10
نباتات میں حیاتیاتی عمل
(Life Processes in Plants)
گریڈ 6 میں ہم نے پڑھا ہے کہ تمام جان داروں کی نشوو نما ہوتی ہے اور اُنھیں نشو و نما کے لیے غذا کی ضرورت پڑتی ہے۔ گزشتہ باب میں بھی ہم نے ان عملوں پر تبادلہ خیال کیا جن کے ذریعے نباتات تغذیہ حاصل کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حیوانات اپنی نشوونما کے لیے غذا کھاتے ہیں لیکن نباتات کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا آپ نے پودوں کو اسی طرح غذا کھاتے ہوئے دیکھا ہے جیسے حیوانات کھاتے ہیں؟ جوں جوں حیوانات کی نشو و نما ہوتی ہے اُن کے سائز اور روزن میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے جسموں میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جب پودوں کی نشوو نما ہوتی ہے تو آپ ان میں کس طرح کی تبدیلیاں دیکھتے ہیں؟ ہم نے پڑھا کہ غذا کاربوہائیڈریٹ، چکنائی، پروٹین، وٹامن اور معدنیات فراہم کرتے ہیں اور یہ سب بشمول پانی نشو و نما کے لیے لازمی ہیں۔ آئیے ہم اس کی جستجو کریں کہ پودے اپنی نشو و نما کے لیے تغذیہ کیسے حاصل کرتے ہیں۔
10.1 پودے کیسے نشو و نما کرتے ہیں؟
اپنے پڑوس کے اطراف میں نظر ڈالیں۔ کیا آپ نے کسی پودے کی مدت حیات کے دوران، کسی تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے؟ جوں جوں کسی پودے کی نشو و نما ہوتی ہے اُس میں نئی پیتیاں اور شاخیں نکلتی ہیں، اس کی اونچائی بڑھتی ہے اور اس کا تنا موٹا ہو جاتا ہے۔ آپ کے خیال میں ان تبدیلیوں کا سبب کیا ہے ؟ اپنے دوستوں کے ساتھ بات کیجیے اور اپنی وضاحت پیش کیجیے۔
ان میں سے بعض وضاحتوں کی جانچ کے لیے آئیے ہم ایک تجربہ انجام دیں۔
سرگرمی 10.1 : آیئے ہم بعض وضاحتوں کی جانچ کریں
- باغ کی مٹی سے بھرے ہوئے یکساں سائز کے تین گملے یا استعمال شدہ بوتلیں / ڈبے) لیں ۔ ہر گملے میں مرچ یا ٹماٹر جیسے تیزی سے اگنے والے چھوٹے سائز کی پود لگائیں
- گملوں کی B A اور C کے طور پر نشان دہی کریں۔
- ہر پودے پر پتیوں کی تعداد گئیں اور اپنے مشاہدات درج کریں۔
- گملا A کو براہ راست دھوپ میں رکھیں۔ ہر روز معقول مقدار میں پانی ڈال کر اس گملے کو ذرائم رکھیں
- گملا B کو مٹی میں پانی ملائے بغیر براہ راست دھوپ میں رکھیں۔ (شکل 10.1 ) ۔
- گلات کو اندھیرے میں رکھیں۔ روزانہ معقول مقدار میں پانی ملاکر اس گملے کی مٹی کو نم رکھیں ۔ -
- دو ہفتوں تک روزانہ پودوں کا مشاہدہ کریں۔ اور ان کی اونچائی، پتیوں کی تعداد ، پتیوں کا رنگ اور ظاہر ہو سکنے والی دیگر تبدیلیوں کو درج کریں۔
- اپنے مشاہدات کو جدول 10.1 میں درج کریں۔
جدول 10.1 پودے کی نشو و نما پر دھوپ اور پانی کا اثر
- آپ نے تینوں گملوں کے پودوں کے درمیان کسی فرق کا مشاہدہ کیا؟
- کون سے گملے میں سب سے زیادہ نشو و نما والا پودا ہے ؟
- کون سے گملے میں سب سے کم نشو و نما والا پودا ہے؟
جدول 10.1 میں درج کردہ مشاہدات کا تجزیہ کریں۔ اور اُن پر اپنے دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔
ممکن ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ گملا A والا پودا جو معقول پانی کے ہمراہ براہ راست دھوپ میں رکھا ہے۔
گملا C والے پودے کے مقابلے میں زیادہ بہتر نشو و نما کرتا ہے جسے معقول تعداد میں پانی تو ملتا ہے، لیکن دھوپ نہیں۔ گملا B والا پودا شاید مر چکا ہو کیوں کہ اُسے پانی نہیں ملا اگر چہ اُسے معقول دھوپ ملی تھی۔
اس سرگرمی میں کیے گئے مشاہدوں سے آپ کیا قیاس لگاتے ہیں؟ نتائج سے اشارہ ملتا ہے کہ پودوں کو نشوو نما کے لیے دھوپ اور پانی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
1 اس تجربے کے لیے دو ہفتے کا وقت درکار ہے۔ اساتذہ اس کے مطابق، اس سرگرمی کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔
फलकुसुमसंपदुचिता रोपणतो भवति केवलान्न यतः ।
درخت صرف اس وجہ سے پھل اور پھول نہیں دیتے کہ اُنھیں لگا دیا جاتا ہے۔“ ی طر ورکش آیور وید نام کی ایک قدیم ہندوستانی تصنیف سے لی گئی ہے۔ اس میں فصل کی صحت نشو نما اور پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے پودے کی نشوو نما مٹی اور زرعی طور طریقوں کے متعلق مفید مشاہدات درج کیے گئے ہیں۔ شاید اس متن میں پوشید علم لمبے عرصے پر محیط تجربات اور عملی نمونوں پر مبنی ہیں۔ اُس کے بعد یہ خیالات کاشت کاری کے طور طریقوں کی رہنمائی کے لیے منظم طور پر دستاویزی شکل میں لائے لیے گئے۔ مثال کے طور پر اس میں پانی ، جو ، مونگ ، اڑد اور کل تھی جیسے بیجوں کی آمیزش سے نامیاتی کھاد تیار کر کے مختلف طریقے دستیاب ہیں۔
10.2 پودوں کو اُن کی نشوو نما کے لیے غذا کہاں سے ملتی ہے
ہم جانتے ہیں کہ پودے اپنی غذایا تو براہ راست پودوں کو کھا کر یا بالواسطہ اُن حیوانات کو کھا کر حاصل کرتے ہیں جو یا، پودوں کو اپنے تغذیہ اور نشو و نما کے لیے کھاتے ہیں۔ لیکن پودے اپنی نشو و نما کے لیے درکار غذا کو حاصل کیسے تے ہیں۔ جانوروں کے برعکس پودے کھانا نہیں کھاتے ہیں۔
10.2.1 پتیاں : پودوں کی غذا کے کارخانے'
پودے غذا کا ذخیرہ نشاستہ ( Starch) کی شکل میں کرتے ہیں جو ایک قسم کا کاربو ہائیڈریٹ ہے۔ یہ نشاستہ اس پودے کی پتیوں میں پیدا ہوتا ہے جو اپنی بناوٹ کے اعتبار سے عموماً چوڑی اور سطح ہوتی ہیں۔ یہ پتیاں عموماً سبز رنگ کی ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں کلوروفل نامی سبز پگمنٹ پایا جاتا ہے۔ جو سورج کی روشنی کو موثر طریقے سے جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔
آیئے ہم اس کردار کو جانیں جو کلوروفل پودوں میں نشاستہ کی شکل میں غذا کی تیاری میں ادا کرتا ہے۔
سرگرمی 10.2 : آیئے جانچ کریں (مظاہراتی سرگرمی)

استاد اس سرگرمی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
- پتی کو نرم کرنے کے لیے اسے کھولتے پانی میں پانچ منٹ کے لیے رکھیں۔
- اس پتی کو الکحل سے بھرے ٹسٹ ٹیوب میں ڈبائیں۔
- ٹیسٹ ٹیوب کو کھولتے پانی کے بیکر میں ڈالیں۔ مٹی کے بے رنگ ہو جانے تک انتظار کریں
- پتی کو باہر نکال کر پلیٹ میں رکھیں۔
- اب چند ڈراپر کی مدد سے آیوڈین محلول بے رنگ ہو جانے والی پتی پر ڈالیں۔ (شکل 10.2 ) چند منٹ انتظار کر کے مشاہدہ کریں۔
- اگر پتی کا رنگ بدل کر نیلا سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ نشاستہ کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
انتباه -الکحل کو کبھی بھی براہ راست حرارت کے ماخذ کے پاس نہ رکھیں کیوں کہ وہ حد درجہ قابل اشتعال ہوتا ہے اور اس میں آسانی سے آگ لگ سکتی ہے اور آبلے پڑ سکتے ہیں۔
کیا آپ کو اس پر تعجب ہوا کہ ہم تجربے کے آغاز میں پتی کا رنگ کیوں اڑاتے ہیں؟
پتی کا رنگ اُڑانے کا عمل، آسانی سے رنگ کی تبدیلی اور اس طرح نشاستہ کی موجودگی کا مشاہدہ کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔
سرگرمی 10.1 میں ، ہم نے جانا کہ پانی اور دھوپ پودے کی نشو نما کے لیے لازمی ہیں۔ سرگرمی 10.2 میں ہم نے دریافت کیا ہے کہ ہری پتیاں غذا کے طور پر نشاستہ کا ذخیرہ کرتی ہیں۔
بھاسکر کو اپنے خالی وقت میں باغبانی پسند ہے۔ ایک پر تجسس طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ اکثر اپنے باغیچے پر نظر ڈالتا ہے اور اس پر حیرت کرتا ہے کہ پودے غذا کیسے پیدا کرتے ہیں۔ اپنے تجربات سے بھاسکر جانتا ہے کہ پانی اور دھوپ پودے کی نشو نما کے لیے لازمی ہیں۔ لیکن اُسے اس پر تعجب ہے کہ کیا دھوپ پودوں میں نشاستہ کی شکل میں غذا کی تیاری میں معاون ہوتی ہے۔
سرگرمی 10.3 : آیئے جانچ کریں
بھاسکر نے ایک ہی طرح کے دو گملوں میں لگے ہر ایک پودے سے سبز اور غیر سبز دھبوں والی ایک ایک پتی لی۔ ایک کو 36 گھنٹے تک دھوپ اور دوسری کو تاریکی میں رکھا۔ وہ نشاستہ کی جانچ سے پہلے اور اس کے بعد پتیوں کا موازنہ کرنا چاہتا تھا۔
اُس نے ٹریننگ پیپر کی مدد سے پتیوں پر سبز اور غیر سبز دھبوں کے مقام کو درج کرنے کے لیے پتیوں کا ایک خاکہ بنایا۔ اُس کے بعد اس نے (جیسا کہ سرگرمی 10.2 میں دکھایا گیا ہے) پتیوں پر آیوڈین جانچ انجام دی۔ بھاسکر نے اپنے مشاہدات جدول 10.2 میں درج کیے۔
جدول 10.2 : پودوں کی پتیوں کے سبز اور غیر سبز حصوں میں نشاستہ کی موجودگی
جدول 10.2 میں بھاسکر نے دھوپ میں رکھے گئے پودے سے حاصل کی گئی پتی کے سبز حصے پر نیلا سیاہ رنگ ریکارڈ کیا ( جو نشاستہ کی موجودگی کی علامت ہے )۔ بھاسکر نے یہ بھی درج کیا کہ تاریکی میں رکھے پودے سے حاصل پتی نیلے سیاہ رنگ کو ہرے حصے پر بھی ظاہر نہیں کرتی جو اس بات کی علامت ہے کہ نشاستہ بالکل نہیں بنا۔ دھوپ میں رکھے گئے پودے سے حاصل کی گئی پتی نیلی، سیاہ نہیں ہوئی۔ کیا اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اُن حصوں میں کلوروفل قطعاً موجود نہیں ہے؟ غیر سبز حصوں میں شاید کافی کلوروفل نہ ہو جو اتنی مقدار میں نشاستہ پیدا کریں جن کا سراغ آیوڈین جانچ کی مدد سے لگایا جاسکے۔
کچھ پودوں کی پتیاں، سرخ ، بنفشی یا کتھئی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ اس میں سبز رنگ کے کلوروفل کے مقابلے میں ، رنگین پگمنٹ زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ ہرے رنگ کو چھپا لیتا ہے۔ ان سب سے بعض پیگمنٹ ضیائی تالیف میں بھی مدد کرتے ہیں۔ آپ ان پتیوں میں نشاستہ کی موجودگی کی جانچ کرنے کے لیے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ضیائی تالیف کا عمل واقعی ہوا ہے آیوڈین جانچ کی مدد لے سکتے ہیں۔
جدول 10.2 میں درج مشاہدات سے ہم کیا قیاس لگاتے ہیں ؟ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پتیاں زیادہ تر ہری ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں نشاستہ موجود ہوتا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ نشاستہ وہیں پیدا ہوا ہے جہاں پتی پر ہرے دھبے موجود ہیں۔ ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ کلوروفل دھوپ کی موجودگی میں نشاستہ پیدا کر سکتا ہے۔
در حقیقت یہ نشاستہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے پتیوں کو پودوں کی غذا کا کارخانہ بھی کہا جاتا ہے۔ پودوں میں غذا بننے کے لیے اور کون سی چیز لازمی ہے؟ آئیے جائیں۔
10.2.2 : غذا بننے کے عمل میں ہوا کا کردار
سرگرمی 10.4 : آئیے تجربہ کریں (مظاہراتی سرگرمی)
استاد اس سرگرمی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
- ایک گملے میں لگا ہوا ہرا پودا لے کر اور دو یا تین دن تاریکی میں رکھ کر اسے ڈی اسٹارچ کریں (ذخیرہ شدہ نشاستہ ختم کریں)۔ پھر اس تجربے کے لیے اس پودے کی ایک ٹہنی منتخب کریں۔
- ایک چوڑے منھ کی بوتل لے کر اس میں تھوڑا سا کاسٹک سوڈا ( سوڈیم ہائیڈروکسائڈ ) انڈیلیں ( کاسٹک سوڈا ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے)۔
انتباہ -کاسٹک سوڈا ایک تیز اثر کیمیائی مادہ ہے جو جلد پر چھالے ڈال سکتا ہے۔ اساتذہ کو ہی اسے ہاتھ لگانا چاہیے۔
- ڈی اسٹارچ کی ہوئی آدھی پتی اسپلٹ کارک کے ذریعے بوتل میں مشکل داخل کریں اس طرح پتی کا دوسرا نصف حصہ باہر رہے اور بوتل کو شکل شکل 10.32 am کے مطابق رکھیں۔
- سیٹ اپ کو چند گھنٹے دھوپ میں رکھیں۔
- پانی، دھوپ، کلوروفل اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی دست یابی کا مشاہدہ کریں اور جدول 10.3 میں درج کریں۔
- پتی کو ہٹا کر آیوڈین جانچ کی مدد سے نشاستہ کی موجودگی کی جانچ کریں۔ جیسا کہ سرگرمی 10.2 میں کیا تھا۔
- اپنے مشاہدات جدول 10.3 میں درج کریں۔
جدول 10.3 پودوں کے ذریعے اسٹارچ بنانے میں ہوا کا کردار
ہم دیکھتے ہیں کہ بوتل کے باہر والا پتی کا حصہ نیلا سیاہ ہو جاتا ہے جو اسٹارچ کی موجودگی کی دلالت کرتا ہے۔ تاہم بوتل کے اندر والا پتی کا حصہ نیلا سیاہ نہیں پڑتا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پتی کے اس حصے میں غذا نہیں بنتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بوتل کے اندر کاسٹک سوڈا ہوا میں مو وجود کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کر لیتا ہے۔ یہ تجر بہ کیا ثابت کرتا ہے؟
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ہوا میں پائی جانے والی کاربن ڈائی آکسائڈ پودوں کے ذریعے اسٹارچ کی تیاری کے لیے لازمی ہے۔
سرگرمی 10.3 اور 10.4 کی بنیاد پر آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؟ پودے کا کون سا حصہ نشاستہ کی تالیف میں شرکت کرتا ہے؟
اپنی اب تک کی آموزش کی بنیاد پر ہم نے دیکھا ہے کہ دھوپ، پانی، کلوروفل اور کاربن ڈائی آکے آکسائڈ پودوں میں غذا کی تالیف کے لیے لازمی ہیں۔ اس عمل کو جس کے ذریعے پودے دھوپ اور کلوروفل کی موجودگی میں غذا تیار کرتے ہیں ضیائی تالیف (Photosynthesis) کہتے ہیں۔ پتی ضیائی تالیف کا بنیادی مقام ہے۔ کیا پودے پودے کے دیگر سبز حصے میں ضیائی تالیف انجام دیتے ہیں ؟ وہاں پودوں کے دیگر حصے جن میں کلوروفل ہو وہ بھی ضیائی تالیف انجام دیتے ہیں۔
اب تک ہم نے یہ جانا ہے کہ پودے پانی اور ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ اندر لیتے ہیں اور ضیائی تالیف کے ذریعے اپنی غذا تیار کرنے کے لیے دھوپ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس عمل کے دوران اور کیا کچھ واقع ہوتا ہے؟ کیا صرف پودے ہی اپنے اطراف میں موجود مادوں کو اپنے اندر لیتے ہیں۔ یا وہ کوئی چیز خارج بھی کرتے ہیں؟ آئیے برکھا دیدی کے انجام دیے گئے ایک تجربے کی مدد سے اس کی تلاش و جستجو کریں۔
سرگرمی 10.5 : آئیے چھان بین کریں
- شکل 10.4 کو دیکھیں دوسیٹ اپ کا موازنہ کریں جن کی نشان دہی A اور B کے طور پر کی گئی ہے اور ان کا تجزیہ کریں۔
- شکل 10.4 میں سیٹ اپ A کو دھوپ میں رکھا جاتا ہے اور سیٹ اپ B کو اندھیرے میں۔ دونوں سیٹ اپ میں آپ کسی فرق کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا آپ سیٹ اپ A میں الٹی رکھی گئی ٹیسٹ فرق میں الٹی ٹیوب میں اٹھتے ہوئے بلبلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ اس سیٹ اپ میں پیدا ہونے والی گیس بلبلے ظاہر ہونے کا سبب بنتی ہے جو الٹی رکھی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ کون سی گیس ہے؟
برکھا دیدی کے تجربے کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ضیائی تالیف کے دوران آکسیجن کا اخراج ہوتا ہے۔
10.2.3 ضیائی تالیف: خلاصه
ہم جانتے ہیں کہ پانی، دھوپ، ہوا سے ملنے والی کاربن ڈائی آکسائڈ اور کلوروفل ضیائی تالیف انجام دینے کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں کاربو ہائڈریٹ بنتے ہیں ( شکل 10.5)۔ ضیائی تالیف کے دوران غذا دراصل گلو کوز کی شکل میں پیدا ہوتی ہے جو ایک عام کاربوہائیڈریٹ ہے۔ یہ گلو کوز نہ صرف توانائی کافوری ذریعہ ثابت ہوتا ہے بلکہ بعد میں ذخیرہ کاری کے لیے اسٹارچ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ضیائی تالیف کی لفظی مساوات نیچے دی جاتی ہے۔
کاربن ڈائی آکسائڈ + پانی ← دھوپ/کلوروفل گلوکوز + آکسیجن
دنیا بھر کے کئی سائنس دانوں نے ضیائی تالیف کی فہم کے فروغ میں تعاون دیا ہے۔ ہندوستان میں رسم ہرموز دستور ( 1961-1896) نے ضیائی تالیف کے عمل کا مطالعہ کیا۔ وہ نباتات کے سائنٹسٹ تھے اور 1921 سے 1935 تک رایل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بامبے ( اب انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ممبئی) کے شعبہ نباتات کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ انھوں نے ضیائی تالیف کے عمل میں پانی، درجہ حرارت اور روشنی کے رنگ پر تحقیق کی۔
10.2.4 پتیاں کس طرح ضیائی تالیف کے دوران گیسوں کا تبادلہ کرتی ہیں؟
اب ہم جانتے ہیں کہ ضیائی تالیف کے لیے کاربن ڈائی آکسائڈ درکار ہوتی ہے اور اس عمل میں آکسیجن کا اخراج ہوتا ہے۔ پودے کا کون ساحصہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کے تبادلے میں مدد کرتا ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے گیسوں کا تبادلہ کہاں واقع ہوتا ہے آئیے ایک سرگرمی انجام دیں۔
سرگرمی 10.6 : آئیے معائنہ کریں (مظاہراتی سرگرمی)
استاد اس سرگرمی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
- کسی پودے مثلاً رہیو (rhoeo)، گھنی پلانٹ، پیاز، ہیکس کولس سے کوئی پتی یا گھاس لیں۔
- اُسے پانی سے بھرے بیکر میں رکھیں۔
- احتیاط کے ساتھ پتی کی نچلی سطح سے پتلی پرت چھیلیں۔
- چھیلی ہوئی پرت کو پانی بھرے ہوئے واچ گلاس میں ڈالیں۔
- اب مائکروسکوپ سلائڈ لے کر اُس پر احتیاط سے پانی کا ایک قطرہ گرائیں۔
- چمٹی کی مدد سے پتی کے چھلکے کو واچ گلاس میں سے سلائڈ میں منتقل کریں۔
- ڈراپر کی مدد سے پتی کے چھلکے پر روشنائی کا ایک قطرہ ڈالیں۔
- چھلکے کو کو رسلپ سے ڈھک دیں اور خورد بین سے اس کا مشاہدہ کریں۔
آپ کو کیا نظر آتا ہے۔ کیا آپ چھلکے کے اوپر چھوٹے چھوٹے مسامات دیکھ رہے ہیں جیسا کہ شکل 10.6 میں دکھایا گیا ہے ؟ ان مسامات اسٹو میٹا (Stomata) کہتے ہیں۔ پتیوں کی صحپر موجودہ اسٹومیٹا گیسوں کے تبادلے میں مدد کرتے ہیں۔
10.3 پودوں میں پانی اور معدنیات کی نقل و حمل
10.3.1 پانی اور معدنیات کی نقل و حمل
تمام جان داری ارمخلوقات کو نشوونما کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودے ضیائی تالیف کے عمل میں پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ پودے کی جڑیں پانی کو مٹی میں موجود معدنیات کے ہمراہ لے لیتی ہیں۔ معد نیات پودوں کی نشوو نما کے لیے اہم مغذیات ہیں۔ وہ پانی اور معدنیات جنھیں جڑیں لیتی ہیں پودے کے تمام حصوں میں پہنچتی ہیں۔
ہم ایک سرگرمی انجام دے کر پانی کی نقل و حمل کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس سرگرمی کے لیے ہمیں دو شیشے کے برتنوں کی ، تھوڑے سے پانی، سرخ روشنائی، دو یکساں طور پر نرم پودوں کی شاخیں ترجیحاً جن میں سفید رنگ کے پھول ( مثلاً سفید سدا بہار، گل مہندی وغیرہ) کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ شکل 10.7 میں دکھایا گیا ہے۔
سرگرمی 10.7 : آیئے تجربہ کریں
- دو شیشے کے برتن لے کر اُن پر A اور B کے لیبل لگادیں۔
- برتن کو ایک تہائی حصے تک پانی سے بھریں۔
- بر تن B میں چند قطرے سرخ روشنائی کے ملا دیں۔
- دونوں پودوں کو پانی میں رکھتے ہوئے اُن کی جڑ پر سے ترچھی حالت میں کاٹ دیں اور فوراً دونوں برتنوں میں ایک ایک پودا رکھ دیں۔ جیسا کہ شکل 10.7 am اور 10.7 میں دکھایا گیا ہے۔ a
- اگلے دن اُن پودوں کا مشاہدہ کریں۔
آپ کیا دیکھتے ہیں؟ برتنوں میں رکھے ہوئے پودے کے تنوں کا موازنہ کریں۔ کیا C آپ بر تن B کے پودے پتیوں اور پھولوں میں سرخ رنگ کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ شکل 10.7 اور 10.7 میں پودوں کی ایک دن بعد والی حالت کو دکھایا گیا ہے ۔ شکل 10.70 کے پودے کا موازنہ 10.7 کے پودے سے کریں شکل 10.7 والے پودے کے تنے، پتیوں اور پھولوں میں سرخ رنگ دیکھا جا سکتا ؟ ہے۔ پودے کے مختلف حصوں میں یہ سرخ رنگ کہاں سے آیا ؟
تنے کو پودے کے اس اوپری حصے سے کائیں جو سرخ رنگ کے پانی میں ڈوبا ہوا نہ ہو۔ تکسیری شیشے سے کئے ہوئے تنے کا مشاہدہ کریں۔ کیا آپ کو تنے میں سرخ رنگ نظر آتا ہے ( شکل 10.70 ) ؟ سرخ روشنائی اوپر کی طرف کیسے حرکت کرتی ہے ؟ ایسا پتلی نلی جیسی ساخت کی وجہ سے ہے جسے زائم کہتے ہیں جو پودوں کے تنوں ، شاخوں اور پتوں میں پایا جاتا ہے۔ سرخ روشنائی کی طرح ہی پانی میں تحلیل شدہ معدنیات بھی زائم کے ذریعے تنے میں اوپر چڑھتے ہیں۔
اب ہم جانتے ہیں کہ پانی اور معد نیات زائکم کے ذریعے پودوں کی پتیوں اور دیگر حصوں تک پہنچائے جاتے ہیں ( شکل 10.8) ۔ زائکم کے ذریعے لے جایا جانے والا پانی کئی کاموں کو انجام دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غذا کس طرحکسی پودے کے دیگر حصوں تک پہنچتی ہے؟
10.3.2 : غذا کی نقل و حمل
ہم جانتے ہیں کہ پتیاں ضیائی تالیف کا بنیادی مقام ہیں۔ پتیوں میں پودوں کے ذریعے تیار کی گئی غذا کو پودے کے تمام حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ غذا ایک اور پتلی نلی جیسی ساختوں کے مجموعے کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔ جسے فلوئم (Phloem) کہتے ہیں (شکل 10.8) نقل شدہ غذا کو پودے کے کسی دوسرے حصے میں محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے مثلاً بیج اور جڑ۔
10.4 کیا پورے تنفس کرتے ہیں؟
گریڈ 6 کی سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب جان دار مخلوقات: اُن کی خصوصیات کی تفتیش ، میں آپ نے جانا کہ تمام جان دار مخلوقات تنفس کرتی ہیں۔ کیا پودے بھی ہماری طرح ہی تنفس کرتے ہیں؟
سرگرمی 10.8 : آیئے جائیں (مظاہراتی سرگرمی)
- کچھ مونگ کے بیج رات بھر کے لیے بھگو کر رکھیں۔
- مخروطی فلاسک میں روئی کی ایک پرت لگائیں (شکل 10.9) اور اُسے نم رکھنے کے لیے پانی سے بھگو دیں۔
- مخروطی فلاسک میں بھیگے ہوئے بیجوں کو بھیگی ہوئی روٹی کے اوپر رکھیں۔
- مخروطی فلاسک کے منھ کو دو سوراخوں والے کارک سے بند کریں۔
- کارک کے دونوں سوراخوں میں دو ٹیوب A اور B لگا دیں جیسا کہ = کے دو لگادیں جیسا شکل 10.9 میں دکھایا گیا ہے۔
- اسے بغیر ہلائے 24 گھنٹے کے لیے رکھا رہنے دیں۔
- دو ٹیسٹ ٹیوب لے کر ان میں چونے کا پانی بھریں۔
- ایک ٹیسٹ ٹیوب کے منہ کو ایک سوراخ والے کارک سے بند کر دیں۔
- ایک شیشے کی ٹیسٹ ٹیوب کو کارک میں بنے سوراخ کے ذریعے ٹیسٹ ٹیوب میں ڈبائیں۔
- فلاسک اور ٹیسٹ ٹیوب کو ربڑ کے پائپ سے جوڑیں جیسا کہ شکل 10.9 میں دکھایا گیا ہے۔
رنگ میں کوئی تبدیلی دیکھنے کے لیے دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کا موازنہ کریں۔ کیا فلاسک سے جوڑی گئی دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں چونے کا پانی دودھیا ہو جاتا ہے ؟ فلاسک میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ کی وجہ ہے؟ سے چونے کا پانی دودھیا ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ کاربن ڈائی آکسائڈ آتی کہاں سے ہے؟ جیسا ہے ؟ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائڈ بہت تھوڑی مقدار میں قدرتی طور پر ہوا میں موجود رہتی ہے۔ فلاسک میں اضافی کاربن ڈائی آکسائڈ بیجوں کے تنفس کی وجہ سے بنتی ہے۔
تنفیس کے دوران آکسیجن کی موجودگی میں گلو کوز ٹوٹتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور توانائی خارج کرتا ہے تنفس کے عمل کے لیے فظی مساوات حسب ذیل ہے۔
گلوکوز + آکسیجن ← کاربن ڈائی آکسائڈ + پانی + توانائی
تنفس کے دوران بننے والی توانائی کو پودے اپنی نشو و نما اور ارتقا کے لیے استعمال کرتے ہیں کسی پودے کے تمام حصے چاہے وہ سبز ہوں یا غیر سبز نفس انجام دیتے ہیں۔
اس طرح، پودوں میں توانائی حاصل کرنے کے لیے غذا کی تالیف ، نقل و حمل اور استعمال کے مختلف نظام ہوتے ہیں۔
خلاصه
- تمام جاندار عضویوں کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو انھیں نشو و نما اور ارتقا کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔
- پودے دھوپ اور کلوروفل کی موجودگی میں گلوکوز اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی استعمال کرتے ہیں۔
- پتیاں پودوں کے لیے غذا کے کارخانے ہیں۔
- پتیوں کی سطح پر باریک مسامات جنھیں اسٹو میٹا کہتے ہیں، ضیائی تالیف اور تنفس کے دوران آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے تبادلے میں مدد کرتے ہیں۔
- زائلم جڑوں سے پانی اور معدنیات کی نقل و حمل کرتا ہے جب کہ فلوئم پتیوں سے پودوں کے تمام حصوں کو غذا پہنچاتا ہے۔
- پودے عمل تنفس کے ذریعے گلو کوز کو توڑتے اور توانائی خارج کرتے ہیں۔ اس عمل میں وہ آکسیجن استعمال کرتے اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتے ہیں۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- مندرجہ ذیل جدول کو مکمل کریں۔
- ایک ایسی صورت حال کا تصور کیجیے جس میں زمین پر ضیائی تالیف انجام دینے والے تمام جان دار عضو یے غائب ہو گئے ہیں۔ اس کا جاندار عضویوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
- آلو کے ایک ٹکڑے میں آیوڈین محلول ملانے پر نشاستہ کی موجودگی نظر آتی ہے۔ آلو میں نشاستہ کہاں سے آتا ہے؟ پودے میں غذا کی تالیف کسی جگہ ہوتی ہے اور وہ آلو تک کیسے پہنچتی ہے؟
- کیا پتیوں کی چوڑائی اور مسطح ساخت پودوں میں ضیائی تالیف کی زیادہ صلاحیت پیدا کرتی ہے؟ اپنے جواب کی تائید میں دلیل دیں۔
- کاربن ڈائی آکسائڈ ، اور توانائی خارج کرنے کے لیے x کول کی مدد سے توڑا جاتا ہے۔
- کرشنا نے یکساں سائز کے گملے میں لگے ہوئے دو پودوں کی مدد سے ایک تجربہ کیا۔ ایک گملے کو اُس نے دھوپ میں رکھا اور دوسرے کو اندھیرے کمرے میں جیسا کہ شکل 10.10 میں دکھایا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
- اس تجربے کے ذریعے وہ کس خیال کی جانچ کر رہی ہوگی؟
- دونوں حالتوں میں پودوں میں نظر آنے والے اختلافات کیا کیا ہیں؟
- آپ کے مطابق کون سے پودوں کی پتیاں اسٹارچ کی موجودگی کے لیے آیوڈین کی جانچ کی تصدیق کرتی ہیں؟
- رانی کا خیال ہے کہ کاربن ڈائی آکسائڈ ضیائی تالیف کے لیے لازمی ہے۔ جیسا کہ شکل 10.11 میں دکھایا گیا ہے، وہ اپنے خیالات کی تائید یا تردید میں ثبوت جمع کرنے کے لیے ایک تجربہ ترتیب دیتی ہے۔
- او پر دی گئی ترتیبوں میں سے کس پودے میں ( کن پودوں) میں نشاستہ پیدا ہو گا؟
- اوپر دی گئی ترتیبوں میں سے کسی پودے ( کن پودوں) میں نشاستہ نہیں پیدا ہو ہو گا؟
- او پر دی گئی ترتیبوں میں سے کسی پودے ( کن پودوں) میں آکسیجن پیدا ہو گی؟
- او پر دی گئی ترتیبوں میں سے کس پودے ( کن پودوں) میں آکسیجن پیدا نہیں ہو گی؟
- انا نیا نے چار ٹیسٹ ٹیوب لے کر ہر ایک میں تین چوتھائی پانی بھرا۔ اُس نے ان پر C، B، A اور D کے لیبل لگائے ۔ ٹیسٹ ٹیوب A میں اُس نے ایک گھونگھار کھا، ٹیسٹ ٹیوب B میں اُس نے ایک آبی پودا رکھا، ٹیسٹ ٹیوب C میں اُس نے ایک گھونگھا اور آبی پودا دونوں رکھے۔ ٹیسٹ ٹیوب D میں اُس نے صرف پانی رکھا۔ انانیا نے تمام ٹیسٹ ٹیوبوں میں کاربن ڈائی آکسائڈ انڈیکیٹر کا اضافہ کیا۔ اُس نے پانی کا ابتدائی رنگ ریکارڈ کر کے یہ مشاہدہ کیا کہ 2 سے 3 گھنٹوں کے بعد ٹیسٹ ٹیوبوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ آپ کے خیال میں وہ کیا جاننا چاہتی ہے ؟ وہ کیسے جانے گی کہ اُس کا خیال درست ہے؟
- و یہ مشاہدہ کرنے کے لیے ایک تجربہ ترتیب دیجیے کہ کیا پودوں میں پانی کی نقل و حمل گرم ماحول میں زیادہ تیزی سے ہوتی ہے یا ٹھنڈے ماحول میں۔
- ضیائی تالیف اور تنفس فطرت میں توازن قائم رکھنے کے لیے لازمی ہیں۔ بحث کیجیے۔
y+x← کاربن ڈائی آکسائڈ + z + توانائی
y,xاورz اس عمل کے تین مختلف عناصر ہیں۔
y,x اور z سے کیا مراد ہے؟

چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- ایک بڑی شفاف بوتل میں اسپائڈر پلانٹ یا جیڈ پلانٹ جیسا اگتا ہوا پود الگا کر بوتل باغیچہ بنائیں (شکل 10.13) کچھ دنوں تک پودے کے اچھی طرح اگنے کے بعد بوتل کے منہ کو بند کر دیں۔ پودے کی نشوونما کا مشاہدہ کریں۔ اگر پودا اچھی طرح اگ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پودا گیسوں کے تبادلے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔بعض بوتل کے اندر پودا اپنے تنفس کے دوران پیدا ہونے والی کار بن ڈائی آکسائڈ کو ضیائی تالیف کے لیے استعمال کر رہا ہے اور ضیائی تالیف میں پیدا ہونے والی آکسیجن کو تنفس کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
- پودوں میں واقع ہونے والے ضیائی تالیف ، تنفس، پانی اور غذا کی نقل و حمل جیسے اعمال فصل پیدا کرنے کے لیے کس طرح لازمی ہیں؟
- اگر آپ کے گھر کے پاس کوئی گرین ہاؤس ہو تو اُس میں جائیں۔ اس کا مشاہدہ کریں کہ لوگ گرین ہاؤس میں کس طرح پودے اگاتے ہیں۔ یہ جانیں کہ وہ پودے اگانے میں استعمال ہونے والی روشنی، پانی ، اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کو کیسے مقررہ حد میں رکھتے ہیں۔
کملا سو ہونی 1998-1911) ہندوستان کی ایک خاتون سائنس داں تھیں۔ انھوں نے پودوں میں تنفس کے میدان میں اپنے قابل تعریف کارنامے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندوستان واپس آکر انھوں نے نئی دہلی کے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں اور اُس کے بعد نیوٹریشن ریسرچ لیباریٹری کو نور میں کام کیا۔ وہاں سے وہ رایل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، با مے میں منتقل ہوگئیں جہاں آخر کار ان کا تقرر ڈائرکٹر کی حیثیت سے ہو گیا۔ ان کے زیادہ تر کار نامے نباتاتی غذاؤں کی تغذیاتی قدروں کی بہتری میں مدد گار ثابت ہوئے۔ انھوں نے تیرا کہلانے والے پر تغذیہ مشروب ناریل کے تنے کے رقیق پر بھی تحقیق انجام دی۔