6
نوعمری: نشود نما اور تبدیلی کا ایک مرحلہ
(Adolescence: A Stage of Growth and Change)
کسی پودے کا سفر عموما بیچ کا انکھوا پھوٹنے سے شروع ہوتا ہے موزوں تغذیہ کے ذریعے بیچ پود بنتا ہے اور پختہ ہو کر چھوٹا پود ابنتا ہے۔ یہ سفر بعض مخصوص تبدیلیاں لاتا ہے بعض ظاہری تبدیلیاں اُس کی اونچائی میں اضافہ ، مزید پتیوں کا نکلنا، پھولوں، پھلوں کا لگنا اور نئے بیجوں کا پیدا ہونا ہے۔ ان بیجوں سے نئے پودے پیدا ہوتے ہیں۔
اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کلہ پھوٹنے کے فورا بعد کسی انکھوا میں پیچ پیدا کرنے کی صلاحیتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ بیج پیدا کرنے کے قابل ہونے کے لیے اسے نشو نما کرنے اور بلوغت یا پختگی تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح حیوانات کو بھی تولید کے قابل ہونے سے پہلے نشو و نما کرنے اور بلوغت تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے بعض حیوانات انڈے دیتے ہیں۔ جن سے سینے کے بعد بچے نکلتے ہیں جب کہ کچھ دوسرے حیوانات انسانوں کی طرح براہ راست اپنے بچے پیدا کرتے ہیں۔ دونوں حالات میں بچوں کا حجم بہ تدریج بڑھتا ہے اور وہ اپنے وقت پر بڑے ہو جاتے ہیں۔
کسی انسان کی زندگی کے سفر کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے طفلی ، بچپن ، نو عمری، بلوغت اور ضعیفی ۔ ہر شخص کو ان مراحل کا تجربہ اپنی رفتار سے ہوتا ہے اور ہر مرحلے کی مدت ہر فرد میں الگ الگ ہو سکتی ہے طفلی سے لے کر بلوغت تک ہمارا جسم مختلف تبدیلیوں سے گزرتا ہے ۔ 10 تا 12 سال کی عمر تک زیادہ تر تبدیلیوں کا تعلق اونچائی او روزن سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد دیگر قابل توجہ تبدیلیاں واقع ہونے لگتی ہیں جو نو عمری کے عروج کی دلالت کرتی ہیں۔ یہ تیز رفتار نشو و نما اور ارتقا کا زمانہ ہوتا ہے جو خاص طور سے 10 تا 19 سال کی عمر کے درمیان آتا ہے۔ نو عمری کے دوران جسم بلوغت کے لیے تیار ہوتا ہے۔
بیشتر جاندار مخلوقات کی طرح انسان اپنی پیدائش کے فوراً بعد تولید نہیں کر سکتے۔ تولید کے قابل ہونے کے لیے اُن کے جسم کو نشو و نما کرنے اور بلوغت کے مرحلے تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
جوں جوں انسانوں میں نشوو نما ہوتی ہے اور اُن کا ارتقا ہوتا ہے وہ تولید کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ نمایاں جسمانی، جذباتی اور رویہ جاتی تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تبدیلیاں شاید واضح طور پر مشاہدے میں آسکنے والی ہوں جب کہ دیگر تبدیلیاں داخلی طور پر واقع ہوتی ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں ہو پاتی۔ اس باب میں نو عمری کے بارے میں غور و فکر کریں گے، اُس کی اہمیت کو سمجھیں گے اور ذمے داری کے احساس کے ساتھ اُس پر قابو پانے کا طریقہ سیکھیں گے۔
6.1 عمر کے ساتھ نشود نما: نو عمری کے سال
گرمی کی تعطیلات کے دوران و نکشیش اپنے دادا دادی سے ملنے گیا۔ جوں ہی وہ گھر میں داخل ہوا اُس کی 12 سال کی چازاد بہن دو یانی دوڑ کر اُس کے استقبال کے لیے آئی۔
آئیے و نکشیش اور دو پانی کے درمیان اس دل چسپ گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 6.1: آیئے تبادلہ خیال کریں
- ایک مرتبان اور کچھ کاغذ کی پرچیاں لیں۔
- ان تبدیلیوں کو تحریر کریں جن کا مشاہدہ آپ گریڈ 5 سے گریڈ 8 میں جانے والے طلبا میں کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق لمبائی، طاقت ، رویوں یا کسی اور پہلو سے ہو سکتا ہے۔ براہِ کرم پر چیوں پر نام لکھنے سے پر ہیز کریں۔
- کاغذ کی پرچیوں کو موڑ کر انھیں مرتبان میں ڈالیں۔
- کلاس کے تمام طلبا سے لی گئی پرچیوں کو ملادیں اور ایک ایک کر کے جمع کی گئی پر چیاں کھولیں۔ پرچیوں پر لکھی معلومات کی بنیاد پر کلاس کے طلبا کے ساتھ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کریں۔
جیسا کہ پرچیوں پر لکھا گیا تھا طلبا کے درمیان عام ترین قابل مشاہدہ تبدیلیاں کون سی تھیں؟ انھیں جدول 6.1 میں درج کریں۔
جدول 6.1: نشو و نما کے دوران عام ترین تبدیلیاں
کیا آپ نے بھی ان میں سے بعض تبدیلیوں کو محسوس کیا ہے ؟ اگر ہاں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بھی بہ تدریج اس مرحلے پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ مرحلہ تقریباً 10 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے اور 19 سال کی عمر تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ عام طور پر بچپن اور بلوغت کے درمیان ایک ارتقائی مرحلہ ہے اور اسے نو عمری (adolescence) کہتے ہیں۔
جدول 6.1 کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ نے شاید مندرجہ ذیل پر توجہ دی ہو :
قد کا بڑھنا
پیدائش سے ہی ہمارا جسم مسلسل نشو و نما اور ارتقا سے گزرتا ہے جس میں قد کا بڑھنا بھی شامل ہے۔ تاہم قد میں اضافہ نو عمری کے دوران زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
جسم کے ڈھانچے، وزن بڑھنے اور طاقت میں تبدیلیاں
جوں جوں لڑکوں کی نشوو نما ہوتی ہے تو یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ قد بڑھنے کے ساتھ ساتھ اُن کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور اُن کے کندھے زیادہ چوڑے ہو جاتے ہیں اور شاید ان کے سینے بھی چوڑے ہو جاتے ہیں۔
لڑکیاں بھی قد اور روزن اور جسم کی دیگر تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔ مثلاً پستانوں کا بڑھنا۔
آواز میں تبدیلیاں
نو عمر لڑکوں میں حلق کی نشوو نما کے نتیجے میں ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جو پھنسی ہوئی لگتی ہے۔ حلق ہمارے گلے میں ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو بولنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اس نشو و نما کو گلے کے حصے میں ایک اُبھار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور اسے کنٹھ (adam's apple) کہتے ہیں۔ تاہم یہ ہر فرد میں نظر آنے کے قابل نہیں ہوتا حلق کی نشو و نما لڑکیوں میں بھی ہوتی ہے لیکن یہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا لڑکوں کا، جس کے نتیجے میں آواز میں صرف ہلکی سی تبدلیاں آتی ہیں۔
جسم کے مختلف حصوں پر بالوں کا نمودار ہونا
لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے جسم کے مختلف حصوں پر بالوں کے نمودار ہونے کا تجربہ ہوتا ہے۔ مثلاً بغلوں اور پوشیدہ حصوں پر۔
لڑکوں کے چہرے پر اکثر بال اُگ آتے ہیں جو بعد میں اُن کے بلوغت کی طرف بڑھنے پر مونچھ اور داڑھی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں بعض لڑکوں کے سینے اور کمر پر بھی کالے بال اُگتے ہیں۔ اگر چہ چند لڑکے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے جسم پر نمایاں طور پر بال نہ اُگے ہوں۔ بالوں کی نشو و نما اور اُن کے ظاہر ہونے میں تغییرات بہت عام بات ہے۔
چہرے کی جلد میں تبدیلیاں: پھنسیوں کا ظاہر ہونا
نو عمری کے زمانے میں ایک اور عام تبدیلی جلد کا ایک عارضہ جسے مہاسہ کہتے ہیں جس میں چھوٹی سرخی مائل پھنسیاں نکلتی ہیں۔ یہ عام طور پر چہرے پر ظاہر ہوتی ہیں۔ مہاسے نوعمری کے دوران جلد میں سے چکنائی دار مادے کے اخراج کی وجہ سے نکلتے ہیں جو جلد کے مسامات کو بند کر کے تعدیے پیدا کر سکتے ہیں۔ مہاسہ ایک عارضہ ہے تو پھنسیاں اُس کا اظہار ہیں۔
یاد رکھنے کے کلیدی نکات
تبدیلی چاہے قد میں ہو یا آواز اور چہرے کے بال میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان تبدیلیوں کے اوقات نوعیت اور حدود وسعت افراد میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ تغیرات بالکل عام نوعیت کے ہوتے ہیں۔
شخص کو نو عمری کا تجربہ اُس کی اپنی رفتار سے ہوتا ہے اور اس کی مدت بھی مختلف افراد میں الگ ہوتی ہے۔
اب ہم بعض ان تبدیلیوں کو سمجھ گئے ہیں جو نو عمری میں واقع ہوتی ہیں خصوصاً وہ جو آسانی سے قابل مشاہدہ ہوں۔ ان میں سے بعض مخصوص تبدیلیاں مثلاً آواز میں تبدیلی، لڑکوں میں چہرے اور سینے پر بالوں کا اگنا اور لڑکیوں میں پستان کے بڑھنے کا تولید کے عمل سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ تاہم یہ مخصوص تبدیلیا صنفی امتیازات کو پہچاننے میں مدد گار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ثانوی جنسی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ ثانوی جنسی خصوصیات وہ فطری علامات ہیں جنھیں جسم بلوغت کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سن بلوغ (Puberty) کی ابتدا کی نشانی ہیں۔ سن بلوغ وہ مرحلہ ہے جس میں کسی نو عمر شخص کا جسم قابل تولید بالغ فرد بننے کے لیے داخلی اور خارجی تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔
6.2 تولیدی صلاحیت کو ظاہر کرنے والی تبدیلیاں
نو عمری کی نشانی قابل مشاہدہ تبدیلیاں ہی نہیں بلکہ وہ داخلی تبدیلیاں بھی ہیں جو باہر کی طرف سے دیکھی نہیں جا سکتی ہوں۔ ایسی ہی ایک تبدیلی اس تولیدی عمل میں شامل مختلف اعضا کی پختہ کاری ہے۔
لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو اس طرح کی تبدیلیاں بہ تدریج محسوس ہوتی ہیں اور یہ تبدیلیاں نشوو نما کے عمل کا فطری حصہ ہیں۔ نو عمر لڑکیوں سے وابستہ ایک اہم داخلی تبدیلی ایام حیض کی شروعات ہے۔ یہ عام طور پر 28 سے 30 دن پر واقع ہوتا ہے اور زیادہ عام اصطلاح میں اسے پیریڈز“ کہا جاتا ہے۔ بہت سی صحت مند لڑکیوں میں ایام حیض کا وقفہ طویل یا مختصر ہو سکتا ہے جو 21 سے 35 دنوں تک کا ہے۔ ایام حیض کا وقفہ ایک اہم فطری عمل ہے اور اچھی تولیدی صحت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اُس گردش کے مرحلے کو جب جسم سے خون کا اخراج ہوتا ہے حیض یا ماہواری کہتے ہیں۔ یہ تین سے سات دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ ان ایام کے دوران بعض لڑکیوں کو پیٹ کے نچلے حصے میں درد اور تکلیف کا احساس ہو سکتا ہے۔ عموماً 45-55 سال کی عمر تک حیض قدرتی طور پر رک جاتا ہے جو کسی عورت کی زندگی میں تولیدی صلاحیت کے خاتمے کی نشانی ہے۔
حیض کے بارے میں مفروضات کو توڑنا
حیض کے بارے میں ایسے بہت سے فرسودہ خیالات ہیں جو اکثر غیر ضروری خوف، شرم یہاں تک کہ جرم کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ ان خیالات نے بعض مفروضات اور ممنوعات میں اضافہ کیا ہے۔ اس طرح کے ممنوعات اور مفروضات بدسم ت میں ایام حیض سے گزرنے والی لڑکیوں کی جسمانی تفرید کا آج بھی بد قسمتی سے عام رواج ہے۔ حیض ایک فطری عمل ہے اور اس طرح کے مفروضات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ حیض کے بارے میں سائنسی نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کر کے ہم عورتوں کی اچھی تولیدی صحت کے فروغ کی ضرورت کو سمجھنے میں اور عورتوں کے لیے زیادہ صحت مند طرز زندگی میں مثبت تعاون میں مدد کر سکتے ہیں۔
نو عمری کا تعلق صرف جسمانی یا تولید سے وابستہ تبدیلیوں سے ہی نہیں بلکہ جذباتی اور رویہ جاتی تبدیلیوں سے بھی ہے!
6.3 نو عمری میں جذباتی اور رویہ جاتی تبدیلیاں
سرگرمی 6.2: آیئے درج کریں
ایک لمحے کے لیے یہ سوچیں کہ کیا گزشتہ ایک یا دو سال میں آپ کے یا آپ کے ہم جماعت طلبا کے جذبات یا رویہ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلیاں مسرت بخش، الجھن میں ڈالنے والی یا دونوں ہی ہو سکتی ہیں۔
آئے جدول 6.2 میں مثبت نشو و نما اور ارتقا کے لیے رویوں اور طور طریقوں پر ممکنہ اثرات کے ہمراہ بعض جذباتی تبدیلیاں درج کریں۔
جدول 6.2 جذباتی تبدیلیاں، مثبت نشو و نما اور ارتقا کے لیے رویوں اور طور طریقوں پر ان کے ممکنہ اثرات
جدول 6.2 پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے آپ نے نوجوانی میں متنوع رویہ جاتی تبدیلیوں کا پتہ لگایا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طفلی کے مقابلے میں اکثر نوجوانی کا اظہار زیادہ شدید جذبات سے کیا جاتا ہے۔ یہ جذبات نوجوانی کے رویے کو متاثر کر سکتے ہیں جیسے ضرورت مند اور غیر مراعات یافتہ افراد کی مدد کے لیے سماجی اقدامات کرنا یا ان میں شرکت کرنا یا نئے میدانوں میں زیادہ گہری دل چسپی پیدا کرنا۔
اس بات کی سمجھ کہ ہمارے جذبات ہمارے رویوں اور اعمال کو کس طرح متاثر کرتے ہیں بہتر انتخابات کرنے اور سنجیدگی سے حالات پر رد عمل کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔
6.4 نو عمری کو پُر لطف تجر بہ بنانا
نوجوانی کا سفر ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ زندگی کے اس مرحلے کے دوران تجسس کی شدت اور جوشیلا پن لوگوں کی زندگی کے ہر پہلو کے تئیں نوجوانی کو ایک نیا ز او یہ عطا کرتے ہیں۔ اچھی عادتیں، سنجیدہ فیصلے نوجوانوں کی مجموعی بہبود پر تحکم مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں جانیں!
6.4.1 تغذیاتی ضروریات کی تکمیل
گریڈ 6 کی تجسس کے باب محتاط غذا خوری: صحت مند جسم کی راہ میں آپ نے صحت مند خوراک کی ضرورت کے بارے میں جانا۔ چوں کہ نوجوانی نشو و نما اور ارتقا کا زمانہ ہے جس میں جسم کے اندر کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، تغذیہ خش خوراک کی بہت اہمیت ہے۔
سرگرمی 6.3 آیئے درج کریں۔
مقامی طور پر دستیاب غذاؤں کی بنیاد پر جدول 6.3 کو صحت بخش غذا کے ذرائع ان میں موجود تغذیائی اجزا اور ہماری نشو و نما اور ارتقا میں ان تغذیائی اجزا کی مدد کے طریقوں سے پر کریں۔
جدول 6.3 غذا کے ذرائع ، ان میں موجود تغذیائی اجزا اور ان تغذائی اجزا کے افعال
نوجوان خصوصا لڑکیوں کے جسم میں آئرن یا وٹامن B12 کی کمی کی وجہ سے خون سے متعلق مسائل صحت کا سامنا ہوتا ہے۔
- اس طرح کے مسائل صحت کے بارے میں جانیں۔
- ہم اپنے جسم میں آئرن کی قلت پر کیسے قابو پاسکتے ہیں۔
- اس طرح کی قلت کو روکنے کے مقصد سے سرکاری اسکیموں کے بارے میں جانیں۔
دور تھی ہالگن (Dorothy Hodgkin) ایک ذہین سائنس داں تھیں جنھوں نے وٹامن B12 کی ساخت کا مطالعہ کیا۔ 1964 میں وہ کیمسٹری کے میدان میں نوبیل انعام پانے والی تیسری خاتون بنیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وٹامن B کی ضرورت انسانی جسم کے درست 12 فعل کے لیے پڑتی ہے؟ زیادہ تر وٹامنوں کی طرح اسے انسانی جسم میں نہیں بنایا جا سکتا اور اس غذا سے حاصل کرنا ہوتا ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ اپنے استاد کے ساتھ وٹامن B12 کی ذرائع کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔
6.4.2 ذاتی حفظان صحت
حیض کے دوران تغذیہ کے علاوہ ذاتی حفظانِ صحت بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔ خصوصاً بغلوں اور پوشیدہ مقامات پر جسم کی صفائی ستھرائی ہمیں ممکنہ تعدیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
لڑکیوں کے لیے حیض کے دوران آرام اور صحت دونوں کی خاطر معقول صفائی ستھرائی برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ ماہواری کے دوران صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے سینیٹری پیڈ (شکل 6.1) اور اس مقصد کے لیے وضع کردہ دوبار استعمال کے قابل کپڑے کی گدیوں جیسی اشیاء استعمال کی جاسکتی ہیں۔
حکومت بھی لڑکیوں اور عورتوں کی دوران حیض حفظانِ صحت کو بہتر بنانے کے لیے یہ اشیا مفت یا کم قیمت پر دستیاب کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک سماج کی حیثیت سے ہم سب کو دوران حیض حفظان صحت کے فروغ کے لیے اسکولوں اور عوامی مقامات پر ضروری سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ہمیں ایک ساتھ مل کر آگے بڑھ کر سینیٹری پیڈ سے متعلق بیجا تصورات کو کم کرنا اور دوران حیض حفظانِ صحت میں مدد کرنا چاہیے۔ استعمال شدہ سینیٹری پیڈ کو اخبار میں لپیٹ کر کوڑے دان کے اندر ڈال کر ضائع کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد عوامی صحت اور ماحولیاتی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔ ان دنوں حیاتی تنزل پذیر یا ماحول دوست سینیٹری پیڈ بھی دستیاب ہیں۔
دوران حیض حفظان صحت میں تعاون کرنے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔
- دوران حیض حفظانِ صحت اسکیم (MHS) حکومت ہند کی اس اسکیم کے تحت سینیٹری پیڈ دیہی علاقوں میں نو عمر لڑکیوں کو مفت یا کم قیمت پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ دوران حیض صفائی ستھرائی اور صحت کے بارے میں لڑکیوں کو واقف کرانے کے لیے بیداری پروگرام بھی چلائے جاتے ہیں۔
- راشٹریہ کشور سو استھیہ کار یہ کرم (RKSK) : اس کا مقصد نوجوانوں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہے۔ جس میں دوران حیض صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت بھی شامل ہے۔ یہ ہمسر تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس میں زیادہ عمر کے طلبا کم عمر کے طلبا کو ان موضوعات کے متعلق جاننے میں مدد کرتے ہیں۔
- سوودھا سنیٹری نیپکن اقدام: اس اقدام کے تحت حیاتیاتی تنزل پذیر سنیٹری پیڈ جن او شدھی کیندروں کے ذریعے رعایتی قیمتوں پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کے لیے دوران حیض صفائی ستھرائی کی چیزوں کے حصول کو بہتر بنانا ہے۔
- ریاستی سطح کے اقدامات : مختلف ریاستی حکومتوں نے اپنے پروگرام چلائے ہیں، مثلاً کر ناٹک میں شو چی اسکیم نیز تمل ناڈو اور اڑیسہ جیسی ریاستوں میں مفت سینیٹری نیپکن اسکیم ۔ ان پروگراموں کا مقصد سرکاری اسکولوں میں مفت سنیٹری پیڈ تقسیم کرنا ہے۔
6.4.3 جسمانی سرگرمیاں
نو عمری کے زمانے میں پابندی کے ساتھ جسمانی سرگرمیاں بھی بہت ضروری ہیں۔ کیا آپ پابندی سے ورزش کرنے یا کھیل کود میں شریک ہوتے ہیں؟ آپ کس طرح کی ورزشیں کرتے ہیں؟ یہ سرگرمیاں آپ کے جسم اور دماغ کو چست اور صحت مند رکھیں گی، آپ میں طاقت پیدا کریں گی اور آپ کے اندر مزاج میں بہتری لائیں گی (شکل (6.2)۔
6.4.4 متوازن سماجی زندگی
ہم سب کسی سماج میں رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ اخلاق مندی اور احترام سے پیش آنا چاہیے (شکل 6.3)۔ اس سے ساز گار اور محفوظ ماحول کی تخلیق میں مدد ملتی ہے۔
چوں کہ نو عمری زندگی کا ایسا مرحلہ ہے جس میں نئے احساسات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں ہمیں آپس میں تعامل کے دوران سنجیدہ اور ذمہ دار ہونا چاہیے، چاہے وہ ذاتی سطح پر ہو یا سوشل میڈیا پر ۔ یہی وہ وقت ہے جب نوجوان افراد اپنے ہمسروں کی طرف کشش محسوس کرتے اور اُن کے رویہ کی نقل کرتے ہیں۔ اب وہ اکثر ایک دوسرے سے آن لائن تعامل کرتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی نے معلومات حاصل کرنے، رابطے قائم کرنے، تعامل کرنے اور معلومات میں ایک دوسرے سے اشتراک کرنے کے لیے سب کو آن لائن پلیٹ فارم دستیاب کرائے ہیں۔ ہمیں سب کی اجتماعی بہبود کے لیے ان پلیٹ فارموں کا استعمال ذمہ داری سے کرنا چاہیے بعض اوقات هم دانستہ یا نادانستہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال لا پرواہی سے کرتے ہیں۔ اپنے بڑوں اور اساتذہ سے مشورہ ان پلیٹ فارموں کے مثبت استعمال میں مدد گار ہو سکتا ہے۔
سائبر ہرا۔ سائبر ہراسانی میں گمراہ کن پیغامات بھیج کر ، جھوٹی افواہیں پھیلا کر یا بغیر اجازت ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر کے، دوسروں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے فون، کمپیوٹر یا آن لائن پلیٹ فارم جیسے ڈجیٹل آلات کا استعمال شامل ہے (شکل 6.4) ۔ تاہم اگر کوئی شخص آپ کو ہراساں کرنے کی کوشش کرے تو آپ ہرگز خوفزدہ نہ ہوں اور نہ ہی خود کو بے سہارا محسوس کریں بلکہ اس صورت حال کا عقل مندی سے مقابلہ کریں اور والدین اور اساتذہ کی مدد لیں۔ اس کے علاوہ آن لائن کوئی تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے اجنبیوں کو ذاتی معلومات دیتے ہوئے آپ کو محتاط رہنا چاہیے۔
سرگرمی 6.4: آیئے بیداری پھیلائیں
سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ رویوں کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں پوسٹر اور پمفلٹ وضع کرنے کے لیے گروپ کی شکل میں کام کریں اور اسکول میں مقررہ مقامات پر انھیں چسپاں کریں۔ اس کے علاوہ اپنے اجتماعی مشاہدات کی بنیاد پر جدول 6.4 کویر کریں۔
جدول 6.4 سوسئل میڈیا کو استعمال کرنے کے دوران کیا کریں اور کیا نہ کریں
6.4.5 مضر چیزوں سے بچنا۔ انکار کرنا سیکھیں
بعض افراد جن میں آپ کا ہمسر بھی شامل ہے آپ کو مضر اشیا مثلاً تمباکو، گٹکا، سگریٹ، بیڑی یا یہاں تک کہ زندگی کے لیے مہلک غیر قانونی نشیلی دوائیں استعمال کرنے کے لیے لالچ دے سکتا ہے، ترغیب دے سکتا ہے، مجبور کر سکتا ہے یا آپ پر دباؤ بنا سکتا ہے۔ چوں کہ تجسس اور جو شیلا پن نوجوانی کی خصوصیات میں سے ہیں نو جوان افراد شاید ایسے افراد کے اثر میں آکر اس طرح کی چیزوں کا ذائقہ آزمائیں۔
یہ اشیا نہ صرف جسمانی اور دماغی صحت کے لیے مضر ہیں بلکہ وہ نشے کا عادی بھی بنا دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب ان کا استعمال کرنے لگتے ہیں تو انھیں بار بار استعمال کرنے کی شدید خواہش ان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اُس کا پابندی سے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اسے نشیلی چیزوں کا بے جا استعمال کہتے ہیں۔
ان اشیا کا استعمال صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ مثلاً نشیلی چیز کے اعتبار تنفسی دشواریاں، یاد داشت کا ختم ہو جانا اور پھیپڑوں کی خرابی (شکل 6.5) صحت مند رہنے کے لیے مکمل طور پر ان اشیا سے پر ہیز کرنا اور اس کے بجائے صحت مند انتخابات کرنا ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ انکار کرنے کے فیصلے پر یقین اور اعتماد سے قائم رہیں۔
منشیات کی لت پر قابو پانے کی سمت میں پہلا قدم خاندان کے افراد اور دوستوں سے مدد اور تعاون حاصل کرنا ہے اور معتبر افراد مثلاً والدین اور اساتذہ سے بات کرنی ہے۔ صلاح کاری اور طبی مشورے بھی ان ہے اور حالات سے نمٹنے میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی صحت اور آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ سوچ سمجھ کر انتخاب کریں۔
نشہ مکت بھارت ابھیان
نشہ مکت بھارت ابھیان کا آغاز وزارت سماجی انصاف و استحکام، حکومت ہند نے کیا تھا۔ اس کا مقصد نوجوانوں، خواتین خو اور معاشرے کی فعال شرکت کے ذریعے نشیلی دواؤں کے استعمال سے پر ہیز کے موضوع پر عوام تک پہنچنا اور بیداری پھیلانا ہے۔ اس کی خصوصی توجہ ابتدائی عمر کے بچوں میں نشیلی دواؤں کے استعمال کو روکنا ہے۔ حکومت نے نشیلی دواؤں کی لت سے نمٹنے اور نشیلی دواؤں کے عادی افراد کی مدد کے لیے نیشنل ڈی اڈکشن ہیلپ لائن نمبر 14446 کھولا ہے۔
6.5 نوجوانی کے لیے کیوں والے سوالات
ہارمون نشو و نما اور ارتقا کے مختلف پہلوؤں کی ضابطہ بندی کے لیے اہم کردار ادا کر کے جسم کی درست کار کردگی میں معاون ہوتے ہیں۔ وہ جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہوتے ہیں اور دماغ سے موصول ہونے والے اشاروں کے جواب میں موزوں وقت پر ان کا اخراج ہوتا ہے۔ بعض ہارمون مزاجی کیفیت اور رویوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
باخبر رہ کر، ضرورت پڑنے پر مدد اور رہنمائی فراہم کر کے اور صحت مند فیصلے کر کے اپنی آئندہ زندگی کی مضبوط بنیاد کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
خلاصه
- نوجوانی، بچپن سے بلوغت میں تبدیلی کا زمانہ ہے۔ یہ تقریباً 10 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے اور عموماً 19 سال تک رہتا ہے۔
- نمایاں اور مخصوص جسمانی ، حیاتیاتی اور جذباتی تبدیلیاں نوجوانی کی علامات ہیں۔
- نر اور مادہ میں امتیاز کرنے میں مدد گار لیکن تولید میں براہ راست شامل نہ ہونے والی خصوصیات کو ثانوی جنسی خصوصیات کہا جاتا ہے۔
- بلوغت وہ مرحلہ ہے جس میں کسی بچے کے جسم میں قابل تولید بالغ فرد بننے کے لیے قابل مشاہدہ اور داخلی تبدیلیاں ظاہر ہوتی ہیں۔
- لڑکیوں میں بھی نوجوانی کے آغاز کی علامت حیض کا شروع ہونا ہے جس کے دوران عموماً ہر 28-30 دن پر خون کا اخراج ہوتا ہے۔ اس عمل کو ماہواری کہتے ہیں۔ ماہواری کی شروعات آثار بلوغت سے ہوتی ہے اور عموماً 45-55 سال کی عمر پر ختم ہوتی ہے۔
- نوجوانوں کو بہت سی جذباتی اور رویہ جاتی تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے۔
- متوازن اور صحت بخش خوراک کھانا، اچھی ذاتی صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنا اور جسمانی سرگرمیوں میں شرکت صحت مند بنے رہنے میں نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں۔
- نشے کا عادی بنانے والی چیزیں مثلاً تمباکو ، شراب اور نشیلی دواؤں کا جسم اور دماغ پرمنفی اثر پڑتا ہے۔ ان چیزوں کے استعمال سے انکار کرنے اور ان سے دور رہنے میں ہی عقل مندی ہے۔
- نوجوانی کے دوران جسم میں رونما ہونے والی تبدلیاں بنیادی طور پر جسم میں بننے والے بعض کیمیائی مادوں سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ ان کیمیائی مادوں کو ہارمون کہتے ہیں۔
- موزوں رہنمائی اور بیداری جسمانی، جذباتی اور رویہ جاتی تبدیلیوں پر مؤثر انداز میں قابو پانے میں نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- 11 سال کے ایک بچے رمیش کے چہرے پر پھنسیاں نکل آئیں۔ رمیش کی ماں نے اُسے بتایا کہ یہ اس کے جسم میں جاری حیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
- اُس کے چہرے پر ان پھنسیوں کے نکلنے کے ممکن اسباب کیا ہو سکتے ہیں؟
- وہ ان پھنسیوں سے کچھ آرام پانے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟
- نوجوانوں کے لیے مندرجہ ذیل غذائی زمروں میں سے کون ساز مرہ بہتر انتخاب ہو گا؟
- مندرجہ ذیل جملوں میں خط کشید لفظ کو درست ترتیب میں لکھیں :
- نوجوان لڑکیوں میں عموماً ہر 28-30 دن پر خارج ہونے والے خون کو ہ اوم یار کہتے ہیں۔
- ل ق ح وصت بڑھ جانے کی وجہ سے نوجوان لڑکوں کی آواز بیٹھی ہوئی لگتی ہے۔
- ثانوی جنسی خصوصیات اس بات کی فطری علامات ہیں کہ جسم بلوغت کے لیے تیار ہو رہا ہے اور ن س ل ب غ و ( آغاز بلوغت کی نشان دہی کرتی ہیں۔
- ہمیں اش براورڈگس کا استعمال ترک کرنا چاہیے کیوں کہ وہ لت پیدا کرنے والی چیزیں ہیں۔
- شالو نے اپنی سہیلی کو بتایا ” نو جوانی صرف جسمانی تبدیلیاں لاتی ہے مثلاً لمبائی بڑھنا یا جسم پر بال اُگنا“ کیا اس کی بات درست ہے؟ نوجوانی سے متعلق اس بیان میں آپ کس طرح کی تبدیلیاں چاہیں گے۔
- کلاس میں ایک مباحثے کے دوران بعض طلبا نے مندرجہ ذیل نکتے اُٹھائے۔ ان نکتوں کی درستگی جا درستگی جانچنے کے لیے آپ کون سے سوالات پوچھیں گے؟
- نوجوانوں کو رویہ جاتی تبدیلیوں کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
- اگر کوئی شخص ایک بار کوئی مضر نشیلی دوا استعمال کرے تو وہ جب چاہے اس کا استعمال روک سکتا ے۔
- نوجوانوں کو بعض اوقات مزاجی کیفیت میں تبدیلیوں کا احساس ہوتا ہے۔ کسی دن وہ بہت چست و توانا اور خوش تو کسی دن بہت نڈھال اور اداس لگتے ہیں۔ اس عمر کے ساتھ کون سی دیگر رویہ جاتی تبدیلیاں وابستہ ہیں۔
- ایک بیت الخلا کو استعمال کرتے ہوئے موہنی نے محسوس کیا کہ کوڑے دان کے قریب استعمال شدہ سینٹری پیڈ بکھرے ہوئے ہیں۔ اُسے دیکھ کر افسوس ہوا اور اُس نے یہ بات اپنی سہیلیوں کو بتائی۔ اُنھوں نے دوران حیض حفظانِ صحت اور صفائی ستھرائی کی صحت مند عادات پر تبادلہ خیال کیا۔ آپ اپنے دوستوں کو دوران حیض حفظانِ صحت اور صفائی سے متعلق کسی قسم کی عادات تجویز کریں گے؟
- میری اور منوج ہم جماعت اور اچھے دوست تھے ۔ 11 سال کی عمر کو پہنچنے پر میری کی گردن کے سامنے کے حصے پر ابھار ظاہر ہو گیا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گئی جس نے اُسے آیوڈین سے بھر پور خوراک کھانے کے لیے کہا۔ اسی طرح جب منوج کی عمر 12 سال کی ہوئی تو اُس کی گردن پر ابھار ظاہر ہو گیا۔ تاہم ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ نشو و نما کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ آپ کے مطابق میری اور منوج کو الگ الگ مشورہ دینے کی ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
- نوجوانی کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں میں بعض جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
- آواز میں تبدیلی
- پستانوں کا بڑا ہونا
- مونچھوں کا اگنا
- چہرے پر بالوں کا اگنا
- چہرے پر پھنسیاں نکلنا
- پوشیدہ مقامات پر بالوں کا اگنا
- بغلوں میں بالوں کا اگنا
- نوجوانوں کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنانے کے لیے اشارے دیتے ہوئے ایک پوسٹر تیار کریں۔
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- بعض شخصیات اور تنظیموں کے بارے میں جانیں جو نوجوانوں کی ذہنی صحت کی بہتری کے لیے آپ کے علاقے میں کام کرتے ہوں۔ ایسے کم از کم پانچ سوالات درج کریں جو اُن سے انٹرویو میں آپ پوچھیں گے۔
- بچوں کی شادی : ایک سماجی برائی کے موضوع پر رول پلے کر کے اس نکتے کو اجاگر کریں کہ یہ بچوں کی مجموعی تندرستی، خصوصاً کم عمر لڑکیوں کی صحت پر کس طرح منفی اثر ڈالتی ہے۔
- 21 جون کو بین الاقوامی یوم یوگ منایا جاتا ہے۔ اپنے اساتذہ کی مدد سے ایک چھوٹے سے کیمپ کا اہتمام کریں اور کچھ آسنوں کی مشق کریں۔