1
سائنس کی ہر لمحہ بدلتی دنیا
(Science of World Evolving-Ever The)
ہمیں امید ہے کہ آپ کو گریڈ 6 میں تجسس کے ذریعے اپنی سرگرمیوں میں لطف آیا ہو گا اور اب آپ سائنس کی حیرت ناک دنیا میں اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک بار پھر بتا دیں کہ یہ صرف حقائق پر مبنی درسی کتاب نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے، تجربات انجام دینے اور اپنی خوب صورت دنیا کو سمجھنے کی کوشش کے ہمراہ تلاش و جستجو کا پیغام ہے۔ سائنس کی دنیا ہر چیز کا احاطہ کرتی ہے، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، قریب ہو یا دور۔ ہم کسی پتی کے اندر مختصر خلیوں کو غور سے دیکھ رہے ہوں یا سورج اور ستاروں کی حرکت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ ہم گھر میں اپنے گردو پیش کی اشیا کی جانچ کر رہے ہوں یا اس پر تبادلۂ خیال کر رہے ہوں کہ زیر زمین پانی کیسے بہتا ہے۔ آپ جوں جوں اس کتاب کے ابواب پڑھتے جائیں گے تو آپ ایسی نئی سرگرمیاں شروع کریں گے جو آپ کی سوچ کو آزمائش میں ڈالیں گی ، آپ کے علم میں اضافہ کریں گی اور آپ خود اپنے سے چھوٹی چھوٹی دریافتیں کر کے کھوجی بن سکتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم اپنے دل چسپ سفر میں ڈوب جائیں، ایک لمحے کے لیے اس کتاب کی ایک خصوصیت پر غور کریں۔ اس کے صفحات کے نمبرات کو دیکھیں۔ ان میں تلی کی مزے دار اڑان اور کاغذی جہاز کے اوپر اٹھنے کو دکھایا گیا ہے جس طرح تتلی آزادی سے پروں کو پھڑ پھڑاتی ہے اور کاغذی جہاز آسمان میں اُڑتا ہے، جب تجسس راستہ دکھاتا ہے تو آموزش اُڑان بھرتی ہے۔ کیا آپ جانتے تھے کہ کاغذی جہاز جیسی معمولی سی چیز سے اُڑان کی حقیقی سائنسی دریافتوں کی تحریک ملی ؟ چڑیوں کے پروں کا مطالعہ کرنے والے ابتدائی ایجاد کاروں سے ہوائی جہاز بنانے والے جدید انجنیئروں تک اڑنے کے خواب کی ابتدا معمولی مشاہدات اور تجربوں سے ہوئی۔ بہر حال، آپ ہر صفحہ پلٹتے جائیں، اپنے تخیل کو اُڑان بھرنے دیں۔ نئے خیالوں کی تلاش و جستجو کریں، حیرت ناک باتوں کی دریافت کریں اور آسمان کو چھوئیں۔
تلاش و جستجو کا تعلق بے شک فطرت میں مختلف اشیا کے بارے میں نئے حقائق کی دریافت یا انہیں جاننے سے نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے گریڈ 6 میں بتایا ، سائنس تجس کا خیر مقدم کرتی ہے، سوالات پوچھتی ہے اور نہ جاننے والے پر اپنے راز کھولتی ہے۔ گریڈ 7 میں ہم زیادہ گہرے سوالات پوچھنے کی کوشش کریں گے مثلاً چیزیں کیسے کام کرتی ہیں؟ واقعات اس طرح کیوں رونما ہوتے ہیں، جس طرح وہ ہوتے نظر آتے ہیں؟ اور ہم ان نمونوں سے کیا سیکھتے ہیں جو ہمیں فطرت میں نظر آتے ہیں۔
ایسا کرنے کے لیے ہمیں اس کتاب سے اور شاید کمرۂ جماعت سے باہر قدم رکھ کر سرگرمیوں اور تجربات کے ذریعے دنیا کو محسوس کرنا ہو گا۔ یہ وہ تجربات ہیں جو ہمیں امید ہے دل چسپ اور پُر جوش تو ہوں گے ہی، ساتھ ہی وہ اپنے ماحول کو زیادہ گہری سمجھ پیدا کرنے اور اس سیارے پر اپنی حیثیت کو جاننے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے سائنس کو دریافت کے مسلسل عمل کے طور پر سمجھنے میں بھی مدد ملے گی اور صرف دریافت کے بارے میں ہی نہیں بلکہ ذمہ داری سے متعلق بھی۔ سائنس کے کم عمر تحقیق کار کے طور پر آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ کس طرح انسانی سرگرمیوں کا تعلق فطری دنیا کے واقعات سے قائم ہوتا ہے اور انھیں ہم کس طرح اپنے معاشرے سے جوڑتے ہیں ہمیں امید ہے کہ آپ اس کردار کو بھی دیکھیں گے جو سائنس، ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے اور زیادہ پائدار دنیا کی تخلیق میں ادا کر سکتی ہے۔
لیکن آئے ، ابھی ہم اس کتاب کی طرف واپس چلیں۔ آپ فزکس اور کیمسٹری سے لے کر حیاتیات اور ارتھ سائنسز تک سائنس کے مختلف میدانوں کے موضوعات کے بارے میں پڑھیں گے۔ اس کے باوجود کہ یہ شاید مختلف ابواب لگیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے گریڈ 6 میں کہا ، وہ سب باہم مربوط ہیں۔ ایک میدان کار کے سائنسی خیالات اکثر دوسرے میدان کار میں دریافتوں کو تحریک دیتے ہیں۔ تو آئیے ! اس سال کے لیے اپنی کتاب کا سفر تیزی سے کریں۔ ہم اپنے ارد گرد موجود اشیا کی خصوصیات کے مشاہدے سے آغاز کریں گے۔ یعنی زیادہ تر ان چیزوں کا مشاہدہ جو ہمارے تجربے میں آتی ہیں۔ جیسے بعض پھل کھٹے کیوں ہوتے ہیں؟ جب ہم اپنی اسکول کی یونیفارم سے ہلدی کا دھبہ چھڑاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟


پھر ہم آگے بڑھتے ہوئے اشیا کے دیگر اوصاف کو جاننے کی کوشش کرنے کے لیے کچھ بجلی کی بیٹریوں، بلبوں اور تاروں سے کھیلتے ہیں۔ کسی بلب کو روشن کرنے کے لیے ہمیں کس طرح کی اشیا کی ضرورت ہے ؟ اس سے ہم اوصاف کی بنیاد پر اشیا کی زمرہ بندی کے بارے میں جانیں گے اور ہم دھاتوں اور غیر دھاتوں کی دنیا میں داخل ہوں گے۔ اپنے تجربات سے ہم جانتے ہیں کہ ٹارچ کی بیٹری آخر کار کام کرنا بند کر دیتی ہے اور اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس کی وجہ معلوم کریں گے کہ ہمارے ارد گرد کس طرح کی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ کچھ تبدیلیوں کو پلٹا جا سکتا ہے اور کچھ کو پلٹا نہیں جاسکتا۔

بیٹریاں کام کرنا بند کر دیتی ہیں، برف پگھل کر پانی بن جاتا ہے ، پھل پکتے ہیں، چٹانیں کنکریوں کی شکل میں ٹوٹتی ہیں۔ یہ کس طرح کی تبدیلیاں ہیں؟ ان میں سے بعض تبدیلیاں چیزوں کو گرم کیے جانے پر واقع ہوتی ہیں یا زیادہ تیزی سے واقع ہوتی ہیں۔ ہم اس کا مشاہدہ کریں گے کہ حرارت کا بہاؤ کیسے ہوتا ہے۔ وہ چاہے کسی گلاس میں آئس کیوب کا پگھلنا ہو یا گلیشئر کا۔ پانی بے شک ہر جگہ ہوتا ہے اور سورج کی حرارت سمندروں سے اس کی تبخیر کرتی ہے اور وہ شاید کہیں دور زمین پر قطرے کی شکل میں بکھر کر بارش کی شکل میں گر جاتی ہے۔

تاہم یہ صرف ہمارے آس پاس کی چیزوں میں ہونے والی تبدیلیاں نہیں ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں یا پانی میں ہونے والی پوشیدہ تبدیلیاں جو ہمیں نظر آتی ہیں۔ جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں ہمارے جسم میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ خصوصا مڈل اسکول کے برسوں میں ہمارے جسم میں تیزی سے تبدیلی آتی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ صرف انسانوں میں ہی نہیں زندگی میں ہونے والی تبدیلیاں تمام حیوانات کی بقا کے لیے بھی لازمی ہیں۔ اپنی نشو و نما کے لیے ہمیں کھانے اور سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون غذا سے تغذیائی اجزا لے کر پورے جسم میں پہنچاتا ہے لیکن ایسا جانوروں میں ہی کیوں ہوتا ہے؟ وہ اپنی غذا کیسے حاصل کرتے ہیں؟ کیا وہ سب سانس لیتے ہیں؟ کیسے؟ اس مدت کے دوران جس میں ہمارے سیارے زمین پر زندگی کا ارتقا ہوا، اس کا پتہ چلا یا گیا ہے کہ اسے خوب صورت اور محتاط طور پر متوازن انداز میں کیسے انجام دیا جائے۔ آہ لیکن وقت کیا ہے ؟ دیوار پرشنگی یا کلائی پر بندھی گھڑی ہمیں وقت بتاتی ہے اور وہ کیسے گزرتا ہے۔ ہم صبح اسکول جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور رات کو سونے کے لیے لیکن کیا آپ نے اس بارے میں سوچا ہے کہ ہم وقت کو کیسے ناپتے ہیں؟ اور کوئی واقعہ اتنی تیزی سے رونما ہوتا ہے۔ بجلی کی گھڑی اور ڈیجیٹل گھڑیوں سے بہت پہلے ابتدائی انسان سورج کی روشنی میں اشیا کی پر چھائیوں کا مشاہدہ اور وقت بتانے کے لیے پر چھائیوں کی حالتوں سے کام لیتے تھے۔ روشنی اور پر چھائیاں کٹھ پتلیوں یا وقت بتانے کے لیے ہی مفید ہوتی ہیں۔ فطری طور پر روشنی دیکھنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور آج ہم نے روشنی پیدا کرنے کے بہت سے طریقے وضع کر لیے ہیں۔ ( تاکہ ہم کوئی کتاب رات کے وقت پڑھ سکیں۔ جب سورج نہ بھی نکلا ہو ) ۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روشنی کی نوعیت کے بارے میں سوال پوچھنے سے اُس کا ئنات کی فہم جس میں ہم رہتے ہیں، زیادہ گہری ہو گئی ہے۔ حالانکہ ہم اس کے بارے میں آگے چل کر ہی جانیں گے۔ روشنی



اور پر چھائیاں گھر پر ہمارے ارد گرد کی اشیا تک ہی محدود نہیں ہیں۔

زمین اور چاند بھی اپنا سایہ ڈال سکتے ہیں جس کے نتیجے میں چاند گرہن اور سورج گرہن کے دل کش واقعات رونما ہوتے ہیں اور یقینا ہم دن اور رات بھی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جن کا انحصار سورج سے حاصل ہونے والی روشنی پر ہے۔ یہ تمام باتیں سمجھنے کے لیے میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ زمین اپنے محور پر کیسے گھومتی ہے، چاند زمین کے گرد کیسے چکر لگاتا ہے اور زمین سورج کے چاروں طرف کیسے گردش کرتی ہے۔ اور ان حرکات کا ہمارے خوب صورت سیارے کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ حالانکہ ان باتوں کو سن کر آپ کا سر چکرا جائے گا، اس کے بارے میں سوچیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ہم انسان اپنی حیران کن دنیا پر تعجب کر سکتے ہیں ؟ آگے کے ابواب میں آپ آسان مشاہدات کر کے تجربات انجام دیں گے اور ان موضوعات پر پوری گہرائی سے سوچیں گے جو محتاط غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہر باب آپ کے گزشتہ علم میں اضافہ کرتا ہے اور سوالات پوچھنے، تلاش و جستجو، براہ راست تجربے کرنے اور ایک سائنس داں کی طرحسوچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھیں گے کہ وہ تجربات بھی جو اس کی تصدیق کریں گے کہ آگے رونما ہونے والا واقعہ آپ کے سوچنے کے مطابق ہی ہے، شاید آپ کو بعض اضافی سوالات کی طرف لے جائے جن کے لیے مزید تجربات اور سوالات کی ضرورت ہو۔
1.1 پر لطف تلاش و جستجو !
سرگرمی 1.1 : جواب پر سوال کریں
اسکول میں یا جانچوں کے دوران، آپ کو عموماً سوالات دیے جاتے ہیں اور آپ سے اُن کے جوابات تلاش کرنے کی توقع کی جاتی ہے لیکن آئیے ! اس عمل کو پلٹ دیں ایک سائنس داں کی طرح سوچنے کے لیے دل چسپ سوالات پوچھنا یکساں طور پر ضروری ہے۔ بڑے سائنس داں سوالوں کے صرف جواب ہی نہیں دیتے بلکہ وہ حیرت میں ڈالنے والے سوالات بھی پوچھتے ہیں۔ (یاد رکھیں کہ پچھلے سال ہم نے کہا تھا، ” عقل مند شخص ہونے کے لیے آپ کو لازماً سوال پوچھنے والا شخص ہونا چاہیے۔“
مندرجہ ذیل جوابات پر نظر ڈالیں۔ آپ کا کام پر تجسس، تخلیقی اور تفریحی سوال یا صورت حال لے کر سامنے آنا ہے جو آپ کو ان جوابات تک پہنچا سکے سوالات کبھی بھی غلط نہیں ہوتے، اس لیے اپنے تخیل کو بے لگام چھوڑ دیں! چونکہ آپ اس طرح کی مشقوں سے بہت مانوس نہیں ہیں ، یہاں آپ کی مدد کے لیے ایک مثال دی جا رہی ہے۔ فرض کریں کہ جواب تھا اسے بس آدھا کر دیں، یہ فقرہ کس بات کا جواب ہو سکتا ہے؟ یہ ہم کس طرح یقینی بنائیں کہ کیک کا مساوی حصہ ملے۔ ، ، میرا مضمون بہت لمبا ہے ، تک کچھ بھی ہو سکتا ہے یا یہ کہ میں اسے لفافے میں اچھی طرح نہیں رکھ سکتا یا یہ بھی کہ میں اتنے لمبے گانے پر رقص نہیں کر سکتی اسکتا ، سبھی ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ تو آئیے ! دیکھیں کہ آپ کس طرح کے تخلیقی سوالات پوچھ سکتے ہیں؟
سوال:_____________________؟
جواب: بس تھوڑا سا دودھ ملائیے۔
سوال:_____________________؟
جواب کیوں کہ بلی کے دانت ٹیڑھے تھے۔
سوال:_________________________؟
جواب: گھبرائیے مت، میرا تولیہ میرے پاس ہے۔
سوال:_________________________؟
جوار: 42
براہ کرم 10+32 کتنا ہوتا ہے ؟ یا یہاں تک کہ زندگی کائنات اور ہر چیز کا کیا جواب ہے؟ جیسے زیادہ دل چسپ اور غیر واضح سوالات پوچھیں۔)