Skip to content
Qr






باب 1
ہندوستان کا جغرافیائی تنوع (Geographical Diversity of India)


اپنی جغرافیائی ساخت کی بدولت یہ ملک (ہندوستان) ہمیں دوسرے ممالک سے بالکل منفرد دکھائی دیتا ہے اور یہی امتیاز اسے ایک مخصوص قومی شناخت عطا کرتا ہے۔

— سری اربندو

شکل1.1: کرناٹک کا جوگ آبشار۔ پٹھار اور آبشاروں کو دیکھیں۔آبشار کی طاقت کو مخصوص ٹربائنوں کے ذریعے بجلی (ہائڈروالیکٹریسٹی؛ ’ہائیڈرو‘ کا مطلب ہے پانی) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

dreamstime_xxl_33467320

اہم سوالات

  1. ہندوستان کی چند اہم جغرافیائی خصوصیات کیا ہیں؟
  2. ہندوستان کا جغرافیائی تنوع ہماری زندگی کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

1984 میں خلا میں جانے والے ہندوستان کے پہلے خلاباز راکیش شرما نے اس وقت کی ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی سے بات کی۔جب انھوں نے پوچھا ،’’خلا سے ہندوستان کیسا نظرآتاہے؟“ تو راکیش شرما نے جواب دیا، ’’سارے جہاں سے اچھا، ہندوستاں ہمارا ‘‘ —پوری دنیا سے بہتر۔ (یہ ابتدائی بیسویں صدی کی ایک مشہور نظم کا پہلامصرع ہے۔)

آئیے معلوم کریں

اس کتاب کے آخر میں دیے گئے ہندوستان کے نقشے کو دیکھیے۔ آپ کیامشاہدہ کرسکتے ہیں؟ مختلف اقسام کی زمینی شکلوں—پہاڑوں، میدانوں اور پٹھاروں کے سبق کو یاد کیجیے۔آپ نقشے پر کن زمینی شکلوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں؟ نقشے پر مختلف رنگوں کا کیا مطلب ہے؟

(اشارہ: نقشے پر ہر وضاحتی علامت علاقے کی بلندیوں کو ظاہر کرتی ہے۔)

اس باب میں جیسے جیسے آپ آگے بڑھیں، وقفے وقفے سے طبیعی نقشے کودیکھنا نہ بھولیں۔

ہندوستان دنیا کا ساتواں سب سے بڑا ملک ہے اور ایشیا کا ایک حصّہ ہے۔یہ اپنے پڑوسیوں—پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور میانمار سے مل کر ایک خِطّے کی تشکیل کرتا ہے، جسے برصغیر ہند (Indian Subcontinent)کہتے ہیں (برصغیر، کیوں کہ یہ براعظم ایشیا کا ایک حصّہ ہے)۔اکثر گفتگو کے دوران سہولت کے لیے ہم اسے پانچ خِطّوں میں تقسیم کرکے بیان کرتے ہیں— عظیم پہاڑی خطّہ، گنگا اور سندھ کے میدانی علاقے، ریگستانی علاقے، جنوبی جزیرہ نما اورجزائر۔اس باب
میں ہم ان علاقوں کی خصوصیات پر ایک طائرانہ نظرڈالیں گے اور ان میں سے قریب سے نظر آنے والی کچھ چیزوں کی جھلک پیش کریں گے۔اس مرحلے پر تمام تفصیلات میں جانا مشکل ہوگا ،کیوں کہ آپ اسی باب میں دیکھیں گے کہ ہندوستان ایک وسیع و عریض اور متنوع ملک ہے۔

شمال میں ہمالیائی پہاڑی سلسلہ قدرتی رکاوٹ کے طورپر کھڑا ہے، جب کہ تھار ریگستان اور بحیرۂ عرب اس کے مغر بی حدود کو نشان زد کرتے ہیں۔جنوب میں بحرِہند اور مشرق میں خلیجِ بنگال ایک قدرتی حدتشکیل دیتی ہے۔یہ جغرافیائی خصوصیات ہندوستان اوربقیہ براعظم کے درمیان علاحدگی کا سبب بنتی ہیں اور ہندوستان کی آب وہوا، تہذیب اور تاریخ کی صورت گری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آئیے معلوم کریں

  • کیاآپ کو عرض البلد(Latitude)اورطول البلد (Longitude)سے متعلق اپنا سبق یاد ہے؟ نقشہ دیکھیے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہندوستان تخمیناً کس عرض البلد اور طول البلد پر واقع ہے؟
  • ہندوستان کے طبیعی نقشےپردرج بالاخصوصیات کی نشان دہی کیجیے ۔

آئیے اب ہم سب مل کر ہمالیہ سے بحرہند کے جزیروں تک اور اس سے آگے ہندوستان کے مشرق کی طرف سفر کرتے ہیں ۔ نقشے پر موجود مختلف رنگ پہلے ہی جغرافیائی تنوع کا احساس دلا رہے ہیں۔نقشے میں دی گئی علامات کی وضاحت سے خود کو مانوس کیجیے۔مختلف رنگ بلندیوں کوظاہر کرتے ہیں۔

ہمالیہ (The Himalayas)

نقشے پر ہمالیائی سلسلۂ کوہ کی لمبائی پر نظر ڈالیے۔ یہ ایک لمبی چوڑی دیوار کی مانند ہے۔علامات کی وضاحت کی مدد سے کیا آپ مختلف مقامات پر ہمالیہ کی بلندی کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟

Screenshot 2026-01-27 at 14-05-18 gues101.pdf

شکل1.2: یہ سیٹلائٹ سے لی گئی ہمالیائی سلسلۂ کوہ کی تصویریں ہیں۔ یاد رکھیےکہ اس سلسلۂ کوہ کی لمبائی تقریباً 2500 کلومیٹر ہے۔

یاد رکھیں

ایسا لگتا ہے ہمالیہ آسمان کو چھورہا ہے۔درحقیقت اس کی بہت سی چوٹیاں اونچائی میں 8000 میٹر سے زیادہ ہیں اور انھیں ایک ساتھ ’’آٹھ ہزاری‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ ایشیا کے چھے ممالک — ہندوستان ، نیپال، بھوٹان، چین، پاکستان اور افغانستان — تک پھیلا ہوا ہے۔ کیا آپ دنیا کے بلند ترین پہاڑ کا نام بتا سکتے ہیں؟

گرمیوں میں پہاڑوں پر جمی برف پگھلتی ہے اور یہی پانی گنگا، سندھ اور برہم پتر جیسے بڑے دریاؤں کی شکل میں بہتا ہے۔ یہ دریا اور ان کی معاون ندیاں کروڑوں لوگوں کی زندگی سے منسلک ہیں اور انھیں پینے، کاشت کاری اور صنعتی استعمال کے لیے پانی فراہم کرتی ہیں۔اس لیے ہمالیہ کو کبھی کبھی ’ایشیا کا آبی مینار‘ کہاجاتا ہے۔ہمالیہ کئی تہذیبوں اور نظامِ عقائد کے لیے بھی اہم ہے۔ خود پہاڑوں کو بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور ان میں مندر اور بودھ خانقاہیں تعمیر کی گئی ہیں جو دنیا بھر کے ایسے راہبوں اور روحانیت کے متلاشی لوگوں کو راغب کرتی ہیں جہاں وہ دعا اور دھیان کے لیے آتے ہیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

دریا ئے گنگا کی ایک بڑی معاون ندی بھاگیرتھی ہے جو اتراکھنڈ کے گئومکھ (گائے کے منہ کی شکل والے مقام) سے نکلتی ہے۔ یہ گنگوتری برفانی تودہ (Gangotri Glacier)کا کنارہ ہے، جو ہندوستانی ہمالیہ کے سب سے بڑے برفانی تودوں میں سے ایک ہے۔ Screenshot 2026-01-27 at 14-12-19 gues101.pdf

شکل1.3:گئومکھ

اسے بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور یہ بہت سے زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔گئومکھ ٹریکنگ(Trekking) کے لیے بھی ایک مقبول مقام ہے۔ اگلی بار جب آپ گنگاکو دیکھیں تو یاد رکھیں کہ اس کا سفر گئو مکھ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

ہمالیہ کی تشکیل کیسے ہوئی ... ایک دل چسپ کہانی

(How the Himalayas were formed... an interesting story)

کروڑوں سال پہلے ہندوستان ’گونڈوانا‘ نام کے ایک بڑے زمینی ٹکڑے کا حصّہ تھا جہاں اس کا پڑوسی افریقہ تھا۔ ایک ایسا وقت آیا کہ یہ ٹوٹ گیا اور آہستہ آہستہ شمال کی جانب بڑھنے لگا۔تقریباً 5 کروڑ سال پہلے یہ یوریشیا کے زمینی ٹکڑے تک پہنچا اور اس سے ٹکرایا۔ جیسے ہی گونڈوانا زمینی ٹکڑے نے ایشیا کو دھکا دیا، دونوں کے درمیان کی زمین ٹوٹ کر اوپر اٹھ گئی— بالکل اسی طرح جس طرح قالین کو دھکیلنے پر اس میں سلوٹیں پڑجاتی ہیں۔اس طرح ہمالیہ کے
با رعب پہاڑوں کی تشکیل ہوئی۔

حیرت انگیز طور پر ہندوستان آج بھی بہت آہستگی سے ایشیا کی طرف کھسک رہا ہے—تقریباً سالانہ پانچ سینٹی میٹر جو آپ کے بالوں کے بڑھنے کی شرح سے بھی بہت کم ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمالیہ آج بھی لمبائی میں بڑھ رہا ہے۔ ہر سال تقریباً تھوڑا سا ،کوئی پانچ ملی میٹر کے قریب لیکن، ایک ہزار سال میں پانچ میٹر تک بڑھتا ہے!

Screenshot 2026-01-27 at 14-23-25 gues101.pdf

شکل1.4: یوریشیا کی جانب ہندوستان کا کھسکنا

Folded_Himalayan_Rock_Layers_at_Kali_Gandaki_in_Nepal_2014

شکل1.5: ہمالیائی چٹان کی تہ دار پرتیں

اسے دیکھنا نہ بھولیں

لفظ ’ہمالیہ‘ سنسکرت کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے — ‘ہِم’کا مطلب برف اور ‘آلیہ’کا مطلب مکان یا رہائش ہے — اس طرح اس کا معنٰی ہوا ’برف کا گھر‘۔

ہمالیہ کووسیع طورپر تین اہم سلسلوں میں تقسیم کیا گیاہے:

  • ہمادری (عظیم ترہمالیہ): اس سلسلے کا سب سے بلنداورناہموارحصّہ ہے جوماؤنٹ ایور یسٹ اورکنچن جنگاجیسی بلندوبالاچوٹیوں کاگھرہے۔یہ علاقہ پورے سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں زندگی مشکل ہے اور یہاں انسانی بستیاں زیادہ نہیں ہیں۔
  • ہماچل(نشیبی ہمالیہ): یہ عظیم تر ہمالیہ کے جنوب میں واقع ہے، اس کی آب وہوا نسبتاً زیادہ معتدل ہے جو حیاتیاتی تنوع اور انسانی بستیوں کے لیے سازگار ہے۔ اس علاقے میں مشہور پہاڑی پُرفضا مقامات جیسے نینی تال (اتراکھنڈ)، دارجلنگ (مغربی بنگال)،شملہ (ہماچل پردیش) اورمسوری (اتراکھنڈ) واقع ہیں۔
  • شِوالک پہاڑیاں (بیرونی ہمالیہ): یہ سب سے باہری اور سب سے نچلے سلسلۂ کوہ کی تشکیل کرتی ہیں جو گھماؤدار پہاڑیوں اور گھنے جنگلات پرمشتمل ہیں۔ یہ دامنِ کوہ جنگلی حیات سے مالامال ہے جو ہمالیہ اور گنگا کے میدانوں (جسے شمالی میدانی علاقے بھی کہا جاتا ہے)کے درمیان عبوری علاقے کی حیثیت رکھتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

کیا آپ ہمالیہ کے مختلف حصوں میں واقع صوبوں کے نام کی نشان دہی کرسکتے ہیں؟ اس عمل کے لیے طبیعی اور سیاسی دونوں نقشوں کی مدد لیجیے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

مغربی ہمالیائی علاقے میں روایتی مکانوں کے طرزتعمیر کو’کاٹھ کُنی یادھجی دیواری‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔اس میں مقامی طورپر دست یاب پتھر اور لکڑی کا آمیزہ استعمال کیاجاتا ہے جو نہ صرف گھرکو گرم رکھتا ہے بلکہ ہلکے زلزلوں کی صورت میں ہونے والے نقصانات سے بھی بچاتا ہے۔ Old_style_home,_Manali,_2004

شکل1.6: کاٹھ کنی گھر، ہماچل پردیش

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہماچل پردیش کے عظیم ہمالیائی نیشنل پارک میں نباتات وحیوانات کا وسیع تنوع ہے۔یونیسکو(UNESCO) کی طرف سے اس پارک کوعالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔پارک کے حیاتیاتی تنوع کو حکومت کے ساتھ ساتھ پارک کے اندر رہنے والی دیہی برادریاں بھی نگہ داشت و تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

Screenshot 2026-01-27 at 14-27-29 gues101.pdf

شکل1.7.1: عظیم ہمالیائی نیشنل پارک تحفظی علاقہ؛ 2. ہمالیائی مونال (نر)؛ 3. لداخ کی ایک بودھ خانقاہ؛ 4. ہماچل پردیش کا دریائے بیاس ؛
5. برفانی چیتا ؛ 6.ہمالیہ کے ایک مقامی بازار میں پیداوار کی نمائش ؛ 7.کنیر/بُرانس (Rhododendron)کی ایک سدا بہار جھاڑی — اس پھول سے ایک قسم کا شربت بنایا جاتاہے۔

ہندوستان کا سرد ریگستان (The cold desert of India)

لفظ ’ریگستان‘ سے فوری طورپر کسی گرم جگہ کی تصویر ابھرتی ہے۔ تاہم سرد ریگستان بھی ہوتے ہیں اور ہمارےہندوستان میں بھی ایک ایسی جگہ ہے۔ لداخ ایک سرد ریگستان ہے جہاں سردیوں میں درجۂ حرارت منفی 30°c سے نیچے پہنچ جاتا ہے۔ یہاں بہت کم بارش ہوتی ہے، ارضی خدوخال پُر پیچ اور نا ہموار ہیں، پتھریلے علاقے، گہری وادیاں اور پینگونگ تسو (’تسو‘ کا مطلب جھیل) جیسی جھیلیں بھی ہیں۔یہاں کی پتھریلی زمین چاند کی سطح سے ملتی جلتی ہے، اسی لیے اسے ’مون لینڈ‘(Moonland) بھی کہا جاتا ہے۔ماہرینِ ارضیات اس خطے کی تشکیل کی وضاحت یوں کرتے ہیں، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ جب ہندوستانی زمین کا ٹکڑا یوریشیا سے ٹکرایا تو یہ مڑکر پہاڑ کی شکل اختیار کرگیا۔یہ پرت دار حصّہ کبھی سمندر کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس لیے اس علاقے کے پتھر زیادہ تر ریت اور چکنی مٹی سے بنے ہوئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ آندھی اور بارش نے پہاڑوں کو کاٹ کر ان شکلوں میں ڈھال دیا ہے، جنھیں آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں۔

سخت حالات کے باوجود لداخ برفانی چیتوں، جنگلی بکروں اورتبتی ہرنوں جیسے جنگلی جانوروں کا گھر ہے۔ لداخی عوام سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ خطہ اپنی قدیم بودھ خانقاہوں اورلوسر اورہیمس جیسے رنگ برنگے تہواروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

dreamstime_xl_69284756

شکل1.8: مون لینڈ، لدَّاخ

dreamstime_xl_102946556

شکل1.9: ہمالیہ میں عوامی زندگی کے لیے یاک بہت اہم ہیں۔انھیں دودھ، گو شت، اون اور گوبر کے لیے پالا جاتا ہے اور نقل وحمل کے لیے بھی ان کا استعمال کیاجاتا ہے۔

dreamstime_xl_188567736

شکل1.10: پینگونگ تسو،لداخ۔ دیگر جھیلوں کےبرعکس اس جھیل کا پانی نمکین ہے۔ یہ ان نمکین معدنیات کا نتیجہ ہے جو آس پاس کے پہاڑی علاقوں سے تحلیل ہوکرآتے ہیں۔

گنگا کے میدانی علاقے (The Gangetic Plains)

ہم جب ہمالیہ سے جنوب کی طرف بڑھتے ہیں تو ہمیں گنگا کے وسیع و عریض اور زرخیز میدان ملتے ہیں۔ یہ میدان ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب کا ایک نہایت اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ خطہ ہمالیہ سے نکلنے والے بڑے دریاؤں سے سیراب ہوتا ہے جو زندگی کے لیے سب سے قیمتی وسیلہ یعنی ’پانی‘ فراہم کرتے ہیں ۔گنگا، سندھ اور برہم پتر کے دریائی نظام، اپنی وسیع معاون ندیوں کے جال کے ساتھ مٹی کو معدنیات سے مالا مال کرتے ہیں جس سے یہ خطہ زراعت کے لیے انتہائی موزوں اور زرخیز بن جاتا ہے۔ دریا اپنے ساتھ معدنیات لاتے ہیں جو مٹی کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں اور متعدد فصلوں پر مشتمل زراعت کو ممکن بناتے ہیں۔ دریا بجلی کی پیداوار کا بھی اہم
ذریعہ ہیں ۔ ہندوستان کی ایک کثیرآبادی انہی میدانی علاقوں میں رہتی ہے۔

Screenshot 2026-01-27 at 14-33-57 gues101.pdf

شکل1.11: میدانی علاقوں میں جدید زرعی طریقے

شکل1.12: اوپر دائیں جانب دریائے جمنا کے ساتھ دہلی کا فضائی منظر

شکل1.13: اترپردیش میں کثیرفصلی نظام

شکل1.14: مغربی بنگال میں دھان کے کھیت میں کام کرنے والی دیہی خواتین

شمالی میدانی علاقوں کی ہموار زمین میں نقل وحمل کے ایک وسیع نظام کا فروغ ہواہے۔ سڑک اورریلوے کے جال نے طویل فاصلوں پر لوگوں اور اشیا کی نقل وحرکت کے لیے سہولتیں فراہم کی ہیں۔جیسا کہ آپ ’ماضی کے نقوش‘ ابواب میں دیکھیں گے کہ گنگا ،برہم پتراور دوسرے دریاؤں کا استعمال ہزاروں سال سے سفر اور تجارت کے لیے ہوتا رہا ہے۔

Screenshot 2026-01-27 at 14-35-41 gues101.pdf

شکل1.15: گنگا کے میدانی علاقوں میں نقل وحمل کے ذرائع

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہندوستان کی زیادہ تر دریاؤں کے نام دیویوں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔جیسے گنگا، جمنا، کاویری وغیرہ، تاہم ‘برہم پتر’ کے نام کا مطلب ہے ’برہما کا بیٹا‘۔ گرمیوں میں خشک ہونے کے بجائے اس دریا کے پانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟

آئیے معلوم کریں

میدانی علاقوں میں روشنی کے ارتکازپرغورکیجیے۔اس ارتکاز کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

iss063e081395_lrg

شکل1.16: گنگا کے میدانی علاقوں کی سیٹلائٹ تصویر

dreamstime_xl_5274059

شکل1.17: مدھیہ پردیش کے باندھو گڑھ نیشنل پارک میں لکڑی کے شہتیر پر بیٹھا ہوا شمالی میدان کا سرمئی لنگور۔

dreamstime_xl_280610616

شکل1.18: وہ باوقار شیرجوناپید ہونے کے دہانے پرتھا۔پروجیکٹ ٹائیگر

نے شیرکی ان کے مسکنوں میں واپسی میں مدد کی ہے۔

Gharial_(Gavialis_gangeticus)_female

شکل1.19: ڈھائی سے ساڑھے چارمیٹر لمبا ہندوستانی بالغ گھڑیال۔ رینگنے والایہ جانور ناپید ہونے کےقریب ہے۔ اسے نقصان پہنچانے یا شکار کرنے کی ممانعت کے لیے قوانین موجود ہیں۔

Indian_Peacock_courtship_display_at_Pench_national_park_(April,_2024)_10

شکل1.20: مور اور مورنی ۔ہندوستانی مورہمارا قومی پرندہ ہے۔

عظیم ہندوستانی ریگستان یا تھار ریگستان

(The Great Indian Desert or Thar Desert)

اگرہم ہندوستان کے نقشے پر مغرب کی طرف بڑھیں تو ہمیں زرد رنگ کا علاقہ نظرآئے گا۔ یہ تھار ریگستان کا علاقہ ہے۔آپ کیا دیکھتے ہیں؟ سنہرے ٹیلوں کا ایک وسیع وعریض ، ناہموار خطّہ اورکشادہ کھلا آسمان؟

dreamstime_xl_159551446

شکل1.21: تھار ریگستان میں ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک مسافر۔

آئیے معلوم کریں

ریت کے ٹیلے کی شکل کیسی ہوتی ہے؟ حالاں کہ پہاڑ چٹانوں سے بنے ہوتے ہیں اوران کی شکل مستقل رہتی ہے تو آپ کے خیال میں ریت سے بنے ہوئے ٹیلے بھی اسی طرح کی شکل کیوں رکھتے ہیں؟ جب کہ وہ صرف ریت سے بنے ہوتے ہیں۔

dreamstime_xxl_343712837

شکل1.22: ہندوستان کے تھار ریگستان کے درمیان واقع جیسلمیرکا ’ گولڈن شہر‘۔جیسلمیرقلعہ یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے۔

ریت کے ٹیلے اس وقت بنتے ہیں جب ہوا کی سمت بدلتی ہے اور ریت کوپہاڑی جیسی شکلوں میں تبدیل کرتی ہے۔بعض اوقات ان ٹیلوں کی اونچائی 150 میٹرتک ہوتی ہے۔

تھار ایک وسیع و عریض بنجر علاقہ ہے ۔ اس کا زیادہ تر حصہ ہندوستان میں واقع ہے جو راجستھان، گجرات، پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ریگستان اپنی سخت موسمی حالات کی وجہ سے قدرتی رکاوٹ کا کام کرتا ہے، جو انسانوں اور جانوروں کی نقل و حرکت کو مشکل بنا دیتی ہے۔یہاں دن کے وقت شدید گرمی، رات کو سخت سردی اور پانی کی کمی جیسے حالات پائے جاتے ہیں۔

تھارمیں رہنے والے لوگوں نے اپنے طرز زندگی کو اس مقام اور وہاں موجود اشیا کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ان کی غذائی عادات، لباس اورطرز زندگی ان سخت حالات کے لیے موزوں ہیں۔

dreamstime_xxl_116909327

شکل1.23: تھار ریگستان کے کنارے پرپشکر میلے میں اونٹ کے سوداگر

اسےدیکھنا نہ بھولیں

Screenshot 2026-01-27 at 16-36-19 gues101.pdf

شکل1.24: (دائیں) خواتین گھرسے بہت دور ایک آبی ذخیرے سے پانی لارہی ہیں۔(بائیں) ایک بستی میں بارش کا پانی جمع کرنے کا ایک نظام

ریگستان میں پانی کی قلت ہوتی ہے۔خواتین اکثر اپنے خاندان کے لیے پانی لانے کے لیے روزانہ طویل فاصلہ طے کرتی ہیں۔لہٰذا برتنوں کو صاف کرنے کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ انھیں ریت سے اس وقت تک رگڑا جاتا ہے جب تک کہ وہ صاف نہ ہوجائیں۔انھیں معمولی طورپرکھنگالنے کے لیے بھی پانی کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ کھنگالنے کے بعد استعمال شدہ پانی کو پودوں کی سینچائی جیسے مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگلی بار جب آپ نل کو کھلا چھوڑدیں تو تھار ریگستان کے لوگوں کو یاد رکھیں۔راجستھان اپنےآبی تحفظ بہ شمول ’ٹانکا‘ یا ’کُنڈ‘کے اختراعی طریقوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہ پانی جمع کرنے کے خصوصی نظام ہیں جو اکثر پینے کے مقاصد کے لیے بارش کے پانی کا ذخیرہ کرتے ہیں۔

اراولی پہاڑیاں (The Aravalli Hills)

آئیے معلوم کریں

آئیے ہم نقشے کی طرف واپس چلتے ہیں۔تھار ریگستان سے مشرق کی طرف آہستہ آہستہ اپنا راستہ تلاش کیجیے۔
کیا آپ کو اراولی پہاڑیاں نظر آرہی ہیں؟

اراولی سلسلہ دنیا کے قدیم ترین پہاڑوں میں سے ایک ہے۔تقریباً 2.5 بلین سال قدیم۔ اس سلسلہ میں بہت سی چوٹیاں اور پہاڑیاں ہیں۔اگرچہ اس کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ آبو 1700میٹر سے زیادہ بلندی پر ہے لیکن اس کی زیادہ تر پہاڑیوں کی بلندی 300 سے 900 میٹر کے درمیان ہے۔ کیا یہ حیرت انگیزبات نہیں کہ صرف ساڑھے چار گھنٹے گاڑی کاسفر ہمیں اراولی کی پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ آبو سے تھار ریگستان میں جودھ پور تک پہنچاسکتا ہے،یعنی ایک ایساسفر جو ہمیں بالکل مختلف جغرافیائی خطے میں لے جائے گا۔

Screenshot 2026-01-27 at 16-37-55 gues101.pdf

شکل1.25: (دائیں) اراولی کا ایک حصّہ جس کی حد سے آگے تھار ریگستان شروع ہوتا ہے۔(بائیں) خلا سے نظرآنے والا اراولی کا ایک حصّہ

آئیے معلوم کریں

اس درسی کتاب کے آخرمیں دیے گئے سیاسی نقشے کو دیکھیے اور ان صوبوں کی نشان دہی کیجیے جن میں اراولی سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ کیا آپ اس میں دہلی،راجستھان،ہریانہ اور گجرات کو دیکھ سکتے ہیں؟

اراولی پہاڑیاں شمال مغربی ہندوستان کے جغرافیہ اورآب و ہوا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے سب سے اہم کاموں میں سے ایک کام قدرتی طور پر رکاوٹ کا ہے کہ یہ مشرق کی طرف تھار ریگستان کی مزید توسیع کو روکتی ہیں۔اس کے بارے میں آپ آگے چل کرمزید پڑھیں گے۔

سنگ مرمر،گرینائٹ، جستہ اور تانبے جیسی معدنیات سے مالامال ہونے کی وجہ سے اراولی پہاڑیاں صدیوں سے کان کنی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔دراصل زاور کی قدیم کانوں سے ملنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ آٹھ صدی قبل ہی ہندوستانی دنیا کی وہ پہلی قوم تھے جنھوں نے جستہ نکالنے کے نازک عمل میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ یہاں پر چتورگڑھ، کمبھل گڑھ اور رنتھمبور جیسے تاریخی قلعے بھی واقع ہیں۔

dreamstime_xl_102271152

شکل1.26: اراولی سے گھرا ہوا قلعہ کمبھل گڑھ۔ پہاڑیوں میں واقع یہ مقام دشمن کےلیے ایک بہترین مزاحمت کار ثابت ہوا۔

جزیرہ نما پٹھار(The Peninsular Plateau)

یاد رکھیں

پٹھار ایک زمینی شکل ہے جو آس پاس کی زمین سے اوپر اٹھی ہوتی ہے اور اس کی سطح کم و بیش ہموار ہوتی ہے۔
اس کے کچھ کنارے اکثر کھڑی ڈھلان والے ہوتے ہیں۔

ہندوستان میں کئی پٹھار ہیں۔ان میں سب سے اہم ملک کے وسط اور جنوب میں جزیرہ نما مثلثی علاقہ ہے۔

یہ خطہ زمین کی نہایت قدیم ساختوں میں سے ایک ہے۔ چوں کہ یہ ایک جزیرہ نما خطہ ہے جو تین طرف سے بحیرۂ عرب، خلیج بنگال اور بحرہندسے گھرا ہوا ہے ، اس لیے اسے جزیرہ نما پٹھار کہا جاتا ہے۔

یہ پٹھار دو پہاڑی سلسلوں،مغربی گھاٹ اور مشرقی گھاٹ سے گھری ہوئی ہے۔مغربی گھاٹ زیادہ اونچے ہیں اور مغربی ساحل کے ساتھ ایک دیوار کی مانند پھیلاہواہے۔بارش کےموسم میں ان کے کھڑےا ور ڈھلوانی کناروں سے کئی خوب صورت آبشار گرتےہیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

مغربی گھاٹ کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔اس خطے میں متعدد ندیاں بہتی ہیں اور یہ حیاتیاتی تنوع سےبھرپور ہے۔ مغربی گھاٹ کا شمالی حصّہ سہیادری پہاڑیوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

مشرقی گھاٹ کی اونچائی نسبتاً کم ہے اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں میں منقسم ہوکر مشرقی ساحل کے ساتھ پھیلاہواہے۔ان پہاڑی سلسلوں کے درمیان دکن پٹھار واقع ہے جو مسطح پہاڑیوں کا ایک وسیع علاقہ ہے۔

گوداوری، کرشنا اور کاویری جیسے دریا مغرب سے مشرق کی طرف پٹھار سے ہوکر بہتے ہیں۔ یہ دریا کاشت کاری کے لیے بہت اہم ہیں اور لاکھوں لوگوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔

آئیے معلوم کریں

اس کتاب کے آخر میں دیے گئے طبیعی نقشے کو دیکھیے۔دریاؤں کے بہاؤ کی سمتوں پر غور کیجیے۔

یہ پٹھار معدنیات، جنگلات اور زرخیز زمینوں سے بھرپورہے جو اسے ہندوستانی معیشت کے لیے اہم بناتی ہے۔ یہ مشرق کی طرف تھوڑی جھکی ہوئی ہے، اس لیے اس علاقے کے کچھ دریا خلیجِ بنگال کی طرف بہتے ہیں۔
گوداوری، کرشنا اور مہاندی جیسے مشرق کی سمت بہنے والے دریا یہیں سے شروع ہوتے ہیں جو کاشت، صنعت اور پن بجلی کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔مغرب کی سمت بہنے والے دریا (نرمدا، تاپتی) بھی ہیں جو بحیرۂ عرب میں گرتے ہیں۔

dreamstime_xl_348659846

شکل1.27: چھتیس گڑھ کے گھنے جنگلات، جو بہت سی قبائلی برادریوں کا مسکن ہیں

پٹھار کے گھنے جنگلات قبائلی برادریوں بہ شمول سنتھال، گونڈ، بیگا، بھیل اور کورکو وغیرہ کے مسکن ہیں۔ ان قبائلیوں کی مخصوص زبانیں، روایات اور زندگی کے طریقےہیں جو فطرت سے گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

آئیے معلو م کریں

قبائلی برادریاں وسیع پیمانے پر جھار کھنڈ، مغربی بنگال، اوڈیشہ، آسام،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، تلنگانہ اور گجرات کے صوبوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔صوبوں کا پتہ لگانے کے لیے اس کتاب کے آخر میں دیے گئے طبیعی اور سیاسی نقشوں کا جائزہ لیجیے اور انھیں طبیعی نقشے پر ان کے متعلقہ مقام سے ملائیے۔

ہندوستان کی پٹھاروں میں کئی خوب صورت آبشاربھی موجود ہیں کیوں کہ یہاں دریا ناہموار اور پتھریلی زمینوں پر بہتے ہیں۔یہ آبشار نہ صرف سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں بلکہ پن بجلی پیدا کرنے ا ور آب پاشی کے لیے پانی فراہم کرنے میں بھی مدد گار ہیں۔

dreamstime_xxl_106705714

شکل1.28:کیرالہ میں منّار کے قریب پیریا کنال میں پاورہاؤس آبشار

Lion-tailed_macaque_by_N_A_Nazeer

شکل1.29: مغربی گھاٹ میں شیر کی دُم والا مکاک

King_Cobra_from_western_ghats

شکل1.30: مغربی گھاٹ کا کنگ کوبرا

Drosera_anglica_ne2

شکل1.31: یہ ایک کِرم خورپودا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ مغربی گھاٹ میں پائے جانے والے کیڑوں کو کھاتا ہے۔ یہ چپچپے جالوں میں چھوٹے کیڑوں کو پکڑتا اور انھیں ہضم کرجاتا ہے۔

Coal_mine_in_Dhanbad,_India

شکل1.32: پٹھار میں واقع کوئلے کی کانیں؛ جو بجلی پیدا کرنے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے۔کوئلہ ایک رکازی ایندھن ہے، لیکن اس کے استعمال سے عالمی حدّت (Global Warming) میں اضافہ ہوتا ہے۔

dreamstime_xl_202014504

شکل1.33: ممبئی،مغربی ساحل پر واقع، ہندوستان کا مالیاتی مرکز ہے۔

ہندوستان کی حیرت انگیز ساحلی پٹّیاں (India’s Amazing Coastlines)

ہندوستان کی ساحلی پٹی خوب صورت ساحلوں، پتھریلی چٹانوں اور سرسبزوشاداب جنگلوں سے بھری ہوئی ہے۔ کچھ ساحلوں پر سنہری ریت ملتی ہے جب کہ دیگر میں سیاہ پتھر ہوتے ہیں۔کچھ جزیروں پر مرجانی چٹانیں ہیں جب کہ دیگر جزیرےگھنے جنگلوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ ہندوستانی ساحل حیرتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی ساحلی پٹیّ 7500 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔

آئیے معلوم کریں

  • اپنے اسکول کے اٹلس (Atlas)یا دیوار پرآویزاں نقشے میں ہندوستان کا طبیعی نقشہ دیکھیے اور ایسے پانچ دریاؤں کے نام بتائیے جو خلیجِ بنگال میں گرتے ہیں۔ہندوستان کے ساحلی صوبوں کا پتہ لگائیے اور مغربی ومشرقی ساحلی میدانوں کے درمیان فرق پر مباحثہکیجیے۔
  • کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب یہ دریا ساحل کے قریب مختلف دھاراؤں میں بٹ جاتے ہیں تو اسے کیاکہتے ہیں؟
    یہ معلوم کرنے کےلیے کلاس میں اپنے استادسے تبادلۂ خیال کیجیے۔

ہندوستان کا مغربی ساحل (The West Coast of India)

ہندوستان کا مغربی ساحل گجرات سےکیرل تک پھیلا ہواہے، جس میں مہاراشٹر، گوا اورکرناٹک بھی شامل ہیں۔یہاں کے زیادہ تر دریامغر بی گھاٹ سے نکلتے ہیں،تیز بہاؤ کے ساتھ بہتے ہیں اوردریا کے دہانے بناتے ہیں۔ یہ ساحلی خطہ چھوٹےدریاؤں کی لائی ہوئی دریائی مٹی (Alluvial Deposits) سے تشکیل ہواہے اور اس میں قدرتی خلیجیں، کھاڑیاں اور دہانے شامل ہیں۔ان میں نرمدا اور تاپتی کے دہانے سب سے بڑے ہیں۔

مغربی ساحل پر بہت سی اہم بندرگاہیں ا ور شہر ہیں۔ یہ لاکھوں برسوں سے معاشی سرگرمیوں کے مراکز رہے ہیں۔

dreamstime_xl_352076379

شکل1.34: مغربی ساحل کے ایک حصے کا فضائی منظر۔غور کیجیے کہ مغربی گھاٹ کی پہاڑیاں بحیرۂ عرب سے کتنی قریب ہیں۔

مشرقی ساحل (The East Coast)

مشرقی ساحل، مشرقی گھاٹ اور خلیج بنگال کےدرمیان واقع ہے، جو گنگا کے ڈیلٹا سے کنیا کماری تک پھیلا ہوا ہے۔اس میں وسیع میدان اوراہم ندیوں بہ شمول مہاندی،گوداوری، کرشنا اورکاویری کے اہم مثلثی دہانہ ہیں۔یہاں اہم آبی ذخائرجیسے چِلکاجھیل اور پولیکٹ جھیل(ایک جزیرہ جھیل (Lagoon) جوایک قدرتی رکاوٹ کے ذریعےبڑے آبی ذخائرسے الگ کیاگیا آبی ذخیرہ ہے)ملتے ہیں۔

ڈیلٹا ایسی زمینی شکلیں ہیں جو دریاکے دہانے پر اس وقت بنتی ہیں جب یہ دریا تلچھٹ کوایک بڑے آبی ذخیرے جیسے سمندر،جھیل یا کسی اور ندی میں جمع کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ تلچھٹ بڑھتی ہے جو ایک مثلث یا پنکھے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔گوداوری،کرشنا،کاویری اور مہاندی دریا زرخیزڈیلٹا بناتے ہیں جس سے یہ زمین کاشت کاری کے لیے موزوں بن جاتی ہے۔

Ganges_Delta_ESA22274217

شکل1.35: ہندوستان کے مشرقی ساحل کاسیٹلائٹ منظر

ہندوستانی جزائر (Indian Islands)

ہندوستانی جزائر ان جزیروں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جوبحر ہند ، بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال میں بکھرے ہوئے ہیں اور جو ہندوستان کی سرزمین کا حصہ ہیں۔ ہندوستان میں جزیروں کے دو بڑے مجموعے ہیں— بحیرۂ عرب میں لکشدیپ اور خلیج بنگال میں انڈمان نکوبار جزائر ۔ان جزائر میں منفرد جنگلی حیات، خوب صورت ساحل، مرجانی چٹانیں اور آتش فشاں ہیں۔دسیوں ہزار سال پہلے کئی قدیم قبائل نے ان جزائر کو اپنا مسکن بنایا تھا ۔

لکشدیپ جزائر (Lakshadweep islands)

لکشدیپ ایک مجمع الجزائر (جزیروں کا ایک گروپ)ہے جو بحیرۂ عرب میں کیرالہ کے مالابار ساحل کے قریب واقع ہے۔یہ مرجان سے بنے چھتیس جزیروں پر مشتمل ہے۔تمام جزیروں پرانسانوں کی آبادی نہیں ہے۔ہندوستان ایک وسیع سمندری علاقے پر اختیار رکھتا ہے جوماہی گیری،وسائل کی تلاش اور ماحولیاتی تحفظ کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

انڈمان اورنکوبارجزائر (Andaman and Nicobar islands)

یہ مجمع الجزائر 500 سے زیادہ چھوٹے بڑے آتش فشا ں جزیروں پر مشتمل ہے جو دو نمایاں مجموعوں انڈمان اور نکوبار جزائر میں منقسم ہے۔ان کاجائےوقوع انتہائی اہم ہے۔

Screenshot 2026-01-27 at 16-53-08 gues101.pdf

شکل1.36: لکشدیپ جزائر میں مرجانی چٹان

شکل1.37: انڈمان جزائرمیں مرجانی چٹان

شکل1.38: انڈمان جزائر کے قریب ہندوستانی بحریہ کی ایک تیرتی ہوئی گودی (ایک چھوٹی بندرگاہ)

یہ مجمع الجزائر ہندوستان کی نگراں چوکیوں کی طرح ہے جو سمندرکی نگرانی پر مامور رہتی ہیں۔ یہ طرح طرح کے حیوانات اور نباتات کا مسکن ہے۔انڈمان جزائر تاریخی نقطۂ نظر سے بھی اہم ہیں۔ہمارے بہت سے مجاہدین ِآزادی کو وہاں ’سیلولر جیل‘ نام کی ایک جیل کے احاطے میں انتہائی سخت حالات میں قید رکھا گیا تھا، اس لیے اسے ان عظیم قربانیوں کی یاد دلانے کی خاطر محفوظ رکھا گیا ہے جو ہمارے آباواجداد نے ہمیں آزادی دلانے کے لیے دی تھیں۔ ہم اعلیٰ جماعتوں میں اس پر مزید گفتگو کریں گے۔

BFCYD0_Z

شکل1.39: بیرن جزیرے پر ہندوستان کےواحد فعال آتش فشاں کا ایک فضائی منظر

اسے دیکھنا نہ بھولیں

انڈمان اور نکوبار جزائر میں واقع بیرن جزیرہ (شکل 1.39 اوپر) ہندوستان کا واحد فعال آتش فشاں ہے۔کبھی کبھی یہ پھٹ پڑتا ہے جس سے آسمان میں دھواں اور لاوا پھیل جاتا ہے!

مغربی بنگال میں ڈیلٹا اور سندربن

(The Delta in West Bengal and the Sundarbans)

جب ہم جزیروں سے واپس ہمالیہ کے مشرقی حصّےکی طرف خلیج بنگال کے راستے سفرکرتے ہیں تو ہم سندربن سے گزرتے ہیں۔یہ گنگا، برہم پتراور ان کی معاون ندیوں کے ڈیلٹا میں واقع ہے (آپ انھیں اسی باب میں پہلےدیکھ چکے ہیں)۔اس ڈیلٹا میں دریا،سمندر اور زمین کا منفردامتزاج ہے۔اس کا تقریباً آدھا حصّہ ہندوستان میں اور باقی بنگلہ دیش میں ہے۔یہ مقام بھی یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔سندربن بے شمار انواع و اقسام کے جان داروں کا مسکن ہے، جن میں رائل بنگال ٹائیگر بھی شامل ہے۔

dreamstime_xl_177187911

شکل1.40: مغربی بنگال کے سندربن ڈیلٹا میں مینگروکا جنگل

نوٹ : نقشے کو دیکھنا ضرور یاد رکھیے اور نشان دہی کیجیےکہ ڈیلٹا کہاں ہے؟

Screenshot 2026-01-27 at 16-56-55 gues101.pdf

شکل1.41: دائیں سےبائیں ، اوپر سے نیچے: ہندوستان کے میگھالیہ میں سیون سسٹرس آبشار ؛ میگھالیہ کے چیرا پونجی میں نونگریاٹ گاؤں کے قریب زندہ جڑوں کا پُل؛ کھاسی عوام فطرت کے تئیں شکر گزاری کے اظہار کے لیے شادسُک مینسیم کا تہوار مناتے ہیں۔

شمال مشرق کی پہاڑیاں (The hills of the Northeast)

نقشے کو دیکھیے، اب ہم شمال مشرق کی پہاڑیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمارے سفر کی آخری منزل ہے۔کیا آپ نقشے پر نشان زدگارو، کھاسی اور جنتیا پہاڑیوں کو دیکھ سکتے ہیں؟ میگھالیہ پٹھار کے اس حصّے کی پہاڑیاں اپنی شادابی، شدید بارش اور دل کش آبشاروں کے لیے مشہور ہیں۔ یہ خطّہ دنیا میں سب سے زیادہ بارش والےمقامات میں سے ایک ہے، جو اسے جنگلات، منفرد جنگلی حیات اور زرخیز زمینوں کے اعتبار سے ثروت مند بناتا ہے۔

اسے د یکھنا نہ بھولیں

میگھالیہ کی مشرقی کھاسی پہاڑیوں میں موجود ماؤلِن نانگ گاؤں، ’ایشیا کے سب سے صاف ستھرے گاؤں‘ کے طور پر مشہور ہے۔ یہ خوب صورت گاؤں اپنی مثالی صفائی ستھرائی، بانس سے بنے کوڑے دانوں اور ماحول دوست طرز زندگی کے لیے جانا جاتا ہے۔اپنے زندہ جڑوں کے پلوں (Living Roots Bridges)کے لیے بھی یہ گاؤں معروف ہےجو برس ہابرس تک درختوں کی جڑوں کے آپس میں میل کھاکر لپٹ جانے سے تیار ہوتا ہے۔ dreamstime_xl_343098518

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

  • ہندوستان اس برصغیرکو اپنا نام دیتا ہےجس کا کہ وہ خود ایک حصہ ہے۔
  • برفانی ہمالیہ سے لے کرتھار ریگستان کی گرمی تک اس کی کئی متنوع جغرافیائی خصوصیات ہیں۔ میدانی علاقے بڑی تعداد میں دریاؤں سے سیراب ہوتے ہیں۔یہاں ایک جزیرہ نما پٹھاربھی ہےجس کےمغرب میں بحیرۂ عرب اور مشرق میں خلیج بنگال ہے۔
  • ان متنوع جغرافیائی خصوصیات نے مٹی، نباتات، حیوانات، زندگی اور اقتصادی اعتبارسے مختلف مواقع پیدا کیے ہیں اورایک متمول ثقافت کی داغ بیل ڈالی ہے۔
  • ان جغرافیائی خصوصیات نے ہمارےتہذیب و تمدن کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سوالات اورسرگرمیاں

  1. آپ کے خیال میں ہندوستان کی دواہم جغرافیائی خصوصیات کیا ہیں؟ آپ انھیں ضروری کیوں سمجھتے ہیں؟
  2. آپ کے خیال میں اگر ہمالیہ وجود میں نہ آتاتو ہندوستان کی شکل و صورت کیسی ہوتی؟ اپنے تخیل کو بیان کرنے کے لیے ایک مختصرنوٹ لکھیے یا ڈرائنگ کا کوئی خاکہ بنائیے۔
  3. ہندوستان کو ایک چھوٹا براعظم’کہا جاتا ہے۔آپ نے جوکچھ پڑھاہے،اس کی بنیاد پر بتائیے کہ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
  4. ہندوستان کے کسی بڑے دریا کا سفر اس کے منبع سے لے کر سمندر میں شامل ہونے تک کو بیان کیجیے۔ راستے میں لوگ اس دریا کو کن کن طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں؟ اس پر اپنی کلاس میں گروپ مباحثہ کیجیے۔
  5. ہندوستان کے جنوبی حصّے کوجزیرہ نما پٹھار کیوں کہا جاتا ہے؟
  6. اس باب میں مذکوریونیسکو کا کون سا ثقافتی ورثہ آپ کوزیادہ دل چسپ لگا؟ اس کے بارے میں ایک مختصر پیراگراف لکھیے اور بتائیے کہ اس کی کون سی خصوصیت نے آپ کو متا ثر کیا؟
  7. اس کتاب کے آخرمیں دیے گئے ہندوستان کے طبیعی اور سیاسی دونوں نقشوں کودیکھیے۔آپ اپنی موجودہ محل وقوع کی شناخت کیجیے۔اس جگہ کو بیان کرنے کے لیے آپ ہندوستان کی کون سی طبیعی خصوصیت کا حوالہ دیں گے؟
  8. پورے ہندوستان میں غذائی تحفظ کے طریقے الگ الگ ہیں جو مقامی حالات کے مطابق ہوتےہیں۔اس پر ایک کلاس پروجیکٹ کیجیے۔غذائی تحفظ کے مختلف طریقوں کو یک جا کیجیے۔

(اشارہ: سبزیوں کو ان کے موسم میں خشک کرکے غیر موسمی مہینوں میں استعمال کے لیے رکھنا۔)

  1. پہاڑ، ریگستان، میدان، ساحل جیسے مختلف خطوں کے باوجود ہندوستان ایک ہی ملک ہے۔ آپ کے خیال میں ہماری جغرافیائی ساخت نے لوگوں کو متحدکرنےمیں کس طرح مددکی ہے؟
Screenshot 2026-01-27 at 17-02-04 gues101.pdf