باب 8
زمین کس طرح مقدس بنتی ہے
(How the Land Becomes Sacred)
آسمان،ہوا،آگ،پانی،زمین،سیارے، تمام جاندار،سمتیں، درخت اور پودے، دریا اور سمندر، یہ سب خدا وند برتر کے جسم کے اعضاہیں۔
بھاگوت پُران —
اہم سوالات
- تقدیس کیا ہے؟
- زمین کس طرح مقدس حیثیت اختیار کرلیتی ہے؟
- مختلف مقدس مقامات اور زیارت گاہیں کس طرح لوگوں کی زندگی اور ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں۔
- بر صغیر ہند کے ثقافتی اتحاد میں مقدس جغرافیہ نے کیا کردار ادا کیا؟
آئیے معلوم کریں
کیا ان تصویروں میں سے کوئی آپ کو جانی پہچانی لگتی ہے؟ کیا آپ اپنے قرب و جوار میں موجود اس قسم کے کچھ مقامات کے نام بتا سکتے ہیں؟
’تقدیس‘ کیا ہے؟ (What is ‘Sacredness’)
تقدیس کے کئی معنی ہیں۔ اس باب کے محدود سیاق میں تقدیس کامطلب ہےکوئی ایسی چیز جو مذہبی اور روحانی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہو، احترام اور تعظیم کے لائق ہو، متبرک اور الوہی نوعیت کی ہو، لیکن یہ ’کوئی ایسی چیز‘ کیا ہے؟ یہ کوئی مخصوص مقام یا کوئی زیارت گاہ ہو سکتی ہے جس سے اس قسم کے گہرے احساسات، اعلیٰ خیالات اور جذبات بیدار ہوتے ہیں۔ یہ مخصوص قسم کا کوئی سفر ہوسکتا ہے جسے( اکثر’ زیارت‘ کہا جاتا ہے) اور اس سفر کا راستہ یاخود وہ زمین بھی مقدس سمجھی جا سکتی ہے ۔
لہٰذا تقدیس کا تعلق صرف مذہب اور روحانیت سے نہیں بلکہ جغرافیہ اور ہر قسم کی روایات سے بھی ہے۔ہندوستان کے معاملے میں تو اس کا تعلق کچھ اور چیزوں سے بھی ہے جن کے بارے میں ہم جلد ہی جانیں گے۔
آیئے سب سے پہلے مقدس مقامات پر اپنی توجہ مرکوز کریں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہندوستان میں ہر مکتب فکر اور مذہب کےاپنے مقدس مقامات ہیں۔ ان تصاویر میں دکھائےگئے مقامات کو اسلام، عیسائیت، یہودیت اورزرتشت جیسے مذاہب کے پیروکار مقدس مانتے ہیں جب کہ ان مذاہب کی ابتدا ہندوستان کے باہر ہوئی ہے۔ لوگ عبادات کے مقصد سے ان مقامات کی زیارت کرتے ہیں یا جمع ہوتے ہیں۔ دوسرے مذاہب سے عقیدت رکھنے والے لوگ بھی یہاں آتے ہیں جیسا کہ اجمیر کی درگاہ شریف (راجستھان) یا تمل ناڈو کے ویلنکنّی چرچ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ خاص موقعوں پر ان متبرک مقامات کی زیارت کے لیے دور دور سے پہنچتے ہیں۔
فطری طور پر جب ہم ان مذاہب کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے یہاں اور بھی بہت سے مقدس مقامات ہیں۔ بودھ مذہب میں اکثر وہ مقامات مقدس ہیں جہاں مہاتما بدھ نے قیام کیا تھا یا جہاں ان کے باقیات رکھے ہوئے ہیں۔ سانچی (مدھیہ پردیش) میں واقع عظیم استوپ ایسا ہی ایک مقدس مقام ہے جو ایک باقیاتی استوپ ہے (اسے آپ نے ’سلطنتوں کا عروج‘ والے باب میں دیکھا ہے) اور دوسرا بودھ گیا (بہار) میں واقع مہا بودھی استوپ ہے جہاں، بودھ روایات کے مطابق ، بدھ کو ’گیان‘ حاصل ہوا تھا۔ یہ زائرین کےلیے نہایت اہم مقامات ہیں۔ مثال کے طور پر بودھ گیا میں ہر سال چالیس لاکھ سے بھی زیادہ زائرین آتے ہیں۔
سکھ مذہب میں تخت، روحانی مقتدرہ کے مراکز یا نشست گاہیں ہیں۔ مثال کے طور پر تخت سری پٹنہ صاحب (پٹنہ میں)، اکال تخت (امرتسر میں گولڈن ٹمپل کا حصہ، شکل 8.3 دیکھیے) اور تخت سری کیش گڑھ صاحب (آنند پور میں) ۔ سکھ مذہب کے ماننے والے لوگ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ان مقامات کی زیارت کی خواہش رکھتے ہیں، کیوں کہ یہ تخت ا ہم سکھ گروؤں سے وابستہ ہیں اور اسی لیے یہ خصوصی تقدس کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں، سکھ روایات کے مطابق کئی گروؤں جیسے گرونانک کے روحانی سفر کا ذکر ملتا ہے، جنھوں نے ہری دوار، پریاگ، متھرا، بنارس، ایودھیا، پوری اور دیگر کئی مقامات کی بھی زیارت کی جس میں چند مسلم درگاہیں یا خانقا ہیں بھی شامل ہیں۔
زیارت(Piligrimage):
کسی ایسے مقدس مقام کا سفر جو کسی مذہب یا عقیدے کے نظا م میں اہم ہے۔
متبرک مقام (Shrine):
ایک ایسی جگہ جسے اس لیے متبرک مانا جاتا ہے کیونکہ وہ اِلٰہی، مقدس یادگاریاروحانی شخصیت سے تعلق رکھتا ہے۔
باقیات (Relic):
کسی ولی یا کسی روحانی شخصیت کے جسم کا کوئی حصّہ یا بعض اوقات ان سے متعلق کسی چیز کو بطور تبرک محفوظ کیا گیا ہو۔
ہندوستان صدیوں سے زیارتوں کی سرزمین رہا ہے۔ آپ کو برفیلے ہمالیہ میں بلندی پر واقع بدری ناتھ، کیدارناتھ اور امرناتھ سے لے کر جنوب میں کنیا کماری تک یہ قدیم مقامات ملیں گے۔ ان عظیم زیارتوں نے ہمارے ہم وطنوں کو کبھی جنوب سے شمال تک اور کبھی شمال سے جنوب تک کیوں متوجہ کیا؟ اس کے پس پشت ایک ہی ملک اور ایک ہی ثقافت کا احساس ہے۔
— جواہر لعل نہرو، 1961
زیارتیں (Pilgrimages)
ہندوستان میں رہنے والے بہت سے لوگ اپنی زندگی کے دوران متعدد مقدس مقامات تیرتھوں کی زیارت پر جاتے ہیں۔ زیارت کی یہ قدیم اور مسلسل روایت محض ایک جسمانی سفر نہیں بلکہ روحانی بھی ہے جس کے لیے ایک مخصوص ضابطہ ٔ اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے۔
کم از کم 3000 سال سےنقل و حمل کے جدید ذرائع دست یاب نہ ہونے کے باوجود ہندوستان کے لوگ برصغیر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں پورے خطے کی جغرافیا ئی سرزمین ہی مقدس سمجھی جانے لگی۔ ہم اس موضوع پر آگے پھر گفتگوکریں گے۔
یہاں ایک مؤرخ اور مفکر، دھرم پال کی تحریروں سے ایک اقتباس پیش کیا جا رہا ہے:
”جب میں گوالیار سے دہلی جا رہا تھا ...تومیری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی۔ لگ بھگ بارہ افراد، ان میں سے تین چار عورتیں اور سات آٹھ مرد تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تین ماہ سے رامیشورم اور دیگر مقامات کی طویل زیارت پر نکلے ہوئے ہیں۔ وہ لکھنؤ کے شمال میں واقع دو الگ الگ دیہات سےآئے تھے۔ ان کے پاس مختلف قسم کی چیزیں اور کچھ مٹی کے برتن تھے ...وہ اپنے کھانے کی تمام چیزیں جیسے آٹا، گھی، شکر وغیرہ اپنے ساتھ لائے تھے ... میں نے ان سے پوچھا، ”اب آپ دہلی جا رہے ہیں؟“
’’ہاں!‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ ”آپ دہلی میں قیام کریں گے؟‘‘ ”نہیں، ہمیں وہاں سے صرف ٹرین بدلنی ہے۔ ہم ہری دوار جا رہے ہیں! ...ہمارے پاس وقت نہیں ہے ... ہمیں ہری دوار جانا ہے اورپھر واپس گھر بھی جانا ہے۔“
تیرتھ(Tirtha):
لفظی معنی کے اعتبار سے تیرتھ وہ مقام ہے جہاں سے کوئی آبی گزرگاہ عبور کی جاسکے۔ علامتی اعتبارسے وہ مقام جہاں سے کوئی عام دنیوی زندگی سے اُٹھ کر روحانی زندگی کی جانب جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ مقامات بڑی عظمت کے حامل ہوتے ہیں اور مقدس تسلیم کیے جاتے ہیں۔
تیرتھنکر(Tirthankar): لفظی طور پر وہ شخص جو تیرتھ بناتا ہے یعنی جو عام زندگی سے اعلیٰ زندگی تک رہنمائی کرتا ہے۔ جین مت میں تیرتھنکر دھرم کے اعلیٰ مبلغ مانے جاتے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
- اس اقتباس کو غور سے پڑھیے۔ آپ کے کیا مشاہدات ہیں؟ رامیشورم سے ہری دوار تک جانے کے لیے اس قافلے نے کون سا راستہ اختیار کیا ہوگا؟ اس کی نشان دہی کیجیے۔آپ کےخیال میں گروپ دہلی میں کیوں نہیں رکا اورسیدھے ہری دوار کیوں جا رہاتھا؟
- قدیم زمانے میں لوگ، جب تمل ناڈو کے مدورئی سے اتر پردیش میں بنارس کا سفر کرتے تھے تو ان کا واسطہ کون کون سی زبانوں سے پڑتا ہوگا؟ وہ ان مقامات پر لوگوں سےکس طرح بات چیت کرتے ہوں گے؟ وہ کہاں ٹھہرتے اورکیا کھاتے پیتے ہوں گے؟
جین روایت میں تیرتھ( زیارت گاہیں) ان مقامات سے وابستہ ہیں جہاں تیرتھنکروں کو نروان یعنی نجات حاصل ہوئی تھی یا جہاں ان کی زندگی کے اہم واقعات رونما ہوئے تھے۔ درخت، تالاب، پہاڑیاں اور پربت جہاں تیرتھنکروں نے قیام کیا یا دھیان لگایا، انھیں بھی مقدس مانا جاتا ہے۔اس قسم کے مقامات کی مثالوں میں ماؤنٹ آبو،گرِنار اورسو راشٹر (گجرات) میں شترنجے پہاڑی شامل ہیں۔
سبری مالا مندر (کیرالا) کی تیرتھ یاترا اس کی ایک اور مثال ہے۔ یہ مندر ایپّا دیوتا (بھگوان) سے منسوب ہےجہاں ہر سال ایک کروڑ سے بھی زیادہ عقیدت مند پہنچتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پربنی اس زیارت گاہ تک روایتی طور پر پہاڑوں اور جنگلات سے گزرنے والے انتہائی مشکل راستوں سے ہوکر پہنچا جاسکتا تھا۔ ملک بھر میں کئی پہاڑیوں اورپربتوں پر بنی ہوئی زیارت گاہوں تک پہنچنے کی اس قسم کی دشواری دراصل باطن (روحانیت) کے راستے کی دشواریوں کی علامت ہے، جہاں راستے کے قدرتی مقامات بھی ان کے ساتھ متبرک مانے جاتے ہیں۔
شکل8.4: پنڈھر پور واری، مہاراشٹر میں 800 سال پرانی روایت، واری کا مطلب ہے ایسی تیرتھ یاترا جو باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس معاملے میں ہر سال زائرین بڑے بڑے جتھوں میں پنڈھر پور کے مشہور وِٹھوبا مندر پہنچنے کے لیے21 دن تک پیدل سفر کرتے ہیں۔
مزید مقدس مقامات (More sacred sites)
ہندو دھرم اورکئی عوامی و قبائلی اعتقادی نظام اس سے بھی آگے جاتے ہیں۔گریڈ 6 میں ہم نے پڑھا ہے کہ ان عقائد کے پیرو کا ر فطرت کے عناصر جیسے پہاڑوں، دریاؤں، درختوں، پودوں ، حیوانات بعض اوقات پتھروں کو بھی مقدس سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندو مذہب میں بے شمار جغرافیائی مقامات یا فطرت کے خد و خال شامل ہیں جیسے مخصوص پہاڑ، دریا اور جنگلات جنھیں بالخصوص الوہی تصور کیا جاتا ہے اور دیوتا کے طور پر ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ بہت سے دریاؤں کو دیوی مانا جاتا ہے جب کہ درختوں، جانوروں اور پودوں کی کچھ اقسام کو خاص طور سے مقدس سمجھا جاتا ہے۔
اس روایت کے پسِ پشت فطرت کے تمام مناظر میں الوہیت کی موجودگی کا تصور کارفرما ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ تمام کرۂ ارض کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یہی دھرتی ماں یا بھو دیوی ہے۔
شکل8.5: اس شبیہ میں وِشنو، وراہ کے اوتار میں شیطان کو کچل رہے ہیں اور بھودیوی (دھرتی ماں) کو بچا رہے ہیں جو کہ اُن کی کہنی پر بیٹھی دکھائی گئی ہیں۔(یہ مجسمہ کرناٹک کے بیلورمندر کا ہے۔)
یہاں اس قسم کی روایات کی کچھ اور مثالیں پیش کی گئی ہیں:
� جھارکھنڈ کے نیِمَ گیری سلسلے کی نِیم ڈونگر پہاڑی ڈونگر یا کھونڈ قبائل کے نزدیک بہت مقدس ہے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ پہاڑی عظیم دیوتا نیِمَ راجا کی قیام گاہ ہے جو ان کی زندگی کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔یہاں درختوں کے کاٹنے پر پابندی ہے اور ایسا کرنا دیوتا کی توہین سمجھا جاتا ہے۔
� سن 2000 کے اوائل میں سکم کی حکومت نے کئی مقدس پہاڑوں، غاروں، جھیلوں، چٹانوں اور گرم پانی کے چشموں کی نشان دہی کی ہےجنھیں ہر قسم کے نقصان سے بچانے کے لیےمحفوظ مقامات قرار دیا ہے۔
� تمل ناڈو کے نیل گیری میں، ٹوڈا قبیلہ کئی پہاڑی چوٹیوں کو مقدس سمجھتا ہے اور انھیں اپنے دیوتاؤں سے منسوب کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تقدیس کا یہ احساس بہت سے پودوں (جو اکثر ان کی رسوم کا حصہ ہوتے ہیں)، جنگلات، آبی خطے حتیٰ کہ مخصوص پتھروں اور مختلف درختوں میں بھی کار فرما ہے۔
مقدس جغرافیہ سے باخبری
(Becoming aware of Sacred Geography)
اگلے صفحے پہ دیے گئے نقشے (شکل 8.6) میں کچھ مقدس مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ حالاں کہ یہ مقامات پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں مگر باہم مربوط بھی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ ہندو چار دھام یاترا کی خواہش رکھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ چاروں مقامات دانستہ طورپر ہندوستان کے جنوبی، شمالی، مشرقی اور مغربی کونوں پر قائم کیے گئے ہیں ۔ اسی طرح 12 جیوتِرلنگ کے معاملے میں بھی اسی قسم کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے جنھیں انتہائی متبرک مانا جاتا ہے۔ 51 شکتی پیٹھ بھی ہندوستان کے پورے نقشے (حتی کہ موجودہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے کچھ حصے) کا احاطہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت سے علاقائی زیارت گاہوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔
زیارت گاہوں کا یہ جال ہندوستان کے طول و عرض کو عبورکرتے ہوئے ایک مقدس جغرافیہ کی تشکیل کرتے ہیں۔نتیجتاًیہ زمین خود بخود مقدس بن جاتی ہے۔
51 شکتی پیٹھ کے متعلق ایک کہانی بھی ہے۔ شکتی، جو سَتی کی شکل میں دیوی ماں تھی اور ان کے شوہر شیو کوسَتی کے والد کی طرف سے توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ ناراض ہوکرستی نے خود سوزی کرلی، شیو اس قدر ناراض ہوئےکہ انھوں نےسَتی کے جسم کو اپنی تحویل میں لے کر کندھوں پر اٹھا لیا اور آخری رسوم ادا کرنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا۔ شیو کا غصہ دنیا اور تمام کائنات کے لیے خطرناک تھا۔ لہٰذا وشنو نے ستی کے جسم کو کاٹنے کےلیے اپنے چکر کا استعمال کیا۔ شکتی پیٹھ، بر صغیر کے وہ مقامات ہیں جہاں دیوی ماں کے جسم کے اعضا ایک ایک کرکے گرے۔کہانی کے پس پشت علامت واضح ہے، یعنی پوری زمین دیوی ماں کے جسم کی طرح ہے۔
12جیوترلنگ مقدس زیارت گاہیں ہیں جو شیو سے منسوب ہیں جنھیں ہندو مذہب میں عظیم دیوتا مانا جاتا ہے۔ ہر زیارت گاہ کی جداگانہ اسا طیری روایت اور منفرد نام ہے ۔
آئیے معلوم کریں
چاردھام کے محل و قوع پر غور کیجیے۔ آپ کے خیال میں جب لوگ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کا سفر کرتے تھے تو اس کا کیا مطلب تھا؟
جب زائرین اپنے اپنے عقائد سے وابستہ بڑے مقدس مقامات کا سفر کرتے تو قدرتی طور پر وہ ہندوستان کے پورے جغرافیہ کا احاطہ کرتے ۔ راستے میں وہ مختلف زبانوں، رسومات، ملبوسات اور غذاؤں سےان کا سابقہ پڑتا ،لیکن وہ یکسانیتوں پر بھی غور کرتے تھے۔
شکل8.6: روایتی زیارت گاہوں کے نظام کو ظاہر کرنے والا نقشہ
آئیے معلوم کریں
کیاآپ اوپر دیے گئے نقشے میں چند روایتی تیرتھ (زیارت گاہ) کے نام بتا سکتے ہیں؟ آپ کتاب کے آخر میں دیے گئے سیاسی نقشے کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔
لوگ اتنے طویل فاصلوں تک سفر کیوں کرتے تھے؟ مذہبی مقاصد کے علاوہ کچھ لوگ جیسے تاجر اور سوداگر اشیا کے مبادلے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ بحث و مباحثے اور اپنے عقائد کو فروغ دینے یا ملک کے مختلف حصوں میں نامور اور ممتاز دانش وروں سے سیکھنے اور علم حاصل کرنے کی غرض سے سفر کرتے تھے۔ حالاں کہ وہ مختلف مقاصد کے تحت سفر کر رہے تھے مگر ان کے راستے اکثر ایک دوسرے سے مل جاتے تھے۔ مباحثے اور تبادلۂ خیال، اشیا، تجربات اور کہانیاں سنانے کا عمل سب کو ثروت مند بناتاتھا۔ نئے خیالات ابھر کر سامنے آتے اور پرانے خیالات نئے انداز میں ڈھلتے تھے۔ یہی پیچیدہ عمل برصغیر کی تہذیبی یک جہتی کا ایک بڑا سبب بنا۔
مقدس ماحولیات (Sacred Ecology)
زیارت گاہیں (تیرتھ) عام طور سے کسی دریا یا جھیل کے کنارے یا جنگل میں یا کسی پہاڑ کے اوپر واقع ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ خود فطرت کے خدوخال کو بھی مقدس جگہ یا پنیہ چھیتر تصور کیا جاتا ہے۔ اس شعور نے فطرت کے تحفظ اور بقا میں مدد کی ہے۔ چوں کہ ہم فطرت سے الگ نہیں ہیں،اس لیے ان چھیتروں (مقامات)میں جغرافیہ، ثقافت اور روحانیت باہم مدغم ہوگئے ہیں۔
دریا اور سنگم (confluence of rivers)
ہندوستان میں ویدک عہد سے ہی دریاؤں کی پرستش کی جاتی رہی ہے۔رگ وید کا ندی استوتی سوکت دریاؤں کی تعریف (استوتی) میں ایک بھجن (سوکت)ہے جو قدیم شمال مشرقی ہندوستان کے 19 بڑے دریاؤں سے دعا کرتا ہے ۔ آج بھی بہت سی مذہبی رسوم میں پانی کو یاد کرتے ہوئے ہندوستان کے کچھ اہم ترین دریاؤں کی موجودگی کا دھیان کیا جاتا ہے۔
گنگے چہ یمنے چئیوَ گوداوری سرسوتی
نرمدے سندھو کاویری جلیسمن سَن نِدھم کُورُ
اے گنگا، جمنا، گوداوری، سرسوتی،
اے نرمدا، سندھو اور کاویری، آپ سبھی اس پانی میں اپنا جلوہ دکھائیں۔
ان دریاؤں نے ہندوستانی تہذیب کے لیے شہہ رگ کا کام کیا ہے۔ ان کے منبع، معاون ندیوں اور وہ جگہیں جہاں سے ہوکر یہ بہتے ہیں، سبھی مقدس سمجھے جاتے ہیں اور لاکھوں زائرین وہاں جاتے ہیں۔ مقامی زبانوں میں ان دریاؤں کےنام احترام کے ساتھ لیے جاتے ہیں مثال کے طور پر ‘گنگا جی’ یا
’جمنا جی‘۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
- پریاگ راج میں ہر چھےسال بعد کمبھ میلا لگتا ہے ۔پریاگ تین دریاؤں —گنگا، جمنا اور غیرمرئی سرسوتی کے سنگم پر واقع ہے۔ کچھ سال پہلے یونیسکو نے کمبھ میلے کو ‘دنیا کی غیر مادی وراثت’ کے طور پر درج کیا ہے۔
- ایک تخمینے کےمطابق 2025کےکمبھ میلے میں 66کروڑ لوگوں نے شرکت کی۔ یہ ہندوستان کی کل آبادی کا کتنا حصہ ہے؟
کمبھ میلہ
کمبھ میلے کی جڑیں امرت منتھن کی دیومالائی حکایت میں ملتی ہیں۔ دیو اور اسُر (یعنی کم و بیش دیوتا اور راکشس)، ایک دوسرے کے روایتی دشمن ہیں، ایک مرتبہ امرت( آب حیات) نکالنے کے مقصد سے کائناتی سمندر کو متھنے کےلیے دونوں جمع ہوئے۔ امرت، دیوتاؤں کا مشروب ہے جو انھیں ابدی زندگی بخشے گا، مگر جب امرت برآمد ہوا تو وشنو نے موہنی، یعنی ایک خوب صورت عورت کے روپ میں امرت سے بھرے ہوئے گھڑے (کمبھ) کو چھین لیا، تاکہ اسروں کے ہاتھ امرت نہ لگے۔ اس جدوجہد کے دوران امرت کے چند قطرے چار مقامات ہری دوار، پریاگ راج، ناسک اور اجّین پر جاگرے۔ یہ وہی مقامات ہیں جہاں کمبھ میلے کا انعقاد ہوتا ہےاور ان دریاؤں میں مجوزہ مدت کے دوران ڈبکی لگانا نہایت متبرک سمجھا جاتا ہے۔
شکل 8.7
اس پر غور و فکر کریں
آپ کے خیال میں یہ مقدس مقامات لوگوں کی معاشی زندگی اور سرگرمیوں سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟ ان روابط کو معلوم کرنے کے لیے ایک ذہنی خاکہ بنائیے۔
(اشارہ : اوپر دی ہوئی تصاویر سے کچھ سراغ مل سکتاہے)۔
پہاڑ اور جنگلات (Mountain and forests)
پوری دنیا میں پہاڑوں کو اکثر دیومالائی حکایتوں میں دیوتاؤں اور سورماؤں سے جوڑا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں پہاڑوں کو ان کی بلندی کی وجہ سے زمین سے جنت میں جانے کے لیے ایک علامتی دروازہ کے طور پر بھی دیکھا جاتاہے۔ اسی لیے ہندوستان میں کئی تیرتھ اور مندر پہاڑی چوٹیوں پر واقع ہیں ۔کیوں کہ ان چوٹیوں کے جسمانی سفر کو الوہی دنیا تک پہنچنے کا علامتی سفر سمجھا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ ان مقامات اور زیارت گاہوں تک پہنچنے کے لیےدشوار گزار پہاڑی راستوں سے ہوکر پیدل سفر کرتے تھے، جو نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کےذہنی استحکام کی بھی آزمائش ہوتی تھی۔ آج کے زمانے میں ہم ان مقامات تک سڑکوں یا نقل و حمل کے دیگر ذرائع کی مدد سے آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔
درخت، جنگلات اورمقدس باغات
(Trees, Forests and Sacred Groves)
ہندوستان کے کئی حصوں میں، درختوں کو ہلدی اور کُمکُم (سرخ رنگ)کی نذر پیش کرکے آراستہ کیاجاتا ہے۔ ایک خاص قسم کا برگد نما درخت جسے عام طور سے پیپل یابودھی درخت، (انگریزی میں Bodhi Tree اور سنسکرت میں اشوتھ) کہا جاتا ہے، ہندو، بودھ ، سکھ اور جین مذاہب میں انتہائی مقدس مانا جاتا ہے۔ درحقیقت، اس کا نبا تاتی نام ہے فائکس ریلی جیوسا (Ficus Religiosa)، (اس لاطینی لفظ کا معنی ہے مذہبی یا مقدس درخت )۔
شکل8.10: بودھ گیا کے مہا بودھی مندر میں واقع درخت کو اکثر اس اصل درخت کی براہِ راست نسل بتایا گیا ہے جس کے نیچے بودھ روایت کے مطابق مہاتما بدھ کو گیان حاصل ہوا تھا۔ اسی نسبت سے اس کا نام ‘بودھی درخت ’اور اس مقام کو ’بودھ گیا‘ کہا جاتاہے۔
گریڈ 6 میں ہم نے ہندوستان کے رزمیہ ادب کے دو شاہکاروں یعنی رامائن اور مہابھارت کے بارے میں پڑھا تھا۔ ان متون میں تیرتھ یاتراؤں، زیارت گاہوں اور مقدس دریاؤں، جنگلات اور پہاڑوں کی واضح تفصیلات موجود ہیں۔ ہندوستان کے تقریباً ہر خطے میں دیہی اور قبائلی روایات موجود ہیں، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان رزمیہ داستانوں کے ہیروا ن کے علاقوں سے گزرے تھے ۔ ان گزرگاہوں کو یادگار بنانے کے لیے زیارت گاہوں یا چھوٹے مندروں کی تعمیر کی گئی۔ ان روایات نے مختلف برادریوں کو موقع دیا کہ وہ ان دونوں رزمیہ متون کو اپنی تہذیب کا حصہ سمجھیں۔
شکل8.11: بَستر، چھتیس گڑھ کی ایک زیارت گاہ جو اسی علاقے سے رام جی کے گزرنے کی یادگارہے۔
شکل8.12: موہن جوداڑو کی ایک مہر
موہن جوداڑو کے دور کی اس مہر کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا آپ اس پر بنی ہوئی پتیوں کی شناخت کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پیپل کے پتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپل صدیوں سے ہندوستان کے ثقافتی جغرافیہ کا اہم حصہ رہا ہے۔
اس پر غور و فکر کریں
پیپل کے درخت کے کئی حصوں کے طبی فوائد ہیں۔ پتیوں کا استعمال جِلد سے متعلق بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے جب کہ چھال، معد ے کے امراض میں بہت مفید ہے۔ چونکہ یہ پورے سال ہرابھرا رہتا ہے، اس لیے مختلف قسم کے پرندوں اور جانوروں کو غذا اور پناہ گاہ بھی مہیا کرتا ہے۔
وقت گزرنے کےساتھ، ہندوستان میں کئی دیہی اور قبائلی برادریوں نے قدرتی جنگلات کے کچھ حصوں کو شکار، درختوں کی کٹائی یا کان کنی جیسی نقصان دہ سرگرمیوں سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ان جنگلات کو دیوتاؤں کا مسکن تصور کرتے تھے ۔ مثال کے طور پر میگھالیہ میں رِنگ کیو
(Ryng kew) یا باسا(Basa)ایسے ہی مقامات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان مخصوص جنگلات کو ’مقدس نواحی باغات‘ (Sacred Groves) کہا گیا ہے۔ (کچھ مقامی زبانوں میں نام دیکھنے کے لیے اگلے صفحے پر جدول کو دیکھیے) ۔ان کے مقدس ہونے کی وجہ سے نباتات اور حیوانات کے عظیم حیاتیاتی تنوع کو پناہ ملتی ہے۔ کئی مقدس باغات میں چھوٹے آبی ذخائر بھی ہوتے ہیں، اس طرح پانی کے تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔
قدیم ہندوستان میں ہزاروں مقدس نواحی باغات تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ لوگ زراعت سے لے کر صنعت تک مختلف مقاصد کے تحت ان پر قابض ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کے بہت سے علاقوں میں مقدس باغات محفوظ ہیں اور اپنی ثقافتی و ماحولیاتی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
شکل8.13: کلکئی مندر، مُلشی، مہاراشٹر
شکل8.14 : ماؤپھلونگ، شیلانگ
شکل8.15: بھیل برادری کے مقدس نواحی باغات
شکل8.16: اُدے یَن کُدوکادو، کرومبائی رام کونڈن، تمل ناڈو
ذیل میں چند مقدس نواحی باغات کے نام ہندوستان کی کچھ مقامی زبانوں میں دیے گئے ہیں۔ کیا آپ ان میں کچھ اور نام شامل کر سکتے ہیں؟
|
ملیالم |
کاوو (Kavu) |
|
تمل |
کوویل کاڈو (Kovilkadu) |
|
کنڑ |
دیورے کاڈو (Devare Kadu) |
|
مراٹھی |
دیورائی (Devarat) |
|
کھاسی (میگھالیہ) |
کھلاؤ کنٹانگ (Khlaw Kyntang) |
|
ہندی (ہماچل پردیش ) |
دیو ون(Dev Van) |
|
جھارکھنڈ |
سرنا (Sarna) |
|
چھتیس گڑھ |
دیوگڑی (Devgudi) |
|
راجستھان |
اورن (Oran) |
تمل ناڈو میں مقامی تواریخ (Chronicles) ایک مقدس نواحی باغ کے دیوتا، فطرت اور انسانوں کے مابین تعلق کو اجاگر کرتی ہیں۔تھنجاور ضلع میں ایسی ہی ایک تاریخ میں بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے دیوتا میوہ خور چمگادڑوں (fruits bat)کی حفاظت کرتے ہیں، جنھیں مقدس سمجھا جاتا ہے اور ان میں سے ایک کو دیکھ لینا متبرک تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چمگادڑیں پھولوں کی زیرگی (Pollination)اور بیجوں کو منتشر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس طرح مقدس نواحی باغات دیوتا، ماحولیاتی نظام اور انسانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔
زیارت سے تجارت تک
(From Pilgrimage to Trade)
سفر کے دوران تاجروں اور سوداگروں سے بھی زائرین کی ملاقات ہوتی ہے۔ اس تعامل سے دونوں فریق مستفید ہوتے ہیں۔ زائرین کو مختلف اشیا کی ضرورت ہوتی ہے ،جنھیں تاجر فراہم کرتے ہیں ۔نتیجتاً زیارت گاہوں کے راستے اور تجارتی راستے اکثر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ کچھ تاجر زائرین بھی ہو سکتے ہیں جو مقدس مقامات اور زیارت گاہوں کی حاضری کے سفر کے دوران دور دراز کے قصبوں اور شہروں میں اپنے سامان کے ساتھ پہنچتے ہیں۔
قدیم ہندوستان میں تاجر کن راستوں کو استعمال کرتے تھے، اس کے لیے باب ’ سلطنتوں کا عروج‘ میں تجارتی راستوں کے نقشے (شکل 5.5) کو دوبارہ دیکھیے۔ اترپتھ (Uttarapath) بر صغیر کے شمال مغربی اور مشرقی حصوں کو جوڑنے والا ایک اہم تجارتی راستہ تھا، دکشن پتھ(Dakshinapath) کوشامبی سے اجّینی (اجّین) ہوتے ہوئے پرتشٹھان (پیٹھان) تک جاتا تھا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان راستوں سے جن سامان کی تجارت ہوتی تھی ،ان میں سیپ، موتی ،قیمتی پتھر، سکّے، سونا اور ہیرے کے ساتھ ساتھ کپاس ، مسالے اور صندل کی لکڑی بھی بڑی مقدار میں شامل تھی ۔
آئیے معلوم کریں
ایک شفاف کاغذ لیجیے جسے عکس اتارنےکے لیے استعمال کیا جا سکے۔باب ’سلطنتوں کا عروج‘ سے تجارتی راستوں کے نقشے کا عکس اتاریے۔ اب اسے اہم تیرتھوں (زیارت گاہوں) کے نقشے کے اوپر رکھ کر دیکھیے۔ آپ کیا مشاہدہ کر پارہے ہیں؟
ہندوستان سے باہر مقدس جغرافیہ (Sacred Geography beyond India)
مقدس جغرافیہ کا تصور اور روایت ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ روایت دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی ملتی ہے۔ قدیم یونان میں پہاڑوں سے لے کر مقدس باغات تک متعدد متبرک مقامات تھے۔ امریکہ کے اصل (مقامی) باشندوں کا فطرت کے ساتھ ایک مخصوص تعلق ہوا کرتا تھا۔ ان کے نزدیک فطرت بذات خود متبرک تھی۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے مقامی ماؤری لوگ، ترانکی مونگا پہاڑ کو اپنا جد امجد تسلیم کرتے ہیں اور اسی لیے اسے مقدس سمجھتے ہیں۔ ماؤریوں کی طرف سے کئی مرتبہ کی کوششوں کے بعد، حال ہی میں منظور کیے گئے ایک قانون نے اس پہاڑ کو ایک انسان کے حقوق اور ذمے داریاں عطا کی ہیں۔ یہ ماؤریوں کے نقطۂ نظر سے دنیا کو دیکھنے کا اعتراف ہے۔ برادری کےبزرگ افراد اس پہاڑیا دریا کی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں، جب بھی وہ تباہی کے خطرے سے دو چار ہوں۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مقدس مقامات کا استحصال اور انحطاط نہ ہو۔
مقدس مقامات کی بحالی اورتحفظ
(Restoring and Conservating the Sacred)
اس پرغور و فکر کریں
مقدس سمجھے جانے والے مقامات اور جانوروں کی ان تصاویر کو غور سے دیکھیے۔ شمال میں جمنا، مشرق میں مہا ندی اورجنوب میں کاویری، یہ سبھی مقدس دریا ہیں۔ وہ اتنے آلودہ کیسے ہو گئے؟ کیا آپ کے علاقے میں ایسے مقدس مقامات ہیں جو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اسی طرح آلودہ یا انحطاط زدہ ہو چکے ہیں؟ ہمارے مقدس مقامات کی حرمت کو برقرار رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اس پر اپنی جماعت میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
ایک زمانے میں انسان اور مقدس جغرافیہ کے مابین ہم آہنگ تعلق نے ہزاروں سال تک ہندوستانی تہذیب کو سہارا دیا اور برصغیر میں مشترکہ قدروں کو جنم دیا، لیکن آج صورت حال بہت کشیدہ ہے۔
مقدس جغرافیہ آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔ جب فطرت کے ساتھ ہمارے روابط میں کوئی تصادم ہوتا ہے، جب کسی دریا کاضرورت سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ معدو م ہونے لگتا ہے یا کوئی مقدس پہاڑ ترقیاتی منصوبوں کی زد میں آتا ہے تو لوگوں نے اپنے ماحول، اپنے دیوتاؤں اور اقدار کی حفاظت کے لیے آوازاٹھائی ہے۔ ایسے وقت میں جب پائیداری (Sustainability) ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، تو ایک ایسا نقطۂ نظر جو مقدس جغرافیہ کو مرکز یت دیتاہو، دنیا کو بیش قیمت رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں...
� ہندوستان میں تمام مذاہب کے اپنے مقدس مقامات ہیں جو پوری سرزمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ بودھ مت، جین مت او رسکھ مت میں ایسے مقامات عام طور پر ان عقائد کی شخصیات سے منسوب ہیں۔
� ہندو مذہب میں زیارت گاہوں کا ایک وسیع اور گھنا جال ہے جو پورے ہندوستان کی جغرافیائی حدود کا احاطہ کرتا ہے۔ زیارت کی روایت لوگوں کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف انفرادی اور روحانی نشوونما میں معاون ہے بلکہ تجارتی توسیع اور پورے ہندوستان کے ثقافتی اتحاد کے سماجی واقتصادی مقاصد کو بھی پورا کرتاہے ۔
� بہت سے ہندو قبائل اور لوک (عوامی) روایات میں خود زمین کو مقدس سمجھا گیا ہے۔
� ہمارے مقدس مقامات بڑے پیمانے پر نظر انداز کیے جانے اور عدمِ سروکار کی وجہ سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ ان کے تقدس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور یہ ہماری آئینی ذمہ داری بھی ہے۔
سوالات اورسرگرمیاں
1. معروف ماحولیاتی مفکر ڈیوڈ سوزوکی کے مندرجہ ذیل بیان کو پڑھیے :
”جس طرح سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں، اسی طرح سے ہم اس کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔ اگر پہاڑ ہمارے نزدیک محض کان کنی کے ذخائر نہیں بلکہ ایک دیوتا ہیں ؛ اگر دریا زمین کی کوئی ایک رگ ہے،نہ کہ محض آب پاشی کاذریعہ ؛ اگر جنگل ایک مقدس باغ ہے،نہ کہ صرف لکڑی؛ اگر دیگر دوسری انواع و اقسام حیاتیاتی رشتے دار ہیں، نہ کہ صرف وسائل، اگر زمین ہماری ماں ہے،نہ کہ محض ایک موقع — تو پھر ہم ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔ اس طرح دنیا کو ایک مختلف نقطہ ٔنظر سے دیکھنا ایک چیلنج ہے۔“
چھوٹے گروپوں میں اس پر تبادلۂ خیال کیجیے۔ آپ کے خیال میں اس بیان کا کیا مطلب ہے؟ ہمارے ارد گرد کی ہوا، پانی، زمین، درخت اور پہاڑوں کے ساتھ ہمارے رویے پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں؟
2. اپنے علاقے کے مقدس مقامات کی فہرست بنایئے اور معلوم کیجیےکہ انھیں مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے؟ کیا ان مقدس مقامات سے جڑی ہوئی کوئی کہانی ہے؟ 150 الفاظ پر مشتمل ایک مختصر مضمون تحریرکیجیے۔ (اشارہ : آپ متعلقہ معلومات جمع کرنے کے لیے اپنے خاندان اور معاشرے کے بزرگ افراد سے بات چیت کر سکتے ہیں، اپنے استاد سے تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں اور کتابیں اور مضامین وغیرہ پڑھ سکتے ہیں۔)
3. آپ کے خیال میں لوگ دریاؤں، پہاڑوں اور جنگلات جیسے فطرت کے عناصر کو مقدس کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ عناصر ہماری زندگی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
4. لوگ تیرتھ یاترا یا دیگر مقدس مقامات پر کیوں جاتے ہیں؟
5. قدیم زمانے میں زیارت گاہوں کے راستوں نے وہاں ہونے والی تجارت کو فروغ دینے میں کس طرح مدد کی؟ کیا آپ کولگتا ہے کہ مقدس مقامات اس خطے کی معاشی ترقی میں مدد کرتے ہیں؟
6. مقدس مقامات اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کی ثقافت اور روایات کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
7. ہندوستان کے مختلف مقدس مقامات میں سے اپنی پسند کے دو مقامات کا انتخاب کیجیے اور ان کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک پروجیکٹ بنایئے۔
8. تیرتھ یاترایا زیارت کے دوہرے(Two-fold)معنوی پہلو کیا ہیں؟