Skip to content
Qr






باب 5
سلطنتوں کا عروج (The Rise of Empires)


عوام کے بغیر کوئی ملک نہیں بن سکتا اور ملک کے بغیر کسی حکومت کا تصور ممکن نہیں۔

—’ارتھ شاستر‘ از کوٹلیہ

شکل5.1: بہار میں واقع برابرکی پہاڑی میں چٹانوں کو تراش کر بنایا گیا ایک غار

dreamstime_xxl_285811509

اہم سوالات

  1. سلطنت کیا ہے؟
  2. سلطنتوں کا عروج کیسے ہوا اور انھوں نےہندوستانی تہذیب کو کس طرح شکل عطا کی؟
  3. مملکتوں سے سلطنتوں تک کی تبدیلی میں کون سے عوامل مددگار بنے؟
  4. چھٹی سے دوسری صدی ق م میں زندگی کیسی تھی؟
1_-_Patliputra_spread

شکل 5.2 : پاٹلی پتر (موجودہ پٹنہ کے قریب واقع قدیم شہر) کی ایک فن کارانہ عکاسی


1_-_Time_machine_kid

بھویشا اوردھرو بے حد پُر جوش تھے؛ انھوں نے ابھی اپنا نیا آلہ ’اتہاس‘کو فعال کیا تھا۔یہ ایک ایسی ٹائم مشین تھی جو انھیں ماضی کے سفر پر لے جاسکتی تھی!اپنے تاریخ کے اسباق سے اشارہ پاکرانھوں نے پہلے سفر کے لیے پاٹلی پتر کی سیر کرنے کا فیصلہ کیا وہ جانتے تھے کہ پاٹلی پتر تقریباً اُسی جگہ پر تھا جہاں آج کے زمانے کا پٹنہ واقع ہے۔

اس عظیم شہر کے مضافات میں اترتے ہی،وہ ابھی ذرا چکرائے ہوئے تھے کہ انھوں نے گھوڑے پر سوار عجیب سے کپڑے پہنے ہوئے ایک لڑکی کو کسی شخص سےبات کرتے دیکھا۔جب وہ چلا گیا تو وہ لڑکی اُن کی طرف مڑی اور اُن دونوں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔

’’میرا نام ایرا ہے — میں کانہاداس لوہار کی بیٹی ہوں، تم دونوں کا پاٹلی پتر میں خیرمقدم ہے!“

’’تم سے مل کرخوشی ہوئی، ایرا۔ ہم دونوں بھویشا اور دھرو ہیں۔‘‘

’’ہشش، اپنی آواز دھیمی رکھو! کیا اُن سپاہیوں کو گزرتے ہوئے دیکھ رہے ہو؟ وہ ایک پڑوسی ملک کے خلاف لڑنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں جو ہمیں پریشان کرتا رہا ہے۔ہمارا راجا ممکنہ حد تک جنگ کرنے سے بچتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پروہ اپنی رعایا کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ان کے پاس جو تلواریں ہیں، ان میں سے اکثر میرے والد نے تیار کی ہیں اورمیرے چچا اس گروہ کے سپاہیوں میں سے ہیں۔ میں بس اُنھیں رخصت ہی کرنے آئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کب واپس آئیں گے۔‘‘

Strong_military

شکل5.3

(مجمع سپاہیوں کے شاندار جلوس کو دیکھ رہاہے جو شہر سے نکل کر مضبوط اُٹھواں پل کو عبور کررہا ہے۔ کچھ سپاہی گھوڑے پر سوار ہیں اورفوج کا سردار ہاتھی پر ہے،تبھی تینوں بچے شہر میں داخل ہونے کے لیے اُسی اُٹھواں پل کو پار کرتے ہیں۔)

بھویشا نے پوچھا،’’ یہ کس طرح کا پل ہے اور کیا اس کے نیچے کوئی ندی بھی ہے؟“

‘‘ایرا نے وضاحت کی،’’ یہ پل ہمیں محفوظ رکھتا ہے۔ جب بھی شہر پر حملے کا خطرہ ہوتا ہے تو اسے اٹھا دیا جاتا ہے۔ اور سنو، اس کے نیچے کوئی ندی نہیں ہے بلکہ یہ ایک خندق ہے۔ جب اس اُٹھواں پل کو اوپر اٹھا دیا جاتا ہے تو اس سے قلعے کے قریب پہنچنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ کیا تم دور کی اُن پہاڑیوں اور جنگلوں کو دیکھ سکتے ہو؟ وہ ہمیں لکڑی، جڑی بوٹیاں اور کئی دیگر قیمتی وسائل فراہم کرتے ہیں۔فوج کے لیے ہاتھی بھی انہی جنگلوں سے پکڑ کر سَدھائے جاتے ہیں۔‘‘

دُھرو نے پوچھا،’’اُس پہاڑی میں کھلا ہوا دَہانہ کیا ہے؟‘‘ ۔

’’وہ ایک غار ہے ۔ ہمارا راجا بھکشوؤں کے ایک گروہ کے لیے اُسے کھدوا رہا ہے۔ جب وہ مکمل ہوجائے گا، تو اُمید ہے کہ ہم اُسے دیکھنے جا سکیں گے!‘‘

(پاٹلی پتر میں آگے بڑھتے ہوئے انھوں نے شہر کی شان و شوکت کو حیرت و استعجاب سے دیکھا۔اونچی لکڑی کی فصیلوں پر نگرانی کے برج، شاندار محلات اور عمارتیں اور بارونق بازار۔ایرا نے ایک پُرہجوم بازار کی طرف اشارہ کیا، جہاں مختلف ملکوں کے تاجروں کی بھرمار تھی۔)

’’جانے سے پہلے تم یہاں کا صدربازار ضرور دیکھنا! ہمارا راجا دنیا بھر کے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔یہاں تمھیں چین کا ریشم ملے گا، جنوبی ہند کے مسالے اور جواہرات، مختلف علاقوں کے نفیس کپڑے سبھی کچھ یہاں ملیں گے۔ایسی کوئی چیز نہیں جو تمھیں پاٹلی پتر میں نہ ملے!‘‘

دھرو نے پوچھا،’’وہ لوگ وہاں پر کیا کررہے ہیں ؟ ‘‘۔

’’اوہ! یہ پیشہ ور کرتب باز ہیں۔ یہ انسانی اہرام بناتے ہیں، گاتے اور ناچتے ہیں یا لوگوں کا دل بہلانے کے لیے مختصر ناٹک کھیلتے ہیں۔بعض اوقات وہ راجا کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘

بھویشا نے کہا،’’ تمھارا راجا بہت طاقت ور لگتا ہے۔ کیا صرف پاٹلی پتر کے اطراف کے علاقےپرہی اُس کی حکومت ہے؟‘‘

ایرا نے فخر سے جواب دیا، ’’اُس سے کہیں زیادہ !وہ ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتا ہے۔جو اس شہر سے بہت دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔اُس کا اقتدار بہت سے قریوں، قصبوں اورمملکتوں پر محیط ہے۔میرے چچا نے مجھے بتایا کہ اس کے علاقے کی سرحدوں تک پہنچنے میں گھوڑے پر سوار ہوکر تقریباً دوماہ سفرکرنا پڑتا ہے!‘‘

’’ یہ تو کسی مملکت سے کہیں زیادہ بڑا لگتا ہے۔۔۔تم اُسے کیا کہتی ہو؟‘‘

ایرا نےفخریہ لہجے میں کہا،’’اسے سلطنت کہتے ہیں۔‘‘

سلطنت کیا ہے؟ (What is an Empire)

لفظ‘امپائر’(Empire)یعنی سلطنت لاطینی لفظ ‘امپیریم’(Imperium) سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے’اعلیٰ ترین اقتدار‘۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ سلطنت نسبتاً چھوٹی مملکتوں یا علاقوں کا مجموعہ ہے جس پر کوئی طاقت ورحکمراں یا حکمرانوں کاایک گروہ اپنی بالادستی قائم کرتا ہے۔ اکثر یہ بالا دستی چھوٹی مملکتوں کے خلاف فوج کشی کرکے قائم کی جاتی ہے۔ پھر بھی چھوٹی ریاستوں کے اپنےمقامی حکمراں تو باقی رہتے تھے لیکن وہ سب خراج گزار(Tributaries) بن کر رہتے تھے اور شہنشاہ پورے زیر اقتدار علاقے پر اپنی راجدھانی سے حکومت کرتا تھا ۔ راجدھانی عموماً اقتصادی اور انتظامی طاقت کا بڑا مرکز ہوتی تھی۔

قدیم سنسکرت متون میں شہنشاہ (Emperor) کے لیے استعمال ہونے والے کئی الفاظ ملتے ہیں جیسے، ‘سمراج’ بمعنی ‘سب کا آقا’، یا ‘عظیم ترین حکمراں’؛ ‘ادھیراج’، یعنی’ حاکم ِبالا‘؛ اور راجا دھیراج’ یعنی ’راجاؤں کا راجا‘۔

ہندوستانی تاریخ سلطنتوں سے بھری پڑی ہے ۔وہ ابھرتی تھیں، پھیلتی تھیں، کچھ عرصے تک قائم رہتی تھیں، پھر زوال پذیر ہو کر ختم ہو جاتی تھیں۔ درحقیقت برصغیر پر حکومت کرنے والی آخری سلطنت کو ختم ہوئے ابھی ایک صدی بھی پوری نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ابھی اس کہانی کوبیان کرنے کا وقت نہیں ہے۔ہم اپنی کہانی کی ابتدا بہت قدیم زمانے سے کریں گے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ کس طرح سلطنتیں وجود میں آئیں، انھوں نے ماضی بعید میں کس طرح نیا کام انجام دیا اور ہندوستانی سیاست، معیشت، سماج اور ثقافت کے ارتقاپر کس طرح گہرے اثرات مرتب کیے۔

خراج گزار(Tributary):

ہمارے سیاق میں خراج گزار سے مراد وہ حکمراں یا ریاست ہے جس نے کسی شہنشاہ کی بالادستی قبول کی ہو اور جو شکست، وفاداری اور احترام کی علامت کے طور پر خراج یعنی پیسہ، سونا (یا دیگر قیمتی دھاتیں)، اناج، مویشی،ہاتھی یا اپنی مملکت میں پیدا ہونے والی دیگر قیمتی اشیا پیش کرتے ہیں۔ خراج گزار کی حیثیت کو بعض اوقات تابع اسامی (Vassal )بھی کہا جاتا ہے اوراس مفہوم کو ادا کرنے کا ایک اور طریقہ یہ کہنا ہے کہ خراج گزاراورتابع اسامی مملکتوں نے شہنشاہ کی بالادستی کو تسلیم کیاہے۔

سلطنت کےنمایاں پہلو

Screenshot 2026-01-30 at 12-17-33 gues105.pdf

آئیے معلوم کریں

  • سلطنتیں وسیع علاقوں پر پھیلی ہوتی تھیں اوراُن میں مختلف زبانوں ، رسوم و رواج اور ثقافتوں کے حامل طرح طرح کے افراد رہتے تھے۔آپ کے خیال میں شہنشاہوں نے ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کو کیسے ممکن بنایا؟ مختلف گروپ بناکر بات چیت کریں اور کلاس کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔
  • سلطنت کا انتظام سنبھالنے میں پیش آنے والے کئی مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود بادشاہ اپنی ریاست کو وسعت دے کر سلطنت بنانے اور خود کو شہنشاہ بنانے کے خواہاں کیوں رہتے تھے؟ یہاں کچھ ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں؛یہ دیکھیں کہ کیا آپ مزیدکچھ جوابات کےبارے میں سوچ سکتے ہیں:
  • وری دنیا پر حکومت’کرنے کی شدید خواہش۔ وسیع علاقوں پرقبضہ کرنے کا ایک استعارہ اوریہ یقینی بنانا کہ آئندہ نسلیں اُنھیں یادکریں گی۔
  • وسیع علاقوں کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش تاکہ اُن کے وسائل تک رسائی حاصل کرکے معاشی اور فوجی طاقت بڑھائی جا سکے۔
  • خود اپنے لیے اور سلطنت کے لیے بے پناہ دولت حاصل کرنے کی خواہش۔

آئندہ نسلیں (Posterity):

آنے والی نسلیں جو اپنے سابقہ دور کے لوگوں کے اعمال ،افکار اور ورثے کی وارث ہوتی ہیں۔

شہنشاہ عموماًخراج اوروفاداری کے بدلےعلاقائی راجاؤں یا سرداروں کو اپنے اپنےعلاقوں پر حکومت جاری رکھنےکی اجازت دیتا تھا۔

2_-_Strong_and_trained_armies

شکل5.4.1: تربیت یافتہ فوجیں ہمسایہ ریاستوں کو فتح کرنے، اُن پر قبضہ برقرار رکھنے اور سلطنت کی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے تعینات کی جاتی تھیں۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-11-43 gues105.pdf

شکل5.4.2:جنگی اہمیت کے حامل مقامات مثلاً سلطنت کی سرحدوں پرفصیل بند چوکیاں تعمیر کی جاتی تھیں۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-11-49 gues105.pdf

شکل5.4.3: سلطنت میں توسیع کے لیے کوئی مملکت سب سے پہلے اپنے ہمسایہ ریاستوں/علاقوں پر جنگ مسلط کرکے انھیں فتح کرتی تھی۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-11-53 gues105.pdf

شکل5.4.4: حکمراں دریاؤں اور تجارتی نظاموں پر قابو پانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ اس تجارت سے حاصل ہونے والےٹیکس (محصولات) کے علاوہ قیمتی وسائل پر بھی اُن کا تسلط قائم ہو۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-11-59 gues105.pdf

شکل5.4.5: جب کئی چھوٹی مملکتیں باہمی تسلط کے لیے برسرپیکار ہوتیں تو جس کے پاس زیادہ طاقت ور فوجی قوت اور اضافی وسائل ہوتے وہ بالآخرسب کا سردار(Overlord)بن جاتا۔

آئیے معلوم کریں

آپ کے خیال میں جنگی مہارت کے علاوہ دیگر ایسےکون سے طریقے تھے جن کا استعمال حکمرانوں نے اپنی سلطنتوں کی توسیع کے لیے کیا ہوگا؟ اپنے خیالات تحریر کیجیے اور اپنی کلاس کو بتائیے۔

تجارت، تجارتی راستے اور تاجروں کی انجمنیں

(Trade, trade routes and Guilds)

فوجی مہمات کو انجام دینا خصوصاً دور دراز کے ملکوں میں اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہ ہمیں لگتا ہے۔ فوج کا خرچ برداشت کرناایک مہنگا کام ہے۔ سپاہیوں کو خوراک، لباس، اسلحہ اورتنخواہ دینی پڑتی ہے۔ ہاتھیوں اور گھوڑوں کی نگہ داشت کرنی ہوتی ہے۔ سڑکیں اور جہاز وغیرہ تعمیر کرنے ہوتے ہیں۔ان سب کے لیے کافی بڑی معاشی طاقت، افرادی قوت پر اختیار اور وسائل تک رسائی درکار ہوتی ہے۔

اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ معاشی سرگرمیاں خصوصاً پیداوار اور تجارت کسی سلطنت کو چلانے اور عوام کی بہبود اور معیارِ زندگی کی ضمانت کی کلیدوں میں سے ہے،جن سے کسی اچھے حکمراں کا سروکار ہونا چاہیے۔ اس لیے پوری سلطنت کے اندر اور اس سے آگے بھی تجارتی راستوں کا قیام اور اُن کی دیکھ بھال بہت ضروری ہو جاتی ہے۔ اس طرح مالِ تجارت کی مقدار اور معیار دونوں میں بہتری آئے گی ۔زیادہ تجارت کا مطلب ہے پیدا کاروں کی آمدنی میں اضافہ اور حکمراں کے لیے ٹیکس کی وصولی کے زیادہ مواقع ۔

اب قدیم ہندوستان کےحالات کی طرف واپس آئیے۔اس زمانے میں تجارت کے سامان کون کون سے رہےہوں گے؟کم ازکم ،ادب اور آثارقدیمہ کی کھدائیوں سے اس کے بارے میں کافی شواہد ملے ہیں۔ کپڑے، مسالے، زرعی پیداوار،تعیش کےسامان مثلاً جواہرات اور دست کاری کی مصنوعات اور مختلف جانور تجارت کی اہم چیز یں تھیں۔ یہ ساری رواں دواں تجارت صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ بہت سی ہندوستانی اشیا خشکی اورپانی کے راستوں سے دور دراز کے ممالک میں بھی بھیجی جاتی تھیں۔

اکثر ایسا نہیں ہوتا تھا کہ تاجرالگ الگ اپنا کاروبار کریں۔ اُنھوں نے جلد ہی طاقت ور گروہوں میں شرکت اورتاجروں کی انجمنوں’گلڈ‘(Guild)کی تشکیل کے فوائد کو سمجھ لیا۔ گلڈتاجروں، حرفت کاروں،مہاجنوں یا کاشت کاروں کی بااختیار انجمنیں تھیں۔ دست یاب ثبوتوں سے معلوم ہوا ہے کہ گلڈکاایک سربراہ ہوتا تھا (جسے عموماً منتخب کیا جاتا تھا)۔ اس کے ساتھ عاملین یا منتظمین ہوتے تھے جن میں تمام اخلاقی صفات ہونے کی توقع کی جاتی تھی۔

Screenshot 2026-01-30 at 12-24-21 gues105.pdf

شکل5.5: 500 ق م اور اُس کے بعدکے کچھ اہم تجارتی راستے اوراُن پر موجود بڑے شہروں کو ظاہر کرنے والا نقشہ۔ اتراپتھ اور
دکشنا پتھ کے راستوں کو نمایاں کیا گیا ہے، اس پر توجہ دیجیے۔

تاجروں کی انجمن کی دو خاص باتوں کی وجہ سے ان کو ایک اہم ادارے کی حیثیت حاصل ہوئی۔پہلی بات یہ کہ انھوں نے ایسے لوگوں کو متحد کیا جو آئندہ مسابقت کارکے بجائے شراکت دار ثابت ہوئے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ وسائل ،منڈیوں کی معلومات ، رسد و طلب اور افرادی قوت کے بارے میں معلومات کے اشتراک میں ہرشخص کا فائدہ ہے ۔ ایک قدیم تصنیف میں کہاگیاہے ’’کاشت کار، تاجر، گلہ بان، صرّاف اور حِرفت کاراپنی اپنی برادریوں کے لیے ضابطے مقرر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں‘‘؛ دوسرے الفاظ میں تاجروں کی انجمنوں کو اپنے داخلی ضابطے تشکیل دینے کا اختیارحاصل تھا اور بادشاہ اُن میں مداخلت نہیں کرتا تھا (اور وہ کیوں مداخلت کرتا جب تجارت پھل پھول رہی ہو؟ )۔

تاجروں کی انجمنیں ہندوستان کے بڑے حصے میں پھیل گئی تھیں اور وہ صدیوں تک قائم رہیں۔ گرچہ وہ باضابطہ طور پر ختم ہوگئیں ،لیکن اس کے بعد بھی اس کا اصول ہندوستان کی تجارت اور کاروبار کی سرگرمیوں کو تادیر متاثر کرتا رہا۔ بعض صورتوں میں تو اب بھی کررہا ہے۔تاجروں کی انجمنوں کا ادارہ ہندوستانی معاشرے کی خود تنظیمی صلاحیتوں کی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔اسی طرح مختلف کمیٹیوں اور پنچایتوں پر مشتمل قدیم دیہی نظام بھی اس کی ایک اور مثال ہے۔ایک روشن خیال حکمراں لوگوں کو منظم ہونے کا موقع دیتا تھا اور اگر مقامی ادارے اطمینان بخش طور پر کام کررہے ہوتے تو اس میں مداخلت سے گریز کرتا تھا۔

آئیے معلوم کریں

  • تجارتی راستوں کے نقشے کا مشاہدہ کیجیے۔ اُن جغرافیائی اوصاف کی نشان دہی کیجیے جن سے تاجروں کو پورے برصغیر میں سفر کرنے میں مدد ملتی تھی۔

آپ کے خیال میں اُس وقت اُن سڑکوں پر آمدورفت کے کون کون سے ذرائع دست یاب تھے؟

مگدھ کا عروج (The Rise of Magadha)

چھٹی اور چوتھی صدی ق م کا درمیانی وقفہ شمالی ہند میں نمایاں تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔اس سے پہلے ہم نے 14مہاجن پدوں کا مختصراً جائزہ لیا جو مشاورتی نظام والی شمالی اور وسطی ہند کی بڑی ریاستیں تھیں۔اُن میں سے ایک ریاست مگدھ( موجودہ جنوبی بہار اوراس سے متصل علاقے) رفتہ رفتہ نمایاں ہوئی اور اس نے ہندوستان کی پہلی سلطنت قائم کرنے کے لیے کئی ریاستوں کی شمولیت کے لیے زمین ہموار کی۔ ابتدائی طاقت ور حکمرانوں میں سے اجات شترونے مگدھ کو اقتدار کے نمایاں مرکز کے طور پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

دنیا کی دو مشہور ترین مذہبی ہستیوں — سدھارتھ گوتم جوبعد میں بدھ کہلائے اوروردھمان جو مہاویر کے نام سے مشہور ہوئے — نے راجا اجات شتروکا زمانہ پایا۔گریڈ 6 کی درسی کتاب کےباب ’ہندوستان کی ثقافتی جڑیں‘ میں اُن کی تعلیمات پر دوبارہ نظر ڈالیے۔

مگدھ وسائل سے بھرپور گنگا کے میدانی علاقوں میں واقع تھا جس میں زرخیز زمین،لکڑی کے لیے گھنے اور وسیع جنگلات اور ہاتھی کثرت سے پائے جاتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ لوہے کے استعمال سے کس طرح دیگر ٹکنالوجی جیسے زراعت اورفن ِحرب میں انقلابی تبدیلی آئی تھی۔ قریب ہی کے پہاڑی علاقوں سےدست یاب لوہےکی کچ دھات اور دیگر معدنی ذخائر مملکت کی توسیع کے لیے اہم ثابت ہوئے۔زمین جوتنے کے لیے لوہے کے ہل کے استعمال نے زرعی پیداوار میں اِضافہ کیا اور زیادہ ہلکے اورتیز دھار لوہے کے بہترہتھیاروں نے فوج کی صلاحیتوں کو مزید طاقت ور بنایا۔

war-over-the-buddhas-relics-sanchi-8565

شکل5.6: سانچی استوپ پر بنایا گیا ایک شان دار پینل جس میں سپاہیوں کو ہاتھیوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اور پیدل چلتے ہوئے شمالی ہند کے ایک شہر کُشی نارا (موجودہ کشی نگر) کا محاصرہ کرکے اس پر حملہ کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے تاکہ مہاتما بدھ کی مقدس باقیات کو دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔(پینل کےدائیں حصے میں ایک ہاتھی پر انھیں لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔)

آئیے معلوم کریں

  • اوپر د یےگئے پینلکو غورسے دیکھیے۔آپ کتنی طرح کے ہتھیاروں کو پہچان سکتے ہیں؟ آپ لوہے کےاستعمال کے کتنےطریقوں کو سمجھ سکتے ہیں؟
  • پینل کےبائیں حصّے میں بدھ کی مقدس باقیات والے صندوق پر ایک پرسول(چھتر)رکھاہوا ہے۔آپ کےخیال میں ایسا کیوں کیا گیا ہوگا؟

غذائی اجناس کی وافرپیداوارنے لوگوں کوفنون لطیفہ اور دست کاری پر توجہ مرکوز کرنے کامزیدموقع دیا جن کی مانگ سلطنت کی سرحدوں کے اندر اور باہر دونوں طرف تھی۔ گنگا اورسون ندیوں نے تجارت کے لیے جغرافیائی سہولت فراہم کی کیوں کہ یہ نقل و حمل کا ذریعہ تھیں۔ تیزی سے بڑھتی تجارت نے سلطنت کی آمدنی میں زبردست اِضافہ کیا اورمگدھ کےعروج میں اہم کردار ادا کیا۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-13-30 gues105.pdf

شکل5.7: مہاپدم نند کے دور کا چاندی سے بنا ایک ٹھپہ دار سکہ

پانچویں صدی ق م کے آس پاس مہاپدم نند مگدھ میں طاقت ور بن کر ابھرا اورنند سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اُس نے کامیابی کے ساتھ کئی چھوٹی مملکتوں کو یک جا کر کے مشرقی اور شمالی ہندکےبڑے حصّے تک اپنی سلطنت کو پھیلایا۔ جوں جوں معیشت ترقی کرتی گئی، وہ سکے جاری کرتاگیا جو ان کی اقتصادی طاقت کامظاہرہ تھا۔یونانی تحریروں سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہےکہ نند سلطنت کے پاس ایک بڑی فوج تھی۔

نند سلطنت کے بارے میں مختلف بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ اس کا آخری شہنشاہ دھنانند بہت امیر ہونےکےباوجود حددرجہ غیرمقبول رہا کیوں کہ اُس نے اپنی رعایا پرظلم کیا اوراُن کا استحصال کیا۔اس پس منظر نے نندسلطنت کے خاتمے کی راہ ہموارکی اوروہ ہندوستان کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک یعنی موریہ سلطنت کے قبضے میں آگئی۔

سوتر(Sutras):

سوترمختصرمگر نہایت بامعنی فقروں کو کہتے ہیں جو علم اور اہم خیالات (قدیم ہندوستانی متون سے)کو ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ انھیں یاد رکھنا اور آگے منتقل کرنا آسان ہو۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

مشہور سنسکرت ماہرلسانیات پانینی نےتقریباً پانچویں صدی ق م میں نندحکمرانوں کا زمانہ پایا۔ وہ اپنی عظیم تصنیف اشٹ ادھیائی کے لیے معروف ہیں جس میں3996 مختصرسوتروں میں سنسکرت قواعد کے ضابطے درج ہیں۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-17-07 gues105.pdf

شکل5.8 : پانینی کی یاد میں جاری کردہ انڈیا پوسٹ کا ڈاک ٹکٹ۔

یونانیوں کی آمد (The Arrival of the Greeks)

جب برصغیر ہند کے مشرقی حصے میں واقع مگدھ کی سلطنت کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے،تو اس وقت شمال مغربی علاقے میں کیا ہورہا تھا؟ یہ خطہ ایک قدیم راستے کے قریب واقع تھا، جو ہندوستان کو بحیرۂ روم (Mediterranean)کےعلاقے سے جوڑتا تھا ۔یہاں کئی چھوٹی مملکتوں کا وجود تھا ۔ یونانی تذکروں کے مطابق ان ریاستوں میں ایک معروف خاندان پَورَوکی بھی حکومت تھی ،جس کا راجا پورس مشہور ہوا۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-36-53 gues105.pdf

334 تا 331

ق م

مقدونیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان اور طاقت ور یونانی بادشاہ سکندر نے فارسی سلطنت کے خلاف مہم چلائی تاکہ یونان پر فارسی حملوں کا بدلہ لے سکے۔(ان حملوں میں شمال مغربی ہندوستان کے کچھ سپاہی ،جو اس وقت فارسی سلطنت کے زیر نگیں تھے، یونانیوں کے خلاف لڑے تھے)۔ سکندر نے سلطنت فارس کو فتح کر لیا اور یوں یونانی ثقافت کا اثر وسیع ہوگیا۔ اس کی سلطنت اب تین براعظموں پر پھیل گئی ، جو عالمی تاریخ کی سب سے بڑی سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

سترپ (Satrap) ایرانی اوریونانی ریاستوں کے صوبے دارکو کہا جاتا تھا،جنھیں حاکم بالا(مثلاً سکندر) نے دوردراز کے علاقوں کا انتظام سنبھالنے کےلیے مقرر کیا تھا۔ ان سترپوں کو حکمرانوں کا محض افسر ہونے کے باوجود بہت زیادہ طاقت اور خود مختاری حاصل تھی۔ کیا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ آخر کس طرح وہ اتنے بااختیار بن جاتے تھے؟

اس پر غوروفکرکریں

آپ کے خیال میں سکندر پوری دنیا پر حکومت کیوں کرنا چاہتا تھا؟ اس سے اسے کیاحاصل ہو سکتا تھا؟

آئیے معلوم کریں

جنگ کے بعد جب سکندر نے پورس سے پوچھا کہ وہ کیسا سلوک چاہتا ہے تو پورس نے جواب دیا ’بادشاہ جیسا‘۔ تب سکندر نے پورس کو ان کی ریاست کا سربراہ ر ہنے دیا لیکن بطور سترپ اپنےاساتذہ کی مدد سے پورس اور سکندر کے درمیان ہوئی جنگ کی مزید تفصیلات تلاش کیجیے ۔آپ نے کیا سمجھا ؟یہ بتانے کے علاوہ اپنے تخیل سے کام لیتے ہوئے جنگ کے اس منظرکو ایک ڈرامے کی صورت میں پیش کریں۔


اسی دوران فارس (ایران) میں سکندرکو بغاوتوں اور سیاسی انتشار کا سامناکرنا پڑا۔ وہ بابل میں صرف 32 برس کی عمر میں بیمار ہو کر مرگیا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کی وسیع سلطنت جلدہی اس کے فوجی جرنیلوں اور صوبے داروں(Satraps) میں تقسیم ہوگئی جنھوں نے اپنی اپنی مملکتیں قائم کر لیں۔

327 تا 325

ق م

324 تا 323

ق م

’’دنیا کے آخری سرے‘‘تک پہنچنے کاآرزومندسکندرمزید مشرق کی طرف بڑھتا گیا اور اپنی مہم کو ہندوستان تک لاتے ہوئے اس نے پنجاب میں پورس کو شکست دی اور مقامی قبائل کی شدید مزاحمت کا سامنا کیا۔اس دوران اس نےکئی شہروں کی آبادی کا قتل عام کیا۔یونانی تحریروں میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’بعض جنگوں میں عورتیں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ لڑیں۔‘‘ایک لڑائی میں سکندر خود زخمی ہوگیا تھا۔تھکے ہارے گھر کی یاد سے نڈھال اس کے سپاہیوں نے لڑنے کا حوصلہ چھوڑدیا اور ہندوستان کے اندرونی حصّوں کی طرف دریائے گنگا کی سمت جانے سے انکار کردیا۔بالآخرسکندر اپنی فوج کے ایک حصے کے ساتھ واپسی کے سفر پر روانہ ہوا۔ لیکن یہ سفر جنوب کے ساحلی راستے اور ایران کے سخت ریگستانی علاقوں سے گزر رہا تھا ،جہاں اس کے فوجیوں کو بھوک، پیاس اور بیماریوں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

سکندر اوربیراگیوں کا مکالمہ (Alexander’s Dialogue with the Gymnosophists)

سکندرکوہندوستانی بیراگیوں کے ایک گروہ کے بارے میں معلوم ہواجنھیں یونانی’جِمنوسوفسٹ‘ (Gymnosophists) یعنی ’برہنہ فلسفی ‘کہتےتھے (شایداس وجہ سے کہ وہ بہت کم لباس پہنتے تھے)۔
یہ رشی اپنی دانائی اور حکمت کے لیے مشہور تھے۔سکندر نے پہیلی نما پیچیدہ سوالات پوچھ کراُنھیں آزمایا اور دھمکی دی کہ غلط جواب دینے والوں کو موت کی سزا ملے گی ۔لیکن اُن سادھوؤں نے اُس کے سوالوں کے جواب پُرسکون انداز میں اور ذہانت سے دیے۔سکندر اس سے بہت متاثر ہوا اور آخرکار سبھی کو چھوڑ دیا۔کئی صدیوں سے یہ کہانی مختلف انداز میں دہرائی گئی ہے اوریہ تاریخ کے سب سے دل چسپ مکالمات میں شمار ہوتا ہے۔

ایک بیان کے مطابق سکندر نے سوال کیا کہ ’’کون زیادہ طاقت ور ہے، زندگی یا موت؟‘‘ ایک بیراگی نےجواب دیا ’’زندگی ،کیوں کہ یہ باقی رہتی ہے اور موت نہیں ۔‘‘ اس کے بعد سکندر نے پوچھا ،” انسان کو سب سے زیادہ محبوب کیسےبنایا جاسکتا ہے۔“ جواب ملا:’’ اگروہ طاقت ور ترین ہو پھربھی لوگوں کوخوف زدہ نہ کرے۔‘‘ یہ جواب شاید عظیم فاتح کے لیے ایک نرم سا اشارہ بھی تھا۔

مؤرخین اس طرح کے مکالمات کو دوعظیم روایتوں یعنی یونانی اور ہندوستانی فلسفوں کے ملاپ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-16-32 gues105.pdf

عظیم موریہ سلطنت (The Mighty Mauryas)

شمال مغرب کے اس مختصر سفر کے بعدآیئےاب ہم دوبارہ واپس مگدھ کی طرف چلتے ہیں، جہاں ہم نےنندسلطنت کے زوال کا منظر دیکھا تھا۔تقریباً 321 ق م میں سکندرکی اپنی فوج کے ساتھ ہندوستان سے واپسی کے چند برس بعد ایک نیا حکمراں خاندان وجود میں آیا اور ایک نئی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ یہ موریہ سلطنت تھی جس کا بانی چندرگپت موریہ تھا۔ اُس نے تیزی سے نندسلطنت کے علاقوں کو اپنے اندرضم کرلیا اور اس سے آگے بھی اپنی سلطنت کی توسیع کرتا چلا گیا۔

کئی روایات کے مطابق چندرگپت کے ان کارناموں کے پیچھے اس کے مدبر اوردانش ور رہنما کوٹلیہ کا ہاتھ تھا جنھوں نے سیاسیات، ملک گیری اور معاشیات کے اپنے علم کو ایک ایسی سلطنت کے قیام کے لیے استعمال کیا جو ہندوستانی تاریخ کی عظیم ترین سلطنتوں میں شمار کی جاتی ہے۔

کوٹلیہ کی کہانی (The story of Kautilya)

بودھ مت سے متعلق متون کےمطابق کوٹلیہ جنھیں بعض اوقات چانکیہ یا وشنوگپت بھی کہاجاتا ہے، دنیا کی مشہور و معروف درس گاہ تکش شلا (موجودہ تکشیلا) یونیورسٹی میں استاد تھے۔ اُن کی داستانوی روداد کا آغاز دھنا نند کے دربار سے ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ وہ اپنی سخت ناپسندیدہ طرزِ حکمرانی کے باعث عوام میں قابلِ قبول نہیں رہ گیا تھا۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-44-23 gues105.pdf

شکل5.12: نند سلطنت

Screenshot 2026-01-30 at 14-44-39 gues105.pdf

شکل5.13: موریہ سلطنت

کوٹلیہ نے یہ حالات دیکھ کر دھنا نند کومشورہ دیا کہ وہ اپنا رویہ بد لے ورنہ اس کی سلطنت کا زوال یقینی ہے۔ دھنا نندنے غصّے میں آکر کوٹلیہ کی توہین کی اور انھیں اپنے دربار سے نکال دیا۔اس توہین نے کوٹلیہ کو یہ عہد کرنے پر مجبور کیا کہ وہ ’نالائق نند‘ کی حکومت کا خاتمہ کردیں گے۔

چندرگپت موریہ کا عروج ( The rise of Chandragupta Maurya)

چندرگپت موریہ کے آغاز اور اُس کی مہمات کے بارے میں کئی کہانیاں سنائی جاتی ہیں لیکن ان سب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اُس نے نندحکمرانوں کو تخت سے اُتارکر مگدھ پر قبضہ کر لیا، اپنی حکومت قائم کی
اور پاٹلی پترکو اپنی راجدھانی بنایا۔کیا آپ کو یاد ہے کہ مگدھ کو اپنے جغرافیائی محل وقوع ،مستحکم معاشی نظام اور پھلتی پھولتی تجارت کی وجہ سے خاص برتری حاصل تھی ؟ ان ہی سب عوامل اوراس کے ساتھ ہی کوٹلیہ جیسے حکمت شناس کی رہنمائی نے چندرگپت موریہ کو اپنی سلطنت کی بتدریج توسیع کرنے میں مدد دی۔چندر گپت نے شمال مغرب میں سکندر کے چھوڑے ہوئے یونانی سترپوں یعنی صوبے داروں کو شکست دے کر ان علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔یوں ان کی سلطنت شمالی میدانوں سے لے کر دکن کے پٹھار تک پھیل گئی ۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-44-58 gues105.pdf

شکل5.14: میگستھنیز چندرگپت موریہ کے دربار میں (اسیت کمار ہلدر کی بنائی بیسویں صدی کی ایک تصویر)

چندرگپت موریہ کے ہاتھوں یونانیوں کی شکست کے بعد اُس نے اُن کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے اور اپنے دربار میں ایک یونانی تاریخ داں اور سفارت کارمیگستھنیز (Magasthenes) کو مہمان بناکر رکھاجس نے اپنے سفرنامےانڈیکامیں ہندوستان کے بارے میں تفصیلات درج کیں۔یہ ہندوستان سے متعلق پہلا تحریری غیر ملکی بیان تھا، لیکن افسوس کہ اصل کتاب ضائع ہوگئی اورصرف اس کے چند اقتباسا ت بعد کے یونانی مؤرخین کی تحریروں کے ذریعے محفوظ رہ سکے۔

کوٹلیہ کا تصورِمملکت (Kautilya’s concept of a kingdom)

کوٹلیہ کے نزدیک یہ بالکل واضح تھا کہ ایک مملکت (ریاست) کو کس طرح قائم کیا جائے ،کس طرح چلایا جائے اور کس طرح مستحکم کیا جائے۔ اپنی مشہور کتاب ’ارتھ شاستر‘ میں (جس کا مطلب ہے حکومت اور معیشت کا علم) ،انھوں نے دفاع، اقتصادیات، انتظامیہ، عدلیہ، شہری منصوبہ بندی، زراعت اورعوامی بہبود جیسے کئی اہم شعبوں کے لیے اصول اور ہدایات مرتب کیے ۔اُن کے اہم ترین تصورات میں سے ایک سپتانگ (سات اجزا)ہے (دیکھیے شکل 5.15) ۔یہی وہ سات اجزا ہیں جن پر ایک مملکت کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-45-28 gues105.pdf

شکل5.15

کوٹلیہ کے مطابق یہ سات اجزا باہم مل کر ایسی مملکت کی تشکیل دیتے ہیں جو منظم ،محفوظ اور خوش حال ہو۔ ایسی مملکت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق کبھی جنگ سے اور کبھی امن قائم رکھنے کے لیے اتحاد اور معاہدوں سے مستحکم کیا جانا چاہیے۔وہ معاشرے میں امن و امان کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جس کے لیے مضبوط انتظامیہ کا ہونا ضروری تھا۔ انھوں نے بد عنوانی سے نپٹنےکے لیے کئی قوانین وضع کیے اور ایسی سرگرمیوں کے لیے مخصوص سزائیں تجویز کیں جو عوام کی بہبود کے منافی ہوں۔

اس پرغوروفکرکریں

کوٹلیہ کہتے ہیں’’بادشاہ کو اپنی طاقت اس وقت بڑھانی چاہیے ،جب وہ اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کو فروغ دے کیوں کہ اصل طاقت دیہات سے آتی ہے، جو تمام معاشی سرگرمیوں کا سر چشمہ ہیں۔بادشاہ کو چاہیے کہ وہ اُن لوگوں کو خاص مراعات دے جو عوام کے فائدے کے کام کرتے ہیں۔جیسے باندھ کی تعمیر یا پل بنانا، گاؤں کی تزئین کاری یا اُن کے تحفظ میں مدد دینا۔‘‘

آپ کے خیال میں دیہاتوں پر خاص توجہ دینا کیوں ضروری تھا؟

(اشارہ : پیچھے مڑکر دیکھیے کہ اس باب کی شروعات میں آپ نے کیا سیکھا؟)۔

کوٹلیہ کا ملک گیری کا بنیادی فلسفہ ہندوستانی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے:’’راجا کی خوشی کا راز اُس کی رعایا کی خوشی میں ہے اور اُن کی بہبود میں اُس کی بہبودی ہے۔ صرف اس چیز کو اچھا نہیں کہے گا جو اُسے خوشی دےبلکہ جو کچھ اُس کی رعایا کو اچھی لگے، اُس کو وہ مفید قرار دے گا۔‘‘ دوسرے الفاظ میں کوئی بادشاہ کتنا ہی طاقت ور ہو،اسے عوام کے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔

آئیے معلوم کریں

اپنی جماعت میں ایک مباحثہ منعقد کرکےکوٹلیہ کے تصورِ مملکت کے اوصاف کاموازنہ جدید دور کے ملکوں (Modern Nations)کی خصوصیات سے کیجیے۔

امن کی راہ اختیارکرنے والا حکمراں (The King Who Chose Peace)

موریہ سلطنت کے ایک اور عظیم بادشاہ اشوک (268تا 232 ق م) راجا چندرگپت موریہ کے پوتے تھے۔بڑے انتظامی اور مذہبی کارناموں کا سہرا اشوک کے سر جاتا ہے۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-48-35 gues105.pdf

شکل5.16: اشوک نیپال میں رام گرام استوپ کا معائنہ کرتے ہوئے
(سانچی استوپ کے ایک پینل سے)

اپنی حکومت کے آغاز میں اشوک بے حد پر جوش اور توسیع پسند تھے۔ انھوں نے ایک وسیع وعریض سلطنت ورثے میں پائی اور اسے مزید بڑھا کر تقریباً پورے بر صغیر میں پھیلا دیا، جس میں جنوبی حصے کے آخری کنارے کو چھوڑکر موجودہ بنگلہ دیش، پاکستان اور موجودہ افغانستان کے بعض حصّے بھی شامل تھے۔ مگر کہا جاتا ہے کہ ایک واقعے نے اس کی زندگی کا راستہ ہی بدل دیا۔اس کے ایک کتبے کے مطابق اس نے ایک بارکلنگ (موجودہ اوڈیشہ) پر چڑھائی کی جہاں اُس نے خوں ریزجنگ لڑی۔میدانِ جنگ میں وسیع پیمانے پر موت اور تباہی کو دیکھ کر اُس نے تشدد ترک کردینے کا فیصلہ لیا اور حتی المقدور مہاتما بدھ کی تعلیمات کے مطابق امن اور عدم تشددکی راہ پر چلنے کا عزم کیا۔

اس پرغوروفکرکریں

اشوک نےاپنے کتبوں میں کلنگ کی لڑائی کا ذکر کیا ہے۔وہ چاہتے تو اس کو چھپاکر آئندہ نسلوں کے لیے امن پسند اور سخی راجا کے طورپر اپنی شبیہ برقرار رکھ سکتے تھے۔آپ کے خیال میں انھوں نے اس تباہ کن جنگ کا اعتراف کیوں کیا؟

بودھ مت کی تعلیمات کو قبول کرنے کے بعد اشوک نے دوردراز علاقوں میں مہاتما بدھ کا پیغام پھیلانے کے لیے سری لنکا، تھائی لینڈ، وسط ایشیا اور اُس سے بھی آگے اپنے قاصد بھیجے۔

اشوک کو بعض تاریخ نگاروں نے ’عظیم ترسیل کار‘ (Great Communicator)کہا ہے کیوں کہ انھوں نے اپنی سلطنت کے کئی حصّوں میں لوگوں کے لیے چٹانوں یاستونوں پر کندہ اپنےفرامین پرمشتمل کتبے جاری کیے اور انھیں دھرم یعنی مذہب پرعمل کرنےکی ترغیب دی۔ان میں سے زیادہ تر کتبے پراکرت میں لکھے گئے،جواس وقت ہندوستان کے کئی حصوں کی مقبول زبان تھی اور براہمی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔(براہمی کو ہندوستان کی تمام علاقائی رسم الخطوں کی ماں کہا جاتا ہے)۔


ہم نے براہمی رسم الخط میں لکھی جانے والی پراکرت زبان کا ذکر کیا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ بہت آسان سی بات ہے ۔ زبان وہ ہے جو ہم بولتے ہیں جب کہ رسم الخط وہ ہے جس میں ہم کسی زبان کو لکھتے ہیں۔ کیا آپ ہماری روزمرہ زندگی میں اس کی کوئی مثال سوچ سکتے ہیں؟

Screenshot 2026-01-30 at 14-49-01 gues105.pdf

شکل5.17: برصغیر کے مختلف حصوں میں اشوک کے کتبوں میں سے چند معروف کتبے

اپنے کتبوں میں اشوک نے خود کو دیونامپیہ پیہ دسی یا دیونامپریہ پریہ درشی کہا ہے۔پہلے لفظ کا مطلب ہے ’دیوتاؤں کا محبوب‘ اور دوسرے لفظ کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ رحم دلی کا برتاؤ کرنے والا۔ واقعی، فرامین کی زبان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اشوک نے خود کو ایک رحم دل ، مہربان اور رعایا پرور حکمراں کے طورپرپیش کرنے میں دل چسپی لی ۔آئیے اس کی چند مثالیں دیکھتے ہیں۔

اگرچہ کچھ جنوبی ریاستیں موریہ سلطنت کا حصہ نہیں تھیں ،اشوک نے ان کی مجموعی فلاح و بہبودکی حمایت کی۔انھوں نے اپنی سلطنت سے باہر بھی انسانوں اور جانوروں کے لیے طبی نگہداشت فراہم کیے جانے کی وکالت کی۔ شکار اور جانوروں پر ظلم کو ممنوع قرار دیا اور ضرورت پڑنے پر ان کے لیے طبی علاج کاحکم دیا۔ اس اعتبار سے اشوک کو فطرت کی حفاظت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ابتدائی علم برداروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہاکہ میں نے اپنی سلطنت کی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ مقررہ دوری پرآرام گاہیں تعمیر کروائیں، کنویں بنوائے اور پھل دار سایہ دار درخت لگوائے ہیں۔ مزید برآں ،اشوک نے ایک دوسرے کی بہترین تعلیمات کو قبول کرنے اور اُن کا مطالعہ کرنے کے لیے تمام مذاہب اور مکاتب فکر کی حوصلہ افزائی کی۔

Screenshot 2026-01-30 at 14-49-29 gues105.pdf

شکل5.18: (بائیں) گجرات کے گرنار میں واقع اشوک کے سنگی کتبے کے ایک حصے کی نقل ؛ (دائیں) فیروز شاہ کوٹلہ دہلی میں موجود اشوک کے ٹوپرا ستون کی تفصیل

اگرچہ ہمیں اشوک کے تمام دعووں کو من وعن تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ، مگر یہ بات صاف ہے کہ کوٹلیہ کے حکمرانی کے فلسفے کے مطابق اُنھوں نے اپنی رعایا کی بہبودپر توجہ دی اور اُن تک پہنچنے کی بھرپور کوششیں کیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

آپ نے گریڈ6 میں لفظ ’دھرم‘ (پراکرت زبان میں دھمّ) کے بارے میں پڑھا تھا۔اس کی اصل روح کو آسانی سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔سادہ الفاظ میں، دھرم کے معنی اخلاقی قانون یا خاندان، معاشرہ یا ملک کے تئیں کسی شخص کے اخلاقی فرائض ہیں۔لیکن زیادہ گہری سطح پر دھرم کا مطلب ہے کہ آدمی اپنی زندگی کو کائنات کے نظام یا ریتم(Ritam) کے مطابق گزارے۔ اس میں اپنے فرائض کو سچائی سے انجام دینا، نیکی کے برتاؤ کے ضابطوں پر عمل کرنا اور کائناتی نظام کےساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنا ہے۔ اس لیے دراصل فرض، قانون، سچائی، نظم وضبط اور اخلاقیات — سبھی دھرم (دھم) کا حصہ ہیں۔

آئیے معلوم کریں

اشوک نے اپنے ایک کتبے میں اپنے افسروں کے برتاؤ کے بارے میں تفصیلی ہدایات درج کی ہیں اور یہ یقینی بنانے کے طریقوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح انصاف پسندی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ذیل میں دیے گئے ترجمے کو پڑھیے اور اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کیجیے کہ آیا یہ طریقے سلطنت کے نظم و نسق میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

”دیونامپیہ (دیوتاؤں کے محبوب) کے حکم سے—تمام افسران اور سٹی مجسٹریٹوں کو[...] یہ ہدایات دی جاتی ہیں کہ :

[...]آپ ہزاروں جانداروں کی دیکھ بھال کے ذمے دارہیں۔آپ کو انسانوں کی محبت حاصل کرنی چاہیے ۔ تمام انسان میری اولاد کی طرح ہیں،اور جس طرح اپنے بچوں کے لیے میری خواہش ہے کہ وہ اس دنیا اور اگلی دنیا دونوں میں خوشی اور فلاح پائیں، یہی خواہش میں تمام انسانوں کے لیے بھی رکھتا ہوں [...] آپ کو غیرجانب داری برتنے کی کوشش کرنی چاہیے[...] ان تمام باتوں کی بنیاد یہ ہے کہ اپنے مزاج کو اعتدال میں رکھیں اور اپنے کام کو مشتعل ہوکر نہ کریں[...] یہ تحریر یہاں اس غرض سے کندہ کی گئی ہے کہ سٹی مجسٹریٹس ہمیشہ اس کا خیال رکھیں کہ معقول وجہ کے بغیرانسانوں کو نہ قید کیا جائے اور نہ ہی انہیں اذیت دی جائے[...] اور اس مقصد کے لیے میں ہر پانچ سال پر ایک ایسے افسر کو معائنے پر بھیجوں گا جونہ سخت گیر ہو اور نہ بدمزاج ہو؛ جو اس معاملے کی تفتیش کرکے یہ دیکھے گا کہ میری ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔‘‘

اشوک کی وفات کے بعد موریہ سلطنت تقریباً نصف صدی تک باقی رہی۔ تاہم اُس کے جانشیں اس وسیع سلطنت کوسنبھالنے میں ناکام رہے اور کئی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ٹوٹ کرآزاد ہوگئیں۔ تقریباً 185 ق م کے آس پاس ہندوستان نے اپنی تاریخ کا ایک نیا دور شروع کیا۔ بھویشا اور دھرو بھی اس نئے سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، جس کی تفصیل اگلے باب میں ملے گی۔

موریہ عہد میں زندگی (Life in the Mauryan period)

پاٹلی پتر جیسے شہر حکمرانی اور کاروبار کے مصروف مراکز تھے۔ اُن میں شان دار محلات، سرکاری عمارتیں، اورمنصوبہ بند شاہراہیں تھیں۔اچھی طرح منظم ٹیکس کاری نظام اور رواں دواں تجارت کی وجہ سے سرکاری خزانہ مضبوط رہا جس سے سلطنت کی ترقی وخوشحالی میں تیزی آئی۔سلطنت کی انتظامیہ کے عہدےداران، سوداگروں اور دست کاروں نے شہرکی زندگی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اسے دىکھنا نہ بھولیں

شکل5.19

تانبے کی تختی پر کندہ سوہگَورا (Sohagaura)کا کتبہ جس کا زمانہ چوتھی سے تیسری صدی ق م ہے۔ ہندوستان کے قدىم ترىن انتظامى دستاوىزوں میں سے اىک ہے۔ اترپردیش کے سوہگَورا سے درىافت ہونے والا تانبے کی تختی پر کندہ یہ کتبہ براہمی رسم الخط مىں پراکرت زبان مىں لکھا گیا ہے اورغالباً یہ چندر گپت مورىہ کے دورِ حکومت مىں جارى کیا گیاتھا۔ اس کتبے مىں قحط سے بچنے کے لیے احتیاطى اقدام کے طور پر اناج کا ذخىرہ کرنے کے لىے اىک گو دام قائم کرنے کا ذکر کىا گىا ہے۔ اس سے غذائی حفاظت اور بحران کے وقتوں مىں رعاىا کى مدد کویقینی بنانے کے لىے سرکاری کوششوں پر روشنى پڑتى ہے۔


میگستھنیز کے بیانات بھی اُس زمانے کے معاشرے پر روشنى ڈالتے ہیں۔ آبادى کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ تھا جو سلطنت کے لیے آمدنی کا ایک بنیادی ذرىعہ تھا۔ سال مىں دوفصلىں بوئی جاتی تھیں۔ کیوں کہ بارش ،گرمى اور سردى دونوں موسموں مىں ہوتی تھی۔ اس کی وجہ سے قحط کبھى کبھار ہى آتا تھا اور لوگوں کے پاس غذ اکی کمى نہیں ہوتی تھی۔ ہنگامی صورتِ حال پر قابو پانے کے لىے گوداموں میں اناج کا وافر ذخیرہ ہوتا تھا۔ ىہاں تک کہ کہیں قریبی علاقوں میں جنگ چھڑ جائے تو کاشتکاروں کو اس سے محفوظ رکھا جاتا تھا اور زراعت متاثر نہیں ہوتی تھی۔

لوہار، کمہار،بڑھئی، سنار اور دوسرے حرفت کار شہروں میں رہتے تھے۔ شہر پوری طرح منصوبہ بند ہوتے تھے اور راستوں و شاہراہوں پر اشاراتی تختیاں(Signage)لگی ہوتی تھیں۔پیغام رسانی کے لیے قاصد استعمال کیے جاتے تھے،جو اىک جگہ سے دوسرى جگہ خبریں پہنچاتے تھے۔مکانات لکڑی کے بنے ہوئے اور بعض دو منزلہ بھی ہوتے تھے۔ راستوں پر رکھے پانى کے کونڈے مقررہ وقفے سے بھرے جاتے تھے تاکہ آگ لگنے پر کام آ ئیں۔

بعد کی تحریروں میں بیان ہے کہ لوگ سوتی کے کپڑے پہنتے تھے— زیر جامہ گھٹنے کے نیچے یا ٹخنوں تک آتا تھا، جب کہ اوپری لباس کندھوں پر لپیٹ لیتے تھے۔ بعض لوگ نقاشی دار موٹے تلووں والے چمڑے کے جوتے پہنتے تھے تاکہ زیادہ قد آور دکھائی دیں۔

آیئے معلوم کریں

خود کو ایک مؤرخ کے طور پر تصور کیجیے۔ اگلے صفحے پر پیش کیے گئے تاریخی نوادرات کو غور سے دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ موریہ عہد میں لوگوں کی زندگی کیسی تھی؟

شکل 5.20 ہمیں کئی پیغام دیتی ہے۔ یہ نہ صرف ایک حسین اور بے عیب مجسمہ ہے بلکہ موریہ عہد کے فن کی ایک درخشاں مثال بھی ہے۔ یہ ستون بھی (Capital)ہے، جسے اشوک نے سارناتھ، بنارس کے قریب تعمیر کروایا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بدھ نے اپنی پہلی تعلیم دی تھی۔ ستون کی چوٹی پر کندہ چار شیر، شاہی قوت اور اقتدار کی علامت ہیں۔ ان کے نیچے دائرہ نما حصے پر چار جاندار(ہاتھی،بیل،گھوڑا اور ایک مزید شیر) نیز دھرم چکر یعنی دھرم کا پہیہ بھی دکھایاگیاہے، جو بدھ کے افکار اور تعلیمات کی علامت ہے۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-02-31 gues105.pdf

شکل5.20: موریہ عہد اپنی شاندار اور چمک دار سنگی ستونوں کے لیے مشہور تھا۔ اس کی بہترین مثال سارناتھ کا ستون ہے،جس کی چوٹی پر کندہ کاری اور فن کارانہ باریکی موریہ فن تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔

آپ مىں سے کچھ لوگوں کو یہ تصویر جانی پہچانی سی لگ سکتی ہے۔ درحقیقت اس سرِستون(Capital)کو ہندوستان کے قومی نشان کے طور پر منتخب کىا گىا تھا جس مىں سنسکرت کے قول‘ستیہ میو جیتے’ ’یعنی صرف سچ کى ہى فتح ہوتى ہے‘، کا اضافہ کىا گىا۔ (دائیں طرف دیے گئے قومى نشان کو دىکھىے)۔ اُس کے دھرم چکر کو ہمارے قومی پرچم کے وسط مىں رکھا گىا ہے جیسا کہ آپ نے بھى دىکھا ہوگا۔ اس اصولی فقرے کا ماخذ ’مُنڈک کو اپنشد‘’ ہے جس کى پو رى عبارت یوں ہے ’’ستیہ میو جیتے نانریتم‘‘ جس کا مطلب ہے کہ ”سچ کى ہى فتح ہوتى ہے، جھوٹ کی نہیں‘‘۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-02-51 gues105.pdfScreenshot 2026-01-30 at 15-02-58 gues105.pdf

شکل5.21: ایک رقاصہ کا ٹیرا کوٹا مجسمہ (اُس کے آراستہ سرپوش بالوں کے طرز اور زیورات پر غور کریں)۔

شکل5.22: ایک دیوى کا ٹیرا کوٹا مجسمہ۔

شکل5.23: ہاتھ میں مورچھل پکڑے ہوئے ایک دیوی (یکشی)

شکل5.24: سپت ماتریکا یاسات دیوى ماؤں کا ٹیرا کوٹا مجسمہ (ایک ایسی روایت جو آج تک جاری ہے) ۔

شکل5.25: ٹیراکوٹا سے بنا گھوڑے کا مجسمہ (لگام کی مزین بناوٹ پر توجہ دیں)۔

شکل5.26: سانچی کا عظیم استوپ، جو ہندوستان کے قدیم ترین سنگی عمارتوں میں سے ایک ہے اور ہندوستانی فن تعمیر کی نفیس ترین مثالوں میں سے ہے۔یاد رہے کہ اصل ڈھانچا اینٹوں کا بنا ہوا تھا اور پھر اسے پتھر کی مدد سے وسعت دی گئی۔کہا جاتا ہے کہ اشوک نے عبادت، تعلیم اور دھیان کے لیے کئی استوپ، چیتیہ اور وہار تعمیر کرائے تھے۔

شکل5.27: دھولی (موجودہ اُوڈیشہ میں بھوبنیشور کے قریب میں ایک دیوقامت ہاتھی کا سنگی مجسمہ جو بدھ کی علامت ہے—یعنی ذہانت، طاقت اور سکون ۔اس کے قریب ہی چٹان پر اشوک کا ایک کتبہ کندہ کیا گیا تھا۔

آئیے معلوم کریں

سکّوں پر بنی مختلف علامتوں پر غور کیجیے۔ کىا آپ اندازہ لگا سکتے ہىں کہ نیچے دیے گئے سکّوں پر کسى علامت کا کىا مطلب ہو سکتا ہے؟

Screenshot 2026-01-30 at 15-03-45 gues105.pdf

اسے دىکھنا نہ بھولیں

استوپ کے مرکز مىں بنے ہوئے بڑے گول گنبد کو ’انڈا‘ کہا جاتا ہے۔ ىہ کائنات کى علامت ہے اور اکثر اس کے اندر مقدس باقیات رکھے جاتے ہیں۔ لوگ اس کے گرد چکر لگاتے ہىں جسے عبادت کی ایک شکل (پَردَکشِنا) سمجھا جاتا ہے۔

سلطنتوں کى کمزور نوعیت (The Fragile Nature of Empires)

آپ آئندہ گریڈوں مىں ماضى مىں دنیا کے دیگر علاقوں میں قائم رہی طاقت ورسلطنتوں کے بارے مىں پڑھیں گے۔ مثلاً رومی، اىرانى، عثمانى،ہسپانوی، روسى اور برطانوى سلطنتىں وغىرہ۔ ان مىں سے سبھی کا خاتمہ بہت پہلے ہو چکا ہے،لىکن مؤرخین آج بھی اُن کے زوال کے اسباب پر بحث کر تےرہتے ہىں۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا سلطنت کے زوال کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہےکہ ان میں سے بعض سلطنتوں کے کچھ حصے آزادی کےلیے جدوجہد کرنے لگتے تھے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بادشاہ کو طویل فوجی مہمات کے لیے مزید وسائل درکار ہوتے ہیں یا قحط سالی کے زمانے میں مقامی حکمرانوں پر خراج بڑھانے کا بوجھ ڈال دیا جاتا تھا۔ نتیجتاً وہ ناراض ہوجاتے تھے۔ ہاں اگر کسی طاقت ور بادشاہ کے بعد کمزور سمجھا جانے والا کوئی حکمراں تخت نشیں ہوتا تو چھوٹے راجا یا سردار موقعے کا فائدہ اٹھاکر خراج ادا کرنا بند کردیتے تھے۔ اس طرح سلطنت جتنی بڑی ہوتی ، اسے سنبھالنے میں اتنی ہی دشواری آتی تھی۔ جیسا کہ سکندر کو بھی تجربہ ہوا کہ دور دراز کے علاقے سب سے پہلے سلطنت سے ٹوٹ کر الگ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سےپیدا شدہ معاشی بحران (مثلاً طویل خشک سالی یا سیلاب) بھی کسی سلطنت کی بنیادوں کو ہلاسکتے تھے۔

اس لیے سلطنتیں ایک تضاد کا شکار رہتی ہیں۔ ایک طرف وہ سیاسی وحدت قائم کرتی ہیں، جیسا کہ موریہ حکمرانوں نے تقریباً پورے برصغیر کو یک جا کیا اور چھوٹی ریاستوں کے درمیان مقابلہ آرائی کو ختم یا کم کیا۔ایک اچھی طرح منظم سلطنت چھوٹی اور جنگ پر آمادہ مملکتوں کے مقابلےمیں زیادہ خوش حال بن سکتی تھی۔ دوسری جانب سلطنتیں کم و بیش ہمیشہ جنگ کے ذریعے قائم ہوتی ہیں اور ان کا وجود طاقت اور ظلم و زیادتی سےباقی رہتا ہے۔ یہی بات ان کی بنیاد کو کمزور کرتی اور وقت کےساتھ انھیں غیر مستحکم کرتی ہے۔

Screenshot 2026-01-30 at 15-05-17 gues105.pdf

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں...

  • ایک چھوٹی سلطنت کئی مملکتوں اور علاقوں سےمل کر بنا ایک وسیع خطہ ہوتی ہے۔ بادشاہ اپنی مملکتوں کو زیادہ شہرت، طاقت خصوصا فوجی طاقت اور وسائل و معیشت پر قبضہ جمانےکے لیے وسعت دیتےتھے۔
  • ہندوستان کی قدیم ترین سلطنتیں ان علاقوں میں وجود میں آئیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال تھے، جہاں نہروں اور دریاؤں کے ذریعے آب پاشی اور نقل و حمل ممکن تھا اور تجارت کے لیے مختلف اشیا کی پیداوار کے ذرائع تھے۔
  • سکندر کی شمال مغربی ہندوستان کی مہم نے اگرچہ محدود سیاسی اثر چھوڑا، لیکن اس نےہند-یونانی روابط کے دروازے کھول دیے۔
  • موریہ حکمرانوں نے ایک عظیم الشان سلطنطت تشکیل کی جس کی وراثت صدیوں تک قائم رہی۔ اس وراثت میں تجارتی راستوں اور معاشی نظاموں کا استحکام، تجارت کے لیے سکّوں کا کثرت سے استعمال، منظم شہروں کی تعمیر اور نظم ونسق کا ایک مفصل نظام شامل تھا۔ انھوں نے فنون لطیفہ اور فن تعمیر کو بھی فروغ دیا۔
  • اشوک نے اپنی حصول یابیوں کو نمایاں کرنے اور خودکو ایک مہربان و عادل حکمراں کے طور پر پیش کرنے میں گہری دل چسپی لی۔ وہ اپنی رعایا کو دھرم پر عمل کرنے کی ترغیب بھی دیتا رہا۔

سوالات اور سرگرمیاں

1. سلطنت کی خصوصیات کیا ہیں اور یہ مملکت سے کس طرح مختلف ہے؟ بیان کیجیے۔

2. کن اہم عوامل نے مملکتوں کو سلطنتوں میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا؟

3. سکندر کو دنیا کی تاریخ میں اہم بادشاہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ آپ کی کیا رائےہے؟

4. قدیم ہندوستانی تاریخ میں موریہ حکمرانوں کو اہم کیوں مانا جاتا ہے؟ اپنے دلائل پیش کیجیے۔

5. کوٹلیہ کے کچھ اہم خیالات کیا تھے؟ ان میں سے کون سےخیالات آپ آج بھی اپنے اردگرد کی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں؟

6. اشوک اور اس کی سلطنطت کی غیر معمولی باتیں کیا تھیں؟ ان میں سے کون سی چیزیں آج بھی ہندوستان کو متاثر کرتی ہیں اور کیوں؟ اپنی رائےتقریباً 250 الفاظ میں لکھیے۔

7. دیوتاؤں کا محبوب ’راجا پیہ دَسی ‘یوں کہتا ہے: میرےدھم (Dhamma)کے افسران رفاہ عامہ کے بہت سےمعاملات میں مصروف ہیں۔ وہ تمام عقیدے کے لوگوں کے کام میں لگےہوئے ہیں۔چاہےوہ تارک دنیا ہو یا خانہ دار۔ میں نے کچھ کو بودھ مذہب، برہمنوں اور آجیوکوں کے معاملات کے لیے، کچھ کو جینیوں اور دیگر عقیدوتں کے کاموں کے لیے مقرر کیا ہے، افسروں کے کئی زمرے ہیں اور ان کی مختلف ذمہ داریاں ہیں، لیکن میرے دھم کے افسران سبھی عقیدوں کے ماننے والوں کے فلاح وبہبود میں مصروف ہیں۔

اشوک کا مند رجہ بالا کتبہ پڑھنے کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ دیگر مذہبی عقیدوں او ر مکاتب ِفکر کا احترام کرتا تھا؟ کلاس روم میں تبادلۂ خیال کیجیے۔

8. براہمی رسم الخط ایک نظام تحریر تھا جسے قدیم ہندوستان میں عام طور سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اپنے استاد کی مدد سے اس رسم الخط کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کیجیے۔ ایک مختصر پروجیکٹ تیار کیجیے اور جو کچھ آپ نے براہمی کے بارےمیں جانا ہے، اسے تحریر کیجیے۔

9. فرض کیجیےکہ آپ کو تیسری صدی ق م میں کوشامبی سے کاویری پٹّنم تک کا سفر کرنا ہو۔ آپ یہ سفر کس طرح کریں گے اور مناسب قیام و آرام کے ساتھ یہ سفر کتنے دنوں یا مہینوں میں مکمل ہوگا؟


Screenshot 2026-01-30 at 15-06-08 gues105.pdf