باب 3
ہندوستان کی آب وہوا
(Climates of India)
کالے ورشتو پرجنیہ: پرتھوی سسیہ شالنی
دیشویم چھوبھرتیہ برہمناس سنتُ نربھیاہ:
بارش بروقت ہو، زمین پودوں سے سرسبز و شاداب ہو
یہ ملک انتشار سے پاک ہو، نیک لوگ بے خوف ہوں!
— سبھاشتانی
اہم سوالات
- کیا چیز ہندوستان کی آب و ہوا کو اس قدر متنوع بناتی ہے؟
- مانسون کیا ہیں؟ وہ کیسے بنتے ہیں؟
- معیشت، ثقافت اور معاشرے پر آب و ہوا کا کیا اثر ہوتا ہے؟
- آب و ہوا کی سمجھ قدرتی آفات کا سامنا کرنے میں کس طرح مدد کرتی ہے؟
- موسمیاتی تبدیلی کیا ہے؟ اس کےنتائج کیا ہوتے ہیں؟
موسم، رُت اور آب وہوا
(Weather, Seasons and the Climate)
’آب وہوا ‘ ایسا لفظ ہے جسے لوگ عام گفتگو میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اکثر اس سے مراد دراصل‘موسم’ ہوتا ہے، نہ کہ آب وہوا۔ تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟ ‘موسم’ وہ کیفیت ہے جس کا تجربہ ہم ہر گھنٹے یا ہر دن کرتے ہیں، کبھی بارش ہوتی ہے، کبھی تیز دھوپ نکلتی ہے یا تیز ہوا چلتی ہے وغیرہ۔ موسم ہمیشہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جب کہ آب وہوا ایک طویل عرصے یعنی کئی دہائیوں میں کسی علاقے یا خطے کے موسم کے مجموعی اور مستقل طرز کو کہا جاتاہے۔یہ طرز مختلف خطوں میں مختلف ہوتا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم مختلف اقسام کی آب وہوا کا ذکر کریں، آئیے ہم مختصر طور پر رُتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے اور اس کی وجہ سے رُتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہر رُت چند مہینے جاری رہتی ہے اور ہر سال باقاعدگی سے آتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سال میں کئی موسم ہوتے ہیں۔ بہار، گرمی، مانسون، خزاں اور سردی۔یہ سب ایک سلسلہ وار چکر میں آتی ہیں۔ کیا رُتیں موسم سے تعلق رکھتی ہیں یا آب وہوا سے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں سے۔
موسم ،رُتوں کے ساتھ بدلتا ہے، یعنی گرمی کے مہینوں میں موسم خشک اور گرم ہوسکتا ہے، جب کہ برسات میں مرطوب اور بارانی ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی خطے میں رُتوں کا طرز اس کی آب وہوا سے جڑا ہوتا ہے۔ دنیا کے زیادہ تر خطوں میں چار خاص رُتیں ہوتی ہیں — بہار، گرمی، خزاں اور سردی۔ لیکن ہندوستان میں ان چار رُتوں کے علاوہ ما نسون یا ’برسات کی رُت ‘بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
روایتی طورپر، ہندوستان کے کئی حصّوں میں، سال کو چھے موسموں یا’ریتوؤں‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے— وسنت (بہار)، گرشم (گرمی)، ورشا (بارش کا موسم)، شرد(خزاں)، ہیمنت (اوائل سرما)، ششر(سردی)۔ان چھے ریتوؤں (رُتوں)سے جڑے ہوئے مخصوص رسومات اور تہوار منائے جاتے ہیں جیسے وسنت پنچمی یا شرد پورنیما۔
اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کا مشاہدہ کریں تو دیکھیں گے کہ انسان، نباتات اور جانور سب اپنی زندگی کےمعمولات میں رتوں یا موسموں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ فصلیں جو ہم اُگاتے ہیں، کھانا جو ہم کھاتے ہیں،کپڑے جو ہم پہنتے ہیں وغیرہ یہ سب موسم کے حساب سے بدلتے ہیں۔ خطے کے اعتبار سے کچھ درخت اور جھاڑیاں وسنت یا بہار کے آنے پر پھولوں سے بھرجاتی ہیں۔ جب کہ شرد یا خزاں کے آنے پر ان کی پتیاں گرجاتی ہیں یا ان کا رنگ بدل جاتا ہے اور کچھ جانوروں کے بال سردی کے مہینوں میں گھنے ہوجاتے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
� آپ کی پسندیدہ رُتیں کون سی ہیں؟ اپنی پسند کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے ایک مختصر مضمون لکھیے۔
� تین یا چار افراد کے گروپ میں تبادلۂ خیال کیجیے اور پتہ لگائیے کہ آپ کے خطّے میں رُتوں سے جڑے کون سے خاص مواقع یا تقریبات ہیں۔ ان کے بارے میں معلومات جمع کیجیے جیسے گانے، مخصوص اقسام کے پکوانوں کی دعوتیں،مختلف رُتوں کے رسم و رواج وغیرہ۔تحریر کیجیے اور اپنی دریافتوں پر جماعت میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
� کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں کون سے درخت موسمِ سرما کے آغاز میں رنگ بدلتے ہیں؟ کیا کوئی ایسے درخت بھی ہیں جن کی پتیاں اس دوران جھڑ جاتی ہیں؟ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ان درختوں کے مقامی نام معلوم کیجیے اور ان کی فہرست تیار کیجیے۔
عام طور پر آب و ہوا طویل عرصے تک مستحکم رہتی ہے۔ لیکن سائنس دانوں نے پچھلی کئی دہائیوں میں دنیا بھر کے موسموں اور آب وہوا میں بڑی تبدیلیاں ریکارڈ کی ہیں۔ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ ان میں سے کئی تبدیلیوں کی وجوہات کا تعلق انسانی سرگرمیوں سے ہے۔
آئیے ہم دہرائیں:
- موسم (Weather)وہ ہے جس کا ہم روزانہ تجربہ کرتے ہیں — تیز ہوا، بارانی، گرم، خشک وغیرہ۔
- رُت (Seasons)ہر سال خود کو دہراتی ہے اور کسی جگہ کی یومیہ کیفیت ہر رُت میں مختلف ہوتی ہے۔
- آب وہوا (Climate)کسی مخصوص خطےکا طویل مدتی موسمی طرز ہوتا ہے۔ دنیا میں آب وہوا کی مختلف قسمیں ہیں۔ اب ہم ہندوستان میں پائی جانے والی مختلف قسموں کا جائزہ لیں گے۔
ہندوستان میں آب وہوا کی قسمیں
(Types of climates in India)
ہم نےاکثر سنا ہے کہ ہندوستان تنوع کی سر زمین ہے۔ یہ بات ہندوستان کی آب وہوا کے متعلق بھی سچ ہے:
- شمالی ہندوستان: ہمالیائی پہاڑوں میں ایلپائن (Alpine)آب وہوا پائی جاتی ہے ، جہاں سردیاں نہایت سخت اور برفانی، جب کہ گرمیوں کا موسم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے( لفظ ایلپائن (Alpine) ایلپس (Alps) سے ماخوذ ہے جو یوروپ میں ایک پہاڑی سلسلہ ہے)۔ یہاں آپ کو ہندوستان کا سب سے موٹا اور گرم لباس نظر آئے گا۔
- ہمالیہ کے نچلے حصے اور ہندوستان کےدیگر پہاڑی علاقے : ان علاقوں میں آب وہو ا اکثر معتدل ہوتی ہے، کیوں کہ یہاں سردیوں میں ہلکی ٹھنڈک ہوتی ہےاور گرمیوں میں زیادہ گرمی نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے ہمیں بہت سےپہاڑی سیاحتی مقام ملتے ہیں، جہاں لوگ میدانوں کی گرمی سےبچنےکےلیے بڑی تعداد میں جاتےہیں۔
- شمالی میدانی علاقے: یہاں آب و ہوا نیم استوائی (Subtropical)ہوتی ہیں، جس میں گرمیوں کا موسم بہت شدید گرم ہوتاہے اورسردیاں کافی ٹھنڈک والی ہوتی ہیں۔یہ ہندوستان کا سب سے زیادہ گیہوں کی پیداواروالاعلاقہ ہے۔
- مغربی ہندوستان: تھار ریگستان کی آب وہوا خشک(Arid) ہوتی ہے، جہاں دن شدید گرم، راتیں ٹھنڈی اور بارش بہت کم ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو پانی جمع کرنے اور محفوظ کرنےکے لیے انوکھے طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔
- مغربی ساحلی پٹی: برسات کے مہینوں میں یہاں بھاری بارش ہوتی ہے جس کے باعث یہاں استوائی مرطوب آب وہوا پائی جاتی ہے جو چاول اور مسالے اُگانے کے لیے سازگار ہے۔
- وسطی دکنی پٹھار: یہاں کی آب وہوا نیم خشک(Semi-arid) ہوتی ہے۔ جہاں گرمیوں میں تیزگرمی، سردیوں میں معتدل ٹھنڈک کے موسم میں درمیانی درجے کی بار ش ہوتی ہے۔
- مشرقی ہندوستان اور جنوبی جزیرہ نما ہندستان: یہاں کی آب وہوا استوائی (Tropical)ہے، جہاں ہلکی سردی، بارش اور خشک موسم واضح طور پرا لگ الگ نظر آتے ہیں، ان پر مانسونی ہواؤں کا گہرا اثر رہتا ہے (ان پر آگے مزید بات ہوگی)۔
نوٹ: ‘استوائی’(tropical)اور’نیم استوائی‘(Subtropical)اصطلاحات کے معنی آپ آگے
سمجھیں گے جن کا تعلق دومخصوص عرض البلد سے ہے جس کو ‘مدارین’(Tropics)کہتے ہیں۔
آب وہوا کا تعین کرنے والے عوا مل
(Factors Determining the Climate)
آ ب وہوا کی مختلف اقسام کیوں پیدا ہوتی ہیں؟ ان میں بہت سے عوامل کام کرتے ہیں۔کچھ تو عام نوعیت کے ہیں، جب کہ بعض علاقائی یا مقامی ہوتے ہیں۔آئیے ان میں سےچند پر نظر ڈالتے ہیں:
(a) عرض البلد (Latitude)
اسے یاد رکھیں
ہم نے گریڈ 6 میں عرض البلد(Latitude) کے بارے میں پڑھا تھا۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ عرض البلد،
خطِ استوا(Equator) سے فاصلہ کی پیمائش ہے؟ یہ فاصلہ شمال یا جنوب کی جانب بڑھتا جاتا ہے۔ خطِ استوا کے قریب کے علاقے بہت گرم ہوتے ہیں جب کہ زیادہ عرض البلد والے علاقے معتدل اور پھر انتہائی سرد ہوجاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں میں سورج کی شعاعیں سیدھی پڑتی ہیں اور توانائی زمین کے ایک چھوٹے حصے پر مرتکز ہوتی ہے۔ جب کہ قطبین کے قریب شعاعیں ترچھی پڑتی ہیں اور ان کی توانائی زیادہ رقبے پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ انھیں زمین کے زیادہ موٹے فضائی کرّے سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی شدت مزید کم ہوجاتی ہےجیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اس لیے قطبی خطے تک نسبتاً کم گرمی پہنچتی ہے، جب کہ خطِ استوا کے علاقے سال بھر گرم رہتے ہیں۔ہندوستان میں بھی یہی فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ کنیا کماری اور نکوبار جزائر خطِ استوا کے قریب ہونے کی وجہ سے، سال بھر گرم رہتے ہیں جب کہ سر ی نگر جیسے شمالی مقامات نسبتاً زیادہ سرد ہوتے ہیں۔
(b) بلندی (Altitude)
اوپرہم نے پہاڑی سیاحتی مقامات کا ذکر کیا، جو خوش گوار اور ٹھنڈی آب وہوا کی وجہ سے مقبول سیاحتی مراکز ہیں۔ہندوستان میں ایسے کئی مشہور مقامات ہیں جن میں مُنّار،تھینی، اودھاگامنڈلم (اوٹی) ، مدیکیری، مہابلیشور، ماؤنٹ آبو، شملہ، نینی تال، دارجلنگ، توانگ، شیلانگ وغیرہ شامل ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ مذکورہ سیاحتی مقامات نچلے میدانوں کےمقابلے میں زیادہ بلندی پر واقع ہیں، لیکن آخر ان کی ٹھنڈی آب وہوا کی سائنسی وجہ کیا ہے؟آپ کو اس کا مکمل جواب آگے چل کر اپنی سائنس کی کتاب میں ملے گا۔
فی الحال آسانی سےسمجھنے کے لیے یہ جان لیجیے کہ جوں جوں بلندی بڑھتی ہے درجۂ حرارت کم ہوتا جاتا ہے۔ کیوں کہ:
1. جب بلندی بڑھتی ہے تو کرۂ فضائی پر دباؤ اور اس کی وجہ سے ہوا کی کثافت کم ہوتی جاتی ہے (جیسا کہ ہم نے ’موسم کوسمجھنا‘ کے باب میں دیکھا)۔ ہواکی کثافت جب کم ہوجاتی ہے تویہ ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
2. سورج ، زمین کی سطح کو گرم کرتا ہے اور سطح سے جتنی دوری ہوگی، گرمی کی شدت اتنی ہی کم ہوگی۔ اسی لیے ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کا درجۂ حرارت اکثر پانی کے منجمد ہونے کی حد سے بھی نیچے رہتا ہے اور وہ سال بھر برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔
آئیےمعلوم کریں
اودھاگامنڈلم (اوٹی) اورکوئمبٹورتقریباً یکساں عرض البلد پر واقع ہیں۔ لیکن اوٹی میں گرمیوں کا
درجۂ حرارت عام طور پر 20-15° کے درمیان ہوتا ہے جب کہ کوئمبٹور میں یہ 25-38°کے درمیان ہوتا ہے۔آپ کے خیال میں ان دونوں جگہوں کے درجۂ حرارت میں یہ نمایاں فرق کیوں ہے؟
(c) سمندر سے نزدیکی
( Proximity to the Sea)
ساحلی علاقوں میں درجۂ حرارت میں زیادہ تغیر نہیں ہوتاہے۔ وہاں گرمیوں میں حد سے زیادہ گرمی نہیں پڑتی اور سردیوں میں سخت سردی نہیں ہوتی۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ سمندر، درجۂ حرارت کو معتدل رکھنے والا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈائی گرام اس مظہر کی تلخیص بیان کرتا ہے اور آپ کی سائنس کی درسی کتاب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں زمین اور پانی کس طرح گرمی کو جذب اور خارج کرتے ہیں۔ نتیجتاً ساحلی علاقوں کا موسم زیادہ معتدل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم ساحل سے دور اندرون ملک کی طرف بڑھتے ہیں، موسم میں شدت آتی جاتی ہے۔گرمیوں کا درجۂ حرارت زیادہ اور سردیوں کا کم ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر، ممبئی اور ناگپور یکساں عرض البلدپر واقع ہیں لیکن ممبئی میں سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے، وہاں گرمی کے موسم میں کم گرمی (تقریباً 32°C) اور سردیوں میں کم سردی (تقریباً 18°C) رہتی ہے، جب کہ ناگپور میں ساحل سے دور ہونے کی وجہ سے گرمی میں تقریباً 44°C اورسردیوں میں (تقریباً 10°C) تک درجۂ حرارت پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ممبئی میں درجۂ حرارت کافرق (یعنی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کے درمیان) تقریباً14°C ہے جب کہ ناگپور میں یہ فرق 34°C تک پہنچ جاتا ہے۔
(d) تندہوائیں (Winds)
ہوائیں گرم یا سرد ہواؤں کو بڑی مقدار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ پنجاب ، ہریانہ ، راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں اکثر مغرب سے آنے والی ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ ہوائیں جو عرب کے ریگستانوں سے ہوتی ہوئی افغانستان تک کا سفر طے کرکے آتی ہیں، نہایت خشک اور گرم ہوتی ہیں اور گرمیوں میں سخت لُو اورگرم لہروں(Heat Waves)کا سبب بنتی ہیں۔ اسی طرح سردیوں میں ہمالیہ سے پرے علاقوں سے آنے والی سرد ہوائیں ہمالیائی دامن تک پہنچتی ہیں جس سے سرد لہریں (Cold Waves) پیدا ہوتی ہیں۔
تندہواؤں سے نہ صرف درجۂ حرارت پر اثر پڑتا ہے بلکہ وہ نمی (Humidity) اور بارش پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ دور دراز ریگستانوں سے آنے والی ہوائیں خشک ہوتی ہیں، جب کہ سمندر کی طرف سے آنے والی ہوائیں زمین پر نمی لے کر آتی ہیں، جس کے نتیجے میں بارش ہوتی ہے۔آگے ہم مانسونی ہواؤں کی تفصیل دیکھیں گے۔
یاد رکھیں
آپ نے اپنی گریڈ6 کی سائنس کی درسی کتاب ’تجسّس‘ (Curiosity)میں آبی چکّر (Water Cycle)کے متعلق پڑھا”سمندر اور زمین کی سطح سے آبی بخارات کی شکل میں فضا میں اڑتا ہے اور پھر بارش، ژالہ باری یا برف باری کی صورت میں واپس آتا ہے...‘‘
(e) وضع شناسی (Topography)
آخری بات یہ ہے کہ کسی علاقے کی وضع شناسی بھی اس علاقے کے موسم اور آب و ہوا کو طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔مثال کے طورپر ، ہمالیہ اورقراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے، وسطی ایشیا کے سردریگستانوں سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کو بڑی حد تک ہندوستانی برصغیر تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ دوسری جانب تھارریگستان کی ہموار زمین پر کوئی قدرتی رکاوٹ موجود نہیں، اس لیے وہاں گرم اور خشک ہوائیں آسانی سے داخل ہو جاتی ہیں۔ اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح مغربی گھاٹ ہندوستان کے جنوب مغربی مانسون میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مجموعی اعتبار سے ...
کسی بھی خطّے کا موسم درج بالا تمام عوا مل کے مجموعے سےمتعین ہوتا ہے۔کسی خطے کے موسم کی وضاحت کرنے کے لیے وہاں کے درجۂ حرارت، بارش، برف باری، کہر یا دھند اور ہواؤں کے حالات کم از کم 30 سالہ نمونوں(Pattern) کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مقامی آب وہوا (Microclimate)کسی چھوٹے جغرافیائی علاقے کی مخصوص آب وہوا کو کہا جاتا ہے جو اپنے اردگرد کے بڑے علاقے کی آب وہوا سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے خطے میں درجۂ حرارت، نمی، بارش اور دیگر عناصر کا الگ نظام رکھتی ہے۔
مثال کے طورپر،گھاٹیوں میں گھری ہوئی وادیاں یا گھنے جنگلات اپنی الگ مقامی آب وہوا (Microclimate) رکھتے ہیں۔ اسی طرح شہری حرارتی جزائر میں بھی ایسا ہوتا ہے، یعنی کچھ بڑے شہروں میں جہاں عمارتیں اور دوسرے کنکریٹ کے ڈھانچے بڑی تعداد میں ہوتے ہیں اور وہاں بہت کم ہریالی ہوتی ہے ، وہ گرمی کو باہر نکلنے سے روکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گرد ونواح کے علاقوں سے زیادہ گرم ہوجاتے ہیں۔
مقامی آب وہوا ، نباتات وحیوانات، فصلوں کی پیداوار اور انسانی صحت و فلاح پرگہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
وضع شناسی
(Topography):
کسی علاقے کی سطحی ساخت یا طبیعی خدوخال۔ اس میں پہاڑ، ٹیلے، وادیاں، ڈھلانیں،ساحلی علاقے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
مانسون ( The Monsoons)
مانسون کا موسم ہندوستانی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مانسون کے مہینوں میں دریا لبالب ہوجاتے ہیں، زمین پانی سے تر ہوجاتی ہے،کھیت لہلہانے لگتے ہیں اور زندگی پھلنے پھولنے لگتی ہے۔ ‘مانسون’ لفظ دراصل عربی کے لفظ ’موسِم‘(mausim)سےماخوذ ہے جس کے معنی موسم کے ہیں، یہ اصطلاح بڑے رقبے پر اثر انداز ہونے والی موسمی ہواؤں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو بحر ہند اور اس سے متصل خطوں بشمول افریقہ اور جنوبی ایشیا پر چلتی ہیں۔
مانسون ہر سال ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ آتا ہے۔ اگرچہ اس کا نظام پیچیدہ ہے لیکن اس حقیقت پر ہے کہ سمندر کے مقابلے میں زمین جلد ٹھنڈی اورگرم ہوجاتی ہے۔ مانسون دراصل درجۂ حرارت، فضائی دباؤ اور ہواؤں کی حرکت کے بنیادی رشتے کوظاہر کرتا ہے۔
آسان الفاظ میں سمجھیں کہ جیسے ہی گرمی کا موسم شروع ہوتا ہے، ایشیا کے زمینی علاقے گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس پر ایک کم دباؤ والا طاقت ور نظام قائم ہوجاتا ہے۔ چوں کہ ہوا ہمیشہ زیادہ دباؤ والے حصے سے کم دباؤ والے حصے کی جانب چلتی ہے، اس لیے سمندر کی ٹھنڈی اور زیادہ دباؤ والی ہوائیں گرم خطے کی طرف کھنچ آتی ہیں۔ یہ سمندری ہوائیں نمی سے بھرپور ہوتی ہیں، جو گرم خطے میں پہنچ کر بادلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اورموسلا دھار مانسونی بارش کی شکل میں برستی ہیں۔ (یہی وجہ ہے کہ مانسون کو موسمی بارشوں کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ صرف ہواؤں کے لیے۔)
سردیوں میں یہ نظام اُلٹ جاتا ہے، جب کہ زمین کا خطہ سمندر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اس وقت خشکی پر زیادہ دباؤ(High Pressure)کا نظام قائم ہوجاتا ہے، جب کہ سمندر نسبتاً زیادہ گرم رہتا ہے اور وہاں کم دباؤ(Low Pressure)پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے ہوائیں متضاد سمت میں چلتی ہیں— یعنی زمین سے سمندر کی طرف— جو ایشیا کے زیادہ تر حصوں میں خشک موسم لانے کا سبب بنتی ہیں۔
اب ہم ہندوستان کی جانب آتےہیں، جون کےاوائل میں مانسون کی بارشیں، جون کے مہینے کی شروعات میں ہندوستان کے جنوبی کنارے سے شروع ہوکر چندہفتوں میں شمال کی جانب بڑھتی ہیں۔ یہاں تک کہ جولائی کے وسط (درمیان) تک پورے برصغیرہند میں پھیل جاتی ہیں۔ یہ پیش رفت آسان نہیں ہوتی۔ اگرچہ مغربی گھاٹ (ہمارے وضع شناسی کے مختصر جائز ے کو یاد کیجیے) ایک قدرتی رکاوٹ کا کام کرتے ہیں ، ان کی مغربی ڈھلانوں پر زیادہ بارش ہوتی ہے، جب کہ مشرق میں دکنی پٹھار پر کم بارش ہوتی ہے اور اکثر وقفے وقفے سے ہوتی ہے۔عام طور پر اس کو گرم یا جنوب مغربی مانسون کہا جاتا ہے کیوں کہ ہوائیں جنو ب مغرب کی سمت سے چلتی ہیں۔
جیسے جیسے سردیاں شروع ہوتی ہیں، ہوائیں پلٹ جاتی ہیں اور زمین سے سمندر کی طرف چلنے لگتی ہیں، جیسا کہ ہم نے ابھی دیکھا۔ یہ ہوائیں خشک ہوتی ہیں اور جنوبی ہندوستان میں سردی لے کر آتی ہیں، لیکن ان ہواؤں کا کچھ حصہ خلیجِ بنگال کے اوپر سے گزرتے ہوئے نمی حاصل کرلیتا ہے اور مشرقی وجنوبی ہندوستان کے کچھ حصّوں میں بارش کا سبب بنتاہے ۔اس کو سرد یا شمال مشرقی مانسون کہا جاتا ہے۔
اسے دیکھنانہ بھولیں
- میگھالیہ میں واقع، ماؤسن رام (Mawsynram)دنیا کا سب سے زیادہ اوسط سالانہ بارش والا مقام ہے، تقریباً 11,000 ملی میٹر (یعنی 11 میٹر بارش سالانہ !)۔
� مانسون نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بھی متاثر کیا ہے۔ کرناٹک اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں کئی راگ جیسے میگھ ملہار اوراَمرِت ورشِنی اسی سے جڑے ہوئے دو راگوں کے نام ہیں۔
آئیے معلوم کریں
چوں کہ، مانسونی بارش کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہندوستانی زندگی کا ایک اہم پہلو رہی ہے، اس لیے ہمارے آبا واجداد نے اپنے اردگرد فطرت کے اشاروں کا بہت دھیان سے مشاہدہ کیا۔انھوں نے اپنے تجربات کے ذریعے مقامی اور روایتی علم حاصل کیا، جوایک قیمتی ورثہ ہے اور جسے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔مثال کے طورپر، کونکن کے ساحل پر ماہی گیر اس وقت مانسون کی پیش گوئی کردیتے ہیں جب مچھلیاں جو عام طورپر سمندر کے پانی میں نچلی سطح میں رہتی ہیں، سمندر کی اوپری سطح پر نظر آنے لگتی ہیں۔ جنوبی ہندوستان کے کچھ حصّوں میں کہا جاتا ہے کہ جب املتاس (Cassia Fistula) کا پیلا پھول کھلنے لگتا ہے تو اس کے پچاس دن کے اندر اندر مانسون آجاتا ہے۔کچھ برادریاں اس پر بھی یقین رکھتی ہیں کہ اگر کوّے اپنے گھونسلے درختوں کی اونچی شاخوں پر بنائیں تو بارش کم ہوگی، لیکن اگر نچلی شاخوں پر بنائیں تو بارش کے زیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔ ایسی معلومات پر مبنی اپنے علاقے میں بارش، کہرا، برف باری یا اولہ باری سے متعلق اس طرح کے مقامی روایتی علم کی فہرست تیار کریں۔
آب وہوا اور ہماری زندگی (Climate and our Lives)
ہماری زندگی کاموسم اور آب وہوا کے ساتھ گہرا تعلق ہے اوروہ اسی پرمنحصر ہے۔ موسم اور آب وہوا کے اثرات ہماری مقامی ثقافتوں میں بھی نمایاں ہیں۔ ہندوستان میں منائے جانے والے کئی تہوار موسموں اور زرعی سرگرمیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
اپنے دادا دادی، نانا نانی یا اپنے پڑوس کے بزرگوں سے بات کیجیے۔ ان سے معلوم کریں کہ ان کے بچپن اور جوانی میں کون کون سے روایتی تہوار اور رقص ہوتے تھے؟ خاص طور پر وہ جن کا تعلق زراعت اور بارش سے ہو۔انھوں نے کن رسومات میں حصّہ لیا؟ پھراپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ثقافتی میلہ منعقد کیجیے۔ آپ کے بزرگوں نے رقص کی جن شکلوں، گیت اور سرگرمیوں کا آپ سے ذکر کیا ، انھیں اس میلے میں پیش کیجیے تاکہ ان روایات کو زندہ کیا جاسکے۔ چاہے وہ فصل کاٹنے کی رسم ہو، بارش کے دیوتاؤں کے لیے دعا ہو یا کوئی پرانی سادہ سی کہانی۔ اسے اپنی جماعت کے ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کیجیے۔
آب و ہوا کا معیشت پر بھی براہ راست اثر پڑتا ہے۔آپ نے اکثر ’مانسون کی ناکامی‘ (Monsoon Failure) کا لفظ سنا ہوگا، جو اس وقت استعمال ہوتا ہے جب مانسون میں بارش ناکافی ہو؛ ایسی صورت میں زراعت بری طرح متاثر ہوجاتی ہے۔ خواتین سمیت لوگ پانی کی تلاش میں طویل فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ زرعی مزدوروں کو کام کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرنی پڑتی ہے؛ غذائی اشیا (اجناس، سبزیاں اور پھل وغیرہ ) مہنگے ہوجاتے ہیں، جس سے افراط زر(Inflation)میں اضافہ ہوجاتا ہے۔صنعتی سرگرمیوں کا انحصاربھی اکثرموسم کی پیش گوئی اور پانی کی دست یابی پر ہوتا ہے۔ دنیا بھرمیں، ہم آسانی سےآب وہوا اور سماجی و معاشی صورتِ حال کے درمیان یہ رشتہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ جب ماحولیاتی آفات (Climate Disaster)آتی ہیں تو یہ صورتِ حال مزید پریشان کن ہوجاتی ہے۔
آب وہوا اورآفات (Climates and Disasters)
ہندوستان میں موسمی تنوع بعض اوقات شدید حالات پیدا کرسکتا ہے جیسے سمندری طوفان (Cyclone)، سیلاب، زمینی تودوں کا کھسکنا اور دیگر ماحولیاتی آفات ۔ ایسی آفات براہِ راست انسانی زندگی کو متاثرکرتی ہیں۔کاشت کاری میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور مقامی معیشت کو بگاڑ دیتی ہیں۔
(a) سمندری طوفان (Cyclone)
ہر سال، ہندوستان کے ساحلی علاقے خاص طور پرمشرقی ساحل کئی سمندری طوفانوں کے لپیٹ میں آتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ان میں سے بعض نے بھاری تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے میں انسانی اور حیوانی زندگی کا بہت نقصان ہوا ہے۔ مکانات اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہوئے، درخت زمین سے اکھڑ گئے اور زمین کٹاؤ کاشکار ہوئی۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات(IMD)آنے والے سمندری طوفان سے متعلق معلومات جمع کرتا ہے اور ان کی ہیئت، رفتار اور ٹکرانے کی جگہ وغیرہ کے متعلق معلومات بروقت فراہم کرتا ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
قومی مقتدرہ برائے انسدادِآفات(NDRF)کو قدرتی اور انسانی آفات سے نپٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ ہندوستان میں این ڈی آر ایف کے دستے 12 مختلف مقامات پر تعینات کیے گئےہیں۔ این ڈی آر ایف سائیکلون، زمینی تودے کے کھسکنے اور سیلابوں جیسے قدرتی آفات کے دوران راحت کاری اور انخلا کے کاموں میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سمندری طوفان(Cyclones) کیسے بنتے ہیں؟ ہم نے دیکھا کہ کچھ مخصوص حالات میں سمندر کے قریب فضائی دباؤ، آس پاس کے علاقوں کے مقابلے میں کم ہوجاتا ہے، جسے کم دباؤ کا نظام (Low-pressure System)کہتے ہیں۔ اس نظام کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں سے ہوا کو کم دباؤ والے علاقے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور سمندر سے آنے والی ہوا اپنے ساتھ نمی لاتی ہے جس کے نتیجے میں بارش ہوتی ہے ۔ اگر یہ کم دباؤ والا نظام شدید ہوجائے اور ہواؤں کی رفتار بہت تیز ہو تو یہی صورت حال سمندری طوفان میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
جب ہوائیں نمی اکٹھا کرلیتی ہیں تو یہ بادلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور دباؤ کے مرکز کی طرف دائرے کی شکل میں گھومنے لگتی ہیں۔ یہ مرکز جو بادلوں سے خالی ہوتا ہے ’طوفان کی آنکھ‘(Eye of Cyclone) کہلاتا ہے۔
اس پرغوروفکرکریں
بادل کیا ہیں؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آسمان میں تیرتے ہوئے بڑے بڑے سفید ڈھیر ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اصل میں کس چیز سے بنے ہوتے ہیں؟ جواب آسان ہے—پانی، لیکن یہ عام پانی سے نہیں، بلکہ پانی کے چھوٹے قطرے (Droplets)،برف کے ذرات (Ice Crystals)یا دونوں کا مرکب ہوتا ہے جو فضائی کرّے میں معلق رہتا ہے۔
(b) سیلاب (Floods)
سیلاب اس وقت آتا ہے، جب پانی بہہ کر اس زمین پر پھیل جائے جو عام حالات میں خشک رہتی ہے۔ یہ کئی وجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہے۔ شدید بارش کے نتیجے میں پانی کی بڑی مقدار زمین پر جمع ہوجائے جسے زمین جذب نہ کرسکے یا دریا اور جھیلوں جیسےآبی ذخائر میں حد سے زیادہ پانی بھرجائے، یہاں تک کہ پانی اوپر سے بہنے لگے یا ان کے کنارے ٹوٹ جائیں۔ سیلاب زیادہ تر مانسون کے موسم میں آتے ہیں۔ اتر پردیش، بہار، کیرالہ، آندھرا پردیش اور آسام جیسی ریاستیں خاص طور پر سیلاب سے متاثر ہونے کے لیے مشہور ہیں۔
آئیے معلوم کریں
کیا آ پ نے سیلاب دیکھا یا اس کے بارے میں پڑھا ہے؟ ہندوستان کے طبیعی نقشے کو دیکھیے اور جوڑوں کی شکل میں تبادلۂ خیال کیجیے کہ مذکورہ علاقوں میں سیلاب زیادہ کیوں آتے ہیں؟
دوسری طرف، ہمالیائی علاقوں میں سیلاب اس وقت آتے ہیں جب برفانی جھیلیں بہنے لگتی ہیں۔ برفانی جھیلیں اپنے پانی کو روکنے کے لیے چٹانوں اور برف کے ٹکڑوں سے رکاوٹ بناتی ہیں۔ ان میں پانی زیادہ تر پگھلتے برفانی تودوں(Glaciers) سے آتا ہے، اگر گلیشیر بہت تیزی کے ساتھ پگھلنے لگیں جیسا کہ آج کل زیادہ ہورہا ہے) یا اگر بارش بہت زیادہ ہوجائے ،تو دباؤ بڑھنے سے یہ رکاوٹ ٹوٹ جاتی ہے— اس کو گلیشیر کا پھٹنا یا گلیشیر شگاف (Glacial Burst)کہتے ہیں، جو اکثر انسانی زندگی اور املاک کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
سال 2013 میں اتراکھنڈ میں کئی دنوں کی لگاتار بھاری بارش کی وجہ سے اچانک ایک گلیشیر پھٹ گیا۔ اس کے نتیجے میں چٹانی تودوں کےکھسکنے کے بہت سے واقعات ہوئے۔ ہندوستان کے ایک مقدس مقام کیدارناتھ مندر کے چاروں طرف کے علاقے پوری طرح تباہ ہوگئے۔سیلاب میں بہت سی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ کئی گاؤں بہہ گئے۔ مجموعی طور پر تقریباً 6000 افراد جن میں بڑی تعداد زائرین کی تھی اپنی جان گنوا بیٹھے۔
بڑے شہروں میں بھی جب بھاری بارش ہوتی ہے تو سیلاب کی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ پانی کی نکاسی کے نظام پر حد سے زیادہ بوجھ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب ان کا استعمال گنجائش سے زیادہ ہونے لگتا ہے یا پانی کے راستوں اور پانی کے بہاؤ کے رکنے کی وجہ سے اور ناقص تعمیری منصوبوں کے باعث بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کنکریٹ یا اسفالٹ(Asphalt)سے ڈھکی ہوئی شہری سطحیں جو پانی کو زمین میں جذب ہونے سے روک دیتی ہیں ، اس کی وجہ سے بھی شہروں میں سیلاب کی صورتِ حال پیداہوتی ہے۔
(c) چٹانی تودوں کا کھسکنا (Land Slides)
چٹان، مٹی یا ملبے کے اچانک گرنے کو چٹانی تودوں کاکھسکنا (Land Slides)کہتے ہیں جو اکثر بھاری بارش، زلزلے یا آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں رونما ہوتا ہے۔ پہاڑوں اور کوہستانی علاقوں جیسے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکّم، اروناچل پردیش،مغربی گھاٹ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں چٹانی تودوں کاکھسکنے کے واقعات عام ہیں۔ یہ واقعات خاص طور پر مانسون کے موسم میں زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان خطوں میں چٹانی تودوں کا کھسکنے کے واقعات انسانی سرگرمیوں جیسے جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی،
منظور شدہ طریقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر اور پانی کے فطری بہاؤ کو روکنے والی بہت سی بے ہنگم عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔
(d) جنگل کی آگ (Forest Fires)
جنگل کی آگ ایسی بے قابو آگ کو کہتے ہیں جو تیزی سے پھیلتی ہے اور بڑے پیمانے پر ہریالی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اس کے اسباب میں شامل ہیں خشک آب و ہوا، خشک سالی، تند ہوائیں ،اور اکثر انسانی لاپرواہی بھی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ جن ریاستوں میں وسیع جنگلات یا ہرے بھرے علاقے ہوتے ہیں جیسے اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، ان میں جنگل کی آگ زیادہ لگتی ہے۔ یہاں تک کہ مغربی گھاٹ کے پہاڑی سلسلے میں بھی آگ لگتی ہے۔ حیوانی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے، جنگل کی آگ کے اثرات نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ وسیع جنگلات تباہ ہوجاتے ہیں، ماحولیاتی نظام بگڑ جاتا ہے اور ہوا آلودہ ہوجاتی ہے۔ انسانی برادریاں بے گھر ہوجاتی ہیں،یوں اس کے نتائج ماحولیاتی بھی ہوتےہیں اور معاشی بھی۔
آئیے معلوم کریں
- شکل 3.15کو دیکھیے۔ ان آفات کے اثرات کو بیان کیجیے کہ یہ کس طرح انسانوں، پیڑ پودوں، جانوروں اور معاشی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔
� چار یا پانچ افراد کے گروپ میں یہ طے کیجیےکہ ان آفات میں کس حد تک قدرتی اسباب کار فرما ہیں اور ان کے لیے انسانی سرگرمیاں کس حدتک ذمہ دار ہیں۔اپنے نتائج کا موازنہ کیجیے۔
� ان ہی گروپوں میں ان احتیاطی تدابیر پر بات کیجیے جو درج بالا آفات کو روکنے میں یا ان کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change)
ماحولیاتی تبدیلی سے مراد آب وہوا میں نمایاں اور طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں یا تو عالمی پیمانے پر ہوتی ہیں یا کسی مخصوص خطے میں ان کا تعلق عموماً درجۂ حرارت، بارش اور موسمی کیفیات سے ہوتا ہے۔ ماضی میں صدیوں اور ہزاروں (بلکہ لاکھوں سال پہلے تک) یہ تبدیلیاں فطری عوامل کے تحت وقوع پذیر ہوتی تھیں۔ لیکن انیسویں صدی کے بعد سے انسانی سرگرمیوں نے ان تبدیلیوں کو تیز تر اور خطرناک بنادیا ہے، خاص طور پر رکازی ایندھن کا بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی،ماحولیاتی طور پر نقصان دہ صنعتی سرگرمیوں اوربہت زیادہ بےمصرف یا فضول چیزوں کی پیداواری رویے سے ماحولیاتی تبدیلی واقع ہورہی ہے۔
رکازی ایندھن
(Fossil Fuels):
توانائی کے وہ ذرائع جو لاکھوں سال پہلے مرے ہوئے جانوروں اور ضائع شدہ پودوں کے باقیات سے بنے اور مٹی، چٹانوں یا سمندر کی تہہ میں دفن ہوگئے، جہاں گرمی اور دباؤ نے دھیرے دھیرے ان کو کوئلہ، پیٹرولیم تیل اور قدرتی گیس میں تبدیل کردیا۔
قوت برداشت
(Resilience):
مشکلات یا آفات کا سامنا کرنے اور ان سے جلد از جلد بحال ہونے کی صلاحیت ۔
تخفیف(Mitigation):
ایسے اقدامات کو اختیار کرنا جو گلوبل وارمنگ کی رفتار کم کریں۔ اس کے اسباب پر قابو پائیں۔
پائیدار(Sustainable):
ایسا عمل یا چیز جسے وسائل یا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر طویل مدت تک قائم رکھا جاسکے۔
رکازی ایندھن کو جلانے سے ماحولیات پر کیوں اثر پڑتا ہے؟ زمین کے قدرتی کاربن سائیکل میں، کاربن ڈائی آکسائڈ اور دوسری گیسیں رفتہ رفتہ فضا میں خارج ہوتی رہتی ہیں اور سورج سے آنے والی گرمی کو جذب کرکے زمین کو اتنا گرم رکھتی ہیں کہ زندگی قائم رہ سکے۔ ا س کو ’قدرتی گرین ہاؤس اثر‘ (Green House Effect)کہا جاتا ہے۔لیکن انسانی سرگرمیاں جیسے صنعت، نقل و حمل اور زراعت نے صرف چند صدیوں میں ہی یہ گرین ہاؤس گیسیں کافی مقدار میں خارج کردی ہیں۔ اس اچانک اضافے نے سورج کی اضافی حرارت کو مقیدکرلیا، جس کے نتیجے میں زمین کا درجۂ حرارت تیزی سے بڑھنے لگا اور وہ موسمی توازن بگڑ گیا جس کے مطابق پودے، جانور اور انسانی معاشرے ہزاروں سال سے اپنی زندگی گزاررہے تھے۔
ہندوستان کے کئی خطوں پرواضح طورپر درجۂ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ مثلاً 2025 کی ابتدا میں ملک کا اوسط درجۂ حرارت معمول سے 1 ڈگری سے 3 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوا جس کے نتیجے میں سردیوں کا موسم نسبتاً مختصر اور ہلکا رہا۔ اس کا اثر نہ صرف زرعی پیداوار پر پڑا ہے بلکہ بہت سی چھوٹی صنعتوں پر بھی ہوا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح بڑھتی گرمی ہمارے سامنے مزید مشکلات پیدا کررہی ہے۔
اگر ہم ماحولیاتی تبدیلی کے اسباب اور آفات کے باہمی رشتے کو سمجھ لیں تو ان چیلنجوں کے لیے بہتر تیاری کرسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ماحول دوست رویے اپنانے چاہیے اور معاشرتی سطح پر قوت برداشت (Resilience)اور موافقت (Adaptation) پیدا کرنی چاہیے۔ہندوستان سمیت دنیا بھر کی حکومتیں موسمیاتی تخفیف کے اقدامات کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہیں، جیسے گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنا، درخت لگانا، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری، پائیدار طرز زندگی کو اپنانا وغیرہ، لیکن اکثر یہ اقدامات اقتصادی ترقی اور بڑھتی کھپت کی خواہش سے متصادم ہوجاتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
� ہندوستان کی متنوع آب وہوا اس کی جغرافیائی ساخت سے تشکیل پاتی ہے۔ جن میں پہاڑ، ریگستان اور پٹھار شامل ہیں۔
� موسم (Weather)وقتی یا قلیل مدتی کیفیت ہے۔رُتیں (Seasons)سال کی بنیاد پر واقع ہوتی ہیں اور آب وہوا (Climate)دہائیوں پر مشتمل طویل مدتی نمونوں (Patterns)کی عکاسی کرتی ہے۔
�عرض البلد(Latitude)،بلندی(Altitude)،سمندرسےنزدیکی،تندہوائیں اوروضع شناسی
(Topography) جیسے عناصر آب وہوا کا تعین کرتے ہیں۔
� مانسون، زراعت کے لیے نہایت اہم ہے، یہ فصلوں کی گردش اور لوگوں کے روزگار پر اثر انداز ہوتا ہے۔
- آب و ہوا ثقافتی روایات، تہوار، زراعت اور اقتصادی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔
- آب و ہوا کی سمجھ ہمیں سیلاب اور سمندری طوفان جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری میں مدددیتی ہے۔
- ماحولیاتی تبدیلی، موسم اور درجۂ حرارت کی شدت کی وجہ بنتی ہے اور قدرتی و انسانی دنیا پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہے۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. ماحولیاتی عوامل کو ان کے اثرات سے ملائیے:
|
کا لم A |
کا لم B |
|
(a) گرمیوں کے دوران ہندوستان تک مرطوب ہوا لاتی ہے۔ |
|
(b) شمال اورجنوب میں مختلف آب و ہواپیدا کرتی ہے۔ |
|
(c) بلند مقامات کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔ |
|
(d) درجۂ حرارت کو معتدل رکھتی ہے۔ |
2. درج ذیل سوالات کے جواب لکھیے:
a) موسم اور آب وہوا میں کیا فرق ہے؟
b) سمندر کے قریبی علاقوں کا درجۂ حرارت ، اس سے دور کے علاقوں کے مقابلے میں کیوں معتدل ہوتا ہے؟
c) مانسونی ہوائیں ہندوستان کی آب وہوا پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں؟
d) چنئی سال بھر گرم کیوں رہتا ہے جب کہ لیہہ ٹھنڈا رہتا ہے؟
3. اس کتاب کے آخر میں دیے گئے ہندوستان کے نقشے کو دیکھیے اور ان شہروں —لیہہ، چنئی، دہلی، پنجی اور جے پورکی آب و ہوا کی شناخت کیجیے۔
� کیا یہ مقام سمندر کے قریب ہے؟ پہاڑوں میں ہے یا ریگستان میں ہے؟
� یہ عوامل وہاں کی آب وہوا پرکیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟
4. ہندوستان کے نقشے پر گرمیوں اور سردیوں میں مانسونی چکّر کا خاکہ بنائیے۔
- دکھائیے کہ ہوائیں گرمیوں اور سردیوں میں کہاں سے چلتی ہیں۔
- مانسون کے دنوں میں چلنے والی ہواؤں کی سمت کو نشان زد کیجیے۔
5. ایک رنگین پوسٹر تیار کیجیے جس میں ان تہواروں کی تصویریں شامل کیجیے یا ان کا خاکہ بنائیے ۔ہندوستان کے وہ تہوار دکھائیے جو زراعت اور موسم سے جڑے ہیں۔ (مثلاً بیساکھی، اونم وغیرہ)
6. خودکوہندوستان کا ایک کسان سمجھ کر ایک مختصر ڈائری نوٹ لکھیے کہ بارش کے موسم کے لیے آپ کس طرح تیاری کریں گے؟
7. کسی ایک قدرتی آفت (جیسے سمندری طوفان، سیلاب، چٹانی تودوں کاکھسکنا یا جنگل کی آگ) کا انتخاب کیجیے اور اس کی وجوہات اور اثرات پر ایک مختصر مضمون لکھیے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتائیے کہ افراد، معاشرے اور حکومتیں، اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرسکتے ہیں؟