Skip to content


میزائل مین



عبدالکلام کا پورا نام ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام تھا۔تمل ناڈو کے شہر رامیشورم میں 15 اکتوبر 1931 کو پیدا ہوئے۔ان کے والد زین العابدین اور والدہ آشی اماں تھیں۔ والد ایک درویش صفت انسان تھے جو ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑنے کے لیے کرائے پر کشتیاں دیتے تھے۔ وہ تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن تعلیم و تربیت کی ضرورت اور اہمیت سے واقف تھے۔ اس لیے انھوں نے عبدالکلام کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہونے دی۔عبدالکلام کو خود اپنی تعلیم میں بے حد دل چسپی تھی۔ تنگ دستی کے باوجود انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔تعلیم جاری رکھنے کے لیے انھوں نے اخبار بیچے اور ٹیوشن بھی پڑھائی۔ اسکولی تعلیم کے دوران کچھ  ایسے واقعات پیش آئے جن سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالکلام نے لکھا ہے:’’بچپن میں میرے تین پکّے  دوست تھے۔ رامانند شاستری، اروندن اور شیو پرکاشن  جب میں  پرائمری اسکول کی پانچویں درجے میں تھا،   تب ایک نئے استاد ہماری  کلاس میں آئے۔  میں اس وقت ٹوپی پہنا کرتا تھا  جو میری مذہبی  شناخت کو ظاہر کرتا تھا۔ میں کلاس  میں ہمیشہ  آگے کی صف میں جنیو پہنے راما نند کے  ساتھ  بیٹھا کرتا تھا۔ نئے استاد کو ایک ہندو لڑکے کا  مسلمان لڑکے ساتھ بیٹھنا اچھا نہیں لگا۔  انھوں نے  مجھے پیچھے والی بینچ پر چلے جانے کو  کہا۔ راما نندبھی  مجھے پیچھے کی صف میں بٹھائے  جاتے دیکھ کر کافی  غم گین نظر آنے لگا۔  

Screenshot 2024-07-14 130102
اسکول کی چھُٹّی ہونے پر ہم گھر گئے اور ساراواقعہ اپنے گھر والوں کو بتایا۔ راما نندکے والدلکشمن شاستری جو رامیشورم مندر کے خاص پجاری تھے، انھوں نے استاد کو بلایا اور کہا کہ ان معصوم بچوں کے دماغ میں اس طرح کی سماجی نا برابری اور تعصب کا زہر نہیں گھولنا چاہیے۔ استاد کو اپنے برتاؤپر دکھ ہوا۔ لکشمن شاستری کے کڑے رخ اور سیکولر جذبے سے متاثر ہوکر ان کے رویہ میں بھی تبدیلی آگئی۔
ڈاکٹر عبدالکلام کو بچپن ہی سے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے کا شوق تھا۔ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے ہر وہ قربانی پیش کی جسے ناممکن خیال کیا جاتا ہے۔ ان کے یہ الفاظ بڑی اہمیت رکھتے ہیں جوانھوں نے اپنی خودنوشت ‘پرواز’ (اردوترجمہ)میں لکھے ہیں :’’اگر کوئی انسان سورج کی طرح چمکنا چاہتا ہے تو اسے پہلے سورج کی طرح جلنا ہوگا‘‘ یعنی سخت امتحان سے گزرنا ہوگا۔
Screenshot 2024-07-14 130115
ڈاکٹر عبدالکلام نے 1957 میں تنظیم برائے دفاعی تحقیق اور ترقی(Defence             Research         and   Development     Organisation-DRDO )سے وابستہ ہوئے ۔اسی دوران حکومت ہند نے انھیں مزید ریسرچ کے لیے امریکہ کے مشہور سائنسی ادارے ’ناسا‘ National    Aeronautics     and      Space) Administration -NASA)        بھیجا۔ ناسا انتظامیہ عبدالکلام کی ذہانت اور لیاقت سے بہت متاثر ہوا۔ انھیں امریکا کی شہریت کی پیش کش کی گئی لیکن عبدالکلام نے اس پیش کش کو مسترد کردیا ۔وہ وطن واپس لوٹ آئے اور ہندوستانی تنظیم برائے خلائی تحقیق(Indian         Space                Research          Organisation-ISRO) میں خدمات انجام دینی شروع کردی۔اس وقت تک  ہمارے ملک کو دو جنگوں کا تلخ تجربہ ہوچکا تھا۔ لہٰذا جنگی ساز و سامان اور اسلحوں کے معاملے میں ملک کو خود مختار بنانے کی سخت ضرورت تھی۔
اس وقت تک ہمارا ملک دوسرے ملکوں سے بڑی تعداد میں مہنگے میزائل خریدتا تھا  اس لیے  اپنے ملک میں میزائل تیار کرنے کی جانب قدم بڑھایا گیااور اس مشن کی ذمے داری ڈاکٹر عبدالکلام کے سپرد کی گئی۔ ان کی انتھک محنت کے نتیجہ میں 1980 میں ہندوستان نے سیٹلائٹ لانچ وہیکل3- SLVیعنی خلائی طیارہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا ملک ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا جو خلائی مشن میں کامیابی حاصل کر چکے تھے۔
Screenshot 2024-07-14 130136
 عبدالکلام کا تحقیقی سفر مسلسل جاری رہا۔انھوں نے پرتھوی،اگنی، آ     کاش، ناگ اور ترشول جیسی میزائلوں کے کامیاب تجربے کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ غیر ملکی تعاون کے بغیر میزائل بنانے کا سہرا بھی عبدالکلام کے سر جا  تا ہے جس کے سبب وہ ’میزائل مین‘کے نام سے مشہور ہوئے۔
1998 میں راجستھان کے علاقے پوکھرن میں ’   آپریشن شکتی‘ کے تحت کامیاب ایٹمی تجربے کیے  گئے۔ اس غیر معمولی دفاعی مہم کی ذمہ داری بھی ڈاکٹر عبدالکلام کے کاندھوں پر تھی۔
تنظیم برائے دفاعی تحقیق  اور ترقی سے سبک دوش ہونے کے بعد وہ وزیرِدفاع اور وزیراعظم کے سائنسی مشیر بھی رہے۔ 
18 جولائی 2002  کو انھیں صدر جمہوریۂ ہند کے باوقار عہدے پر فائز کیا گیا ۔اس عہدے پر رہتے ہوئے بھی انھوں نے ہمیشہ ایک معلم کا فریضہ  ادا کرنے کی کوشش کی۔اس طرح وہ ملک کے عوام بالخصوص نوجوان نسل کی امیدوں اور آرزوؤں کی علامت بن گئے۔
ڈاکٹر عبدالکلام نہایت سادہ دل اور نیک طینت انسان تھے۔وہ بیک وقت عظیم ّمفکر، معروف سائنس داں، کامیاب استاد اور شاعر تھے۔ان کی علمی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی یونیورسٹیوں نے  اُنھیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے سرفراز کیا۔ حکومت ہندنے انھیں پدم بھوشن،پدم وبھوشن اوربھارت رتن ایوارڈ سے نوازا۔  27 جولائی 2015 کو شیلانگ میں طلبا کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس عظیم سائنس داں کا حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال ہو گیا۔
ان کے یومِ پیدائش کو عالمی یومِ طلبا (World         Students        Day)کے طور پر منایا جاتا ہے۔
Screenshot 2024-07-14 130153


 لفظ و معنی
صدر جمہوریہ : جمہوری ریاست کا سربراہ، پریسیڈنٹ
درویش صفت : سادگی پسند انسان
ماہی گیٖر : مچھلی پکڑنے والا، مچھوارا
پرواز : اُڑان
خود نوشت : آپ بیتی
تحقیق : حقیقت کی تلاش، ریسرچ
خود مختار : آزاد
وزیردفاع : حفاظتی اقدامات کا وزیر
دفاعی مہم : ڈیفنس آپریشن
سبک دوش : ریٹائرہونا،فارغ ہوجانا
مشیر : مشورہ    دینے والا
فائز : کسی عہدہ پر پہنچنا
طینت : طبیعت، مزاج
مفکر : غوروفکر کرنے والا
حرکتِ قلب : دل کی دھڑکن
سرفراز : کامیاب، بلند
Screenshot 2024-07-14 130216


 غورکرنے کی بات
ڈاکٹرعبدالکلام کی کتابوں میں eriF         fo    sgniW    ،yenruoJ   yM اورylF    ot      woH     gninraeLمشہور ہیں۔ان کتابوں میں زندگی کے متعلق ایسے اسباق ہیں جونوجوانوں کے خوابوں کوحقیقت میں بدلنے کی راہ ہموارکرتے ہیں۔
صدرجمہوریہ نے راشٹرپتی بھون میں غوروفکرکرنے کے لیے ایک ‘tuH  gniknihT’بنایاتھاجہاں وہ گھنٹوں اپنی تحقیق میں مصروف رہتے تھے۔

سوچیے اور بتائیے
ڈاکٹر عبدالکلام کو بچپن ہی سے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے کا شوق تھا، سے کیا مراد ہے؟ 
ڈاکٹر عبدالکلام میزائل مین کے نام سے کیوں مشہور ہوئے؟
ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
ڈاکٹر عبدالکلام نے دفاعی نظام کوکس طرح مضبوط کیا؟
ڈاکٹرعبدالکلام کو کون کون سے اعزازات سے نوازا گیا؟

خالی جگہوں کو دیے ہوئے لفظوں سے بھریے
نوجوان نسل                                     آپریشن شکتی                                                   رامیشورم                                           51 اکتوبر1391                                      اخبار                                      ناسا

عبدالکلام تمل ناڈو کے شہر ______میں  ______کوپیداہوئے۔
تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے انھوں نے ______بیچے اور ٹیوشن بھی پڑھائی۔
حکومت ِہند نے انھیں مزید ریسرچ کے لیے امریکہ کے مشہورسائنسی ادارہ ______بھیجا۔
8991 میں راجستھان کے پوکھرن علاقے میں ______کے تحت پانچ ایٹمی تجربے کیے گئے۔
وہ ملک کے عوام بالخصوص ______کی امیدوں اور آرزؤں کی علامت بن گئے۔

 نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
تنگ دستی ___________________________________
 تکمیل ___________________________________
 سبک دوش ___________________________________
خلائی مشن ___________________________________
 تحقیق ___________________________________

 بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے
 اس سبق میں  مرکب لفظ ہے‘سائنس داں’ جس کےمعنی ہیں ‘سائنس جاننے والا’۔آپ بھی‘داں ’لگاکر نئےالفاظ بنائیےاورمعنی لکھیے۔
قدر ___________ ___________
سیاست ___________ ___________
  ذہانت ___________ ___________
تحقیق ___________ ___________
فریضہ ___________ ___________
پیش کش ___________ ___________
انتظامیہ ___________ ___________
قانون ___________ ___________
راز ___________ ___________

   پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
بات چیت کرتے وقت ہم کہیں ٹھہرجاتے ہیں اور کہیں نہیں ٹھہرتے۔ کہیں کم ٹھہرتے ہیں اور کہیں زیادہ۔ عبارت میں یہ کام بعض علامتوں کے استعمال سے لیا جاتا ہے،یہ وہ خاص علامتیں ہوتی ہیں جو عبارت کو صحیح طور پر پڑھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، انھیں ’رموزِاوقاف‘ کہتے ہیں۔نیچے دی گئی عبارت کو پڑھیے :
اچانک موسم بدل گیا ٹھنڈی ہوا چلنے لگی بادل ِگھرآئے اندھیرا چھا گیاتم میرے گھر کب آؤگےاب اِسی عبارت کو دوبارہ پڑھیے اور فرق محسوس کیجیے:
اچانک موسم بدل گیا  ، ٹھنڈی ہوا چلنے لگی،  بادل ِگھرآئے ،اندھیرا چھا گیا ۔تم میرے گھر کب آؤگے؟ نیچے دی گئی عبارت کو رموزِ اوقاف کا استعمال کرتے ہوئے صحیح کیجیے:
ڈاکٹر اے پی جے ابوالکلام بچوں سے بڑی محبت کرتے تھے وہ بچوں سے ملتے اُن سے سوالات کرتے اور تاکید کرتے تھےوہ کہتے تھے کہ علم حاصل کرنے کے لیے سوالات کرنا ضروری ہے بچوں کو سوال کرنے دیں ہر بچہ بہت سارے خواب لے کر پیدا ہوتا ہے انھوں نے اسکول کے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کتابوں اور عظیم انسانوں کو اپنا دوست بنائیں زندگی کا بنیادی مقصد خوش رہنا ہے

 عملی کام
ڈاکٹرعبدالکلام کے چنداقوال اپنی اسکول لائبریری کی مدد سے لکھ کر اپنی کلاس میں لگائیے۔
ہندوستان کے مشہور سائنس دانوں کی ایک فہرست تیار کیجیے:
Screenshot 2024-07-14 130232