باب 4
نئی ابتدا : شہر اورریاستیں
(New Beginnings : Cities and States)
ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ دارالحکومت اور سرحدوں پر واقع شہروں کو فصیل بند کیا جائے۔ زمین ایسی ہونی چاہیے جو نہ صرف اپنی آبادی کے پیٹ بھرنے کے قابل ہو بلکہ مصیبت کے وقت غیر ملکیوں کو بھی سنبھال سکے۔ زمین خوب صورت ہونی چاہیے، جس میں قابل کاشت آراضی، معدنیات، لکڑی کے جنگلات،ہاتھیوں والے جنگلات اور مویشیوں سے بھرپور بہترین چراگاہیں موجود ہوں۔ پانی کے لیے اسے (صرف) بارش پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔اس میں عمدہ سڑکیں اور آبی گزرگاہیں ہونی چاہیے۔اس کی معیشت پیداواری اور متنوع اشیا سے بھرپور ہونی چاہیے...
— ’ارتھ شاستر‘ از کوٹلیہ
شکل4.1: راج گرِہ (موجودہ راجگیر ،بہار ) میں ایک بڑے ڈھانچے کی باقیات ،جب یہ مگدھ مہاجن پد کی دارالحکومت تھا۔
اہم سوالات
- ‘ہندوستان کی دوسری شہرکاری’ سے کیا مراد ہے؟
- جن پد اور مہاجن پد ہندوستان کی ابتدائی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کیوں تھے؟
- جن پدوں اور مہاجن پدوں نے کس نوعیت کا نظامِ حکمرانی وضع کیا تھا؟
یادکیجیے کہ دوسری ہزاری (2nd Millennium)کے اوائل میں (یعنی 2000 قبل مسیح کے چند صدیوں بعد) وادیِ سندھ/ہڑپہ سندھو- سرسوتی تہذیب ،جسے ہم نے ہندوستان کی ’پہلی شہرکاری‘ کہا تھا، زوال پذیر ہوگئی۔ اس کے کئی شہر ویران ہوگئے؛ کچھ میں لوگ تو رہتے رہے لیکن شہری زندگی چھوڑ کر دیہی زندگی یا گاؤں کے طرزِ زندگی کی طرف واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔ انھیں ایسا کرنا پڑا کیوں کہ ہڑپہ کے شہری نظام کے تمام عناصر ختم ہوچکے تھے۔ نجی اور عوامی ،دونوں طرح کی شان دار عمارتیں، گنجان آباد گلیاں اور مصروف بازار ، مختلف پیشوں سے وابستہ مخصوص برادریاں (جیسے دھات کے کاری گر، کمہار، معمار، بُنکر، دست کار وغیرہ) ؛ تحریری نظام؛ صفائی کا ترقی یافتہ نظام؛مخصوص انتظامیہ کی موجودگی اور ان سب کے پیچھےایک وسیع تر ریاستی ڈھانچہ جس کی سربراہی ایک حکمراں طبقہ کرتا تھا۔ لیکن اس کے بعد پورے ایک ہزار سال تک ہندوستان میں شہری زندگی غائب رہی، اگرچہ شمالی ہندوستان میں کہیں کہیں چند قصبے ضرور رہے ہوں گے۔یقیناً، اس دور میں اہم علاقائی تہذیبیں موجود تھیں، لیکن ان پر یہاں گفتگو ضروری نہیں ۔
شکل4.2: مہاجن پدوں کی ترقی و خوش حالی میں گنگاکے زرخیز میدانوں نے اہم کردار ادا کیا۔
پھر پہلی ہزاری قبل مسیح (1st Millennium)میں تابندہ شہری زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ، جو گنگا کے میدانوں، وادی سندھ کے کچھ حصوں اور اس کے گرد ونواح میں پروان چڑھا اور آہستہ آہستہ برصغیر کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔ہمیں اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ بنیادی طور پر دو ذرائع سے:
(1) آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے جو ان قدیم شہری مراکز کے وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔
(2) قدیم ادب سے جن میں ان کا ذکر ہے۔ بالخصوص ویدوں کے آخری دور، بدھ مت اور جین مت کی ادبیات ، ان نئے شہری مراکز کے حوالے سے بھرے ہوئے ہیں۔
اس نئے دور کو اکثر ہندوستان کی ’دوسری شہرکاری‘ کہا جاتا ہے— جو حیرت انگیز طور سے آج تک جاری ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دور کیسے شروع ہوا۔
جن پد اور مہاجن پد (Janpadas and Mahajanpadas)
دوسری ہزاری قبل مسیح کے اختتام کے قریب شمالی ہندوستان میں علاقائی تہذیبیں بتدریج نئے سرے سے منظم ہونے لگیں۔ لوگ قبیلوں یا گروہوں کی صورت میں جمع ہوئے، جو غالباً ایک ہی زبان اور رسم و رواج کے حامل تھے، ہر قبیلہ کا ایک خاص علاقے یا جن پد سے وابستہ تھا، جس کی قیادت ایک راجا یا حکمراں کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ (’جن پد‘ سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے وہ جگہ جہاں لوگوں (جَن) نے قدم (پَد) رکھا، یعنی جہاں وہ آباد ہوئے۔)
تجارتی دائرے کے وسیع ہونے سے جن پد بڑھتے گئے اور لوگ ایک دوسرے کے رابطے میں آنے لگے۔ آٹھویں یا ساتویں صدی قبل مسیح تک ان میں سے بعض ابتدائی ریاستیں آپس میں ضم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی اکائیاں وجود میں آئیں،انھیں مہاجن پد کہا گیا۔ اگرچہ قدیم تحریروں میں مہاجن پدوں کی مختلف فہرست ملتی ہیں، لیکن عام طور پر 16مہاجن پدوں کا ذکر آتا ہے جو شمال مغرب میں ’گندھار‘ (قندھار) سے لے کر مشرق میں‘ انگ ’تک اور وسطی ہند میں،‘ اشمک’ (جو دریائے گوداوری کے قریب تھا) تک پھیلے ہوئے تھے۔ (نقشہ ملاحظہ کیجیے) ۔ اس کے علاوہ بھی چند مزید مہاجن پد اور کچھ چھوٹے جن پد اپنی آزادانہ حیثیت میں موجود رہے ہوں گے۔
اس پرغوروفکرکریں
غور کیجیے کہ مہاجن پدوں میں سے کتنے گنگا کے میدانوں میں مرکوز تھے۔ اس کی کئی ممکنہ وجوہات تھیں جیسے گنگا کے زرخیز میدانوں میں زرعی ترقی، پہاڑوں اور ٹیلوں میں لوہے کی دھات کی دست یابی (جیسا کہ آگے لوہے کے بارے میں ذکر آئے گا) اور نئے تجارتی نظاموں کا قیام وجود میں آیا۔
آئیے معلوم کریں
- ان نئی ریاستوں میں طاقت و رترین ریاستیں مگدھ، کوسل، وتس اور اَونتیتھیں۔ کیا نقشے کو دیکھ کر آپ ان کے دارالحکومتوں کی شناخت کرسکتے ہیں؟ نیز ان میں سے کتنے موجودہ ہندوستانی شہروں سے مطابقت رکھتے ہیں؟
- اس نقشے کا موازنہ مہا بھارت میں مذکور علاقوں کے نقشے (گریڈ 6 کے باب ‘انڈیاجو ہندوستان ہے’، میں شکل 5.4 دیکھیے) سے کیجیے اور دونوں نقشوں میں شامل مشترک ناموں کی فہرست بنائیے۔ آپ کے خیال میں اس سے کیا مطلب نکلتا ہے؟
نقشہ(شکل 4.3) میں مہاجن پدوں کے دارالحکومت دکھائےگئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کافی بڑے اور اچھی طرح قلعہ بند شہر تھے، جن کے گرد اضافی دفاع کے طورپر خندقیں کھودی گئی تھیں۔ اکثر اوقات کھودی گئی فصیلی دیواروں میں بنائے گئے دروازے جان بوجھ کر تنگ رکھے جاتے تھے تاکہ پہرے دار قلعے سے شہر تک لوگوں اور اشیا کی آمد و رفت کو قابو میں رکھ سکیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان قدیم دارالحکومتوں میں سے بیش تر آج بھی زندہ شہر ہیں — ‘جدید’ شہرجن میں سے اکثر 2,500 سال پرانے ہیں!
خندق(Moat):
کسی قلعے یا فصیل بند شہر کے گرد ایک گہری اور چوڑی کھائی جس میں پانی بھرا رہتا تھا۔
ابتدائی جمہوری روایات (Early Democratic Traditions)
ہرجن پد میں ایک مجلس یا کونسل ہوا کرتی تھی، جسے سبھا یا سمیتی کہا جاتا تھا، جہاں قبیلے سے متعلق امور پر بحث ہوتی تھی۔ (یاد کیجیے ‘ہندوستان کی ثقافتی جڑیں’ والے باب میں ہم نے پڑھا تھا کہ سبھا اور سمیتی جیسے الفاظ سب سے پہلے ویدوں میں ملتے ہیں، جو ہندوستان کے قدیم ترین صحیفے ہیں۔) ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ ان مجالس کے زیادہ تر ارکان قبیلے کے بزرگ ہوتے تھے۔ راجا سے یہ توقع نہیں کی جاتی تھی کہ وہ من مانی کرے یا تنہا حکمرانی کر ے؛ایک اچھے حکمراں کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا کہ وہ صرف وزیروں اور منتظمین ہی نہیں بلکہ ان مجالس سے بھی مشورہ لے۔ درحقیقت بعض متون کے مطابق، ایک نا اہل حکمراں مجلس کے ذریعےمعزول کیا جا سکتا تھا۔ بلا شبہ، ایسے حوالےاہم ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ایک مستقل قانون تھا؛کیوں کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اتنے قدیم زمانوں کے بارے میں ہمارے پاس دستیاب معلومات نامکمل ہیں۔
مہاجن پدوں کےسیاسی نظاموں میں جن پدوں کے بنیادی اصولوں کو مزید وسعت ملی۔ ان میں سے کچھ حقیقتاً بادشاہت کی شکل میں تھے، اس معنی میں کہ راجا ہی حتمی اختیار رکھتا تھا، جو وزیروں اورداناؤں کی ایک مجلس کی تائید سے حکومت کرتا تھا۔راجا کا عہدہ موروثی ہوتا تھا، یعنی عام طور پر ایک راجا پچھلے راجا کا بیٹا ہوتا تھا۔ بادشاہ ٹیکس یا محصولات جمع کرتا، قانون اور امن و امان قائم رکھتا، دارالحکومت کے گرد مضبوط قلعہ بندی کرواتا اور ایک فوج رکھتا تاکہ اپنے علاقےکا دفاع کر سکے یا بوقتِ ضرورت ہمسایہ ریاستوں سے جنگ کر سکے۔ مگدھ (موجودہ بہار کا حصہ)، کوسل (موجودہ اتر پردیش کا حصہ)، اور اَونتی(موجودہ مدھیہ پردیش کا حصہ) ایسی ہی طاقت ورترین ریاستوں میں شامل تھیں۔
البتہ،کم از کم دو مہاجن پد — وجّی (یا ورِجّی) اور اس کا ہمسایہ مل ّ— کا نظام مختلف تھا۔ ان میں سبھا یا سمیتی کو زیادہ اختیار حاصل تھا اور اہم فیصلے مشاورت سے اور اگر ضرورت ہوتی تو رائے دہندگی کے ذریعے لیے جاتے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں راجا کا انتخاب بھی شامل تھا! اس کا مطلب ہے کہ یہ مہاجن پد، گن یا سنگھ کے طور پر کام کرتے تھے اور بادشاہت کی حیثیت نہیں رکھتےتھے — بلکہ ان کا نظام عمل کسی حد تک جمہوری تھا، کیونکہ مجلس کے اراکین ہی حکمراں منتخب کرتے اور اہم فیصلے لیتے تھے۔در اصل،دانشوروں نے اکثر ان ریاستوں کو’ ابتدائی جمہوری ریاستیں‘ کہا ہے ، کیوں کہ واقعی یہ دنیا کے قدیم ترین جمہوری نظاموں میں سے تھیں۔
شکل 4.4: کوشامبی کے وتس مہاجن پد کے دارالحکومت میں واقع ایک اِحاطے کے کھنڈرات۔
مزید اختراعات (More Innovations)
جن پدوں اور مہاجن پدوں کا دور گہرے تغیر و تبدل کا زمانہ تھا، جن کے اثرات آج تک ہندوستانی تہذیب پر قائم ہیں۔ گریڈ 6 کے باب ’ہندوستان کی ثقافتی جڑیں‘ میں ہم نے دیکھا تھا کہ اس دور میں کئی نئے مکاتبِ فکر نے جنم لیا— بالخصوص ویدک دور کا آخری حصہ، بدھ اور جین افکار اور ان سے متعلقہ ادب کا وجود ان مکاتبِ فکر کی تعلیمات اور تحریریں دانشوروں، راہبوں و راہبات، مسافروں یا زائرین کے ذریعے پورےہندوستان میں پھیلائی گئیں۔ اسی دور میں ہندوستانی فنونِ لطیفہ کی بھی تجدیدہوئی، جو سلطنتوں کے دور میں مکمل طور پر پھولے پھلے ۔
شہر کاری بغیر ٹیکنالوجی کے ممکن نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہڑپہ کی تہذیب نے تانبے اور کانسے کی دھات گری میں عبورحاصل کرلیا تھا۔ اب اس دوسری شہرکاری میں ٹیکنالوجی میں ایک بڑی تبدیلی لوہے کی دھات گری تھی۔ ہندوستان کے کئی علاقوں میں لوہا نکالنے اور ڈھالنے کی تکنیک دوسری ہزاری قبل مسیح کے ابتدائی دور میں ہی موجود تھی، لیکن لوہے کو عام زندگی کا حصہ بننے میں کچھ صدیاں لگیں۔ دوسری ہزاری قبل مسیح کے اواخر تک، لوہے کے اوزار عام ہو چکے تھے، جس نے بڑے پیمانے پر زراعت کو ممکن بنایا۔ اسی طرح لوہے نے کانسے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہتھیار بھی فراہم کیے، مزید ہلکی اور تیز دھار —تلواریں، نیزے، تیر، ڈھالیں وغیرہ۔ شواہد بتاتے ہیں کہ ہمسایہ مہاجن پدآپس میں کبھی کبھار جنگوں میں بھی ملوث رہے— اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ جنگیں کتنی بار ہوئیں یا کتنی شدّت سے ہوئیں۔ ان ہی فوجی مہمات اور بعض اوقات سمجھوتوں کے نتیجے میں نئی ریاستوں اور سلطنتوں کا وجود عمل میں آیا، جن کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔
ایک اوراختراع پہلی بار ہندوستان میں سکّوں کا استعمال تھا، جو بڑھتی تجارت کے باعث ضروری ہو گیا تھا۔ جلد ہی سکے مختلف علاقوں کے درمیان اور بیرونی دنیا سے بھی تبادلے میں آنے لگے۔ ہندوستان کے ابتدائی سکّے چاندی سے بنے ہوئے تھے،جوایک نرم دھات ہے جس میں علامات ٹھپّہ مارکرثبت کی جا سکتی تھی؛
اس لیے انھیں’ ٹھپّہ دارسکّے‘(Punch-marked Coins)کہا جاتا ہے۔ بعد میں تانبے ،سونےاور دیگر دھاتوں کے سکّےبھی بننے لگے۔ عام طور سے ہر مہا جن پد اپنا سکہ جاری کرتا تھا، لیکن ہمسایہ علاقوں کے سکّے بھی تجارت میں استعمال ہوتے اور تبادلے میں لائے جا تے تھے ۔
آئیے معلوم کریں
درج ذیل جدول کے ہر مربع نما خانے کو ہاں ( صحیح کا نشان ) یا نہیں ( غلط کانشان ) لگاکر پُرکیجیے، جو ہندوستانی تہذیب کے ان دو ادوار کے درمیان دل چسپ تقابل پیش کرتا ہے۔
|
دوسری شہرکاری |
پہلی شہرکاری |
|
|
گنگا کے میدان |
||
|
بودھ خانقاہیں |
||
|
ادب |
||
|
تجارت |
||
|
جنگ |
||
|
تانبا/ کانسہ |
||
|
لوہا |
ورن- ذات کا نظام (The Varṇa–Jāti System)
ہم نے پہلے دیکھا کہ تہذیب کے ارتقا سے انسانی معاشرے کس قدر مزید الجھنوں کا شکارہوجاتے ہیں۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے، تو معاشرہ مختلف گروہوں میں بٹ جاتا ہے۔ کبھی طبقاتی بنیاد پر، کبھی پیشے کی بنیاد پر یا کسی اور معیار پر خود کوطبقے، پیشے یا دیگر معیارات پر مبنی مختلف گروہوں میں منظم کر لیتا ہے ۔ مثلاً، حکمرانی، انتظامیہ، مذہب، تعلیم، تجارت، شہری منصوبہ بندی، زراعت، دست کاری، فنون اور دیگر پیشوں سے وابستہ مختلف گروہ ہوسکتے ہیں۔
شکل4.5: سانچی استوپ کا ایک پینل جس میں ایک لوہارخانہ (دھاتوں کی ورکشاپ) کی منظر کشی کی گئی ہے،جہاں مختلف کاریگر جلانے والی لکڑیاں اور پانی لے کر آتے، آگ کو دھونکتے اور لوہے کو پیٹتےہوئے دکھائے گئے ہیں، وغیرہ ۔
شکل4.6: شمالی ہند کے مختلف قدیم شہروں کے چند ٹھپہ دار سکّے ۔
آئیے معلوم کریں
- ایک پیچیدہ معاشرہ خود کو مختلف گروہوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہیے؟ اس کے ممکنہ عوامل پر غور کیجیے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
- پہلی ہزار ی قبل مسیح کے کسی پیچیدہ معاشرے میں آپ اور کون کون سے پیشے متوقع سمجھتے ہیں؟ ان کی
فہرست بنائیے۔
ایک مثالی معاشرہ میں، وہ تمام گروہ ایک دوسرے کے معاون بنتے اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات، یہ تقسیم نا ہمواریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔کچھ گروہ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دولت، طاقت یا اثر و رسوخ حاصل کر لیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، مساوات ایک ایسا مثالی خواب ہے جس کی انسانوں نے اکثر خواہش کی، لیکن بہت کم معاشروں نے اسے حقیقی طور پر حاصل کیا۔
ہندوستان میں، معاشرہ دو سطحی نظام پر عمل پیرا تھا۔ پہلی سطح جاتی (ذات) کہلاتی تھی، یہ ایک ایسا گروہ یا برادری تھی جس کے لوگ مخصوص پیشے کے ذریعےمعاش سے وابستہ ہوتے تھے۔ کسی خاص جاتی (ذات) کی بنیادی مہارت— جیسے زراعت،دھات گری، تجارت یا کوئی دستکاری— عام طور پر نسل در نسل منتقل ہوتی تھی۔ اکثر ایک جاتی مزید ذیلی جاتیوں (ذاتوں)میں منقسم ہو جاتی تھی، ہر ایک کے اپنے رسم و رواج ہوتے تھے۔ مثلاً شادی،مذہبی رسومات یا کھانے پینے کے طورطریقے۔
جاتی (ذات)کے ساتھ ساتھ ایک اور درجہ بھی تھا جسے ورن کہا جاتا ہے، ایک نظریہ جو ویدک متون سے ماخوذ ہے۔ورن کی چاردرج ذیل اقسام تھیں:
برہمن: علم کو محفوظ رکھنے، پھیلانے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے ذمہ دارتھے۔
چھتریہ: معاشرے اور زمین کے محافظ اور ضرورت پڑنے پر جنگ میں حصہ لینے والے ۔
ویشیہ: تجارت، کاروبار یا زراعت کے ذریعے معاشرے کی دولت میں اضافہ کرنے والے۔
شودر: کاریگر،دست کار، مزدور یا خدمت کرنے والے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
آپ نے انگریزی لفظ ‘ کاسٹ’ (Caste) ضرور سنا ہوگا۔ یہ لفظ دراصل پرتگالی زبان کے لفظ ‘کاستا’ (casta) سے آیا ہے۔ جب پرتگالی مسافر سولہویں صدی عیسوی میں ہندوستان آئے تو انھوں نے ہندوستانی معاشرے کو سمجھنے کی کوشش میں یہ لفظ استعمال کیا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ’کاسٹ‘ورنوں (Varnas)کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ زیادہ تر اسے جاتیوں (Jatis) کے لیے استعمال کرتے ہیں؛ اور کچھ لوگ اسے پورے ورن-جاتی نظام کی طرف اِشارہ مانتے ہیں۔
تاریخی متون اور کتبوں (inscriptions) سے ایسے شواہد ملے ہیں کہ ابتدائی دور میں افراد اور برادریاں حالات کے مطابق اپنا پیشہ تبدیل کر لیا کرتی تھیں۔ مثلاً طویل قحط سالی یا کسی قدرتی آفت کے باعث کسانوں کی کوئی برادری شہرکی طرف ہجرت کرکے کوئی نیا پیشہ اپنا لیتی تھی یا کچھ برہمن تجارت اورکبھی کبھی فوجی خدمات میں بھی شامل ہو جاتے تھے۔ اس پیچیدہ نظام نے ہندوستانی معاشرے کی ساخت طے کی، اس کی اقتصادی سرگرمیوں کو ترتیب دیا اور اس طرح اسے ایک حد تک استحکام بخشا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ نظام سخت تر اور غیر لچک دار بنتا گیا اور نچلی ذاتوں یا ورن-جاتی نظام سے خارج کچھ برادریاں امتیاز اور عدم مساوات کا شکار ہونے لگیں۔اس پہلو کا مطالعہ آپ آگے کی جماعتوں میں کریں گے۔
ورن-جاتی نظام نے ہندوستانی معاشرے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔محققین کی کئی نسلوں نے اس کے بےشمار پہلوؤں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس پر عام اتفاق ہے کہ پچھلے ادوار میں یہ نظام کافی الگ (بالخصوص زیادہ لچک دار ) تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ خصوصاً برطانوی دور حکومت میں یہ سخت تر ہوتا گیا۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگرچہ ورن-جاتی نظام ہندوستانی معاشرے کا ایک اہم سماجی ڈھانچہ تھا، لیکن واحد نظام نہیں تھا؛اس کے علاوہ بھی کئی اور نظام کارفرما تھے جنھیں ہم آگے چل کر ، خاص طور پر ’ہماری ثقافتی وراثت اور علمی روایات‘ جیسے عنوان میں جانیں گے۔
ا س پرغوروفکرکریں
معاشرے میں عدم مساوات کئی شکلوں میں موجود ہو سکتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسا واقعہ دیکھا یا سنا ہے جب آپ کو یا آپ کے کسی شناسا کو دوسروں سے مختلف یا کمتر محسوس کروایا گیا ہو؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کسی معاشرے کے لیے برابری (مساوات) ضروری ہے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ کیا آپ نے کبھی ایسے افراد یا کوششوں کے بارے میں سنا ہے جنھوں نے ان عدم مساوات کو اور غیر برابری کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہو؟
ہندوستان کے دیگر حصوں میں ترقیات
(Developments Elsewhere in India)
پہلی ہزاری قبل مسیح میں، ہندوستان میں تجارتی، مذہبی اور فوجی مہمات وغیرہ کے مقاصد کے لیے اہم مواصلاتی راستے کھلے۔ان میں سے دو راستے اتراپتھ(Uttarapatha)اور دکشنا پتھ(Dakshinapatha) وسیع پیمانے پر استعمال ہوئے اور قدیم ادب میں اکثر ان کا ذکر ملتا ہے: پہلا شمال مغربی علاقوں کو گنگا کے میدانی علاقوں سے جوڑتا تھا اور مشرقی ہندوستان تک جاتا تھا؛ دوسرا کوشامبی (آج کے پریاگ راج کے قریب)، جو اس وقت ایک مہاجن پد کا دارالحکومت تھا، سے شروع ہوکر وندھیہ کے پہاڑی سلسلے کو عبور کرتا ہوا جنوب کی طرف جاتا تھا۔ ہندوستان میں سلطنتوں کی تشکیل کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم ان راستوں کی تفصیل کی طرف دوبارہ آئیں گے ۔
شکل4.7: ششوپال گڑھ (آج کے بھوبنیشور کا ایک مضافاتی علاقہ، جس کی کھدائی سب سے پہلے 1948 میں ہوئی) : شہر میں داخلے کا ایک دروازہ، جو قلعہ بند دیواروں سے گھرا ہوا ہے؛ دروازے کے باہر خندق (Moat) میں پانی بھرا ہوا نظر آ رہا ہے۔واضح رہے کہ دروازے کو جان بوجھ کر تنگ بنایا گیا تھا تاکہ لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کو قابو میں رکھا جا سکے۔
کئی ذیلی راستے بھی ہندوستان کے دیگر حصوں کوجوڑتے تھے، خاص طور پر مغربی اور مشرقی ساحلوں کی اہم بندرگاہوں کو جو اس وقت تجارت کے نہایت سرگرم مراکز بن چکے تھے۔ مشرقی علاقے میں کئی اہم شہروں کا ظہور ہوا جیسے کہ ششوپال گڑھ (آج کا سسوپال گڑھ جو بھوبنیشور کا حصہ ہے)، جو کلنگ علاقے کا دارالحکومت تھا اور شہر ایک مربع نما نقشے کے مطابق بنایا گیا تھا، جس کی مضبوط قلعہ بندی کی گئی تھی اور جہاں کشادہ سڑکیں تھیں۔
برصغیر کے جنوبی علاقوں میں تقریباً 400 قبل مسیح سے شہر بننے لگے، اگرچہ حالیہ کھدائیوں سے اس سے بھی پرانے تجارتی سرگرمیوں کے آثار ملنے کے دعوے کیے گئےہیں۔اسی زمانے میں تین بڑی سلطنتیں وجود میں آئیں — چول،چیر اور پانڈیا ۔
شکل4.8: وقوعی ترتیب کاخاکہ، 1900 قبل مسیح سے 300 قبل مسیح تک
شکل4.9:کوڈومنال (ایروڈ کے قریب، تمل ناڈو) کے مقام پر صدف اور قیمتی پتھروں کی صنعتیں
آثارِ قدیمہ کے شواہدکے علاوہ، سب سے قدیم تمل ادب میں بھی ان بادشاہتوں اور ان کے کئی بادشاہوں کا ذکر ملتا ہے۔
چوں کہ جنوبی علاقے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں، سونے اور مسالہ جات جیسے وسائل سے مالا مال تھے، اس لیے وہاں کی ریاستوں نے نہ صرف باقی ہندوستان کے بلکہ بیرونی سلطنتوں اور سامراجوں کے ساتھ بھی منافع بخش تجارت کی۔
تقریباً 300 یا 200 قبل مسیح تک، پورا برصغیر بشمول شمال مشرقی علاقے،آپس میں جڑکر ایک مربوط اور متحرک خطہ بن چکا تھا۔ اشیا اور ثقافت ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہوتیں اور اکثر ہندوستان سے باہر وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا تک بھی پہنچ جاتی تھیں۔
اُسی زمانے میں، مہاجن پدوں کے وجود ختم ہونے لگے اور ان کی جگہ نئی ترقیات نے لے لی، جنھوں نے ہندوستان کو نئی شکل دی۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
- دوسری ہزاری قبل مسیح کے اختتام پرشمالی اور وسطی ہندوستان کے کچھ حصوں میں جَن پَدوںکا عروج ہوا ۔ یہ چھوٹی ریاستیں تھیں جن کی سربراہی کوئی راجہ کرتا تھا، راجہ تجربہ کار داناؤں کی مجلس (سبھا)سے مشورہ لیتا تھا۔
- پہلی ہزاری قبل مسیح میں 16مہا جن پدوجود میں آئے۔یہ ہندوستان کی اولین منظم ریاستیں تھیں جو دوسری شہرکاری (Second Urbanisation)کیگواہ تھیں، یہ عمل گنگا کے میدان سے شروع ہوکر پورے ہندوستان حتی کہ جنوب تک پھیل گیا۔ تقریباً 300 قبل مسیح یا اس کے آس پاس یہ مہاجن پدختم ہو گئے۔
- اسی زمانے میں، سڑکوں کا ایک وسیع جال بچھ گیا جو شمال وجنوب اور مشرق و مغرب کو جوڑتا تھا۔ان ہی راستوں پر افراد، اشیا، افکار اور تعلیمات کا تبادلہ ہوتارہا۔
سوالات اور سرگرمیاں
- باب کے آغاز میں دیے گئےکوٹلیہ کےقول کو غور سے پڑھیے اور مختلف گروپوں میں اس پر تبادلۂ خیال کیجیے۔ اپنے مشاہدات اور نتائج کا موازنہ کیجیےکہ کوٹلیہ نے کسی سلطنت کے لیے کیا سفارشات کی ہیں۔ کیا یہ آج کے حالات سے بہت مختلف ہیں؟
- متن کے مطابق، ابتدائی ویدک معاشرے میں حکمراں کیسے منتخب کیے جاتے تھے؟
- تصور کیجیے کہ آپ ایک مؤرخ ہیں جو قدیم ہندوستان کا مطالعہ کر رہا ہے۔ آپ مہاجن پدوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کن اقسام کے ذرائع (آثارِ قدیمہ،ادب، وغیرہ) کا استعمال کریں گے؟ وضاحت کیجیے کہ ہر ذریعہ آپ کی سمجھ میں کس طرح مدد گار ہوسکتا ہے۔
- پہلی ہزاری قبل مسیح میں شہرکاری کے لیے لوہے کی دھات کاری (Iron Metallurgy)کیوں اتنی اہم تھی؟ آپ اس باب سے اخذ کیے گئے نکات ہی نہیں بلکہ اپنے علم یا تخیل کو بھی کام میں لا سکتے ہیں۔