Skip to content


صحت اور صفائی



ہماری زندگی کا دارو مدار جسمانی صحت پر ہے۔ صحت کے لیے اچھی غذا، کھلی اور تازہ ہوا ،صاف پانی اور صفائی نہایت ضروری ہے۔ گندگی سے طرح طرح کے کیڑے اور جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ مکھیوں اور مچھروں کو تو ہم سب دیکھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں زیادہ گندگی ہوتی ہے، یہ وہیں زیادہ  پیدا ہوتے ہیں، لیکن ہزاروں جراثیم ایسے ہوتے ہیں جو ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔ کیڑے مکوڑے اور جراثیم انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ  ہیں۔ ان کو جیسے ہی موقع ملتا ہے، انسانی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اُس سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ بیماریوں سےمحفوظ رہنے کے لیے بستی، محلہ، گھر اور لباس کی صفائی کے ساتھ ساتھ جسم کی صفائی بھی ضروری ہے۔
Screenshot 2024-07-14 140800
انسانی جسم میں جِلد کی بڑی اہمیت ہے۔جِلد ہمارے جسم کا قدرتی لباس ہے۔ یہ ہمارے جسم کو باہر کی گندگی سے بچاتی ہے۔ جِلد کی دو پَرتیں ہوتی ہیں: ایک بیرونی پرت، یعنی وہ حصہ جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس میں رگیں نہیں ہوتیں۔ جب تک یہ صحیح و سالم رہتی ہے،جسم میں جراثیم داخل نہیں ہو پاتے۔ جلد کہیں موٹی ہوتی ہے،کہیں پتلی۔ جسم کے جو حصے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، جیسے تلوے اور ہتھیلی، ان کی جلد موٹی بھی ہوتی ہے اور سخت بھی۔
مسلسل استعمال سے جلد کی بیرونی پرت گھِستی رہتی ہے اور نئی جلد اُس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ دوسری اندرونی پَرَت ہے، جو بیرونی پرت کے نیچے ہوتی ہے۔ یہ ریشوں سے بنی ہوتی ہے۔اس میں رگیں ہوتی ہیں،جن میں خون گردش کرتا رہتا ہے۔اسی پرت کے نیچے پسینے کے غدود ہوتے ہیں۔ 
جِلد ہمارے جسم پر غلاف کی طرح تنی ہوئی ہے اوربہ ظاہر سپاٹ معلوم ہوتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ آپ نے کبھی سوچا کہ پسینہ جسم کے اندر سے کیسے نکل آتا ہے؟ بات یہ ہے کہ ہماری جلد کو قدرت نے چھلنی کی طرح بنایا ہے۔ اس میں باریک باریک سوراخ ہوتے ہیں، انھیں مسام کہتے ہیں۔ انھیں سے پسینہ خارج ہوتا ہے۔ یہ مسام اتنے باریک ہوتے ہیں کہ صرف خُوردبین کی مدد سے ان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ شمار کرنا مشکل ہے۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مربع سینٹی میٹر میں تقریباً ایک ہزار مسامات ہوتے ہیں۔
گرمی کے موسم میں ہمارے جسم سے پسینہ زیادہ خارج ہوتا ہے۔ جسمانی محنت کرنے،کھیلنے کودنے اور ورزش کرنے سے بھی پسینہ خوب نکلتا ہے۔ پسینے کے ذریعے جسم کے بہت سے گندے اور فاسد مادے خارج  ہوجاتے ہیں۔ پسینے میں پانی، نمک اور کسی قَدر چکنائی ہوتی ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ گرمی اور برسات میں بعض لوگوں کے جسم سے بُو آتی رہتی ہے۔ یہ جسم سے نکلنے والے انھیں مادوں کی بُو ہوتی  ہے۔ نہانے سے یہ بُودور ہو جاتی ہے۔ اگر جلد کی صفائی نہ کی جائے، تو باہرکےگَرد و غبار اور اندر سے نکلنے والے یہ مادّے مسامات کو بند کر دیتے ہیں اور پسینہ نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ بدن پرمَیل جم جاتا ہے ۔اس سے جسم پر پھوڑے پھنسیاں نکلنے لگتی ہیں اور خارش ہو جاتی ہے۔ جسم کے گندے مادے خارج نہ ہونے سے طبیعت میں سستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے۔
Screenshot 2024-07-14 140825
 جسم کو صاف رکھنے کے لیے نہانا ضروری ہے،تاکہ پسینے کے ذریعے نکلنے والے مادّے جِلد پرنہ جم جائیں اور مسامات کھلے رہیں۔جسم کے جو حصّے زیادہ کھلے رہتے ہیں، ان پر گردو غبار زیادہ جمتا ہے، اس لیے اُن کا بار بار دھونا مفید ہے۔ نہانے کا مطلب جسم پر صرف پانی ڈالنا نہیں ہے، بلکہ جسم کو اچھی طرح رگڑ کر نہانا چاہیے۔ اس سے جسم پر جما ہوا میل دور ہو جاتاہے، مسامات کھل جاتے ہیں اور جسم میں خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے۔ جسم میں چستی پید اہوتی ہے، اور ہم فرحت اور تازگی محسوس کرتے ہیں۔
یوں تو نہانے کے لیے تازہ اور صاف پانی ہی اچھا ہوتا ہے،لیکن موسم کے اعتبار سے گرم یا ٹھنڈے پانی سے بھی نہایا جاسکتا ہے۔ صابن کے ذریعے میل آسانی سے دور ہوجاتا ہے۔ نہانے کے بعد جِلد اور بالوں کو تولیے سے اچھی طرح خشک کر لینا چاہیے۔
کھانا کھانے،ورزِش کرنے یا جسمانی محنت کرنے کے فوراً بعد نہانا ٹھیک نہیں ہوتا۔صبح سویرے نہانا سب سے اچھا ہے۔
کبھی کبھی بدن کی مالش بھی جِلد کے لیے مفید ہے۔ اِس سے دورانِ خون بھی ٹھیک رہتا ہے اور جِلد بھی نرم رہتی ہے۔
اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے آس پاس کا ماحول بھی صاف ستھرا ہو۔
Screenshot 2024-07-14 140904

لفظ و معنی
دارومدار : انحصار
جراثیم : بیماری   پیدا کرنے والے بہت چھوٹے کیڑے جو بغیر خوردبین کے نظر نہیں آتے 
اندرونی : اندر کا 
بیرونی : باہر کا
گردش : گھومنا، چکّر لگانا
غُدود : جسم میں موجود طبعی گانٹھ یا گلٹی جس سے لعاب یا کوئی اور رقیق مادہ خارج ہوتا ہے۔
غلاف : خول
خُوردبین : وہ آلہ جس سے چھوٹی چیزیں بڑی نظر آتی ہیں،      epocsorciM
خارج ہونا : باہرنکلنا
فاضل : غیرضروری
خارش : کھجلی
Screenshot 2024-07-14 140918
 غور کرنے کی بات
مشہور محاورہ ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ ہمیں صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کے لیے اپنے جسم کی صفائی کے ساتھ آس پاس کی جگہوں اور آب و ہوا کو بھی صاف رکھنا ہوگا۔
Screenshot 2024-07-14 140953

  سوچیے اور بتائیے
جراثیم ہماری صحت پر کب اور کیوں حملہ آور ہوتے ہیں؟
جِلد ہمارے جسم کی حفاظت کس طرح کرتی ہے؟
پسینے کا جسم سے نکلنا کیوں ضروری ہے؟
نہانے کے کیا کیا فائدے ہیں؟
ورزِش سے ہمارا جسم کس طرح صحت مند رہ سکتا ہے؟
صحت اورصفائی کاآپس میں کیاتعلق ہے؟
Screenshot 2024-07-14 141007

خالی جگہوں کو دیے ہوئے لفظوں سے بھریے

    مسام   دارومدار     جِلد     طبیعت     ماحول

ہماری زندگی کا  _______  جسمانی صحت پر ہے۔
_______ ہمارے جسم کا قدرتی لباس ہے۔
جِلدمیں باریک باریک سوراخ ہوتے ہیں، انھیں     _______کہتے ہیں۔
جسم کے گندے مادے خارج نہ ہونے سے     _______ میں سستی اور کاہلی     پیدا ہوتی ہے۔
اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے آس پاس کا  _______ بھی صاف ستھرا ہو۔

 واحد کی جمع اور جمع کا واحد لکھیے
واحد خیال مسام مشکل ........... ......... ..........
جمع اجسام اقسام ........ ...........
Screenshot 2024-07-14 141020

دیے گئے لفظوں کوبلند آواز سے پڑھیے اور اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
    غذا   ____________________________________
  جراثیم ____________________________________
     غدود ____________________________________
    خشک ____________________________________
    فرحت بخش ____________________________________
    حملہ آور ____________________________________

  پڑھیے ،سمجھیے اورلکھیے

الف 

ندی جِلد سستی
کاہلی غذا ورزش

ب

خون جسم پانی
موسم پسینہ ماحول

“الف”خانے میں جو الفاظ ہیں وہ جنس کے اعتبار سے “مادہ” ہیں اور“ب” میں جو الفاظ ہیں وہ “نر”ہیں۔“مادہ” کومؤنث اور نرکو“مذکر” کہتے ہیں۔
نیچے دیے ہوئے جملوں کو پڑھیے اور مؤنث اور مذکر کے الفاظ تلاش کرکے لکھیے:
     ہوا     چل  رہی   تھی گھٹا چھائی ہوئی تھی
جہاز اُڑ گیا اس نے اخبار پڑھا
ندی پہاڑ سے اُترتی ہے پرندہ منڈیر پر بیٹھا تھا
اس سبق میں پسینے کا ذکر آیا ہے۔ ہماری زبان میں پسینے سے متعلق بہت سے محاورے ہیں جیسے 
‘پسینہ پسینہ ہونا’، ‘خون پسینہ ایک کرنا’، ‘دانتوں سے پسینہ آنا’، ‘پسینہ چھوٹنا’، ‘پسینہ بہانا’ وغیرہ۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور جسم کے اعضا جیسے ناک، آنکھ، کان، ہتھیلی وغیرہ سے متعلق محاورے جمع کیجیے اور اپنی کاپی پر لکھیے۔
اس جملے پر غور کیجیے:   ‘پسینے میں پانی، نمک اور کسی قدر چکنائی ہوتی ہے’۔  اس جملےمیں نشان زد لفظ کا تلفظ دوطرح سے کیا جاتا ہے۔ ایک ‘قَدَرْ’۔ اس کے معنی ہیں مقدار ۔ اس جملے میں یہی تلفظ اور مفہوم ہے۔ اور دوسرے ‘ قَدْر’ یعنی عزت، بزرگی، رتبہ۔ جیسے میں اپنے بڑوں کی قَدرکرتا ہوں۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور اسی طرح کے پانچ الفاظ تلاش کرکے لکھیے ساتھ ہی ان کے تلفظ اور معنی بھی لکھیے۔

 عملی کام
صحت اور صفائی سے متعلق مختلف سرگرمیوں کا ایک چارٹ بنائیے۔
ورزش کے مختلف طریقوں جیسے ٹہلنا، تیرنا، یوگا کرنا وغیرہ کے بارے میں معلوم کیجیے اور انھیں اپنی کاپی پر لکھیے۔

Screenshot 2024-07-14 141037


اُردو زباں ہماری


کیسی ہے پیاری پیاری، اُردو زباں ہماری
پھولوں کی جیسے کیاری، اُردو زباں ہماری
پھولے پھلے ہمیشہ، باغِ جہاں میں یارب
ہو ہر زباں پہ جاری، اُردو زباں ہماری
بھارت ہے اس کا مَسکن،  بھارت ہے اس کا گلشن
بھارت کی ہے دُلاری، اُردو زباں ہماری
جھَڑتے ہیں پھول منہ سے، گھُلتا ہے رَس فضا میں
جب ہو زباں پہ جاری، اُردو زباں ہماری
(  پڑھنے کے لیے)

Screenshot 2024-07-14 141110