Skip to content
Qr






باب 6
تنظیمِ نو کا دور (The Age of Reorganisation)


اس سر زمین نے اپنی زندہ روایت اور تازہ کاری کی حیات افزا قوت کے ذریعے بے شمار انقلابات اور تغیرات کو جھیلتے ہوئے ہمیشہ خود کو نئے انداز میں منظم کیا ہے۔

— جگدیش چندر بوس (1917)

شکل6.1.1: تنظیمِ نو کے دور کے فنونِ لطیفہ کی ایک جھلک

Screenshot 2026-01-30 at 17-13-52 gues106.pdf

اہم سوالات

  1. موریہ سلطنت کے زوال کے بعد کے دور کو بعض اوقات’تنظیم نو کا دور‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
  2. وہ کون سے اقدار یا اصول تھے جن کی پاس داری اس دور کے حکمراں کیا کرتے تھے۔
  3. بیرونی حملہ آور کس طرح ہندوستانی معاشرے میں ضم ہوگئے اور وہ کس طرح ثقافتی دھارے میں شامل ہوگئے؟
147c

بھویشا اور دھرو موریہ سلطنت کے اپنے سفر سے واپسی کے بعد تازہ دم ہوچکے تھے اور اب وہ ایک نئی مہم پر جانے کے لیے بے تاب تھے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک بار پھر اپنے ایجاد کردہ آلہ’اِتِہاس‘ کا استعمال کریں گے۔ اس طرح وہ ایک نئے تاریخی دورمیں پہنچ گئے ۔ وہاں انھوں نے فنون لطیفہ کے بہت سے فن پارے دیکھے جو ایک دوسرے سے خاصے مختلف تھے۔(شکل 6.1.1 دیکھیے) انھیں حیرت ہوئی —یہ نوادرات کسی ایک سلطنت کے بجائے الگ الگ سلطنتوں سے تو تعلق نہیں رکھتے ؟ ان کا قیاس بالکل درست تھا۔ اس باب میں ہم ایک قدرے طویل دورکے سفر پر نکلیں گے۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں...

MET_DP158770

شکل6.1.2

اشوک کے بعد تخت نشیں ہونے والے حکمرانوں کے بارے میں بہت کم معلومات دست یاب ہیں۔ تاہم اس امر پر اتفاق ہے کہ آخری موریہ بادشاہ کو اس کے سپہ سالار پشیہ متر شنگ نے 158ق م میں قتل کر دیا تھا۔ اس سے سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا— اشوک کے بعد بہ مشکل نصف صدی کے اندر، جیسا کہ ہم نے پچھلے باب میں اس کا ذکر کیا ، پورے بر صغیر میں کئی نئی سلطنتیں وجود میں آئیں، جو اکثر وہی باج گزار ریاستیں تھیں جو پہلے موریہ سلطنت کے ماتحت تھیں۔ شمال مغربی علاقہ کمزور ہوگیا تھا جس کے باعث یہ خطہ بیرونی حملوں کے لیے کھل گیا۔

اس دورکو بعض دانش وروں نے ’تنظیم نو کا دور‘ بھی کہا ہے کیوں کہ اس دور میں موجودہ خطے نئی ریاستوں میں منظم ہونے لگے تھے، جو طاقت کے حصول کے لیے مستقل کوشاں اورآپس میں لڑتی رہتی تھیں۔ اس دور میں ہندوستان کا نقشہ بھی بڑی حد تک تبدیل ہوگیا اور لوگوں کی زندگیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

آئیے معلوم کریں

کاغذ پرایک وقوعی ترتیب کا خاکہ (Time Line) بنائیے جو دوسری صدی ق م کے پہلے سال سے شروع اور تیسری صدی کے آخری سال پر ختم ہو۔ غورکیجیے کہ یہ دور کتنے برسوں پر محیط ہے۔جیسے جیسے آپ اس باب میں آگے بڑھیں، اس وقوعی ترتیب کے خاکے پر اہم شخصیات، سلطنتوں اور واقعات کو نشان زد کرتے جائیے۔

Screenshot 2026-02-02 at 09-43-46 gues106.pdf

شکل6.2: تنظیمِ نو کے دور میں ہندوستان کے اہم شاہی خاندان

یادرکھیں

وقوعی ترتیب کا خاکہ پر کام کرتے ہوئے، کیا آپ نے قبل مسیح سے عیسوی دور کے درمیان تبدیلی پر غور کیا؟ گریڈ6 کے باب ’تاریخ کی وقوعی ترتیب اور اس کے مآخذ‘کو یاد کیجیے۔ اس میں آپ نے جانا تھا کہ تاریخ میں وقت کی پیمائش کس طرح کی جاتی ہے۔

آئیے معلوم کریں

پچھلے باب میں آپ نے موریہ سلطنت کے نقشے کا مطالعہ کیا تھا (دیکھیے ص 100)۔ اوپر مابعد موریہ دورکا نقشہ دیا گیا ہے۔ کیا آپ شمار کرکے بتاسکتے ہیں کہ موریہ سلطنت کے ماتحت علاقے اب کتنی نئی ریاستوں میں بٹ گئے ہیں؟

اب یہ نئی ریاستیں ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش میں رہتی تھیں۔ کبھی پُرامن ذرائع، جیسے ازدواجی اتحاد اور کبھی جنگی قوت کا استعمال کرکے۔ یاد رکھیے کہ سرحدی علاقوں پر قبضے کے لیے مستقل صف آرائی رہتی تھی کیوں کہ سلطنت کو بیرونی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ سرحدی علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا جائے۔

اس سیاسی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ، فنون لطیفہ، فن تعمیر اور ادبیات میں بھی زبردست ترقی ہوئی اور ثقافتی لین دین میں بھی اضافہ ہوا۔اگلے حصوں میں ہم ان پہلوؤں کی جھلک دیکھیں گے۔

Matrimonial)

Alliance):

شادی کے ذریعے طے شدہ اتحاد، عام طور پر شاہی خاندانوں کے دو ارکان کے درمیان ہوتا تھا۔ عملی طور پر اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا تھا کہ کوئی بادشاہ اپنی بیٹی کو پڑوسی مملکت کے شاہی خاندان میں شادی کے لیے پیش کردیتا تاکہ دونوں ریاستوں کے درمیان اتحاد قائم ہوسکے۔

Screenshot 2026-02-02 at 09-50-17 gues106.pdf

شکل6.3

شُنگوں کا عروج (Surge of the Shungas)

پشیہ متر شنگ نے شُنگ شاہی سلسلےکی بنیاد ڈالی جس نے شمالی اور وسطی ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کی۔ اس نے اپنی طاقت اور برتری کومستحکم کرنے کے لیے ایک ویدک رسم اشومیدھ یگیہ کا اہتمام کیا تھا، اگرچہ اس کی سلطنت رقبے میں موریہ سلطنت سے چھوٹی تھی (دونوں نقشوں کا موازنہ کیجیے) لیکن اس نے سلطنت کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھا تھا اور یونانیوں کے خلاف ابتدائی عسکری مہم کے بعد، ان سے دوستانہ تعلقات قائم کرلیے ۔لیکن پھر بھی، ان کے بعد سلطنت زیادہ دیر تک نہ چلی — ایک صدی کے اندر اس کا خاتمہ ہوگیا۔

اس دورمیں ویدک رسوم و رواج کا احیا ہوا، لیکن دیگر مکاتب فکر اور مذاہب بھی ساتھ ساتھ خوب پھلتےپھولتے رہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ramyana

شکل6.4: رامائن کا ایک منظر جس میں راجا رام کو اشومیدھ یگیہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (انیسویں صدی کی پینٹنگ، نیشنل میوزیم)

اشومیدھ یگیہ ایک قدیم ویدک رسم تھی، جسے بہت سے بادشاہ اپنی بادشاہت کے اعلان اور اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ اس رسم میں ایک گھوڑےکو، سپاہیوں کے ساتھ، آزادانہ گھومنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ یہ گھوڑا بغیر کسی رکاوٹ کے جتنے علاقے کا احاطہ کر لیتا، اسے راجا کی سلطنت کا حصہ مان لیا جاتا تھا۔ اگر کوئی دوسرا حکمراں اس گھوڑے کو روک لیتا، تو اس کے نتیجے میں بالادستی کا فیصلہ کرنے کے لیے دونوں کے بیچ جنگ لازم ہوجاتی تھی۔

اس دور میں فلسفیانہ اور ادبی تخلیقات کے لیے سنسکرت ایک ترجیحی زبان کے طور پر ابھری۔ کیا آپ کو گریڈ 6کی ’جسمانی تعلیم اور تندرستی‘ کتاب کے اسباق سے کچھ یوگ سوتریاد ہیں؟ یہ یوگ سوتر اسی دور میں پتنجلی نے مرتب کیے گئے تھے۔

شنگ خاندان نے ادب، فنون لطیفہ اور فن تعمیر کی بھرپور سرپرستی کی۔ بھرُہت استوپ (موجودہ مدھیہ پردیش میں واقع) شنگ فن کی شان دار مثالوں میں سے ہے۔ غالباً اسے اشوک کے دورمیں تعمیر کیا گیا تھا، لیکن شنگوں نے اس میں خوب صورت منقش ریلنگ اور بدھ کی زندگی کی عکاسی کرنے والی سنگ تراشی (Reliefs)کا اضافہ کیا۔یہ مثالیں ابتدائی بودھ آرٹ میں شمار ہوتی ہیں۔

Screenshot 2026-02-02 at 09-57-59 gues106.pdf

شکل6.5.1: بھرہت ا ستوپ میں ریلنگ؛ شکل6.5.2: ایک ریلنگ پر کندہ لکشمی کا مجسمہ؛ شکل6.5.3: مغنیوں اور رقاصاؤں کا طائفہ؛ شکل6.5.4 : دھرم چکر کو اٹھائے ہوئے ہاتھی ۔

فنونِ لطیفہ میں شنگ سلطنت کی بعض نمایاں خدمات

Screenshot 2026-02-02 at 09-58-53 gues106.pdf

شکل6.6.1: یونانی جنگجو کی سنگ تراشی والا ستون؛ شکل6.6.2: ایک مرد کا مجسمہ؛ شکل6.6.3: بچے کو گود میں لیے ہوئے ایک عورت؛ شکل6.6.4: ہاتھ میں پنکھا تھامے ہوئے ایک عورت؛ شکل6.6.5: ایک گلدان؛ شکل6.6.6: خاتون کا ٹیراکوٹامجسمہ جس کے بالوں کی آرائش دکھائی گئی ہے؛ شکل6.6.7: شاہی خاندان؛ شکل6.6.8: کانسے کی چوڑیاں جن پر سونے کی پتلی پرت چڑھی ہوئی ہے؛ شکل6.6.9: ہاتھی دانت کی کنگھی؛ شکل6.6.10: ہار میں پروئے جانے والے موتی۔

آئیے معلوم کر یں

نیچے دی گئی شکل میں بھرہت استوپ کے ایک پینل کو دکھایا گیا ہے۔ دائیں جانب کی دونوں شخصیات پر غور کیجیے، وہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ ان کے پیشے کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ ان کے لباس پر غور کیجیے۔ اس سے ان کی سماجی حیثیت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ اس پینل میں موجود دیگر تفصیلات کی فہرست بنائیے اور اپنی دریافتوں کے بارے میں کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-00-41 gues106.pdf

شکل6.7: بھرہت ستوپ کا ایک پینل

آئیے معلوم کریں

شکل 6.6میں دی گئی تصویروں (گذشتہ صفحے پر) کے کولاژ کو غور سے دیکھیے۔ لباس، زیورات اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزوں پر ایک نوٹ تحریر کیجیے۔

ساتواہن (The Satavahanas)

دست یاب محدود شواہد کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ شُنگوں نے اپنی کئی پڑوسی سلطنتوں کے ساتھ جنگ کی تھی۔ ان میں غالباً ساتواہن بھی شامل تھے، جو دوسری صدی ق م سے شُنگ کے جنوب میں واقع دکن کے بڑے حصوں پر حکمرانی کرتے رہے، انھیں بعض اوقات ’آندھرا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ساتواہن ایک طاقت ور خاندان تھا اور ان کی سلطنت میں موجودہ آندھرا پردیش، تلنگانہ اور مہاراشٹرشامل تھے۔ ان کا دارالحکومت مختلف اوقات میں الگ الگ شہروں میں رہا— ان میں سب سے مشہور امراوتی اور پرتشٹھان (پیٹھن) وغیرہ شامل ہیں۔ ساتواہن سلطنت میں تجارت اور کاروبار پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-02-10 gues106.pdf

شکل6.8: ساتواہن دورکا ایک سکّہ جس پر دومستولوں والا سمندری جہاز کندہ ہے۔ غور کیجیے کہ جہازکے مستول نمایاں طور پر ایک دوسرےکو کاٹتی ہوئی لکیروں کے ساتھ دکھائے گئے ہیں جو ممکنہ طور پر بادبانوں کوظاہر کرتے ہیں۔ نیچے بنی ہوئی لہردار لکیریں سمندری پانی کونمایاں کرتی ہیں۔

ساتواہن حکمرانوں کےجاری کردہ سکّے ہندوستان کےمختلف علاقوں یعنی گجرات سے لے کر آندھراپردیش اور ہندوستان کے مغربی ومشرقی ساحلوں پر پائے گئے ہیں۔ ان میں کئی سکّوں پرجہاز کی تصاویر بنی ہوئی تھیں جو اس کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سمندری تجارت ان کی معیشت کا ایک اہم حصہ تھی۔ سکّےپر کندہ جہاز اس دور کی ترقی یافتہ جہاز سازی اور جہازرانی کی جدید ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

زرعی سرگرمیاں بھی زوروں پر تھیں خصوصاً کرشنا گوداوری کی وادی میں جس نے سلطنت کو معاشی استحکام فراہم کیا۔ ساتواہن حکمرانوں کے تجارتی روابط رومی سلطنت تک پھیلے ہوئے تھے اور اس کے ذریعے مسالے، کپڑے، صندل کی لکڑی اور قیمتی ساز و سامان جیسے سونا جَڑے ہوئے موتی ، ہاتھی دانت وغیرہ برآمد کیے جاتے تھے۔ تجارتی راستوں پر محصول اور خراج سلطنت کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ تھے۔

سیاسی طور پر نسبتاً پُرسکون اورمعاشی خوش حالی نے ادب، فن اور ثقافت کی ترقی کو آسان بنایا اور ساتواہن حکمرانوں نے اس میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-02-48 gues106.pdf

شکل6.9: پونے کے نزدیک نانے گھاٹ غار، جو ایک بڑے تجارتی راستے پر واقع تھے، انھیں چنگی اور محصولات وصول کرنے اور تاجروں کے آرام کرنے کی غرض سے استعمال کیا جاتا تھا۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-03-26 gues106.pdf

شکل6.10: ساتواہن دورکا ایک سکّہ جس میں براہمی رسم الخط میں ”رانو گوتمی پتاسا- سری ساتکرنیسا“ یعنی ’گوتمی کا بیٹا مہاراجا ساتکرنی ‘ کندہ ہے۔

ساتواہنوں کے دور میں زندگی

(Life under the Sātavāhanas)

ساتواہن سلطنت کی روایت میں شہزادوں کے نام اکثر ان کی ماؤں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔ مثلاً گوتمی پترساتکرنی کو ان کی ماں ’گوتمی بالاشری ‘کے نام پر پکارا جاتا تھا۔ وہ ایک طاقت ور رانی تھی جس نے بودھ بھکشوؤں کو آراضی عطیہ کی اور ناسک میں ایک اہم کتبہ کندہ کروایا جو سلطنت میں اس کے اثر و رسوخ کی غمازی کرتا ہے۔

اس پر غوروفکرکریں

آپ کے خیال میں راجا کے نام سے پہلے ماں کے نام کا استعمال کیے جانے کی روایت کس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے؟

پونہ کے قریب نانے گھاٹ غار میں پائے جانے والے کتبوں کے ایک اور مجموعے (شکل6.9) میں ایک ساتواہن بیوہ ملکہ کودکھایاگیاہے جس نے حیرت انگیز طور پر کئی ویدک رسومات ادا کی تھیں۔ان میں اشومیدھ یگیہ بھی شامل ہے۔ ان کتبوں میں اندر، چندر اور سوریہ جیسے ویدک دیوتاؤں کا ذکر ہے۔ ہمیں ملکہ کے عطیات (دان) کی بھی ایک جھلک ملتی ہے: جیسے، اراضی، گائیں، گھوڑے، ہاتھی، چاندی کے سکّےاوردیگر اشیا—جو پجاریوں، مہمانوں، کاری گروں، دانشوروں اور بھکشوؤں کو دیے جاتے تھے۔

یہ کتبے براہمی رسم الخط میں ہیں اور ان میں چند ہندسے (یعنی اعداد کی علامتیں) شامل ہیں جو کہیں کہیں آج کی شکلوں سے ملتے جلتے ہیں، جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔یہ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ جدید اعداد کی ابتدا دراصل ہندوستان سےہوئی۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-04-01 gues106.pdf

اس پر غوروفکر کریں

ہندسوں کے مندرجہ بالا سلسلے میں، کون سے کچھ حد تک ہمارے جدید ہندسوں کی طرح نظر آتے ہیں اور کون سے مختلف دکھائی دیتے ہیں؟

ساتواہن حکمراں، واسودیو (کرشن کا دوسرا نام) کے بڑے عقیدت مند تھے، حالاں کہ انھوں نے دیگر مکاتب ِفکر کی بھی سرپرستی کی، جو ان کی حکمرانی کے دوران پھولے پھلے ۔ مثال کے طور پر، ساتواہن راجا اکثر ویدک علما، جین اور بودھ بھکشوؤں کو بلا لگان زرعی زمین دیتے تھے، جس سے انھیں اپنی تعلیم اور روایات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی تھی۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-04-40 gues106.pdf

شکل6.11: کارلا غار (موجودہ مہاراشٹر میں لوناولا کے قریب) جنھیں ساتواہنوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ غار بودھ بھکشوؤں کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس کے شان دار ستون اور سنگی نقوش دیکھنے لائق ہیں—یہ سب کچھ ایک پہاڑ کی چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-04-46 gues106.pdf

شکل6.12: مہاراشٹر کے پیتل کھورا غارمیں یکش کا ایک مجسمہ (فطرت سے منسوب ایک چھوٹا دیوتا)، جسے ساتواہن دور میں تراشا گیا تھا۔

اس پرغوروفکرکریں

پیتل کھورا کے یکش کے اس مجسمے کے ہاتھ پر ایک عبارت درج ہے، ’کانھاداسین ہیرم کارینا کاٹ‘ (Kanhadāsena Hiramakarena Kāṭa)جس کا مطلب ہے ’ایک سنار، کانھا داس کے ذریعے بنایا گیا‘۔ کیا یہ دل چسپ نہیں ہے کہ ایک سنار پتھر سے بنا مجسمہ بھی تیار کرسکتا تھا؟ آپ کے خیال میں اس سے ہمیں اس وقت کے لوگوں کے پیشوں کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟

تیسری صدی عیسوی میں، ساتواہن سلطنت چھوٹی چھوٹی آزاد سلطنتوں میں منقسم ہوگئی۔ اس کے بکھرنے میں کئی عوامل کارفرماتھے ، جن میں اہم کمزور مرکزی اقتدار اور بتدریج معاشی زوال ہیں۔ اس سے ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کو ابھرنے اور نئی سلطنتیں قائم کرنے کا موقع ملا۔

چیدیوں کی آمد (Coming of the Chedis)

آئیے ہم تھوڑا سا پیچھے کی طرف چلتے ہیں۔ کیا آپ کو کلنگ کی جنگ یاد ہے، جس کا ذکر پچھلے باب میں کیا گیا تھا؟ موریہ سلطنت کے زوال کے بعد، کلنگ کو ایک نئی طاقت ملی اور یہ چیدی خاندان کے راجاؤں کے تحت ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرا۔

ان کے اہم حکمرانوں میں سے ایک، کھارویل جین تعلیمات سے گہری عقیدت رکھتا تھا؛ اسے بعض اوقات بھکشو راجایا راہب راجا بھی کہا جاتا ہے، حالاں کہ وہ تمام مکاتب فکر کا احترام کرتا تھا۔ بھوبنیشور کے قریب، مشہور ادے گیری-کھنڈگیری غارجوشایدجین بھکشوؤں کے لیے تیار کیے گئے تھے، ان میں پینل، مجسمے اور چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے کشادہ کمرے ہیں، جو کاری گروں کی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان غاروں کےنقش و نگار اور ہنرمندی انھیں ’چٹانی طرزِ تعمیر‘ کی قابل ذکر مثال بناتے ہیں، اس طرز تعمیر کے بارے میں ہم اعلیٰ جماعتوں میں پڑھیں گے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-07-06 gues106.pdf

شکل6.13.1: بھوبنیشور کے قریب اُدے گیری غار؛ شکل6.13.2: ہاتھی گمپھا کا کتبہ؛ شکل6.13.3: منقش پینل جس میں رامائن کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

ان غاروں میں سے ایک میں براہمی رسم الخط میں لکھا گیا ہاتھی گُمپھا کتبہ بھی موجود ہے، جس میں راجا کھارویل کی سال بہ سال کامیابیوں کو درج کیا گیا ہے، جس میں اس کی فوجی فتوحات کے ساتھ عوامی بہبود کے لیے کیے گئے فلاحی خدمات بھی شامل ہیں۔ کھارویل یہ بھی فخر سے اعلان کرتا ہے کہ اس نے سیکڑوں مقامات کے ’سادھوئوں اوربھکشوئوں کی کونسل‘ بنائی اور وہ غیر معمولی خوبیوں کا حامل، ہر فرقے کا احترام کرنے والا اور ہر مندر کی مرمت کرنے والاہے۔یہاں ایک بار پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک حکمراں کو تمام مکاتب فکر کو تحفظ بخشنے پر ناز ہے۔ یہی وہ بنیادی جز ہے جسے ہم ’ تہذیبی اخلاقیات‘ کہہ سکتے ہیں۔

اس پر غوروفکر کریں

ان چٹانی کمروں کی موزونیت پر غور کیجیے، جو تقریبا دو ہزار سال پہلے تراشے گئے تھے۔ صرف ایک چھینی اور ہتھوڑے کے ساتھ کاری گروں کے ہنرمیں اتنی قطعیت کیسے آئی؟ تصور کیجیےکہ آپ اس دور کے ایک سنگ تراش ہیں اور اپنے ہاتھوں سے پتھر کو آرٹ میں ڈھال رہے ہیں۔ آپ کون سے اوزاروں کا استعمال کریں گے؟

جنوب کی سلطنتیں اور عوامی زندگی (Kingdoms and Life in the South)

ہندوستان کے جنوبی خطے میں، دوسری اور تیسری صدی قبل مسیح سے لے کر تیسری صدی عیسوی تک کےدور میں تین بڑی سلطنتیں ابھریں: چیر، چول اور پانڈیا۔ جواکثر جنوب پر قبضہ کرنےکے لیے باہم دست و گریباں رہتی تھیں، لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس خطے کی تجارت اور ثقافت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔یاد کیجیےکہ کس طرح اشوک کی سلطنت کو ان جنوبی ریاستوں نے آگےبڑھنے سے روک دیا تھا، (جس کا ذکر اس نے اپنے فرامین میں کیا ہے)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سلطنتیں موریہ اقتدار کے دورِ عروج میں بھی خودمختار رہیں۔ اور اگرچہ کھارویل کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوبی ہند کی سلطنتوں کے اتحاد کو شکست دی جس سے اس کے اپنے علاقے کو خطرہ تھا، لیکن اس جنگ کا مقام نامعلوم ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے جنوبی خطے پر قبضہ بھی نہیں کیا تھا۔

اس پرغوروفکر کریں

اگلے صفحے پر دیے گئے نقشے میں، آپ کو سلطنتوں کے ناموں کے ساتھ مختلف علامتیں نظر آئیں گی۔ آپ کے خیال میں یہ علامتیں کس چیز کی نمائندگی کرتی ہیں؟ غور کیجیے کہ یہ علامات سلطنتوں کی منفرد شناخت کو کس طرح اجاگر کرتی ہیں۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-08-55 gues106.pdf

شکل6.14: جنوب کی سلطنتیں (ملحوظ رکھیے کہ سرحدیں تخمینی ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی ہوتی رہی ہے)۔

اسی دور میں کئی بڑے شعرا پیدا ہوئے جن کی تخلیقات کو اجتماعی طور پر ’سنگم ادب‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے پورے عہد کو‘سنگم عہد’ کا نام دیاگیا ہے۔ سنگم کا لفظ سنسکرت کے ‘سنگھ’سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’انجمن‘، یا ‘جمع ہونا’— یہاں اس سیاق میں، یہ لفظ شاعروں کی انجمن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سنگم ادب، جو جنوبی ہندوستان کا سب سے قدیم ترین ادبی سرمایہ ہے اور نظموں کے متعدد مجموعوں یا دیوانوں پر مشتمل ہے، مؤرخین اُس دور کے معاشرے اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے بکثرت اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر ،سنگم شاعری بڑی ہنرمندی اور لطافت سے جذباتِ عشق اور معاشرتی اقدار جیسے شجاعت اور سخاوت کو بیان کرتی ہے۔

چول (The Cholas)

سنگم ادب میں تین ’تاج دار بادشاہوں ‘کا ذکر ملتا ہے—چول، چیر اور پانڈیا۔ ان میں سے چول ایک طاقت ور خاندان تھا جس نے تیسری صدی قبل مسیح سے تیرہویں صدی عیسوی تک جنوبی ہندوستان کے بڑے حصے پر حکومت کی۔ کہا جاتا ہے کہ چول بادشاہ کریکال نے چیروں اور پانڈیوں کی مشترکہ فوج کو شکست دے کر اپنی بالادستی قائم کی۔


سِلپّدیکارم: پازیب کی کہانی

Screenshot 2026-02-02 at 10-10-04 gues106.pdf

شکل6.15: کنگی کا مجسمہ، چنئی

یہ مشہور رزمیہ(Epic) سنگم ادب کے مجموعوں کے فوراً بعد تخلیق کیا گیا۔ اس میں کنّگی کی داستان بیان کی گئی ہے، جو اپنے شوہر کووَلن کے ساتھ چول سلطنت کے خوش حال دارالحکومت پُہار(جسے آج کی کاویری پٹنم سے پہچانا جاتا ہے) میں خوش وخرم زندگی گزاررہی تھی لیکن کووَلن کو ایک رقاصہ سے محبت ہوگئی اورآخرکار اس نے اپنی ساری دولت اس پر لٹادی۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے پر، وہ کنّگی کے پاس واپس آیا، جس نے اسے معاف کردیا، اس کے بعد دونوں نے نئی زندگی شروع کرنے کی امید میں پانڈیا سلطنت کے دارالحکومت مدورئی کا رخ کیا۔

نئی شروعات کے لیے کنّگی نے کووَلن کو اپنی ایک پازیب بیچنے کے لیے دی۔ لیکن، اس پر چوری کا جھوٹا الزام لگ گیا اورپانڈیا راجا نے اسے پھانسی دے دی۔ تباہ حال، کنّگی نے اپنے دوسرے پازیب کو ظاہر کرکے اپنے شوہر کی بے گناہی ثابت کردی۔ بادشاہ کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ صدمے سے مر گیا۔ اس کے بعد کنّگی نے مدورئی کو بد دعا دی اور آگ کے دیوتا کو پکارا جس نے شہر کوجلاکر تباہ کر دیا۔ پھر اس کے بعد کنّگی مغرب میں چیر سلطنت کی طرف چلی گئی، جہاں اسے دیوی کا درجہ دے کر عزت و اکرام سے نوازا گیا۔ آج بھی تمل ناڈو اور کیرالہ میں کنّگی کی پوجا کی جاتی ہے۔

اس طرح سِلپّدیکارم کی دل نشیں شاعری انصاف کے اصولوں اور حکمراں کے فرائض پر زور دیتی ہے کہ انصاف کا تحفظ کیا جائے۔اس رزمیہ کے ذریعے ہمیں تجارتی ساز و سامان سے مالا مال شہروں، تینوں سلطنتوں اور اس وقت کے مختلف مکاتب فکر کا حسین منظر نامہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس پرغوروفکر کریں

بادشاہ کے مجسمہ کو دیکھیے۔ اسے کس انداز میں دکھایا گیا ہے؟ اس کے بیٹھنے کا انداز، لباس اور چہرے کے تاثرات اس کی طاقت اور حیثیت کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

Screenshot 2026-02-02 at 10-10-52 gues106.pdf

شکل6.16: تمل ناڈو کے گرینڈ اینی کٹ میموریل پارک میں واقع راجا کریکال کا مجسمہ

کریکال نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ان میں سب سے نمایاں کلانائی یا گرینڈ اینی کٹ ہے، جو آب رسانی کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔یہ جغرافیائی طور پر اہم مقام سری رنگم جزیرے کے بالکل نیچے واقع ہے۔ اس نظام سے دریائے کاویری سے پانی کو کاویری ڈیلٹاکے وسطی اور جنوبی حصوں کی طرف موڑنے میں مدد ملی۔ اس کی وجہ سے مزید زمین کو کاشت کاری کے تحت لایا گیا، جس سے اس علاقے کو’جنوب کے چاول کا کٹورا‘(Rice Bowl of South)کا نام ملا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کئی بار مرمت کی گئی، اور یہ اب بھی استعمال میں ہے اور تمل ناڈو کے لاکھوں لوگوں کو آب پاشی کے لیے پانی مہیا کرتا ہے اور اس طرح خطے کی زراعت کو سہارا دیتا ہے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-17-12 gues106.pdf

شکل6.17: کلانائی یا گرینڈ اینی کٹ کا ایک منظر

چیر(The Cheras)

چیرحکمرانوں کو کیرالہ پتر (کیرالہ کے بیٹے) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ انھوں نے تمل ناڈو کے مغربی حصے اور کیرالہ پر حکمرانی کی۔ ان کا دارالحکومت ونجی تھاجو آج تمل ناڈو کا شہر کرور ہے۔ انھوں نے اس خطے کی ثقافتی اور اقتصادی تاریخ کو تشکیل دینےمیں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تمل ادب کی نشو ونما اور سنگم شاعروں کی سرپرستی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

چیرسلطنت اپنے وسیع تجارتی روابط کے لیے جانی جاتی تھی۔ انھوں نے رومی سلطنت اور مغربی ایشیا کے ساتھ سرگرم تجارتی تعلقات قائم کیے اور ہندوستانی مصنوعات بڑی مقدار میں باہر کی دنیا کو بھیجیں۔ یہ سلطنت مسالے، لکڑی، ہاتھی دانت اور موتیوں کی برآمدات کا اہم مرکز تھی۔

اس پرغور و فکر کریں

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ مؤرخین نے کئی صدیاں پہلے دور دراز کے دوسلطنتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کا سراغ کیسے لگایا؟ آئیے کچھ دیر اس پر غورو فکر اور تبادلۂ خیال کریں کہ یہ معلومات کس طرح منظر عام پر آتی ہیں۔

چیر حکمرانوں نے اپنے دورحکومت میں متعدد سکّے جاری کیے۔ کیا آپ یہاں دیے گئے ایسے ہی کسی سکے پر چیر سلطنت کی شاہی علامت دیکھ سکتے ہیں؟

Screenshot 2026-02-02 at 10-18-03 gues106.pdf

شکل6.18: چیر حکمرانوں کے سکے

پانڈیا (The Pandyas)

پانڈیا حکمراں تمل ناڈو کے کچھ حصوں اور آس پاس کے علاقوں پر حکومت کرتے تھے،ان کا دارالحکومت موجودہ مدورئی تھا، پانڈیا سلطنت کی تاریخ کئی صدیوں قبل مسیح پرمحیط ہے۔ایک کے بعد دوسرا حکمراں آتا رہا اور انھوں نے پانڈیا سلطنت کے حدود کو مسلسل وسعت دی۔ یونانی سیاح میگستھینیزنے اپنی کتاب انڈیکا میں اس کا ذکر ایک خوش حال سلطنت کے طور پر کیا ہے، جس کی انتظامیہ مضبوط تھی جو یونانیوں اور رومیوں جیسی دور دراز طاقتوں کے ساتھ فعال تجارت میں مشغول تھی ۔ اس کے علاوہ اس کی بہت وسیع داخلی تجارت بھی تھی (مثال کے طور پر، کھارویل کا کہنا ہے کہ اسے پانڈیا سلطنت سے لائے گئے سیکڑوں موتی حاصل ہوتے ہیں)۔ پانڈیا سلطنت برصغیر کی ایک اہم بحری طاقت بھی تھی۔ بعد کے پانڈیا حکمرانوں نے بھی فنون لطیفہ، فن تعمیر اور علاقے کی مجموعی خوش حالی میں نمایاں حصہ لیا۔

اس پر غوروفکرکریں

پانڈیا حکمراں اپنے موتیوں کے لیے مشہورتھے۔ آپ کے خیال میں موتی اس زمانے میں تجارت کی ایک اہم شے کیوں تھی؟

پانڈیا حکمرانوں نے بے شمار کتبے چھوڑے جن میں ان کے راجاؤں نے اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور تمام مکاتب فکر اور عقیدوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی گہری فکر کا اظہار کیا ہے۔

ہندیونانیوں کی یورشیں (Invasions of the Indo-Greeks)

Screenshot 2026-02-02 at 10-19-30 gues106.pdf

شکل6.19: وِدیشا کے قریب ہیلیوڈورس کا ستون

جنوبی ہندوستان میں اپنا مختصر سفر مکمل کرنے کے بعد، اب وقت ہے کہ شمال کی طرف لوٹا جائے، جہاں ایک بالکل مختلف قسم کی پیش رفت سامنے آنے والی ہے۔ اب تک، ہم نے صرف چند مقامی سلطنتوں کا جائزہ لیا ہے، لیکن اسی دور میں بیرونی حملہ آوروں کی آمد بھی دیکھی گئی جو شمال مغربی سرحد سے داخل ہوئے اور برصغیر کے شمال مغربی، شمالی اور وسطی علاقوں کے اقتدارپر قبضہ کرلیا۔

آئیے سب سے پہلے سندھ کے میدانی علاقوں میں سکندر کی مختصر مہم کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جن علاقوں کو اس نے فتح کیا تھا، وہاں سے واپس جاتے ہوئے، اس نے اپنے
صوبے داروں (Satraps)کو اقتدار سونپ دیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مقامی حکمرانوں نے اپنے اپنے علاقے آزاد کر لیے جنھیں ’ہندیونانی‘کے نام سے جانا جانے لگا۔

موریہ سلطنت کے زوال کے بعد، شمال مغربی علاقوں (قریب قریب موجودہ پاکستان اور افغانستان) کے علاقے ہند یونانیوں کے لیے ایک آسان ہدف بن گئے۔ تاہم، اگرچہ وہ فتوحات کی نیت سے آئے تھے لیکن وہ جلد ہی ثروت مند مقامی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے۔ اس ثقافتی تعامل کے نتیجے میں انتظامیہ، فنون لطیفہ، زبان اور روزمرہ کی زندگی میں یونانی اور ہندوستانی عناصر کا امتزاج پیدا ہوا، جس نے خطے کے ثقافتی منظر نامے کی ایک نئے انداز سے تشکیل کی۔

ودیشا (مدھیہ پردیش) کے قریب ہیلیوڈورس کا ستون اس طرح کے رابطوں کی ایک قابل ذکر مثال ہے۔ اس ستون کا نام ایک ہندیونانی سفیر کے نام پر رکھا گیاہے، جس نے اپنے کتبے میں واسودیو کو دیوتاؤں کا دیوتا قرار دیا تھا۔ اس کتبے میں یہ بھی بیان ہے: ’’تین ابدی اصول (نقوش) [...] جن پر عمل کیا جائے تو وہ جنت کی طرف لے جاتے ہیں: ضبطِ نفس، خیرات، شعور۔‘‘

شمالی ہندوستان کی کھدائی میں آثار قدیمہ کے ماہرین نےبہت سے ہندیونانی سکے دریافت کیے ہیں، جن سے ان حکمرانوں کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ سکے سونے، چاندی، تانبے اور نکل(Nickel)دھات سے بنے ہوئے تھے جن میں اکثر ایک طرف بادشاہ کی تصویر اور دوسری طرف یونانی دیوتاؤں کی تصویر کندہ ہوتی تھی۔ لیکن کچھ سکّوں پر اس کے بجائے ہندوستانی دیوتاؤں جیسے واسودیوکرشنا اور لکشمی بھی دکھائے گئے ہیں۔

ہندیونانیوں کی حکمرانی کا خاتمہ سیتھین یا شَکوں کے حملوں کے ساتھ ہوگیا (جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے)۔

آئیے معلوم کریں

آپ کے خیال میں کچھ ہند یونانی سکوں پر واسودیو کرشنا یا لکشمی جیسی دیوی دیوتاؤں کی تصاویر کندہ کرنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟

Screenshot 2026-02-02 at 10-21-28 gues106.pdf

شکل6.20: ایک ہند یونانی چاندی کا سکہ جس کے ایک طرف واسودیوکرشنا کی شبیہ کندہ ہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

شَک (جنھیں بعض اوقات ہند سیتھیائی بھی کہا جاتا ہے) نے بھی برصغیر کے شمال مغربی حصے پر حملہ کیا تھاجس نے دوسری صدی قبل مسیح کے اواخر سے لے کر پانچویں صدی عیسوی تک یہاں حکومت کی۔ ہندیونانیوں کے بعد ان کی سلطنتیں برسرِاقتدار ہوئیں اور انھوں نے کشان کی آمد تک حکومت کی(نیچے دیکھیے)۔ اسی دور میں شک سموت کیلنڈر تیار کیا گیا ۔ یہ گریگورین کیلنڈر سے 78 سال پیچھے ہے (سوائے جنوری مارچ سے، جب یہ 79 سال پیچھے ہوتا ہے)۔ اسے 1957 میں ہندوستانی قومی کیلنڈر کے طور پر اپنایا گیا تھا۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-21-58 gues106.pdf

شکل6.21: غور کیجیے کہ حکومت ہند کی اس سرکاری گزٹ پر گریگورین اور شک سموت دونوں ادوار میں تاریخیں کس طرح فراہم کی گئی ہیں۔

کُشانوں کا ظہور (The Emergence of the Kushanas)

کُشان جو بنیادی طور پر وسطی ایشیا سے آئے تھے، شاید دوسری صدی عیسوی میں ہندوستان میں داخل ہوئے۔ اپنے عروج پر، ان کی سلطنت وسطی ایشیا سے لے کر شمالی ہندوستان کے بڑے حصوں پر محیط تھی۔ ان کی حکومت وسیع پیمانے پر ثقافتی میل جول اور اختلاط کا ایک نیا دور لے کر آئی، جس نے برصغیر کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

جب بادشاہ کَنِشک اپنی فوجی مہمات میں مصروف نہ ہوتا تو وہ فنون لطیفہ اور ثقافت کی حوصلہ افزائی کرتا۔ یہی حوصلہ افزائی نئے فن پاروں اور اسالیب کی تخلیق کا باعث بنی۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-25-50 gues106.pdf

شکل6.22: راجا کنشک کابے سر کا مجسمہ

آئیے معلوم کریں

اس دیوقامت مجسمے (1.85 میٹر اونچے)کا بہ غور مشاہدہ کیجیے۔ اس کے لباس، ہتھیار اور جوتوں کو دیکھیے۔ ان سے ہمیں اس مجسمے کے بارے میں کیا پتہ چلتاہے؟

یہ’بے سر‘ کا مشہور مجسمہ بادشاہ کنشک کا ہے، جو شاید کُشان خاندان کا سب سے طاقت ور حکمراں تھا۔ مجسمے پر براہمی میں یوں لکھا ہے، مہاراجا راجا دھیراج دیو پتر کنشک“، یعنی ’عظیم راجا، راجاؤں کا راجا، دیوتاکا بیٹا، کنشک۔‘

آئیے معلوم کریں

سکّوں کا بغور مشاہدہ کیجیے۔ سکّوں پر حکمراں کے علاوہ اور کون نظر آرہاہے؟

Screenshot 2026-02-02 at 10-26-52 gues106.pdf

شکل6.23: کنشک کے سکّے

پہلے سکّے میں کنشک کو ’راجاؤں کا راجا‘ کے لقب کے ساتھ ایک نیزہ تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ دوسرے رخ پر مہاتما بدھ کی شبیہ کندہ ہے اور یونانی رسم الخط میں BOΔΔO (بدھا) لکھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ دوسرے سکّے میں ایک جانب ایک حکمراں ہے اور دوسری جانب نندی بیل کے ساتھ شیو کی شبیہ ہے۔ آئیے مندرجہ ذیل پر غور و فکر کریں:

  • ایک طاقت ور حکمراں اپنے سکّوں پر مہاتما بدھ اور شیو کی تصویر کیوں نقش کرواتا ہوگا؟ یہ اس کی ترجیحات و اقدار کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
  • کیا آپ ایسی علامتی کرنسی کی جدید مثالیں تلاش کرسکتے ہیں؟

کُشان حکمرانوں نے شاہراہ ریشم کے بڑے حصے (اگلے صفحے پر) پر قابض رہ کر تجارت کو فروغ دیا، جس سے ہندوستان ایشیا اور مغرب کے دیگر حصوں سے جڑ گیا۔

ہندیونانی حکمرانوں کے دور میں قائم کردہ رجحان کو جاری رکھتے ہوئے، کُشانوں کے عہد میں فن تعمیر اور فنِ مجسمہ سازی نے نئی جہت اختیار کی، جس کی مثال گندھار اور متھرا مکاتب فکر کے فنون لطیفہ سے ملتی ہے، اسے ہندوستانی اور یونانی طرز کے امتزاج کے لیے سراہا جاتا ہے۔ اس دور کے مجسموں میں مختلف قسم کے دیوی دیوتاؤں کو دکھایا گیا ہے جو مختلف نظریاتی مکاتب فکر کے پُرامن بقائے باہمی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس دور میں سوریہ یا سورج دیوتا جیسے دیوتاؤں کی نمائندگی میں اضافہ دیکھا گیا جو انسانی خدوخال سے زیادہ مماثلت رکھتے تھے۔یہی روایت بعد میں برصغیر میں مندروں کی تعمیر اور مذہبی فنون کے فروغ کی بنیاد بنی۔

پنجاب کے مغربی علاقوں میں ابھرنے والے ’گندھاراسکول آف آرٹ ‘نے یونانی رومی عناصر کو ہندوستانی خصوصیات کے ساتھ ضم کردیا۔ اس روایت کے زیادہ تر مجسمے سرمئی سیاہ رنگ کے پتھر پر انتہائی باریک کاری گری کے ساتھ تراشے گئے تھے۔ خاص طور پر مجسمہ سازوں نے حقیقی جسمانی تناسب اور ڈھیلے ڈھالے لباس میں بدھ کے نفیس مجسمے تراشے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-28-06 gues106.pdf

شکل 6.24: ’گندھار اسکول آف آرٹ‘ سے تعلق رکھنے والے بودھی ستو (یا مستقبل کے بدھ) کا سر ۔ نوٹ کیجیے کہ اس میں ہندوستانی اور یونانی دونوں خصوصیات نمایاں ہیں۔

اس پر غوروفکرکریں

کیا آپ جانتے ہیں کہ گندھار کہاں واقع ہے؟ کیا یہ نام آپ کو مہابھارت کے کسی کردار کی یاد دلاتا ہے؟

Screenshot 2026-02-02 at 10-28-50 gues106.pdf

شکل6.25: قدیم زمانے کے چند تجارتی راستے۔ سبز رنگ میں نشان زد نیٹورک شاہرہ ریشم کو ظاہر کرتا ہے جو چین کو بحیرۂ روم کی دنیا سے جوڑتا تھا اور وسطی ایشیا ایران وغیرہ سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا تھا۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-29-27 gues106.pdf Screenshot 2026-02-02 at 10-29-44 gues106.pdf

شکل6.26: ‘متھرا اسکول آف آرٹ’سےکُبیر ’دولت‘کےدیوتا کا مجسمہ۔ کیا آپ نے اس کی نمایاں مونچھوں پر توجہ دی؟ مونچھیں بعض ہندوستانی مجسموں کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔

’متھرا اسکول آف آرٹ‘ کا ارتقا موجودہ اتر پردیش کے متھرا خطے میں ہوا اور اپنی خالص ہندوستانی خصوصیات کے لیے مشہور ہوا۔ گندھار اسکول آف آرٹ کے برعکس، اس میں بنیادی طور پر مجسموں کے لیے سرخ ریتیلے پتھر کا استعمال کیا گیا۔ اس پر یونانی رومی جمالیات کے اثرات کم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ فن ہندوستانی دیوتاؤں بشمول کُبیر، لکشمی، شیو، بدھ، یکش اور یکشینیوں کی عکاسی کے لیے جانا جاتا ہے، جن میں عام طور پر بھرپور جسمانی خدوخال اور ہموار تراش خراش دکھائی دیتی ہے۔

آئیے معلوم کریں

اب جب کہ آپ متھرا اور گندھارکے اسکول آف آرٹ کی بنیادی خصوصیات سے واقف ہوچکے ہیں، تو بائیں صفحے پر دی گئی شکل6.27 میں دکھائے گئے نوادرات کی تصاویر کو غور سے دیکھیے اور یہ شناخت کرنے کی کوشش کیجیے کہ کون سا فن پارہ کس اسکول آف آرٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے مشاہدات کو جواز کے ساتھ لکھیے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ اپنے جوابات پر تبادلۂ خیال کیجیے۔

سیاسی تنازعات اور اقتدار کی کشمکش کے باوجود، اس دور میں قابل ذکر ثقافتی تبادلے اور امتزاج دیکھنے کو ملے۔یہ مشترکہ ورثہ فن اور تعمیرات میں نمایاں ہے، جہاں مختلف اسالیب ایک دوسرے سے گھل مل گئے، مگر غالب رنگ ہندوستانی ہی رہا (خاص طور پر ہندو اور بودھ موضوعات کا)۔ یہی وہ دور تھا جب سنسکرت ادب نے بھی عروج پایا، خاص طور پر مہابھارت اور رامائن جیسے ہندوستانی تہذیب کے عظیم متون کی تخلیق اسی دور میں ہوئی۔ (گریڈ 6 کی اپنی درسی کتاب کے باب ’کثرت میں وحدت یاایک میں اَنیک‘دیکھیے)۔

ان روابط کی شناخت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ’ماضی کےیہ رنگا رنگ نقوش‘کسی ایک سلطنت یا حکمراں تک محدود نہیں تھے، بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل تھا جو باہمی تبادلے اور امتزاج کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-30-23 gues106.pdf

شکل6.27.1: بدھ کے وصال کا ایک منظر؛ شکل6.27.2: بودھی ستو میتریہ؛ شکل6.27.3: شیولنگ کی پوجا کرتے کشان عقیدت مند؛ شکل6.27.4: دو ناگنوں کے درمیان ایک ناگ جس میں کتبے پر کنشک کی حکومت کے آٹھویں سال کا ذکر ہے؛ شکل6.27.5: کارتیکیہ (جنگ کا دیوتا) اور اگنی (آگ کی دیوی)؛ شکل6.27.6: قیام کی حالت میں بدھ۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-31-10 gues106.pdf

شکل6.28

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں...

  • موریہ سلطنت کے زوال کے بعد برصغیر میں بڑی اور چھوٹی کئی سلطنتیں ابھریں۔
  • اندرونی خانہ جنگیوں کے ساتھ غیر ملکی حملے بھی ہوئے، جنھوں نے سیاسی طاقتوں کی ازسرِ نو تنظیم کی راہیں ہموار کیں۔
  • اس دور میں مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمہ ہوا اور ایک دوسرے کا اثر قبول کیا، جس کے نتیجے میں فن، تعمیرات، سکوں وغیرہ میں نئے انداز سامنے آئے۔ البتہ ہندوستانی موضوعات کا غلبہ رہا اورسنسکرت ادب بھی پروان چڑھا۔
  • یہ عہد اندرونی اور بیرونی تجارت کی شان دار ترقی کے لحاظ سے بھی یاد گار ہے۔

سوالات اور سرگرمیاں

1. موریہ سلطنت کے بعد کے دور کو تنظیم نو کے دور کے طور پر کیوں جانا جاتا ہے؟

2. سنگم ادب پر 150 الفاظ میں ایک تبصرہ لکھیے۔

3. اس باب میں مذکور وہ کون سے حکمراں تھے جنھوں نے اپنے القاب میں اپنی ماں کا نام شامل کیا اور ایسا کرنے کی وجہ کیا تھی؟

4. اس باب میں دی گئی سلطنتوں میں سے کسی ایک پر جو آپ کو دل چسپ لگی ہو، 250 الفاظ میں ایک مضمون لکھیے۔وضاحت کیجیے کہ آپ نے اسے کیوں منتخب کیا۔ کلاس میں اپنی تحریر پیش کرنے کے بعد، دیکھیے کہ آپ کے ساتھیوں نے کس سلطنت کا انتخاب سب سے زیادہ کیا۔

5. تصورکیجیے کہ آپ کے پاس اپنی سلطنت بنانے کا موقع ہے۔ آپ کون سا شاہی نشان منتخب کریں گے اور کیوں؟ آپ حکمراں کی حیثیت سے کون سا لقب اختیار کریں گے؟ اپنی سلطنت کے بارے میں ایک مختصرمضمون لکھیے، جس میں اس کے اقدار، قواعد و ضوابط اور کچھ انوکھی خصوصیات شامل ہوں۔

6. آپ نے اس باب میں موریہ عہد کے بعد کی تعمیرات کے بارے میں پڑھا ہے۔ برصغیر کے جغرافیائی خاکے میں ان کی تاریخی عمارتوں کے مقامات کو نشان زد کیجیے جن کا اس باب میں ذکر کیا گیا ہے۔

Screenshot 2026-02-02 at 10-31-50 gues106.pdf