11
روشنی: سائے اور انعکاس
(Light: Shadows and Reflections)
کیشو اپنی گرمیوں کی چھٹی کا کچھ حصہ مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ علاقے میں اپنے دوست جتن کے دادا کے گاؤں میں گزارتا ہے۔ بڑے شہر میں رہنے کے بعد تازہ ہوا، بہتے دریاؤں کی آوازیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ اس کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔
تاہم، رات کے وقت سینکڑوں جگنوؤں کا رقص کرنا کیشو کے لیے سب سے مسحور کن نظارہ تھا جو ایک حیرت انگیز طرز پر اپنی روشنیاں چمکار ہے تھے۔ جتن کے دادا دادی نے بتایا کہ جگنو موسمی حشرات ہیں اور وہ ترسیل کے لیے روشنی کا استعمال کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے کیشو کو یہ بھی معلوم ہوا کہ روشنی کی آلودگی، کم ہو ر ہے جنگلات اور حد سے زیادہ سیاحت کی وجہ سے جگنوؤں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔
چھٹیاں ختم ہو جانے کے بعد کیشو اور جتن اپنے شہر واپس آنے کے لیے شام کے وقت بس میں سوار ہو گئے۔ جیسے ہی بس پہاڑی سڑکوں سے گزرتی ہے کیشو چاند کی روشنی سے منور زمینی مناظر اور گزرتی ہوئی موٹر گاڑیوں کی ہیڈ لائٹ سے نکل رہی روشنی کی کرنوں کو دیکھتا ہے۔ اسے چاندنی سےمتعلق کئی نظمیں اور نغمے یاد آنے لگتے ہیں اور وہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا چاند واقعی اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے؟ کیا ہم نے گریڈ 6 کی در کی درسی کتاب تجس کے باب زمین کے اس پار ہمیں یہ نہیں پڑھا کہ ہمارے نظام شمسی میں دیگر چیز میں صرف سورج کی روشنی کو منعکس کر کے ہی چمکتی ہیں۔ کیا چاند کی روشنی بھی محض سورج کی منعکس روشنی ہے؟ کون سی چیز میں اپنی روشنی خود پیدا کرتی ہیں ؟ سوچتے ہوئے اسے کچھ عجیب سا نظر آیا کہ روشنی سید ھے خط پر حرکت کر رہی ہے۔
11.1 روشنی کے ذرائع
سورج خود اپنی روشنی خارج کرتا ہے اور زمین پر قدرتی روشنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ستارے ، آسمانی بجلی، قدرتی آگ اور کچھ جانور بھی خود اپنی روشنی خارج کرتے ہیں (شکل 11.1)۔
قدیم زمانے میں، انسانوں نے آگ جلانا سیکھا جو مصنوعی روشنی کی قدیم ترین شکل تھی۔ وقت کے ساتھ انھوں نے حیوانی چربی، تیل، موم اور گیس وغیرہ جیسے مختلف ایندھنوں کی مدد سے آگ جلانا سیکھ لیا (شکل 11.2)۔ بجلی اور برقی روشنی کے مختلف ذرائع کی ایجاد کے بعد روشنی سے متعلق اکثر انسانی ضرورتیں اب برقی روشنی کی مدد سے پوری ہو رہی ہیں-(شکل 11.3)۔
وہ اشیا جو خود اپنی روشنی خارج کرتی ہیں رونی خارج کرلی ہیں چند قدرتی ذرائع منور (Luminous) اشیا کہلاتی ہیں جب کہ وہ اشیا جو خود اپنی روشنی خارج نہیں کرتیں، غیر منور (non-Luminous ) اشیا کہلاتی ہیں۔ چاند غیر منور شے ہے۔ یہ اپنی خود کی روشنی خارج نہیں کرتا۔ مریض اپنے اوپر پڑنے والی سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔
روشنی خارج کرنے والے ڈایوڈ (Light Emitting Diode : LED) لیمپ روشنی کے جدید ذرائع ہیں۔ ان میں بجلی کی کھپت بہت کم ہوتی ہے اور روایتی لیمپوں کے مقابلے زیادہ روشن اور پائیدار ہوتے ہیں ان کے استعمال سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے بلکہ یہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہیں۔ ان کے فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہند نے ملک گیر سطح پر ایل ای ڈی لیمپوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں۔ ناکارہ ہو جانے کی صورت میں ایل ای ڈی لیمپوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے یا باز تشکیل کی جائے، انھیں کوڑے میں نہ پھینکیں۔
11.2 کیا روشنی سید ھے خط پر سفر کرتی ہے؟
آیئے سرگرمی انجام دے کر معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 11.1 : آئیے تفتیش کریں
- تین ماچس کی ڈبیاں لیں اور ہر ڈبیا کی اندر والی ٹرے میں ایک ہی جگہ پر سوراخ کریں۔
- ان تینوں ڈبیوں کو ایک سیدھی لائن میں ترتیب دیں۔ یہ یقینی بنائیے کہ تینوں سوراخ ایک ہی اونچائی اور ایک ہی خط میں ہوں جیسا کہ شکل 11.4 میں دکھایا گیا ہے ۔
- ماچس کی ڈبیوں کے ایک طرف ٹارچ کی روشنی ڈالیں ، یہ یقینی بنائیں کہ لیمپ سوراخوں کی اونچائی پر ہو۔
- ماچس کی ڈبیہ کی دوسری طرف ایک گتے کا ٹکڑا ( پردہ) رکھیں اور اس پر ایک چمک دار دھبہ حاصل کریں ( آپ کو ماچس کی ڈبیوں کی اونچائی کو درست کرنا پڑ سکتا ہے )۔
- ماچس کی کسی ایک ڈبیہ کو تھوڑا سا ایک طرف یا اوپر نیچے کھر گائیں۔ کیا اب آپ کو پردے (اسکرین) پر روشنی کا دھبہ نظر آتا ہے؟
جب تینوں سوراخ ایک لائن میں نہیں ہوتے ہیں تو ہمیں پردے پر روشنی کا دھبہ نظر نہیں آتا ۔ ان مشاہدات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روشنی سیدھے خط پر سفر کرتی ہے۔
کیا ہمیں اس تجویز کو آزمانا چاہیے ؟
سرگرمی 11.2 : آئیے چھان بین کریں
انتباہ -جلتی ہوئی موم بتی کا استعمال صرف کسی بڑے فرد کی نگرانی میں ہی کریں۔
- کسی لچک دار مواد کابنا والباور کھوکھلا پاپ لیں اور اسے اس طرح ترتیب دیں کہ آپ موم بتی کی لو کو دیکھ سکیں جیسا کہ شکل 11.52 میں دکھایا گیا ہے۔
- اب پائپ کو موڑیں اور موم بتی کی لو کو دوبارہ دیکھنے کی کوشش کریں ( شکل 11.5 ) ۔ کیا آپ موم بتی کی لو کو دیکھ پارہے ہیں؟
آپ سیدھے پائپ سے موم بتی کی لو کو دیکھ سکتے ہیں لیکن مڑے ہوئے پائپ سے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روشنی سیدھے خط پر سفر کرتی ہے۔
زیادہ گہرائی سے زیادہ گہرائی سے سوچیں
لیز رہیم کو پانی سے بھرے بیکر سے گزاریں، جس میں دودھ کی ایک بوند ڈالی گئی ہے تا کہ لیز رہیم آسانی سے نظر آجائے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا آپ دیکھتے ہیں کہ پانی کے اندر لیز رہیم سیدھے راستے پر چلتا ہے؟ حالاں کہ، روشنی بعض اوقات کونوں کے چاروں طرف مڑ جاتی ہے ؟ اس کے بارے میں آپ اگلے گریڈ میں پڑھیں گے۔
11.3 شفاف، نیم شفاف اور غیر شفاف مواد سے روشنی کاگزرنا
آئیے مختلف قسم کے مواد سے بنی اشیا کو روشنی کے راستے میں رکھیں اور معلوم کریں۔
سرگرمی 11.3 : آیئے تجربہ کریں
- مختلف قسم کے مواد سے بنی ہوئی اشیا جمع کریں، اس کے علاوہ آپ کو ایک ٹارچ کی بھی ضرورت ہو گی۔
جدول 11.1 : مختلف قسم کے مواد سے روشنی کا گزرنا
- جدول 11.1 میں اشیا کے مواد کی فہرست بنائیں اور ان کی درجہ بندی شفاف، نیم شفاف، اور غیر شفاف کے تحت کریں۔ ( آپ نے گریڈ 6 کی سائنس کی درسی کتاب تجس کے باب ہمارے اطراف کی اشیاء میں مواد کی درجہ بندی شفاف، نیم شفاف اور غیر شفاف کے تحت کرنا سیکھا جو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ان کے آر پار کس طرح دیکھتے ہیں)۔
- کسی اندھیرے کمرے میں جائیں، ٹارچ جلائیں اور اسے ایسی جگہ پر رکھیں کہ آپ کو دیوار پر ٹارچ سے نکلنے والی روشنی کا ایک دھبہ نظر آجائے ۔ یا آپ کل 11.6 کے مطابق گتے کا پردہ رکھ کر اس پر روشنی کا دھبہ حاصل کر سکتے ہیں۔
- اب ہم اس سرگرمی کو دو حصوں میں کریں گے۔ پیشین گوئی اور مشاہدہ۔
- پیشین گوئی کریں کہ اگر آپ ٹارچ سے نکلنے والی روشنی کے سامنے کسی چیز کو پکڑیں تو کیا ہو گا۔ کیا اب بھی آپ کو پردے پر روشنی کا دھبہ نظر آئے گا؟ اپنی پیشین گوئی کو جدول 11.1 میں نوٹ کریں۔
- اب کسی شے کو ٹارچ اور پردے کے درمیان رکھیں۔ کیا روشنی شے سے ہو کر گزر جاتی ہے ؟ اپنے مشاہدات کو جدول 11.1 میں درج کریں۔
- اس سرگرمی کو تمام اشیا کے لیے دہرائیں۔
کیا آپ کا مشاہدہ آپ کی پیشین گوئی جیسا تھا؟ آپ کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں ؟ روشنی شفاف مواد سے ہو کر تقریباً مکمل طور پر گزر جاتی ہے۔ روشنی نیم شفاف مواد سے ہو کر جزوی طور پر گزرتی ہے۔ روشنی غیر شفاف مواد سے ہو کر نہیں گزرتی ہے۔
11.4 سائے کی تشکیل
سرگرمی 11.3 میں جب آپ نے روشنی کے راستے میں ایک غیر شفاف شے کو رکھا تو پردے پر کیا دیکھا ؟ کیا آپ کو دیوار پر سیاہ دھبہ نظر آیا ؟ یہ سیاہ دھبہ کیوں بنا؟ اب ہم جانتے ہیں کہ روشنی سید ھے خط پر سفر کرتی ہے۔ لہذا جب کسی غیر شفاف شے کو اس کے راستے میں رکھا جاتا ہے، تو روشنی کاراستہ رک جاتا ہے۔ وہ سیاہ دھبہ جہاں روشنی نہیں پہنچتی ہے، سایہ (shadow) کہلاتا ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ جب ہم دھوپ یا روشنی میں ہوتے ہیں تو ہمارے اور ہمارے ارد گرد موجود دیگر اشیا کے سائے بنتے ہیں (شکل 11.7) ۔ علاوہ ازیں آپ نے بعض اوقات سائے کی مدد سے مختلف قسم کی اشکال بنانے کا لطف اٹھایا ہو گا۔
کیا نیم شفاف اور شفاف ایشیا سایہ بناتی ہیں یا نہیں؟ کیا آپ نے اسے سرگرمی 11.3 میں دیکھا؟۔ غیر شفاف اشیاز یادہ گہر ا سا یہ بناتی ہیں۔ شفاف اشیا نسبتا بل کا سایہ بناتی ہیں، حتی کہ کچھ شفاف چیزیں بھی دھندلا سایہ بنا سکتی ہیں!
آیئے سائے کے بارے میں مزید سیکھیں۔
سرگرمی 11.4 : آیئے چھان بین کریں
- مختلف شکل اور سائز کی کچھ غیر شفاف اشیا جمع کریں۔
- سرگرمی 11.3 کو دہرائیں، لیکن اس بار جدول 11.2 کے پہلے کالم میں بیان کیے گئے عملوں کو انجام دیں۔
- ہر ایک عمل کے لیے اسکرین پر سائے کی شکل اور جسامت کا مشاہدہ کریں۔ \کیا بھی معاملوں میں سایہ بنا ہے؟ کیا سائے کی شکل اور جسمات شے کے جیسی تھی ؟
- اپنے مشاہدات کو جدول 11.2 کے دوسرے کالم میں درج کریں۔
جدول 11.2 : سائے کے مشاہدات
آپ اس سرگرمی سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ سائے کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا چیز کا رنگ بدلنے پر سائے کا رنگ بدل جاتا ہے؟
سائے اس وقت بنتے ہیں جب کوئی شے روشنی کو اسکرین پر پڑنے سے روک دیتی ہے۔ سائے کا مشاہدہ تا کا کرنے کے لیے ہمیں روشنی کا ذریعہ ، ایک غیر شفاف شے اور ایک اسکرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری روز مرہ زندگی میں سائے کا مشاہدہ کرنے کے لیے دیواریں، فرش، زمین یا کوئی دیگر سطح اسکرین کا کام کرتی ہے۔
سائے کی شکل، جسامت اور نفاست (sharpness) روشنی کے ماخذ او راسکرین کی مناسبت میں شے کے مقام پر منحصر ہوتی ہے۔ سائے ہمیں اشیا کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ ہم شے کے متعلق بالکل بھی اندازہ نہ لگا سکیں۔ غیر شفاف اشیا کا رنگ تبدیل ہونے سے سائے کا رنگ نہیں بدلتا ہے۔
شیڈو پلے، یا شیڈو کٹھ پتلی صدیوں سے ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ رہی ہے۔ آرٹ کی اس شکل میں، سپاٹ کٹ آؤٹ اشکال کو جنھیں شیڈ و کٹھ پتلی کہتے ہیں، روشنی کے ماخذ اور اسکرین کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ کٹھ پتلیوں اور روشنی کو حرکت دے کر کٹھ پتلی کے فن کار زندہ محسوس ہونے والی حرکات کی تخلیق کر کے اپنے کرداروں میں جان ڈال دیتے ہیں۔ مختلف خطوں کے اپنے منفرد طرز ہیں، جیسے مہاراشٹر میں چرم بہولی نائیہ ، آندھرا پردیش میں کیلو بوتے اور تھولو بوم مالتا، کرناٹک میں تو گالو گو میبا تا، اوڈیشہ میں رادان چھایا، کیرالہ میں تھول پاد کو تھو ، اور تمل ناڈو میں بو تالٹم ۔ ان کا استعمال نہ صرف تفریح کے لیے بلکہ معاشرے کو اہم پیغام دینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
11.5 روشنی کا انعکاس
سرگرمی 11.5: آئیے تفتیش کریں
- ایک چمک دار سپاٹ اسٹیل کی پلیٹ یا سطح آئینہ ، یعنی ایسا آئینہ تلاش کریں جو سپاٹ ہو اور خم دار نہ ہو۔
- اسے باہر لے جائیں اور چمک دار سطح پر سورج کی روشنی پڑنے دیں۔ آپ روشنی کو اس دیوار کی طرف موڑ نے کے لیے کیا کر سکتے ہیں جس پر سورج کی روشنی براہ راست نہیں پڑ رہی ہے؟
- روشنی کو دیوار یا کسی نزدیکی سطح کی طرف موڑنے کے لیے چمک دار پلیٹ یا آئینے کو مختلف سمتوں میں گھمائیں (شکل 11.8) ۔ کیا آپ کو دیوار پر روشی کا کوئی دھبہ نظر آتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ چمک دار پلیٹ یا آئینے نے روشنی کی سمت کو تبدیل کر دیا ہے ؟
- اب چمک دار پلیٹ یا آئینے کو مختلف طریقوں سے ترچھا کریں اور دیوار پر روشنی کے دھبے کا مشاہدہ کریں۔ کیا یہ اپنی جگہ بدلتا ہے ؟ غور کریں کہ کس طرح روشنی ہمیشہ سیدھے خط پر سفر کرتی ہے اور کسی چمک دار پلیٹ یا آئینے پر پڑنے کے بعد اپنی سمت تبدیل کر لیتی ہے۔
آپ اپنے مشاہدات سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؟ اس سرگرمی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک چمک دار سطح یا آئینہ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی کی سمت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ آئینے کے ذریعے روشنی کی سمت میں یہ تبدیلی روشنی کا انعکاس (reflection of light) کہلاتی ہے۔ آئیے آئینے سے ہونے والے روشنی کے انعکاس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 11.6 : آیئے تجربہ کریں
- ایک مسطح آئینہ مع اسٹینڈ ، ایک ٹارچ ، ایک کنگھی، سفید کاغذ کی ایک شیٹ اور سیاہ کاغذ کی ایک پٹی لیں۔
- سیاہ کاغذ کی مدد سے کنگھی کے کسی ایک سوراخ کو چھوڑ کر باقی تمام کو بند کر دیں تا کہ ایک پتلی جھری (slit) بن جائے۔
- ایک میز میز پر سفید کاغذ پھیلائیں، کنگھی کو کاغذ کی شیٹ پر عمودی حالت میں رکھیں اور جھری پر ٹارچ کی روشنی ڈالیں کنگھی اور ٹارچ کو اس وقت تک تھوڑا ساد رست کریں جب تک کہ آپ کو کاغذ پر جھری سے ہو کر گزرنے والی روشنی کا پتلا ہیم نظر نہ آجائے (شکل 11.91 ) ۔
- کنگھی کو اسی جگہ پر قائم ر ہوئے آئینے کو روشنی کے بہیم کے راستے میں رکھیں (شکل 11.90 ) ۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں ؟ آئینے پر پڑنے کے بعد روشنی کے بیم کاراستہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ آئینے سے روشنی کا انعکاس ہوتا ہے۔
11.6 مسطح آئینے میں بننے والی شبیہ
آئینے میں دیکھیں۔ کیا آپ کو اس میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے ؟ آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ آئینے میں آپ کے چہرے کی شبیہ (image) ہے۔ ہم آئینے کے سامنے موجود دیگر اشیا کی شبیہ بھی دیکھتے ہیں۔ آئیے اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 11.7 : آپے تجربہ کریں
- مسطح آئینہ اور پین یا کوئی اور چیز لیں۔
- بین کو آئینے کے سامنے رکھیں جیسا کہ شکل 11.10 میں دکھایا گیا ہے۔ آئینے میں آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ ایسالگتا ہے جیسے آئینے کے پیچھے اسی طرح کا پین رکھا ہوا ہے۔ آئینے کے پیچھے نظر آنے والا بین آئینے کے ذریعے بنائی گئی پین کی شبیہ ہے۔ پین بذات خود ایک شے ہے۔
- اب پین کو آئینے کے سامنے مختلف مقامات پر لے جائیں اور ہر مقام پر پین کی شبیہ کے سائز کا موازنہ کریں۔ کیا دونوں سائز ایک جیسے ہیں ؟ مسطح آئینے میں بنے والی شبیہ شے کے سائز کی ہوتی ہے۔
- ایک مرتبہ پھر پین کو آئینے کے سامنے مختلف مقامات پر رکھیں اور مشاہدہ کریں کہ آیا ہر مقام پر شبیہ سیدھی ہے۔ کیا ہر مقام پر پین کی نوک او پر نظر آتی ہے ؟ ایسی شبیہ کو سیدگی شبیہ (erect image) کہا جاتا ہے مسطح آئینے میں بننے والی شبیہ سیدھی ہوتی ہے۔
- اب، آئینے کے پیچھے ایک اسکرین کو عمودی حالت میں رکھیں۔ اسے ادھر اُدھر حرکت دیں۔ کیا آپ کو اسکرین پر شبیہ حاصل ہوتی ہے ؟ اسکرین کو آئینے کے سامنے رکھ کر اس عمل کو دہرائیں۔ مسطح آئینے میں بننے والی شبیہ کو اسکرین پر حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
سرگرمی 11.8 : آیئے تجربہ کریں
- مسطح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی شبیہ کو دیکھیں (شکل 11.11)۔ غور کریں کہ یہ آئینے سے کتنی دور نظر آتی ہے۔
- اب آئینے کے قریب کھڑے ہو جائیں۔ کیا شبیہ بھی آئینے کے قریب آگئی ہے ؟
- آئینے کے سامنے مختلف فاصلوں پر کھڑے ہو کر دیکھیں کہ ہر معاملے میں شبیہ آئینے سے کتنی دور نظر آتی ہے۔ کیا آپ کو آئینے سے خود کے فاصلے اور آئینے سے خود کی شبیہ کے فاصلے کے درمیان کوئی تعلق نظر آتا ہے ؟ در زمان کوئی تعلق نظر آتا ہے؟
آپ نے غور کیا ہو گا کہ جب آپ آئینے کے قریب کھڑے ہوتے ہیں تو شبیہ بھی آئینے کے قریب نظر آتی ہے اور جب آپ آئینے سے دور کھڑے ہیں تو شبیہ بھی آئینے سے دور نظر آتی ہے۔
- اپنا بایاں ہاتھ اوپر اٹھائیں۔ آپ کی شبیہ میں کون سا ہاتھ اوپر اٹھتا ہے ؟
- اپنا دایاں کان چھوئیں۔ آپ کی شبیہ نے کون سا کان چھوا ہے؟
آپ دیکھیں گے کہ آپ کی شبیہ میں آپ کا بایاں حصہ دایاں اور دایاں حصہ بایاں نظر آتا ہے۔ اس قسم کی تصور کردہ دائیں بائیں تقلیب جانبی تقلیب (Lateral inversion) کہلاتی ہے۔ مسطح آئینے میں بننے والی شبیہوں میں جانبی تقلیب پائی جاتی ہے۔
آئینوں کی ایجاد کب ہوئی، یہی علوم نہیں ہے۔ بہت پہلے پتھر یا دھاتوں پر پالش کر کے آئینے بنائے جاتے تھے۔ جب شیشے سے آئینے بنائے جانے لگے تو دھاتی آئینے بنانے کا فن رفتہ رفتہ ختم ہونے لگا۔ تاہم یہ فین آج بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر کیر لا میں ارنمولا کناڈی جہاں منفر د دھاتی سطح والا آئینہ صدیوں سے بنایا جارہا ہے۔
11.7 پن ہول کیمرہ(Pin hole Camera)
پن ہول کیمرہ ایک ایسا آلہ ہے جس میں کسی شے سے آنے والی روشنی کی شعاعیں بہت چھوٹے سوراخ (پن ہول) سے گزرتی ہیں اور اسکرین پر شبیہ بناتی ہیں۔
سرگرمی 11.9 : آئیے چھان بین کریں
انتباہ- جلتی ہوئی موم بتی کا استعمال صرف بڑے فرد کی نگرانی میں ہی کریں۔
- گئے کا ایک ٹکڑا اور موم بتی لیں۔ گتے کے ٹکرے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کریں۔
- کم روشنی والے کمرے میں گتے کو پردے کے سامنے اس طرح رکھیں کہ دونوں کے درمیان بہت مختصر فاصلہ ہو۔
- اب گتے کے سامنے جلتی ہوئی موم بتی رکھیں جیسا کہ شکل 11.12a میں دکھایا گیا ہے۔
آپ کو پردے پر کیا نظر آتا ہے؟ موم بتی کی لو سے آنے والی روشنی گتے کے ٹکڑے میں بنے سوراخ سے ہو کر گزرتی ہے اور پردے پر موم بتی کی لو کی شبیہ (image ) بناتی ہے۔ کیا آپ کو کوئی حیران کن چیز نظر آتی ہے۔ موم بتی کی لوکی شبیہ الٹی (inverted) ہے۔
آئیے اب ایک پین ہول کیمرہ بنائیں جسے آپ گھر کے باہر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
سرگرمی 11.10 : آیئے چیزیں بنائیں
- گتے کے دو ایسے ڈبے لیں جو ایک دوسرے پر سرک سکیں اور دونوں کے درمیان بہت کم خلا ہو۔ ہر ڈبے کو ایک طرف سے کاٹ لیں۔
- بڑے ڈبے کے مقابل رخ پر درمیان میں ایک سوراخ کریں (شکل 11.3a
- چھوٹے ڈبے کے مقابل رخ پر درمیان میں سے تقریباً 5 تا 6 سینٹی میٹر ضلع والا ایک مربع کاٹ لیں۔ اس کھلی ہوئی جگہ کو کسی پہلے نیم شفاف کاغذ ( مثلا ٹریسنگ پیپر ) سے ڈھک کر پردہ (اسکرین) بنائیں (شکل 11.3b ) ۔
- چھوٹے ڈبے کو بڑے ڈبے کے اندر اس طرح سر کائیں کہ ٹرینگ پیپر والا حصہ اندر کی طرف ہو - (11.13C شکل) پن ہول کیمرے کو اس طرح پکڑیں کہ پین ہول کا رخ شے کی طرف ہو ۔ اب چھوٹے ڈبے کے کھلے ہوئے حصے سے دیکھیں۔ اپنے سر اور کیمرے کو گہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ دور مقام پر واقع کسی شے مثلاً کوئی درخت یا عمارت کو سورج کی تیز روشنی میں دیکھیں اور چھوٹے ڈبے کو آگے یا پیچھے کی سمت میں اس وقت تک کھسکائیں۔ جب تک کہ ٹریسنگ پیپر پر کوئی شبیہ نہ نظر آجائے۔
کیا کیمرے میں نظر آنے والی شبیہ دوسری طرف موجود چیزوں کے رنگ کو دکھاتی ہے یا الٹی(erect)ہے ؟ کیا یہ شبیہ سیدگی (inverted)؟
پن ہول کی رہائی شبیہ بناتا ہے۔ اسکے برعکس آئینے میں بنے والی بیہ میں جانی تلا ہوتا ہے لیکن یہ ال نہیں ہوتی۔ ہم اس کے متعلق اگلے گریڈ میں تفصیل سے پڑھیں گے۔
11.8 کچھ مفید چیزیں تیار کرنا
یہ سیکھنے کے بعد کہ روشنی سیدھے خط پر سفر کرتی ہے اور آئینوں سے منعکس ہو جاتی ہے ، اب وقت ہے کہ اس آموزش کی بنیاد پر مفید چیزوں کی تخلیق کی جائے۔
11.8.1 اطراف بین (Periscope)
Z کی شکل والے باکس میں دو سطح آئینے لگا کر ایک سادہ اطراف بین بنا سکتے ہیں جیسا کہ شکل 11.14 میں دکھایا گیا ہے۔
دونوں آئینوں سے ہونے والا انعکاس ہمیں ان چیزوں کو دیکھنے میں مدد کرتا ہے جنھیں ہم براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔ اطراف بین کا استعمال آب دوزوں اور ٹینکوں میں کیا جاتا ہے۔ فوجی دستے اپنے بنکروں سے باہر دیکھنے کے لیے بھی اطراف بین کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے قد سے بڑے دوستوں کے پیچھے کھڑے ہیں اور آگے دیکھنا چاہتے ہیں تو بھی اطراف بین کا استعمال کر سکتے ہیں۔
11.8.2 عکس بین (Kaleidoscope)
مستطیل نما مسطح آئینے کی تین پٹیاں لیں جن کی چوڑائی مساوی ہو ۔ ساوی ہو ۔
انھیں مثالث نما شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیں جیسا کہ شکل 11.52 میں دکھایا گیا ہے۔ آپ آئینوں کی جگہ موٹے انعکاسی کاغذ کی تین بیٹیاں بھی لے سکتے ہیں۔ انھیں کسی چارٹ پیپر کی دائرہ نما نلکی میں لگائیں ( شکل 11.5 ) نیکی کے ایک سرے پر ر بر بینڈ یا چپکنے والی ٹیپ کی مدد سے ایک شفاف پلاسٹک شیٹ لگائیں۔ اس شیٹ پر رنگین چوڑیوں یا موتیوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے رکھیں (شکل 11.50 ) اور اسے ربر بینڈ یا چپکنے والی ٹیپ کی مدد سے ٹریسینگ پیپر سے ڈھک دیں۔
جب آپ نلکی کے کھلے ہوئے حصے میں جھانکتے ہیں تو آپ کو خوبصورت پیٹرن (نمونے نظر آتے ہیں (شکل 11.51 ) ۔ اگر آپ عکس بین کے دونوں کناروں کو کھلا چھوڑ دیں اور اس کا رخ کسی درخت یا شے کی
طرف کریں تو بھی آپ کو خوب صورت پیٹرن نظر آئیں گے۔ عکس بین کی ایک دل چسپ خصوصیت یہ ہے کہ جب بھی آپ عکس بین کو گھمائیں گے ہمیشہ ایک مختلف پیٹرن نظر آئے گا۔ چوں کہ اس میں تین آئینے ہیں اور متعدد شبیہیں ( مکرر انعکاس کی وجہ سے) بنتی ہیں۔ اس لیے بہت سے دل چسپ پیٹرن بنتے ہیں نمونہ ساز اورفن کار نئے نمونے تلاش کرنے کے لیے اکثر عکس بین کا استعمال کرتے ہیں۔
خلاصه
- وہ اشیا جو خود اپنی روشنی خارج کرتی ہیں منور اشیاء کہلاتی ہیں۔
- روشنی سیدھے خط پر سفر کرتی ہے۔
- روشنی شفاف مواد سے ہو کر تقریباً مکمل طور پر گزر جاتی ہے۔ روشنی نیم شفاف مواد سے ہو کر جزوی طور پر گزرتی ہے۔ روشنی غیر شفاف مواد سے ہو کر نہیں گزرتی ہے۔
- سائے اس وقت بنتے ہیں جب کوئی شے روشنی کے راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔ غیر شفاف اشیاز یادہ گہرا سایہ بناتی ہیں۔ نیم شفاف اشیا نسبتا ہلکا سایہ بناتی ہیں۔ کچھ شفاف چیزیں دھندلے سائے بنا سکتی ہیں۔
- آئینے کے ذریعے روشنی کی سمت میں تبدیلی، روشنی کا انعکاس کہلاتی ہے۔
- مسطح آئینے سے بنے والی شبیہ شے کے سائز کے مساوی سیدھی ہوتی ہے۔ اسکرین ( پردے) پر حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ جاننی طور پر الٹی ہوتی ہے۔
- پن ہول کیمرہ اسکرین پر شے کی الٹی شبیہ بناتا ہے۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- درج ذیل میں سے کون سی منور اشیا ہیں؟
مریخ، چاند، قطب تاره، سورج، وینس، آئینه - کالم A کو کالم B سے ملائیے۔
- ساحل، ریکھا، پیٹرک اور قاسمیہ موم بتی کی لو کو ایک پائپ کی مدد سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ شکل 11.16 میں دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے کون لو کو دیکھ سکتا ہے ؟
- شکل 11.17 میں دکھائی گئی شبیہوں پر غور کریں اور لڑکے کے سائے کی تشکیل کو دکھانے والی درست شبیہ کا انتخاب کریں۔
- ایک گیند کو ٹارچ کے سامنے رکھ کر دیوار پر اس کا سایہ بنایا گیا ہے منظر نامہ (1) میں گیند ، ٹارچ کے نزدیک ہے۔ جب کہ منظر نامہ (ii) میں گیند ، دیوار کے نزدیک ہے۔ دیے ہوئے متبادلات (a) اور (b) میں سے دونوں منظر ناموں میں بننے والے سائے کے درست اظہار کا انتخاب کریں۔
- شکل 11.18 کی بنیاد پر کالم A میں ٹارچ کے مقام کا کالم B میں گیند کے سائے کی خصوصیات کے ساتھ ملان کریں۔
- فرض کریں کہ آپ پن ہول کیمرے کی مدد سے شکل 11.9 میں دکھائے گئے درخت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ پن ہول کیمرے میں بننے والی درخت کی شبیہ کا خاکہ بنائیں۔
- کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اپنا نام لکھیں اور اسے سطح آئینے کے سامنے اس طرحرکھیں کہ کاغذ ، مسطح آئینے کے متوازی ہو۔ شبیہ کا خاکہ بنائیں۔ آپ نے کیا فرق محسوس کیا؟ فرق کی وجہ بیان کریں۔
- اپنے دوست کی مدد سے صبح 9 بجے ، دو پہر 12 بجے اور شام 4 بجے اپنے سائے کی لمبائی نا پیں اور اپنے مشاہدات لکھیں۔
- دیے گئے اوقات میں سے کب آپ کا سایہ سب سے چھوٹا ہے ؟
- آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے ؟
- مندرجہ ذیل بیانات کی بنیاد پر درست متبادل کا انتخاب کریں۔
- دونوں بیانات درست ہیں
- دونوں بیانات غلط ہیں
- بیان A درست ہے لیکن بیان B غلط ہے
- بیان غلط ہے ؟ غلط ہے لیکن بیان B درست ہے
- فرض کریں آپ کو ایک نکی ( ٹیوب) دی گئی ہے جسے شکل 11.20 میں دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو سطح آئینے بھی دیے گئے ہیں جو نلکی کے قطر سے چھوٹے ہیں۔ کیا اس نلکی کا استعمال اطراف بین بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہاں تو اس نلکی میں ان مقامات کی نشاندہی کریں جہاں آپ آئینہ لگائیں گے۔
- جب کوئی پرندہ آسمان میں بہت زیادہ اونچائی پر اڑ رہا ہو تو ہمیں زمین پر اس کا سایہ نظر نہیں آتا تاہم جب پرندہ سطح زمین کے نزدیک آتا ہے تو اس کا سایہ نظر آنے لگتا ہے سو چیں اور وضاحت کریں کہ ایسا کیوں ہے؟
بیان A: مسطح آئینے میں بنے والی شبیہ جانبی طور پر الٹی ہوتی ہے۔
بیان B: حروف T اور O کی شبیہ سطح آئینے میں حروف کے جیسی ہی نظر آتی ہے۔
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- کیا آپ نے کبھی اپنے علاقے میں جگنو دیکھا ہے ؟ اگر نہیں، تو اپنے بزرگوں سے پوچھیں کیا کبھی پہلے آپ کے علاقے میں جگنو نظر آتے تھے۔ اگر ہاں، تو اب ان کے نظر نہ آنے کی وجہ دریافت کریں۔ اس کے بارے میں ایک کہانی تیار کریں۔
- سرگرمی 11.14 کو دہرائیں لیکن اس مرتبہ ٹارچ کے اگلے حصے کو رنگین شفاف کاغذ سے ڈھک دیں اور سائے کے رنگ کا مشاہدہ کریں۔ اس عمل کو مختلف رنگ کے شفاف کاغذ کا استعمال کر کے دہرائیں اور اپنے نتائج کی رپورٹ تیار کریں۔
- مسطح آئینہ کسی بھی شے کی صرف ایک شبیہ بناتا ہے۔ اگر دو یا دو سے زیادہ سطح آئینوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کسی زاویے پر یا متوازی رکھا جائے تو کیا ہو گا ؟ دو آئینوں کو شکل 11.21 کے مطابق رکھیں اور معلوم کریں؟
- آپ کو مسطح آئینے کا ایک چھوٹا ٹکرادیا گیا ہے۔ کیا یہ ٹکڑا آئینے سے بہت بڑی شے مثلاً کسی بڑے درخت کی شبیہ بنا سکتا ہے؟ غور کر کے پیشن گوئی کریں، اس کے بعد سرگرمی انجام دیں۔
سورج سے خارج ہونے والی روشنی کو زمین تک پہنچے میں تقریباً 8 منٹ 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔ اگر سورج سے روشنی کا اخراج اچانک بند ہو جائے تو اگلے 8 منٹ 20 سیکنڈ تک ہم اس کے بارے میں نہیں جان پائیں گے۔