4
دھاتوں اور غیر دھاتوں کی دنیا
(The World of Metals and Non-metals)
یشونت اور آئندی راجستھان کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے اسکول نے انھیں دھاتوں کا کام کرنے والے دستکاروں کے بارے میں جاننے کے لیے ایک پروجیکٹ تفویض کیا ہے۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ مقامی لوہاروں سے ملاقات کریں گے جو اس ہنر سے واقف ہیں۔ یشونت اور آئندی اپنے دادا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ چلیں (شکل 1. 4) ۔ وہ یہ جاننے کے لیے شدید خواہش مند ہیں کہ یہ لوہار روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا کیسے بناتے ہیں؟ وہ ایک بزرگ دستکار، سدرشن چاچا سے بات کرتے ہیں۔
یشونت: آپ عام طور پر کون کون سی چیز میں بناتے ہیں؟
سدرشن : عام طور پر ہم لوگ روز مرہ استعمال کی چیز میں بناتے ہیں، جیسے توے، بالٹیاں، چھٹے اور کھیتی باڑی کے اوزار مثلاً کدال، پھاوڑے، کلہاڑیاں، کھر پیاں اور پانچے (rakes)۔
آئندی: یہ چیزیں کس مواد سے بنائی جاتی ہیں؟
سدرشن: ہم یہ چیزیں بنانے کے لیے لوہے کی دھات کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم دستے تیار کرنے کے لیے حسب ضرورت لکڑی کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوہے کو گرم کرنے کے لیے اپنی بھٹیوں میں ہم کوئلے کا استعمال کرتے ہیں۔
سدرشن بھٹی میں لوہے کے ٹکڑے گرم کر رہے ہیں۔ یہ گرم ہو کر سرخ ہو گئے ہیں۔ وہ بھٹی میں سے ایک ٹکڑا نکال کر اسے ہتھوڑے سے زور زور سے پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ آئندی حیران ہو کر پوچھتی ہے، ” آپ اسے کیوں پیٹ رہے ہیں؟“
سدرشن میں اسے کلہاڑی کی شکل دینے کے لیے پیٹ رہا ہوں۔
آئندی: واہ، لوہے کے ٹکڑے کو پیٹ پیٹ کر چپٹا کیا جاسکتا ہے! کیا ہم دیگر دھاتوں کے ساتھ بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ کے ذہن میں اس طرح کے اور بھی بہت سے سوالات ہو سکتے ہیں۔ تو آئیے ! ہم دریافت کریں کہ دھاتوں کے ساتھ ہم اور کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
4.1 موادوں کی خصوصیات
4.1.1 ورق پذیری
سرگرمی 4.1: آئیے چھان بین کریں
اعتباہ- یہ سرگرمی اپنے ٹیچر یا بالغ فرد کی نگرانی میں انجام دیں۔
- تانے اور المونیم کے کچھ بے کار ٹکڑے، ایک لوہے کی کیل، کوئلے کا ایک ٹکڑا، گندھک ( سلفر ) کامٹر کے سائز کا ایک ٹکڑا اور لکڑی کا ایک گٹکا لیں۔
- گریڈ 6 کی سائنس کی درسی کتاب تجسس میں باب ہمارے ارد گرد کی اشیاء کو یاد کریں اور مندرجہ بالا اشیا کی ظاہری شکل کا مشاہدہ کریں۔ کیا وہ چمک دار ہیں؟ نیز غور کریں کہ آیا وہ سخت ہیں یا نرم۔ اپنے مشاہدات کو جدول 4.1 میں درج کریں۔
- اب ان اشیا میں سے ہر ایک کو ایک ایک کر کے کسی بھی سخت سطح پر رکھیں اور انھیں ہتھوڑے سے پیٹیں
- آپ کے خیال میں کیا ہو گا؟ کیا اشیا قدرے چپٹی ہو جائیں گی یا وہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گی؟
- اپنے مشاہدات جدول 4.1 میں درج کریں۔
جدول 4.1: مختلف اشیا یا موادوں کی ظاہری شکل، سختی اور ہتھوڑے سے پیٹنے سے ان پر پڑنے والے اثرات
جدول 4.1 کا تجزیہ کریں۔ ان اشیا کی شناخت کریں جو ظاہری طور پر چمک دار اور سخت ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ تانبے، المونیم اور لوہے سے بنی اشیا ظاہری طور پر چمک دار اور سخت ہوتی ہیں۔ دھاتوں کی اس چمک کو دھاتی چمک کہا جاتا ہے۔ تانبے المونیم اور لو ہے جیسے موادوں کو دھات کہا جاتا ہے، جب کہ کوئلہ، گندھک اور لکڑی غیر چمک دار ( non-lustrous) ہوتے ہیں اور یہ دھاتوں کی طرح سخت نہیں ہوتے۔
کیا تمام دھاتیں سخت اور ٹھوس ہوتی ہیں ؟ ایسا نہیں ہے بعض دھاتیں جیسے سوڈیم اور پوٹاشیم اتنی نرم ہوتی ہیں کہ انھیں چاقو سے کاٹا جاسکتا ہے۔ ایک دھات ہے پارہ جو کمرے کے درجہ حرارت پر مائع حالت میں رہتی ہے۔ اسے آپ نے تھرما میٹر میں دیکھا ہو گا۔ چھٹی جماعت کی سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب درجہ حرارت اور اس کی پیمائش کو یاد کریں۔
ہتھوڑے سے پیٹنے پر کون کون سی اشیا چپٹی ہو گئی تھیں؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ تانبے کا ٹکڑا، لوہے کی کیل اور المونیم کا ٹکڑا پٹنے پر چپٹا ہو جاتا ہے۔ جب کہ دیگر اشیا یا مواد مختلف رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس خاصیت کو، جس کی بنا پر موادوں کو پیلی چادروں یا ورق میں پیٹا جاسکتا ہے، ورق پذیری (malleability) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر دھاتیں اس خاصیت کی حامل ہوتی ہیں۔ کیا آپ دھاتی چادروں کی کچھ مثالیں دے سکتے ہیں؟ آپ نے بعض مٹھائیوں پر چاندی کے ورق اور کھانے پینے کی اشیا کو لپیٹنے کے لیے استعمال ہونے والی المونیم فوئل دیکھی ہوں گی۔ یہ ورق ان دھاتوں کی ورق پذیری کی بنا پر ہی بنائے جاسکتے ہیں سونا اور چاندی سب سے زیادہ ورق پذیر دھاتیں ہیں۔
کو ملے یا گندھک کا ٹکڑا اس رویے کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ یہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، انھیں پھوٹک (brittle) کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف لکڑی نہ تو چپٹی ہو کر ورق بنتی ہے اور نہ ہی ٹکڑوں میں ریزہ ریزہ ہوتی ہے۔ لہذا، لکڑی نہ تو ورق پذیر ہے اور نہ ہی پھوٹک ہے۔
ہندوستان میں تہذیبی ارتقا پر لوہے کے اثرات
گریڈ 6 کی سوشل سائنس کی درسی کتاب معاشرے کی دریافت ہندوستان اور اس سے آگے میں آپ نے ہر پہ تہذیب کے بارے میں پڑھا تھا۔ وہ تانبے اور سونے جیسی دھاتوں کو استعمال کرنا جانتے تھے۔ انھوں نے ان دھاتوں کو برتنوں سے لے کر زیورات تک مختلف اشیا بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، آپ کو مشکل ہی سے اس کا ثبوت ملا ہو گا کہ ہڑپہ کے لوگ ایک بہت اہم دھات لوہے کا استعمال کرتے تھے، جب کہ لوہے سے بنی چیزیں آج آپ کو اپنے ارد گرد ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوہے کو روزمرہ کی سرگرمیوں میں استعمال کیے جانے میں کافی وقت لگا۔ تاہم جب اس کے بعد کے ادوار میں لوہے کے استعمال نے اہمیت حاصل کر لی تو اس دھات نے ہندوستان کی تہذیبی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر ، اس کی طاقت کی وجہ سے لوہے سے بنے ہل جیسے زرعی اوزار ماضی میں استعمال کیے جانے والے اوزاروں سے نہیں بہتر تھے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ تانبے کو لوہے کے مقابلے میں پہلے دریافت کر لیا گیا تھا۔ اس کی ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
4.1.2 تارپذیری
آپ دھاتی تاروں کا استعمال کہاں دیکھتے ہیں؟
آپ نے بجلی کی فٹنگ میں تانبے یا المونیم جیسی دھاتوں کے تار دیکھے ہوں گے۔ کچھ زیورات ، جیسے چوڑیاں، بار ، بالیاں وغیرہ بھی دھاتی تاروں سے بنائے جاتے ہیں۔ دھات کے تار مختلف قسم کے موسیقی کے آلات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے دینا، ستار ، وائکن اور گٹار ۔
موادوں کی یہ خاصیت جس کی بنا پر انھیں تاروں میں کھینچا جاسکتا ہے تار پذیری (ductility) کہلاتی ہے۔ تار پذیری کی یہ خصوصیت بنیادی طور پر دھاتوں میں ہی پائی جاتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی کوئلے یا گندھک سے بنے تار بھی دیکھے ہیں؟ ظاہر ہے نہیں! ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئلہ اور گندھک تار پذیر نہیں ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسٹیل [ دھات (لوہے) اور غیر دھات ( کار بن) کا مرکب] سے بنی رسیاں بھاری بوجھ کو برداشت کر سکتی ہیں؟ لہذا، انھیں بھاری اشیا کو اٹھانے کے کے لیے معلق پلوں (suspension bridges) اور کرینوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
4.1.3 کھنک
کیا آپ نے کبھی اس آواز پر غور کیا ہے جو دھات کے پیچ ، یاد ھاتی طشتری، یا دھاتی سکے کو فرش پر گرانے سے پیدا ہوتی ہے؟ جب کو کلے یا لکڑی کا کوئی ٹکڑ افرش پر گرتا ہے تو یہ آوازان دھاتوں سے پیدا ہونے والی آواز سے کیسے مختلف ہوتی ہے؟
سرگرمی 4.2 آیئے تفتیش کریں۔
انتباه - اشیا کو گراتے وقت محتاط رہیں۔
- کچھ اشیا لیں، جیسے دھات کا ایک پیچ ، ایک سکہ ، کوئلے کا ایک ٹکڑا اور لکڑی کا ایک گڑکا۔
- انھیں ایک خاص اونچائی سے ایک ایک کر کے گرائیں۔
- کیا آپ کو ان اشیا کے گرنے سے پیدا ہونے والی آواز میں کوئی فرق محسوس ہوتا ہے؟
آپ دیکھیں گے کہ دھاتی چیچ اور دھاتی سکے گھنٹی جیسی کھنک دار آواز پیدا کرتے ہیں۔ دوسری طرف، کوئلہ اور لکڑی، دھیمی (dull) آوازیں پیدا کرتے ہیں۔
دھاتوں کی یہ خاصیت جن کی بنا پر کھنک دار آواز پیدا ہوتی ہے کھنک ( sonority) کہلاتی ہے اور فطری طور پر دھاتوں کو کھنک دار (sonorous) کہا جاتا ہے۔
4.1.4 ایصال حرارت
کیا آپ نے کبھی باورچی خانے میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے برتنوں کا مشاہدہ کیا ہے؟ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے برتن دھاتوں سے بنے ہوتے ہیں۔ کیا آپ کچھ ایسی دھاتوں کے نام بتا سکتے ہیں جن کا استعمال کھانا پکانے کے برتن بنانے میں کیا جاتا ہو؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان دھاتوں کو اس مقصد کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ آئیے معلوم کریں!
سرگرمی 4.3 : آئیے تفتیش کریں۔
انتباہ یہ سرگرمی آپ کے ٹیچر یا بالغ فرد کی نگرانی میں انجام دی جانی چاہیے۔
- میز پر شیشے کا ایک گلاس رکھیں۔
- اسے گرم پانی سے بھر دیں۔
- ایک دھاتی چھیچ اور ایک لکڑی کا چمچ لیں جو تقریباً ایک ہی سائز اور موٹائی کے ہوں۔
- دونوں چھچوں کو ایک ساتھ گرم پانی میں ڈبوئیں اور انھیں کچھ منٹ کے لیے بغیر کسی حرکت کے یونہی پڑا رہنے دیں (شکل 4.3)۔
- اب ہر چھیچ کے اوپری سرے کو احتیاط سے چھوئیں۔
گفتگو کے لیے چند نکات:
- کون ساچیچ زیادہ گرم ہوتا ہے؟
- یہ تجربہ ہمیں دو چمچوں کے ساتھ حرارت کی منتقلی کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ دھات کا چھیچ لکڑی کے چمچ کے مقابلے میں چھونے پر زیادہ گرم لگتا ہے، حالاں کہ دونوں چھیچ یکساں درجہ حرارت پر اور یکساں وقت تک پانی میں ڈوبے رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حرارت دھاتی چھیچ میں منتقل ہو جاتی ہے جس سے یہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس لکڑی کا چھیچ حرارت کو خراب طریقے منتقل کرتا ہے۔ ایسی صورتوں میں مواد کے ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک حرارت کی منتقلی کو موصلیت کہا )conductor( کہا جاتا ہے اور حرارت منتقل کرنے والے مواد کو موصل )conduction( جاتا ہے۔
مشاہدات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دھاتیں حرارت کی اچھی موصل (good conductors of heat) ہوتی ہیں جب کہ لکڑی حرارت کی خراب موصل ( poor conductor of heat) ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کھانا پکانے کے لیے زیادہ تر دھاتی بر تن کیوں استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ ان کے دستے لکڑی یا دیگر موادوں سے بنائے جاتے ہیں جو حرارت کا ایصال نہیں کرتے۔ آپ اس کے بارے میں باب قدرتی ماحول میں حرارت کی منتقلی میں مزید جانیں گے۔
4.1.5 بجلی کا ایصال
کیا آپ نے کبھی کسی الیکٹریشین کو بیچ کس کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ اس کا دستہ بنانے کے لیے کسی قسم کا مواد استعمال کیا جاتا ہے؟ آپ نے الیکٹریشین کو کام کے دوران ربڑ کے دستانے اور جوتے پہنے ہوئے بھی دیکھا ہو گا۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
سرگرمی 4.4: آیئے ڈیزائن اور تخلیق کریں
باب بجلی: سرکٹ اور ان کے اجزاء میں ٹیسٹر سرکٹ کی طرح کا ایک برقی سرکٹ ڈیزائن کریں۔ ذیل میں درج موادوں کا استعمال کرتے ہوئے اسی سرگرمی کو دہرائیں اور اپنے مشاہدات کو جدول 4.2 میں درج کریں۔
- آپ کچھ اشیا جمع کر سکتے ہیں، جیسے المونیم فوئل کا ایک ٹکڑا، ایک لوہے کی کیل، گندھک کا ایک ٹکڑا (مٹر کے سائز کا)، تانبے کا تارہ کو گلے کا ایک ٹکڑا، خشک لکڑی کا ایک گٹکا، پتھر ، ربڑ کا ایریزر اور نائلون کی رسی کا ایک ٹکڑا۔
- قیاس لگائیں کہ ان میں سے کون سا مواد ٹیسٹر کے بلب کو روشن کر سکتا ہے اور کون سا نہیں۔
جدول 4.2 مختلف اشیا یا مواد میں بجلی کا ایصال
آپ نے دیکھا ہو گا کہ المونیم، لو ہے اور تانبے سے بنی اشیا بلب کو روشن کرتی ہیں جب کہ گندھک، کوئلہ، لکڑی، پتھر ، ایریز ر اور نائلون کی رسی اسے روشن نہیں کرتیں۔ کیا آپ سرگرمی 4.4 میں مختلف مواد کا استعمال کرتے ہوئے بلبوں کو روشن کرنے میں کوئی پیٹرن دیکھتے ہیں؟ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بلب کو روشن کرنے والے تمام مواد دھاتیں ہیں۔
ایسے مواد جو اپنے اندر سے برقی رو کو آسانی سے گزرنے دیتے ہیں انھیں بھلی کے اچھے موصل (good conductors of electricity) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ مواد جن سے بلب روشن نہیں ہوتا کیوں کہ وہ اپنے اندر سے برقی رو کو گزرنے نہیں دیتے ، وہ بجلی کے خراب موصل (poor conductors of electricity کہلاتے ہیں۔ )
لہذا، اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بیچ کسی اور ربڑ کے دستانے پر پلاسٹک کی پرت الیکٹریشن کو بجلی کے جھٹکوں سے بچاتی ہے کیوں کہ یہ مواد بجلی کے خراب موصل ہیں۔
ہم نے سیکھا کہ دھاتیں عام طور پر سخت، چمک دار ، ورق پذیر ، تار پذیر اور گرمی و بجلی کی اچھی موصل ہوتی ہیں۔ اب، آیئے جانتے ہیں کہ ہوا اور پانی کی موجودگی میں دھاتیں کسی طرح برتاؤ کرتی ہیں؟
4.2 دھاتوں پر ہوا اور پانی کا اثر : لوہا
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ لوہے کی اشیا کو کچھ دنوں کے لیے کھلے میں چھوڑنے پر ان کے اوپر بھورے رنگ کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کون سی حالت میں لوہے کی شے پر بھورے رنگ کا مادہ پیدا ہو جائے گا؟
- جب یہ صرف خشک ہوا کے رابطے میں ہو۔
- جب یہ صرف پانی کے رابطے میں ہو۔
- جب یہ ہوا اور پانی دونوں کے رابطے میں ہو۔
سرگرمی 4.5 آپنے تجربہ کریں۔
انتباہ لوہے کی کیلوں کے ساتھ کام کرتے وقت محتاط رہیں۔
- لوہے کی چند چمکیلی کیلیں لیں۔ اگر آپ پرانے لوہے کی کیلیں استعمال کر رہے ہوں تو پہلے ریگ مال کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے کیلوں کی سطح پر جمے ہوئے بھورے رنگ کے مادے کو ضرور صاف کر لیں۔
- تین صاف ستھری اور خشک شیشے کی بوتلیں یا جانچ نلیاں لیں جن کے ڈھکن مضبوطی سے کسے جاسکیں یا جن پر اسٹا پر لگے ہوئے ہوں۔ ان پر B ،A اور C کا لیبل لگائیں۔
- لوہے کی تین کیلیں لیں اور ہر کیل کو دھاگے سے باندھ دیں۔
- بوتل -A میں ایک کیل اور کچھ سلیکا جیل رکھیں اور ڈھکن یا اسٹاپر کو مضبوطی سے کس دیں۔ (شکل 4.42) سلیکا جیل ہوا کو خشک کرتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو بعض دواؤں کی شیشیوں، پانی کی بوتلوں، جوتوں کے ڈبوں وغیرہ کو کو خشک رکھنے کے لیے ان کے اندر چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔
- بوتل B میں کیل رکھیں۔ تازہ ابلا اور ٹھنڈا کیا ہوا پانی ( تحلیل شدہ گیسوں کو ہٹانے کے لیے) بوتل میں ڈالیں یہاں تک کہ لوہے کی کیل اس میں مکمل طور پر ڈوب جائے۔ اب پانی کی سطح پر پریت بنانے کے لیے تھوڑا سا تیل ڈالیں۔ (شکل 4.46) پانی کی سطح پر تیل کی پرت ہوا کو پانی میں تحلیل ہونے سے روکتی ہے۔ شیشے کی بوتل کو مضبوطی سے کس دیں۔
- بوتل (C) میں ایک کیل رکھیں اور تھوڑا سا پانی ڈالیں اس طرح کہ لوہے کی کیل جزوی طور پر ڈوب جائے۔ اس بوتل کو بغیر کسی ڈھکن کے رہنے دیں۔ اس سے لوہے کی کیل پانی اور ہوا دونوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی، جس طرح شکل 4.40 میں دکھایا گیا ہے۔
- تمام بوتلوں کو کمرے کے درجۂ حرارت پر بغیر چھیڑے پڑے رہنے دیں۔ اور 10-8 دنوں
- جدول 4.3 میں اپنے مشاہدات درج کریں۔
جدول 4.3 لوہے کی کیلوں پر بھورے رنگ کے مادے کی تشکیل
اس تجربے سے آپ کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟
شیشے کی بوتلوں A اور B میں مشاہدہ کیا گیا کہ کیلوں پر بھورے رنگ کا جما ہوا مادہ نہیں پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوہے کی کیلوں پر بھورے رنگ کا جما ہوا مادہ یا رنگت ایسی صورت میں پیدا نہیں ہوتی جب انھیں خشک ہوا ( بوتل (A) یا صرف پانی ( بوتل B) میں رکھا جاتا ہے۔ تاہم، بوتل C میں لوہے کی کیل پر بھورے رنگ کے مادے کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ان مادوں کے پہنچنے کے لیے پانی اور ہواد ونوں کی موجودگی ضروری ہے۔ لہذا، نم ہوا کی وجہ سے لوہے سے بنی اشیا پر بھورے رنگ کے مادے بنے لگتے ہیں۔ اس بھوری رنگت کے مادے کو زنگ (rust) کہا جاتا ہے۔ لوہے سے بنی اشیا پر زنگ لگنے کے عمل کو زنگ زدگی (rusting) کہا جاتا ہے۔ بہت سی اور دھاتیں بھی کھلی ہوا میں رکھے جانے پر بد رنگ ( discolouration) ہو جاتی ہیں۔ کیا آپ نے تانبے کی اشیا کی سطح پر سبز پرت یا چاندی کی اشیا کی سطح پر سیاہ پرت دیکھی ہے؟ ہوا، پانی، یاد دیگر مادوں کی وجہ سے دھات کی سطحوں کا بتدریج خراب ہونا تاکل (corrosion) کہلاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں لوہے کی زنگ زدگی ایک سنگین مسئلہ ہے؟ ہر سال زنگ لگنے کی وجہ سے خراب ہونے والے لوہے کے ڈھانچوں کو تبدیل کرنے یا ان کی مرمت کرنے پر بہت بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ لوہے کی زنگ زدگی کو متعدد طریقوں سے روکا جاسکتا ہے جیسے روغن کاری، تیل لگانا، گریز لگانا اور لو ہے پر زنگ دھات کی حفاظتی پرت چڑھانا یعنی جست کاری (galvanisation) ۔ ہم اگلے گریڈوں میں اس کے بارے میں پڑھیں گے۔
قدیم ہندوستانی دھات سازی کا عجوبہ !
دہلی کا آہنی ستون (Iron Piller) 600 سال پہلے چندر گپت دوم کے عہد میں بنایا گیا تھا۔ یہ تقریبا 8 میٹر اونچا ہے اور اس کا وزن 6000 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ لوہے کے اس ستون کے بارے میں دل چسپ بات یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں ہواؤں، بارش اور شدید موسم کا سامنا کرنے کے باوجود اس پر زنگ نہیں لگا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اسے اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ زنگ زدگی کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ اس ستون سے ہمیں ان ہنر مندیوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے جو ہندوستان میں دھاتی ٹیکنالوجی کے میدان میں موجود تھیں۔
4.3 دیگر دھاتوں پر ہوا اور پانی کے اثرات
سرگرمی 4.6: آیئے تفتیش کریں (مظاہراتی سرگرمی)
استاد اس سرگرمی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔
انتباہ طلبہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حفاظتی چشمہ پہنیں اور محفوظ فاصلے سے مشاہدہ کریں۔
- تقریباً 4-3 سینٹی میٹر لمبا میگنیشیم کا فیتہ لیں۔ اسے ریگ مال کے ٹکڑے سے رگڑ کر صاف کریں۔
- فیتے کو چمٹی سے پکڑیں۔ اسپرٹ لیمپ یا موم بتی سے دوسرے سرے کو جلائیں ( شکل 4.5)۔
- میگنیشیم کے فیتے کو جلنے دیں۔
- آپ کیا دیکھتے ہیں؟
- آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ میکنیشیم کافیتہ چمک دار سفید شعلے کے ساتھ جلتا ہے اور سفید سفوف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسے واچ گلاس پر جمع کریں۔ یہ سفوف میکنیشیم آکسائڈ ہے۔ یہ ہوائیں موجود میکنیشیم اور آکسیجن کے درمیان رد عمل کی وجہ سے بنتا ہے۔
- اس سفید سفوف میں گرم پانی کے چند قطرے شامل کریں، اسے اچھی طرح ہلائیں اور اس کی نوعیت کو جائیں۔
- باب اشیا کی تلاش و جستجو : تیزابی، اساسی اور تعدیلی کو یاد کریں معلوم کریں کہ میگنیشیم آکسائڈ کا محلول تیزابی ہے، اساسی ہے، یا تعدیلی نوعیت کا ہے۔ آپ کسی بھی تیزابی اساسی انڈیکیٹر کا استعمال کر سکتے ہیں۔
- نیلے اور سرخ لٹمس پیپر پر اس محلول کا کیا اثر پڑتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ یہ سرخ لٹمس پیپر کو نیلے رنگ میں بدل دیتا ہے۔ (شکل 4.6)۔ لہذا، یہ اپنی نوعیت میں اساسی ہے۔ عام طور پر دھاتوں کے آکسائڈ اپنی نوعیت میں اساسی ہوتے ہیں ہم باب ہمارے اطراف میں تبدیلیاں: طبیعی اور کیمیائی میں میگنیشیم کے فیتے کے جلنے پر مزید بحث کریں گے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ سوڈیم ایسی دھات ہے جو مٹی کے تیل میں رکھی جاتی ہے کیوں کہ آکسیجن اور پانی کے ساتھ یہ تیزی سے تعامل کرتی ہے؟ اس رو عمل میں بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے میٹی کے تیل میں سوڈیم کو رکھنے سے اسے نمی اور ہوا سے بچایا جاسکتا ہے۔ کیا آپ اس کے آکسائڈ کی نوعیت کا قیاس لگا سکتے ہیں؟ آئیے اب کچھ ایسے مادوں پر بات کرتے ہیں جو دھاتی نوعیت کے نہیں ہیں۔
4.4 مادے جو ہوا اور پانی میں دھاتوں سے مختلف برتاؤ کرتے ہیں
سرگرمی 4.7 آئیے تجربہ کریں (مظاہراتی سرگرمی)
استاد اس سرگرمی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔
انتباہ یہ سرگرمی خوب ہوادار علاقے میں انجام دی جانی چاہیے ۔ گندھک جلانے سے ایسی گیسیں پیدا ہوتی ہیں جو سانس کے ذریعے اندر لینے پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
- گندھک کے سفوف کی مختصر مقدار کو اگن چھیچ ( deflagrating spoon) میں لیں یہ ایک لمبے دستے والا دھاتی چھیچ ہوتا ہے جسے تجربات کے دوران مادوں کو محفوظ طریقے سے گرم کرنے اور جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے شکل 4.72)۔ اگر اگن پیچ دستیاب نہ ہو تو آپ کسی بھی بوتل کا دھاتی ڈھکن لے سکتے ہیں ، اس کے گرد دھاتی تار لپیٹ کر اسے شکل 4.7 میں دکھائے گئے طریقے کے مطابق بنا سکتے ہیں۔
- اسے شعلے پر گرم کریں اور جیسے ہی گندھک جلنے لگے، اگن چھیچ کو گیس جار یا شیشے کے گلاس میں ڈال دیں ( شکل 4.70 ) ۔ گیس جار یا شیشے کے گلاس کو ڈھکن سے ڈھانپ دیں تاک کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیدا ہونے والی گیس باہر نہیں نکلے گی۔
- 3-4 منٹ کے بعد ڈھکن کو ہٹا دیں اور اگن چھیچ نکال لیں۔ گیس جار میں پانی کی تھوڑی سی مقدار شامل کریں، جلدی سے ڈھکن کو دوبارہ رکھ دیں اور اسے ہلاتے رہیں تا کہ گیس تحلیل ہو جائے۔
- ایک بار پھر ، باب اشیا کی تلاش و جستجو : تیزابی ، اساسی اور تعدیلی کو یاد کریں۔ تیزابی اساسی انڈیکیٹر کا استعمال کرتے ہوئے، جانچ کریں کہ آیا گیس جار میں پانی ڈالنے کے بعد حاصل ہونے والا محلول تیزابی ہے، اساسی یا تعدیلی ہے۔
- آپ کیا دیکھتے ہیں؟
آپ دیکھیں گے کہ یہ نوعیت میں تیزابی ہے (شکل 4.71 )۔
گندھک کو ہوا (آکسیجن) میں جلانے پر سلفر ڈائی آکسائڈ گیس بنتی ہے۔
پانی میں سلفر ڈائی آکسائڈ گیس گھلنے پر سلفرس ایسڈ (sulfurous acid) بنتا ہے۔
کیا گندھک پانی میں اسی طرح رد عمل کرتا ہے جس طرح دھاتیں کرتی ہیں؟
سرگرمی 4.8: آپنے چھان بین کریں
- ایک گلاس میں تھوڑا سا گندھک کا سفوف لیں۔
- اس میں تھوڑا سا پانی شامل کریں۔
- آپ کیا دیکھتے ہیں؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب پانی میں گندھک کو ڈالا جاتا ہے تو کوئی رد عمل نہیں ہوتا ہے۔ گندھک اور فاسفورس جیسے مادے دھاتوں کے مقابلے میں ہوا اور پانی کے ساتھ مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ ر فاسفورس پانی میں رکھا جاتا ہے کیوں کہ یہ ہوا میں آگ پکڑ لیتا ہے۔ یہ مادے عام طور پر ظاہری طور پر نرم اور پھیکی رنگت کے ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو ورق پذیر ہوتے ہیں اور نہ ہی تار پذیر اور یہ کھنک بھی پیدا نہیں کرتے۔ یہ حرارت اور بجلی کے خراب موصل بھی ہوتے ہیں۔ انھیں غیر دھاتیں (non-metals) کہا جاتا ہے۔ ان اور موصل تبھی ہیں کے آکسائڈ کی نوعیت تیزابی ہوتی ہے۔
بعض دیگر غیر دھاتیں آکسیجن، ہائیڈروجن ، نائٹروجن، کاربن وغیرہ ہیں۔ انھیں پلاسٹک، شیشے، لکڑی، ربڑ اور کاغذ جیسے موادوں کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے جنھیں دھاتوں یا غیر دھاتوں کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جاتا کیوں کہ یہ عناصر (elements) نہیں ہیں۔
4.5 کیا روز مرہ زندگی میں غیر دھاتیں لازمی ہیں؟
آپ اکثر اپنی روز مرہ زندگی میں بہت سی دھاتوں کا ان کی مخصوص خصوصیات کی بنا پر مشاہدہ کرتے ہیں، جیسے ان کی چمک، حرارت، برقی موصلیت اور اعلی طاقت۔ تاہم، اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ غیر دھاتوں کی ہماری زندگی میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔
ہم آکسیجن میں سانس لیتے ہیں، جو ایک غیر دھات ہے اور اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ کیا آپ آکسیجن کے کسی اور استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
کار بن ایک غیر دھات ہے جو روز مرہ زندگی کے لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ زندگی کی تمام شکلوں کا تشکیلی بلاک ہے۔ یہ پروٹین، چربی اور کاربوہائیڈریٹ کا ایک اہم جزو ہے، جو نشو و نما اور توانائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ نائٹروجن ایک غیر دھات ہے جس کو کھاد اور دیگر کیمیائی مادوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پودوں کی نشوو نما کے لیے ایک ضروری غذائی عنصر ہے۔ کلورین ایک غیر دھات ہے جو عام طور پر پانی کو صاف کرنے میں استعمال کی جاتی ہے۔ آیوڈین کا محلول ایک غیر دھات ہے جسے زخموں پر جراثیم کش کے طور پر لگایا جاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سی دھاتیں اور ان کے بھرت ( دو یا زیادہ دھاتوں یا دھات اور غیر دھات کا مرکب) برتن اور اوزار کے طور پر روزمرہ استعمال کے لیے ضروری ہیں؟ یہ جدید ٹیکنالوجیوں کے لیے بھی اور تقریباً ہر منعت کے لیے اہم ہیں۔ کچھ خاص دھاتیں جوہری توانائی ( جیسے زر کو نیم)، ایرو اسپیس ( ٹائٹینیم) وغیرہ میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں بہت سی دھاتیں، خاص طور پر لو ہے اور المونیم کو ری سائیکل کی باز تشکیل کی جاتی ہے تا کہ فضلے کو کم سے کم کیا جا سکے اور پائیداری میں مدد مل سکے۔
خلاصه
- دھاتوں اور غیر دھاتوں کی خصوصیات کی بنیاد پر ان میں فرق کیا جاتا ہے۔
- عام طور پر ، دھاتیں چمک دار (lustrous) ہوتی ہیں، جب کہ زیادہ تر غیر دھاتیں غیر چمک دار ہوتی ہیں۔ )non-lustrous(
- دھاتیں عام طور پر ورق پذیر (malleable) اور تار پذیر (ductile) ہوتی ہیں، جب کہ غیر دھاتوں میں یہ خصوصیات نہیں پائی جاتیں۔
- دھاتیں حرارت اور بجلی کی اچھی موصل (conductors) ہوتی ہیں، جب کہ غیر دھاتیں عام طور پر ہوتی ہیں۔ )poor conductors( خراب موصل
- دھاتیں آکسیجن کے ساتھ تعامل کر کے دھاتی آکسائڈ پیدا کرتی ہیں جو اپنی نوعیت میں اساس ہوتے ہیں۔
- غیر دھاتیں آکسیجن کے ساتھ تعامل کر کے آکسائڈ پیدا کرتی ہیں جو نوعیت میں تیزابی ہوتے ہیں۔
- عام طور پر ، غیر دھاتیں پانی کے ساتھ تعامل نہیں کرتیں۔
- نم ہوا میں دھاتی اشیا کو نقصان پہنچتا ہے اور اس عمل کو تاگل (corrosion) کہا جاتا ہے۔
- روز مرہ زندگی میں دھاتوں اور غیر دھاتوں کے وسیع اطلاقات ہیں۔
آئیے ، اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- کون سی دھات عام طور پر کھانے کے پیکیجنگ مواد بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کیوں کہ یہ ستی ہوتی ہے اور اس کی پہلی چادروں کو آسانی سے کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے ؟
- المونیم
- تانیا
- لوہا
- سونا
- پانی کے رابطے میں آنے پر مندرجہ ذیل میں سے کون سی دھات آگ پکڑ لیتی ہے؟
- تانیا
- المونيم
- زنک
- سوڈیم
- دلیل کے ساتھ بیان کریں کہ آیا مندرجہ ذیل بیانات صحیح [1] ہیں یا غلط [F]
- المونیم اور تانبا غیر دھاتوں کی مثالیں ہیں جو برتن اور مجسمے بنانے میں استعمال کی جاتی ہیں۔ [ ]
- آکسیجن کے ساتھ مل کر دھاتیں آکسائڈ بناتی ہیں، جس کا محلول نیلے لٹمس پیپر کو سرخ بنا دیتا ہے۔ [ ]
- آکسیجن ایک غیر دھات ہے جو سانس لینے کے لیے ضروری ہے۔ [ ]
- تانبے کے برتن پانی ابالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کیوں کہ وہ بجلی کے اچھے موصل ہوتے ہیں۔ [ ]
- زیورات بنانے کے لیے صرف چند دھاتیں ہی کیوں موزوں ہوتی ہیں؟
- الم میں دی گئی دھاتوں اور غیر دھاتوں کے استعمال کو کالم 11 میں دی گئی دھاتوں اور غیر دھاتوں کے گڈمڈ ناموں سے جوڑا ملائیں۔
- جب میگنیشیم اور گندھک کے ساتھ آکسیجن تعامل کرتی ہے تو کیا ہوتا ہے ؟ اس تعامل سے تشکیل پانے والی چیزوں کی نوعیت میں اہم تبدیلیاں کیا کیا ہیں؟
- مندرجہ ذیل فلو چارٹ مکمل کریں:
- آپ کو مندرجہ ذیل مواد فراہم کیا گیا ہے۔ ایک برتن بنانے کے لیے آپ کون سا مواد چنیں گے جو کھولتے ہوئے مانی کے لیے موزوں ترین ہو اور کیوں؟
- آپ کو تین لوہے کی کیلیں فراہم کی گئی ہیں۔ ہر ایک کو تیل، پانی اور سر کے میں ڈبویا گیا ہے۔ کون سی کیل زنگ آلود نہیں ہو گی اور کیوں؟
- روزمرہ کی زندگی میں دھاتوں اور غیر دھاتوں کی مختلف خصوصیات ان کے استعمال کا تعین کیسے کرتی ہیں؟
- لوہے کو زنگ لگنے سے بچانے کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے اوپر زنک دھات کی پہلی پرت چڑھادی جائے۔ چوں کہ گندھک پانی کے ساتھ تعامل نہیں کرتی، لہذا کیا اسے اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ اپنے جواب کا جواز پیش کریں۔
- لوہار اوزار بنانے سے پہلے لوہے کو گرم کرتا ہے۔ اس عمل میں اسے گرم کرنا کیوں ضروری ہے؟
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- ڈھو کرا، بیدری، پیمبار تھی اور کامرو پی ہندوستان کے مشہور دھاتی آرٹ کے اسالیب میں سے ہیں۔ ان ریاستوں کا پتہ لگائیں جہاں یہ آرٹ کے نمونے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کی تصاویر کا ایک کولاژ بنائیں۔
- ہندوستان کے نقشے پر ان ریاستوں کو نشان زد کریں جہاں لوہا، سونا، المونیم اور دیگر دھاتیں پائی جاتی ہیں۔
- اسمارٹ فون میں پائی جانے والی دھاتیں اور غیر دھاتیں دریافت کریں اور معلوم کریں کہ وہ فون کو صحیح طریقے سے سے کام کرنے میں کس طرح مدد کرتی ہیں۔
- آرام و آسائش کے لیے دھاتوں کے استعمال کو بڑھانا چاہیے یا کم کرنا چاہیے، اس موضوع پر کلاس روم میں ایک مباحثہ کا اہتمام کریں۔
