باب 7
گپت عہد : لازوال تخلیقی دور
(The Gupta Era: An Age of Tireless Creativity)
برائی کا خاتمہ نہ طاقت کے بل پر کیا جاسکتا ہےاور نہ ہی صرف سفارت کاری سے اور نہ ہی صرف چاپلوسی سے نیکی کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔ ایک سلطنت کی حقیقی طاقت دراصل دولت یا عیش و عشرت میں نہیں بلکہ دانائی اور علم کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔
— ’رگھوونشم ‘ از کالی داس
شکل7.1: اجنتا کے غاروں کا منظر، جو دوسری صدی قبل مسیح سے لے کر تقریباً 480 عیسوی تک تعمیر ہوتے رہے۔
اہم سوالات
- گپت کون تھے؟ گپت دور کو بعض اوقات ‘ہندوستانی تاریخ کا کلاسیکی دور’ کیوں کہا جاتا ہے؟
- اس وقت برصغیر کے باقی علاقوں میں کس طرح کی تبدیلیاں ہو رہی تھیں؟
- اس دور کی چند نمایاں شخصیات کون تھیں اور ان کے حالات و واقعات آج بھی کیوں اہمیت رکھتے ہیں؟
دھرو اور بھویشا ابھی ابھی پانڈیا سلطنت کے سفر سے واپس لوٹے تھے۔ وہاں انھوں نے شان دار بازار دیکھے۔ ایک مختصر بحری سفر کیا، اور کچھ رومی تاجروں سے ملاقات کی جو موتی خریدنے آئے تھے۔اب وہ پھر سے’اِتِہاس‘کو استعمال کرنے اور چند صدیوں کا سفر کرنے کے لیے بےتاب تھے۔وہ حیران تھےکہ’’وہ زمانہ کیسا رہا ہوگا؟ کیا شہر ویسے ہی رہے ہوں گے، جیسے اب ہیں؟معاشرہ اور لوگ کس حد تک بدل چکے ہوں گے؟ ان کی حکومتیں کیسی رہی ہوں گی؟ کیاوہاں کوئی نیا ادب، نئےفنونِ لطیفہ دیکھنے کو ملیں گے؟‘ ‘ یہ سب جاننے کے لیے وہ مزید انتظار نہیں کرسکتے تھے’ اور تبھی ‘اِتِہاس’ انھیں نئے دور کی طرف لے کر چل پڑا...
شکل7.2: تیسری سے چھٹی صدی عیسوی کے درمیان کی سلطنتیں اور ریاستیں۔
بھویشا : میرا سر گھوم رہا ہے، اتنی ساری سلطنتیں اور بادشاہتیں ہیں، میں یہ سب کیسے یاد رکھوں گی؟
دھرو: فکر نہ کرو، بھویشا! آؤ ہم پہلے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس وقت کا کیا ہو رہا تھا ، پھر ہمیں خود یاد ہوجائے گا۔
بھویشا : کیا اس دور میں کوئی چیزایسی ہے جسے ہم اپنے گھر کے آس پاس بھی دیکھ سکتے ہیں؟
دھرو: آؤ ہم اپنی ٹائم مشین استعمال کرتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں!
(بھویشا نے ‘اِتِہاس’کو فعال کیا اور وہ دونوں دہلی کے مہرولی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں، جہاں دہلی کا مشہور ’آہنی ستون‘ ایستادہ ہے۔
وہ قریب سے ایک سیاحتی رہنما(Tour Guide)کی آواز سنتے ہیں، جو اس ستون کی اہمیت بیان کر رہا تھا۔
شکل7.3: آہنی ستون، مہرولی، دہلی
سیاحتی رہنما : یہ دہلی کا آہنی ستون سولہ سو سال سے زیادہ پرانا ہے اور آج تک زنگ آلود نہیں ہوا۔یہ قدیم ہندوستان کی دھات سازی کا ایک زندہ نمونہ ہے۔
بھویشا: سولہ سو سال پرانا اور اب تک زنگ آلود نہیں ہوا! آؤ چل کر اسے دیکھتے ہیں۔
بھویشا: دیکھو! کیا یہ وہی مشہور ’آہنی ستون‘ ہے؟
دھرو : اوہ، واہ! اس پر کچھ لکھا ہوا ہے، مگر میں پڑھ نہیں پا رہا۔
بھویشا : میں حیرت میں ہوں یہ کس نے بنایا ہوگا اور کیوں؟ آؤ چل کر دیکھیں گائڈ انکل اس کے بارے میں کیا کہنے والے ہیں۔
سیاحتی رہنما : یہ چھےٹن وزنی ستون گپت خاندان کے حکمراں چندرگپت دوم کے دور حکومت میں شاید سب سے پہلے اُدے گیری غاروں (مدھیہ پردیش) کے سامنے نصب کیا گیا تھا اور چند صدیوں بعد دہلی لایا گیا۔یہ ستون وشنو کے نام وقف تھا اور اس پر کندہ تحریروں میں بادشاہ کی فتوحات اور کارنامے درج ہیں۔
دونوں : یہ تو بہت دل چسپ ہے! ہم اس بادشاہ اور اس کی سلطنت کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔
آئیے! گپت سلطنت کی تاریخ کا یہ دل چسپ سفر شروع کرتے ہیں۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ذرا تصور کیجیے، اگر کوئی سائیکل ایک سال کے لیے بارش میں کھلی چھوڑ دی جائے تو اس پر جلد ہی زنگ کی علامات ظاہر ہوجائیں گی۔ لیکن یہ قدیم ستون، صدیوں سے کھلے آسمان کے نیچے ایستادہ ہے اور آج تک ویسا ہی ہے۔سائنس دانوں نے اس کے راز کو جاننے کی کوشش کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک منفرد باریک تہہ کی وجہ سے ہے، جو خاص قسم کے لوہے اور ہوا میں موجود آکسیجن کے ملاپ سے بنتی ہے۔ یہ تہہ لوہے کی سطح پر بن کر اسے زنگ لگنے سے محفوظ رکھتی ہے۔
ایک نئی طاقت کا ظہور (A New Power Emerges)
تیسری صدی عیسوی تک، برصغیر کے شمالی اور شمال مغربی حصوں میں پھیلی ہوئی کُشان سلطنت کمزور ہونے لگی۔ اس کے ساتھ ہی نئی ریاستیں وجود میں آنے لگیں اور ایک نئے اتحاد و استحکام کے دور کا آغاز ہوا۔ اسی دور میں ایک نئی طاقت گپت خاندان کی شکل میں اُبھر کر سامنے آئی۔
گپت خاندان کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔تاہم عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ وہ موجودہ اتر پردیش کے قریب کہیں علاقائی حکمراں کے طور پر اُبھرا۔وقت کے ساتھ ساتھ طاقت ور بن کراس نے ایک عظیم سلطنت قائم کی۔گپت عہد کو ہندوستان کی تاریخ میں ایک شاندار دور سمجھا جاتا ہے۔ یہ کئی شعبوں میں نمایاں ترقی سے عبارت ہے،جس میں فنونِ لطیفہ ، تعمیرات، ادب اور سائنس کے شعبوں میں بڑی ترقی ہوئی۔خصوصاً چندرگپت دوم کے دور میں یہ ترقی اپنے عروج پر پہنچی اور اس کی وراثت آج تک قائم ہے۔
دہلی کے آہنی ستون پر کندہ تحریر ایک بادشاہ’ چندر‘ کا ذکر کرتی ہے،جسے مؤرخین نے چندرگپت دوم سے منسوب کیا ہے۔ (یاد رہے کہ اسے موریہ سلطنت کے چندر گپت موریہ سےخلط ملط نہیں کرنا چاہیے جس سےہم پہلے مل چکے ہیں)۔چندرگپت دوم کو وکرمادتیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے وہ گپت خاندان کے مشہور حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ وہ وِشنو کےبھکت تھے اور ان کا نشان گروڑ (وشنو کی سواری) اکثر ان کے کتبوں میں دکھائی دیتا ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
کیا آپ نے ’چندرگپت دوم‘ کے نام میں موجود‘دوم’ پر غور کیا؟مؤرخین نے اسے امتیازی حیثیت اس لیے دی ،کیوں کہ ان سے پہلے بھی ایک چندرگپت گزرے تھے ،یعنی ان کے دادا!(بعض ہندوستانی خاندانوں میں آج بھی پہلے بیٹے کا نام دادا کے نام پر رکھا جاتا ہے۔) چندرگپت اوّل کہلانے والے اس بادشاہ نے گپت سلطنت کی ابتدائی توسیع میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنے سکوں اور حکمتِ عملی پر مبنی معاہدوں کے لیے مشہور تھے، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنی طاقت کو مستحکم کیا اور ایک مضبوط سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔
شکل7.4: ایک بیٹھی ہوئی دیوی کی تصویر ہے، جسے لکشمی سمجھا جاتا ہے؛دوسری جانب سونے کا سکہ، جس پر بادشاہ چندرگپت اول اور ان کی ملکہ کمار دیوی کی شبیہ کندہ ہے۔
جنگجو بادشاہ (The warrior king)
پریاگ پرشستی، یعنی پریاگ راج میں نصب ایک ستون پر کندہ تحریرمیں سمدرگپت یعنی چندرگپت دوم کے والدکی فتوحات کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس کتبے کے مصنف، درباری شاعر ہری سین کے مطابق،بادشاہ کا مقصد ’دھرنی بندھ‘ہونا تھا، یعنی پوری زمین کو متحد کرنا تھا۔اسی مقصد کے تحت اس نے بہت سی جنگیں لڑیں اور متعدد بادشاہوں کوشکست دی۔ان کی سلطنتوں پر قبضہ کیااوراپنی سلطنت کو وسیع تر کیا۔ کئی مغلوب حکمرانوں کو دوبارہ ان کے تخت پر بحال کیا گیا، لیکن شرط یہ تھی کہ وہ سمدرگپت کو خراج اداکرتےرہیں۔ جب کہ کچھ حکمراں تو سمدرگپت کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر بغیر کسی مزاحمت کے ہی اطاعت گزار ہو گئے۔
ہری سین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بادشاہ نے کس طرح اپنی سلطنت کو خوش حال اور کامیاب بنانے کے لیے علوم و فنون اور تجارت کی سرپرستی کی۔ یہاں تک کہ سمدرگپت نے خود بھی اپنے ایک سکے پر وینا بجانے والے فن کار کی حیثیت میں اپنی تصویر کندہ کروائی۔(شکل 7.6)
شکل7.5: ہری سین کی کندہ تحریر
اس پرغوروفکرکریں
آپ کے خیال میں بادشاہوں نےاپنی فتوحات اور کارناموں کو کتبوں کی صورت میں کیوں درج کرایا؟
شکل7.6: دیوی لکشمی کی تصویر؛ دوسری طرف سمدرگپت کی بیٹھی ہوئی حالت میں وینا بجاتے ہوئے شبیہ
یادرکھیں
بلند حوصلہ بادشاہ اکثر اشومیدھ یگیہ انجام دیتے تھے،تاکہ اپنی عظیم سلطنت کو مضبوط کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک شان دار ورثہ چھوڑ کر جائیں۔ایسے اہم موقع کی یادگار کے طور پر خصوصی سکے جاری کیے جاتے تھے،جیسا کہ شکل 7.7 میں دکھایا گیا ہے۔
شکل7.7: اس سکّے میں اشومیدھ یگیہ میں استعمال کیے گئے گھوڑے کو دکھایا گیا ہے۔ سکے کے دوسری طرف ملکہ کو ایک چنور(مکھی اڑانے والا پنکھا) پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
کچھ ادبی مآخذ ہمیں حکمرانوں، سلطنتوں اور عوام کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، وشنو پُران میں گپت سلطنت کے اہم علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے:’’گپت خاندان انوگنگا (وسطی گنگا کا میدان)، پریاگ (موجودہ پریاگ راج)، ساکیت (ایودھیا)، اور مگدھ (تقریباً موجودہ بہار) اور ان کے آس پاس کے علاقوں پر حکومت کرےگا۔‘‘لیکن حقیقت میں جب گپت سلطنت اپنے عروج پر تھی۔تو وہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی تھی۔ اس میں موجودہ شمالی اور مغربی ہندوستان کے بیش ترحصوں کے ساتھ ساتھ وسطی اور مشرقی ہندوستان کے کچھ علاقے بھی شامل تھے۔
آئیے معلوم کریں
گریڈ6 کے باب ’تاریخ کی وقوعی ترتیب اور اس کے مآخذ‘ میں ہم نے کئی تصانیف کاذکر کیا جو ہمیں ماضی کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ اس باب میں اب تک جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی ایک فہرست تیار کیجیے۔ ہر ماخذ سے ہم نے کیا سیکھا؟ اس پر غور کیجیے۔
ذرا تصور کیجیے کہ ایک پوری فوج مثلاً سپاہیوں، ہاتھیوں، گھوڑوں، باورچیوں اور دیگر معاون عملے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنااور اسی کے ساتھ ساتھ انھیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کرناکتنا بڑا کام ہوتا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ خراج دینے والے بادشاہوں سے کہا جاتا ہوگا کہ وہ ان سب اخراجات کا بندوبست کریں۔
آئیے معلوم کریں
ہندوستان کا ایک سیاسی نقشہ لیجیے اور ان موجودہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نشان زدکیجیے جہاں گپت حکمرانوں نے حکومت کی (شکل 7.8دیکھیے)۔ان ریاستوں کو نقشے پر نشان زد کیجیے اور شمار کیجیے کہ آپ نے کتنے مقامات دریافت کیے۔پھر اپنے نتائج کا موازنہ اپنے دوستوں کے نتائج سے کیجیے اوردیکھیے کہ کیا سب نے ایک ہی تعداد نکالی یا کسی نے اس سے اختلاف کیا!
شکل7.8: گپت سلطنت کی حدود۔غور کیجیے کہ واکاٹک حکمراں گپت سلطنت کے حلیف تھے۔ گپت حکمرانوں نے مشرقی ساحل کے کچھ حصوں کو فتح کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حتیٰ کہ پلّو حکمرانوں کو بھی شاید انھوں نے کچھ وقت کے لیے زیرِنگیں کیا تھا۔
گپت عہد میں ہندوستانی معاشرہ ایک سیاح کی نظر سے
(A Traveller’s Account of Indian Society in the Gupta Age)
چینی سیاح فاہیان (جس کا تلفظ کبھی کبھی فا-شی-آن بھی کیا جاتا ہے) نے پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہندوستان کا سفر کیا۔اس نے یہ طویل اور مشکل سفر بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت،نامور ہندوستانی دانش وروں سے علم حاصل کرنے اور بدھ مت کے مقدس متون کے نسخے اکٹھا کرنے کے لیے کیا،تاکہ وہ انھیں چین واپس لے جا سکے۔فاہیان نے پورے ہندوستان کا سفر کیا۔ ثقافت، طرزِ حکومت اور سماجی زندگی کا مشاہدہ کیااور اپنے تجربات کو اپنے ہم وطنوں کے لیے تحریر بھی کرلیا۔ خوش قسمتی سے اس کا یہ سفرنامہ آج تک محفوظ ہے جس کے ذریعے ہم اس عہد کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔
ذیل میں اس کے سفرنامے سے ایک اقتباس پیش کیا گیا ہے، جس میں اس نے گپت دور کے معاشرے سے متعلق اپنے مشاہدات درج کیے ہیں ۔
یہاں لوگ بے شمار ہیں اور خوش حال ہیں [...]انھیں گھروں کا اندراج کروانے اور سرکاری اہل کاروں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے [...] جو لوگ شاہی زمین پر کھیتی کرتے ہیں، اناج کا ایک حصہ دیتے ہیں [...] بادشاہ کے محافظوں اور خادموں کو تنخواہ دی جاتی ہے[...] یہاں وسطی سلطنت (یعنی گنگا کے میدان)کےشہر عظیم ترین ہیں اور یہاں کے لوگ دولت مند، خوش حال اور راست باز ہیں۔ ویشیہ خاندانوں (یعنی تاجر طبقہ) کے سربراہ خیرات اور علاج کے لیے عمارتیں قائم کرتے ہیں [...]غریبوں، یتیموں اور مریضوں کا خیال رکھا جاتا ہے [...]طبیب علاج فراہم کرتے ہیں، اور ضرورت مندوں کو خوراک اور دوائیں ملتی ہیں [...]شہر میں بہت سے مال دار و یشیہ بزرگ اور غیر ملکی تاجر بستے ہیں،جن کے مکانات خوب صورت ہیں [...]گلیاں بھی صاف اور منظم رہتی ہیں۔
— بودھ سلطنتوں کا ریکا رڈ (399سے414عیسوی)
(ترجمہ: جے۔ لیگ)
آئیے معلوم کریں
مندرجہ بالا اقتباس پڑھ کر شناخت کیجیے کہ فاہیان نے اُس زمانے کے معاشرے کے کن اہم پہلوؤں کو بیان کیاہے؟اپنے مشاہدات تحریر کیجیے اور اپنے نکات کا دوستوں سے موازنہ کیجیے۔ آپ یہ دیکھ کرشاید حیران ہوں کہ دوسرے لوگ اسی متن کی کس قدر مختلف انداز میں تشریح کرتے ہیں!
تاریخی دستاویزات سے اقتباسات، جیسے فاہیان کا سفرنامہ، نہایت قیمتی مآخذ ہیں، لیکن یہ صرف مصنف کے نقطۂ نظر کو اورمخصوص وقت کے سماج کی کسی محدود جھلک کو بیان کرتے ہیں۔تاہم، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اپنے سفرنامے میں فاہیان نے ذات باہرسمجھے جانےوالے اور شہر کے حدود سے باہر رہنے والے چنڈالوں کا بھی ذکرکیا ہے جن کے ساتھ سخت برتاؤ کیا جاتا تھا۔
جیسے آپ نے فاہیان کے سفرنامے کے اقتباس کو اپنے دوستوں سے مختلف انداز میں سمجھا اسی طرح مؤرخین کا ایک گروہ ایک ہی ماخذ کو پڑھ کر اس کی تشریحات مختلف انداز میں کرتاہے۔ اس کے بعد مؤرخین اپنے تجزیے کو تقویت دینے کے لیے مزید ماخذ دیکھتے ہیں۔یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعدد مآخذ، نقطہ ٔنظر اور تشریحات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
گپت سلطنت کی جھلکیاں (Glimpses of the Gupta Empire)
حکمرانی اور انتظامیہ (Governance and Administration)
آئیے سب سے پہلے شکل 7.8 کے نقشے پر نظر ڈالیں۔آپ دیکھیں گے کہ اس دور میں کئی سلطنتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔ان میں سے بعض ایک دوسرے کے ساتھ جنگ میں بھی مصروف رہتی تھیں تاکہ اپنے علاقے کو بڑھا سکیں۔ یاد کیجیےکہ ہم نے پہلےحکومت چلانے سے متعلق کوٹلیہ کے خیالات کو دیکھا تھا۔اس نے حکمرانوں کوسپتانگ کے ساتویں جز کے طور پر مترکے تحت دوسروں سے اتحاد کا مشورہ دیا تھا۔
نئے بادشاہ... نئے خطابات
کتبے اور سکّے گپت حکمرانوں کے اختیارکردہ خطابات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ گپت حکمراں اپنے آپ کو مہاراجا دھیراج، سمراٹ، اور چکرورتی وغیرہ کہلواتے تھے ۔یہ خطابات ان کے بلند اختیارات کے دعوے کو ظاہرکرتے ہیں اور ان سے پہلے کے حکمرانوں کی بہ نسبت ان کی برتری کو ظاہر کرتے ہیں جو نسبتاً سادہ القابات و خطابات جیسے راجہ اور مہاراجہ کا ہی استعمال کرتے تھے۔
گپت حکمرانوں نے اپنی وسیع سلطنت کو پھیلانے اور مستحکم کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا سہارالیا، جن میں جنگی فتوحات، سفارت کاری، اور اتحاد شامل تھا۔ان میں ایک طریقہ ازدواجی اتحاد کا بھی تھا۔ اس کی ایک معروف مثال چندر گپت دوم کی بیٹی پربھاوتی گپت کی ہے جس نے واکاٹک سلطنت کے ایک شہزادے سے شادی کی۔جو جنوب میں گپت سلطنت کا پڑوسی تھا۔بدقسمتی سے واکاٹک کے شہزادے کا انتقال جلد ہی ہوگیا ۔ اس کے بعد پربھاوتی گپت کو سلطنت کا عارضی حکمراں بننا پڑا۔اس کی حکمرانی کے دوران، اس نے یقینی بنایا کہ واکاٹک اور گپت سلطنتوں کے درمیان تعلقات مستحکم رہے ۔ ایک کتبے میں انھیں ’دو بادشاہوں کی ماں‘ کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے دونوں بیٹے واکاٹک کے تخت پر بیٹھے۔ اپنے والد کی طرح پربھاوتی گپت بھی وشنو کی عقیدت مند تھیں اور ان کے دور میں وشنو اور ان کے اوتاروں کے نام پر سات مندر تعمیر کیے گئے۔ ان مندر میں سے چندرام گیری (رامٹیک پہاڑی) پر موجود ہیں، جو موجودہ مہاراشٹر میں واقع ہیں۔
ذات باہر (Outcastes):
ایسے افراد جو کسی سماجی یا ثقافتی گروہ سے نکال دیے گئے ہوں، اس مخصوص صورت میں ایسے لوگ جو اتنے کم تر سمجھے گئے کہ انھیں ورن (ذات پات) کے نظام کا حصہ بھی نہیں مانا گیا۔
عارضی حکمراں
(Regent Ruler):
وہ حکمراں جو کسی بادشاہ کی غیر موجودگی میں سلطنت کا انتظام سنبھالتا ہے، یہاں تک کہ اصل بادشاہ دوبارہ حکومت کرنے کا انتظام سنبھالنے کے قابل ہوجائے۔
شکل7.9: کیوالا نرسمہا مندرجسے وشنو کے ایک اوتار نرسمہا کومعنون ہے۔بعض مؤرخین کا ماننا ہے کہ یہ مندر پربھاوتی گپت کی بیٹی نے اپنی ماں کی یاد میں تعمیر کرایاتھا۔
آ ئیے معلوم کریں
پربھاوتی گپت کی تصویر (شکل 7.10) میں اسے اپنے دربار میں بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے اہم نکات کو لکھیے— اس کی پوشاک، ظاہری جسمانی کیفیات، اس کے اطراف کے لوگ، دربار کا ماحول۔ یہ ساری چیزیں اس کی زندگی، اس کے کردار اور اس کے عہد کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتی ہیں؟اپنے مشاہدات کے بارے میں گروپ میں گفتگوکیجیے اور جماعت کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔
شکل7.10: ایک فن کار کی تخیلی تصویر جس میں پربھاوتی گپت کو اس کے دربار میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
گپت سلطنت میں انتظامیہ بہت منضبط تھی۔ انھوں نے تمام انتظامی اختیارات کو مرکز سے کنٹرول کرنے کے بجائے سلطنت کو مختلف صوبوں میں تقسیم کیا اور مقامی حکمرانوں، پجاریوں اور سرداروں کو زمینیں عطا کیں۔ ان عطا کردہ زمینوں کی تفصیل کو تانبے کی تختیوں پر درست طریقے سے درج کیا۔ ان میں سے کئی تختیاں ابھی حال میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے دریافت کی ہیں۔ یہ نظام محصولات کی صحیح وصولی کو یقینی بناتا تھا اور گپت حکمرانوں کو مؤثر انداز میں حکومت کرنے کی سہولت فراہم کرتا تھا، جب کہ مقامی رہنماؤں کو اپنے علاقوں پر کچھ اختیار بھی دیتاتھا۔
تجارت کا عروج (Thriving trade)
گپت سلطنت کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ زمین کے محصولات تھے۔ دیگر ذرائع میں جرمانہ، کان کنی، آب پاشی، تجارت اور دست کاریوں پرآئےمحصولات شامل تھے۔ یہ آمدنی انتظامیہ، فوج کی دیکھ بھال، مندروں اور بنیادی سہولتوں کی تعمیر نیزدانش وروں اورفن کاروں کی مدد کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
جیسا کہ ہم ایک بار پھر دیکھتے ہیں کہ کسی بھی بڑی سلطنت کو اپناوجودبرقرار رکھنے کے لیےتیز تر اندرونی اور بیرونی تجارت کو فروغ دینا ضروری ہوتا ہے۔ گپت دور میں ہندوستان نے بحیرۂ روم، جنوب مشرقی ایشیا اور چین کے ساتھ تجارت کی اور کپڑے، مسالے، ہاتھی دانت اور قیمتی پتھربرآمد کیے۔ بحر ہند کے تجارتی راستے ہندوستانی بندرگاہوں کو دور دراز کے بازاروں سے جوڑتے تھے۔ بحیرۂ روم کے راستے میں ایک اہم تجارتی مقام جزیرۂ سقطرہ تھا، جوتکنیکی اعتبار سے بحیرۂ عرب کے نہایت اہم مقام پر واقع تھا۔ آثار قدیمہ کے شواہد جیسے براہمی رسم الخط میں کتبے اور بودھ مت کےاستوپ کی ساخت نے ثابت کیا ہے کہ وہاں مصری، عربی،رومی اور یونانی تاجروں کے علاوہ ہندوستانی تاجروں کی بھی کئی صدیوں سے موجودگی تھی۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ اس کا ثبوت ہے کہ بحرہند کی تجارت نے کس طرح مختلف ثقافتوں کو ایک دوسرے سے جوڑا ۔
نئے خیالات اور عجائبات : کلاسیکی دور
(New Ideas and wonders: the Classical Age)
جیسا کہ ہم نے دیکھا، گپت حکمراں وشنو کے پیروکار تھے اور یہ بات اکثر ان کے سکّوں اور کتبوں میں جھلکتی ہے۔ تاہم، وہ دیگر روایات اور مکاتبِ فکر کی حمایت بھی کرتے تھے۔ انھوں نےبودھ مت کےاداروں کی سرپرستی کی، جن میں مشہور نالندہ یونیورسٹی اور دیگر بودھ مت کے وِہار شامل تھے۔ ان کا رویہ کشادہ دلی اورشمولیت پسندی کا تھا۔ ہم اعلیٰ درجات میں ان اداروں پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
شکل7.11: نالندہ یونیورسٹی کے آثار
واقعی، گپت عہد کے دوران امن اور استحکام کے طویل عرصے نے ایسے شان دار کارناموں کو جنم دیا کہ بعض مؤرخین نے اس دور کو ہندوستان کا ’کلاسیکی عہد‘ قرار دیا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب پچھلے ادوار کے علم کو یک جا کرکے بے شمار متون میں مدون کیا گیا۔ سنسکرت ادب پھلا پھولا ،کالی داس کی شہکار تخلیقات اور کئی اہم پرانوں کی تصنیف اسی دور میں ہوئی ۔ آریہ بھٹ اور وراہ مِہِر نے ریاضی اور فلکیات میں اہم پیش رفت کی مثالیں پیش کیں، جب کہ طب کے متون نے طبی نظریات اور طریقوں کو بہتر بنایا اور انھیں مرتب کیا۔دھات کاری میں بھی ترقی ہوئی جیسا کہ ہمیں زنگ سے محفوظ رہنے والے آہنی ستون سے اندازہ ہوتا ہے۔ اس استحکام نے معیشت کو مضبوط کیا اور ریاست کو موقع دیا کہ وہ دانش وروں، فنکاروں اور سائنسدانوں کی سرپرستی کرے، جس کے نتیجے میں ثقافتی اور علمی ترقی ہوئی۔
چندرگپت دوم نےکئی پڑھے لکھے افراد، شعرا اور فنکاروں کو اپنے قریب رکھا تھا اوراس طرح مختلف صلاحیتوں کے حامل افرادکی سرپرستی نے اس کے دربار کو علم و فن کا گہوارہ بنا دیا۔
آئیے اس دور کی چند قابل ذکر شخصیات پر نظر ڈالتے ہیں:
شکل7.12: چندرگپت دوم جنگ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں (1920 کی دہائی کے ایک فن کار کا تخیل)
آریہ بھٹ : وہ ایک مشہور تعلیمی مرکز کُسُم پورہ (جو موجودہ پٹنہ کے قریب واقع ہے) میں 500 عیسوی کے آس پاس حیات تھے۔ انھوں نے ریاضی اور فلکیات پر ایک مختصر مگر اہم کتاب تحریر کی جسے آریہ بھٹیہ کہا جاتا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے سورج، چاند اور سیاروں کی حرکات معلوم کرنے کے فارمولے پیش کیے اور یہ نظریہ بھی دیا کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے، جس کی وجہ سے دن اور رات کا فرق آتا ہے۔ انھوں نے سال کی طوالت 365 دن، 6 گھنٹے، 12 منٹ اور 30 سیکنڈ دی، جس میں آج کے جدید حساب سے صرف چند منٹ کا فرق ہے (365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 45 سیکنڈ)۔ آریہ بھٹ نے زمین کے حجم کا صحیح اندازہ بھی لگایا اور سورج اور چاندکے گرہنوں کی سائنسی وضاحت صحیح طور پر کی ۔ان کی تحقیق نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں آئندہ سائنسی ترقیات کی بنیاد بن گئی۔ ریاضیات میں، آریہ بھٹ نے حساب کتاب اور مساوات کے حل کے کئی طریقے بیان کیے، جن میں سے کچھ آپ یہ جانے بغیر اسکول میں پڑھتے ہیں کہ انھیں پہلی مرتبہ1500 سال پہلے مرتب کیا گیا۔
وراہ مِہِر: وہ اسی دور کے ایک ریاضی داں، ماہر فلکیات اور نجومی تھے۔ وہ اُجَّیَنِی (اجین)میں رہتے تھے، جو اس زمانے میں اپنی تعلیمی اور علمی روایات کے لیے مشہور تھا۔ ان کا انسائیکلوپیڈیا برہت سمہتا کئی موضوعات پر مشتمل تھا، جس میں فلکیات، علم نجوم، موسم کی پیش گوئی،فن تعمیر، شہری منصوبہ بندی اور یہاں تک کہ زراعت بھی شامل تھی۔دنیا کے مشاہدے، منطقی استدلال اورروایتی علم کو یکجا کرنے کی صلاحیت نے وراہ مِہِرکو سائنسی دنیا کا ایک نمایاں پیش رو بنا دیا۔
شکل 7.13
آئیے معلوم کریں
آئیے بھویشا اور دھرو کے ساتھ ان کی ٹائم مشین کے ذریعےگپت دور میں چلتے ہیں۔ آپ کو آریہ بھٹ اور وراہ مِہِر سے ملنے کا موقع مل رہا ہے — آپ ان سے کیا سوالات کریں گے؟ کلاس کو دو گروپوں میں تقسیم کیجیے اور ان دونوں شخصیات کے ساتھ انٹرویو کے لیے سوالات کی ایک فہرست تیار کیجیے۔
شکل7.14: بادلوں کے نام یکش کا ایک پیغام — ’میگھ دوت‘ کا ایک منظر۔
کالی داس: کالی داس کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دست یاب ہیں۔ روایات کے مطابق ایک بار وہ دوسروں کے تمسخر کا نشانہ بنے ، جس نے انھیں سخت محنت کرنے اور اپنی زندگی بدلنے کی ترغیب دی۔ وہ سنسکرت ادب اور نہایت نفیس شاعری میں اپنی عظیم خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی معروف تخلیقات میں سے ایک میگھ دوت (پیغام بر بادل) ہے۔ اس میں ایک یکش (چھوٹے دیوتا) کی کہانی بیان کی گئی ہے، جسے اس کے مالک کے ذریعہ اپنےگھر سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنی محبوبہ کو پیغام پہنچانے کے لیے ایک گزرتے بادل کو قاصد بناتا ہے۔ جب یہ بادل محبوب تک سفر کرتا ہے تو پوری کیفیت بیان کرتا ہے۔ اس نظم میں محبت کے بہت سے جذبات کے ساتھ ساتھ شمالی ہند کے مناظر اور موسم کی بڑی باریکی سے منظر کشی بھی کی گئی ہے۔
مُدوّن(Codified):
یعنی کسی چیز کو منظم اور مرتب طریقے سے تحریری شکل دینا۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آیوروید کو گپت دور کے دوران مدوّن کیا گیا تھا؟ اگرچہ یہ ہندوستانی روایتی طریقۂ علاج اپنی جڑوں کے لحاظ سے بہت پرانا ہے، جو کئی صدیوں قبل مسیح کومحیط ہے۔لیکن چرک سنہتا اور سشرُت سنہتا جیسے متون، جنھوں نے آیورویدک طریقۂ علاج کی بنیاد رکھی، جو آج بھی استعمال میں ہے ، گپت دور میں ہی مرتب ہو کر اپنی مکمل شکل میں سامنے آئے۔ یہ متون مختلف موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں— بیماریوں کی فہرست سازی اور تشخیص، ان کا علاج، اچھی صحت کے لیے خوراک کی اہمیت،دواسازی اور اُس وقت کے لحاظ سے ترقی یافتہ جرّاحی کی تکنیکوں تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آیوروید کلی شفا اور ذہن، جسم اور فطرت کے درمیان گہرے تعلق پر زور دیتا ہے۔
خوب صورتی کی تلاش (The Quest for Beauty)
گپت حکمرانوں نے ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کیا جس میں تخلیق اور ہنرکاری کو فروغ ملا۔ تاریخ کی کئی مشہور تخلیقات اسی دور میں وجود میں آئیں۔ اس دور میں فنون لطیفہ کے کئی اہم مراکز ابھر کر سامنے آئے، جن میں سارناتھ (موجودہ اتر پردیش میں وارانسی کے قریب) ، جو بدھ کے نہایت عمدہ مجسموں کے لیے جانا جاتا ہے، اوراجنتا کے غار (موجودہ مہاراشٹر میں واقع) شان دار سنگ تراشی کی مثالیں ہیں۔ اُد ےگیری ( مدھیہ پردیش) کی چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے غاراور دیوی دیوتاؤں کی باریک کندہ کاری کی کثرت بھی اسی فن کارانہ دور کی دیگر مثالیں ہیں۔گپت آرٹ کہلانے والا یہ فنی اسلوب،خوب صورتی اور جمالیات کے ایسے اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے جن کا اثر آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔ (شکل 7.15 تا 7.18 دیکھیے)
آئیے معلوم کریں
شکل 7.15.1 اور 7.15.2 میں دکھائے گئے گپت دور کے مجسموں کے نمونوں کو غور سے دیکھیں۔ ان کی خصوصیات کو دیکھ کر کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کون سے دیوتا کے عکاس ہیں؟ اپنے مشاہدات دی گئی جگہ پر لکھیے اور کلاس کی بحث کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔
گپت سلطنت کا زوال (The Decline of the Guptas)
چھٹی صدی عیسوی تک گپت سلطنت میں زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے کیوں کہ بعد کے حکمرانوں کو بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وسطی ایشیا کے خوں خوار ہُون قبیلہ نے بار بار سلطنت پر حملے کیے، جس سے شمالی ہند پر گپت سلطنت کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ اسی دوران، طاقت ور علاقائی حکمرانوں کے عروج نے داخلی اختلافات کو ہوادی۔ تاہم، کیا یہ واقعی اختتام تھا یا ہندوستانی تاریخ کے ایک موڑ کا آغاز؟ ہم اس سوال کو اس کتاب کے اگلے حصے میں تلاش کریں گے۔
دریں اثنا جنوب اور شمال مشرق میں ...
(Meanwhile in the South and Northeast...)
آئیے نقشہ 7.8 کی طرف دوبارہ چلتے ہیں۔ جب گپت حکمراں شمال میں حکومت کر رہے تھے، تب جنوب میں پلَّو(Pallava) حکمراں ایک طاقت ور شاہی خاندان کے طور پر ابھرے، جنھوں نے موجودہ تمل ناڈو، کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں میں رفتہ رفتہ اپنا اقتدار مضبوط کیا۔ ان کی اصل کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ ساتواہن خاندان کے تحت ایک خراج گزار طاقت کے طور پر اُبھرے، جس سے ہم پچھلے باب میں مل چکے ہیں اور ساتواہنوں کے زوال کے ساتھ ساتھ انھوں نے اقتدار حاصل کیا۔
پلَّوحکمراں آرٹ ا ور تعمیر کے بڑے سرپرست تھے۔ ان میں سے اکثر شیو کے عقیدت مند تھے۔ان کا شمار ان بادشاہوں میں ہوتا ہے جنھوں نے چٹانوں کو تراش کرشان دار مندر اور غار تعمیرکروائے۔ ان میں سے کچھ جگہوں کا ہم دورہ کریں گے جب ہم کلاسیکی ہندوستانی فن تعمیر کا مطالعہ کریں گے۔پلَّوسلطنت کا دارالحکومت کانچی پورم (موجودہ تمل ناڈومیں) تھا، جسے اکثر ’ہزار مندروں کا شہر‘ کہا جاتا ہے۔وہ یہ جنوبی ہند میں علم کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا۔ گھٹیکائیں(تعلیمی مراکز)—جو ساتواہنوں کے دور سے فروغ پارہے تھے—اس علمی و فکری ترقی کے ماحول کو مزید تقویت بخشتے رہے۔
شمال مشرقی علاقے میں ریاست کامروپ(Kāmarūpa)، جو ورمن شاہی خاندان کے زیرِ حکومت تھی، وادی برہم پتر (تقریباً پورا موجودہ آسام ) ، موجودہ بنگال اور بنگلہ دیش کے شمالی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ آسام کی برہم پتر وادی کا ایک قدیم نام ’پراگ جیوتش‘(Prāgjyotisha) تھا، جس کا ذکر رامائن اور مہابھارت میں بھی ملتا ہے۔ مہا بھارت میں بتایا گیا ہے کہ پراگ جیوتش (Prāgjyotisha) ( موجودہ آسام) کا راجا بھگ دت (Bhagadatta)، مہابھارت کی عظیم جنگ میں کوروؤں کی جانب سے شریک ہوا، بعد کے کچھ حکمرانوں نے خود کو اس کا وارث بھی قرار دیا۔جیسا بھی ہو،لیکن کامروپ سلطنت ایک نمایاں ثقافتی اور سیاسی مرکز رہی۔ یہاں مندروں اور خانقاہوں نے تعلیم کے مراکز کے طور پر ترقی کی۔
گپت آرٹ کے مختلف گوشے
شکل7.15.1 تا 7.15.3: تیسری تصویر میں، گپت دور کے تیراکوٹا مجسمے (اہیچ چھتر، مغربی اتر پردیش) کو دکھایا گیا ہے جو بھارت کی مقدس ندیوں — گنگا اور جمنا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی (سواریاں) ان کو ممتاز کرتی ہیں: گنگا مکر (ایک دیومالائی مخلوق جو مگرمچھ جیسی لگتی ہے) پر کھڑی ہے، جبکہ جمنا کچھوے پر کھڑی ہے۔ دونوں کے سروں پر بہتا ہوا پانی اور ہاتھ میں گھڑا اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ندیاں ہیں۔
شکل7.16: (دائیں طرف) دیوگڑھ (اتر پردیش)؛ (بائیں طرف) شیش ناگ پر وشنو — دشاوتار مندر سے۔
شکل7.17: مشہور اجنتا کی غاریں اسی دور میں تراشےگئے، جن کی تعمیر گپت اور واکاٹک خاندانوں کی مدد سے ہوئی۔ دائیں طرف: ایک شان دار غار جو ایک مندر کی نقل ہے، جس کے مرکز میں ایک استوپ ہے اور اس میں بیٹھےہوئے بدھ کامجسمہ ظاہر ہوتا ہے (غور کریں کہ چھت محرابی ہے جو چوبی شہتیروں کی نقل کرتی ہے)؛ بائیں طرف: بودھی سَتو پدمپانی کی ایک خوبصورت مصوری۔
شکل7.18.1 تا 7.18.3: اُدے گِری کے غار اور گپت دور کا ایک مندر جو سانچی کے قریب ہے — دونوں مدھیہ پردیش میں واقع ہیں۔ یہاں مہابھارت کے دو کردار ارجن اور کرن کی جنگ کا ایک تراشیدہ منظر دکھایا گیا ہے۔
شکل 7.19
پلَّواور کامروپ دونوں کا ذکر پریاگ پرشستی (Prayaga Praśasti)میں آیا ہے، جسے ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ اپنے جنوبی مہمات کے دوران، سمدرگپت نے ایک پلَّوحکمراں کو شکست دی،مگر اس خطے پر براہِ راست قبضہ نہیں کیا۔بلکہ اُس نے بشمول پلَّو راجاؤں مقامی حکمرانوں کو ان کے علاقوں پر حکومت کرنے دی۔بشرطیکہ وہ اس کی بالادستی تسلیم کریں اور باقاعدہ خراج اداکریں۔اس طریقے سے پُرامن تعلقات قائم رکھنے میں مدد ملی۔ بالکل اسی طرح، شمال مشرق میں سمدر گپت نے کامروپ کے حکمراں کو شکست دی لیکن براہِ راست اقتدار اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ اب تک ہم یہ طرزِ حکمرانی کئی بار دیکھ چکے ہیں۔
گپت عہدغیر معمولی ترقی کا زمانہ تھا۔ اس کا اثر سلطنت سے کہیں آگے تک پھیلاہوا تھا جو صدیوں تک فنون، سائنس، ادب اور طرزِ حکمرانی کو فروغ دیتا رہا۔ ریاضی، فلکیات، طب اور دھات کاری جیسے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت نے مستقبل میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کی راہیں ہموار کیں، جب کہ خوب صورت مندر اور سنسکرت ادب آج بھی لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ گپت حکمرانوں نے ایک مستحکم اور خوش حال معاشرہ قائم کیا، جوبعد کے حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ بنا۔ ان کا ورثہ آج بھی ہندوستان کی ثقافت، روایات اور طرزِ زندگی میں زندہ ہے اور یہ عہدہندوستانی تاریخ کے روشن ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں...
- گپت بادشاہوں نے فوجی مہمات، زمین کی بخششوں اور ازدواجی رشتوں کے ذریعے اپنی طاقت کو مستحکم کیا تاکہ سلطنت میں استحکام قائم رہے۔
- اس عہدمیں فن، ادب، سائنس اور ریاضی کے شعبوں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دی گئیں۔
- گپت سلطنت کے علاوہ، واکاٹک، پلَّواور ورمن جیسے شاہی خاندانوں نے اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کی، جس سے یہ دور ثقافتی اور علمی اعتبار سے نہایت بارونق ہو گیا۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. تصور کیجیے کہ آپ کو گپت سلطنت میں رہنے والے کسی فرد کی طرف سے ایک خط موصول ہوتا ہے۔ خط کچھ یوں شروع ہوتا ہے:
’’پاٹلی پتر سے سلام! یہاں کی زندگی نہایت پُرجوش اور رنگین ہے۔ ابھی کل ہی میں نے مشاہدہ کیاکہ ...‘‘ اب اس خط کوایک پیراگراف میں مکمل کیجیے ( 250 سے 300 الفاظ پر مشتمل)، جس میں گپت سلطنت کی روزمرہ زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہو۔
2. گپت حکمرانوں میں سے کسے ’وکرمادتیہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا؟
3. ’’امن کے زمانوں میں معاشرتی و ثقافتی زندگی، ادب، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔‘‘گپت سلطنت کے پس منظر میں اس بیان کا جائزہ لیجیے۔
4. گپت حکمراں کے دربار کے ایک منظر کی بازتخلیق کیجیے۔ایک مختصر اسکرپٹ لکھیے، بادشاہ ،وزرا اور دانش وروں جیسے کردار تفویض کیجیے اور گپت دور کو زندہ کرنے کے لیے ادائیگی کردارکامظاہرہ کیجیے ۔
5. کالم ’الف ‘کا کالم ‘ب’ کے ساتھ جوڑ ملائیے:
|
کالم الف |
کالم ب |
||
|
(1) |
کانچی پورم |
(a) |
جاتک کہانیوں کو بیان کرنے والے غار کی مصوری کے لیے مشہور۔ |
|
(2) |
اجَّینی |
(b) |
ہندو دیوی دیوتاؤں خصوصاً وشنو کی باریک تراشیدہ نقاشیوں والے چٹانی غاروں کے لیے مشہور۔ |
|
(3) |
ادے گری |
(c) |
گپت سلطنت کا دارالحکومت۔ |
|
(4) |
اجنتا |
(d) |
’ہزار مندروں کا شہر‘ نام سے مشہور۔ |
|
(5) |
پاٹلی پتر |
(e) |
قدیم ہندوستان میں علم و دانش کا ایک نمایاں مرکز۔ |
6. پلَّوحکمراں کون تھے اور کہاں حکومت کرتے تھے؟
7. اپنے اساتذہ کے ساتھ کسی قریبی تاریخی مقام، عجائب گھر یا ثقافتی ورثے کی عمارت کا ایک تعلیمی دورہ ترتیب دیجیے۔دورے کے بعد، اپنے تجربے کی ایک تفصیلی رپورٹ تحریر کیجیے۔ رپورٹ میں اس مقام کی تاریخی اہمیت، فنِ تعمیر، نوادرات اور وہ دل چسپ معلومات شامل کیجیے جو آپ نے اس دورےکے دوران حاصل کیں۔ اس بات پر بھی غور کیجیےکہ اس دورے نے تاریخ سے متعلق آپ کی سمجھ میں کس طرح اضافہ کیا۔