9
جانوروں کے حیاتیاتی عمل
(Life Processes in Animals)
گریڈ 6 کے لیے سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب جان دار مخلوقات : ان کی خصوصیات کی تفتیش میں ہم نے جان دار مخلوقات کی بقا کے لیے اہم اعمال کے بارے میں پڑھا تھا، مثال کے طور پر تغذیہ ، تنفس، فضلہ کا اخراج اور تولید ۔ انھیں مجموعی طور پر حیاتیاتی اعمال کہا جاتا ہے۔ اس باب میں ہم تغذیہ اور تنفس جیسے حیاتیاتی اعمال کے بارے میں تفصیل سے جانیں گے۔
اپنے اردو گرد کا مشاہدہ کریں اور غور کریں کہ جانور کیا کھاتے ہیں۔ جانور مختلف قسم کی غذا کھاتے ہیں۔ شہد کی لکھیاں اور تمیرے (Sunbirds) پھولوں سے رس چوستے ہیں، جب کہ انسانوں کے نوزائیدہ بچے اور دیگر بہت سے جانوروں کے بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں۔ سانپ، جیسے اجگر ، جانوروں کا شکار کر کے نگل جاتے ہیں۔ بعض آبی جانور اپنے آس پاس تیرنے والے ننھے غذائی ذرات کو چھان کر اپنی غذا بناتے ہیں۔
انسانوں سمیت جانور غذا سے توانائی حاصل کرتے ہیں جس سے وہ مختلف حیاتیاتی اعمال انجام دینے کے قابل بنتے ہیں۔ جانور جو غذا کھاتے ہیں اس میں پیچیدہ اجزا جیسے کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور چربی پائے جاتے ہیں۔ ان پیچیدہ اجزا کو جسم کے ذریعے استعمال کیے جانے سے پہلے سادہ تر شکلوں میں تو ڑا جاتا ہے۔ لیکن ریمل کس طرحاانجام پاتا ہے؟
پیچیدہ غذائی اجزا کو سادہ تر شکلوں میں توڑنے کا عمل ایک بھی نالی میں انجام پاتا ہے ہے میں انجام پاتا ہے جسے غذائی نالی (alimentary canal) کہتے ہیں۔ یہ عمل منھ سے شروع ہوتا ہے اور مقعد (anus) پر جا کر ختم ہوتا ہے (شکل 1 . 9) ۔ جب غذا اس نالی سے گزرتی ہے تو مختلف حصوں سے خارج ہونے والے ہاضم رس (digestive juices) اس کھانے کو سادہ تر شکلوں میں توڑ دیتے ہیں۔ غذائی نالی کے مختلف حصے ان سادہ تر شکلوں کو جذب کر لیتے ہیں اور مختلف افعال انجام دینے کے لیے انھیں ہمارے جسم کے مختلف اعضا تک پہنچایا جاتا ہے۔
9.1 جانوروں میں تغذیہ
پیچیدہ غذائی اجزا سادہ تر شکلوں میں کس طرح توڑے جاتے ہیں اور انھیں مختلف جانوروں کے جسم کیسے استعمال کرتے ہیں؟ کیا یہ عمل تمام جانوروں میں یکساں ہے یا الگ الگ طریقوں سے انجام پاتا ہے؟ آئیے پہلے انسانوں میں اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
9.1.1 انسانوں میں ہاضمہ
آیئے ہمارے جسم میں غذائی نالی سے ہوتے ہوئے مختلف اعضا تک پہنچنے تک کے خوراک کے سفر کا جائزہ لیں۔
جوف دهن (mouth cavity) سے آغاز
جو کھانا آپ کھاتے ہیں اس کا سفر آپ کے منھ سے شروع ہوتا ہے۔ آپ کے دانت اس کھانے کو کچلنے اور چبانے کے عمل کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ریزوں میں توڑ دیتے ہیں۔ غذا کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑنے کے اس ابتدائی عمل کو میکانیکی ہاضمہ ( mechanical digestion) کہتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ کھانے کے بارے میں سوچیے، کیا آپ کے منھ میں پانی آیا ؟
یہ اس لیے ہوا کیوں کہ جب آپ نے اپنی پسندیدہ غذا کے بارے میں سوچا تو آپ کے منھ سے زیادہ لعاب ( سلیوا) خارج ہوا۔ آپ کے خیال میں آپ کے منھ میں لعاب کا کیا کردار ہے؟ جب آپ کوئی مختلف قسم کا کھانا، جیسے چپاتی، کھاتے ہیں تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے ؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔
ایک چپاتی کا چھوٹا سا ٹکڑا یا چاول کا چھوٹا سا لقمہ لیں اور اسے 30-60 سیکنڈ تک چبائیں ۔ پہلے پہل کا ذائقہ حسب معمول محسوس ہو گا، لیکن جب آپ اسے چباتے رہتے ہیں تو کیا آپ کو ذائقے میں کوئی فرق محسوس ہوا؟ کھانا میٹھا محسوس ہونے لگا! کیا آپ نے بھی سوچا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
چپاتی یا چاول میں نشاستہ (اسٹارچ) ہوتا ہے جو کاربوہائیڈریٹ کی ایک قسم ہے۔ ہمارے لعاب میں ایسا ہاضم رس ہوتا ہے جو نشاستے کو کر میں توڑدیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشانے کی حامل غذا، جیسے چپاتی، زیادہ دیر تک چہائے جانے پر بیٹھی محسوس ہوتی ہے۔ لعاب غذا کے اجزا کو سادہ تر اجزا میں توڑنے میں مدد کرتا ہے۔
ایک صحت مند منھ کے لیے اس کی اچھی صفائی ستھرائی کی ضرورت ہے ہمیں اپنے دانت دن میں دو بار مانجھنے چاہئیں اور زبان کو صاف رکھنا چاہیے، نیز ہر بارکھانا کھانے کے بعد کلی کرنی چاہیے تا کہ ہمارے دانت خراب نہ ہوں اور ہمارے منھ سے بد بونہ آئے۔ ان طریقوں کو دریافت کریں جن کے ذریعے ہمارے بزرگ اپنے منھ کی صفائی رکھا کرتے تھے۔
سرگرمی 9.1: آپنے تحقیق کریں
- دو جانچ نلیاں لیں اور ان پر 'A' اور 'B' کا لیبل لگائیں۔
- جانچ نلی A میں ایک چھچ بھر کر ابلے چاول ڈالیں اور جانچ نلی B میں ایک پیچ چاول 30-60 سیکنڈ تک چبا کر ڈالیں۔
- دونوں جانچ نلیوں میں 3-4 ملی لیٹر پانی ڈالیں۔
- جدول 9.1 میں چاول اور پانی کے آمیزے کے ابتدائی رنگ کو درج کریں۔
- ڈراپر سے دونوں جانچ نلیوں میں 3-4 قطرے آیوڈین محلول کے ڈالیں۔ دونوں نلیوں کے مشمولات کو الگ الگ اچھی طرح ملائیں اور مشاہدہ کریں۔
اپنے مشاہدات کو جدول 9.1 میں درج کریں۔
جدول 9.1: نشاستے پر لعاب کا عمل
کیا آپ نے غور کیا کہ جانچ نلی A میں ابلے ہوئے چاول کا رنگ نیلا سیاہ ہو گیا، جب کہ جانچ نلی B میں چاول کا رنگ نہیں بدلا یا پھر بہت ہلکا نیلا۔ سیاہ ہوا ہے ؟ جانچ ملی A میں رنگ بدلنے کی وجہ کیا ہے؟ گریڈ 6 میں ہم نے پڑھا ہے کہ آیوڈین جب نشاستے کے ساتھ تعامل کرتی ہے تو نیلا۔ سیاہ رنگ پیدا کرتی ہے۔ جانچ ملی A میں نے نیلے۔سیاہ رنگ کا ظاہر ہونا نشاستے کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جانچ ملی B نے، جس میں چبائے ہوئے چاول ہیں ، اگر رنگ نہیں بدلا تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس میں اب نشاستہ موجود نہیں ہے ؟ اگر رنگ معمولی سا بدلا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نشاستہ بہت معمولی مقدار میں موجود ہے۔ اسے لعاب کے عمل نے سادہ شکر میں توڑ دیا ہے۔ اگر جانچ نالی B میں اب بھی رنگ ہے تو آپ اس سرگرمی میں مزید تفتیش کرنے کے لیے کیا تبدیلی کریں گے؟ کیا چبانے کا وقت بڑھانے سے رنگ بدلے گا ؟ سرگرمی کو دہرا کر جاننے کی کوشش کیجیے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ منھ کے لعاب کے اخراج سے نشاستے کو شکر میں توڑنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم میں پیچیدہ غذا کے اجزا کو سادہ تر اجزا میں توڑے جانے کے اس عمل کو ہاضمہ یا نظام ہاضمہ کہتے ہیں۔ غذا جزوی طور پر منھ میں ہضم ہوتی ہے۔ آئیے جانیں کہ یہ جزوی طور پر ہضم شدہ غذا آگے غذائی نالی یہ رائی نالی میں کس طرح ہضم ہوتی ہے۔
غذائی ( ایسوفیگس): منھ سے معدہ تک کاراستہ
جب آپ اپنا کھانا چباتے ہیں تو لعاب نہ صرف نشاستے کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے بلکہ اسے آسانی سے نگلنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ آپ کی زبان چبائے ہوئے کھانے کو لعاب میں ملانے اور اس طرح نرم کی ہوئی غذا کو ایک لمبی لچک دار نالی میں دھکیلنے میں مدد کرتی ہے جسے ایسو ٹیکس کہتے ہیں (شکل 9.2) لیکن کھانا نیچے کیسے اترتا ہے؟ غذانلی کی دیواریں موج جیسی حرکت میں آہستگی سے سکڑتی اور پھیلتی ہیں اور کھانے کو معدے میں دھکیلتی ہیں۔ یہ حرکت پوری ایلیمنٹری کنال میں واقع ہوتی ہے اور کھانے کو آگے دھکیلتی ہے۔
معده
غذا کو پینے کے لیے معدے کی دیواریں سکڑتی اور پھیلتی ہیں ۔ اس سے پیسا ہوا کھانا معدے کے اندرونی کنارے سے نکلنے والے مادے سے آمیز ہو جاتا ہے۔ معدے سے نکلنے والا مادہ ہاضم رس، تیزاب اور مخاط مشتمل ہوتا ہے۔
معدے کے ہاضم رس غذا میں موجود پروٹین کو سادہ تراجزا میں توڑ دیتے ہیں۔
تیزاب نہ صرف پروٹین ( لحمیات) کو توڑنے میں مدد کرتا ہے بلکہ بہت سے ضرر رساں بیکٹیریا کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ میوکس معدے کی ہو میں۔ معدے دیواروں کو تیزاب سے بچاتا ہے جس سے وہ خراب نہیں ہوتیں۔ مع کے اندر ، غذا جزوی طور پر ہضم ہوتی ہے اور نیم مائع حالت میں بدل جاتی ہے اور ہاضمہ کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔
سائنس دانوں کو انسانی جسم کے نظام ہاضمہ کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ شکم کس طرح کام کرتا ہے ، یہ اتفاقی دریافت تھی۔ 1822 میں الیکس سینٹ مارٹن نامی ایک شخص کو اتفاق سے پیٹ میں گولی لگ گئی۔ اس کا علاج ایک ڈاکٹر ولیم بیومونٹ نے کیا۔ تاہم اس کا زخم پوری طرح کبھی ٹھیک نہ ہو سکا اور اس کے جسم میں ایک چھوٹا سا مستقل سوراخ رہ گیا۔ اس سوراخ کے ذریعے سے ڈاکٹر بیومونٹ نے ہاضمے کے عمل کو واقع ہوتا ہوا مشاہدہ کیا۔ انھوں نے اس پر تجربات کیے کہ کس طرح مختلف قسم کی غذائیں جسم کے اندر ہضم ہوتی ہیں اور نظام ہاضمہ جذبات کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔
چھوٹی آنت
جزوی طور پر ہضم شدہ غذا معدے سے آگے کے سفر میں چھوٹی آنت میں منتقل ہو جاتی ہے ۔ شکل 9.4 دیکھیے۔ یہ ایک سیدھی کی گئی الیمنٹری کنال کا خاکہ ہے۔ قیاس کیجیے کہ یہ کتنی لمبی ہو گی۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ اگر چہ اسے چھوٹی آنت کہا جاتا ہے پھر بھی اس کی لمبائی تقریباً 6 میٹر ہوتی ہے، لگ بھگ آپ کے کمرۂ جماعت کی چھت کی اونچائی کے برابر ! آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہو گی کہ چھوٹی آنت الیمنٹری کنال کا سب سے لمبا حصہ ہے۔
چھوٹی آنت کو تین ذرائع سے ہاضمی اخراجات موصول ہوتے ہیں۔ خود چھوٹی آنت کی اندرونی پرت سے اور الیمنٹری کنال سے منسلک دو مزید اعضا سے ۔ جگر اور لبلبہ (شکل 9.4)۔ جگر صفرا کا اخراج کرتا ہے جو نوعیت میں تھوڑا سا اساسی ہوتا ہے۔ باب مادوں کی کھوج : تیزابی، اساسی اور تعدیلی سے تعدیلی تعامل کو یاد کریں صفرا شکم سے آنے والی غذا میں موجود تیزاب کی تعدیل کرتا ہے اور چربی کو چھوٹے چھوٹے قطرات میں توڑ دیتا ہے جس سے انھیں ہضم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ لبلبہ پینکر یا ٹک رس کا اخراج کرتا ہے، یہ بھی اپنی نوعیت میں اساسی ہوتا ہے جو غذا میں موجود تیزاب کی تعدیل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پینکر یا ٹک رس کاربو ہائیڈریٹس، پروٹین اور چربی کو بھی توڑتے ہیں۔ چھوٹی آنت کی دیوار سے خارج ہونے والے ہاضم رس چربی، پروٹین اور جزوی طور پر ہضم شدہ کاربوہا مزید سادہ تر شکلوں میں توڑ دیتے ہیں۔
ہضم شدہ مغذیات چھوٹی آنت سے خون کی نلیوں میں منتقل ہو جاتی ہیں جو چھوٹی آنت کی دیواروں میں پائی جاتی ہیں۔ اس عمل کو تغذیاتی کا انجذاب کہتے ہیں۔ چھوٹی آنت سے ان مغذیات کو کس طرح جذب کیا جاتا ہے؟ چھوٹی آنت کی اندرونی پرت پتلی ہوتی ہے اور اس میں ہزاروں انگلیوں جیسے ابھرے ہوئے حصے ہوتے ہیں (شکل 9.5) جو مغذیات کے موثر انجذاب کے لیے اس کی سطح کارقبہ بڑھا دیتے ہیں۔ یہ انگلی نما حصے ہضم شدہ مغذیات کو خون میں منتقل کر دیتے ہیں جو انھیں جسم کے مختلف حصوں تک لے جاتا ہے۔ یہ مغذیات توانائی فراہم کرتے ہیں، نشو نما میں مدد کرتے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں نیز جسم کے افعال کو درستگی سے انجام دینے میں مدد کرتے ہیں۔
مرض شکم ( Celiac disease) ایک ایسا عارضہ ہے جس میں جسم گلوٹن کے تئیں رد عمل ۔ کرتا ہے۔ گلوٹن گندم، جو اور رائی میں پایا جانے والا ایک لحمیہ ہے۔ اس رد عمل کے نتیجے میں چھوٹی آنت کی اندرونی پرت کو نقصان پہنچتا ہے جہاں مغذیات جذب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے آنت درست طریقے سے اپنا کام انجام نہیں دے پاتی۔ مرض شکم کے علاج کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایسی غذاؤں سے پر ہیز کیا جائے جن میں گلوٹن پایا جاتا ہے موٹے اناج ( جیسے جوار، باجرہ ، اور راگی) اچھے متبادل ہیں کیوں کہ یہ قدرتی طور پر گلوٹن سے عاری ہوتے ہیں۔
بڑی آنت
چھوٹی آنت میں بیشتر مغذیات کے ہضم اور جذب ہونے کے بعد غیر ضم شدہ غذا کا کیا ہوتا ہے ؟ یہ بڑی آنت میں منتقل ہو جاتی ہے۔ بڑی آنت تقریباً 1.5 میٹر لمبی ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی آنت سے چھوٹی ہوتی ہے۔ تو پھر اسے بڑی آنت کیوں کہتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چھوٹی آنت کے مقابلے میں زیادہ چوڑی ہوتی ہے۔ بڑی آنت غیر ضم شدہ غذا سے پانی اور بعض نمکیات کو جذب کرتی ہے، اس طرح یہ فضلے کو نیم ٹھوس بنانے کا کام کرتی ہے۔ یہ نیم ٹھوس فضلہ پاخانہ کہلاتا ہے۔ پھر پاخانہ بڑی آنت کے نچلے حصے میں جسے سیدھی آنت یا rectum کہتے ہیں، تب تک جمع رہتا ہے جب تک کہ جسم اسے باہر نکالنے کے لیے تیار نہ ہو جائے۔ خوب ریشے دار غذا جیسے پھل، سبزیاں اور موٹا اناج کھانے سے فضلے کے اخراج کو آسان تر بناکر بڑی آنت کے درست فعل میں مدد ملتی ہے۔ آخر میں، فضلہ مقعد کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے۔ اس عمل کو اخراج (egestion) کہتے ہیں۔ اس طرح آپ کا جسم اس فضلے کو باہر نکال کر جس کی اسے ضرورت نہیں ہوتی آپ کو صحت مند رکھتا ہے! کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ آپ کا نظام ہاضمہ کس طرح کام کرتا ہے، غذا سے کس طرح مغذیات کو جذب کرتا ہے اور فضلے کو خارج کرتا ہے؟
بڑی آنت میں مختلف جان دار خورد عضویے، جیسے بیکٹیریا ہوتے ہیں، جو ہاضمے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ ہمارے نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ غیر رضم شدہ غذا کو توڑتے ہیں، خاص طور پر ریشے کو ، اور ضروری مغذیات پیدا کرے ہیں۔ ریشے سے بھر پور غذا، خاص طور پر خمیری غذائیں جیسے ( دہی ، چھاچھ ، شری کھنڈ ، کانجی ، اچار، گند رک اور پوسٹا بھات) تندرست نظام ہاضمہ اور مجموعی صحت کے لیے اچھی غذائیں ہیں۔
اچھی صحت برقرار رکھنے کے لیے ہاضمے کی اہمیت کو صدیوں سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ چرک سمہتا، ایک قدیم آیور ویدک تصنیف، آسانی سے ہضم ہونے والی غذاؤں پر زور دیتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بنانے کے لیے ادرک، کالی مرچ اور زیرہ جیسے مصالحوں کے مناسب استعمال کو اجاگر کرتی ہے۔ مغذیات کے میدان میں سائنسی ترقی بھی ہاضمے کی صحت کے لیے صحیح وقت پر کھانے، توجہ اور انہماک کے ساتھ کھانے نیز بسیار خوری سے بچنے جیسے اہم عوامل پر زور دیتی ہے۔
9.1.2 کیا تمام جانور اسی طرح کھانے کو ہضم کرتے ہیں جس طرح انسان کرتے ہیں؟
گھاس چرنے والے جانور جیسے گائیں ( شکل 9.6) اور بھینسیں جزوی طور پر گھاس کو چبا کر نگل لیتی ہیں اور اپنے پیٹ میں پہنچا دیتی ہیں۔ پیٹ میں جزوی ہاضمہ واقع ہوتا ہے۔ یہ جزوی طور پر ہضم شدہ کھانا منھ میں بتدریج چہائے جانے کے لیے دوبارہ لایا جاتا ہے۔ اس عمل کو جگالی ( remination) کہتے ہیں اور ان جانوروں کو جگالی کرنے والے جانور کہا جاتا ہے۔ گائے دن میں آٹھ گھنٹے صرف کھانے کی جگالی میں صرف کرتی ہے ! اچھی طرحچبایا گیا کھانا دوبارہ الیمنٹری کنال میں مزید بہضم کیے جانے کے لیے منتقل کیا جاتا ہے۔
پرندوں کے دانت نہیں ہوتے لیکن ان کے پیٹ میں ایک خانہ ہوتا ہے جسے gizzard کہا جاتا ہے (شکل 9.7) - کھانے کو گیز رڈ کی دیواروں کے سکڑنے اور پھیلنے کے ذریعے تو ڑا جاتا ہے، اکثر اوقات کنکریوں کی مدد سے جنھیں پرندے نگل جاتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی الیمنٹری کنال کی ساخت اور فعل میں فرق پایا جاتا ہے جو مختلف قسم کی غذاؤں کو مختلف طریقے سے ہضم کرنے کے توافق ہیں۔
ہم نے جانا کہ ہضم شدہ غذا میں موجود مغذیات جسم کے مختلف حصوں میں لے جائے جاتے ہیں۔ بعض مغذیات جسم کی تشکیل اور مرمت کرتی ہیں، جب کہ دیگر ، جیسے شکر کو جسم کے اندر توانائی خارج کرنے کے لیے توڑا جاتا ہے۔ اس عمل کو جس کے ذریعے مغذیات کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے نفس (respiration) کہا جاتا ہے۔ آئیے تفتیش کریں کہ یہ عمل جانوروں میں کس طرح انجام پاتا ہے۔
9.2 جانوروں میں تنفس
ہم نے گریڈ 6 کے باب "جان دار مخلوقات: ان کی خصوصیات کی تفتیش میں پڑھا تھا کہ تمام جان دار مخلوقات سانس لیتی ہیں۔ کیا سانس لینے کا عمل تمام جانوروں میں یکساں ہے؟ آئیے پہلے انسانوں میں تنفس کے عمل کو سمجھتے ہیں۔
9.2.1 انسانوں میں نفس
آپ جانتے ہیں کہ ہم آکسیجن حاصل کرنے اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرنے کے لیے مسلسل ہوا کو اندر ہیں۔ جسم breathe out / exhale( اور باہر نکالتے )breathe in inhale(کے میں یہ آکسیجن کیسے استعمال کی جاتی ہے؟ کیا سانس لینے (breathing) اور تنفس (respiration) میں فرق ہے؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔
ہم سانس کیسے لیتے ہیں؟
ہوا کو اندر کھینچنے اور خارج کرنے کا عمل سانس لینا کہلاتا ہے۔ بغیر کچھ کھائے ایک ہفتے تک اور بغیر پانی پیے ایک یا دو دن تک زندہ رہنا مشکل ہے، لیکن بغیر سانس لیے، ہم عام طور پر چند منٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم سب زندہ ہیں کیوں کہ ہم سانس لیتے ہیں۔ صرف انسان ہی نہیں، بلکہ پیڑ پودے اور دیگر جانور بھی سانس لیتے ہیں۔ لیکن ہم سانس کیسے لیتے ہیں؟
جس طرح غذا نظام ہاضمہ میں ایک مخصوص راستے پر چلتی ہے اسی طرح ہمارے جسم میں سانس لینے اور تنفس کے لیے بھی ایک مخصوص نظام ہوتا ہے۔ اس نظام کو نظام تنفس (respiratory system) کہا جاتا ہے۔ نظام تنفس مختلف حصوں پر مشتمل ہے جیسا کہ شکل 9.8 میں دکھایا گیا ہے۔ اس نظام میں گیسوں کا تبادلہ ایک مخصوص راستے کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہ راستہ جس کے ذریعے ہوا کو سانس کے ذریعے کھینچا اور خارج کیا جاتا ہے اس میں نظام تنفس کے مختلف حصے شامل ہوتے ہیں جو سانس لینے اور تنفس کے عمل میں مدد کرتے ہیں۔
نظام تنفس کا آغاز ناک کے دوسوراخوں سے ہوتا ہے جنھیں نتھنے ( nostrils) کہا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے ہم ہوا کھینچتے ہیں اور خارج کرتے ہیں (شکل 9.8)۔ کھینچی یچی گئی ہو ہوا چھوٹے چھوٹے راستوں کے ایک جوڑے میں میں گہ گزرتی ہے جسے انی راستے (nasal passages) کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے اپنے نتھنوں کے اندر چھوٹے چھوٹے بال دیکھے ہیں؟ یہ بال مخاط (mucus) کے ساتھ مل کر اس ہوا سے غبار اور گندگی کو روکنے میں مدد کرتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں منھ کے ذریعے نہیں بلکہ ناک کے ذریعے سانس لینا چاہیے۔ انفی راستوں سے ہوا نرخرے (windpipe) کے ذریعے ہمارے پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے۔ کی دو شاخیں بنتی ہیں، جو دونوں پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہیں ۔ پھیپھڑوں میں، یہ شاخیں مزید چھوٹی اور باریک شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں جو چھوٹے غبارے جیسی تھیلیوں پر جا کر ختم ہوتی ہیں جنھیں مسامات تنفس (alveoli) کہا جاتا ہے (شکل 9.8)۔ پسلیاں ہمارے پھیپھڑوں کا تحفظ کرتی ہیں۔
اگر چہ بہت سارا گردو غبار سانس کی ذریعے کھینچی جانے والی ہوا سے چھن جاتا ہے ، اکثر چھوٹے چھوٹے متعدی ذرات پھیپھڑوں کے اندر پہنچ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوڈ 19 کی وبا کے دوران سارس - کووی -2 وائرس نے متاثرہ لوگوں کے نظام تنفس پر اثر ڈالا، جس کی وجہ سے انھیں سانس لینے میں دشواری ہوئی اوراکثر پھیپھڑوں کے سنگین مسائل لاحق ہو گئے تھے۔
آیئے ایک سادہ سا ماڈل بنا کر سانس لینے کے میکانزم کو سمجھیں۔
سرگرمی 9.2: آئیے ایک ماڈل بنائیں۔
- ڈھکن والی ایک بڑی شفاف پلاسٹک کی بوتل لیں۔ اس کے پیندے کو ہٹادیں۔
- بوتل کے ڈھکن میں سوراخ کریں۔
- شکل والی ایک کھوکھلی نلی لیں ، جیسی کہ شکل 9.9 میں دکھائی گئی ہے۔
- نلی کے دوشاخے پر دو پچکے ہوئے غبارے فٹ کریں۔ انھیں ہوا بند کرنے کے لیے ربڑ بینڈ کی انھیں ہوا بند کرنے کے لئے رابراینڈی مدد سے کسی دیں۔
- بوتل کے کھلے پیندے سے ڈھکن کے اندر سے نلی کے سیدھے سرے کو کس کر داخل کریں اور ڈھکن کو چکنی مٹی سے بند کر دیں تا کہ یہ ہوا بند ہو جائے۔
- بوتل کے کھلے پیندے پر ایک بڑے ربڑ بینڈ کی مدد سے ایک پتلی ربڑ کی شیٹ کو کس کر منسلک کریں۔
ربڑ کی شیٹ کو پیندے کے مرکز سے نیچے کی طرف کھینچیں اور غباروں کو دیکھیں شکل 9.9) ۔ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ اب، ربڑ کی شیٹ کو اوپر کی طرف چھوڑیں اور غبارے کا مشاہدہ کریں ( شکل 9.95) ۔ آپ غبارے میں کیا تبدیلیاں دیکھتے ہیں؟ جب آپ ربڑ کی شیٹ کو نیچے کی طرف کھینچتے ہیں تو غبارے پھول جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ، جب آپ ربڑ کی شیٹ کو اوپر کی طرف چھوڑتے ہیں تو غبارے پچک جاتے ہیں۔
جب آپ سانس اندر کھینچتے ہیں تو پسلیاں او پر اور باہر کی جانب پھیلتی ہیں اور آپ کا سینہ پھول جاتا ہے۔ ڈایافرام ( پھیپھڑوں کے نیچے گنبد نما پٹھا) سانس لینے کے دوران نیچے کی طرف حرکت کرتا ہے (9.1a * sqrt(6 ^ 8)) ۔ اس سے سینے کے اندر کی جگہ بڑھ جاتی ہے ہے اور ہوا پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب آپ سانس خارج کرتے ہیں تو پسلیاں نیچے اور اندر کی طرف چلی جاتی ہیں، اور ڈایافرام اوپر کی طرف اٹھ جاتا ہے ( شکل (100 . 9) ، جس سے جگہ کم ہو جاتی ہے اور ہوا پھیپھڑوں سے باہر نکل جاتی ہے۔
شکل 9.9 میں دکھائے گئے ماڈل میں غبارے کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ربڑ کی شیٹ کس چیز کی نمائندگی کرتی ہے ؟ اس ماڈل میں غبارے پھیپھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ربڑ کی شیٹ ڈایافرام کی نمائندگی کرتی ہے۔
صحت مند زندگی کے لیے سانس لینے کی مشقیں
سانس لینے کی مشقیں صدیوں سے ہندوستان اور دنیا بھر میں مختلف ثقافتوں میں رائج ہیں تنفسی صحت، ذہنی سکون اور ارتکاز کو بہتر بنانے کے لیے پرانایام مشہور ہے۔ لداخ میں لوگ سانس لینے کی ایک مشق تمو (Tummo) کرتے ہیں، یہ ایک ایسی تکنیک ہے جو پھیپھڑوں کے فعل کو بہتر بناتی اور سرد موسم میں بھی جسم کو گرم رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح تندرست رہنے کے لیے گہری سانسیں لینے کی تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ روایات گہری سانس لینے کو جاپ کے ساتھ جوڑتی ہیں، اور سکون اور ذہنی صفائی (mental clarity) کو بڑھانے کے لیے آہنگ کے ساتھ سانس پر کنٹرول کرنے کا استعمال کرتی ہیں۔
ہم سانس کے ذریعے کیا خارج کرتے ہیں؟
سرگرمی 9.3: آئے معلوم کریں۔
اس سرگرمی کا مظاہرہ استاد کریں گے۔
- دو جانچ نلیاں، A اور B میں تازہ تیار کردہ چونے کے پانی کی مساوی مقدار لیں، جیسا کہ شکل 9.11 میں دکھایا گیا ہے۔
- جانچ تلی A میں سرنج / پچکاری کا استعمال کرتے ہوئے ہوا کو داخل کریں ( شکل (9.11a) ۔ یہ وہی ہوا ہے جو آپ سانس کے ذریعے کھینچتے ہیں۔
- جانچ ملی B میں بار بار اپنے منھ سے ہوا کو چونے کے پانی میں پھونکیں (شکل (9.11b)-
- کیا آپ کو چونے کے پانی کے رنگ میں کوئی تبدیلی نظر آئی ؟
جانچ ملی B میں چونے کا پانی دو دھیا ( یا گدلا) ہو جاتا ہے، لیکن جانچ ملی A میں چونے کا پانی دو دھیا نہیں ہوتا۔ اس سے کیا اشارہ ملتا ہے؟ چونے کا پانی جب کاربن ڈائی آکسائڈ کے ساتھ رد عمل کرتا ہے تو دو دھیا بن جاتا ہے۔ لہذا اس سے پتہ چلتا ہے کہ خارج ہونے والی ہوا میں اس ہوا کے مقابلے میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ ہوتی ہے جسے ہم سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں۔
گیسوں کا تبادلہ کیسے ہوتا ہے؟
سانس لینے کے عمل کے ذریعے باہر سے تازہ ہوا پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے اور مسامات تنفس کو بھر دیتی ہے۔ مسامات تنفس کی دیواریں پتلی ہوتی ہیں جن کے اردگر دبار یک نلیاں ہوتی ہیں جن میں خون ہوتا ہے (شکل 9.12) خون کاربن ڈائی آکسائڈ کو جسم سے مسامات تنفس تک لے جاتا ہے، جہاں اسے ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی وقت مسامات تنفس کے ذریعے آکسیجن خون میں پہنچ جاتی ہے اور جسم کے تمام حصوں میں منتقل ہوتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ جو غذا کھاتے ہیں وہ آپ کو توانائی کیسے دیتی ہے؟ اس کی کلید صرف غذا ہی نہیں بلکہ آکسیجن بھی ہے جسے ہم سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں! جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اسے شکر ( گلوکوز ) جیسے سادہ مادوں میں توڑ دیتا ہے۔ آکسیجن توانائی کے اخراج کے لیے گلو کوز کو توڑنے میں مدد کرتی ہے۔ اس عمل کو تنفس (respiration) کہا جاتا ہے۔ سانس لینے کے عمل کی لفظی مساوات ذیل میں دی گئی ہے :
گلوکوز + آکسیجن ← کاربن ڈائی آکسائڈ + پانی + توانائی
ہم سانس لینے کے دوران اپنے ارد گرد کی ہوا کو باہر چھوڑی گئی ہوا سانس کے ذریعے اندر کھینچتے اور جو ہوا خارج کرتے ہیں اس میں کھینچی گئی ہوا کے مقابلے میں زیادہ کار بن ڈائی آکسائڈ ہوتی ہے۔ غور کریں کہ تمام آکسیجن استعمال نہیں کی جاتی ہے (شکل 9.13) بعض دیگر حصہ استعمال کر سکتے ہیں۔ گیسوں کا یہ تبادلہ اس بات کرنے اور فضلے کو نکالنے کے لیے آکسیجن مل سکے۔ سادہ الفاظ میں سانس لینے میں آکسیجن لی جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کی جاتی ہے، جبکہ نفس میں غذا کو توڑنے اور توانائی خارج کرنے کے لیے آکسیجن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ توانائی ہمیں چلنے پھرنے، دوڑ نے، کھیلنے یہاں تک کہ سوچنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
سانس لینا ایک طبیعی عمل ہے، جبکہ تنفس ایک کیمیائی عمل ہے جو جسم کے اندر ہوتا ہے۔ دونوں عمل ہماری بقا کے لیے ضروری ہیں۔
ہمارے جسم میں غذائی اجزاء آکسیجن اور دیگر مادوں کی منتقلی کے لیے ایک انوکھا نظام موجود ہے۔ اس نظام کو دورانی نظام (circulatory system) کہا جاتا ہے۔ اس میں دل ، خون اور خون کی شریانیں شامل ہیں۔ دل خون کی شریانوں کے ذریعے خون کو پمپ کرتا ہے، جسم کے تمام حصوں میں غذائی اجزاء آکسیجن اور دیگر مادوں کی منتقلی کو یقینی بناتا ہے اور فضلے کو ہٹایا جاتا ہے۔
تمباکو نوشی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور پھیپھڑوں کے سرطان اور تنفسی بیماریوں سمیت دیگر سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ یہ سلسل کھانسی اور بار بار تعدیہ کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ، تمباکو نوشی سے ہوا میں زہریلے کیمیائی مادے آجاتے ہیں، جس سے دوسروں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جب تمباکو نوشی نہ کرنے والے اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں تو انھیں مجہول تمباکو نوشی کا تجربہ ہوتا ہے، جو بچوں ، حاملہ خواتین اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر خطر ناک ہو سکتی ہے۔ ان خطرات کی وجہ سے تمباکو نوشی سے بچنا نہ صرف ذاتی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ ہمارے آس پاس کے لوگوں کی صحت کو بنائے رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
9.2.2 کیا دوسرے جانور بھی اسی طرح سانس لیتے ہیں جیسے انسان؟
آپ نے پڑھا ہے کہ مختلف جانور الگ الگ مسکنوں میں رہتے ہیں۔ آپ نے پرندوں کو اڑتے اور مچھلیوں کو تیرتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ وہ سانس کیسے لیتے ہیں؟ جانور، جیسے پرندے، ہاتھی ، شیر ، گائے، بکریاں، چھپکلیاں اور سانپ، اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ اگر چہ ان تمام جانوروں کے پھیپھڑے ہوتے ہیں لیکن ان سبھی کے پھیپھڑوں کی ساخت کافی مختلف ہوتی ہے۔ مچھلیوں کی طرحزیادہ تر آبی جانوروں میں گلپھڑے (gills) کی خصوصی ساخت ہوتی ہے (شکل 14. 9)۔ ان کے اندر بھر پور خون کی شریانیں ہوتی ہیں۔ گلپھڑوں میں خون اور پانی میں تحلیل شدہ گیسوں کے درمیان آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ مینڈکوں جیسے جل تھلیا جانور زمین اور پانی دونوں میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں سانس لینے کے لیے جسم کے مختلف حصوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مینڈ کچے گلپھڑوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں، جبکہ بالغ مینڈک پانی میں رہنے پر گیس کے تبادلے کے لیے پھیپھڑوں کا استعمال کرتے ہیں اور زمین پر اپنی جلد کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ یہ توافق ( adaptation) انھیں پانی اور زمین دونوں میں زندہ رہنے میں مدد کرتا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانوروں نے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ماحول میں کس طرح خود کو ڈھال لیا ہے۔ کیچوے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے تبادلے کے لیے اپنی نم جلد کا استعمال کرتے ہیں۔
اس طرح مختلف جانوروں میں ان کے منفر د مسکنوں کے مطابق سانس لینے کے مختلف نظام عمل ہوتے ہیں۔ نظام ہاضمہ ، نظام تنفس اور دورانی نظام کے علاوہ دیگر نظام بھی ہیں جو جسم میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں اور زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف افعال انجام دیتے ہیں۔ آپ بڑی جماعتوں میں ان کے بارے میں پڑھیں گے۔
خلاصه
- زندگی کے عمل جیسے تغذیہ ، دوران خون، تنفس، اخراج فضلہ اور تولید زندہ مخلوق کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ ان اعمال کو اجتماعی طور پر حیاتیاتی اعمال کہا جاتا ہے۔
- انسانی نظام ہاضمہ ایک الیمنٹری کنال پر مشتمل ہوتا ہے جس میں منھ ، غذانلی ، معدہ، چھوٹی آنت، بڑی آنت اور مقعد اور اس سے منسلک اعضا، جگر اور لبلبہ شامل ہیں۔
- ہضم شدہ غذا بنیادی طور پر چھوٹی آنت کی دیواروں کے ذریعے جذب ہوتی ہے۔
- جذب شدہ غذائی اجزا خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں میں منتقل ہوتے ہیں جہاں انھیں مختلف افعال کی انجام دہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
- بڑی آنت غیر ہضم شدہ غذا سے زیادہ تر بچا ہوا پانی اور کچھ نمکیات جذب کرتی ہے۔
- سبزہ خور جانور جیسے گائے اور بکریوں کو جگالی کرنے والے جانور کہا جاتا ہے۔ وہ غذا کو جزوی طور پر چباتے اور نگل جاتے ہیں۔ بعد میں، جزوی طور پر ہضم شدہ غذا منھ میں واپس آجاتی ہے، اور جانور اسے اچھی طرح چباتا ہے۔
- سانس لینے میں پھیپھڑوں میں ہوا پہنچنا ( سانس سے ہوا کھینچنا اور پھیپھڑوں سے باہر نکالنا (خارج کرنا) شامل ہیں۔
- آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا تبادلہ پھیپھڑوں کے مسامات تنفس میں ہوتا ہے۔
- تنفس سانس کے ذریعے کھینچی گئی ہوا اسے آکسیجن کا استعمال کرتے ہوئے گلو کوز کو کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی میں توڑتا ہے۔ وہ عمل جس کے ذریعہ غذائی اجزا کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے اسے نفس کہا جاتا ہے۔
- دورانی نظام جسم کے تمام حصوں میں غذائی اجزا اور آکسیجن کو پہنچاتا ہے۔ اس میں دل بھی شامل ہے جو خون کی شریانوں کے ذریعے خون کو پمپ کرتا، آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے نیز جسم سے فضلہ بھی نکالتا ہے۔
- سانس لینا ایک طبیعی عمل ہے اور تنفس ایک کیمیائی عمل ہے۔
- مختلف جانوروں میں سانس لینے کے مختلف نظام عمل ہوتے ہیں جو ان کے مسکنوں کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔
اپنی آموزش میں اضافہ کریں
1. الیمنٹری کنال میں غذا کا سفر مناسب حصوں کے ساتھ خانوں کو بھر کر مکمل کیجیے:
غذا ← منھ ← معده ← ← ← ← مقعد
2. ساحل نے چپاتی کے کچھ ٹکڑے ٹیسٹ ٹیوب A میں رکھے۔ نیہا نے چبائی ہوئی روٹی کو ٹیسٹ ٹیوب B میں رکھا اور سنتوشتی نے ابلے ہوئے آلو کو ٹیسٹ ٹیوب C میں لیا۔ ان سب نے بالترتیب اپنی ٹیسٹ ٹیوب B ، A اور C میں آیوڈین کے محلول کے چند قطرے شامل کیے۔ ان کے مشاہدات کیا ہوں گے؟ وجوہات بتائیں
3. سانس لینے میں ڈایافرام کا کیا کردار ہے؟
- ہوا کو فلٹر کرنا
- آواز پیدا کرنا
- سانس لینے اور خارج کرنے میں مدد کرنا
- آکسیجن جذب کرنا
4. مندرجہ ذیل کے جوڑے بنائیں
| عضو کا نام | فعل |
|---|---|
| (i) نتھنے | (a) باہر سے تازہ ہوا داخل ہوتی ہے |
| (ii) انفی راستے | (b) گیسوں کا تبادلہ ہوتا ہے |
| نرخره (iii) | (C) پھیپھڑوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں |
| (iv) ایل ویولی | (d)چھوٹے چھوٹے بال اور مخاط اس ہوا میں سے گردو غبار کو روک لیتے ہیں جسے ہم سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں |
| (۷) پسلیاں | (e) ہوا اس عضو کے ذریعے ہمارے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے |
5. اٹل اپنے دوست سانوی سے دعوی کرتا ہے کہ تنفس اور سانس لینا ایک ہی عمل ہیں۔ انل کو یہ سمجھنے کے لیے کہ وہ صحیح نہیں ہے، سانوی اس سے کیا سوال پوچھ سکتی ہے؟
6. مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان صحیح ہے اور کیوں؟
انو : ہم ہوا کو سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں۔
شانو : ہم آکسیجن کو سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں۔
تنو : ہم آکسیجن سے بھر پور ہوا کو سانس کے ذریعے اندر کھینچتے ہیں۔
7. جب ہم گردو غبار سے بھری ہوا میں سانس لیتے ہیں تو ہمیں اکثر چھینکیں آتی ہیں۔ اس کی ممکنہ وضاحت کیا ہو سکتی ہے؟
8. گریڈ 7 کی پریدھی اور انوشا نے اپنی صبح کی ورزش کے لیے دوڑنا شروع کیا۔ اپنی دوڑ مکمل کرنے کے بعد ، انھوں نے فی منٹ اپنی سانسوں کی گنتی کی۔ انوشا پر یدھی سے زیادہ تیزی سے سانس لے رہی تھی۔ کم از کم دو ممکنہ وضاحتیں دیجیے کہ انوشا پر یدھی سے زیادہ تیزی سے سانس کیوں لے رہی تھی؟
9. یدو نے اپنے خیال کو جانچنے کے لیے ایک تجربہ کیا۔ اس نے دو ٹیسٹ ٹیوب A اور B لیں اور ٹیسٹ ٹیوب میں ایک ایک چٹکی چاول کا آٹا شامل کیا، اسے پانی سے آدھا بھرا اور اچھی طرح ہلایا۔ بلی B میں اس نے اپنے منھ کے لعاب کے چند قطرے شامل کیے۔ اس نے 35 سے 45 منٹ کے لیے دونوں ٹیسٹ ٹیوب چھوڑ دیں۔ اس کے بعد اس نے دونوں ٹیسٹ ٹیوب میں آیوڈین کا محلول شامل کیا۔ تجرباتی نتائج کو شکل 9.15 میں دکھایا گیا ہے۔ آپ کے خیال میں وہ کیا جانچ کرنا چاہتا ہے؟

10 . رکشیتا نے دو صاف ٹیسٹ ٹیوب، A اور B لے کر ایک تجربے کا منصوبہ بنایا، اور ان ٹیسٹ ٹیوب کو چونے = کے پانی سے بھر دیا جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب A میں، ارد گرد کی ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں اسے پائپ سے ہوا کو کھینچ کر منتقل کیا، اور ٹیسٹ ٹیوب B میں ، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی ہوا کو پھونک کر بائب کے ذریعے بھیجا ( شکل 9.16)۔ آپ کے خیال میں وہ کیا تحقیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ وہ اپنے نتائج کی تصدیق کیسے کر سکتی ہے؟
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- منھ کے حفظان صحت کے لیے اچھے طور طریقے کیا ہیں؟ کتابوں / اخبارات / بزرگوں کے ساتھ گفتگو کے ذریعے اس کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کریں اور ایک رپورٹ تیار کریں۔
- صحت مند نظام ہضم کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقے تلاش کریں۔ کچھ کھانے کی اشیا تجویز کریں جو اچھی ہاضم صحت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ بنائیں اور اسے کلاس میں پیش کریں۔
- رنگین چکنی مٹی کا استعمال کرتے ہوئے نظام ہاضمہ کا تھری ڈی ماڈل تیار کریں اور سیاہ کاغذ کی پیٹیوں کا استعمال کرتے ہوئے نظام ہاضمہ کے تمام حصوں پر لیبل لگائیں۔
- ہوا کا معیار اور اے کیو آئی کیا ہوتا ہے؟ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کسانوں، فیکٹری کارکنوں یا خوانچہ فروشوں کے نظام تنفس پر ہوا کے معیار کے اثرات کا پتہ لگائیے۔
- باکس بریدینگ تکنیکوں techniques) (box-breathing کے بارے میں پڑھنے کی کوشش کریں (شکل 9.17)۔ اس کے فوائد کیا ہیں؟
- پرندوں اور ممالیہ جانوروں کے پاس سانس لینے کے لیے پھیپھڑے ہوتے ہیں، لیکن پرندے زیادہ اونچائی پر اڑ سکتے ہیں جہاں آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں زندہ رہنے میں ان کی مدد کے لیے ان کا نظام تنفس کس طرح سے ڈھالا گیا ہو گا؟