Skip to content


احسان کا بدلہ احسان


بہت دنوں کاذکرہے، شہرعادل آباد میں ایک بہت دولت مند دکان دار تھا۔دوٗر دوٗر کے ملکوں سے اس کا لین دین تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا،جو اس نے بہت دام دے کر ایک عرب سے خریدا تھا۔
ایک دن وہ دکان دار تجارت کی غرض سے گھوڑے پر سوار ہوکرجارہا تھا کہ بے خیالی میں شہر سے بہت دور نکل گیا اور ایک جنگل میں جا نکلا۔ابھی یہ اپنی دُھن میں آگے جارہا تھاکہ پیچھے سے چھے آدمیوں نے اس پر حملہ کردیا۔اس نے ان کے دو ایک وار تو خالی دیے،لیکن جب دیکھاکہ وہ چھے ہیں تو سوچا کہ اچھّا یہی ہے کہ ان سے     بچ کر نکل چلوں۔اس نے گھوڑے کو گھر کی طرف پھیرا، لیکن ڈاکوؤں نے بھی اپنے گھوڑے پیچھے ڈال دیے۔اب تو عجیب حال تھا،سارا جنگل گھوڑوں کی ٹاپوں سے گونج رہا تھا۔سچ یہ ہے کہ دکان دار کے گھوڑے نے اسی دن اپنے دام وصول کرادیے۔کچھ دیر بعد ڈاکوؤں کے گھوڑے پیچھے رہ گئے اور گھوڑا دُکان دار کی جان بچا کر اسے گھر لے آیا۔
Screenshot 2024-07-13 152059
اس روز گھوڑے نے اتنا زور لگایا کہ اس کی ٹانگیں بے کار ہوگئیں۔خدا کاکرنا ایسا ہوا کہ کچھ دنوں بعد غریب کی آنکھیں بھی جاتی رہیں۔لیکن دکان دار کو اپنے وفادار گھوڑے کا احسان یاد تھا۔ چنانچہ اس نے سائیس کو حکم دیا کہ جب تک گھوڑا جیتا رہے، اس کو روز صبح وشام چھے سیر دانہ دیا جائے اور اس سے کوئی کام نہ لیا جائے۔لیکن سائیس نے اس حکم پر عمل نہ کیا۔ وہ روز بروز گھوڑے کا دانہ کم کرتا گیا۔یہی نہیں بلکہ ایک روز اسے اپاہج اور اندھا سمجھ کر اصطبل سے نکال دیا۔ بے چارہ گھوڑا رات بھر بھوکا پیاسا ، بارش اورطوفان میں باہر کھڑا رہا۔جب صبح ہوئی تو جوں توں کر کے وہاں سے چل دیا۔
اسی شہر عادل آباد میں ایک بڑی مسجد اور ایک بڑا مندرتھا ۔ان میں نیک مسلمان اور ہندو آکر اپنے اپنے ڈھنگ سے خدا کی عبادت کرتے اور اس کو یاد کرتے تھے۔مندر اور مسجد کے بیچ میں ایک بہت اونچا مکان تھا،اس کے بیچ میں ایک بڑا سا کمرا تھا۔کمرے  میں ایک بہت بڑا گھنٹا لٹکا   ہوا  تھا    جس میں ایک لمبی سی رسّی بندھی ہوئی تھی۔ اس گھر کا دروازہ دن رات کھُلا رہتا۔  شہر عادل آباد میں جب کوئی کسی پر ظلم کرتا یا کسی کا مال دبا لیتا یا کسی کا حق مار لیتا تو وہ اس گھر میں جاتا ،رسّی پکڑ کر کھینچتا۔ یہ گھنٹا  اِس زور سے بجتا کہ سارے شہر کو خبر ہوجاتی۔ گھنٹے کے بجتے ہی شہر کے سچے،نیک دل ہندو اورمسلمان وہاں آجاتے اور فریادی کی فریاد سن کر انصاف کرتے۔
Screenshot 2024-07-13 152110
اتفاق کی بات کہ اندھا گھوڑا بھی صبح ہوتے ہوتے اس گھر کے دروازے پر جا نکلا ۔دروازے پر کچھ روک ٹوک     
تو  تھی نہیں،گھوڑا سیدھا گھر میں گھس گیا۔بیچ میں رسّی لٹکی تھی،غریب مارے بھوک کے ہر چیز پر منہ چلاتا تھا۔ رسّی جو اس کے بدن سے لگی تو وہ اسی کو چبانے لگا۔رسّی جو ذرا کھنچی تو گھنٹا بجا۔ مسلمان مسجد میں نماز کے لیے جمع تھے، پجاری مندر میں پوجا کر رہے تھے۔گھنٹا جو بجا تو سب چونک پڑے اور اپنی اپنی عبادت ختم کر کے سب اس گھر میں آن کر جمع ہوگئے۔شہر کے پنچ بھی آگئے۔
پنچوں نے پوچھا“یہ اندھا گھوڑا کس کا ہے؟”
لوگوں نے بتایا“فلاں تاجر کا ہے۔اِس گھوڑے نے تاجر کی جان بچائی تھی۔” پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ تاجر نے اسے نکال باہر کیا ہے۔ پنچوں نے تاجر کو بلوایا۔ایک طرف اندھا گھوڑا تھا۔ اُس کی زبان نہ تھی جو شکایت کرتا۔دوسری طرف تاجر کھڑا تھا، شرم کے مارے اس کی آنکھیں جھکی تھیں۔
پنچوں نے کہا ”تم نے اچھا نہیں کیا...  اِس گھوڑے نے تمھاری جان بچائی اور تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ تم آدمی ہو، یہ جانور ہے۔آدمی سے اچھا تو جانور ہی ہے۔ہمارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہر ایک کو اس کا حق ملتاہے۔احسان کا بدلہ احسان سمجھا جاتا ہے۔“
تاجر کا چہرہ شرم سے سُرخ ہوگیا، اُس کی آنکھوں سے آنسونکل پڑے ۔بڑھ کر اُس نے گھوڑے کی گردن میں ہاتھ ڈال دیا ۔ اُس کا منہ چوما اور کہا“میرا قصور معاف کر” یہ کہہ کر اس نے وفادار گھوڑے کو ساتھ لیا اور گھر لے آیا ۔پھر اس کے لیے ہر طرح کے آرام کا انتظام کردیا۔
—    ڈاکٹر ذاکرحسین
Screenshot 2024-07-13 152122


 لفظ و معنی
حق : سچ
دولت مند : مال دار، امیر
وفادار : وفاکرنے والا
سائیس : گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنے والا ملازم
اصطبل : گھوڑوں کے رہنے کی جگہ
فریادی : فریاد کرنے والا، انصاف چاہنے والا
تاجر : تجارت کرنے والا،سوداگر
Screenshot 2024-07-13 152134

غورکرنے کی بات
اس کہانی میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے  کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ ہمیشہ بھلائی اورہم دردی سے پیش آناچاہیے۔اسی کواحسان کانام دیاگیاہے۔احسان کے حق دارانسان ہی نہیں بلکہ جانوربھی ہیں۔ 

 سوچیے اور بتائیے
1. دکان دار نے ڈاکوؤں سے بچ کر نکلنے کی بات کیوں سوچی؟ 
2.  دکان دار کی جان بچانے کے بعد گھوڑا کس پریشانی میں مبتلا ہوا؟
3. سائیس نے گھوڑے کے ساتھ کیساسلوک کیا؟
4.  لوگوں کو گھوڑے کی حالت کا کیسے اندازہ ہوا؟
5. اگرکسی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہو توآپ کیاکریں گے؟
6. لوگوں کوگھنٹابجانے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟
خالی جگہوں کو دیے ہوئے لفظوں سے بھریے
  بے کار    روک   حملہ     تاجر   تجارت
1. دکان دار _______ کی غرض سے گھوڑے پر سوار ہوکر جارہا تھا۔
2. چھے آدمیوں نے اس پر _______ کردیا ۔
3. گھوڑے کی ٹانگیں _______ ہوگئیں۔
4. دروازے پر کچھ _______ ٹوک تو تھی نہیں۔
5. اس گھوڑے نے  _______ کی جان بچائی تھی۔

 نیچے دیے گئے الفاظ کے واحد لکھیے

1. ملکوں : __________
2. آدمیوں : __________
3. ڈاکوؤں : __________
4. پنچوں : __________

درج ذیل جملوں کوکہانی کے مطابق ترتیب سے لکھیے
1. تاجر شرمندہ ہوا اور گھوڑے کو اپنے ساتھ گھر لے آیا۔
2. گھوڑا دکان دار کی جان بچا کر اسے گھر لے آیا۔
3. پنچوں نے تاجر کو بلوایا۔
4. عادل آباد میں ایک دولت مند دکان دار تھا۔
5. گھوڑے نے انصاف کی رسّی کو کھینچا۔
6. گھوڑے کی ٹانگیں بے کار ہوگئیں۔
7. دولت مند دکان دار پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا۔
دکان8.  دار نے گھوڑے کے احسان کا خیال کر کے سائیس کو حکم دیا کہ جب تک گھوڑا زندہ رہے اسے روزانہ چھے سیر دانہ دیا جائے۔
9. سائیس نے گھوڑے کو اصطبل سے نکال دیا۔

  پڑھیے ،سمجھیے اور لکھیے
پچھلے سبق میں آپ محاورے کے بارے میں معلوم کرچکے ہیں۔نیچے دیے ہوئے محاوروں میں صحیح لفظ بھریے:
1. ___________ تلے اندھیرا ہونا دیوار درخت چراغ
2. آنکھوں میں _________ جھونکنا مٹی     دھول         پانی
3. اپنے منھ میاں __________ بننا طوطا       مٹّھو          بندر
4. آگ میں ___________ ڈالنا پانی              تیل         گھی
5. دانتوں تلے __________ دبانا ہاتھ           ناخن          انگلی

آپ پہیلیوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ ذیل میں دی گئی پہیلیوں کو اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔

1. نیچے پٹکو اوپر جاتی اوپر سے پھر نیچے آتی
اونچی اونچی کود لگاتی گول گول ہوں تم کو بھاتی
2. پتی پتی اس کی ہری ہے پس جائے تو لال پری ہے
پیاری پیاری اُس کی لالی اس سے خوش ہر لڑکی بالی

3. گول گول ہوں نرم نرم ہوں آدھی پھل ہوں آدھی پھول
چاہے کاٹ کاٹ کر کھاؤ چاہے پوری چٹ کر جاؤ

4. پنکھ نہیں پر اڑتی ہوں ہاتھ نہیں پر لڑتی ہوں
کسی کے ہاتھ سے لڑتی ہوں کٹ جاؤ تو نیچے آجاتی ہوں


 عملی کام
اپنے اسکول کی لائبریری سے کوئی ایسی کہانی تلاش کرکے کلاس روم میں سنائیے جس میں کسی  بے زبان جانور نے اپنے مالک کے ساتھ وفاداری اور محبت کا سلوک کیا ہو۔ 
پرانے زمانے میں انصاف کے لیے فریاد کے کون کون سے طریقے تھے اور یہ آج سے کس طرح مختلف تھے۔ اپنے استاد یا گھر کے بڑوں سے معلوم کیجیے اور انھیں لکھیے۔ آپ انٹرنیٹ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔

Screenshot 2024-07-13 152150



چاند پہ جا پہنچا انسان 

Screenshot 2024-07-13 152236
جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آسان 
اپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدان 
مٹی بولی میرے دل کا نکلا آج ارمان
چاند پر جا پہنچا انسان

راکٹ ایک اُڑا دھرتی سے اور ہوا میں پہنچا 
اس کو ہوا سے کیا لینا تھا، دور فضا میں پہنچا 
اس سے بھی کچھ آگے نکلا اور خلا میں پہنچا

ہمت ! میں تیرے قربان
 چاند پر جا پہنچاانسان

جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آسان 
اب مریخ بھی دور نہیں . ہے چاند پہ جانے والے
 تیری ہمت پر نازاں ہیں آج زمانے والے
 دور زمین سے سیاروں کا کھوج لگانے والے
 علم وہنر کی ایک نئی تاریخ بنانے والے

تیرا کام ہے عالی شان
 ہمت ! میں تجھ پر قربان 
چاند پہ جا پہنچا انسان
 جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آسان
Screenshot 2024-07-13 152247
(پڑھنے کے لیے)