Skip to content


آبِ رواں

Screenshot 2024-07-13 141042
اُچھلتا ہوا اور اُبلتا ہوا اکڑتا ہوا اور مچلتا ہوا
پہاڑوں پہ سر کو پٹکتا ہوا چٹانوں پہ دامن جھٹکتا ہوا
وہ پہلوئے ساحل دباتا ہوا یہ سبزے پہ چادر بچھاتا ہوا
وہ گاتا ہوا اور بجاتا ہوا یہ لہروں کو پیہم نچاتا ہوا
بپھرتا ہوا جوش کھاتا ہوا بگڑکر وہ کَف منہ میں لاتا ہوا

وہ اوٗنچے سُروں میں تموّج کا راگ
وہ خود جوش میں آکے لانا یہ جھاگ

وہ روئے زمیں کو چھُپاتا ہوا وہ خاکی کو سیمیں بناتا ہوا
گُل و خار یکساں سمجھتا ہوا ہر اک سے برابر اُلجھتا ہوا
بہاتا ہوا اور بہتا ہوا ہوا کے طمانچوں کو سہتا ہوا
بلندی سے گرتا گراتا ہوا نشیبوں میں پھرتا پھراتا ہوا3
دہ کھیتوں میں راہیں کترتا ہوا زمینوں کو شاداب کرتا ہوا
یہ تھالوں کی گودوں کو بھرتا ہوا وہ دھرتی پہ احسان دھرتا ہوا
چمکتا ہوا اور جھلکتا ہوا سنبھلتا ہوا اور چھلکتا ہوا
ہواؤں  سے موجیں لڑاتا ہوا حبابوں کی فوجیں بڑھاتا ہوا

یوں ہی الغرض ہے یہ پانی رواں
بس اب دیکھ لیں شاعرِ نکتہ داں
اکبر الہ آبادی
Screenshot 2024-07-13 141056

لفظ و معنی 
پہلوئے ساحل : سمندر کے کنارے کے آس پاس کا حصہ :
سبزه ہریالی
پیہم لگا تار ، مسلسل
بپھرنا  آپے سے باہر ہونا، جوش میں آنا
کف جھاگ
تموج موجیں اٹھنا، لہریں اٹھنا
روئے زمین زمین کا چہرہ بمعنی زمین پر
خاکی مٹی جیسا
سیمیں چاندی جیسا، سفید
خار کانٹا
یکساں برابر، ایک طرح کا
نشیب ڈھلان، پستی
شاداب سرسبز ، ہر ابھرا
حبابوں حباب کی جمع بمعنی بلبلے
الغرض غرض کہ مختصر یہ کہ
شاعر نکتہ داں باریکیوں کو سمجھنے والا شاعر

غور کرنے کی بات
اس نظم میں پانی کا پہاڑوں سے نیچے آنے کا منظر پیش کیاگیا ہے۔ پانی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی راہ خودتلاش کرلیتا ہے۔ یہاں پانی کی مختلف کیفیتوں کوظاہر کیاگیا ہے اور ان سے پیداشدہ آواز،نغمہ اور حرکت نے نظم میں لطف کی ایک کیفیت پیداکردی ہے۔
جب پانی زور سے بہتا ہے تو جھاگ پیدا ہوتے ہیں اور پانی کی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔
پانی جب زمین پر اِدھر اُدھر پھیل جاتا ہے تو مٹی چُھپ جاتی ہے۔ دور سے اس کی سطح سفید چادر کی طرح چمکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اسے شاعر نے ‘خاکی کو سیمیں بناتا ہوا ’ کہا ہے۔ 
جہاں دریا نہیں ہوتا وہاں سینچائی کے لیے نہر، تالاب یا ٹیوب ویل وغیرہ سے کام لیا جاتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے
 اس نظم میں آبِ رواں کا کن کن مقامات سے گزرنا بتایا گیا ہے؟
 ‘پانی کا ہراک سےبرابر الجھنے ’سے کیامرادہے؟
‘کھیتوں میں راہیں کترنا ’سے آپ کیاسمجھتے ہیں ؟
 اس نظم سے آبِ رواں کی کن خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے؟
‘تموج کاراگ’ سے آپ کیاسمجھتے ہیں؟

 مندرجہ ذیل الفاظ کے مترادف لکھیے
موج _______
 کف     _______
یکساں _______
بلندی _______

دیے ہوئے لفظوں کے واحد لکھیے
چٹانوں   _______
طمانچوں   _______
نشیبوں _______
تھالوں _______
موجیں _______
 فوجیں _______
Screenshot 2024-07-13 141156
 پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

نیچے دیے گئے مصرعوں کو پڑھیے:
اُچھلتا    ہوا  اور  اُبلتا  ہوا
اکڑتا  ہوا   اور  مچلتا   ہوا
پہاڑوں  پہ  سرکو   پٹکتا    ہوا
چٹانوں  پہ   دامن  جھٹکتا     ہوا
ان مصرعوں میں اُچھلتا، اُبلتا، مچلتا، پٹکتا، جھٹکتا  ایسےالفاظ  ہیں جو پانی  کےعمل  یا  کام کو ظاہر کرتے   ہیں۔ وہ الفاظ جن سے کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر ہو، انھیں فعل  کہتے  ہیں۔

اپنے ساتھیوں سے بات چیت کیجیے اور پانی سےمتعلق پانچ ایسے جملے لکھیے جن میں فعل کااستعمال کیاگیاہو۔
________________________________
________________________________
________________________________
________________________________
________________________________
محاورہ دو یا دو سے زائد الفاظ کا وہ مجموعہ ہےجوحقیقی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوتاہے۔مثلاً ‘نودوگیارہ ہونا’۔اس سے مراد ہے ‘بھاگ جانا ’یا ‘فرار ہوجانا’جیسے پولیس کو دیکھ کر چور نودوگیارہ ہوگئے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آٹھ اور تین بھی گیارہ ہوتے ہیں،سات اور چاربھی گیارہ ہوتے ہیں اور چھے اور پانچ بھی گیارہ ہوتے ہیں لیکن انھیں محاورہ نہیں کہاجاسکتا۔ صرف ‘نو دو گیارہ’ ہی محاورے کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ایسے مصرعے تلاش کرکے لکھیے جن میں درج ذیل محاوروں کا استعمال کیا گیا ہے:
سرپٹکنا     : __________________________
دامن جھٹکنا    : __________________________
جوش کھانا  : __________________________
احسان دھرنا    : __________________________

عملی کام
اپنے آس پاس بہنے والی ندی کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے وہ کہاں سے نکلتی ہے؟ اور کن کن مقامات سے گزرتی ہے؟
Screenshot 2024-07-13 141225