7
نوعمری: نشود نما اور تبدیلی کا ایک مرحلہ
(Adolescence: A Stage of Growth and Change)
پیما اور اس کا بھائی پالدین گینگٹوک میں رہتے ہیں موسم سرما کی سرد شام ہے۔ وہ ایک آتشی الاؤ کے اردگرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ پالدین موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران کیرالا کے سفر کے اپنے تجربات کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گینگٹوک کے مقابلے میں کیرلا میں سردی کا موسم مقابلتاً گرم اور مرطوب ہوتا ہے۔ پیا اور پالدین دونوں اس بارے میں بہت زیادہ تنجس ہیں کہ بعض مقامات اتنے سرد اور بعض بہت زیادہ گرم کیوں ہوتے ہیں؟
انھیں اپنے تجسس کا اظہار کرتے ہوئے سن کر ان کے داد ا جو ایک ریٹائر ڈ سائنس ٹیچر ہیں، کہتے ہیں ”سکم کے مقابلے، کیر الاخط استوا کے قریب ہے اور اس کا ایک طویل خط ساحل بھی ہے جس کی وجہ سے یہاں کا موسم زیادہ گرم اور مرطوب ہوتا ہے، پالدین جواب دیتا ہے، ”جی ، ہم نے گریڈ 6 کی سائنس اور سوشل سائنس کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ہمارے لیے زمین پر حرارت اور روشنی کا اہم ذریعہ سورج ہے اور خط استوا کے قرب وجوار میں آب و ہوا عام طور پر گرم ہوتی ہے۔“
جب وہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو پیما اپنی دادی کو ایک بڑے دھاتی برتن میں تھکیا (سکم کا ایک روایتی پکوان) پکاتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ پیا پو چھتی ہے ” کھانا پکانے کے برتن عام طور سے دھات کے کیوں ہوتے ہیں؟“ پالدین نے فورا جواب دیا کہ اس نے باب دھاتوں اور غیر دھاتوں کی دنیا ، میں پڑھا ہے کہ اس قسم کے مواد حرارت کے اچھے موصل ہوتے ہیں۔
آئیے ایک سرگرمی انجام دے کر ہی معلوم کریں کہ کچھ مواد حرارت کے عمدہ موصل کیوں ہوتے ہیں؟
7.1 حرارت کا ایصال(Conduction of Heat)
سرگرمی 7.1 : آئیے تجربہ کریں
انتباه - اس سرگرمی کو کسی استاد یا بالغ فرد کی نگرانی میں انجام دیا جائے۔
- ایلومینیم یا لو ہے جیسی دھات کی تقریباً 15 سینٹی میٹر لمبی پٹی لیں۔
- دھاتی پٹی پر موم کی مدد سے چارپن اس طرح لگائیں کہ وہ ایک دوسرے سے مساوی فاصلے ( تقریبا 2cm) پر ہوں جیسا کہ شکل 7.1 میں دکھایا گیا ہے۔
- دھاتی پٹی کو کسی اسٹینڈ میں لگائیں اور پنوں کی نشان دہی ، | || ||| اور ۱۷ کے طور پر کریں جیسا کہ شکل 7.1 میں دکھایا گیا ہے۔ (اگر آپ کو کوئی اسٹینڈ نہ ملے تو اس چھڑ کو دو اینٹوں کے درمیان رکھ دیں)
- موم بتی یا اسپرٹ لیمپ کی مدد سے پٹی کے اس سرے کو گرم کریں جو اسٹینڈ سے دور ہے
- پنوں کا کیا ہو گا؟ کیا وہ پٹی سے چپکی رہیں گی یا گر جائیں گی ؟
- پٹی سے پنوں کے گرنے کی ترتیب کا اندازہ لگائیں۔
- اپنے مشاہدات کو جدول 7.1 میں درج کریں۔
جدول 7.1 : پنوں کا گرنا
آپ نے دیکھا کہ موم بتی کی لو کے سب سے نزدیک والی پن (پین (1) سب سے پہلے گرتی ہے، اس کے بعد پین ۱۱، ۱۱۱ اور ۱۷ گرتی ہیں۔ پنا پن 11 سے پہلے کیوں گرتی ہے۔ سبھی پہنیں ایک ساتھ کیوں نہیں گرتیں؟
اپنے مشاہدات سے آپ کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ جس سرے کو گرم کیا گیا ہے وہاں سے حرارت دھاتی پٹی میں منتقل ہو رہی ہے ؟ جیسے جیسے حرارت ، دھاتی پیٹی سے گزرتی ہے اور ان کے پاس پہنچتی ہے اسے چپکانے والا موم پگھل جاتا ہے اور بین گر جاتی ہے ۔ یہاں حرارت کی منتقلی پٹی کے گرم سرے سے ٹھنڈے سرے کی جانب ہوتی ہے۔ کسی چیز کے گرم حصے سے ٹھنڈے حصے کی طرف حرارت کی منتقلی کا عمل ایصال (conduction) کہلاتا ہے۔ اس عمل میں جو ذرہ گرم ہو جاتا ہے وہ پڑوسی ذرے کو حرار منتقل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تاہم ذرات بذات خود اپنے مقام پر ہی رہتے ہیں۔ دھات جیسے مواد جو حرارت کو اپنے اندر سے بہ آسانی گزرنے دیتے ہیں حرارت کے عمدہ موصل کہلاتے ہیں۔ چوں کہ دھاتیں حرارت کی عمدہ موصل ہیں۔ اس لیے ہم کھانا کھانے کے لیے دھاتوں سے بنے ہوئے برتنوں کا استعمال کرتے ہیں ٹھوس اشیا میں حرارت کی منتقلی خاص طور سے عمل ایصال (Conduction) کے ذریعے ہوتی ہے۔
اگر ہم سرگرمی 7.1 کو انجام دینے کے لیے دھاتی پٹی کی جگہ لکڑی یا شیشے جیسے مواد سے بنی ہوئی پٹی کا استعمال کرتے ہیں تو پہیں نہیں گریں گی۔ کیا آپ باب دھاتوں اور غیر دھاتوں کی دنیا کے مطالعے کی بنیاد پر اس کی وجہ سوچ سکتے ہیں؟
شیشہ اور لکڑی جیسے مواد حرارت کو اپنے اندر سے بہ آسانی گزرتے نہیں دیتے اور یہ حرارت کے کمزور موصل ( حاجز ) ہوتے ہیں میٹی اور پورسلین ؟ ن بھی حرارت کے کا کے کمزور موصل ہیں۔ اسی لیے مٹی یا پورسلین کی پیالیوں میں چائے اور کافی بہت دیر تک گرم رہتی ہے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ ہم کھانا پکانے کے برتنوں میں عام طور پر دھاتوں کا استعمال کیوں کرتے ہیں جبکہ چائے یا کافی پینے کے لیے کی یا پورسلین کی پیالیاں استعمال کرتے ہیں۔
اپنے آس پاس موجود کچھ مواد کی فہرست بنائیں اور جدول 7.2 میں ان کی درجہ بندی حرارت کے عمدہ یا کمزور موصل کے تحت کریں۔
جدول 7.2 حرارت کے عمدہ اور کمزور موصل کی فہرست
کیا آپ نے اپنی فہرست میں ہوا کو شامل کیا ہے ؟ اگر یہ آپ کی فہرست میں ہے تو آپ نے اسے کس طرف رکھا ہے؟
آپ کو اس بات کا ضرور تجربہ ہو گا کہ سردی کے دوران ہم خود کو گرم رکھنے کے لیے اونی کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں۔
اونی کپڑے ہوا کو اپنے مسامات کے اندر قید کر لیتے ہیں اور چوں کہ ہوا حرارت کی کمزور موصل ہے ۔ یہ ہمارے جسم سے ہمارے اطراف میں حرارت کے بہاؤ کو کم کر دیتی ہے۔ نتیجتاً ہمیں گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ اسی طرح کپڑوں کی پرتوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہو ا حرارت کے کمزور موصل کے طور پر کام کرتی ہے اور ہمیں گرم رکھتی ہے۔ دو پتلے کمبلوں کے درمیان ہوا کی موجودگی کی وجہ سے ہی ہم خود کو گرم رکھنے کے لیے ایک موٹے کمبل کے بجائے دو پتلے کمبلوں کو ترجیح دیتے ہیں ( شکل 7.2 )-
کیا ایسے گھر بنانا ممکن ہے جو باہر کی گرمی اور سردی سے بہت زیادہ متاثر نہ ہوں؟ بہت زیادہ گرم یا سرد آب و ہوا والے مقامات پر بنائے جانے والے گھروں کو ٹھنڈایا گرم رکھنے کے لیے اکثر منتقل حرارت کے تصور کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔
اتراکھنڈ میں اتر کاشی کے موری بلاک جیسے ہمالیہ کے اونچے علاقوں میں موسم سرما کے دوران انتہائی سرد آب و ہوا اور بھاری برف باری دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں عام طور سے گھر اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ وہ سردیوں کے دوران گرم رہیں۔ ان گھروں کی دیواریں لکڑی کی دو پرتوں سے بنی ہوتی ہیں جن کے درمیان مٹی اور گائے کا گو بر بھرا ہوتا ہے۔ چوں کہ مٹی اور لکڑی حرارت کے کمزور موصل ہیں، لہذا یہ حرارت کے نقصان کو روکتی ہیں اور گھروں کو گرم رکھتی ہیں۔
دھواں او پر کیوں جارہا ہے؟
ایسے بھی گھر ہیں جن کی باہری دیوار میں کھو کھلی اینٹوں سے بنی ہیں جو انھیں سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھوکھلی اینٹوں میں پھنسی ہوا حرارت کی کمزور موصل ہے۔ پیمانے پالدین کی توجہ جلتی ہوئی لکڑیوں سے اٹھ رہے دھویں کی طرف مبذول کرائی جن کے ارد گرد وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔
7.2 حمل حرارت (Convection)
یہ سمجھنے کے لیے کہ دھواں او پر کیوں اٹھتا ہے آئیے ایک سرگرمی انجام دیتے ہیں۔
سرگرمی 7.2: آئیے تفتیش کریں
- دو ایک جیسی کاغذ کی پیالیاں لیں۔
- مساوی لمبائی کے دھاگوں کی مدد سے انھیں لکڑی کی چھڑی کے دونوں سروں پر الٹا کر کے لڑکائیں جیسا کہ شکل 7.32 میں دکھایا گیا ہے۔
- اب پیالیوں کو اس طرح ترتیب دیں کہ لکڑی کی چھڑی افقی حالت میں رہے۔ ۔
- ان میں سے کسی ایک پیالی کے نیچے جلتی ہوئی موم بتی رکھیں جیسا کہ شکل 7.36 میں دکھایا گیا ہے۔
- مشاہدہ کریں کہ پیالی کا کیا ہوتا ہے ؟
- اپنے مشاہدات کو جدول 7.3 میں درج کریں اور ممکنہ وجوہات پر غور کریں۔
جدول 7.3 : مشاہدات اور ممکنہ وجوہات کو درج کرنا
آپ نے دیکھا کہ جس پیالی کے نیچے موم بتی کو رکھا تھا وہ اوپر اٹھ جاتی ہے۔ شکل ( 7.3 ) ۔ ایسا کیوں ہوا؟ موم بتی کی لو کے آس پاس کی ہوا گرم ہو جاتی ہے۔ جب پیالی کے اندر ہوا گرم ہوتی ہے تو وہ پھیلنے لگتی ہے اور زیادہ جگہ گھیرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہلکی ہو جاتی ہے اور اوپر اٹھنے لگتی ہے۔
آپ جزوی طور پر پھولے ہوئے غبارے کو دھوپ میں گرم کر کے ہوا کے پھیلنے کو محسوس کر سکتے ہیں ( شکل 7.4) غبارے کے اندر موجود ہوا گرم ہو کر پھیلتی ہے اور غبارہ بڑا ہو جاتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب اگر بتی جلاتے ہیں تو دھواں اوپر اٹھتا ہے۔ دھواں گرم گیسوں اور مہین ٹھوس ذرات کا آمیزہ ہے جو کسی چیز کے جلنے کے دوران خارج ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ آس پاس کی ہوا کے مقابلے گرم ہوتا ہے، اس لیے اوپر اٹھتا ہے۔
آیئے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دے کر یہ معلوم کریں کہ رقیق اشیا میں حرارت کسی طرح منتقل ہوتی ہے ؟
سرگرمی 7.3: آئیے معلوم کریں
انتباه- اس سرگرمی کو کسی استاد یا بالغ فرد کی نگرانی میں انجام دیا جائے ۔
- 500 ملی لیٹر گنجائش کا ایک بیکر لیں ، اس میں نصف حصے تک پانی بھر میں جیسا کہ شکل 7.5 میں دکھا۔ گیا ہے۔
- اسٹرا کی مدد سے بیکر کے پیندے کے مرکز میں پوٹاشیم پر میگنیٹ کا ایک دانہ رکھیں۔
- بیکر کے پیندے کے مرکز کے ٹھیک نیچے ایک موم بتی رکھیں۔
- پانی میں رنگین لکیر (دھاری) کی حرکت کا مشاہدہ کریں۔
- جیسے ہی آپ حرارت فراہم کرتے ہیں ، رنگ کی ایک باریک لکیر اوپر کی طرف اٹھنے لگتی ہے اور پھر کناروں سے نیچے آجاتی ہے شکل (7.5b)۔
رنگین پانی کی لکیر بیچ میں سے اوپر کیوں اٹھتی ہے اور کناروں سے نیچے کیوں آتی ہے؟ بیکر کے کے پیندے کا پانی گرم ہو جاتا ہے۔ یہ پھیلتا ہے، ہلکا ہو جاتا ہے اور اوپر اٹھتا ہے۔ بیکر کے کناروں پر پانی مقابلتاً ٹھنڈا اور بھاری ہوتا ہے اور اوپر اٹھنے والے پانی کی جگہ لینے کے لیے نیچے آتا ہے ، اب یہ پانی بھی گرم ہو جاتا ہے اور نتیجتا او پر بھی اٹھتا ہے۔
یہ دو ر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ برتن کا سارا پانی گرم نہیں ہو جاتا۔ اس معاملے میں سارا پانی آبی ذرات کی حقیقی حرکت کی وجہ سے گرم ہو جاتا ہے۔ حرارت کی منتقلی کا ری میل حمل حرارت (convection) کہلاتا ہے۔ حمل حرارت کی وجہ سے ہی ہمیں بیکر کے اندر رنگین لکیر کی حرکت کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
چناں چہ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پانی ، ہوا کی طرح حمل حرارت کے ذریعے گرم ہوتا ہے۔ یہاں حرارت کی منتقلی رقیق اور کیسی اشیا کے ذرات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک حقیقی حرکت کے ذریعے ہوتی ہے۔
7.2.1 نسیم بری اور نسیم بحری (Land and sea Breeze)
پالدین نے موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران کیرالہ کے ایک ساحل پر جانے کا اپنا تجر بہ بیان کرتے ہوا کہا، دن کے وقت ساحل کے نزدیک والی ریت یا مٹی سمندر کے پانی کے مقابلے زیادہ گرم ہوتی ہے۔ تاہم رات کے وقت ریت یا مٹی پانی کے مقابلے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ پیما جواب دیتی ہے ! ہاں مختلف اشیا مختلف انداز سے گرم اور ٹھنڈی ہوتی ہیں۔“
آئیے ایک سرگرمی انجام دے کر جانچ کریں کہ زمین اور پانی کس طرح گرم ہوتے ہیں۔
سرگرمی 7.4: آئیے تفتیش کریں
انتباہ- اس سرگرمی کو کسی استاد یا بالغ فرد کی نگرانی میں صاف اور دھوپ والے دن انجام دیا جائے۔
- ایک جیسے دو پیالے لیں جیسا کہ شکل 7.6 میں دکھایا گیا ہے۔
- ایک پیالے میں آدھے حصے تک مٹی اور دوسرے پیالے میں آدھے حصے تک پانی بھریں۔
- ہر ایک پیالے میں ایک تجربہ گا ہی تھرما میٹر لگائیں جیسا کہ شکل 7.6 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ یقینی بنائیں کہ تھرما میٹر کا بلب مٹی اور پانی میں ڈوبا رہے۔ پیالوں کے پیندے اور دیواروں کو نہ چھوئیں۔
- اس سیٹ اپ کو دھوپ میں رکھ دیں۔
- ہر پانچ منٹ بعد مٹی اور پانی کے درجہ حرارت کی پیمائش کریں اور اعداد و شمار کو جدول 7.4 میں درج کریں۔
جدول 7.4 گرم ہونے پر مٹی اور پانی کا درجہ حرارت
- پانی اور مٹی کے درجہ حرارت میں اضافے کا مطالعہ کریں۔ اور درجہ
- کیا ایک ہی مدت میں مٹی اور پانی دونوں کے درجہ حرارت میں یکساں اضافہ ہوا۔
- اگر ایسا نہیں ہے تو کون سا زیادہ تیزی سے گرم ہوا ؟
- 20 منٹ میں مٹی اور پانی کے درجہ حرارت میں کتنا اضافہ ہوا ؟
20 منٹ کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پانی کے مقابلے مٹی کے درجہ حرارت میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کے مقابلے مٹی زیادہ تیزی سے گرم ہوتی ہے۔
کیا مٹی، پانی کے مقابلے ٹھنڈی بھی زیادہ تیزی سے ہوتی ہے ؟
مٹی اور پانی کے گرم ہو جانے کے بعد ، سیٹ اپ کو گھر کے اندر لے جائیں اور 20 منٹ تک ٹھنڈا ہونے دیں ۔ آپ مشاہدہ کریں گے کہ مٹی ، پانی کے مقابلے تیزی سے ٹھنڈی ہوتی ہے بالکل اسی طرحجیسے یہ تیزی سے گرم ہوتی ہے۔
زمین اور پانی کے گرم اور ٹھنڈا ہونے کی شرح مختلف ہونے کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک دل چسپ صورتحال کا تجربہ ہوتا ہے۔ دن کے وقت پانی کے مقابلے زمین تیزی سے گرم ہوتی ہے ، نتیجے کے طور پر زمین کے اوپر کی ہوا گرم ہو کر اوپر کو اٹھتی ہے۔ اس کی وجہ سے سمندر کی ٹھنڈی ہواز مین کی طرف آتی ہے ۔ سمندر سے زمین کی طرف ٹھنڈی ہوا کی یہ حرکت نیم بحری (sea breeze) کہلاتی ہے ( شکل 7.7a) ۔ اس لیے گرم علاقوں میں نیم بحری کی وجہ سے لوگوں کو گرمی سے نجات ملتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ساحلی علاقوں میں گھروں کی کھڑکیوں کو سمندر کے رخ پر رکھا جاتا ہے۔
رات کے وقت صورت حال بالکل برعکس ہو جاتی ہے۔ دھوپ کی غیر موجودگی میں، زمین، سمندری پانی کے مقابلے بہت تیزی سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ نتیجتا سطح سمندر کی ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے۔ زمین سے ٹھنڈی ہوا سمندر کی طرف چلنے لگتی ہے جس سے نیم بری (land breeze) کی تشکیل ہوتی ہے۔ (شکل 7.7b)۔
چناں چہ سمندری ساحل کے نزدیک رہنے والے لوگوں کو اس بات کا تجربہ ہے کہ دن اور رات کے وقت ہوا کا رخ بدل جاتا ہے۔
7.3 اشعاع (Radiation)
کیا آپ کو یاد ہے جب پیا اور پالدین چمنی کے قریب بیٹھے تھے ۔ وہ خود کو گرم محسوس کر رہے تھے۔
ان کے دادا انھیں بتاتے ہیں کہ اس صورت میں حرارت کی منتقلی آگ ( گرم شے) سے ہم تک براہ راست ہوتی ہے۔ حرارت کی منتقلی کے اس عمل کو اشعاع (radiation) کہتے ہیں- سورج کی گرمی ہم تک اسی عمل کے ذریعے پہنچتی ہے؟ اشعاع کے ذریعے حرارت کی منتقلی کے لیے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سبھی اشیا حرارت کا اشعاع کرتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ لو سے دور رکھا ہوا گرم بر تن کچھ دیر کے بعد ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ گرم بر تن اپنے اطراف میں حرارت کا اشعاع کر کے ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
ہم گرمی کے موسم میں سفید یا ہلکے رنگ کے کپڑے اور سردی کے موسم میں گہرے رنگ کے کپڑے پہن کر زیادہ آرام کیوں محسوس کرتے ہیں ؟
ہلکے رنگ کے کپڑے اس حرارت کے اکثر حصے کو منعکس کر دیتے ہیں جو ان پر پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے گرمی کے موسم میں ہلکے رنگ کے کپڑے زیادہ آرام دہ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، گہرے رنگ کی سطحیں زیادہ حرارت جذب کرتی ہیں، اسی لیے ہم سردی کے موسم میں گہرے رنگ کے کپڑے پہن کر زیادہ آرام محسوس کرتے ہیں۔
ہماری روز مرہ کی زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں ہم ایصال ، حمل حرارت اور اشعاع کا بہ یک وقت مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
پانی کو گرم کیے جانے کے ایک معاملے پر غور کریں جیسا کہ شکل 7.5 میں دکھایا گیا ہے۔ آئیے ان مختلف طریقوں کی شناخت کریں جن سے برتن اور پانی گرم ہوتا ہے ، ساتھ ہی اس طریقے کی بھی نشان دہی کریں جس کے ذریعے بھی ہم لو اور گرم بر تن کے آس پاس گرماہٹ محسوس کرتے ہیں۔ لو سے برتن میں ایصال کے ذریعے حرار منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بعد حمل حرارت کے ذریعے برتن کا پانی گرم ہو جاتا ہے۔ لو اور گرم بر تن کے آس پاس جو گرماہٹ ہمیں محسوس ہوتی ہے وہ اشعاع کی وجہ سے ہے۔
اب تک کی سرگرمیوں، مثالوں اور مباحث کے نتیجے میں ہمیں ہی معلوم ہوا کہ ایسے تین عمل ہیں جن کے ذریعے حرار منتقل ہوتی ہے۔ یہ عمل ایصال ، حمل حرارت اور اشعاع ہیں۔
- ایصال میں کوئی چیز اس وقت گرم ہوتی ہے جب ایک ذرہ حرارت کو حاصل کرتا ہے اور اسے رابطے میں آنے والے اگلے ذرے کو منتقل کر دیتا ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہتا ہے، جب کہ ذرات اپنی جگہ پر ہی قائم رہتے ہیں۔
- حمل حرارت میں حرارت کی منتقلی ذرات کی حقیقی حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
- غور کریں کہ ایصال اور حمل حرارت کے لیے ایک ایسا وسیلہ ضروری ہے جس کے ذرا منتقل حرارت میں معاون ہوں۔
- اشعاع کے معاملے میں حرارت ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتی ہے اور اس کی منتقلی کے لیے کسی مادی وسیلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہمالیائی علاقوں کے بلند و بالا مقامات پر سردی کے موسم میں کمروں کو گرم رکھنے کے لیے ایک روایتی روم ہیٹر استعمال کیا جاتا ہے جسے مقامی طور پر بخاری ( bukhari) کہتے ہیں۔ اس میں ایک لوہے کا چولہا ہوتا ہے جس میں لکڑی یا چار کول جلاتے ہیں۔ ہیٹر کے بالائی حصے سے ایک لمبا پائپ جڑا ہوتا ہے جو چمنی کے طور پر کام کرتا ہے اور دھوئیں کو باہر نکالتا ہے۔ اس کے علاوہ ، بخاری کا استعمال کھانا پکانے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ اس کا اوپری حصہ سپاٹ ہوتا ہے اور برتن رکھنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ جب کھانا پکانے اور کمرہ گرم کرنے کے لیے اس آلے کا استعمال کیا جاتا ہے تو منتقل حرارت کے تینوں بھی عمل واقع ہوتے ہیں۔
آپ نے گریڈ 6 کی سائنس کی درسی کتاب تجسس میں پڑھا ہے کہ زمین کے لیے حرارت کا بنیادی ذریعہ سورج ہے۔ آپ نے گھر میں اپنے والدین کو کسی رسی یا تار پر گیلے کپڑے سکھاتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ دھوپ والے دن گیلے کپڑے جلدی سوکھ جاتے ہیں کیوں کہ سورج کی گرمی سے پانی کی تبخیر تیزی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ سورج کی گرمی پانی کی تبخیر میں ایک اہم رول ادا کرتی ہے، خواہ وہ رسی پر سوکھنے والے کپڑوں سے ہو یا سمندروں اور جھیلوں جیسے آبی ذخائر سے۔ آئیے اسے مزید تفصیل سے سمجھنے کے لیے آبی گردش کے مظہر پر غور کریں۔
7.4 آبی گردش (Water Cycle)
آپ نے گریڈ 6 کی سائنس کی درسی کتاب تجسس میں یہ بھی پڑھا ہے کہ قدرتی ماحول میں پانی تین حالتوں میں موجود ہے، رقیق شکل میں یہ زمین پر موجود سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں میں بھرا ہے ٹھوس شے کے طور پر یہ پہاڑوں اور قطبی علاقوں میں برف ہوا، برفیلی پرتوں اور گلیشیروں کی تشکیل کرتا ہے۔ بطور گیس یہ زمین کے کرہ باد میں پانی کے بخارات کی شکل میں موجود ہے۔ گرمیوں کے دوران سورج کے اشعاع کی وجہ سے کچھ برف پانی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور دریاؤں کی شکل میں بہنے لگتی ہے۔ اور بالاآخر سمندروں میں مل جاتی ہے۔ سردیوں کے دوران برف باری سے پگھلی ہوئی برف کی بھر پائی ہو جاتی ہے۔
سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کا پانی دھوپ کی وجہ سے گرم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً تبخیر ہو کر آبی بخارات کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ درختوں اور پودوں سے بھی سریان کے ذریعے پانی کی )transpiration( تبخیر ہوتی ہے۔ جب پانی کے بخارات او پر اٹھتے ہیں تو یہ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور تکثیف ہو کر بادلوں کی تشکیل کرتے ہیں ۔ بادل ، بارش، برف اور اولوں کی شکل میں برستے ہیں۔ اس عمل کو ترسیب (precipitation) کہتے ہیں۔
پانی کی مسلسل حرکت آبی بخارات کی شکل میں اوپر کی طرف اور ترسیب کی شکل میں نیچے کی طرف مٹی، چٹانوں اور پودوں سے گزرتے ہوئے بالآخر آبی ذخائر میں واپس لوٹنا، آبی گردش (water cycle) کہلاتی ہے ( شکل 7.9 ) ۔ اس طرح آبی گردش ، دریاؤں جھیلوں اور سمندروں میں پانی کے احیا اور اس کی باز تقسیم میں مدد کرتی ہے۔ سطح زمین پر برسنے والا بارش کا پانی بہہ کر تالابوں، جھیلوں اور سمندروں میں چلا جاتا ہے یاز مین میں رس جاتا ہے۔
ورہ مہیرا (Varahamihira) چھٹی صدی عیسوی کے ماہر فلکیات اور ریاضی داں تھے۔ ان کا تعلق مدھیہ پردیش کے انجینی ( موجودہ انجین) سے تھا۔ اپنی تصنیف 'بر بہت سمیتا (Brihatsamhita) میں انھوں نے موسی بارش کی پیشین گوئی کے طریقے تجویز کیے ہیں موسمی بارش کے متعلق ان کی پیشین گوئیاں بادلوں کی تشکیل ، ہوا کے پیٹرن، چاند اور ستاروں کے مقام جیسے عوامل اور دیگر قدرتی مظاہر پر مبنی تھیں۔
آپ نے لوگوں کو کنویں یا ہینڈ پمپ سے پانی کھینچتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ یہ وہی پانی ہے جو اس کر زمین میں چلا گیا تھا۔ آئیے ایک سرگرمی انجام دے کر یہ سمجھیں کہ زمین کی سطح سے ہو کر پانی کا رساؤ کس طرح ہوتا ہے؟
7.4.1 زیر زمین پانی کارساؤ
سرگرمی 7.5: آئیے تفتیش کریں
- ایک لیٹر گنجائش والی استعمال شدہ تین شفاف بوتلیں لیں۔
- انھیں درمیان میں سے کائیں اور ہر بوتل کے ڈھکن میں چھوٹا سا سوراخ کریں۔
- انھیں الٹا کر کے رکھیں اور پہلی بوتل میں تھوڑی سی مٹی ، دوسری میں ریت اور تیسری بوتل میں بجری ڈالیں جیسا کہ شکل 7.10 میں دکھایا گیا ہے۔
- ایک جیسے تین بیکر لیں اور ہر بوتل کے نیچے ایک بیکر رکھ دیں۔
- ہر بوتل میں 200 ملی لیٹر پانی ڈالیں۔
- ہر بوتل سے نکلنے والے پانی کی مقدار کا اندازہ لگائیں۔
- 10 منٹ تک ہر بوتل سے نکلنے والے پانی کو جمع کریں۔
- ہر بوتل سے نکلنے والے پانی کی مقدار کا موازنہ کریں۔
جدول 7.5 : پانی کارساؤ
کیا آپ کے نتائج آپ کے اندازوں سے میل کھاتے ہیں۔
آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ پانی کار ساؤ بجری سے ہو کر سب سے تیز ، ریت سے ہو کر آہستہ اور مٹی سے ہو کر بہت آہستہ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ریت اور مٹی کے مقابلے، بجری کے ذرات کے درمیان زیادہ جگہ ہوتی ہے۔ چنانچہ بحری سے ہو کر پانی آسانی سے گزر جاتا ہے۔
زمین کی سطح کے نیچے پانی کا رساؤ اسی طرح ہوتا ہے۔ میٹی اور چٹانوں سے ہو کر سطح زمین پر موجود پانی کے رساؤ کا یہ عمل آبی سرایت (infiltration) کہلاتا ہے۔ اگر مٹی اور چٹان کے ذرات کے درمیان کی جگہیں زیادہ چوڑی، کھلی ہوئی اور باہم مربوط ہوں تو آبی سرایت زیادہ تیزی سے ہوتی ہے-(شكل 7.11)-
زمین میں رہنے والا پانی سطح کے نیچے تلچھٹ کے مسامات اور چٹانوں کے دہانوں میں زیر ز میں زیر زمین پانی (ground water) کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ زیر زمین مچھٹوں کی پرتیں اور چٹانیں جو اپنے مسامات کی خالی جگہوں میں پانی کا ذخیرہ کرتی ہیں ایکویفر (aquifer) کہلاتی ہیں (شکل 7.12) ۔ یہ وہی پانی ہے جسے ہم کنویں کھود کر یا ایکویفر میں سوراخ کر کے بورویل کے ذریعے نکالتے ہیں۔ یہ پانی محل وقوع کی بنیاد پر سطح زمین کے نیچے چند میٹر سے لے کر سینکڑوں میٹر تک ہو سکتا ہے۔
حالاں کہ زیر زمین پانی لا محدود نہیں ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زیر زمین سے پانی نکالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں میں نباتات سے ڈھکا ہوار قبہ کم ہو جانے اور کنکریٹ کی سطح میں اضافے نے آبی سرایت کو محدود کر دیا ہے۔ نتیجه زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کا استعمال کیا جارہا )recharge pit( اور ریچارج گڑھوں )rain) water harvesting( ہے تا کہ زیر زمین پانی کی بازیابی ہو سکے۔ اس طرح، آبی گردش زیر زمین پانی کے ذرائع کی بھر پائی کو یقینی بناتی ہے تا کہ زیر زمین پانی کی پائیدار انداز میں فراہمی ہو سکے۔
کیوں کہ پانی کی قلت زندگی کو مشکل بنادیتی ہے لہذا لوگوں نے پانی کو بچانے کے مختلف طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ مثال کے طور پر لداخ میں لوگوں نے سردیوں میں برف کے استوپ بناکر (شکل 7.13) پانی کی بقا کا ایک اختراعی طریقہ دریافت کیا ہے۔
برف کا استوپ
لداخ میں، موسم بہار کے دوران ندی نالے اکثر خشک ہو جاتے ہیں جس سے پانی کی قلت ہونے لگتی ہے۔ کیوں کہ سورج کے اشعاع کی حرارت پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کو پگھلانے کے لیے کافی نہیں ہوتی سردیوں کے دوران پہاڑوں سے پانی کو زیر زمین پائپوں کے ذریعے نیچے لایا جاتا ہے اور پھر اس کی پھوار ہوا میں چھوڑی جاتی ہے، جب یہ نیچے گرتا ہے تو بہت کم درجہ حرارت کی وجہ سے جم جاتا ہے۔ یہ برف پرت در پرت جمع ہوتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں مخروطی کی شکل کی ایک اونچی ساخت وجود میں آتی ہے جسے برف کا استوپ کہتے ہیں جیسا کہ شکل 7.13 میں دکھایا گیا ہے۔ برف کا استوپ بہار کے موسم میں آہستہ آہستہ پگھلتا رہتا ہے جس سے گرمیوں میں زراعت اور دیگر ضرورتوں کے لیے پانی ملتا رہتا ہے۔
خلاصه
- حرارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے تین طریقے ہیں۔ ایصال ، حمل حرارت اور اشعاع ۔
- کسی شے کے گرم حصے سے ٹھنڈے حصے کی طرف منتقلی کے عمل کو ایصال کہتے ہیں۔ اس عمل میں ذرات اپنی جگہ منتقل نہیں ہوتے۔
- وہ اشیا جو اپنے اندر سے حرارت کو بہ آسانی گزر نے دیتی ہیں حرارت کی عمدہ موصل کہلاتی ہیں۔
- وہ اشیا جو اپنے اندر سے حرارت کو بہ آسانی گزر نے نہیں دیتیں حرارت کی کمز ور موصل ( حاجز ) کہلاتی ہیں۔
- ٹھوس اشیا میں بنیادی طور پر حرارت کی منتقلی ایصال کے ذریعے ہوتی ہے۔ رقیق اور گیسی اشیا میں انتقال حرارت، حمل حرارت ( convection) کے ذریعے ہوتا ہے۔
- حمل حرارت میں، حرارت کی منتقلی ذرات کی حقیقی حرکت کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ سیم بری اور سیم بحری حمل حرارت کی مثالیں ہیں۔
- زمین پر سورج کی گرمی اشعاع کے ذریعے پہنچتی ہے۔
- سبھی اشیا اشعاع کے ذریعے اپنے اطراف کے ساتھ حرارت کا تبادلہ کرتی ہیں۔
- ایصال اور حمل حرارت کے عمل میں حرارت کی منتقلی کے لیے میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اشعاع کے عمل میں میڈیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
- حرارت کی منتقلی کے اصولوں کو گھروں کی تعمیر اور لباس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
- پانی کی مسلسل حرکت آبی بخارات کی شکل میں اوپر کی طرف اور ترسیب کی شکل میں نیچے کی طرف مٹی، چٹانوں اور پودوں سے گزرتے ہوئے بالآخر آبی ذخائر میں واپس لوٹنا، آبی گردش کہلاتی ہے۔
- مٹی اور چٹانوں سے ہو کر سطح زمین پر موجود پانی کے رساؤ کا عمل آبی سرایت کہلاتا ہے۔
- زیر زمین پانی وہ پانی ہے جو رس کر زمین میں چلا جاتا ہے اور سطح زمین کے نیچے تلچھٹوں کے مسامات کی خالی جگہوں اور چٹانوں کے دہانوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔
- زیر زمین تلچھٹوں کی پر تیں اور چٹانیں جو اپنے مسامات کی خالی جگہوں میں پانی کا ذخیرہ کرتی ہیں، ایکویفر کہلاتی ہیں۔
آئیے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- مندرجہ ذیل ہر ایک معاملے میں درست متبادل کا انتخاب کیجیے۔
- آپ کے والد نے ایک ساس پین خریدا ہے جو دو مختلف مواد A اور B سے بنا ہے جیسا کہ شکل 7.14 میں دکھایا گیا ہے مواد A اور B میں درج ذیل خصوصیات موجود ہیں۔
- A اور B دونوں حرارت کے عمدہ موصل ہیں۔
- A اور B دونوں حرارت کے کمزور موصل ہیں۔
- A حرارت کا عمدہ موصل ہے جب کہ B کمزور موصل ہے۔
- A حرارت کا کمزور موصل ہے جب کہ B عمدہ موصل ہے۔
- ایک دھات کی چھڑی میں پنوں کو موم کی مدد سے چپکایا گیا اور جلتی ہوئی موم بتی کو چھڑی کے نیچے رکھا گیا جیسا کہ شکل 7.15 میں دکھایا گیا ہے۔ درج ذیل میں سے کیا ممکن ہے؟
- سبھی پنہیں تقریبا ایک ہی وقت میں گریں گی۔
- پن III اور I کے مقابلے میں ا اور ا ا پہلے گریں گی۔ 11
- پن III اور I کے مقابلے میں اور بعد میں گریں گی
- پناا اور ||| تقریبا ایک ساتھ گریں گی۔
- دھواں شناس آلہ ایسا آلہ ہے جو دھوئیں کی شناخت کرتا ہے اور الارم بجا دیتا ہے۔ فرض کیجیے آپ اپنے کمرے میں دھواں شناس آلہ لگانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مناسب ترین جگہ کیا ہو گی؟
- فرش کے نزدیک
- دیوار کے بیچ میں
- چھت میں
- کمرے میں کہیں بھی
- ایک دکان دار آپ کو برتن میں لسی پیش کرتا ہے۔ اتفاق سے برتن ٹپکنے لگا ہے۔ دکان دار آپ کو ایک اور برتن دیتا ہے تا کہ آپ کسی والے برتن کو اس برتن میں رکھ لیں۔ کیا اس سے کسی کو زیادہ دیر تک ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملے گی ؟ وضاحت کریں۔
- وجہ بتاتے ہوئے درج ذیل میں صحیح (T) اور غلط (F) بیانات کی نشان دہی کریں۔
- ٹھوس چیزوں میں حرارت کی منتقلی حمل حرارت کے ذریعے ہوتی ہے۔[]
- حمل حرارت کے ذریعے حرارت کی منتقلی ذرات کی حقیقی حرکت کے نتیجے میں ہوتی ہے۔[]
- ریتیلے مواد والی جگہوں کے مقابلے مٹی والی جگہوں میں پانی کارساؤ زیادہ ہوتا ہے۔[]
- زمین سے سمندر کی طرف ٹھنڈی ہوا کی حرکت نسیم بری کہلاتی ہے۔[]
- ایک برتن میں رکھے ہوئے برف کے چند ٹکڑے کچھ دیر پکھل کر پانی بن جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کے لیے برف کے ٹکڑوں کو حرارت کہاں سے ملتی ہے ؟
- ایک اگر بتی کو نیچے کی طرف جھکا کر لگایا گیا ہے۔ اگر بتی سے نکلنے والا دھواں کس سمت میں جائے گا؟ ڈائیگرام کی مدد سے دھوئیں کی حرکت کو دکھائیں۔
- پانی سے بھری ہوئی دو ٹیسٹ ٹیوبوں کو موم بتی کی لو سے گرم کیا جاتا ہے جیسا کہ شکل 7.16 میں دکھایا گیا ہے۔ کون سا تھرما میٹر (شکل 7.16a یا 7.16b ) زیادہ درجہ حرارت درج کرے گا؟ وضاحت کریں۔
- گرم علاقوں میں گھروں کی بیرونی دیواروں کی تعمیر کے لیے کھو کھلی اینٹوں کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
- بڑے آبگیر ( آبی ذخائر ) اپنے آس پاس کے علاقے میں بہت زیادہ درجہ حرارت کو کیسے روکتے ہیں؟ وضاحت کریں۔
- وضاحت کریں کہ پانی سطح زمین سے ہو کر کس طرح رہتا اور زیر زمین پانی کے طور پر اکٹھا ہو جاتا ہے۔
- ” آبی گردش زمین پر پانی کی باز تقسیم اور بازیابی میں بہت معاون ہے۔ “ اس بیان کی مدلل وضاحت کریں۔
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- سماج : کسی ایسی جگہ جائیں جہاں پانی کا ذخیرہ کیا گیا ہو ، یاریچارج گڑھے بنائے گئے ہوں۔ لوگوں سے معلوم کریں کہ یہ کس طرح بنائے جاتے ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں۔ تصاویر کے ساتھ ایک رپورٹ تیار کریں۔
- سرگرمی: ایک پتلی کاغذ کی پٹی کو کسی دھات کی چھڑی کے چاروں طرف مضبوطی سے لپیٹیں۔ چھڑی کو لگا تار گھماتے ہوئے موم بتی کی مدد سے کاغذ کو جلانے کی کوشش کریں۔ کیا کاغذ جلنے لگتا ہے؟ اپنے مشاہدات کی وضاحت کریں۔
- a سرگرمی: کاغذ کی ایک شیٹ لیں۔ اس پر ایک مرغولہ بنائیں جیسا کہ شکل 7.172 میں دکھایا گیا ہے۔ کاغذ کو مرغولے کے ساتھ ساتھ کائیں۔ اب کاغذ کو جلتی ہوئی موم بتی کے اوپر لٹکائیں جیسا کہ شکل 7.170 میں دکھایا گیا ہے۔ مشاہدہ کریں کیا ہوتا ہے۔ اپنے مشاہدات کی وضاحت کریں۔
