Skip to content
Qr







8
وقت اور حرکت کی پیمائش

(Measurement of Time and Motion)


پریرنا اور اس کی چھوٹی بہن ٹیلی وژن پر ایک اسپورٹس چینل دیکھ رہی ہیں۔ پر یر ناکو دوڑنے میں مزہ آتا ہے۔ اور اضلعی سطح پر منعقد بین الاسکول مقابلے 100 میٹر ا سپرنٹ جیتنے کے لیے اپنے ضلع کی لڑکیوں میں تیز ترین رنر قرار دیا گیا ہے۔ اب وہ ریاستی سطح پر مقابلے میں شرکت کے لیے شق کر رہی ہے۔ آئندہ وہ ایک سو میٹرا سپرنٹ مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کا خواب دیکھ رہی ہے۔

ماضی میں منعقد اولمپک گیمز اسپرنٹس کی ریکارڈنگ دیکھتے ہوئے پر پیر ناکو ہر بار اس پر حیرت ہوتی ہے کہ دوڑ کا وقت درج کرنے کی پیمائش اتنی ترقی یافتہ ہے کہ دوسرا اسپرٹس کے تقریبا ایک ساتھ حتمی خط کو عبور کرتے نظر آنے کے باوجود وہ فاتح کو پہچان سکتے تھے۔ تاہم اُس کے اسکول میں اسپورٹ ٹیچر اسکول کی دوڑ میں وقت کی ناپنے کے لیے اسٹاپ واچ کہلانے والی ایک خاص قسم کی گھڑی استعمال کرتی تھی۔ اُس نے دیکھا کہ اُس کی ماں اپنی کلائی پر گھڑی باندھے ہوئے ہے اور جب اُس کی بہن کو وقت دیکھنا ہوتا ہے تو وہ اپنے موبائل فون پر نظر ڈالتی ہے۔ اُس کے چچا بریل واچ استعمال کرتے تھے اور انھوں نے حال ہی میں ایک بولنے والی واچ لے لی تھی جو ایک بٹن کو چھونے پر وقت بتاتی تھی۔ اسکول کے صدر دروازے کے قریب بھی بڑی سی دیواری گھڑی تھی۔ اس کا خیال ماضی کے لوگوں کی طرف چلا گیا جن کے پاس ایسے جدید آلات نہیں تھے جیسے ہمارے پاس ہیں اور اسے بہت تعجب ہوا۔

Screenshot 2025-11-14 at 11-27-27 gucu108.pdf
جب دیواری اور دستی گھڑیاں نہیں تھیں تو وقت کی پیمائش کیسے کی جاتی تھی ؟

8.1 وقت کی پیمائش

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf

انسانوں کو وقت کا اندازہ لگانے میں مدتوں پہلے سے دل چسپی تھی۔ وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ فطرت میں بہت سے واقعات ایک معینہ مدت کے بعد خود کو دہراتے ہیں مثلاً سورج کا طلوع اور غروب ہونا، چاند کے مراحل اور بدلتے ہوئے موسم۔ وہ ان واقعات کی گردش کو وقت درج کرنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ سب سے پہلے انھوں نے کیلنڈر بنایا۔ ایک دن کی توضیح سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے دورانیے سے ہونے لگی۔ اُس کے بعد انھوں نے دن کا وقت جاننے کے طریقوں کی تلاش شروع کی۔ تو انسانوں نے کئی آلات بنائے جس سے انھیں ایک دن کے اندر نسبتا چھوٹے وقفے ناپنے میں مدد ملی۔ اُن میں سے چند دھوپ گھڑیاں، آبی گھڑیاں، ریت گھڑیاں اور چراغ گھڑیاں تھیں۔ دھوپ گھڑی میں وقت کا تعین کسی چیز کے سائے کی بدلتی ہوئی حالت سے کیا جاتا ہے جو دن کے دوران سورج کی روشنی کی وجہ سے پڑتا ہے (شکل 8.1)۔

Screenshot 2025-11-14 at 11-22-41 gucu108.pdf

آبی گھڑیوں میں کسی برتن سے باہر پانی کے بہاؤ یا اس کے اندر گرنے کے وقت کو ناپنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک قسم میں پانی ایک برتن سے باہر بہتا تھا جس پر وقت کے نشانات لگے ہوتے تھے (شکل 8.2 ) دوسری قسم ایسی تھی جس میں ایک پیالے کی تہہ میں بار یک سوراخ بنا ہوتا اور وہ پانی کی سطح پر تیرتا رہتا (شکل 8.2) ۔ وہ مقررہ وقت میں بتدریج بھر جاتا اور آخر کار ڈوب جاتا تھا۔ پھر وہ اوپر اٹھ جاتا اور دوبارہ تیرنے لگتا۔

ریت گھڑی میں (شکل 8.3) وقت کی پیمائش ایک بلب سے دوسرے بلب میں ریت کے بہاؤ کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ چراغ گھڑی (شکل 8.4) ایسی قندیلیں ہوتی تھیں جن پر چلنے کے دوران وقت گزرنے کے عمل کو ظاہر کرنے کے لیے نشانات بنے ہوتے تھے۔


دل چسپ حقائق
دنیا کی سب سے بڑی سنگی دھوپ کی گھڑی سمراٹ نینتر “ کی تعمیر 300 سال پہلے جے پور، راجستھان کے جنتر منتر میں ہوئی تھی۔ یہ یونیسکو (UNESCO) کے عالمی ورثے کا مرکز ہے جس میں بہت سے فلکیاتی آلات محفوظ کیے گئے ہیں۔ اس کی 27 میٹر کی مرعوب کن اونچائی کا سایہ تقریباً 1 ملی میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے حرکت کرتا ہے اور ایسے پیمانے پر پڑتا ہے جس پر 2 سیکنڈ جیسے مختصر وقفے کی پیمائش کے لیے باریکی سے نشانات بنے ہیں کسی بھی دھوپ گھڑی کی طرح یہ مقامی اور شمسی وقت کی پیمائش کرتا ہے جس میں ہندستانی معیاری وقت کے تعین کے لیے اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ Screenshot 2025-11-14 at 11-22-46 gucu108.pdf

کیا ہم ایک سادہ آبی گھڑی بنائیں؟

سرگرمی 8.1 : آیئے چیز میں بنائیں

  • ایک استعمال شدہ شفاف پلاسٹک بوتل (1/2 لیٹر یا اُس سے بڑی ڈھکن کے ساتھ لیں۔
  • اُسے تقریبا درمیان سے دو حصوں میں کائیں ، جیسا کہ شکل 8.5a میں دکھایا گیا ہے۔
  • ڈرائنگ پین کی مدد سے بوتل کے ڈھکن میں چھوٹا سا سوراخ کریں (شکل 5.8b)۔
Screenshot 2025-11-14 at 11-22-54 gucu108.pdf
  • بوتل کے اوپری حصے کو نچلے نصف حصے کے اوپر الٹی حالت میں رکھیں (شکل 8.5c)۔
  • بوتل کے اوپری حصے میں پانی بھریں۔ پانی کی سطح آسانی سے دکھائی دے اس کے لیے چند قطرے روشنائی یا رنگ ملادیں (شکل 8.5d ) ۔
  • پانی بوتل کے نچلے حصے میں قطرہ قطرہ گرنے لگے گا۔ ایک گھڑی کی مدد سے ہر ایک منٹ کے بعد پانی کی سطحپر نشان لگائیں یہاں تک کہ پورا پانی ٹپک جائے۔

آپ کی آبی گھڑی تیار ہے۔ کیا اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُسے کیسے استعمال کیا جائے گا؟ نچلے حصے میں سے پانی کو واپس اوپر کے حصے میں انڈیلیں اور پانی کو نچلے حصے میں ٹپکتے ہوئے دیکھیں۔ ہر بار جب وہ آپ کے بنائے ہوئے نشان کو چھوئے گا، ایک اور منٹ گزر چکا ہو گا۔


دل چسپ حقائق
قدیم ہندوستان میں وقت کی پیمائش سایوں اور آبی گھڑی دونوں کی مدد سے ہوتی تھی۔ سائے پر مبنی وقت کی پیمائش کا اولین حوالہ کو ٹلیہ کے ارتھ شاستر میں ملتا ہے جس کی تصنیف اور نظر ثانی دوسری صدی قبل مسیح (ق م) سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان ہوئی۔ ایک عمودی چھڑی کے سائے کے طور پر وقت کے لیے درست اظہار کا استعمال 530 عیسوی ورہ مہر کے ذریعے ملتا ہے۔ پانی کے باہر کی طرف بہاؤ والی گھڑی کا بیان ارتھ شاستر ، سر دولا کر ناو دانا اور بعض دیگر متون ( ابتدائی عیسوی صدیوں ) میں ملتا ہے۔ یہ گھڑیاں بہت درست نہیں تھیں، کیونکہ پانی کی سطح نیچے جاتے ہی بہاؤ کی شرح میں کمی آجاتی تھی۔ اس کے نتیجے میں ڈوبنے والے پیالے والی گھڑیاں بنائی گئیں ( شکل 8.20) یا گھٹی کا بینتر جس کا ذکر سب سے پہلے آریہ بھٹ نے کیا اور پھر بعد کی فلکیاتی تصانیف میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ بودھ راہب گھروں، شاہی محلوں، شہر کے چوراہوں پر وقت کی پیمائش مستقل گھٹیکا پنتر سے ہوتی رہی اور ہر بار جب پیالہ ڈوب جاتا تو اس کا اعلان ڈھول ، ناقوس یا گھنٹے پر ضرب لگا کر کیا جاتا تھا۔ اگر چہ انیسویں صدی کے اواخر میں اس کی جگہ بہ تدریج پنڈولم گھڑیوں نے لے لی تاہم مذہبی مقامات پر رسوم کی ادائیگی کے لیے اس کا استعمال جاری رہا۔
Screenshot 2025-11-14 at 11-23-00 gucu108.pdf

جوں جوں انسانی تہذیب ترقی کرتی گئی اور لوگ لمبی دوری کے سفر کرنے لگے، وقت کی پیمائش بڑی اہمیت اختیار کر گئی۔ اس کے نتیجے میں 14 ویں صدی اور اس کے بعد سے بہتر میکانکی آلات بنائے گئے جن میں وزن، گیئر اور اسپرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ تاہم ابتدائی صدی میں پنڈولم گھڑی کی ایجاد میکانکی وقت پیمائی میں ایک بڑی کامیابی ہے۔


سائنس داں کو جانیں
پنڈولم گھڑی کرسٹیان ہانگنز (1695-1629) نے 1656 میں ایجاد کی اور 1657 میں اسے پیٹنٹ کرایا۔ انھیں گلیلیو گیلیلئی (1642-1564) کے ذریعے کی گئی پنڈولم کی تحقیقوں سے تحریک ملی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ بس یونہی چرچ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ چھت سے لٹکے ہوئے لیمپ پر اُن کی نظر پڑی جو آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ وقت ناپنے کے لیے اپنی نبض کا استعمال کرتے ہوئے گلیلیو کو معلوم ہوا کہ ہر بار جھولے کی طرح ہلنے میں لیمپ کو نبض جتنا ہی وقت لگتا ہے۔ مختلف قسم کے پنڈولم پر تجربہ کرنے کے بعد گلیلیو اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک اہتنر از ( osillation) کو مکمل کرنے میں لگنے والا وقت دی گئی لمبائی کے پنڈولم کے مساوی تھا۔

8.11 ایک سادہ پنڈولم

سادے پنڈولم میں چھوٹی سی دھات کی گیند ( جسے پنڈولم کا ساہول یا بوب (bob) کہتے ہیں) شکل 8.70 میں دکھائے گئے طریقے کے مطابق ایک مضبوط سہارے سے ملی سے لٹکی ہوئی ہے۔

Screenshot 2025-11-14 at 11-23-09 gucu108.pdf
گریڈ 6 کی سائنس کی کتاب تجنس کے باپ میں ہم نے لمبائی اور حرکت کی پیمائش میں ایک سرگرمی انجام دی تھی جس میں ہم نے دھاگے سے لٹکے ہوئے ایک ربر کی ابتزازی حرکت کا مشاہدہ کیا تھا۔ کیا پنڈولم ویسا ہی ہے؟

ٹھہرا ہوا پنڈولم اپنی درمیانی حالت میں ہے۔ جب پنڈولم کے ساہول کو تھوڑا سا ایک طرف ہلایا جاتا اور چھوڑا جاتا ہے تو وہ اہتنرازی حرکت شروع کر دیتا ہے۔ اس کی حرکت کی نوعیت دوری (periodic) ہے کیونکہ وہ وقت کی مقررہ مدت کے بعد اپنے راستے کو دہراتا ہے۔

پنڈولم کے ایک اہتنر از کی تکمیل اس وقت مجھی جاتی ہے جب اس کا باب وسطی مقام 0 سے شروع ہو کر انتہائی مقام A تک حرکت کرتا ہے، سمت تبدیل کر کے دوسرے انتہائی مقام B تک حرکت کرتا ہے، سمت تبدیل کر کے پر واپس آتا ہے (87) ۔ پنڈولم بھی ایک اہتنر از تب مکمل کرتا ہے جب اس کا ساہول ایک انتہائی مقام A سے دوسرے انتہائی مقام B تک حرکت کرتا اور A پر واپس آتا ہے۔ پنڈولم کے ذریعے ایک اہتنر از مکمل کرنے لگنے والے وقت کو دوری وقت کہتے ہیں۔ آیئے ہم ایک پنڈولم کو ترتیب دیں اور اس کے دوری وقت (Time Period) کی پیمائش کریں۔

سرگرمی 8.2: آئیے تجربہ کریں

  • تقریبا 150 سینٹی میٹر لمبے دھاگے کا ٹکڑا، ایک وزنی دھات کی گیند جس میں آنکڑا پتھر (ساہول) لگا ہو، ایک اسٹاپ واچ گھڑی اور رولر اکٹھا کریں۔
  • ساہول کو دھاگے کے ایک سرے پر باندھیں۔
  • دھاگے کے دوسرے سرے کو کسی مضبوط سہارے سے باندھیں اس طرح کہ سہارے اور ساہول کے درمیان دھاگے کی لمبائی تقریباً 100 سینٹی میٹر ہو۔
  • ساہول کے ٹھہراؤ کی حالت میں آنے کا انتظار کریں۔ اب آپ کا پنڈولم تیار ہے۔
  • ساہول کو ہلکے سے پکڑ کر اسے آہستہ سے ایک طرف حرکت دے کر چھوڑ دیں۔ اس کا خیال رہے کہ ساہول کو چھوڑتے ہوئے اُسے نہ کھینچیں اور یہ کہ دھاگہ تنی ہوئی حالت میں ہو ۔ کیا اب آپ کا پنڈولم انتر از انجام دے رہا ہے؟
  • ایک گھڑی کی مدد سے اس وقت کی پیمائش کریں جو اسے 10 اهتزازات مکمل کرنے میں لگتے ہیں۔ جدول 8.1 میں وقت کو درج کریں۔
  • اس سرگرمی کو 3-4 بار دہرائیں۔
  • اپنے پنڈولم کا وقت ناپنے کے لیے 10 اهتزازات کے لیے وقت کو 10 سے تقسیم کیجیے۔ جدول 8.1 میں وقت کو درج کریں۔

جدول 8.1 : سادہ پنڈولم کا دوری وقت

دھاگے کی لمبائی = 100 سینٹی میٹر

Screenshot 2025-11-14 at 11-23-22 gucu108.pdf

کیا آپ کے پنڈولم کا دوری وقت ہمیشہ تقریباً یکساں رہتا ہے؟ اس مشاہدے سے آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ پنڈولم کا دوری وقت ہر وقت تقریباً یکساں رہتا ہے۔


سائنس داں کی طرح سوچیں
آپ نے ابھی ایک اہم تاریخی تجربہ انجام دیا ہے جسے سب سے پہلے گلیلیو نے کیا تھا اس استثنا کے ساتھ کہ آپ نے وقت کی پیمائش کے لیے اپنی نبض کی حرکت کی جگہ ایک گھڑی کا استعمال کیا۔ فرض کریں کہ آپ پنڈولم کا تجربہ کرنے والے گلیلیو ہوتے تو آپ کن باتوں کی تحقیق کرتے؟ آپ کون سے سوالات پوچھتے؟ کیا تمام پنڈولم کا دوری وقت یکساں ہوتا ہے؟ آپ اس کی جانچ کیسے کرتے؟
یکساں ساہوں لیکن مختلف لمبائیوں کے دو یا تین پنڈولم کی مدد سے سرگرمی 8.2 کو دہرائیں۔ کیا دوری وقت تبدیل ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو لمبائی اس پر کیسے اثر ڈالتی ہے ؟ اگر لمبائی میں تبدیلی لانے سے دوری وقت پر اثر پڑتا ہے تو کیا سا ہول کی کمیت بھی اہمیت رکھتی ہے ؟ پنڈولم کی مقررہ لمبائی لیکن مختلف کمیتوں کے ساتھ سرگرمی 8.2 کو دہرا کر اس کی جانچ کریں۔ کیا آپ کوئی تبدیلی دیکھتے ہیں؟
کسی سادے پنڈولم کے دوری وقت کا انحصار اس کی لمبائی پر ہوتا ہے لیکن ساہول کی کمیت پر نہیں کیسی دیے گئے مقام پر یکساں لمبائی والے تمام پنڈولم کا دوری وقت یکساں ہوتا ہے۔

دی گئی لمبائی کے سارے پنڈولم کا دوری وقت کسی مقام پر مستقل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کا استعمال وقت کی پیمائش میں کیا جاتا ہے۔

تمام گھڑیاں چاہے پرانی ہوں یا جدید طرز کی مسلسل دہرائے جانے والے کسی سلسلہ عمل پر مبنی ہوتی ہیں جن کا استعمال وقت کے مساوی وقفوں کی نشان کاری کے لیے کیا جاسکتا ہے۔


زیادہ گہرائی سے سوچیں
جدید طرز کی گھڑیاں اسی بنیادی اصول کی مدد سے وقت کی پیمائش کرتی ہیں یعنی دوری طور پر تکراری عمل کا اصول لیکن وہ یا تو کسی کو ارٹز کرسٹل ( کوارٹز کلاکس) یا کسی مخصوص ایٹم (ایٹمی کلاکس) سے ہونے والے مختصر اور بہت تیز رفتار ارتعاشات سے کام لیتی ہیں۔ جہاں ہانگنز کے ابتدائی پنڈولم گھڑیوں میں روزانہ دس سیکنڈ بڑھتایا گھٹتا تھا، آج کی ایٹمی گھڑیاں اتنی درست ہوتی ہیں کہ اُن میں لاکھوں سال میں صرف ایک سیکنڈ کا فرق آتا ہے۔ سائنس داں وقت کی پیمائش کے لیے اس سے بھی زیادہ درستگی والے طریقے تلاش کرنے میں مستقل مصروف ہیں۔
Screenshot 2025-11-14 at 11-23-29 gucu108.pdf

8.1.2 وقت کی SI اکائی

وقت کی ایس آئی اکائی سیکنڈ ہے۔ اس کی علامت ہے۔ وقت کی بڑی اکائیاں منٹ (min) اور گھنٹہ (h) ہیں۔

60min = 1h   60s = 1min


زیادہ گہرائی سے سوچیں
وقت کی اکائیاں جیسے سیکنڈ ، منٹ اور گھنٹہ، کسی جملے کی شروعات کو چھوڑ کر، چھوٹے حروف سے شروع ہوتے ہیں۔ ان کی علامات ' ، 'min اور '' بھی چھوٹے حروف سے لکھی جاتی ہیں اور صیغہ واحد ہیں۔ یاد رکھیں کہ علاوہ جملے کے خاتمے کے، علامت کے بعد وقفے کا نشان نہیں لکھا جاتا۔ وقت لکھتے وقت ہمیشہ عدد اور اکائی کے درمیان ہمیشہ ایک حرف کی جگہ ( space) چھوڑیں۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ سیکنڈ کے لیے sec اور گھنٹوں کے لیے hrs لکھنا غیر درست ہے۔

دل چسپ حقائق
گھٹیکا ینتر میں پیالے کے اندر کیا گیا سوراخ اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ اسے بھرنے اور ڈوبنے میں 24 منٹ لگتے تھے۔ اس گھڑی سے ناپے گئے وقت کو گھٹیکا یا گھٹی“ کہا جاتا تھا۔ یہ پیمائش وقت کی معیاری اکائی بن گئی اور انیسویں صدی کے اخیر تک باقی رہی۔ اس طرح 24 گھنٹے لمبے دن کو 60 مساوی گھٹیوں میں تقسیم کیا گیا۔

سرگرمی 8.3 : آئیے شناخت کریں

Screenshot 2025-11-14 at 11-23-37 gucu108.pdf
  • شکل 8.9 میں دکھائی گئی دیوار گھڑی کو غور سے دیکھیں۔ وقت کی سب سے چھوٹی اکائی کون سی ہے جس کی پیمائش آپ اس سے کر سکتے ہیں؟

ایک سیکنڈ وقت کا مختصر ترین وقفہ ہے جس کی پیمائش ہم اس گھڑی کی مدد سے کر سکتے ہیں۔


سائنس اور سماج
آج کی دنیا میں ایک سیکنڈ کے چھوٹے حصوں کی پیمائش کرنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اسپورٹس میں وقت پیمائی کے آلات کسی دوڑ میں فاتحین کا تعین کرنے کے لیے سیکنڈ کے سوویں بلکہ ہزارویں حصے تک کا ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ طب کے میدان میں الکٹرو کار ڈیوگرام (ECG) مشینوں جیسے ہارٹ مانیٹر مسائل صحت کا سراغ لگانے کے لیے دل کی حرکت میں ملی سیکنڈ تک کے تغیرات کی پیمائش کر لیتی ہیں موسیقی میں ہموار پلے بیک کے لیے ڈجیٹل ریکارڈنگ ہزاروں بار فی سیکنڈ کے حساب سے آواز کو گرفت میں لیتی ہیں۔ کئی آلات اس سے بھی زیادہ مختصر وقفوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون اور کمپیوٹر مائکرو سیکنڈ (ایک سیکنڈ کا دس لاکھواں حصہ) میں سگنل کو پروسیس کرتے ہیں، جن سے انھیں بہت تیز رفتار کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سائنس داں، خلائی تحقیق ، طب اور ترقی یافتہ سائنسی تجربات کے لیے مزید درستگی والے پیمائش وقت کے آلات تیار کر رہے ہیں۔ ہماری گھڑیاں جتنی تیز تر اور درست تر ہو جائیں گی اتنے ہی زیادہ طریقوں سے وہ سماج کی مدد کریں گی جن کو ہم محسوس بھی نہیں کر سکتے۔

یکساں فاصلے کو طے کرنے والی دوڑوں کے لیے ہم وقت کی پیمائش کر کے بتا سکتے ہیں کہ کس کی رفتار زیادہ تیز تھی۔ لیکن مختلف فاصلوں کی دوڑوں کا موازنہ کر کے ہم یہ کس طرح بتا سکتے ہیں؟

8.2 سست یا تیز

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf

جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی چیز تیزی سے یا سستی سے حرکت کر رہی ہے تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ فرض کریں کہ آپ ایک سیدھے ٹریک پر 100 میٹر والی ریس دیکھ رہے ہیں۔ تمام کھلاڑی ایک ساتھ اسٹارٹنگ لائن سے شروعات کرتے ہیں لیکن کچھ وقت کے بعد وہ ایک ساتھ نہیں دوڑ رہے ہوتے (شکل 8.10)۔ آپ کیسے فیصلہ کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ تیز دوڑ رہا ہے؟

Screenshot 2025-11-14 at 11-23-47 gucu108.pdf

کوئی شخص وقت کے کسی لمحے میں دوسروں سے آگے ہو، ان سے زیادہ تیز دوڑ رہا ہے، اس لیے وہ شخص جس نے یکساں وقت کے اندر زیادہ فاصلہ طے کر لیا ہے وہ زیادہ تیز دوڑ رہا ہے۔

وقت کی کسی دی گئی مدت میں اشیا اور افراد کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے اس کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ تیز رفتار یاست رفتار ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ زیادہ تیز دوڑنے والے کھلاڑی کی چال زیادہ ہوتی ہے۔ شاید آپ لفظ چال سے واقف ہیں۔

8.3 رفتار (Speed)

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf

کسی اکائی وقت میں دو اشیا کے ذریعے طے کیے گئے فاصلوں کا موازنہ کر کے پی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اُن میں سے کون زیادہ تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔ اکائی وقت ایک سیکنڈ ، ایک منٹ یا ایک گھنٹہ ہو سکتا ہے۔ کیسی اکائی وقت میں ایک چیز کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کو اس چیز کی چال (Speed) کہتے ہیں۔

ہم کسی چیز کی چال کا تعین کیسے کر سکتے ہیں۔ اس کی تحسیب کی جا سکتی ہے، اگر ہم کسی شے کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے اور اُس میں لگنے والے وقت کو جانتے ہوں۔ کسی چیز کی چال طے کردہ فاصلے سے ، اسے طے کرنے میں لگے کل وقت سے تقسیم کا نتیجہ ہے۔

چال =طے کیا گیا کل فاصلہ/ فاصلہ طے کرنے میں لگا کل وقت

چال کی اکائی کیا ہو گی؟ ہم لمبائی اور وقت کی ایس آئی اکائیاں جانتے ہیں۔ چوں کہ چال فاصلہ فی وقت ہے لہذا چال کی ایس آئی اکائی میٹر فی سیکنڈ ہے اور اسے m/s کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔

چال کو بھی دیگر اکائیوں میں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم فاصلے کو کلومیٹر اور وقت کو گھنٹے میں ظاہر کریں تو چال کی اکائی کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو km/h کے طور پر ظاہر کی جاتی ہے۔

مثال 8.1: سواتی کا اسکول اُس کے گھر سے 3.6 کلومیٹر ہے۔ اُسے اپنی سائیکل سے اسکول پہنچنے میں پندرہ منٹ لگتے ہیں۔ m/s میں سائیکل کی چال کا حساب لگائیے۔

حل: سائیکل کی چال = طے کیا گیا فاصلہ / لگنے والا وقت

= 3.6 km / 15 min

= 3.6km * 1000 m/km /

Screenshot 2025-11-14 at 11-23-56 gucu108.pdf

سرگرمی 8.4: آیئے تحسیب کریں

  • انٹرنیٹ پر دست یاب ریلوے ٹائم ٹیبل پر نظر ڈالیں۔
  • ایسی ٹرین کی نشان دہی کریں جو آپ کے گھر سے قریب ترین اسٹیشن پر رکتی ہو۔
  • اگلے اسٹیشن کا نام جانیے جہاں یہ ٹرین رکتی ہے۔ ٹائم ٹیبل کے مطابق اس اسٹیشن کا فاصلہ بھی جانیے۔
  • وہ وقت درج کریں جس پر ٹرین آپ کے اسٹیشن سے چھوٹتی اور اگلے لے اسٹیشن اسٹیشن پر پہنچتی ہے۔ اگلے اسٹیشن تک کا فاصلہ طے کرنے میں لگنے والے وقت کا حساب لگانے کے لیے فرق کو جانیے۔ س
  • دو اسٹیشنوں کے درمیان ٹرین کی چال کا حساب لگائیے اور اسے جدول 8.2 میں درج کریں۔
  • 5-4 مختلف قسم کی ٹرینوں ( پسنجر / ایکسپریس اسپر فاسٹ) کے لیے یہی سرگرمی دہرائیں۔

جدول 2 : : ٹرینوں کی چال کو جانتا

آپ کے گھر سے قریب ترین ریلوے اسٹیشن کا نام ..........

Screenshot 2025-11-14 at 11-24-11 gucu108.pdf
  • ٹرینوں کی چالوں کا موازنہ کریں۔ سب سے تیز رفتار ٹرین کون سی ہے؟ اکائی وقت میں زیادہ فاصلے طے کرنے والی ٹرین سب سے زیادہ تیز رفتار ہے ، یعنی وہ جس کی چال سب سے زیادہ ہے۔

8.3.1 چال، فاصلہ اور وقت میں رشتہ

ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ

چال = طے کیا گیا فاصلہ / لگنے والا کل وقت

بہ شرط کہ ہم طے کیا گیا فاصلہ اور اس میں لگنے والا وقت جانتے ہوں۔ اگر فاصلہ اور چال دیے گئے ہوں تو ہم کسی چیز کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کی تحسیب کے لیے اس مساوات کو ایک مختلف شکل میں لکھ سکتے ہیں :

کل طے کیا گیا فاصلہ = چال × لگنے والا کل وقت

اسی طرح اگر فاصلہ اور چال دیے گئے ہوں تو ہم کسی چیز کے ذریعے فاصلہ طے کرنے میں لگنے والے وقت کا حساب درج ذیل فارمولے کی مدد سے لگا سکتے ہیں:

لگنے والا کل وقت= طے کیا گیا فاصلہ / چال

مثال 8.2: راگھو اپنے پڑوس کے ایک شہر میں بس کے ذریعے جا رہا ہے جو 50km/h کی چال سے حرکت کر رہی ہے۔ اگر اسے اس شہر میں پہنچنے میں دو گھنٹے کا وقت لگتا ہے تو شہر کتنا دور ہے؟

حل: بس کے ذریعے طے کیا گیا وقت = چال x وقت

= 50 km x 2h / h

= 100 km

مثال 8.3 کوئی ٹرین 90km/h کی چال سے سفر کر رہی ہے۔ اُسے 360km فاصلہ طے کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

حل: ٹرین سے لگنے والا وقت = طے کیا گیا فاصلہ / چال

= 360 km / 90 km/h

= 4h

اب تک کی تمام مثالوں میں ہم نے طے کیے گئے کل فاصلے کو لگنے والے کل وقت سے تقسیم کے فارمولے کی مدد سے کسی چیز کی چال معلوم کی ہے۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ اُس چیز نے وقت کی پوری مدت کے دوران یکساں رفتار سے سفر نہ کیا ہو۔ شاید اس چیز نے بھی زیادہ مستی سے اور بھی زیادہ تیزی سے حرکت کی ہو ۔ اس طرح وہ چال جس کا حساب ہم نے لگایا ہے اوسط چال ہے لیکن اس کتاب میں ہم نے لفظ 'چال کا استعمال اوسط چال کے لیے کیا ہے۔


سائنس اور سماج
اسکوٹروں، موٹر بائکوں، کاروں اور بسوں جیسی گاڑیوں میں ایک آلہ لگا ہوتا ہے جو گاڑیوں کی چال کی پیمائش کرتا اور اسے km/h میں ظاہر کرتا ہے۔ اسے رفتار پیا (Speedometer) کہتے ہیں۔ ایک اور آلہ جس کا نام فاصلہ پیما (odometer) ہے وہ بھی گاڑیوں میں لگا ہوتا ہے اور وہ بھی گاڑی کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کی پیمائش کلومیٹر میں کرتا ہے۔ Screenshot 2025-11-14 at 11-24-48 gucu108.pdf

میں نے ایک بار سیدھی سڑک پر میراتھن دوڑ کا ایک حصہ دیکھا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اُس فاصلے کے دوران کچھ لوگ یکساں چال سے دوڑتے نظر آئے جب کہ دوسرے لوگ تیز رفتار سے دوڑ رہے تھے یاست پڑ رہے تھے۔ اُن کی حرکت الگ الگ کیسے تھی ؟

8.4: یکساں اور غیر یکسان خطی حرکت

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf

کیا آپ کو گریڈ 6 کی سائنس کی کتاب تجسس میں پڑھا گیا باب لمبائی اور حرکت کی پیمائش یاد ہے؟ جب کوئی چیز سیدھی لکیر کے سہارے حرکت کرتی ہے تو اس کی حرکت کو خطی حرکت کہتے ہیں۔ اب ایک ٹرین کا تصور کریں جو دو متصل ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پڑی پر دوڑ رہی ہے۔ ان دو اسٹیشنوں کے درمیان ٹرین کی حرکت خطی حرکت ( شکل (8.11) کی ایک مثال ہے۔ ٹرین اسٹیشن A سے ہلکی چال سے شروع ہوتی ہے اور پھر نسبتا تیز چال سے حرکت کرتی ہے، پھر آہستہ ہو کر اگلے اسٹیشن D پر رک جاتی ہے۔ دو اسٹیشنوں کے درمیان کچھ فاصلے ( B سے (C) تک ٹرین ایک مستقل چال پر حرکت میں رہتی ہے، یعنی تبدیل نہ ہونے والی چال پر۔

Screenshot 2025-11-14 at 11-24-55 gucu108.pdf

مستقل چال سے مستقیم خط پر حرکت کرتی ہوئی کوئی چیز یکسان خطی حرکت میں ہوتی ہے۔ اس طرح ٹرین B اور C اسٹیشنوں کے درمیان یکساں حرکت میں ہے (شکل 8.11)۔ دوسری طرف اگر مستقیم خط پر لکیر کے سہارے حرکت کرتی ہوئی کسی چیز کی چال بدلتی رہے تو کہا جائے گا کہ وہ غیر یکسان خطی حرکت میں ہے۔ ٹرین کی حرکت A اور B کے درمیان، نیز C اور D کے درمیان بھی، غیر یکسان خطی حرکت میں ہے (شکل 8.11)۔ یکسان خطی حرکت میں کوئی چیز وقت کے مساوی وقفوں میں مساوی فاصلے طے کرتی ہے جبکہ غیر یکساں حرکت میں وہ وقت کے مساوی وقفوں غیر مساوی فاصلے طے کرتی ہے۔ جدول 8.3 میں ان فاصلوں کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں جو دو ٹرینیں X اور 7 صبح 10 بجے سے 11.00 بجے کے درمیان فاصلہ طے کرتی ہیں۔

جدول 8.3: 10 منٹ کے مساوی وقفوں سے دو ٹرینوں کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے

Screenshot 2025-11-14 at 11-25-03 gucu108.pdf

دو ٹرینوں میں سے کون سی ٹرین 10.000 اور 1100 کے درمیان یکسان خطی حرکت میں ہے؟ ٹرین x وقت کے مساوی وقفوں میں مساوی فاصلے طے کرتی ہے۔ اس لیے وہ یکساں خطی حرکت میں ہے جبکہ ٹرین ۷ غیر یکسان خطی حرکت میں ہے۔

یکسان خطی حرکت ایک مثال سازی ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم شاید ہی چیزوں کو وقت کے طویل وقفوں تک مستقل چال سے طویل فاصلے طے کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں اوسط چالوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

خلاصه

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf
  • ایک اہتنر از مکمل کرنے کے لیے پنڈولم جتنا وقت لیتا ہے اُسے دوری وقت کہتے ہیں۔
  • دی گئی لمبائی کے سادے پنڈولم کادوری وقت کسی جگہ پر ستقل رہتا ہے۔
  • وقت کی ایس آئی اکائی سیکنڈ ہے۔ اس کی علامت ہے۔
  • کسی چیز کی اوسط حال طے کیے گئے فاصلے کو اُسے طے کرنے میں لگے کل وقت سے تقسیم کر کے معلوم کی جاتی ہے۔
  • مستقل حال سے سیم خط پر حرکت کرنے والی کسی چیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یکساں خطی حرکت میں ہے۔
  • اگر خط مستقیم پر حرکت کر رہی کسی چیز کی چال بدل رہی ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ غیر یکسان خطی حرکت میں ہے۔

آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf

  1. ایک کار کی چال کا حساب لگائیں جو 10 سیکنڈ میں 150 میٹر سفر طے کرتی ہے۔ اپنا جواب km/h میں دیجیں۔
  2. کوئی رنر 50 سیکنڈ میں 400 میٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ ایک دوسر ارنر اُس فاصلے کو 45 سیکنڈ میں مکمل کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی چال زیادہ ہے اور کتنی زیادہ ہے؟
  3. ایک ٹرین 25m/s کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے 360km کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ وہ کتنا وقت لیتی ہے؟
  4. ایک ٹرین 3 گھنٹے میں 180km سفر کرتی ہے۔ اُس کی چال معلوم کیجیے :
    1. km/h میں
    2. m/s میں
    3. اگر پورے سفر میں وہ اسی چال کو برقرار رکھتی ہے تو 4 گھنٹے میں کتنا فاصلہ طے کرے گی؟
  5. سب سے زیادہ تیز دوڑنے والا گھوڑا تقریباً 18m/s چال تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کا موازنہ 72km/h کی چال سے حرکت کرتی ہوئی ٹرین سے کیسے کیا جائے گا؟
  6. ٹریفک سے خالی سیدھی شاہراہ پر چلتی ہوئی کار اور شہر کی بھیڑ میں چلتی ہوئی کار کی مثال کی مدد سے یکساں اور غیر یکساں حرکت کا فرق بتائیں۔
  7. نیچے دی گئی جدول میں وقت کے مختلف وقفوں میں فاصلے طے کرتی ہوئی ایک چیز کاڈیٹادیا گیا ہے۔ اگر وہ چیز یکساں حرکت میں ہو تو جدول میں خالی جگہیں پر کریں۔
  8. Screenshot 2025-11-14 at 11-25-19 gucu108.pdf Screenshot 2025-11-14 at 11-25-13 gucu108.pdf
  9. ایک کار پہلے گھنٹے ۔ لے گھنٹے میں 60km ، دوسرے گھنٹے میں 70km اور تیسرے گھنٹے میں 50km کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ کیا یہ یہ حرکت یکساں ہے؟ اپنے جواب کا جواز پیش کریں۔ کار کارلی کی اوسط چال معلوم کریں۔
  10. روز مرہ زندگی میں کسی قسم کی حرکت زیادہ عام ہے۔ یکساں یا غیر یکساں۔ اپنے جواب کی تائید میں اپنے تجربات سے تین مثالیں دیں۔
  11. نیچے کی جدول میں ایک چیز کی حرکت کا ڈیٹا دیا گیا ہے۔ بیان کیجیے کہ اُس چیز کی چال یکساں ہے یا غیر یکساں۔ اوسط چال معلوم کریں۔
  12. Screenshot 2025-11-14 at 11-25-27 gucu108.pdf
  13. ایک موٹر گاڑی مستقیم خط پر چلتے ہوئے 2km کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ پہلے 500m میں وہ 10m/s کی چال سے حرکت کرتی ہے۔ اور اگلے 500 میں وہ 5m/s کی چال سے حرکت کرتی ہے۔ باقی فاصلہ اسے کس چال پر طے کرنا چاہیے کہ سفر 2005 میں مکمل ہو جائے؟ پورے سفر کے لیے گاڑی کی اوسط چال کیا ہو گی؟

چھان بین پر مبنی پروجیکٹ

Screenshot 2025-11-11 at 09-51-39 gucu102.pdf
  • تیرتے ہوئی پیالے والی آبی گھڑی بنائیں مختلف سائز کے پیالوں کا استعمال کر کے اور ان میں مختلف سائز کے سوراخ کر کے تجربہ کریں تاکہ ان کے ڈوبنے کا وقت 24 منٹ کے قریب رہے۔
  • اپنے دوستوں کی شرح نبض ( ایک منٹ میں کسی شخص کی نبض کی تعداد) کی پیمائش کے لیے کوئی سرگرمی تشکیل کیجیے۔ ایسی کسی سرگرمی کے بارے میں سوچیں جس میں آپ اپنی نبض وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کر سکیں اور اس خیال پر کوئی کہانی ترتیب دیں۔
  • سرگرمی 8.2 میں لی گئی مختلف ریڈنگز میں دی گئی لمبائی والے پنڈولم کے دوری وقفوں میں معمولی 1 اختلافات کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں۔ اُن پر کنٹرول کرنے کے طریقے سوچیں اور یہ جانچنے کے لیے کہ کیا ہے ریڈنگز کے فرق میں کمی آئی ہے سرگرمی کو دہرائیں۔
  • کسی کھیل کے میدان میں جائیں جہاں چند جھولے لگے ہوں۔ کسی جھولے کے ذریعے 10 اهتزازات مکمل کرنے میں لگنے والے وقت کی پیمائش کریں اور اس کے دوری وقت کا حساب لگائیں۔ یہ 1 جاننے کے لیے کہ اس کا دوری وقت تقریباً ایک ہی ہے مختلف وزنوں والے بچوں کے ساتھ اسے لے ر بار دہرائیں مختلف لمبائیوں والے جھولوں کے ساتھ بھی اسے دہرائیں۔ یہ معلوم کریں کہ جھولوں کی بڑھتی ہوئی لمبائی کے ساتھ دوری وقت کس طرح بدلتا ہے؟ کیا جھولا پنڈولم کی مثال ہے؟
  • گذشتہ دو اولمپک کھیلوں میں مردوں اور عورتوں کی ، 400m ، 200m، 100m کی دوڑوں کے فاتحین کے اوقات جمع کریں۔ اُن کی چال کا حساب لگائیں اور موازنہ کریں۔ کون سے معاملے میں چال سب سے زیادہ تیز ہے ؟
Screenshot 2025-11-14 at 11-25-37 gucu108.pdf
دل چسپ حقائق
وقت کا آغاز اسی وقت سے ہوا جب ہماری کائنات وجود میں آئی اور آئندہ بھی باقی رہے گا۔ ہم وقت کو دیکھ یا محسوس نہیں کر سکتے۔ بلکہ واقعات کے درمیان زمانی وقفے کے اعتبار سے اُس کے گزرنے کی صرف پیمائش کر سکتے ہیں۔ یہ زمانی وقفے سیکنڈ یا دنوں یا مہینوں یا برسوں یا صدیوں کے حصے میں ہو سکتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ کب رونما ہوا یا یہ کہ وہ کتنی دیر تک باقی رہا۔ اگر چہ ہم بڑھتی ہوئی درستگی کے ساتھ وقت کی پیمائش کے بارے میں پڑھ چکے ہیں اور ہماری زندگیوں میں دیوار ، دستی اور دیگر اقسام کی گھڑیوں کا عمل دخل ہے، وقت کیا ہے؟ یہ آج بھی ایک پیچیدہ سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں ہے!
Screenshot 2025-11-14 at 11-25-42 gucu108.pdf Screenshot 2025-11-11 at 09-44-45 gucu102.pdf