Skip to content


ویرعبد الحمید


ایک فوجی کے لیے اپنے ملک کی حفاظت کرنا سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ اپنی جان سے زیادہ اپنے ملک سے محبت کرتا ہے۔ ملک کی عظمت اور شان کے لیے مرمٹنے کو تیار رہتا  ہے۔ کئی ایسے مواقع آئے کہ ہمارے ملک کے عظیم جاں باز فوجیوں نے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں تک قربان کردیں ۔ وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں میں ایک نام ویرعبدالحمیدکا بھی ہے۔ ان کی پیدائش1 جولائی  1933 کو اتر پردیش میں ضلع غازی پورکے گاؤں دھامو پور  میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمدعثمان اور والدہ کا نام سکینہ بیگم تھا ۔ 
ان کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔ ان کے والد گزر بسر کے لیے کپڑوں کی سلائی کا کام کیا کرتے تھے۔ عبدالحمید بھی اپنے والد کے کام میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ انھیں بچپن سے ہی کُشتی لڑنے، ندی میں تیرنے اور غلیل سے نشانہ لگانے کا شوق تھا۔ 
Screenshot 2024-07-13 143156
ایک بار ان کے گھر کے قریب کی ندی میں سیلاب آگیا۔ اس سیلاب سے غازی پور ضلع کے پدم پور اور آس پاس کے علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ اس وقت عبدالحمید نے اپنی جان کی بازی لگا کر کئی لوگوں کو ڈوبنےسے بچا لیا ۔وہ بچپن سے ہی جیالے تھے کسی کے ساتھ نا انصافی ہوتے دیکھنا ان کو سخت ناگوار تھا۔ایک بار ان کے گاؤں کے زمین دار نے ایک غریب کسان کی فصل کو زبردستی ہتھیانے کی کوشش کی۔ زمین دار نے اپنے آدمیوں کو کٹی ہوئی فصل لوٹ کر لانے کو بھیجا۔ عبدالحمید اس زیادتی کو برداشت نہ کرسکے ۔ انھوں نے تنِ تنہا ان سب کا مقابلہ کیا اور کسان کی فصل کو بچالیا۔
ویر عبدالحمید لوگوں سے ہی نہیں اپنے وطن سے بھی بہت محبت کرتے تھے۔ اسی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر انھوں نے ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کا ارادہ کیا۔چنانچہ 27 دسمبر 1953کو فوج میں ان کی بھرتی ہوئی۔ ٹریننگ کے بعدانھیں نصیرآباد  چھاؤنی بھیج دیا گیا۔ یہاں فوجی تربیت دینے والے  افسر ان اُن کی فرض شناسی سے بہت خوش رہتےتھے۔ 
Screenshot 2024-07-13 143209
ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد عبدالحمید  کو4گرینیڈیئرس کی ’سی‘کمپنی میں تعینات کیا گیا۔ اپنی بٹالین کے ساتھ وہ آگرہ، امرتسر، جموں وکشمیر، دہلی اور رام گڑھ میں خدمت انجام دیتے  رہے۔1962 میں ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس وقت عبدالحمید فوج کے جس دستے میں شامل تھے وہ 7 انفینٹری بریگیڈ کا حصہ تھا۔ یہ وہ بریگیڈ تھی جس نے چین کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ ان کی بٹالین نے نمایاں کردار  
ادا کیا۔ان کی بہادری اور حوصلے کو دیکھتے ہوئے حکومت نےانھیں کئی فوجی اعزازات سے نوازا۔
1965 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ میں ہندوستانی فوجیوں نے دشمن کے چھکےّ چھڑا دیے۔ اس جنگ میں ویرعبدالحمید اپنے انفرادی کارنامے کے لیے جانے جاتے ہیں۔جنگ کے دوران وہ کمپنی کواٹر ماسٹر حوالدار کی حیثیت سےکھیم کرن سیکٹر میں تعینات تھے۔ اس جنگ میں پاکستانی فوج نے پیٹن ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا۔ پاکستانی فوج    گولہ باری کرتے ہوئے پَنّو پُل کے راستے ہمارے ملک کی طرف بڑھ رہی تھی۔ عبدالحمید زبردست نشانے باز تھے ۔انھوں نے اُس زمانے کی مشہور آر سی ایل گن سے لگاتار گولہ باری کرکے اس پُل کو ہی اڑا دیا۔ اب باری اُن ٹینکوں کی تھی جو ہندوستان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ عبدالحمید نے ایک جیپ پر لگی آر سی ایل گن کے ساتھ فوج کی ایک ٹکڑی کی کمان سنبھال رکھی تھی۔ انھوں نے دشمن فوج کی نظر سے بچ  کر اپنی جیپ کو ایک ٹیلے کی آڑ میں محفوظ کرلیا اور یہاں سے پاکستانی ٹینکوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ یکے بعد دیگرے دشمن کے کئی پیٹن ٹینک تباہ کردیے۔
Screenshot 2024-07-13 143223
سوئے اتفاق، اسی درمیان  وہ دشمن کی نظر میں آگئے۔ حملہ آوروں نے اُن کی جیپ پر زبردست حملہ کیا۔ ویر عبدالحمید ہمت ہارے بغیر بِلا خوف اپنے مقام پر ڈٹے رہے اور مسلسل گولہ باری کرتے رہے۔انھوں نے  9 ستمبر 1965 کو دشمنوں کے تین ٹینک تباہ کردیے جس کے لیے اُسی شام حکومتِ ہند نے انھیں’پرم ویر چکر‘   دینے    کا اعلان کردیا۔ دوسرے روز 10 ستمبر کو انھوں نے دشمنوں کے مزید کئی ٹینک تباہ کردیے۔ گرچہ وہ  اس مہم میں بری طرح زخمی ہو چکے تھے اس کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخر دم تک دشمنوں کا مقابلہ کرتے اوراپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ 
ان کی سانس رکتے وقت ان کا آخری جملہ  تھا ’’ساتھیو آگے بڑھو۔‘‘ دورانِ جنگ 10ستمبر 1965 کو گولی لگنے سے جب اُن کی شہادت ہوئی اُس وقت ان کی عمر  32برس تھی ۔
ان کی ناقابل فراموش بہادری، ترغیب آفریں  قیادت اور عظیم قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے عبدالحمید کو پس از مرگ سب سے بڑے فوجی اعزاز ’پرم ویر چکر‘ سے نوازا۔ محکمہ ڈاک نے ان کے نام کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا اور  اُن کی یاد میں ان کے گاؤں کا نام ’عبدالحمید دھام‘ رکھا گیا۔ 
آج بھی پورے ہندوستان میں ویر عبدالحمید کا نام بڑے عزت واحترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ہمارے ملک کے ان عظیم فوجیوں میں تھے جن میں جذبۂ 
حب الوطنی، شجاعت اور دلیری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ملک کی سالمیت اور قومی یک جہتی کے علم بردار تھے۔ انھوں نے نہ صرف فوج کے وقار کو بڑھایا بلکہ دوسرے فوجیوں کے لیے حوصلہ مندی کی مثال بھی قائم کی۔
Screenshot 2024-07-13 143235

لفظ و معنی
جاں نثار : جان قربان کرنے والا
حب الوطنی : وطن سے محبت
قومی یک جہتی : قومی اتّحاد
سرشار : مدہوش، بے خود
ناکوں چنے چبوانا : (محاورہ) پریشان کردینا، عاجز کردینا
تحفظ : حفاظت
ٹکڑی : ٹولی، جماعت
چھکے چھڑانا : (محاورہ) دشمن کو ہر طرح سے ہرا دینا
یکے بعد دیگرے : ایک کے بعد ایک
نا قابلِ فراموش : کبھی نہ بھلائی جانے والی
سوئے اتفاق : بُرا  اتفاق، موقع کی خرابی
ترغیب : شوق
قیادت : سرپرستی
پس از مرگ : مرنے کے بعد
سالمیت : سلامتی
Screenshot 2024-07-13 143245

غورکرنے کی بات
اپنے وطن کی ترقی کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام وطن سے ہماری محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کو روکنے کی کوشش کرنا انسانیت کی خدمت ہے۔ ویرعبدالحمید کا  یہی جذبٔہ انسانیت اور حوصلہ مندی ان کی شخصیت کا اہم پہلو ہے۔
پرم ویر چکر ہندوستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جسے جنگ کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

سوچیے  اور بتائیے
بچپن میں عبدالحمید کو جن کھیلوں کا شوق تھا، وہ بعد میں اُن کے کس طرح کام آئے؟
عبدالحمید نے زمین دار کی کس زیادتی کو ماننے سے انکار کردیا؟
چین کے ساتھ جنگ میں عبدالحمید کی بٹالین کس بریگیڈ کا حصہ تھی اور اسے کون سے فوجی اعزازات حاصل ہوئے؟
پاکستانی فوج کے ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے  روکنے کے لیے عبدالحمید نے کیا کیا؟
عبدالحمید کی شہادت کے بعد حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں کیا کیا کام کیے؟
عبدالحمید کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

دیے گئے مرکب لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
سوئے اتفاق                            : _______________________________________
جذبۂ حب الوطنی             : _______________________________________
گزر بسر : _______________________________________
عزت و احترام : _______________________________________
تنِ تنہا : _______________________________________
Screenshot 2024-07-13 143301

  دیے گئے محاوروں کے معنی معلوم کیجیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے
جان کی بازی لگانا ......................................................
ناکوں چنے چبوانا ......................................................
چھکے چھڑانا ......................................................
موت کے منھ سے نکالنا ......................................................

 پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
نیچے دیے گئے الفاظ کو پڑھیے:
نوک جھونک تاک جھانک دھکا مکی
یہ وہ مرکب الفاظ ہیں جو بظاہر الگ الگ نظر آرہے ہیں لیکن دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔آپ اسی طرح پانچ الفاظ تلاش کرکے لکھیے جن میں الفاظ الگ الگ ہوں لیکن معنی ایک ہوں۔

عملی کام
کیا آپ ایسے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں جنھوں نے بہادری بھرے کارنامے انجام دیے ہیں۔ بہادر بچے کے عنوان سے ایسے بچوں کی ایک فہرست تیار کریں۔
کیا آپ کے گاؤں، محلہ ، یا  کالونی سے کوئی شخص فوج میں ہے؟ اگر ہاں تو ان سے مل کر ان کے تجربات معلوم کیجیے اور تحریری شکل میں اسے بیان کیجیے۔
اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ دہلی میں واقع نیشنل وار میموریل کی سیر کیجیے اور میموریل کے مخصوص حلقوں امرچکر، تیاگ چکر، ویرتا چکر، رَکشا چکر کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔آپ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے بھی نیشنل وار میموریل کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں: