باب 9
حکمراں سے رعایا تک : حکومت کی اقسام
(From the Rulers to the Ruled: Types of Goverments)
ملک کے داخلی نظم و نسق میں حکمراں کی ذمہ داریاں سہ رخی ہوتی ہیں: رَکھشا (بیرونی حملوں سے ریاست کو بچانا)، پالن (ریاست میں قانون اور امن وامان برقرار رکھنا)، اور یو گ کشیما (عوام کی بھلائی اور خوش حالی کا تحفظ کرنا)۔‘
—’ ارتھ شاستر‘ از کوٹلیہ
(ترجمہ: ایل. این. رنگ راجن)
شکل9.1: ہندوستانی پارلیمنٹ کا اندرونی منظر
اہم سوالات
- حکومت کی مختلف اقسام کیا ہیں؟
- حکومتیں اپنے اختیارات کہاں سے حاصل کرتی ہیں؟
- کسی ملک کی حکومت عوام کے ساتھ کس طرح رابطہ قائم کرتی ہے؟
- جمہوریت کی اہمیت کیوں ہے؟
حکومت کیا ہے؟ (What is Government?)
اس کے فرائض کیا ہیں؟ (What are it’s Functions?)
گریڈ 6میں، ہم نے یہ سیکھا تھا کہ حکومت کیا ہوتی ہے اور اس کے کچھ اہم کرداروں کا مطالعہ کیا تھا۔
حکومت ہماری زندگیوں میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے چند بنیادی کام یہ ہیں:
- معاشرے میں قانون اور امن وامان قائم رکھنا؛
- عوام کے لیے امن، استحکام، اور تحفظ کو یقینی بنانا؛
- دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بنائے رکھنا؛
- قومی دفاع کا انتظام کرنا؛
- ضروری اشیا اور خدمات کی فراہمی (جیسے تعلیم، صحت، اور بنیادی ڈھانچہ)؛
- معیشت اور اقتصادی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالنا؛
- عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانا۔
شکل 9.2
آئیے معلوم کریں
- کیا آپ کو اپنی گریڈ 6کی کتاب سے یہ تصویر یاد ہے؟
- حکومت کے اور بھی کئی فرائض ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو خود تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔
گریڈ 6 میں ہم نے یہ سیکھا تھا کہ ہندوستان میں جمہوری طرز کی حکومت ہے۔ ہندوستان کی طرح بہت سے دیگر ممالک میں بھی جمہوری حکومتیں ہیں؛ لیکن کچھ ممالک میں دوسرے طرزِ حکومت بھی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام جمہوری حکومتیں بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اس باب میں الگ الگ طرزِ حکومت کے بارے میں سمجھیں گے،ان کے درمیان فرق کو دیکھیں گے اور ان کے کام کے بارے میں سیکھیں گے۔
جمہوریت کیا ہے؟ (What is democracy?)
جیسا کہ ہم نے گریڈ 6 میں پڑھا تھا ‘جمہوریت’ کو سب سے آسان انداز میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں ’عوام کی حکمرانی‘ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت میں طاقت اور اختیار کا اصل ماخذ ملک کے عوام ہوتے ہیں۔ آئیے اسے ایک اسکول کی مثال سے سمجھتے ہیں۔
اسکول کی مثال (A School Example)
ایک اسکول میں بہت سی سرگرمیاں اور کئی کام انجام دینے ہوتے ہیں۔ روزمرہ کے کئی کاموں کو منظم کرنا پڑتا ہے اور سب کچھ ترتیب سے چلانا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً، نظام الاوقات (Time Table) بنانا اور اس پر عمل کرنا، کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد، دوپہر کے کھانے (Mid Day Meal) کا بندوبست کرنا، برتن صاف کیاجانا،صبح کی اسمبلی کے لیے مقررین کا انتخاب اور بستہ سے خالی دنوں (No Bag Days) کی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا۔ یوں تو یہ فہرست بہت طویل ہے اور ان سب کے لیے ایک بہتر نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
اتنے سارے کاموں کو دیکھتے ہوئے صدر مدرس نے یہ محسوس کیا کہ طلبا کی ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ طلبا ان اصولوں کی تشکیل میں شامل ہوں جو ان کاموں کو انجام دینے کے لیے ضروری ہیں۔ پھر ان اصولوں پر عمل درآمد میں مدد کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ سب اصولوں پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔ لیکن صدر مدرس کے سامنے یہ سوال تھا کہ کمیٹی میں کون ہوگا؟
صدر مدرس نے اس معاملے پر اسمبلی میں بات کی۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر کچھ طلبا ان کاموں کی ذمہ داری سنبھال لیں تو بہتر ہوگا۔ ایک اسٹوڈنٹ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ یہ سن کر طلبا پرجوش ہو گئے اور بحث کرنے لگے۔
نغمہ: گریڈ 12 کے طلبا سب سے سینئر ہیں؛ ہم سب کچھ سنبھال لیں گے۔
شوبھا: لیکن آپ لوگ تو چند مہینوں میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد اسکول سے رخصت ہوجائیں گی۔ گریڈ 11 کے طلبا کو سب کچھ سنبھالنا چاہیے۔
گُرپریت: اگر صرف ایک ہی جماعت کے طلباسب کچھ سنبھالیں گے، تو وہ باقی جماعتوں کے مسائل کو کیسے سمجھیں گے؟
اس دل چسپ صورت حال میں، طلبا بالآخر تین تجاویز پر پہنچے:
- اسکول کے تمام طلباکمیٹی کا حصہ بن جائیں اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
- صدرِ مدرس (ہیڈ ٹیچر)خود طلباکوکمیٹی کے لیے منتخب کرے۔
- طلباووٹنگ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کریں اور منتخب نمائندے کمیٹی کے رکن بنیں۔
شکل9.3
نمائندہ
(Representative):
ایسا شخص جو کسی دوسرے فرد یا لوگوں کے گروہ کی طرف سے فیصلے کرنے یا کام انجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہو۔
آئیے معلوم کریں
آپ کے خیال میں ان تینوں طریقوں میں سےکون سا طریقہ سب سے مؤثر ہے اور کیوں؟
پہلا طریقہ بظاہر پرکشش لگتا ہے، لیکن اگر اسکول کا ہر طالب علم کمیٹی میں شامل ہوگا تو فیصلے لینا اور ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کروانا مشکل ہو جائے گا۔ دوسرے طریقے میں چوں کہ صدر مدرس خود کمیٹی کے لیے طلباکا انتخاب کرتا ہے، اس لیے زیادہ تر طلباکا کوئی کردار نہیں ہوگا اور ان کے مطالبات یا ضروریات کی نمائندگی نہیں ہو پائے گی۔ تاہم، تیسرے طریقے میں ہر جماعت کے طلبااپنی جماعت سے ایک نمائندہ منتخب کر سکتے ہیں۔ ایسا نمائندہ جس پر وہ اعتماد رکھتے ہوں کہ وہ ان کی جماعت کی ضروریات کی صحیح ترجمانی کرے گا۔ یہ نمائندے کمیٹی میں شامل ہوں گے، یعنی کہ طلباکمیٹی ہر جماعت کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ یہ طریقہ نمائندے چننے اور کمیٹی بنانے کا ایک جمہوری انداز ہے۔
حکومت کے فرائض (Functions of Government)
ہم پہلے بھی اس بات پر گفتگو کر چکے ہیں کہ اسکول میں طلباکی کمیٹی کی ذمہ داریوں کی طرح حکومت ہماری زندگیوں میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔اسکول کمیٹی ہی کی طرح حکومت ضروری اصول و ضوابط بناتی ہے، ان پر عمل درآمد کرواتی ہے اور یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر کوئی ان اصولوں کی پیروی کرے۔ ان تین ذمہ داریوں کو حکومت کے فرائض کہا جاتا ہے۔
قوانین بنانے کے عمل کو قانون سازی (Legislative Function) کہا جاتا ہے؛ یہ قوانین ملک کو چلانے کے لیے ایک خاکہ فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین پر عمل درآمد کروانا اور ملک کا نظم و نسق ان کے مطابق چلانا انتظامی عمل (Executive Function) کہلاتا ہے۔ آخر میں، یہ یقینی بنانا کہ ان قوانین کی پابندی کی جائے، عدالتی عمل (Judicial Function) کہلاتا ہے۔
جمہوریت کو ’عوام کی حکمرانی‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جیسے اسکول میں نمائندے منتخب کرنے کے تیسرے طریقے میں طلبااپنے نمائندے خود چنتے ہیں، اسی طرح جمہوریت میں عوام اپنے نمائندے چنتے ہیں تاکہ وہ ان پر حکومت کریں۔ تاہم، ہر ملک ان نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ استعمال نہیں کرتا۔ ہم اس موضوع پر آگے تفصیل سے بات کریں گے۔
دیواری تصویر (Mural):
ایک بڑی تصویر یا فن پارہ جو براہِ راست دیوار یا چھت پر بنایا گیا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
شکل9.4: پینٹر ویدر کی بنائی گئی سن 1896 کی دیواری تصویرجسےگورنمنٹ کہا جاتا ہے، یہ یو ایس اے کی لائبریری آف کانگریس سے لی گئی ہے۔
امریکہ کے صدر اَبراہم لِنکن نے 19ویں صدی کے آخر میں جمہوریت کو ان الفاظ میں بیان کیا:’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے‘یہ محاورہ آج بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
حکومتوں میں فرق کیوں ہوتا ہے؟
(What Makes Government Different?)
کسی بھی ملک کی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی ہے۔ چوں کہ ہر ملک کی اپنی ایک تاریخ، ثقافت اور آرزوئیں ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ فطری بات ہے کہ مختلف ممالک کی حکومتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ آئیے ان پہلوؤں پر نظر ڈالیں جو ایک حکومت کو دوسری حکومت سے مختلف بنا سکتے ہیں۔ یہ فرق اس وقت اور واضح ہو جائے گا جب ہم باب کے آخری حصے میں حکومت کی مختلف اقسام پر غور کریں گے۔
حکومتوں کے درمیان بنیادی فرق
(Key Differences between governments)
- یہ کون طے کرتاہے کہ یہ ہماری ملکی حکومت ہے؟ یہ سوال مختلف اقسام کی حکومتوں میں سب سے بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔ کون یہ طے کرتاکہ یہ ‘ہمارےملک کی حکومت ہے؟’ یعنی حکومت کو اختیار اور طاقت کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟ مثال کے طور پر، ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں، عوام حکومت کا انتخاب کرتے ہیں اور وہی اس کی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں، جب کہ ایک مذہبی حکومت (Theocracy) میں حکومت کو اختیار مذہبی عقائد اور کسی مذہبی ادارے کے سربراہ سے حاصل ہوتا ہے۔
- حکومت کس طرح بنائی جاتی ہے؟ جمہوریت میں عموماً حکومت انتخابات کے ذریعے بنتی ہے۔ جبکہ وہ بادشاہتیں جن کے بارےمیں آ پ نے پچھلےابواب میں پڑھا ہے، وہاںعموماً بادشاہ یا ملکہ کے خاندان ہی کا کوئی فرد حکومت سنبھالتا ہےاور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ حکومت کس طرح چلائی جائے گی۔حکومت بنانے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ جمہوریتوں میں بھی انتخابات کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں۔
- حکومت کے مختلف اجزا کون سے ہوتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں؟ کسی بھی حکومت میں مختلف حصے اور نظام ہوتے ہیں اور یہ مختلف قسم کی حکومت میں مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر، جیسا کہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں، حکومت کے تین اہم فرائض—مقننہ، عاملہ اور عدلیہ ،یہ تینوں کام کبھی الگ الگ ادارے آزادانہ طور پر انجام دیتے ہیں اور کبھی ایک ہی ادارہ انجام دیتا ہے۔ حکومت کس طریقے سے کام کرے گی، اس کا نظام ملک کے بنیادی اصولوں پرمشتمل ایک کتاب میں درج ہوتا ہے جسے ‘ آئین’ کہا جاتا ہے۔ یہ طرزِعمل زیادہ تر جمہوری ملکوں میں اختیار کیا جاتا ہےلیکن بادشاہتوں(Monarchies) میں اکثر سب کچھ بادشاہ یا ملکہ کے فیصلوں پرمنحصرہوتا ہے۔
- حکومت کن مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے؟ وہ کون سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ حکومتیں مخصوص اقدار اور نظریات کو فروغ دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ کچھ حکومتیں، جیسے کہ ہندوستان کی حکومت، مساوات اور سب کی خوش حالی کے لیے کام کرتی ہے، جب کہ بعض دیگر حکومتیں صرف چند خاندانوں یا گروہوں کی ترقی و فلاح کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
یہ کون طےکرتا ہے کہ یہ ہماری ملکی حکومت ہے؟
حکومت کس طرح بنائی جاتی ہے؟
حکومت کے مختلف اجزا کون سے ہوتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں؟
حکومت کن مقاصد کے لیے کام کررہی ہے؟ وہ کون سے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے؟
مختلف حکومتوں میں چار بڑے پہلوؤں کی بنیاد پر فرق پایا جاتا ہے، تاہم دیگر قسم کے فرق بھی ہو سکتے ہیں۔ آئیے اب ہم مختلف قسم کی حکومتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
دنیا بھر میں جمہوری حکومتیں
(Democratic Governments around the World)
آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مقبول طرزِحکومت جمہوریت ہے۔ باب کے اس حصے میں ہم دیکھیں گے کہ جمہوری حکومتوں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ اس فرق کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم جمہوریت کے کچھ بنیادی اصولوں کو جانیں۔
جمہوریت کے بنیادی اصول (Fundamental principles of democracy)
مساوات (Equality): جمہوریت میں مساوات کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو برابر سمجھا جائے۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہر شخص کو تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تک برابر رسائی حاصل ہو اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔
آزادی (Freedom): جمہوریت میں آزادی کا مطلب ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہو۔
نمائندہ شمولیت (Representative Participation): اس کا مطلب ہے کہ ہر فرد کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ انتخاب ’الیکشن‘ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ منتخب ہونے والے نمائندے ’مقنّنہ‘ (Legislature) کا حصہ بنتے ہیں۔
عالمی بالغ رائے دہی (Universal Adult Franchise) : ہر ایسے شہری کو (جو مخصوص عمر سے زیادہ کا ہو) یہ حق دیتی ہےکہ وہ اپنے نمائندے کے انتخاب کے لیے ووٹ دے سکے۔
ایک شہری کے بنیادی حقوق (Fundamental rights): جمہوریت میں شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں جیسے کہ مساوات کا حق، اظہارِ رائے و آزادی تقریر کا حق اور استحصال کے خلاف تحفظ کا حق۔ یہ تمام حقوق جمہوریت میں دیے جاتے ہیں اور ان کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
خودمختار عدلیہ (Independent Judiciary): عدلیہ یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں اور یہ کہ نہ صرف عوام بلکہ حکومت کے تمام ادارے بھی قوانین کی پابندی کریں۔
یہ بات یاد رکھنا مفید ہے کہ یہ بنیادی اصول وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاپاتے گئے ہیں۔مثال کے طور پر، ہندوستان نے 1950 میں جمہوریہ بنتے ہی عالمی بالغ رائے دہی (یعنی تمام بالغوں کو الیکشن میں ووٹ دینے کا حق) کا نظام اپنا لیا تھا؛ جب کہ سوئٹزرلینڈ میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق 1971 میں حاصل ہوا۔
صاف ظاہر ہے کہ یہ اصول ایک مثالی حیثیت ہیں؛ تاہم تمام جمہوریتیں ان پر مکمل طور پر عمل نہیں کر پاتیں،لیکن یہ تو واضح ہے کہ تمام شہری ان اعلیٰ اصولوں کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
جمہوری حکومتوں کی مختلف اقسام
(Different forms of Democratic Government)
آئیے اب دنیا میں رائج جمہوری حکومتوں کی مختلف اقسام کو سمجھتے ہیں۔
1. براہِ راست جمہوریت (Direct Democracy)
یہ جمہوریت کی وہ شکل ہے جہاں ملک کے تمام شہری براہِ راست تمام قوانین، ضوابط اور حکومتی معاملات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ وہ ہر فیصلے میں براہِ راست شریک ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں، اس قسم کی کچھ شکلیں چند ممالک میں رائج ہیں، جیسے سوئٹزرلینڈ۔تاہم اس طرز حکومت کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اسے عملی طور پر نافذ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر بڑے ممالک میں— بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے اسکول کی کہانی میں دیکھا تھا کہ اگر ہر کوئی کمیٹی کا حصہ بن جائے تو فیصلے کرنا اور تمام کاموں پر آسانی سے عمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
جواب دہی (Accountability):
جمہوریت میں جواب دہی کے معنی یہ ہیں کہ حکومت اس عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہےجو اسے منتخب کرتی ہے۔
2. نمائندہ جمہوریت (Representative Democracy)
یہ جمہوریت کی وہ قسم ہے جس میں عوام عالمی بالغ رائے دہی (universal adult franchise) کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، جیسے کہ ہندوستان میں ہوتا ہے۔ اس طرز کی جمہوریت میں عوام براہِ راست حکومت نہیں کرتے، لیکن حکومت ہمیشہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔
انتخابات نمائندہ جمہوریت کا ایک لازمی جزو ہیں، جن کے ذریعے عوام اپنی پسند میں تبدیلی کا اظہار کرسکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے انتخابات مقررہ وقفوں پر کرائے جاتے ہیں۔ہندوستان میں ہر پانچ سال بعد عام انتخابات ہوتے ہیں، جب کہ امریکہ میں ہر چار سال بعد انتخابات کراتے ہیں۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں کہا تھا، جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر رہی ہے اور اس کے خدوخال میں بھی تبدیلی آئی ہے۔آج بھی دنیا کی مختلف جمہوریتوں کے کام کرنے کے انداز میں کئی فرق پائے جاتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب ان ممالک نے جمہوریت اپنائی تھی، تب ان کے پاس وہ تمام اصول نہیں تھے جنھیں ہم آج جمہوریت کا حصہ سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر،برطانیہ میں مؤثر عالمی بالغ رائے دہی 1928 میں عمل میں آئی، جب کہ امریکہ میں یہ حق 1965 میں مکمل طور پر ملا۔
|
ملک |
جمہوریت کے قیام کا سال |
|
یو ایس اے |
1787 |
|
سوئٹزرلینڈ |
1848 |
|
ہندوستان |
1947 |
|
جرمنی |
1949 |
|
کینیا |
1964 |
|
نیپال |
2008 |
آج کی زیادہ تر جمہوریتیں نمائندہ جمہوریتیں ہیں۔ لیکن ہر جمہوری نظام کا طریقۂ کار مختلف ہوتا ہے۔یہاں نمائندہ جمہوریت کی دو اقسام درج ہیں:
شکل9.5: ہندوستان میں ووٹنگ
a. پارلیمانی جمہوریت
اس طرز حکومت میں انتظامیہ(Executive)کے ارکان،قانون سازادارے(Legislature)کابھی حصہ ہوتے ہیں۔ مثال کےطورپر،ہندوستان میں وزیر اعظم اور وزیروں کی کونسل پارلیمنٹ کے رکن بھی
ہوتے ہیں۔
وزیروں کی کونسل قانون ساز ادارے کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے اور وہ صرف اس وقت تک کام کرتی ہے جب تک اسے قانون ساز ادارے کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ہندوستان میں وزیروں کی کونسل اس وقت تک کام جاری رکھ سکتی ہے جب تک اسے لوک سبھا کا اعتماد حاصل ہے۔
اس طرز حکومت میں عوام صرف قانون ساز ادارے کے نمائندے کو منتخب کرتے ہیں۔ انتظامیہ براہِ راست عوام سے منتخب نہیں ہوتی بلکہ منتخب شدہ قانون ساز ادارے کے کچھ ارکان وزیر بنتے ہیں۔
b. صدارتی جمہوریت
اس طرز حکومت میں عاملہ، مقننہ سے آزاد کام کرتی ہے۔صدر براہِ راست عوام کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔ صدر کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے مقنّنہ کے اعتماد کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کچھ ممالک، جیسے کہ ہندوستان میں ریاستیں مثلاً راجستھان یا کیرالہ اپنی الگ حکومتیں رکھتی ہیں،لیکن وہ مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتیں۔ان پر ایک بڑی قومی حکومت یعنی مرکزی ہندوستانی حکومت کی بالادستی برقرار رہتی ہے۔
مختلف اقسام کی جمہوری حکومتوں کا مختلف ڈھانچہ ہوتا ہے۔ان کے بنیادی فرق کو جدول 9.1میں آئندہ صفحہ پر سمجھا جا سکتا ہے۔
ان اصطلاحات کے کیا معنی ہیں؟ (What do these terms mean?)
- عاملہ (Executive): عاملہ حکومت کا وہ شعبہ ہے جو قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔لیکن اس کے انتخاب کا طریقۂ کار مختلف ممالک میں جداگانہ ہوتا ہے۔
- قانون ساز ادارہ (Legislature): مقنّنہ حکومت کا وہ شعبہ ہے جو قوانین بنانے کا پابند ہوتا ہے۔اسے مختلف ممالک میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اسے پار لیمنٹ اور امریکہ میں کانگر یس کہا جاتا ہے۔زیادہ تر جمہور یتوں میں یہ دو ایوانوں پرمشتمل ہوتا ہے:ایوان بالا(Upper House)اور ایوانِ زیریں(Lower House)۔
- ایوانِ بالا (Upper House)اور ایوانِ زیریں(Lower House): زیادہ تر ممالک میں ایوان زیریں کا انتخاب براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور یہ عام طور پر ایوان بالا کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔ ایوان بالا یا تو انتخاب یا نامزدگی کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔ ان ایوانوں کو مختلف ممالک میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ایوان زیریں کو لوک سبھا اور ایوان بالا کو راجیہ سبھا کہا جاتا ہے۔
- اختیارات کی تقسیم (Separation of Power): اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے تین ادارے مقنّنہ(Legislature)، عاملہ(Executive)، اور عدلیہ (Judiciary) یہ سبھی آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔
|
جمہوری حکومت کی مختلف اقسام |
|||
|
ممالک |
عاملہ |
مقننہ |
عدلیہ |
|
ہندوستان |
وزیرِ اعظم اور وزیروں کی کونسل |
ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کوایوانِ بالا (راجیہ سبھا) سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں |
عاملہ اور مقنّنہ سے آزاد (اختیارات کی تقسیم) |
|
امریکہ |
صدر |
ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں (ایوانِ نمائندگان ) کو مساوی اختیارات حاصل ہیں |
عاملہ اور مقنّنہ سے آزاد (اختیارات کی تقسیم) |
|
جنوبی کوریا |
صدر |
ایک ایوان پر مشتمل (قومی اسمبلی) |
عاملہ اور مقنّنہ سے آزاد (اختیارات کی تقسیم) |
|
آسٹریلیا |
وزیرِ اعظم اور وزیروں کی کونسل |
ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں (ایوانِ نمائندگان ) کو مساوی اختیارات حاصل ہیں |
عاملہ اور مقنّنہ سے آزاد (اختیارات کی تقسیم) |
|
A |
|||
|
B |
|||
جدول9.1 : جمہوری حکومت کی مختلف اقسام
آئیے معلوم کریں
- جدول 9.1 کے تحت پچھلے صفحے پر دیے گئے ٹیبل میں ملک A اور ملک B کے خانے خالی ہیں ۔ اپنی پسند کے دو مختلف ممالک کی بنیاد پر اسے پُرکیجیے۔
- جدول کا تجزیہ کیجیے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ تمام مثالوں میں ان کی مماثلتوں اور فرق پرگفتگو کیجیے ۔
یہ مشق آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ جمہوری حکومتوں کی مختلف اقسام کی تشکیل، ساخت اور عمل مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کے تینوں اداروں کے درمیان تعلق بھی مختلف ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے آغاز میں پڑھا، کچھ خصوصیات جیسے برابری، آزادی اور عالمی بالغ رائے دہی کا حق تمام جمہوریتوں میں یکساں ہوتے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
- اوپر دی گئی مثالوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، جمہوری حکومت کے بنیادی اصولوں کی فہرست بنائیے۔ اپنی سمجھ کی بنیاد پر درج ذیل سرگرمی مکمل کیجیے:
- آپ کو اپنے اسکول میں طلباکی ایک کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ ایک منصوبہ بنائیے اور اس کو یقینی بناتے ہوئے اسے جمہوری انداز میں نافذ کیجیے کہ:
- کمیٹی کے کام واضح طور پرمتعین ہوں۔
- کمیٹی کے ارکان کے انتخاب کا عمل جمہوری ہو۔
تاریخ کی ایک جھلک (A Peek into History)
ابتدائی جمہوریتیں (Early Republics)
جمہوریہ ایک ایسی طرزِ حکومت ہے جس میں ریاست کا سربراہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اوروہ موروثی بادشاہ یا ملکہ نہیں ہوتے۔
یہ طرزِ حکومت کم از کم دو قدیم ہندوستانی مہاجن پدوں میں رائج تھا، جیسا کہ آپ کو ’نئی ابتدا :
شہر اور ریاستیں ‘ والے باب سے یاد ہوگا۔ وَجّی (یا وریجی) مہاجن پد میں، خصوصاً لچھوی قبیلہ اجتماعی فیصلہ سازی کی روایت پرعمل کرتا تھا جہاں رہنماؤں کا انتخاب نسب کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ اہم عہدوں پر انتخابات کے ذریعے افرادکو منتخب کیا جاتا تھا اور مختلف قبیلوں کے نمائندے باقاعدگی سے ملاقات کر کے عوام کی فلاح و بہبود کے مسائل پر گفتگو کرتے اور حل تجویز کرتے تھے۔ اسی لیے ایسی ریاستوں کو ابتدائی جمہوریتیں کہا جاتا ہے۔
درحقیقت، ہندوستان میں عوام کی آواز کو صدیوں سے اہمیت دی گئی ہے، چاہے اقتدارکسی بادشاہ یا ملکہ کے ہاتھ ہی میں کیوں نہ ہو۔ چول عہد کا ایک شان دار نمونہ دسویں صدی عیسوی کے تمل ناڈو کے اُتر میرور (Uttaramerur)کے کتبوں میں ملتا ہے، جہاں گاؤں کی سبھا (مقامی انتظامیہ) کے ارکان کے انتخاب سے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ ان تحریروں سے ہمیں انتخابی عمل، مہر بند بیلٹ بکسوں، ارکان کی اہلیت، ان کے فرائض اور وہ وجوہات بھی معلوم ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر انھیں معزول کیا جا سکتا تھا۔مثال کے طور پر، اگرکسی رکن کے حوالے سے بدعنوانی میں ملوث ہونے کا ثبوت مل جاتا تو اُسے فوراً برطرف کردیا جاتا۔
شکل9.6: اُترمیرور، تمل ناڈو میں واقع ویکنٹھ پِیرومل مندر کی دیواروں پرچول عہد کے کتبے۔
دنیا کے دیگر حصوں میں بھی جمہوری ریاستیں موجود تھیں۔ پانچویں اور چوتھی صدی قبلِ مسیح میں روم اور یونان میں جمہوری طرز حکومت رائج تھی۔ یونان کے بعض علاقوں میں آزاد مردوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا، لیکن عورتوں، مزدوروں اور غلاموں کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔ دیگر علاقوں میں صرف ایک چھوٹے، مراعات یافتہ طبقے کو ووٹ دینے یا فیصلے کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
غلام(Slave):
وہ شخص جسےکسی اور کے لیے زبردستی کام کرنے اور اطاعت کرنے پر مجبور کیا جائے اور اسے دوسروں کی ملکیت سمجھا جائے۔
تابع کرنا (Subjugate):
لوگوں یا کسی جگہ پر طاقت کے ذریعے قابو پانا اور لوگوں کو اطاعت پر مجبور کرنا۔
حکومت کی دیگر شکلیں (Other Forms of Government)
پچھلےسیکشن میں ہم نے دیکھا کہ آج کی دنیا میں جمہوریت سب سے مقبول طرز حکومت ہے اور جمہوریت کی بھی مختلف شکلیں موجود ہیں۔ اب آئیے حکومت کی دیگر شکلوں پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کے بنیادی ڈھانچوں کو سمجھتے ہیں۔
شکل9.7: سانچی استوپ کے ستون کے تئیں عقیدت کا اظہار
1. بادشاہت (Monarchy)
جیسا کہ ہم نے ’ماضی کے نقوش‘ والے ابواب میں دیکھا، مہاجن پدوں کی سربراہی بادشاہوں کے ہاتھ میں ہوتی تھی، جنھیں سبھا یا سمیتی کی رہنمائی حاصل رہتی تھی اور ان اداروں کی رائے اور فیصلوں کو سنجیدگی سے لینے کی توقع کی جاتی تھی۔ جب ہندوستان میں سلطنتیں قائم ہوئیں اور ان کی توسیع ہوئی تو بادشاہوں کو بے پناہ طاقت حاصل ہونے لگی۔ تاہم، وہ حکومت چلانے کے لیے وزیروں کی کونسل اور حسب مراتب افسران کی جماعت پر انحصار کرتے تھے۔ بہت سے معاملات میں، بادشاہ مذہب سے متعلق امور پردانشوروں کی رائے بھی طلب کرتے تھے۔ البتہ، ایسے بادشاہوں کی بھی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کو اپنے تابع کیا۔
دنیا کے بعض حصوں میں بادشاہ کے پاس تمام اختیارات ہوتے تھے؛ وہ قوانین بناتے، ان پر عمل درآمد کرواتے اور سزائیں بھی خود ہی مقررکرتے۔ کچھ صورتوں میں بادشاہ یہ دعویٰ کرتے کہ انھیں اقتدار خدائی حکم سے ملا ہے۔
البتہ، ہندوستان کے کئی علاقوں میں راجا کی طاقت نہ تو مکمل طور پر مطلق تھی اور نہ ہی تنقید سے بالاتر۔بادشاہ سےراجدھرم کی حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کی توقع کی جاتی تھی؛ اس کا مطلب تھا کہ دھرم کے مطابق حکومت کی جائے اور تمام لوگوں کی بھلائی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ ایک مثالی تصور تھا جس پر بادشاہ پورے نہیں اترتے تھے۔
اس پرغوروفکر کریں
اگر بادشاہ خود کو خدائی طاقتوں کا حامل سمجھنے لگے تو کیا ہو گا؟ وہ عوام پر کس انداز میں حکومت کرے گا؟
اسے دیکھنا نہ بھولیں
شکل9.8: سترہویں صدی کی ایک مختصر راجپوت پینٹنگ جس میں بھیشم کو تیروں کے بستر پر لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ یدھشٹر کو تعلیم دے رہے ہیں جب کہ کرشن ان کے سرہانے بیٹھےاس لمحے کے گواہ ہیں۔
مہابھارت کے’شانتی پَرو‘ میں بیان ہے کہ جب کورو خاندان کے دانا بزرگ بھیشم تیروں کے بستر پر موت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، تب انھوں نے پانڈوؤں میں سب سے بڑے یدھشٹھِر کو اچھی حکمرانی، انصاف اور راجہ کی اخلاقی ذمہ داریوں پر بڑے مفصل انداز میں تعلیم دی۔ راجہ محض حکمراں نہیں ہوتا؛ اس کے لیے اپنی رعایا کی بھلائی سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے۔ اسے قانون کو بغیر کسی جانبداری کے نافذ کرنا چاہیے تاکہ عدل و مساوات قائم رہے۔ اُسے اقتدار سے دِل نہ لگانا چاہیے کیوں کہ اس سے انانیت اور بدعنوانی پیدا ہوتی ہے۔ اُسے دانش مند مشیروں سے مشورہ لینا چاہیے تاکہ فیصلے منصفانہ اور بصیرت پر مبنی ہوں۔ راجا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا اقتدار عارضی ہے اور وہ مذہب کے دائروں کا پابند ہے۔
بادشاہ چندرپیڑ اپنے دیوتا کے لیے ایک مندر تعمیر کروانا چاہتا تھا، مگر ایک ضدی موچی کی جھونپڑی اس راستے میں حائل تھی۔ جب کاریگروں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ وہ انھیں ناپ بھی لینےکی اجازت نھیں دے رہا ہے ، تو بادشاہ نے انھیں ہی قصوروار ٹھہرایا کہ انھوں نے پہلے موچی سے اجازت کیوں نہیں لی۔ بادشاہ نے موچی کو دربار میں طلب کیا، جس نے وضاحت کی کہ اُس کی سادہ سی جھونپڑی اُس کے لیے ماں کی طرح ہے اور اتنی ہی قیمتی ہے جتنا قیمتی بادشاہ کے لیے محل ہے۔’’جس کرب کا سامنا کسی انسان کو اپنے گھر کے جبر اً چھن جانے پر ہوتا ہے، اسے صرف وہی بیان کر سکتا ہے جو یا تو آسمان سے گرا ہوا دیوتا ہو یا اپنی سلطنت سے محروم بادشاہ!‘‘تاہم، موچی نے اس پر آمادگی ظاہر کی کہ اگر بادشاہ خود عزت سے آ کر اس سے اجازت مانگے تو وہ اپنی جھونپڑی چھوڑنے کو تیار ہے۔ بادشاہ نے واقعی ایسا ہی کیا، اور اُسے مناسب معاوضہ بھی دیا۔متن کے آخر میں کہا گیا ہے کہ’’جو لوگ خوشی چاہتے ہیں، انھیں جھوٹی انا نہیں رکھنی چاہیے۔‘‘جب کہ موچی نے ایک بادشاہ کی تعریف کی کہ اس نے راج دھرم کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک معمولی رعایا کے ساتھ بھی انصاف کیا۔
کشمیری دانشورکلہن کی راج ترنگنی سے ماخوذ (بارہویں صدی عیسوی)
خودمختار (Sovereign):
خود مختاری اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ کسی ملک کی طاقت کا ماخذ بیرونی اثر ورسوخ سے آزاد ہے۔
بادشاہ(Monarchs):
بادشاہ یا ملکہ وہ حکمراں ہوتےہیں جو اپنی حیثیت ، اپنے خاندان سے وراثت میں حاصل کرتے ہیں اور عموماً یہ منصب ایک نسل سے دوسری نسل کے شاہی خاندان میں منتقل ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلہ دینا (Adjudicating):
کسی تنازع کی صورت میں منصفانہ فیصلہ کرنا
2. آج کی بادشاہتیں (Monarchies Today)
بادشاہت ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں حکومت ایک بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایسے بادشاہوں اور ملکائوں کو شہنشاہ کہا ہے، جن کے پاس خودمختاراختیارات ہوتے ہیں۔ عام طور پر بادشاہتیں موروثی ہوتی ہیں؛ عموماً بادشاہ کا سب سے بڑا بیٹا اس کا جانشین بنتا ہے۔
آج دو طرح کی بادشاہتیں پائی جاتی ہیں:
a. مطلق العنان بادشاہت (Absolute Monarchy)
اس قسم کی بادشاہت میں بادشاہ کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور وہ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے قانون سازی میں مکمل اختیار اپنے پاس رکھتا ہےکہ وہ ان پر عمل درآمد بھی کروائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی فیصلہ بھی جاری کرے گا۔سعودی عرب مطلق العنان بادشاہت کی ایک مثال ہے، یہاں بادشاہ کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں اور وہ اسلامی قانون (شریعت) کے مطابق حکومت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک مشاورتی کونسل مقرر کرتا ہے جو اسے حکومت کے معاملات میں مشورہ دیتی اور مدد کرتی ہے، لیکن وہ کونسل کی رائے کا پابند نہیں ہوتا۔
b. آئینی بادشاہت (Constitutional Monarchy)
آئیے اب ہم بادشاہت کی ایک مختلف قسم کی مثال پر غور کرتے ہیں۔برطانیہ (United Kingdom) بھی ایک بادشاہت ہے۔ یہاں بادشاہ یا ملکہ ریاست کےسربراہ ہوتے ہیں، مگر اس کے پاس محض علامتی اختیارات ہوتے ہیں۔ اصل اختیارات وزیر اعظم کے پاس اور قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام قوانین منتخب پارلیمنٹ بناتی ہے اور انتظامی اختیارات کا استعمال وزیروں کی کونسل کرتی ہے۔ جس کی قیادت وزیر اعظم کرتا ہے۔لہٰذا برطانیہ میں اگرچہ بادشاہ موجودہے، مگر حقیقت میں وہاں آج پارلیمانی جمہوریت قائم ہے۔ اس قسم کی بادشاہت کو آئینی بادشاہت کہا جاتا ہے۔
شکل9.9: بادشاہ چارلس سوم ایک رسمی بگھی میں غیر ملکی معزز مہمان کے دورے کے موقع پر
3. مذہبی حکومت (Theocracy)
تھیو کریسی ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں ملک کو مذہب کے اصولوں اور مذہبی رہنماؤں کے تحت چلایا جاتا ہے۔
ایران، جس کا مکمل سرکاری نام ’اسلامی جمہوریہ ایران‘ ہے، ایک منفرد سیاسی نظام رکھتا ہے جس میں تھیو کریسی (مذہبی حکومت) اور جمہوریت دونوں کے عناصر شامل ہیں۔ اس کا آئین اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے، جو کہ ملک کا سرکاری مذہب ہے۔ سپریم لیڈر (رہبراعلیٰ) ، جو مقنّنہ، عاملہ اور عدلیہ پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔اسے اسلامی دانشوروں کے ایک گروہ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے اور اس کی مدتِ اقتدار تاحیات ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک منتخب صدر اور پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے جو روزمرہ کے حکومتی امور سرانجام دیتے ہیں۔ اس جمہوریہ کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جو اسلامی اقدار پر مبنی ہو۔
دیگر ممالک جہاں اس وقت تھیو کریسی ہے، ان میں افغانستان اور ویٹکن سٹی شامل ہیں۔
4. آمریت (Dictatorship)
آمریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں تمام اختیارات ایک فرد یا چند افراد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ ان پر نہ کوئی آئینی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی قانونی حدود کا اطلاق۔بیسویں صدی میں کئی ایسے آمروں نے ایسے حالات پیدا کیے جو عوام کے لیے بے حد تکلیف دہ ثابت ہوئے۔ یہاں ہم ان میں سے صرف دو کی مثالیں دیکھیں گے۔
� 1933 میں ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر بنائے جانے کے فوراً بعد، اس نے ایسے قوانین منظور کیے جن کی رو سےاس نے تمام اختیارات حاصل کر لیے اور ہر قسم کی مخالفت کو ختم کر دیا۔ یوں وہ ایک آمر بن گیا۔ وہ اپنے لوگوں کی برتری کا قائل تھا اور یہ یقین رکھتا تھا کہ جرمنی کو دنیا پر حکومت کرنی چاہیے اورکم تر نسلوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہیے۔ وہ کم از کم چھے ملین یہودیوں کے قتل کا ذمہ دار تھا جسے ہولوکاسٹ (Holocast) کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ سینکڑوں ہزاروں خانہ بدوش اور دیگر اقلیتی گروہوں کو بھی اس نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ درحقیقت، وہی1939 سے 1945 تک ہونے والی دوسری عالمی جنگ کا سبب بنا۔جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں جان و مال کا بے حد نقصان ہوا۔
شکل9.10: ایڈولف ہٹلر کا ایک طنزیہ خاکہ
- عیدی امین یوگانڈا کا ایک فوجی آمر تھا۔ وہ ہزاروں افراد کے بے رحمانہ قتل کا براہ راست ذمہ دار تھا۔ بیش تر ہندوستانی نژاد لوگ، جن کے آبا و اجداد چند نسلوں قبل یوگانڈاہجرت کر گئے تھے، انھیں ملک چھوڑکر فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
شکل9.11: عیدی امین کا ایک طنزیہ خاکہ
طنزیہ خاکہ/ تصویر
(Caricature):
ایسی تصویر جس میں کسی شخص کی جسمانی خصوصیت کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ مضحکہ خیز لگے۔
اسے یاد رکھیں
روما یا رومانی(ہند آریائی) لوگ دراصل خانہ بدوش تھے۔ لسانی اور ثقافتی خصوصیات کی بنیاد پر ماہرین نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہندی الاصل تھے۔ ابتدا میں وہ مشرقی یورپ کے بعض علاقوں میں آباد ہوئے اور اب دنیا کے کئی ممالک میں ہجرت کرچکے ہیں۔
شکل9.12
شین کی کہانی (Story of Shane)
شین شمالی کوریا میں رہتا ہے، جہاں اُس کی روزمرہ زندگی کے لیے سخت قوانین مقرر ہیں۔ وہ اس وقت لازمی فوجی سروس میں ہے، جس میں اسے اس وقت تک خدمات انجام دینی ہوں گی جب تک حکومت خود فیصلہ نہ کرے۔ یہاں تک کہ اس کے بالوں کی تراش اور پہنے جانے والے لباس کے بارے میں بھی قوانین موجود ہیں۔ وہ عالمی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتا، اس لیے وہ اپنے ملک سے باہر کی دنیا سے بے خبر ہے۔ حکومت اُس کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھتی ہے اور اس سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ اگر کوئی فرد کسی قانون کی خلاف ورزی کرے تو وہ اس کی اطلاع دے۔ایک دن وہ ایک سیاح سے ملا، جس نے اُس سے پوچھا، ’’یہاں سب کے بال ایک ہی طرز کے کیوں ہیں؟‘‘ اس پر شین نے جواب دیا، ‘‘’’ہم سب نئے اسٹائل آزمانا چاہتے ہیں، مگر حکومت ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ہمیں اپنے بال کس طرح رکھنے ہیں۔‘‘
آئیے معلوم کریں
- کیاشین کے ملک کی شکل دیکھ کرآپ کہیں گے کہ یہ جمہوری ملک ہے؟
- آپ کے خیال میں شین کی روزمرہ زندگی کیسی ہوگی؟
- کیا آپ ایسے ملک میں رہنا چاہیں گے؟ وضاحت کیجیے کہ کیوں۔
(Political Commentators)
وہ شخص جو سیاسی واقعات کا تجزیہ کرتا ہے اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔
4. چند َسری حکومت (Oligarchy)
لفظ ‘اولیگارکی’ یونانی زبان سے ماخوذ ہے، جہاں‘
’ کا معنی ہے ‘چند’اور‘
’ کے معنی ’حکومت کرنا یا حکم دینا‘ ہے۔ یہ ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جہاں ایک چھوٹا سا طاقتورگروہ تمام اہم فیصلے کرتا ہے۔ یہ عام طور پر امیر خاندانوں یا بااثر افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔
قدیم یونان کے بعض علاقوں میں اشرافیہ کے خاندان ’اولیگارکی‘ کے طور پر حکومت کیا کرتے تھے۔ جدید دور میں سیاسی مبصروں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ جمہوری ممالک میں بھی چند سَری حکومت (Oligarchy) کی علامات پائی جاتی ہیں، جب چند سیاست داں اور دولت مند کاروباری شخصیات حکمرانی میں حد سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرلیتے ہیں۔
شکل9.13: 1889 کا ایک کارٹون جو’ چند سَری حکومت‘(Oligarchy) کی صورتِ حال کو ظاہر کرتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
- پچھلے صفحے پر دی گئی تصویر 9.13کو غور سے دیکھیے ۔یہ تصویر 19ویں صدی کے آخر میں امریکہ کے ایک منتخب شدہ اسمبلی ادارے کو دکھاتی ہے۔ کارٹون میں دکھائے گئے تمام افراد منتخب ارکان ہیں۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کارٹون کے بالائی بائیں کونے میں آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ آپ کے خیال میں اس منتخب شدہ اسمبلی میں فیصلے کون کر رہا ہے؟
- کیا کوئی جمہوریت، اولیگارکی میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ لوگ جمہوریت کو مضبوط رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
جمہوریت کی اہمیت کیوں ہے؟ (Why Democracy Matters)
یہ مختلف حکومت کی شکلیں ہمیں بتاتی ہیں کہ جمہوریت ہی وہ واحد طریقہ نہیں جس سے ممالک کو چلایا جاتا ہے۔ مگر زیادہ تر ممالک میں جمہوریت کو دوسر ی شکلوں کے مقابلے میں بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ آئیے اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایک مختصر موازنہ کرتے ہیں ۔
نیچے دی گئی خصوصیات کو حکومت کی مختلف شکلوں کے تناظر میں دیکھیں اور خالی خانوں میں ہاں یا نہیں لکھ کر مکمل کریں:
|
خصوصیات |
جمہوریت |
آمریت |
مطلق العنان بادشاہت |
چند سری حکومت |
|
عالمی بالغ رائے دہی |
ہاں |
نہیں |
نہیں |
نہیں |
|
شہریوں کے درمیان مساوات |
||||
|
اظہارِ رائے کی آزادی |
||||
|
اختیارات کی تقسیم |
||||
|
تمام شہریوں کی فلاح و بہبود |
جدول9.2: حکومت کی مختلف شکلوں کی خصوصیات
آئیے معلوم کریں
آپ نے مختلف طرزِ حکومت کی بنیادی خصوصیات کے بارے میں سیکھا ہے۔ اب اپنی جماعت میں ان
کے بارے میں ادائیگی کردار(Role Play)کا مظاہرہ کیجیے :
- جمہوریت کوعملی طور پر پیش کیجیے
- بادشاہت کوعملی طور پر پیش کیجیے
- آمریت کوعملی طور پر پیش کیجیے
- آپ کے خیال میں ان میں سے کون سی شکل موزوں ترین طرزِ حکومت ہے؟
آپ نے اوپر حکومت کی مختلف شکلوں کے بارے میں پڑھا اور یہ جانا کہ کس طرح حکمرانی کا طریقہ شہریوں کی زندگی کو متعین کرتا ہے۔ پچھلے جدول میں ہم نے دیکھا کہ مختلف نظاموں میں عوام کے اختیارات اور ترجیحات کا اظہار کس حد تک مختلف ہوتا ہے۔
ایک حقیقی جمہوریت میں، لوگ اپنی روزمرہ زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزار سکتے ہیں۔ وہ یہ طے کر سکتے ہیں کہ کیا بولنا ہے، کیا پہننا ہے، کن عقائد پر عمل کرنا ہے اور اپنے خیالات کا اظہار کس طرح کرنا ہے۔ جمہوریت میں یہ سب اس وقت تک ممکن ہے جب تک یہ کسی کے حقوق کو نقصان نہ پہنچائے۔
جمہوری حکومت میں لوگ خود اپنی حکومت کا انتخاب کرتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔ اگر حکومت اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دیتی، تو عوام انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مستقل نظر رکھی جائے کہ حکومت کیا کچھ کررہی ہے۔ لہٰذا، جمہوریت میں حکومت کے اقدار اور اصول تمام شہریوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہونے چاہیے۔
ہمارا ملک بھی ایک جمہوریت ہے اور ہم روزمرہ زندگی میں جمہوریت کی بہت سی خصوصیات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک نے جمہوریت اور جمہوری طرزِ حکومت کو اپنا رکھا ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جمہوریتوں کو بھی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ جیسےکہ: بدعنوانی،دولت کی غیر مساوی تقسیم،جمہوری اداروں پر چند لوگوں کا حد سے زیادہ غلبہ،عدلیہ کی خودمختاری میں کمی،معلومات کے ذرائع میں ہیرپھیر اور دیگر کئی عوامل جمہوریت کے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ہمیں انفرادی طور پر اور ایک معاشرے کی حیثیت سے محتاط رہنا چاہیے تاکہ ہم یہ سوچیں کہ ان مسائل اور رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے کیا کچھ کرسکتے ہیں؟
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
� حکومت کسی ملک کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا بھر میں مختلف قسم کی حکومتوں کے پاس ان سوالات کے مختلف جوابات ہیں۔یہ کون طے کرتا ہے کہ،‘‘یہ حکومت ہے’’؟ حکومت کے کیا اجزا ہوتے ہیں اور وہ کیا کام انجام دیتے ہیں؟حکومت کس کے لیے کام کرتی ہے؟حکومت کو کن اقدار اور اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے؟
� جمہوریت آج دنیا میں سب سے مقبول ترین طرزِ حکومت ہے۔ دنیا بھرکی جمہوری حکومتوں میں مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں، جیسے کہ براہِ راست جمہوریت اور نمائندہ جمہوریت۔
� نمائندہ جمہوریت کی دو اقسام ہیں:
صدراتی (Presidential) اور پارلیمانی (Parliamentary) جمہوریت۔
ہندوستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہے۔
� حکومت کی دیگر شکلوں میں بادشاہت (Monarchy)، مذہبی جمہوریت (Theocracy)، آمریت (Dictatorship)، اورچند سری حکومت (Oligarchy) شامل ہے۔
� جمہوریت اہم ہے، لیکن جمہوریت کو سنگین مسائل درپیش ہیں جن سے شہریوں کو ہمیشہ ہوشیاررہنا چاہیے۔
سوالات و سرگرمیاں
1. مختلف اقسام کی حکومتوں کے نام لکھیے جنھیں آپ نے اس باب میں سیکھا۔
2. ہندوستان میں کس قسم کی حکومت ہے؟ اور اسے اس قسم کی حکومت کیوں کہا گیا ہے؟
3. آپ نے پڑھا کہ ہر جمہوریت میں ایک آزاد عدلیہ (independent judiciary) ہوتی ہے۔ تین وجوہات بیان کریں کہ آپ کیوں یہ سوچتے ہیں کہ عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔
4. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت حکومت کی دیگر شکلوں سے بہتر ہے؟ اگر بہتر ہے تو کیوں؟
5. یہ چند مختلف ممالک میں رائج طریقے ہیں۔ کیا آپ ان طریقوں کو متعلقہ طرزِ حکومت سے ملا سکتے ہیں؟
|
شمارنمبر |
ملک میں رائج طریقہ |
طرزِحکومت |
|
.I |
تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ |
آمریت |
|
.II |
حکومت ہر فیصلہ کرنے سے پہلے مذہبی رہنما سے رجوع کرتی ہے۔ |
بادشاہت |
|
.III |
ملکہ کی وفات کے بعد اس کا بیٹا بادشاہ بنتا ہے۔ |
جمہوریت |
|
.IV |
حکمراں کسی آئین کا پابند نہیں وہ تمام فیصلے خود کرتا ہے۔ |
تھیوکریسی |
6. نیچے کچھ ممالک کی فہرست دی گئی ہے۔تلاش کیجیے کہ ان ممالک میں کون سا طرزِ حکومت رائج ہے:
|
شمارنمبر |
ملک |
طرزِ حکومت |
|
.1 |
بھوٹان |
|
|
. 2 |
نیپال |
|
|
. 3 |
بنگلہ دیش |
|
|
. 4 |
جنوبی افریقہ |
|
|
. 5 |
برازیل |
7. جمہوریت کو اس کے مقاصد اور اقدار کے حصول میں ممکنہ رکاوٹیں کون سی ہو سکتی ہیں؟ انھیں کیسےدور کیا جا سکتا ہے؟
8. جمہوریت بادشاہت اور آمریت سے مختلف ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے۔