بولنے والا، بھدّے اور بُرے الفاظ استعمال کرنے والا شخص سماج میں کبھی پسند نہیں کیا جاتا، چاہے اس میں دوسری کتنی ہی خوبیاں کیوں نہ ہوں۔ 

(پڑھنے کے لیے)

Screenshot 2024-07-13 124623