Skip to content


محنت کی عظمت


[منظر :بازار میں مختلف دکانیں ہیں۔ ایک طرف کونے میں گھڑیوں کی ایک چھوٹی سی دُکان ہے۔ دُکان کے سامنے کے حصے میں شیشے کی الماری میں گھڑیاںسجی ہوئی ہیں۔ ایک شوکیس کے پیچھے یوسف بیٹھا ہوا کام کر رہا ہے۔ سڑک سے اس کا سر اور جسم کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا ہے۔ یوسف کے استاد اس کے پاس کھڑے ہیں اور اس سے باتیں کررہے ہیں۔] 

ماسٹر صاحب : میں نے تو تمھیں اپنی پرانی گھڑی مرمت کے لیے دی تھی۔ تم نے اس کے ساتھ ایک نئی گھڑی کیوں بھیجی؟ 
یوسف : جناب ! میں جب پڑھتا تھا اس وقت سے آپ کے پاس وہی گھڑی دیکھ رہا ہوں۔ میں نے سوچا کیوں نہ ایک نئی گھڑی بھی آپ کے پاس ہو۔ 

ماسٹر صاحب : بہت خوب! میں تمھارے جذبے کی قدر کرتا ہوں۔ میں تو اس نئی گھڑی کو واپس کرنے آیا تھا۔ [ماسٹر صاحب جیب سے نئی گھڑی نکالتے ہیں۔] لیکن تمھاری محبت دیکھ کر اب میں اسے رکھ لوں گا۔ مگر تمھیں اس کی قیمت لینی ہوگی اور تم انکار نہیں کرو گے۔ 
Screenshot 2024-07-13 160502
یوسف : نہیں جناب! میں نہیں لوں گا۔ اسے آپ اپنےشاگرد کی طرف سے ایک تحفہ 
سمجھ کر رکھ لیجیے۔ 
 
ماسٹر صاحب : نہیں، قیمت تو تمھیں لینی ہوگی۔ میں اسے یوں ہی  قبول نہیں کر سکتا ۔ 
یوسف : جناب آپ کا حکم سرآنکھوں پر۔ چلیے، اگرآپ یہی چاہتے ہیں تو میں اس کی اصل قیمت لے لوں گا ۔ 
[ ماسٹر صاحب قیمت ادا کر کے روانہ ہوتے ہیں۔ اسی وقت دکان پر گڈّو نام کا ایک ہٹّا کٹّا نوجوان ہاتھ پھیلائے آ کھڑا ہوتا ہے۔] 

گڈّو : صاحب! میں بھوکا ہوں اور میرے چھوٹے بھائی بہن بھی بھوکے ہیں۔ 
میری کچھ مدد کیجیے۔
[ یوسف گڈّو کو اوپر سے نیچے تک حیرت سے دیکھتا ہے۔] 

یوسف : تم تو ہٹّے کٹّے ہو۔ جھوٹ بول کر بھیک مانگتے ہو ! بھائی بہنوں کا تو بس بہانہ ہے۔ 
گڈّو : صاحب! میں جھوٹ نہیں بولتا۔ آپ کو اگر یقین نہ ہو تو میرے ساتھ چلیے ۔ میرا گھر قریب ہی ہے۔ آپ خود انھیں دیکھ لیں گے۔
[اچانک گڈّو کی نظر دکان کے ایک کونے میں رکھی ہوئی بیساکھی پر پڑتی ہے۔ اور وہ کچھ سوچنے لگتا ہے۔ یہ بیساکھی کس کی ہے؟] 

یوسف : اچھّا، ٹھیک ہے چلو، میں تمھارے گھر چل کر دیکھتا ہوں ۔ 
[ یوسف بیساکھی اٹھاتا ہے اور ملازم سے کہتا ہے۔]  دکان کا خیال رکھنا ، میں ابھی آیا۔ 
Screenshot 2024-07-13 160515
گڈّو : اوہ! تو یہ بیساکھی آپ کی ہے! 
[ یوسف کے ہاتھ میں بیساکھی دیکھ کر گڈّو واپس جانے لگتا ہے۔] 
 یوسف : ارے بھائی کہاں چلے، بھائی بہنوں کے لیے کچھ نہیں لو گے؟ 
گڈّو : شکریہ ! اب مجھے احساس ہو گیا ۔ آپ نے مجھے بہت کچھ دے دیا۔ میں محنت مزدوری کروں گا۔  کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔  
Screenshot 2024-07-13 160530
لفظ ومعنی
احساس : خیال 
ملازم : خدمت گار، نوکر  
شاگرد : طالب علم، چیلا  
شوکیس : سجانے کی جگہ یا شیشے کی الماری  
قدر : عزت،  احترام  
تحفہ : ہدیہ  
حکم سر آنکھوں پر : ایک محاورہ، جس کا مطلب کام کو اوّلیت دینا، عزت رکھنا  
ہٹّا کٹّا : صحت مند، توانا  
بیساکھی : وہ    لاٹھی جس کے سہارے معذور چلتے ہیں  
Screenshot 2024-07-13 160605

 غور کرنے کی بات 
محنت ایک عظیم فعل ہے۔ ہمیں اپنا کام ایمان داری  اور محنت سے کرنا چاہیے اور کبھی محنت کرنے سے جی نہیں چرانا چاہیے۔
کچھ برسوں پہلے چابی والی گھڑیاں ہوا کرتی تھیں، جن کو ایک بار چابی دینے سے وہ ایک دن، ایک ہفتہ، اور بعض تو  ایک مہینہ تک چلتی تھیں۔ اس کے بعد سیل یا بیٹری سے چلنے والی گھڑیوں کا زمانہ آیا جن کی بیٹری مہینوں اور سالوں چلتی تھیں۔ آج کل ڈیجیٹل گھڑیوں کا زمانہ ہےجنھیں محض چارج کرنا پڑتا ہے۔ آپ کون سی گھڑی استعمال کرتے ہیں، اس کے بارے میں بتائیں۔

 سوچیے اور بتائیے
1. یوسف نے استاد کو ایک نئی گھڑی کیوں دی؟ 
2. آپ کے خیال میں استاد نئی گھڑی کو اپنے پاس کیوں نہیں رکھنا چاہتے تھے؟ 
3. گڈّو بعد میں بھیک لینے سے کیوں انکار کر دیتا ہے؟ 
4. اس سبق سے آپ کو کیا سیکھ ملتی ہے؟ 
5. استاد گھڑی کی قیمت کیوں دینا چاہتے تھے؟ 

  پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
مددگار کا مطلب ہے مددکرنے والا، اسی طرح مزدور سے مراد ہے مزدوری کرنے والا۔ مددگار اور مزدور الفاظ  اسمِ فاعل ہیں۔ وہ اسم جس سے کسی کام کے کرنے کا پتہ چلے ،اسم فاعل کہلاتا ہے۔ نیچے دیے گئے الفاظ کو
 اسمِ فاعل میں بدل کر لکھیے :
1. کھیلنے والا : __________
2. تیرنے والا : __________
3. کپڑے سینے والا : __________
4. کھیتی کرنے والا : __________
5. عبادت کرنے والا : __________
6. شکر ادا کرنے والا : __________

اس سبق میں ایک محاورہ  استعمال ہوا ہے ‘   آپ کا حکم سرآنکھوں پر’ جس کا مطلب ہے اس کام کو اہمیت دینا اور اس کو انکساری کے ساتھ مان لینا۔ اس محاورے میں سر اور آنکھ کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح جسم کے دیگر حصوں جیسے آنکھ، سر، کان وغیرہ سے متعلق کچھ محاورے نیچے دیے گئے ہیں۔دیے گئے الفاظ  کی مدد سے ان محاوروں کو پورا کیجیے:
ہاتھ      آنکھ پیر منھ ہتھیلی دماغ انگوٹھا کھال
1. __________  کا تارا ہونا
2. سر پر _______  رکھ کر بھاگنا
3. بال کی_________  نکالنا
4. ___________   پر مارنا
5. _______   سرسوں پر جمانا
6. ________   آسمان پر ہونا
7. اونٹ کے _____   میں زیرہ ہونا
8. _____________   دِکھانا

نیچے دیے گئے الفاظ پر غور کیجیے۔

دال دلیہ اٹکل                                پچّو
دال دلیہ کے معنی ہیں معمولی کھانا، روز کا کھانا اور اٹکل پچّو سے مراد ہے خیالی یا بغیر اندازے کے۔ روزانہ کی زندگی میں بولے جانے والے مخصوص الفاظ جنھیں خاص معنوں میں استعمال کیا جائے اور انھیں معنوں میں رائج ہوں، روزمرّہ کہلاتے ہیں۔ روز مرّہ میں ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جو غلط ہونے کے باوجود زبان پر چڑھ کر خاص معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور یہی معنی صحیح خیال کیے جاتے ہیں۔ نیچے دیے گئے لفظوں میں روزمرّہ کے معنی تلاش کیجیے:
اُلٹ پھیر               : __________   
ٹیٖپ ٹاپ               : __________
آؤ بھگت                : __________
داد نہ فریاد              : __________
نہار منھ                 : __________
نفسانفسی     : __________

عملی کام
اس ڈرامے کو اپنے استادکی رہنمائی میں اسٹیج پر پیش کیجیے۔
ڈرامے کا واقعہ کرداروں کی آپس کی گفتگویا مکالمے کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ تصور کیجیے آپ گھر میں اپنی کتاب تلاش کررہے ہیں اور اسے تلاش کرنے میں آپ اپنے بھائی، بہن، ابو اور امّی کی مدد لے رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں سب کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو مکالمے کی شکل میں تحریر کیجیے۔
اپنے آس پاس رہنے والے ایسے شخص کے بارے میں معلوم کیجیے جو خصوصی ضرورت کا مستحق ہے۔ اس سے ملاقات کیجیے اور اس کے ساتھ گزارے گئے وقت کے بارے میں لکھیے۔