12
زمین، چاند اور سورج
(Earth, Moon and the Sun)
ایک صبح تمل ناڈو کے کنیا کماری میں 12 سالہ رشمیکا اسکول پہنچنے کے لیے بے تابی سے سائیکل چلا رہی تھی۔ وہ بہت پر جوش تھی۔ آج اس کی سائنس ٹیچر نے طلبا کو دل چسپ مشاہدات بیان کرنے کے لیے خصوصی کلاس کی تھی۔
رشمیکا نے غور کیا کہ ناریل کے درختوں کے سائے صبح کو لمبے ہوتے ہیں لیکن جب وہ دو پہر کو واپس گھر لوٹتی ہے تو یہ سائے چھوٹے نظر آتے ہیں۔ اس نے اس کے بارے میں سوچا اور نتیجہ نکالا کہ سائے کی جسامت اس لیے بدلتی ہے کیوں کہ سورج دن کے وقت آسمان میں گھوم کر دوسری جانب آجاتا ہے۔ لیکن اسے یہ بھی یاد آیا کہ زمین تو سورج کے گرد گھومتی ہے ( گریڈ 6 سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب زمین کے اس پار میں) لہذا وہ الجھن میں پڑ گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا سورج آسمان میں حرکت کرتا ہے؟ یا پھر زمین حرکت کرتی ہے؟
12.1 زمین کی گردش
آپ نے یہ بھی غور کیا ہو گا کہ سورج مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ آیئے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ کیا آپ نے بھی پارک یا اپنے اسکول میں گول گھومنے جھولے کا لطف اٹھایا ہے؟ آئیے پھر سے ہم جھولے کی سواری کریں!
سرگرمی 12.1 : آیئے چھان بین کریں
- جیسا کہ شکل 12.1 میں دکھایا گیا ہے باہر کی طرف منھ کر کے جھولے پر بیٹھیں۔
- کسی سے کہیں کہ وہ جھولے کو آہستہ آہستہ گھڑی کی مخالف سمت میں گھمائے جیسا کہ شکل 12.1 میں دکھایا گیا ہے۔
جب آپ حرکت پذیر جھولے پر بیٹھے ہوں تو اپنے آس پاس نظر ڈالیں۔ کیا آپ کے ارد گرد کی اشیا حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ؟ وہ کس سمت میں حرکت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں؟
جب آپ گھڑی کی مخالف سمت میں گھومتے ہیں تو اشیا آپ کے گرد مخالف سمت میں، یعنی گھڑی کی سمت میں گھومتی نظر آتی ہیں۔ - اب حرکت پذیر جھولے پر بیٹھے بیٹھے اپنی نظریں اپنے سامنے کسی خاص درخت یا کسی عمارت) کی طرف جمائیں ۔
آپ درخت کو اپنے گرد کس سمت میں گھومتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ہر وقت آپ کی نظر میں رہتا ہے؟
جب آپ ب گھڑی کی مخالف سمت میں گھومتے ہوئے درخت کو دیکھتے ہیں تو نہ ہیں تو یہ آپ کے گرد مخالف سمت میں گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے، یعنی گھڑی کی سمت میں۔ درخت آپ کی نظروں میں آپ کی بائیں جانب سے ظاہر ہوتا ہے اور پھر دائیں جانب او جھل ہو جاتا ہے۔
جھولے کی سواری کرنے کے دوران اپنے مشاہدات کا استعمال کرتے ہوئے آئیے اب غور کرتے ہیں۔ جب ہم زمین سے دیکھتے ہیں تو سورج مشرق میں نمودار ہوتا ہے اور مشرق سے مغرب کی طرف آسمان میں گھومتا ہوا مغرب میں غائب ہو جاتا ہے۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج آسمان میں حرکت کر رہا ہے؟ یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ زمین خود گھوم رہی ہو اور سورج صرف حرکت کرتا ہوا محسوس ہو رہا ہو ؟
حقیقت یہ ہے کہ سورج اس لیے حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے کیوں کہ ہم اسے زمین سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، جو خود حرکت میں ہے۔
زمین کس طرح اپنے محور پر گھوم رہی ہے ؟ اس کا تصور کرنے کے لیے، آئیے ہم کچھ اشیا کو یاد کرتے ہیں جو خود اپنے محور پر گھومتی ہیں۔ آپ نے لٹو کو اس کی تکلی کے گرد گھومتے ہوئے دیکھا ہے (شکل 12.2a ) ؟ یا گھومنے والا پنکھا ( شکل 12.2b ؟ یا پھر کسی نے گیند انگلی پر گھمانے کی کوشش کی ہے (شکل 12.2c)
اسی طرح زمین بھی خلا میں اپنے محور پر گھومتی ہے (یا گردش کرتی ہے) جیسا کہ شکل 12.3 میں دکھایا گیا ہے۔ زمین کی گردش کا محور اس کے جغرافیائی قطب شمالی اور قطب جنوبی سے گزرتا ہے۔ زمین تقریباً 24 گھنٹوں میں ایک گردش مکمل کرتی ہے۔
اگر قطب شمالی کے اوپر سے دیکھا جائے (شکل 12.3)، تو زمین گھڑی کی مخالف سمت میں یعنی مغرب سے مشرق کی طرف گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔
آیئے ہم اسے ایک گلوب کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ نے گریڈ 6 میں زمین کی نمائندگی کرنے کے لیے گلوب استعمال کیا تھا اور اس پر قطب شمالی ، قطب جنوبی اور خط استوا کی نشان دہی کی تھی۔ آپ نے یہ بھی سیکھا تھا کہ اس کا محور اس کے شمالی اور جنوبی قطبوں سے گزرتا ہے ( گریڈ 6 سوشل سائنس کی درسی کتاب معاشرے کی دریافت : ہندوستان اور اس سے آگے ہیں)۔
سرگرمی 2. 12: آئیے چھان بین کریں
- زمین کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک گلوب کا استعمال کریں اور اس پر اپنے محل وقوع کو نشان زد کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا اسٹیکر چپکائیں (شکل 12.42)۔
- قطب شمالی کے اوپر سے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ گلوب کو اس کے محور پر گھڑی کی مخالف سمت میں گھمائیں۔
- مشاہدہ کریں کہ آپ کا محل وقوع کس طرح گھومتا ہے اور آخر کار ایک گردش مکمل کر کے اپنی اصل جگہ پر واپس آجاتا ہے۔
گردش کسی شے کی اس حرکت کو کہتے ہیں جس میں اس کے تمام حصے اس کے اندر سے گزرنے والی ایک خیالی لکیر کے گرد دائروں میں حرکت کرتے ہیں۔ اس لکیر کو گردش کا محور کہا جاتا ہے۔
- سورج کی نمائندگی کرنے کے لیے ٹارچ کا استعمال کریں۔ آگے کے مراحل کو انجام دینے کے لیے نسبتاً کسی تاریک کمرے میں جائیں۔
- اب گلوب پر تقریباً 1.5 میٹر کے فاصلے پر رکھی ہوئی ٹارچ سے روشنی ڈالیں جیسا کہ شکل 12.40 میں دکھایا گیا ہے۔ کیا آپ دیکھتے ہیں کہ گلوب کا نصف ہی حصہ ٹارچ کی روشنی سے جگمگاتا ہے، جب کہ باقی نصف اندھیرے میں رہتا ہے؟ یہ گلوب کے اس نصف حصے میں، جو روشنی حاصل کرتا ہے، دن کا وقت ہے، اور باقی نصف میں رات کا وقت ہے۔
- ہندوستان میں طلوع آفتاب پہلے مشرقی حصے میں اور پھر دوسرے حصوں میں ہوتا ہے۔ گلوب پر ہندوستان کے مشرقی حصے کو دیکھتے ہوئے ، اسے ایک سمت میں گھمائیں اور پھر مخالف سمت میں گھمائیں ۔ جب ہندوستان کے مشرقی حصے میں سب سے پہلے روشنی پڑتی ہے تو گردش کی سمت کیا ہوتی ہے ؟
جب گلوب کو شمال - جنوب محور کے لحاظ سے مغرب سے مشرق کی طرف گھمایا جاتا ہے تو روشنی پہلے ہندوستان کے مشرقی حصے پر پڑتی ہے۔
- اب گلوب کو گھماتے ہوئے مغرب سے مشرق کی طرف زمین پر اپنے محل وقوع کا مشاہدہ کریں۔ کیا یہ دن اور رات کے چکر سے گزرتا ہے؟
طلوع آفتاب اس وقت ہوتا ہے جب آپ کا محل وقوع روشنی میں آجاتا ہے اور غروب آفتاب اس وقت ہوتا ہے جب یہ اندھیرے میں آتا ہے۔
مغرب سے مشرق کی طرف زمین کی گردش دن اور رات کے چکر کا سبب بنتی ہے۔ جیسا کہ شکل 12.5 میں دکھایا گیا ہے، سورج کا سامنا کرنے والے حصے میں دن ہوتا ہے، جب کہ دوسری طرف اندھیرا ہوتا ہے اور وہاں رات ہوتی ہے۔
اب تصور کریں کہ آپ زمین پر خط استوا پر کھڑے ہیں اور زمین کی ایک گردش کے دوران آسمان کو دیکھ رہے پر کی کو ہیں کہ پیغرب سے مشرق کی طرف گھوم رہا ہے۔ آپ کیا دیکھیں گے؟ کیا آپ کا مشاہدہ و ہی ہو گا جو شکل 12.6 میں دکھایا گیا ہے؟
زمین کی گردش کی وجہ سے سورج مشرق کی سمت میں طلوع ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر مشرق سے مغرب کی طرف آتا اور آسمان میں گھومتے ہوئے مغرب کی سمت میں غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے ( شکل 12.6)۔ پھر رات شروع ہوتی ہے اور آسمان میں ستارے نظر آنے لگتے ہیں۔
پہلے باب ، وقت اور حرکت کی پیمائش میں آپ نے سیکھا کہ کس طرح سائنس داں گلیلیو (Galileo) نے پنڈولم کی ایک اہم خاصیت دریافت کی اور ستر ہویں صدی میں ایک اور سائنس دان ہانگنز (Huygens) نے اس خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے پنڈولم گھڑیاں بنائیں جو وقت کی پیمائش کرتی تھیں۔ انیسویں صدی کے وسط میں ایک اور سائنس داں لیون فوکو (Leon Founcault) نے زمین کی گردش کا پہلا سادہ مظاہرہ پیش کرنے کے لیے ایک لمبے پینڈولم کا استعمال کیا۔ یہ پیڈ ولم ان کے اعزاز میں فو کو پنڈ ولم کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک لمبی تار پر شتمل ہوتا ہے جس میں ایک بھاری ساہول ہوتا ہے، جسے اونچی چھت سے لٹکایا جاتا ہے۔
ہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے کانسٹی ٹیوشن ہال میں 22 فٹ لمبائی کا فو کو پنیڈ ولم لٹکایا گیا ہے۔ یہ کائنات کی وسعت کے ساتھ ہندوستان کے تصور کے انضمام کی علامت ہے۔
ہاں، واقعی! آیئے زمین کی گردش کے اثرات کو دیکھنے کے لیے شب آسمان میں ستاروں پر نظر ڈالتے ہیں۔
سرگرمی 12.3 : آئیے چھان بین کریں
- مارچ اور مئی کی درمیانی شام کو بگ ڈ پر (سپترشی) اور قطب ستارہ (دھرو تارا) کی شناخت کریں، اگر نظر آئے ، جیسا کہ آپ نے گریڈ 6 کے لیے سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب زمین کے اس پار میں کیا تھا۔
- اپنے مقام اور اپنے شب آسمان کے مشاہدات کی تاریخ درج کریں۔ یہ سرگرمی ایک ہی رات میں انجام دی جانی چاہیے۔
- قطب ستارے کے حوالے سے ( یا اگر آپ قطب ستارے کو نہیں دیکھ سکتے تو بگ ڈپر کی طرف سمت میں زمین پر ایک متعین درخت / عمارت وغیرہ کے حوالے سے) آسمان میں بگ ڈ پر کی رخ بندی کا خاکہ بنائیں۔ اپنے مشاہدے کے وقت کو اپنے خاکے کے ساتھ نشان زد کریں جیسا کہ شکل 12.7 میں دکھایا گیا ہے۔
- دو گھنٹے کے بعد ، بگ ڈپر کو دوبارہ دیکھیں۔ کیا یہ حرکت کر رہا ہے ؟ ایک بار پھر ، اس کی رخ بندی کا خاکہ بنائیں اور وقت درج کریں۔
- مندرجہ بالا مر حلے کو دو گھنٹے کے بعد دہرائیں۔ کیا آپ نے مشاہدہ کیا کہ بگ ڈ پر قطب ستارے کے گرد گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے ( اگر آپ قطب ستارے کو نہیں دیکھ سکتے ہیں تب بھی صرف حرکت پر غور کریں) ؟
زمین کی گردش کا محور شمالی نصف کرے میں قطب ستارے کے بہت قریب ہے۔ اس لیے آسمان میں قطب ستارہ زمین سے لگ بھگ جامد دکھائی دیتا ہے۔ تمام ستارے اس کے گرد گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں سورج کی طرح چاند بھی مشرق کی سمت سے طلوع اور مغرب کی سمت میں غروب ہوتا ہے کیوں کہ زمین مغرب سے مشرق کی طرف گھومتی ہے۔
ایسٹر و فوٹو گرافر طویل ایکسپوژر تصاویر لیتے ہیں، کیمرے کے شٹر کو دیر تک کھلا رکھتے ہیں۔ اس طرح کی تصویر میں ستاروں کی ظاہری حرکت دائرے کے قوسوں کی طرح ریکار ڈ ہو جاتی ہے، جسے ستاروں کی پگڈنڈیاں (star trails) کہا جاتا ہے۔
قدیم ہندوستانی ماہرین فلکیات به شمول آریہ بھٹ نے سورج، چاند، سیاروں اور ستاروں جیسے اجرام فلکی کی یومیہ ظاہری حرکت کا بھی مشاہدہ کیا تھا۔ آریہ بھٹ قدیم ہندوستان کے مشہور ریاضی داں اور ماہر فلکیات تھے جنھوں نے پانچویں صدی عیسوی کے آس پاس ایک اہم کتاب آریہ بھٹیا لکھی تھی۔ زمین کی گردش کی وجہ سے ستاروں کی ظاہری حرکت کی وضاحت شلوک 9، گولپد ، آریہ بھٹیا میں اس طرح کی گئی ہے۔
अनुलोमगतिर्नोस्थः पश्यत्यचलं विलोमगं यद्वत् ।
अचलानि भानि तद्वत् समपश्चिमगानि लङ्कायाम् ॥
جس طرح کشتی میں سوار کوئی شخص آگے بڑھتا ہوا جامد اشیا کو پیچھے کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے، اسی طرح ستارے جو جامد ہیں لنکا کے لوگوں کو مغرب کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
زمین کو اپنے محور کے گرد گردش مکمل کرنے میں جو وقت لگتا ہے اس کی آریہ بھٹ کی بیان کردہ قدر ( جدیدا کائیوں میں) تقریباً 23 2 گھنٹے 56 منٹ 4.1 سیکنڈ ہے۔ یہ قدر متاثر کن طور پر موجودہ تسلیم شدہ قدر کے قریب ہے۔
12.2 زمین کا طواف
اپنے محور پر گھومتے ہوئے زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے جیسا کہ ہم نے گریڈ 6 میں سیکھا تھا۔ یہ حرکت گردش سے مختلف ہے۔ طواف (revolution) کسی شے کا کسی دوسری شے کے گرد حرکت کرنا ہے۔
کسی دوسری شے کے گرد گھومتے ہوئے کوئی شے جو راستہ اختیار کرتی ہے اسے اس کا مدار کہا جاتا ہے۔ اگر او پر سے دیکھا جائے ( شکل 12.8) تو سورج کے گروزمین کلدار تقریباً گول ہے۔ ( گریڈ 6 سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب زمین کے اس پار میں دیے گئے نظام شمسی کے خاکے میں، مدار لمبوتر (elongated) جس کے باب زمین کے اس پار میں دیے لئے نظام دکھائی دیتا ہے کیوں کہ یہ مدار کا جانبی منظر تھا)۔ زمین سورج کے گرد ایک طواف تقریباً 365 دن اور 6 گھنٹے میں مکمل کرتی ہے۔
12.2.1 زمین سے شب آسمان کا بدلتا منظر
ہر شام سورج مغرب کی سمت میں غروب ہو جاتا ہے اور شب آسمان نظر آنے لگتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ زمین کی گردش کی وجہ سے ہوتا ہے۔ چوں کہ زمین بھی سورج کے گرد مسلسل گردش کرتی ہے، چنانچہ سورج غروب ہونے کے بعد شب آسمان میں نظر آنے والے ستارے سال کے دوران بتدریج بدلتے رہتے ہیں، جیسا کہ ہم مختلف سمتوں میں دیکھتے ہیں جیسا کہ شکل 12.8 میں دکھایا گیا ہے۔
آپ اس تبدیلی کو ستاروں کے نمونے (جیسے وہ ستارے جن کے بارے میں آپ نے گریڈ 6 میں سیکھا تھا ) کو رات کے ایک متعین وقت پر، ایک مہینے کے فرق سے دیکھ کر بھی محسوس کر سکتے ہیں۔
بھیل اور پوار مغربی ہندوستان کی تاپی وادی سے تعلق رکھنے والی مقامی برادریاں ہیں، جو مانسون کی بارش کی آمد کے لیے آسمان میں ستاروں کے مخصوص نمونوں کی ظاہری ہیئت کو اشارے کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔
12.2.2 زمین پر موسم
زمین کی گردش کا محور مدار کے لحاظ سے سیدھا نہیں ہے بلکہ جھکا ہوا ہے۔ زمین سورج کے گرد طواف کرتے ہوئے اس جھکاؤ کو برقرار رکھتی ہے (شکل 12.9)۔ زمین کے محور کا جھکاؤ اور زمین کی گول شکل موسموں کو جنم دیتی ہے۔ آئیے معلوم کرتے ہیں، کیسے ؟
جون میں شمالی نصف کرہ سورج کی طرف جھکا ہوا ہوتا ہے جب کہ جنوبی نصف کرہ سورج کی مخالف سمت میں جھکا ہوتا ہے ( شکل 12.9) ۔ جیسا کہ شکل 12.10a میں دیکھا جا سکتا ہے، زمین کی سطح گول ہونے کی وجہ سے جنوبی نصف کرے کے مقابلے میں شمالی نصف کرے کے ایک چھوٹے سے حصے ہی میں سورج کی شعاعیں پڑ رہی ہیں۔ اس سے وہ حصہ زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ شمالی نصف کرے کو جون میں 12 گھنٹے سے زیادہ سورج کی روشنی ملتی ہے (شکل 12.11a ) ۔ لہذا، شمالی نصف کرے کو زیادہ شدت سے سورج کی روشنی ملتی ہے جو زیادہ دیر تک رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے موسم گرما واقع ہوتا ہے۔ دسمبر میں شمالی نصف کرے میں صورت حال اس کے برعکس ہوتی ہے اور اسے موسم سرما میں کم وقت کے لیے سورج کی روشنی ملتی ہے ( شکل 12.10a اور شکل (12.11b)۔
شمالی نصف کرے کے مقابلے میں جنوبی نصف کرے میں موسم اور دن کی لمبائی ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ جنوبی نصف کرے میں جون کے مہینے میں موسم سرما اور دسمبر میں موسم گرما ہوتا ہے ( شکل 12.10 اور شکل 12.11)۔
زمین پر موسم کیوں آتے ہیں اس کی توجیہ پیش کرنے کے لیے اکثر دو غلط وجوہ بیان کی جاتی ہیں:
- جب شمالی نصف کرہ سورج کی طرف جھکتا ہے تو یہ سورج کے قریب ہوتا ہے۔
- زمین کامدار بیضوی کا کے مرکز سے سورج تھوڑا سا ہوا ہے، زمین کامدار ایک بیضوی شکل کا ہے جس کے مرکز سے سورج تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے، اس لیے زمین سال بھر بیضوی شکل کا جس مرکز سورج سے الگ الگ فاصلوں پر رہتی ہے۔
شمالی نصف کرے میں سب سے لمبادن 21 جون کے آس پاس ہوتا ہے ، اسے گرمائی انقلاب (summer solstice) کہا جاتا ہے۔ گرمائی انقلاب کے بعد دن کے دور اپنے کم جب کہ رات کے دور اپنے طویل ہونے لگتے ہیں۔ اس نصف کرے میں مختصر ترین دن اور طویل ترین رات 22 دسمبر کے آس پاس ہوتی ہے جسے سرمائی انقلاب (winter solstice) کہا جاتا ہے ۔ 21 مارچ اور 23 ستمبر کے آس پاس، دن کا دورانیہ 12 گھنٹے رہتا ہے۔ شمالی نصف کرے میں ان دنوں کو بالترتیب ربیعی اعتدال (spring equinox) اور خریفی اعتدال (autumn equinox) کہا جاتا ہے۔
قطب شمالی پر سورج 21 مارچ یعنی ربیعی اعتدال کو مشرق کی جانب طلوع ہوتا ہے اور چھ ماہ تک مسلسل آسمان میں رہتا ہے۔ وہاں سورج 22 ستمبر کو غروب ہوتا ہے۔ قطب جنوبی میں اس کے برعکس صورت حال ہوتی ہے۔ اس طرح قطبی علاقوں میں چھ ماہ ہو تک مسلسل دھوپ رہتی ہے جس کے بعد چھ ماہ تک تاریکی چھائی رہتی ہے۔
خط استوا پر ہمیشہ 12 گھنٹے دھوپ اور 12 گھنٹے تاریکی رہتی ہے۔ مختلف مہینوں میں خط استوا پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں کی شدت میں بہت کم فرق واقع ہوتا ہے۔ لہذا ہندوستان کی جنوبی ریاستوں کے لیے جو خط استوا کے قریب واقع ہیں، موسموں کا اثر زیادہ نمایاں نہیں ہے۔ دیگر اثرات جیسے مقامی جغرافیائی خصوصیات اور سمندروں یا بحیروں سے نزدیکی بھی دونوں نصف کروں میں دیکھے جانے والے ان وسیع نمونوں کو متاثر کر سکتے ہیں جیسا کہ آپ نے سوشل سائنس میں پڑھا ہے۔
12.3 گرہن
عطارد اور زہرہ سورج کے مقابلے میں بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں اور سورج کی پوری روشنی کو ہم تک پہنچنے سے کبھی نہیں روکتے۔ تاہم، آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ چاند ایسا کر سکتا ہے۔ کیا آپ کو گریڈ 6 میں پڑھا ہوا یاد ہے کہ چاند زمین کا ایک قدرتی سیارچہ ہے اور یہ اسی طرح زمین کے گرد طواف کرتا ہے جس طرح زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے؟
12.3.1 سورج گرہن
بعض اوقات چاند ، سورج اور زمین کے درمیان اس طرح سے آسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے سورج کی روشنی ہم تک نہ پہنچ سکے۔ اسے سورج گرہن کہا جاتا ہے۔ آپ کو حیرت ہو رہی ہو گی کہ چاند ، جو سورج سے چھوٹا ہے، آسمان میں ہمیں نظر آنے والی سورج کی روشنی کو کیسے روکتا ہے۔
سرگرمی 12.4 : آیئے چھان بین کریں
- اپنے دوست سے کہیں کہ وہ تقریب 5 میٹر کے فاصلے پر آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔اس کے سر کو سورج فرض کر لیں۔
- اب ایک آنکھ بند کریں اور اپنے دوست کی طرف ہاتھ بڑھا کر انگوٹھا دکھائیں جیسا کہ شکل 12.12 میں دکھایا گیا ہے۔ کیا آپ اپنے دوست کے پورے سر کو اپنے انگوٹھے سے ڈھک سکتے ہیں؟
آپ اپنے دوست کے پورے سر کو اپنے انگوٹھے کی مدد سے ڈھک سکتے ہیں، اگر چہ آپ کا انگوٹھا آپ کے دوست کے سر کی اصل جسامت سے بہت چھوٹا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی بھی چیز کی اس جسامت کو جسے آپ کی آنکھ دیکھتی ہے، ظاہری جسامت (apparent size) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس کی اصل طبیعی جسامت اور آپ سے اس چیز کے فاصلے دونوں پر منحصر ہوتی ہے۔ انگوٹھا آپ کے دوست کے مقابلے میں آپ کے بہت قریب ہوتا ہے، اس لیے آپ کے انگوٹھے اور آپ کے دوست کے سر کی ظاہری جسامتیں ایک جیسی ہیں، جیسا کہ آپ نے سرگرمی 12.4 میں مشاہدہ کیا۔
زمین سے دیکھنے پر آسمان میں چاند اور سورج کی ظاہری جسامتیں ایک جیسی لگتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر چہ چاند سورج کے مقابلے میں طبیعی جسامت کے اعتبار سے بہت چھوٹا ہے، تاہم چاند سورج کے مقابلے ہمارے بہت قریب واقع ہے۔ لہذا، جب زمین سے دیکھا جائے تو چاند پورے سورج کو ڈھک سکتا ہے۔
اگر چہ عطارد اور زہرہ سیارے جسامت میں چاند سے کہیں زیادہ بڑے ہیں، لیکن وہ چاند کے مقابلے زمین سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ اس طرح ان کی ظاہری جسامتیں سورج سے بہت کم ہیں اور وہ سورج کی روشنی کو روک نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر جب زہرہ سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتا ہے تو یہ سورج کے روشن رخ کے مقابل گزرنے والے ایک چھوٹے سے سیاہ نقطے کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ یہ نادر واقعہ وینس ٹرانزٹ (transit of venus) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شکل 12.13 سورج گرہن کے دوران سورج، چاند اور زمین کی ترتیب کو ظاہر کرتی ہے۔ چاند کا سایہ زمین کی سطح پر ایک چھوٹے سے حصے پر پڑتا ہے جیسا کہ شکل 12.13 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ حصہ مکمل طور پر تاریکی میں ہے اور وہاں سے سورج کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ اس حصے کے مشاہدین مکمل سورج گرہن دیکھتے ہیں شکل 12.14a-
ان علاقوں میں جہاں چاند جزوی طور پر سورج کے صرف کچھ حصوں کو چھپاتا ہے، وہاں کے مشاہدین جزوی سورج گرہن دیکھتے ہیں ( شکل 12.13 اور شکل (12.14b ) ۔
مکمل سورج گرہن کے دوران دن میں چند منٹ کے لیے اندھیرا ہو جاتا ہے کیوں کہ سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی۔ زمین کی گردش اور اس کے مدار میں چاند کے طواف کی وجہ سے چاند کا سایہ زمین کی پوری سطح پر حرکت میں رہتا ہے۔ اس لیے مکمل سورج گرہن صرف چند منٹ کے لیے نظر آتا ہے ۔ جیسے ہی چاند سورج کے سامنے سے ہٹنا شروع ہوتا ہے (شکل 12.140 ہمیں جزوی سورج گرہن دکھائی ہی چاند سورج کے سامنے دیتا ہے اور دن کی روشنی واپس آنا شروع ہو جاتی ہے۔
سورج گرہن کا محفوظ نظارہ
انتہاہ -سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف دیکھنے کی شدید خواہش ہو سکتی ہے، یہ سمجھ کر کہ یہ اتنا شدید نہیں ہو گا کہ ہماری آنکھوں کو نقصان پہنچ جائے۔ تاہم گرہن کے دوران بھی سورج کی روشنی کی شدت اتنی ہوتی ہے کہ آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس سے بینائی ختم ہو سکتی ہے۔ لہذا سورج گرہن کو سیدھا دیکھنے سے سختی سے بچنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، اسے دھوپ کے چشمے یا دوربین سے نہ دیکھیں۔ عام طور پر سیاروں اور فلکیات کے کلبوں جیسے ادارے سورج گرہن کے دوران گرہن دیکھنے کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں -(12.15)
اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرنا سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے کیوں کہ منتظمین نہ صرف سورج گرہن دیکھنے کے لیے آنکھوں کو خصوصی حفاظت فراہم کرنے والے چشمے دیتے ہیں بلکہ سائنسی وضاحتیں بھی پیش کرتے ہیں۔
یہ سرگرمی، سرگرمی 11.5 کی طرح، آپ کے استاد کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہے۔ دیوار پر سورج کی شبیہ پروجیکٹ کرنے کے لیے آئینہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، سورج گرہن کے دوران اسے صحیح زاویے پر رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کو حل کرنے کے لیے آئینے کے لیے ایک حرکت پذیر اسٹینڈ بنائیں۔ ایک چھوٹے سے سوراخ والی کھو کھلی گیند کا استعمال کریں، اسے ریت سے آدھا بھر دیں (اسے مستحکم رکھنے کے لیے) اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا آئینہ (جیسے کڑھائی میں استعمال ہونے والا آئینہ ) منسلک کریں۔ گیند کو چپکنے والی ٹیپ کی رنگ جیسی گول رنگ پر رکھیں، تاکہ اسے آسانی سے گھمایا جا سکے۔ اسے اس وقت تک درست کرتے رہیں جب تک کہ سورج کی شکل دیوار یا اسکرین پر ظاہر نہ ہو جائے۔ شکل 12.15 میں اس ترتیب کو دکھایا گیا ہے جس میں آئینے کو سبز گیند پر نصب کیا گیا ہے۔
اعتباہ -یہ سرگرمی سختی سے کسی استاد کی نگرانی میں انجام دی جانی چاہیے۔ خیال رکھیں کہ کسی کی آنکھوں پر منعکس ہونے والی روشنی کی شعاعیں نہ ڈالیں۔
لوگ قدیم زمانے ہی سے گرہنوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ان کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ جب گرہن لگنے کے اسباب معلوم نہیں تھے تب وہ گرہن لگنے کے واقعات سے ڈرتے تھے۔ جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، زمین پر گرمی اور روشنی کے اہم ترین ماخذ سورج پر اگر چہ معمولی دورانیے کے لیے ہی سہی بندش لگ جاتی ہو گی تو یہ لوگوں کے لیے کتنی تشویش ناک بات ہوتی ہو گی۔ دنیا کے مختلف حصوں میں سورج گرہن کے ساتھ بہت سے تو ہم وابستہ تھے جن کا تعلق ان سرگرمیوں سے تھا جو گر ہنوں کے دوران انجام نہیں دی جاسکتی تھیں، مثلاً کھانا پینا، پکانا، یا گھر سے باہر جانا۔ لیکن اب جب کہ ہم سورج گرہن کے اسباب سے واقف ہیں تو ہمیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بس یہ خیال رکھیں کہ ہم سورج کو براہ راست نہ دیکھیں۔ در حقیقت سائنس داں دنیا بھر میں جہاں قت سائنس داں دنیا بھر میں جہاں کہیں سے بھی گرہن قابل مشاہدہ ہوں وہاں جاکر ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ گرہنوں سے انھیں ایسے مظاہر کا مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے جنھیں اور کسی ذریعے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
گرهن در اصل سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور بہت سی ہندوستانی زبانوں میں بھی اسے اس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہت سے قدیم ہندوستانی فلکیاتی متون میں گرہنوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے حساب لگایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ مشہور اور سب سے زیادہ حوالہ دیا جانے والا متن سور یہ سدھانتا ہے، جو کلاسیکی سنسکرت شاعری کی روایت میں آہنگ پر مبنی شلوک ہیں۔
12.3.2 چاند گرہن
جب چاند زمین کے گرد طواف کرتا ہے تو کبھی کبھی زمین سورج کی روشنی کو چاند تک پہنچنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسے چاند گرہن ( lunar eclipse) کہا جاتا ہے۔ ایسے دنوں میں ہم چاند کی پوری طشتری پر زمین ( کا سایہ پڑتے ہوئے دیکھتے ہیں شکل 12.16 میں چاند گرہن کے دوران سورج ، زمین اور چاند کی ترتیب کو ظاہر کیا گیا ہے۔
جب چاند جب چاند مکمل طور پر زمین کے سائے میں ہوتا ہے تو اسے مکمل چاند گرہن کہا جاتا ہے۔ چاند کی روشن طشتری گہرے سرخ رنگ کی نظر آنے لگتی ہے اور اسی طرح رہتی ہے جب تک کہ چاند زمین کے سائے سے باہر نہ نکل جائے۔ جب چاند کا ایک حصہ زمین کے سائے میں ہو اور بقیہ چاند نظر آئے تو اسے جزوی چاند گرہن کہا جاتا ہے سورج گرہن کے بر عکس مکمل چاند گرہن کو ہم اپنی برہنہ آنکھوں سے محفوظ طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔
اسٹیلریم ایپ کے کمپیوٹر ورژن کا استعمال کرتے ہوئے، جو مفت دستیاب ہے، آپ کے مقام سے قابل مشاہد ہ آئندہ لگنے والے سورج اور چاند گرہن ( اگر کوئی ہو) کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
کو ڈائی کنال شمسی رصد گاہ جنوبی ہندوستان میں پہاڑیوں کے خوب صورت پلانی سلسلہ کوہ میں واقع ہے۔ یہ ادارہ 1899 میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے 100 سال سے زیادہ عرصے تک سورج کے بارے میں اعداد و شمار نار فراهم فراہم کیے ہیں۔ یہ ادارہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس ( آئی آئی اے) بنگلورو کے ماتحت ہے۔
ایم کے وینو بپیو کو جدید ہندوستانی فلکیات کا باوا آدام کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں بہت سے آلات اور دور بینیں قائم کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ، مثلاً نینی تال ( اتراکھنڈ ) برنے کی کوششوں کی قیادت کی، مثلا مینی تال (اتراکھنڈ) کے قریب منورا پیک اور کاولور ( تمل ناڈو) میں دور بینوں کی تنصیب۔ کاولور کی رصد گاہ کا نام ان ہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انھوں نے بنیادی طور پر ستاروں کا مطالعہ کیا اور ایک دم دارستارہ بھی دریافت کیا۔ انھوں نے سورج گرہن کا مطالعہ کرنے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر بھی کیا تھا۔
خلاصه
- زمین تقریباً 24 گھنٹوں میں اپنے محور پر گردش مکمل کر لیتی ہے۔
- مغرب سے مشرق کی طرف زمین کی گردش سے دن اور رات بنتے ہیں، اسی کی بنا پر سورج ، چاند اور ستارے ظاہری طور پر حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
- زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے اور اسے ایک طواف مکمل کرنے میں تقریباً ایک سال لگتا ہے۔
- زمین کے طواف کا محور مدار کے لحاظ سے سیدھا نہیں ہے بلکہ جھکا ہوا ہے۔
- موسم زمین کی گردش کے محوری جھکاؤ اور اس کی کروی شکل کی بنا پر بنتے ہیں۔
- سورج گرہن اس وقت واقع ہوتا ہے جب زمین سے دیکھنے پر ، چاند سورج کے راستے میں آجاتا ہے، واقع ہوتا ہے جو اور سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔
- چاند گرہن اس وقت واقع ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے اور سورج کی روشنی کو چاند تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- شکل 12.17 میں زمین کی ایک گردش کے دوران قطب شمالی اور قطب جنوبی کتنے گھنٹے سورج کی روشنی حاصل کرتے ہیں؟
- خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
- ستارے میں_____ طلوع ہوتے اور _____ میں غروب ہوتے ہیں۔
- دن اور رات زمین _____ کی بنا پر بنتے ہیں۔
- جب چاند ہمارے منظر سے سورج کو مکمل طور پر ڈھک لیتا ہے تو یہ ایک ________ سورج گرہن کہلاتا ہے۔
- صحیح اور غلط بیان کی نشان دہی کیجیے۔
- چاند گرہن اس وقت واقع ہوتا ہے جب زمین اور چاند کے درمیان سورج آجاتا ہے۔
- جھار کھنڈ کے مقابلے گجرات میں سورج پہلے طلوع ہوتا ہے۔
- چنی میں سب سے لمبا دن گرمائی انقلاب (summer solstice) کے موقع پر ہوتا ہے۔ سب سے یہاں گرمائیانقلاب کے پر ہوتا ہے۔
- ہمیں سورج گرہن کو براہ راست اپنی برہنہ آنکھوں سے دیکھنا چاہیے۔
- موسم زمین کے گردشی محور کے جھکاؤ اور اس کی گول شکل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
- سورج کے گرد زمین کا طواف دن اور رات کا سبب بنتا ہے۔
- پر ماشری نے کل رات آٹھ بجے جو زا جھرمٹ ( Orion constellation) کو لگ بھگ اپنے غین او پر دیکھا۔ وہ آج اسی جھرمٹ کو کب دیکھے گی؟
- نندنی نے 21 جون کی آدھی رات کو ستاروں کے ایک جھرمٹ کو طلوع ہوتے دیکھا۔ وہ اگلے سال آدھی رات کو ستاروں کے اسی جھرمٹ کو کب طلوع ہوتے ہوئے دیکھے گی؟
- ابھے نے غور کیا کہ جب ہندوستان میں دن کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت اس کے چچا، جو امریکہ میں رہتے ہیں، عام طور پر سو رہے ہوتے ہیں کیوں کہ وہاں رات کا وقت ہوتا ہے۔ اس فرق کے پیچھے کیا وجہ ہے؟
- سورج گرہن دیکھنے کے لیے چار دوستوں نے مندرجہ ذیل طریقے استعمال کیے۔ ان میں سے کون سا دوست لا پروا تھا ؟
- روی کرن نے سورج گرہن دیکھنے کا چشمہ استعمال کیا۔
- جیوتی نے سورج کی شکل پروجیکٹ کرنے کے لیے آئینے کا استعمال کیا۔
- آدتیہ نے سورج کو براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
- ارونا نے ایک سیارہ گھر (پلانیٹیریم) کے ذریعے منعقدہ پروگرام میں شرکت کی۔
- شکل 12.18 کے دائروں میں مناسب جگہ نیچے درج کیے گئے لفظ بھریں: سورج ، چاند، زمین۔
- و چاند سورج کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہوتا ہے، پھر بھی مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کو ہمارے منظر سے مکمل طور پر اوجھل کر سکتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟
- آسٹریلیا میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے میچ اکثر دسمبر میں منعقد ہوتے ہیں۔ انھیں اپنے سفر کے لیے موسم سرما کے کپڑے ساتھ رکھنے چاہئیں یا موسم گرما کے ؟
- آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے کہ چاند گرہن زمین کے ایک بڑے حصے سے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ مکمل سورج گرہن زمین کے محض ایک چھوٹے سے حصے سے ہی دیکھا جا سکتا ہے؟
- اگر زمین کا محور طواف کے محور کے لحاظ سے جھکا ہوا نہ ہوتا تو وضاحت کریں کہ موسموں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے؟
چھان بین پر مبنی پروجیکٹ
- سرگرمی 12.2 کو دہرائیں لیکن ٹارچ کی جگہ بجلی کا بلب رکھ لیں۔ پھر گلوب کا جھکاؤ برقرار رکھتے ہوئے بلب کے گرد ایک دائرے میں گلوب کو مختلف پوزیشنوں پر رکھیں۔
- اپنے مشاہدات کو درج کریں کہ گلوب کے شمالی اور جنوبی نصف کرے کا کتنا حصہ مختلف مقامات پر روشن ہے۔
- گلوب کو گھمائیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں دن اور رات کی طوالت پر غور کریں۔
- دائرے میں گلوب کی مختلف پوزیشنوں کے لیے قدم (ii) کو دہرائیں۔
- زمین ایک بیضوی شکل کے راستے سے سورج کے گرد طواف کرتی ہے۔ ایک ہی مرکز والے دو دائرے بنائیں، ایک 14.7 سینٹی میٹر نصف قطر والا، اور دوسرا 15.2 سینٹی میٹر دائرے والا۔ اگر 1 سینٹی میٹر 10 ملین کلومیٹر کی نمائندگی کرتا ہے تو یہ دونوں دائرے سورج سے قریب ترین اور دورترین فاصلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ غور کریں کہ ان دونوں فاصلوں کے درمیان کتنا کم فرق ہے۔
- فرض کریں کہ زمین کی گردش کا محوری جھکاؤ بڑھ جاتا ہے۔ کیا یہ اضافہ زیادہ شدت کے حامل موسموں کا سبب بنے گا؟ معلوم کریں کہ کیا یورینس کا جھکاؤ زمین سے زیادہ ہے اور وہاں کے موسم کیسے ہیں۔ اس کے بارے میں کسی اخبار یا اپنے اسکول میگزین کے لیے ایک دل چسپ مضمون لکھیں۔
حقیقت میں سیارے نظام شمسی میں ایک خاص نقطے کے گرد گھومتے ہیں، جو سورج کے بہت قریب ہے لیکن بالکل اس کے مرکز میں نہیں ہے سورج بھی بالکل جامد رہنے کے بجائے اسی نقطے کے گرد تھوڑا سا گھومتا ہے۔ سائنس داں دوسرے ستاروں کی نقل و حرکت میں اس طرح کی معم اس طرح کی معمولی لغزشوں کا اس کرتے ہوئے ان کے ارد گرد بیرونی سیاروں (exoplanets) کو دریافت کرتے ہیں!
یہ اختتام نہیں ہے، دوستو !
ایک بار پھر ہم اس کتاب کے آخری صفحے پر پہنچ گئے ہیں، اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، یہ یقینی طور پر ہمارے تجس (Curiosity) کا اختتام ہرگز نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ نے ابواب میں سفر کرتے ہوئے سرگرمیوں اور تجربات سے لطف اٹھایا ہو گا۔ اس سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ نے بہت سارے سوالات پوچھے ہوں گے ! اب آپ سے سوال پوچھنے کی ہماری باری ہے۔
کیا آپ نے سائنس کی اس درسی کتاب کے سرورق اور پشت کے ورق کو غور سے دیکھا ہے؟ پہلے پہل وہ محض کھیل کے میدان یا رننگ ٹریک کے عام مناظر جیسے لگ سکتے ہیں لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو کتاب کے مختلف ابواب سے منسلک چھوٹے چھوٹے پوشیدہ سائنسی اشارے ملیں گے ! غور سے دیکھیں۔ شاید آپ کو ایسا کچھ نظر آئے جو ہم نے حرکت یا روشنی کے بارے پڑھا، یا شاید پودوں اور جانوروں کے بارے میں بھی؟
خود کو چنوتی دیں کہ آپ ابواب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سائنسی روابط تلاش کریں گے (ہم سمجھتے ہیں کہ یہ روابط 25 سے زیادہ ہیں!)۔ اور کون جانتا ہے، آپ کو ایسے رابطے مل جائیں جن کے بارے میں صنفین اور خاکہ نگاروں نے بھی سوچانہ ہو ! سائنس میں بالکل اسی طرح دریافتیں کی گئیں ہیں، کسی نے اپنے آس پاس کی دنیا میں کچھ نیا، غیر معمولی مشاہدہ کیا۔
یہ درسی کتاب انھی میں سے ایک چھوٹی سی گائیڈ ہے، سائنس کے مختلف راستوں کے ارد گرد اپنا راستہ تلاش کرنے کا ایک نقشہ سوال پوچھنا کبھی نہ چھوڑیں، اور یاد رکھیں، آپ کا تجس وہ چنگاری ہے جوان دریافتوں کا شعلہ روشن کرتی ہے جو آپ کو نا قابل یقین بلندیوں پر لے جائے گا۔ اور ہم اگلے سال دوبارہ آپ کے ساتھ سائنس میں مزید مہم جوئی کے لیے حاضر ہوں گے۔
