سیر کو سوا سیر
ایک گاؤں میں مُفت مَل نامی تاجر رہتا تھا۔ وہ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کا مالک تھا لیکن تھا بہت کنجوس۔ خود کو ہوشیار اور چالاک سمجھتا تھا۔ لیکن اس کی ہوشیا ری اور چالا کی دوسروں سے مفت کام لینے میں صَر ف ہوتی تھی۔ اسی لیے لوگ اسے مفت مَل کہتے تھے۔
ٹرانسپورٹ کمپنی ہونے کی وجہ سے اُسے ہمیشہ نوکروں کی ضرور ت رہتی تھی۔ غرض مند لوگوں کو اچھی تنخواہ کاسبزباغ دکھا کر اپنی کمپنی میں نوکر رکھ لیتا تھا۔ تم ہی بتاؤ چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے وہ دو سو روپے ماہانہ تنخواہ دے تو بھلا کون ایسا ہے جو اس کی نوکری کو قبول نہیں کرے گا؟ کئی لوگ اپنی مستقل ملازمت چھوڑ کر اس کی نوکری کو قبول کرتے تھے۔

مفت مل نے نوکروں کے لیے ایک شرط رکھی تھی۔شرط یہ تھی کہ جو چیز بھی لانے کے لیے کہا جائے، نوکر کو چاہیے کہ وہ چیز بازار سے فوراً خرید کر لائے۔ یہ بہانہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ بازار میں نہیں ملی یا ختم ہو گئی۔ جو چیز طلب کی جائے ،فوراً حاضر کرنا چاہیے۔ اگر نہ لائی گئی تو پھر تنخواہ بھی نہیں ملے گی اور نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ہر کوئی اس شرط کو معمولی سمجھ کر خوشی خوشی ملازمت قبول کر لیتا تھا۔ مفت مل نوکر سے 29 دن تک خوب کام لیتا اور تیسویں دن نوکر کو ہانک مار کر کہتا:
”یہ پانچ روپے لے اور بازار سے تھوڑی ہائے ہائے خرید لا۔“

بے چارہ نو کرشش و پنج میں پڑ جاتا کہ یہ‘ ہائے ہائے ’ کیا چیز ہے۔ آج تک اس نے اس چیز کا نام بھی نہ سنا تھا۔ پھر وہ سوچتا، اس نام کی کوئی چیز بازار میں ہو گی تب ہی تو انھوں نے طلب کی ہے۔
نوکر بازار جاتا اور نامراد واپس آ تا۔ پھر اس بے چارے کو طے شدہ شرط کے مطابق
تنخواہ بھی نہ ملتی اور نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا۔
اس طرح جو بھی نوکر آتا اس سے مفت مل انتیس دن تک خوب کام لیتا اور پھرتیسویں روز ’ہائے ہائے ‘ لانے بھیج دیتا۔
اب تک مُفت مَل دس بارہ نو کروں سے اسی طرح مفت کام لے چکا تھا۔ وہ اپنی چالاکی پر بہت خوش تھا۔ لیکن سب دن ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ دنیا میں سیر کو سوا سیر کبھی نہ کبھی مل ہی جاتا ہے۔
ایک دن ایسا ہی ہوا۔ ایک لڑکا جو بہت غریب تھا ،مفت مل کا اشتہار پڑھ کر نوکری کے لیے ٹرانسپورٹ کمپنی پہنچا۔

مفت مل نے اُسے بھی وہی شرط بتائی۔ بے چارے غریب لڑکے نے اس شرط کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا۔ وہ نہایت ایمان داری سے کمپنی میں کام کرنے لگا۔ کام کرتے کرتے انتیس دن گزر گئے۔ غریب لڑ کا خوش تھا کہ اب تنخواہ کے لیے صرف ایک دن رہ گیا ہے۔
اگر اس نے کل بھی کام کر لیا تو پھر اسے دو سو روپے ملیں گے۔ اس نے کبھی اتنے سارے روپے نہیں دیکھے تھے۔ وہ سوچنے لگا، اس تنخواہ میں سے ماں کو سو روپے روانہ کر دوں گا۔ پچاس روپے کے اپنے لیے کپڑے بنالوں گا اور باقی پیسے اپنے خرچ کے لیے رکھوں گا ۔ اس طرح سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی ۔
دوسرے روز وہ خوشی خوشی کام پر گیا۔ تھوڑی دیر چھوٹے موٹے کام کرنے کے بعد مفت مل نے اسے آواز دی۔ جب وہ آیا تو مفت مل نے اس کے ہاتھ میں پانچ کا نوٹ دے کر کہا: ”جلدی جا اور بازار سے’ ہائے ہائے ‘لے آ۔“
لڑکا چند لمحےسوچتا ہی رہا کہ یہ ہائے ہائے کیا بلا ہے ؟جب اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو اپنے دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ اس نام کی کوئی چیز بازار میں ضرور ہو گی جسےوہ نہ جانتا ہوگا۔ پھر وہ بازار گیا ۔ اس نے ’ہائے ہائے‘ ہردکان دارسےمانگی لیکن اسے کہیں نہ ملی۔ بے چارہ غریب لڑکا مایوس ہو گیا۔ گاؤں میں صرف ایک ہی دکان باقی رہ گئی تھی۔ اس نے سوچا شاید وہاں مل جائے ۔ اُمید بھرے لہجے میں اس نے دکان دار سے پوچھا:
“سیٹھ صاحب کیا آپ کے یہاں ہائے ہائے ملے گی؟”
‘ہائے ہائے ’ کا نام سنتے ہی دکان دار، زور زور سے ہنسنے لگا۔ لڑکا سمجھ نہ سکا کہ دکان دار کیوں ہنس ر ہا ہے۔
اس نے پوچھا “سیٹھ جی آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟”
”اس لیے ہنسی آرہی ہے کہ تم بھی اس مفت مل کے دھوکے میں آگئے۔ تمھیں مفت مل ہی نے بھیجا ہے نا؟“
“جی ہاں!” لڑکے نے جواب دیا۔

دکان دار نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا ”مفت مل کی یہ ہمیشہ کی عادت ہے کہ وہ نوکروں سے مفت کام لیتا ہے اور جب وہ ‘ہائے ہائے’ نہیں لاتے تو انھیں تنخواہ بھی نہیں دیتا۔ اتنا ہی نہیں، انھیں ملازمت سے بھی بر طرف کر دیتا ہے۔ اب تم ہی کہو کہ کیا’ہائے ہائے ‘نام کی کوئی چیز دنیا میں ہے؟“
دکان دار کے یہ الفاظ سن کر لڑکے نے حیرت کا بھی اظہار کیا اور پریشانی کا بھی۔ اسے اپنے خواب چکنا چور ہوتے نظر آئے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس پریشانی سے بچنے کے لیے کیا راستہ نکالا جائے۔
وہ مایوس ہوکر ایک باغ کے گوشے میں بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ لیکن یہ معمّا حل ہوتا دکھائی نہ دیا۔ اچانک اس کی نظر درخت کے پاس ایک بچھّو پر پڑی۔ اسی وقت اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی ۔ وہ فوراً بازار گیا اور دکان سے خالی بوتل خرید لایا۔ بوتل کا رنگ ایسا تھا کہ اندر کی چیز صاف دکھائی نہ دے سکتی تھی۔

اُس نے بڑی خوبی سے اس بچھو کو پکڑا اور اسے بوتل میں بند کر کے ڈھکّن مضبوطی سے لگا دیا۔ یہ بوتل لے کر وہ مفت مل کے پاس گیا۔ اسے دیکھتے ہی مفت مل نے ہنستے ہوئے پوچھا:
“ کیا‘ہائے ہائے ’مل گئی ؟”
“کیسے نہ ملتی سیٹھ صاحب! سارا گاؤں چھان مارا۔ آخر ایک دکان پر بڑی مشکل سے ملی۔” لڑکے نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا۔
“کہاں ہے، کہاں ہے؟”مفت مل نے حیرت سے پوچھا۔ اس کے چہرے کی ساری ہنسی اچانک غائب ہو گئی تھی۔
“اس بوتل میں بند ہے۔ بڑی نازک اور قیمتی چیز ہے۔ذرا آہستہ سے بوتل میں ہاتھ ڈال کر نکال لیجیے ۔”
مفت مل نے لڑکے کے ہاتھ سے بوتل لی اور آہستہ سے اس کا ڈھکن کھولا اور جوں ہی اس نے بوتل میں ہاتھ ڈالا، بچھو نے کس کر ڈنک مارا اور اس کے بعد مفت مل واقعی ‘ہائے ہائے’کرنے لگا۔ اس وقت مفت مل کی ‘ہائے ہائے’دیکھنے لائق تھی۔ دکان میں اِدھر اُدھر ناچ رہا تھا اور زبان سے’ہائے ہائے‘ کرتا جا تا تھا۔
لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا:
“سیٹھ صاحب! اب تو ’ہائے ہائے‘ مل گئی ہے نا! کیسی لا جواب ہے یہ چیز!”

لفظ و معنی
صَرف ہونا : خرچ ہونا
سبز باغ دکھانا : جھوٹی باتوں سے بہلانا، دھوکا دینا
مستقل ملازمت : پکیّ نوکری
شش وپنج : کشمکش،الجھن
نامراد : ناکام
برطرف کرنا : ہٹادینا
گوشہ : کونا،کنارہ
معمّا : پہیلی

غورکرنے کی بات
سیرکوسوا سیرہونا سے مراد ہے، زبردست کے لیے اس سے زیادہ زبردست کا موجودہونا، یعنی ایک سے بڑھ کر ایک ہونا۔
اس سبق میں یہ بتایا گیا ہےکہ کوئی کتنا بھی چالاک کیوں نہ ہو، اسے ایک نہ ایک دن سبق سکھانے والا مل ہی جاتا ہے۔
سوچیے اور بتائیے
1. مُفت مَل کے جال میں لوگ کیوں پھنس جاتے تھے؟
2. مُفت مَل ملازموں کے ساتھ کیاسلوک کرتاتھا؟
3. ملازم‘ ہائے ہائے’ کانام سن کر شش وپنج میں کیوں پڑ جاتے تھے؟
4. مُفت مَل کو ہائے ہائے کیسے ملی؟
5. اس کہانی سے کیا پیغام ملتا ہے؟
خالی جگہوں کو دیے ہوئے لفظوں سے بھریے
ایمان داری لائق معمولی مفت مل گاؤں
ایک گاؤں میں _________ نام کا تاجر رہتا تھا۔
ہرکوئی اس شرط کو _________سمجھ کرخوشی خوشی ملازمت قبول کرلیتاتھا۔
وہ نہایت _________سے کمپنی میں کام کرنے لگا۔
_________ میں صرف ایک ہی دکان باقی رہ گئی تھی۔
اس وقت مفت مل کی ہائے ہائے دیکھنے _________تھی۔
درج ذیل لفظوں کو دی ہوئی مثال کے مطابق بدل کرلکھیے۔
مثال : چالاک چالاکی
ہوشیار ___________
کنجوس ___________
ایمان دار ___________
پریشان ___________
مایوس ___________
مندرجہ ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے
ہوشیار ___________
غریب ___________
قیمتی ___________
خوشی ___________
ایمان داری ___________
درج ذیل محاوروں کوجملوں میں استعمال کیجیے۔
سبزباغ دکھانا _________________________
کام سے ہاتھ دھونا _________________________
خواب چکناچورہونا _________________________
آنکھ لگ جانا _________________________
پڑھیے ،سمجھیے اور لکھیے
نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے:
- اس طرح سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔
- دوسرے روز وہ خوشی خوشی کام پر گیا۔
- ہائے ہائے کا نام سنتے ہی دکان دار زور زور سے ہنسنے لگا۔
اوپر کے جملوں میں بالترتیب ‘سوچتے’، ‘خوشی ’ اور ‘ زور’ الفاظ دو دوبار استعمال ہوئے ہیں ، اِسے ‘تکرار’ کہتے ہیں ۔ایسااس وقت کرتے ہیں جب بات میں زور پیدا کرنا ہوتا ہے۔آپ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ایسے ہی پانچ الفاظ اور ان کے معنی معلوم کرکےلکھیے۔
سبق کے عنوان پر غور کیجیے۔ عنوان ہے ‘سیر کو سوا سیر’یہ جملہ ایک کہاوت ہے اس کے معنیٰ ہیں۔ ایسی ایک کہاوت اور ہے -جیسا بوئے گا ویسا کاٹے گا یعنی برائی کا نتیجہ برا اور اچھائی کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔
کہاوتیں ایسے جملے ہوتے ہیں جنھیں لوگ اپنی بات کو اور زیادہ با اثر بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ کہاوت کے چند الفاظ وہ بات بیان کردیتے ہیں جس کے لیے طویل گفتگو کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ہر کہاوت انسانی تجربے کا نچوڑ پیش کرتی ہے۔ نیچے کچھ کہاوتیں اور ان کے معنیٰ دیے گئے ہیں۔ آپ انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔
1. نیکی کر دریا میں ڈال بھلائی کرکے بھول جانا
2. اونٹ کے منھ میں زیرہ کسی چیز کا ضرورت سے بہت کم ہونا
3. ٹیڑھی کھیر دشوار کام یا مشکل کام
4. ایک پنتھ دو کاج ایک وقت میں دو کام انجام دینا
دور کے ڈھول سہانے کسی کو بغیر برتے ہوئے اچھا سمجھ لینا
عملی کام
اس کہانی کو ڈرامے کی شکل میں لکھیے اور اسٹیج کیجیے۔
کسی کمپنی کی تیار کردہ اشیا کے لیے ایک اشتہار بنائیے۔

