Skip to content


پنسل کی کہانی



کوئی بھی ایجاد جب عام ہو جاتی ہے تو یہ خیال بھی نہیں گزرتا کہ شروع شروع میں اس کی قیمت کتنی زیادہ رہی ہو گی۔ آج خوب صورت رنگ برنگی پنسلیں دودو آنے میں مل سکتی ہیں۔ مگر ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک معمولی کھردری پنسل کی قیمت پانچ روپے تک ادا کرنی پڑتی تھی۔ اس زمانے میں اس کا شمار عجوبوں میں ہوتا تھا۔ عجوبے سے استعمال کی چیز بننے تک اسے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑا۔  
Screenshot 2024-07-14 114227
امریکہ میں میسے شوٹ نام کا ایک شہر ہے۔ اب سے کافی عرصہ پہلے اسی شہرمیں جوزف ڈکسن نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ جوزف کے والدین بہت غریب تھے۔ بیچارے جوزف کو دو وقت پیٹ بھر کھانا بھی مشکل سے میسر آتا تھا۔ پڑوس ہی میں جوزف کا ایک دوست رہتا تھا جس کا نام فرانس پی باڈی تھا۔ فرانس کے والد کی دواؤں کی دوکان تھی۔ فرصت کے وقت میں جوزف اور فرانس اس دوکان پر بیٹھے بیٹھے بازار کی چہل پہل دیکھا کرتے تھے۔ 
ایک دن بیٹھے بیٹھے جوزف نے دیکھا کہ دوکان پر کھرل میں چمکیلے قسم کا کوئلہ پیسا جا رہا ہے۔ اس چمکیلے کو ئلے کو ’گریفائٹ‘ کہتے ہیں۔ جوزف نے یہ بات بہت غور سے دیکھی کہ اس چمکیلے کو ئلے کو کاغذ پر رگڑنے سے سیاہ نشان بن جاتا ہے۔ وہ فرانس سے گریفائٹ کا تھوڑا سا چورا مانگ کر گھر لے گیا۔  
Screenshot 2024-07-14 114240
گھر پہنچ کر اُس نے اس سیاہ بُرادے کو چکنی مٹی کے ساتھ ملا کر گوندھ لیا۔ گوندھی ہوئی مٹی سے اس نے ایک لمبی سی بتی بنائی اور اُسے دھوپ میں خشک کر لیا۔  اب اُس نے پڑوس ہی کے ایک بڑھئی سے لکڑی کا نلکی نما ایک سانچہ بنوایا اور اس سانچے میں ایک شگاف لگا کر خشک بتّی اس میں فٹ کر دی۔ سانچے کا ایک سرا  اُس نے چاقو سے چھیل دیا، اور بتی کی نوک سے کاغذ پر لکھا۔ کاغذ پر سیاہ حروف چمکنے لگے۔ یہ دیکھ کر جوزف کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے دنیا کی پہلی پنسل ایجاد کر لی تھی۔
جوزف کی لگن دن بدن بڑھتی گئی۔ رات رات بھر جاگ کر وہ چولھے کی آنچ پر پنسلیں سکھانے لگا۔   اسکول سے اس کی پڑھائی چھوٹ گئی۔ پنسلیں بنانے کے لیے پیسے کی ضرورت تھی۔ اس غرض سے وہ سارا دن اینٹوں کے بھٹّے پر مزدوری کرتا تھا اور پھر آدھی رات تک پنسلیں بنا    تا رہتا تھا۔ اب اُس نے پنسلوں کے لکڑی کے سانچے کو پگھلے ہوئے موم کے رنگوں سے رنگنا بھی شروع کر دیا۔ راتوں رات جوزف کی تقدیر چمک اُٹھی۔ اس کی بنائی ہوئی پنسلیں تین روپے سے پانچ روپے تک میں فروخت ہونے لگیں۔ 
Screenshot 2024-07-14 114251
اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے جوزف نے بڑھئی کا کام بھی خود ہی کرنا شروع کر دیا۔ لکڑی کے خول بنانے میں ہاتھ بٹانے کے لیے چار پانچ کاریگر بھی رکھ لیے۔ کوئی لکڑی چھیلتا، کوئی بتّی، کوئی گوند چپکا    تا تو کوئی موم کے رنگوں سے پنسلیں رنگتا۔ 
پچیس سال کی عمر میں وہ اپنی بیوی اور کاری گروں کے ساتھ جرمنی چلا گیا۔ وہاں ایرہارڈ مینبر نام کے ایک لکھ پتی  کی مدد سے اس نے پنسلوں کا کارخانہ کھولا۔ ان ہی دنوں جنگ چھڑ گئی۔ فوجی دستوں کے لیے پنسلوں کی مانگ بڑھنے لگی۔ جوزف نے اپنی لگن اور دماغ سے ایک نئی مشین بنائی جو ایک منٹ میں ایک سو پنسلوں کے ڈھانچے تیار کر ڈالتی تھی۔ 
ستر سال کی عمر میں جوزف کا انتقال ہو گیا۔ مگر اس کے نام پر چلائی ہوئی ’جوڈکسن‘ پنسل کمپنی آج بھی زندہ ہے۔ جوزف ڈکسن کی کہانی ایک ایسے غریب لڑکے کی کہانی ہے جو اپنی محنت اور لگن کی بدولت کروڑ پتی بن گیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک کارآمد تحفہ دے گیا۔ 
Screenshot 2024-07-14 114301

لفظ و معنی
ایجاد : کھوج
عجوبہ : انوکھا،نرالا
میسر : دستیاب
کھرل : اوکھلی کی قسم کاچھوٹابرتن
شگاف : پھٹاہوا
لگن : لگاؤ،تعلق
کارآمد : کام آنے والا

 غورکرنے کی بات
سبق میں یہ بتایا گیا ہے کہ جوزف ڈِکسن کس طرح کڑی محنت ، لگن اور مشاہدہ کے ذریعہ مشہور انسان بنا۔جس طرح جوزف نے اپنی محنت اور لگن سے ہمیں اتنا کارآمد تحفہ دیا، اسی طرح دوسرے بہت سے لوگوں نے بھی بہت سی کارآمد چیزیں ایجاد کی ہیں۔

سوچیے اوربتائیے
1. آپ کے خیال میں جوزف رات رات بھر جاگ کر چولہے کی آنچ پر پنسلیں کیوں سکھاتا تھا؟
2. اگر پنسل کی ایجاد نہ ہوتی تو کیا صورت ہوتی؟
3. گریفائٹ کے علاوہ آپ کون کون سی دھاتوں کے نام جانتے ہیں؟لکھیے۔
4. قلم اور پنسل کے درمیان پانچ فرق لکھیے؟
5. پنسل کی کہانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
دیے گئے الفاظ کے متضاد لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے
عام _______________________________
سیاہ _______________________________
فروخت _______________________________
کارآمد _______________________________
اضافہ _______________________________

 خوش خط لکھیے اور بلند آواز سے پڑھیے
خشک ________   ________   ________
پنسلیں ________   ________   ________
چمکیلے ________   ________   ________
گریفائٹ ________   ________   ________
مشینیں ________   ________   ________
کارخانہ ________   ________   ________

 پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
اس سبق میں کھردری پنسل، چکنی مٹی، خشک بتّی، سیاہ حروف اور چمکیلا کوئلہ وغیرہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں کھردری، چکنی، خشک، سیاہ، چمکیلا بالترتیب پنسل، مٹی، بتّی حروف اور کوئلہ کی کسی نہ کسی خوبی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ الفاظ جن سے کسی اسم کی اچھائی  یابرائی کا پتا چلے اسے صفت کہتے ہیں۔اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کیجیے اور ایسے پانچ الفاظ معلوم کرکے لکھیے جن میں صفت پائی جاتی ہے۔ 
____________
____________
____________
____________
____________

نیچے چند پہیلیاں دی گئی ہیں جن کا جواب کسی پھل یا سبزی کے نام میں پوشیدہ ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں اور گھر کے بڑوں کے ساتھ مل کر ان کا جواب تلاش کیجیے۔       (اشارہ :  آم، جامن، ہری مرچ، انناس، بیر،انار)

.1 لال پھل کانٹے لدا  کھاوے جگ  سنسار بیر بیر میں کہت ہوں بوجھے نا کوئی گنوار    

2. سر کانٹوں تو امن بنے اور پاؤں کانٹوں تو پیالہ امیر خسرو یہ کہیے ، رنگ اُس کا کالا 
3. ہر برس وہ دیس میں آئے  منھ سے منھ ملا رس پلائے 
اس کی خاطر خرچے دام  آپ بتائیں اس کا نام
4. اگر  کہیں  مجھ    کو     پا    جاتا بڑے پریم سے طوطا کھاتا 
بچے اور بوڑھے اگر کھا جاتے  ویاکل ہو کر جل منگواتے

عملی کام
انٹرنیٹ کی مددسے پنسل کی طرح دوسری ایجادات اوراُن کے موجدکے بارے میں معلومات حاصل کرکے اپنی ڈائری میں لکھیے۔ 
Screenshot 2024-07-14 114423

دوہے

Screenshot 2024-07-14 114439
(1)
ایسی بانی بولیے، من کا آپا کھوئے
اَورن کو شیتل کرے، آپہوشیتل ہوئے
(2)
بڑا ہوا تو کیا ہوا، جیسے پیڑ کھجور
پنتھی کو چھایا نہیں، پھل لاگے اتی دوٗر
(3)
بُرا جو دیکھن میں چلا، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو من کھوجا آپنا، مجھ سے بُرا نہ کوئے
Screenshot 2024-07-14 114457
(4)
سائیں اتنا دیجیے، جا میں کٹنب سمائے
میں بھی بھوکا نہ رہوں، سادھ نہ بھوکا جائے
(5)
گرو گووند دوؤ کھڑے کاکے لاگو پائے
بلہاری گرو آپ نے گووند دیئو بتائے
(6)
ماکھی گڑ میں گڑی  رہے، پنکھ رہے لپٹائے
ہاتھ  مَلے اور سَر دُھنے، لالچ بُری بلائے
(7)
کال کرے سو آج کر، آج کرے سو اب
پل میں پرلے ہوئے گی، بہوری کرےگا کب
 —   سنت کبیر
Screenshot 2024-07-14 114510
(نوٹ  :    دوہا ہندوستانی شاعری کی مقبول صنف ہے۔ ادب کے ابتدائی دور میں اس صنف کو صوفی شعرا نے بہت ترقی دی۔ امیر خسرو، سنت کبیر، تلسی داس، عبدالرحیم خان خاناں وغیرہ کے دوہے آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں دوہا لکھنے والوں میں جمیل الدین عالی، بھگوان داس اعجاز، شاہد میر اور ظفر   گورکھپوری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔)

Screenshot 2024-07-14 114530