باب 10
آئین ِہند : ایک تعارف
(The Constitution of India–An Introduction)
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جو آئین ہم نے اختیار کیا ہے، اگر ہم اس کے مطابق عمل کرسکیں تو...،مجھے یقین ہے کہ ہم بہت جلد اپنے ملک کو عظیم بنانے کے اہل ہوجائیں گے۔یہ ایک ایسا ہدف ہے جو ہماری دسترس میں ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے سخت جسمانی اور ذہنی مشقت اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تزکیہ اور روحانی بالیدگی کی ضرورت ہوگی۔
ہم نے ایک جمہوری آئین تیار کیا ہے۔لیکن جمہوری اداروں کی کامیاب کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں سے وابستہ افراد میں دوسروں کے نقطۂ نظر کے احترام کاجذبہ ہو اور اختلاف رائے ہونے پر مفاہمت اور تحمل کی صلاحیت ہو۔
— ڈاکٹر راجندر پرساد،اوّلین صدرجمہوریۂ ہند
شکل 10.1: یومِ جمہوریہ پریڈ کی جھلکیاں
اہم سوالات
- آئین کیا ہےاور ہمیں اس کی ضرورت کیوں ہے؟
- آئینِ ہند کس طرح تیا ر کیا گیا؟
- ہماری جدوجہدِ آزادی اور تہذیبی ورثے نے
- کیسےاس آئین کو متاثر کیا؟
- آئینِ ہند کی اہم خصوصیات کیاہیں؟ کیا یہ اب بھی اہم ہے؟ اگرچہ یہ ستّرسال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے مرتب کیا گیا تھا؟
یہ دہلی کی سرد جنوری کی ایک ویسی ہی صبح تھی جیسی ہر یومِ جمہوریہ پر ہوتی ہے۔ماں کی آواز پورے گھر میں گونجی، ’’جلدی اٹھو! وقت ہوگیا ہے، ورنہ پریڈ چھوٹ جائے گی۔‘‘ پاپا پہلے ہی اٹھ چکے تھے، انھوں نے ٹیلی ویژن پر دوردرشن چینل کھول لیا تھا اور انھوں نے پکارکر کہا، ’ ’کمار! نہاریکا! جلدی آؤ پریڈ شروع ہوگئی ہے۔ ‘‘بچے اپنے اپنے گرم بستروں سے کود کر دوڑتے ہوئےٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھنے کے لیے باہر آگئے۔ وہ یومِ جمہوریہ کی پریڈ کا ایک بھی لمحہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔
شان دار بینڈ کے گزرنے، رنگ برنگی جھانکیاں اور کرتویہ پتھ پر ترنگے جھنڈے کے لہرانے کے نظارےنے کمرے کوفخراور جوش سے بھردیا تھا۔
اس دن کی بہت اہمیت ہے۔ یہ 26 جنوری 1950 کو آئین ہند کے نفاذ کی یاد دلاتاہے۔
ذیل کی تصویر میں دکھائی گئی کتاب ہمارا آئین ہے۔ اس کو محفوظ رکھنے کے لیے نہایت احتیاط کے ساتھ ہیلیم گیس والےشیشے کے صندوق میں پارلیمنٹ میں اسے رکھا گیا ہے،لیکن آخر یہ آئین ہے کیا اور یہ اس قدر اہم کیوں ہے؟
شکل10.2: ہیلیم گیس والےشیشےکے صندوق میں احتیاط سے محفوظ رکھا گیا آئینِ ہند۔
اسےیاد رکھیں
یاد کیجیے کہ گریڈ 6 میں ہم نے لفظ ’آئین‘ کے معنی سمجھے تھے یعنی ایک ایسی دستاویز جو کسی قوم کے لیے بنیادی اصول اور قوانین طے کرتی ہے۔تین چھوٹے چھوٹے مجموعوں میں ان تمام سوالات کی فہرست بنائیے جو کسی ملک کے آئین کے متعلق آپ کے ذہن میں آتے ہیں۔
آئینِ ہند وہ دستاویزہےجسے ہمارے ملک کے بڑے عہدےدار ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حلف اُٹھاتے ہیں۔صدرجمہوریۂ ہند اس بات کا حلف لیتے ہیں کہ وہ آئین کو قائم رکھیں گے، اس کا تحفظ کریں گے اور اس کا دفاع کریں گے۔ وزیراعظم، وزیروں کی کونسل اور جج صاحبان آئین کےدفعات پر عمل کرنے کاحلف لیتے ہیں۔
آئین کیا ہے؟ (?What is a Constitution)
آسان جواب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی دستاویزہے جوکسی قوم کے بنیادی اصولوں اور قوانین کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں شامل ہے:
- حکومت کے تینوں ستونوں (مقنّنہ، عاملہ اور عدلیہ)کا ڈھانچہ ،ان کی حیثیتیں اور ذمہ داریاں؛
- تینوں ستونوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور توازن تاکہ شفافیت، ذمہ داری اور جواب دہی قائم رہ سکے؛
- شہریوں کے حقوق وفرائض؛
- قوم کے طویل مدتی مقاصد اور عزائم کا خاکہ۔
ہمیں آئین کی ضرورت کیوں ہے؟ (?Why do we need a constitution)
آئیے معلوم کریں
تصورکیجیے کہ آپ کا اسکول صوبائی سطح کی کبڈی کے ٹورنامنٹ میں آخری مرحلےتک پہنچ گیا ہے۔مخالف ٹیم ایک مضبوط ٹیم ہے جس نے پچھلے دو سال میں لگاتار یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ وہ تیسری دفعہ بھی یہ ٹورنامنٹ جیت کر ہیٹ ٹرک حاصل کرنا چاہتی ہے۔میچ جاری ہے، آپ کی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے دوسری ٹیم کے ایک کھلاڑی کو ’آؤٹ‘ کردیا ہے؛تب ایک تنازعہ کھڑا ہو جاتا ہے۔دوسری ٹیم کی ایک کھلاڑی اس بات پر زور دیتی ہے کہ آپ کی ٹیم کے ذریعہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اپنی ٹیم کے علا قےمیں واپسی کرلی تھی۔ ریفری نے دیکھا ہے کہ دوسری ٹیم کی کھلاڑی’ آؤٹ‘ ہوگئی ہے۔تنازعہ کوپُرامن طریقہ سے حل کرنے کے لیے، ریفری اصولوں پر مبنی ایک چھوٹی سی کتاب نکالتی ہے۔ دونوں ٹیموں کی کپتان، ریفری کےساتھ بات چیت کرتی ہیں اور اصولوں پر مبنی مذکورہ کتاب کو پڑھتی ہیں۔ پھر وہ اس سے اتفاق کرتی ہیں کہ حقیقت میں وہ کھلاڑی ’آؤٹ ‘تھی اور تمھاری ٹیم نے صوبائی سطح کی ٹرافی جیت لی ہے۔
اپنے گروپ میں اس پر بحث کیجیے کہ اگر ریفری اور ٹیموں کی کپتانوں کے پاس رجوع کرنے کے لیے سرکاری اصولوں پر مبنی کوئی کتاب نہ ہوتی توکیا ہوتا۔اصولوں کی کتاب سے رجوع کرنے پر متفق ہونے کے لیے کیا چیزضروری ہے؟ اگرکپتانوں نے اصولوں کی کتاب سے رجوع کرنے پر اتفاق نہ کیا ہوتا تو کیا ہوسکتا تھا؟
ایسے کسی کھیل کے بارے میں سوچیے جو آپ اکثر کھیلتے ہیں اور ان اصولوں کی فہرست تیار کیجیے جن پر آپ عمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہر گروپ اپنے اصولوں کی فہرست پوری کلاس کے سامنے پیش کرے۔ہرایک کی پیش کش کو سنیے، اصولوں پر بحث کیجیے اورکھیل کےکچھ عام اصولوں پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیجیے۔جن اصولوں پر سب کا اتفاق ہو ان تک پہنچنے کے لیے آپ نے کن مشکلات کا سامنا کیا؟
کسی ملک کے لیے ’اصولوں کی کتاب‘ کیسی ہوگی؟ اس کو کیسے بنایا جاتا ہوگا؟
ہمارا آئین بھی ہمارے ملک کے لیے اصولوں کی ایک کتاب ہی ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
جیسےآپ کی درسی کتاب میں بہت سے حصّے اور باب ہیں، اسی طرح ہندوستان کے آئین میں 25 حصّے اور 12 شیڈول ہیں۔ ہرحصّے میں کئی اجزا ہیں۔ یہ دنیا کا ضخیم ترین تحریری آئین ہے۔جب اس کا نفاذ ہوا تو اس کے 22 حصّے اور 8 شیڈول تھے۔آپ کو ان کی تعداد یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 1950 سے اب تک اس میں کیوں اضافہ کیا گیا؟
کسی آئین میں درج بنیادی اصول اور قواعد یہ طے کرتے ہیں کہ وہاں کس قسم کی حکومت ہوگی، وہ کیسے تشکیل پائے گی اور کیسے کام کرے گی۔ اس میں بہت سے وہی اصول ہیں جو ہم پچھلے ابواب میں پڑھ چکے ہیں، جیسے مجلس مقنّنہ، عاملہ اور عدلیہ کس طرح بنیں گی اور کیسے کام کریں گی۔ مثال کے طور پر آئین یہ بھی بیان کرتا ہے کہ قوانین کیسے بنیں گے اور کیسے نافذ ہوں گے۔عاملہ کا انتخاب کون کرے گا، عدلیہ کس طرح تشکیل پائے گی اور انفرادی شہریوں کے حقوق وفرائض کیا ہوں گے۔
بشمول آئین ہند کئی دیگر آئین بھی ان اقدار اور مقاصد کو بیان کرتے ہیں جن کے تئیں کوئی ملک پابند عہدہے۔ مثال کے طور پر،سب کے لیے مساوات اور انصاف، بھائی چارہ، کثرت میں وحدت اورآزادی۔ درحقیقت، یہ وہی اقدار اور مقاصد ہیں جو عام طور پر کسی آئین میں قوانین اور اصولوں کی بنیاد تیار کرتے ہیں۔
بیش تر آئین میں شامل کچھ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:
آئین ہند کی تالیف (Writing the Constitution of India)
میں آپ کی محنت کی کامیابی کےلیے دعا گو ہوں اور خدا کی رحمتیں طلب کرتا ہوں تاکہ آپ کی کارروائی نہ صرف عقل و شعور، عوامی جذبے اور سچی حب الوطنی سے مزین ہو بلکہ دانائی ، رواداری، انصاف اور سب کےسا تھ برابری سے بھی عبارت ہو اور سب سے بڑھ کر ایسے بصیرت افروز تصور سے مزین ہو جو ہندوستان کو اس کی قدیم عظمت واپس دلائے اور اسے دنیا کی عظیم قوموں میں عزت اورمساوی مقام عطا کرے۔
— ڈاکٹرسچیدانند سنہا
آئینِ ہند کی تالیف کے ابتدائی مرحلے پر مجلس آئین ساز کے صدر
جب ہندوستان برطانوی حکومت سے آزادی کے لیے جدوجہد کررہا تھا، تو اس وقت یہ منصوبہ بنانا ضروری سمجھا گیا کہ ہم اپنی حکومت کیسے چلائیں گے۔ہندوستان جیسے بڑے، ثقافتی طور پر کثیرجہتی اور وسیع اجزا پر مبنی ملک میں بہت سے اہم مسائل درپیش تھے جن کا حل تلاش کرنا ضروری تھا۔ ہماری حکومت کس قسم کی حکومت ہونی چاہیے؟ کون سے اصول وضوابط ہمارے رہنما ہونے چاہیے؟ کن لوگوں کو ووٹ دینے کا حق ملنا چاہیے؟ ہم تنازعات کا فیصلہ کیسے کریں گے؟ وغیرہ۔
ایسے دیگر کئی سوالات کا جواب دینے کے لیے 1946 میں ایک مجلس قانون ساز (Constituent Assembly)بنائی گئی جس میں شروع میں 389 اراکین شامل تھے(تقسیم ہند کے بعد ان کی تعداد 229 ہوگئی)، جن میں 15 خواتین شامل تھیں۔ یہ اراکین ہندوستان کے مختلف علاقوں، پیشوں اور سماجی طبقات کی نمائندگی کرتے تھے۔
ہمارا آئین کیسے بنا؟ (?How was our constitution Developed)
مجلس آئین ساز کے ذریعے تقریباً تین سال کی مدت میں آئین ہند تیار ہوا اور تحریری شکل میں وجود میں آیا۔اس مجلس کو 9دسمبر1946میں تشکیل دیا گیا، اس کے اراکین کو صوبوں کی مجالس قانون ساز کے ذریعہ منتخب کیا گیا (جن کے اراکین کا انتخاب عوام کے ذریعہ کیا گیا تھا)۔ڈاکٹر راجندر پرساد مجلس آئین ساز کے صدر تھے۔یہ کام 26نومبر1949 میں مکمل ہوا اور اس کے نتیجے میں تیار شدہ دستاویز کو آئین ہند کی حیثیت سے26جنوری 1950کو منظور کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن کو ہم یومِ جمہوریہ کے طورپر مناتے ہیں۔
آئین کا ابتدائی مسودہ ایک ڈرافٹنگ کمیٹی نے تیار کیا جس کی صدارت ڈاکٹر بی .آر. امبیڈکر نے کی جو ایک مشہور سماجی مصلح اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر برائے قانون وانصاف تھے۔(شکل 10.3)
شکل10.3: ڈرافٹنگ کمیٹی کے دیگر اراکین کے ساتھ ڈاکٹر بی.آر. امبیڈکر (درمیان میں بیٹھے ہوئے)
آئیے معلوم کریں
چھوٹے چھوٹے گروپ بناکر ،اپنے علاقے سے ان لوگوں کے نام معلوم کرنےکی کوشش کیجیے جنھوں نے آئین ہند کی تالیف میں حصّہ لیا۔ ایسی معلومات جمع کرنے کے لیے آپ کون سے ذرائع استعمال کرسکتے ہیں؟ اشارہ: اپنے اسکول یا علاقے کی لائبریری میں کتابیں تلاش کیجیے۔آپ اپنے استاد، والدین اورپڑوس میں دوسرے بزرگوں سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ نیز اس ویب سائٹ سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں:
https://sansad.in/ls/about/constituent-assemblyآئین ِہند کی تالیف اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل
(What Shaped and Influenced the Indian Constitution?)
جب مجلسِ آئین ساز نے آئین کو تیار کیا تواس پر بہت سے عوامل نے اپنے اثرات مرتب کیے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے تجربات، نظریات اور اقدار نے اس پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور ثقافت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے آئین سے حاصل ہونے والی مفید معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا۔
ہندوستان کی تحریک آزادی کا اثر
(Influence of the Indian Freedom Movement)
ہندوستان کی جدوجہدآزادی کے اہم نظریات اور اقدارکو آئین میں شامل کیا گیا۔آئین ، آزاد ہندوستان کے لیے بنیاد کا پتھر تھا۔ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے بہت سے رہنما، آئین ساز مجلس کے ر کن تھے، اس لیے وہ تحریک آزادی کے اپنے تجربات اور خیالات کو آئین میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
شکل10.4.1: آئین ساز مجلس کے اجلاس کا منظر
ان میں سے کچھ اہم اقدار اورنظریات ہیں:
سب کے لیے مساوات، سب کے لیے انصاف، آزادی، بھائی چارہ، ہندوستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور آئین کو ان اقدار اورنظریات کے حصول کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا تصور۔
جدوجہدآزادی کے تجربہ اور سبق نے بھی بہت سے ’کیسے؟‘ اور ‘کیا؟ ’ کے سوالات کے جواب فراہم کیے:
شکل10.4.2 اور 10.4.3: مجلسِ آئین ساز کے عملی اجلاس کے مناظر
|
• ہم کیسے یقینی بنائیں کہ ہر بالغ شہری کوحق رائے دہی حاصل ہے؟ |
• اگرہم آئین میں ترمیم کرنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟ |
|
|
• ہم یہ کیسے یقینی بنائیں کہ عاملہ، مقنّنہ اور عدلیہ کے اختیارات الگ الگ ہیں؟ |
• مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان کیسے روابط ہونے چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ |
|
|
• ہم اس کی ضمانت کیسے دیں کہ ہرفرد کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جارہاہے؟ |
اسی باب میں ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ ان سب کو ہمارےآئین کی ساخت میں کیسے جگہ دی گئی ہے۔ |
ہندوستان کا تہذیبی ورثہ اور اس کی تاریخ
(India’s civilisational heritage and history)
اسے یاد رکھیں
گریڈ 6 کی کتاب کے باب’کثرت میں وحدت یا ایک میں انیک‘ میں، ہم نے پڑھا تھاکہ کون سی باتیں ہندوستان کو ایک ملک بناتی ہیں اور وہ بنیادی وحدت کون سی ہے جو اُس کی رنگا رنگی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
ہندوستان کے ایک ہونے کا تصور ہمارے آئین کا اٹوٹ حصّہ ہے۔
ہماری تہذیب میں کچھ بنیادی اصول رچے بسے ہیں جیسے یہ یقین کہ لوگ مختلف نقطۂ نظر رکھ سکتےہیں۔ فطرت کو مقدس ماننا، علم و دانش کے حصول کی جستجو، عورتوں کااحترام، وسودھیوکٹمبکم، یعنی ساری دنیا ایک خاندان ہے، سروے بھونتو سکھینہ (یعنی سبھی مخلوق خوش و خرم رہے) جیسے تصورات۔ یہ تمام اصول ہمارے آئین میں بھی جگہ پاتےہیں، اگرچہ آپ کو ان کا اظہار قدرےمختلف اندازمیں ملے گا۔
یاد رکھیں
ہم نے پہلے حکومت کی مختلف شکلوں کے بارے میں بیان کیا تھا جن کا ہندوستان میں تجربہ کیا گیاتھا
جن پد،سنگھ،حکمراں اور ان کی کونسل ، کوٹلیہ کا نظریۂ سپتانگ، راج دھرم وغیرہ۔ مجموعی طور پر حکومت میں لوگو ں کے کردار اور فرائض پر بہت زور دیا گیا تھا۔
اس لیے یہ بات بالکل فطری تھی کہ آئین سازوں نے ہمارے آئین میں بھی ہمارے تہذیبی ورثے کے ان تصورات کو شامل کیا۔ مثلاً، ’بنیادی فرائض‘ اسی کا حصّہ ہیں۔
شکل10.5: ’انسان اور شہریوں کے حقوق‘ کا یہ اعلامیہ ، جس نے سب کے لیے مساوات، آزادی اور انصاف پر توجہ مرکوز کی، اس کو 1789کے فرانسیسی انقلاب کے دوران وضع کیا گیا تھا۔اس نے دنیا کے بہت سے حصّوں میں ایسے خیالات کی تشہیر میں مدد کی۔بہت سے آئین (بشمول فرانس کے اپنے آئین) نے ان اقدار اور اصولوں کو اختیار کیا یا اپنے مقاصد کے مطابق ڈھال لیا۔
دنیا سے اخذ کردہ تجربات
(Learning from across the world)
ہندوستانی روایت—‘ آ نو بھدرا کرت او ینتُ وشوتہ’ — یعنی’ ہرجانب سے اچھے خیالات کو میرے پاس آنے دو‘— کے مطابق، آئین سازوں نے فرانس، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، انگلینڈ، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور دوسرے جمہوری ملکوں کے آئین کا بھی مطالعہ کیا تاکہ ان کے مفید پہلو ئوں کو ہندوستان کے سیاق میں اپنایا جاسکے۔مثال کے طورپر، ’آزادی، مساوات اور اخوت‘ کے تصورات فرانس کے آئین سے لیے گئے۔(جنھیں فرانس کے 1789 کے انقلاب کے بعد وہاں کے دستور میں شامل کیا گیا تھا)؛ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کا تصور آئرلینڈ کے آئین سے متاثر ہوکر اپنےآئین میں شامل کیا گیا؛ (جن کو ہم جلد ہی پڑھیں گے) اور امریکہ کے آئین نے ایک آزاد عدلیہ کے تصور کی تشکیل میں ہماری مدد کی۔

آئینِ ہند کی اہم خصوصیات (Key features of the Constitution of India)
اس سے پہلے کہ ہم آئینِ ہند کی اہم خصوصیات سے واقف ہوں، آئیے ہم گریڈ6 میں مطالعہ کیے گئے کچھ نظریات کا اعادہ کرلیں۔
اسے یادرکھیں
- حکومت کے تین ستون ہیں— مقنّنہ، عاملہ اور عدلیہ—ان کی اچھی کارکردگی کے لیے اختیارات کی تقسیم ضروری ہے۔
- مقنّنہ (مجلسِ قانون ساز)قوانین وضع کرتی ہے۔
- عاملہ‘ جس کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے ’ قوانین کونافذکرتی ہے۔
- عدلیہ یہ یقینی بناتی ہے کہ تمام قوانین، آئین کے مطابق ہوں۔ یہ بھی طے کرتی ہے کہ کیا کسی قانون کو توڑا گیا ہے یا نہیں اور اگرتوڑا گیا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے۔
- ہمارے یہاں حکومت کا تین سطحی نظام ہے—مرکزی، صوبائی اور مقامی (پنچایتی راج نظام)۔
- کچھ کام اور ذمہ داریاں، مرکزی حکومت کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور کچھ ریاستی حکومتوں کے پاس ہوتی ہیں۔
آئین ان اہم امور پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔یہ صاف طورپر، حکومت کے ہر عضوکے کرداروں، کاموں اور ذمہ داریوں کی وضاحت کرتا ہے۔انتخابی نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے کہ ملک کے ہر بالغ شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو۔
آئین کی دیگراہم خصوصیات ہیں: بنیادی فرائض(Fundamental Duties)، بنیادی حقوق (Fundamental Rights) اور ریاستی پالیسی کے رہنما اصول (Directive Principles of State Policy)۔یہاں شامل تصویر( شکل 10.14) بعض بنیادی فرائض اور حقوق کی مثالیں پیش کرتی ہے( جو این سی ای آر ٹی کی تمام درسی کتابوں کی ابتدا میں مفصل تحریر کی گئی ہیں)۔ ریاستی پالیسی کے رہنما اصول( جن کو عام طورپر DPSP کہا جاتا ہے) دراصل وہ سماجی اور اقتصادی اہداف ہیں جنھیں آئین سازوں نے ہندوستان کے لیے پیشِ نظر رکھا تھا۔ یہاں شامل تصویر میں دی گئی مثالیں اس کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت کو کن بنیادی اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ریاستی پالیسی کے رہنما اصول دراصل وہ مقاصد ہیں جنھیں حکومت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ اس سمت کی عکاسی کرتے ہیں جس پروہ ملک کولے جانا چاہتے ہیں تاکہ ہندستان کو سب کے لیے بہتر بنایا جاسکے۔مثلاً، ملک میں ہر باشندے کا معیار ِزندگی اچھا ہونا چاہیے۔لیکن اگر حکومت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان اصولوں کو نہیں اپنائے گی تو کوئی شخص کسی جج کے پاس نہیں جاسکتا اور اس کی شکایت نہیں کرسکتا۔رہنما اصول، رہنمائی کےطریقے ہیں نہ کہ سخت قانون۔ اس کے برعکس بنیادی حقوق وہ وعدے ہیں جن کا پورا کرنا لازمی ہے۔اگرکوئی شخص آپ کے ساتھ صرف آپ کی شناخت کی وجہ سے ناانصافی کا برتاؤ کرتا ہے تو آپ واقعی عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں اور جج آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا۔
جن لوگوں نے ہمارا آئین وضع کیا، انھوں نے یہ نظام جان بوجھ کر بنایا۔ وہ چاہتے تھے کہ کچھ حقوق ایسے ہوں جن کا نفاذ فوری طور پر ہو (بنیادی حقوق) اور کچھ بڑے مقاصد ایسے ہوں (رہنما اصول) جنھیں ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ وقت لے کر حاصل کیے جائیں۔
آئیے معلوم کریں
نیچے دیے گئے اقتباس کوغور سے پڑھیے۔ بیگم اعزاز رسول آئین کے کس دفعہ کی طرف اشارہ کررہی تھیں؟ آپ ایسا کیوں سوچتےہیں کہ وہ کہہ رہی تھیں کہ عورتوں کی برابری، ہندوستان کے لیے ایک نیا نظریہ نہیں تھا؟ کلاس میں اس پر بحث کیجیے۔
جناب والا! ہندوستان کی خواتین اس بات پر خوش ہیں کہ وہ مردوں کے ساتھ زندگی اور عمل کے تمام میدانوں میں مساوات کے اپنے جائز حق کو حاصل کررہی ہیں۔میں ایسا ا س لیے کہہ رہی ہوں کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے جو صرف اس آئین میں شامل کیا گیا ہے ۔بلکہ یہ ایک معیار ہے جس کو ہندوستان نے طویل عرصےسے عزیز رکھا ہے، اگرچہ کچھ عرصے کے لیے سماجی حالات نے اس کو عملی طور پر کمزور کر دیا۔ یہ آئین اب اس معیار کو تسلیم کررہا ہے اور یقین دلا رہا ہے کہ ہندوستانی جمہوریہ میں خواتین کے حقوق کا مکمل طور پر احترام کیا جائے گا۔
— مجلس آئین ساز کے مباحثوں کے دوران
بیگم اعزاز رسول، 22 نومبر1949
مساوات کا حق (دفعہ 14 : قانون کی نظر میں سب برابر)
آزادی کا حق (دفعہ 21 : زندگی اور شخصی آزادی کا تحفظ)
استحصال کے خلاف تحفظ کا حق
دفعہ 21A : تعلیم کا حق
- دفعہ41: فلاحی حکومت
- دفعہ44: یکساں سول کوڈ
- دفعہ38: سماجی، سیاسی اور اقتصادی انصاف
- دفعہ48: ماحولیات اورحیوانی زندگی کا تحفظ
- دفعہ49: قومی اہمیت کی عمارتوں، مقامات اور اشیاکا تحفظ
- دفعہ47: غذائیت، معیارِزندگی اور صحت عامہ
- آئین کی اطاعت کرنا اور اس کے اہم نظریات اور اداروں،قومی جھنڈے اور قومی ترانےکا احترام کرنا۔
- ملک کا دفاع کرنا اور ضرورت کے وقت قومی خدمت میں حصّہ لینا۔
- ہمارے مشترکہ تمدن کی قدر کرنا اوراس کومحفوظ رکھنا۔
- قدرتی ماحول، بشمول جنگلات، جھیلوں، دریاؤں اورجنگلی حیات کا تحفظ اوراس کی بہتری نیز جان دار مخلوقات سےمحبت رکھنا۔
- انفرادی اوراجتماعی سرگرمی کے تمام میدانوں میں اعلیٰ مہارت کے حصول کے لیےجدوجہدکرنا تاکہ قوم مستقل طور سے کوشش اورکامیابی کی اعلی سطح تک پہنچ سکے۔
- اگرآپ ایک ماں باپ یا سرپرست ہیں،تو اپنے چھےسے چودہ سال کے بچوں یا زیرِسرپرستی شخص کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا۔
شکل10.14:آئین کے مختلف حصے کس طرح منظم کیے گئے ہیں، اس کی ایک جھلک۔
آئین، ایک زندہ رہنما د ستاویز (The Constitution is a Living Document)
ہمارے آئین سازوں نےیہ محسوس کیا تھا کہ آنے والے وقت میں نئے قوانین اورضابطوں کی ضرورت ہوگی۔ مثلاً ،حصّہ IV-A: ’بنیادی فرائض ‘کو1976 میں شامل کیا گیاتھا۔البتہ ہمیں یاد رکھنا چاہیےکہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی (جنھیں ترمیم کہا جاتا ہے) کرنےکےلیےپارلیمنٹ میں پُرزور بحث کی جاتی ہے۔بعض دفعات میں ترمیم کے لیے ریاستی مجلسِ قانون ساز میں بھی بحث ومباحثہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعض اوقات ، عوام سے بھی ان کی رائےطلب کی جاتی ہے ۔بعض تبدیلیوں کے لیے مقبولِ عام تحریکوں کے ذریعے ابتدائی قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔
آئیے معلوم کریں
- ایک زمانہ تھا جب عوام کو اپنے گھروں پرقومی جھنڈا لہرانے کی اجازت نہیں تھی۔ 2004 میں اس میں تبدیلی آئی جب ایک شخص نے عدالت میں اس قانون کو چیلنج کیا اور کہا کہ یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے تئیں فخرکا اظہار کرے۔سپریم کورٹ نے یہ کہتےہوئے اس سے اتفاق کیا کہ جھنڈا لہرانا، آزادیِ اظہار رائےکے تحت بنیادی حق ہے۔اب ہم فخر کے ساتھ جھنڈالہراسکتے ہیں،یہ دھیان میں رکھتے ہوئے کہ کبھی اس کی بےادبی نہ ہو۔
- ہم نے گریڈ 6 میں پنچایتی راج نظام کے متعلق پڑھا تھا۔ یہ ابتدائی آئین کا حصہ نہیں تھا، اس کو 73 ویں آئینی ترمیم کےذریعہ 1992 میں آئین میں شامل کیاگیا ہے۔
- کیا آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ پچھلے دس سال میں آئین میں کون کون سی ترمیمات کی گئی ہیں؟
حکومت یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ لوگ تجویز کردہ قوانین یا ضابطوں میں تبدیلی پر اپنی رائےپیش کریں۔ اگلے صفحے پر وہ حصّے دیکھیے جن کی نشان دہی کی گئی ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
آئین ہند صرف ایک قانونی دستاویز نہیں ہے بلکہ ایک فنی شاہ کار بھی ہے۔پریم چند بہاری نارائن رائے زادہ نام کے خطّاط نے اس کا متن اپنے قلم سے تحریر کیا تھا ، جب کہ نند لال بوس اور ان کی ٹیم نے تاریخ ِہند سے بہت سے واقعات کو مصوری کے ذریعے اس آئین کے صفحات میں شامل کیا، جیسے موہن جوداڑو سے لے کرآزادی کی تحریک تک کے واقعات (دیکھیے شکل 10.6 تا 10.13) ۔
آئین ِ ہند کے تمہید کی تفہیم: آئین ِ ہند کےرہنما اقدار
(Understanding the Preamble: The Guiding Values of the Constitution of India)
آئین کے بنیادی اصول حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کے لیے رہنما اصول ہیں، جن پر عمل کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے۔ شہریوں سے بھی امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کےمطابق ان اصولوں پرعمل کریں۔ یہ رہنما اقدار پورے آئین میں موجود ہیں، لیکن ان کی روح، تمہیدمیں تحریر کی گئی ہے، اس لیے آئیے ہم تمہید کا مطالعہ کریں جو اس باب کا مناسب اختتام ہے۔
آئینِ ہند کی تمہید
ہم بھارت کےعوام
(We,the people of India)
آئین عوامی نمائندوں کے ذریعے بنایا اور نافذ کیا گیا ہے۔ یہ نہ کسی بادشاہ نے دیا ہے اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت نے۔
جمہوریہ (Republic)
ریاست کا سربراہ منتخب شدہ شخص ہوتا ہے۔ یہ عہدہ وراثت میں نہیں ملتا۔
انصاف (Justice)
شہریوں کے ساتھ ذات، مذہب اور جنس کی بنیاد پرامتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ سماجی ناہمواریوں کو کم کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو سب کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے خاص طور پر پسماندہ طبقات کے لیے۔
مقتدر (Sovereign)
عوام کو اندرونی اور بیرونی تمام معاملات پر فیصلے کرنے کا اعلیٰ حق حاصل ہے۔ کوئی بیرونی طاقت ہندوستانی حکومت کو ہدایت نہیں دے سکتی۔
سماج وادی (Socialist)
دولت معاشرتی طور پر پیدا ہوتی ہے اور اسے معاشرے میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو زمین اور صنعت کی ملکیت کو منظم کرنا چاہیے تاکہ سماجی و معاشی ناہمواریوں کو کم کیا جاسکے۔
آزادی (Liberty)
شہریوں پر ان کے خیالات، اظہار یا عقیدے پر کوئی غیر معقول پابندی نہیں ہوگی۔ وہ جس طرح چاہیں سوچیں، اظہار کریں اور اپنے نظریات پر عمل کریں۔
غیرمذہبی (Secular)
شہریوں کو کسی بھی مذہب کو ماننے کی مکمل آزادی ہے۔ کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔ حکومت تمام مذاہب کے عقائد اور عبادات کی یکساں عزت کرتی ہے۔
مساوات (Equality)
قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ سماجی نا ہمواریوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جمہوری (Democratic)
وہ حکومت جس میں عوام کو مساوی سیاسی حقوق حاصل ہوں اور وہ اپنے حکمرانوں کو منتخب کریں اور انھیں جواب دہ بنائیں۔ حکومت کچھ بنیادی اصولوں کے مطابق چلائی جاتی ہے۔
اُخوت (Fraternity)
ہم سب کو ایسے برتاؤ کرنا چاہیے جیسے ہم ایک ہی خاندان کے فرد ہوں۔ کوئی بھی شہری دوسرے کو کمتر نہ سمجھے۔
نوٹ: ‘سماج وادی ’ اور‘غیرمذہبی’ کے الفاظ تمہید میں 1976 کے 42 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیے گئے ۔
شکل10.16: آئینِ ہند کی تمہید
آئیے معلوم کریں
ان خصوصیات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے جو تمہید میں شامل کی گئی ہیں۔ اوپر عکس میں دی گئی تحریرکو توجہ سے پڑھیے اور اپنے اردگردکی روزمرہ کی زندگی میں ان کے اطلاق کی مثالیں تحریر کیجیے۔اس مشق میں آپ کی مدد کے لیے دو مثالیں مکمل کی گئی ہیں۔
|
تمہید کی خصوصیات |
ہم انھیں اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں کیسے دیکھتے ہیں |
|
مقتدر |
|
|
غیرمذہبی/سیکولر |
کسی شخص کو اپنے مذہب کی رسومات پر عمل کرنے کے لیے ریاست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی،بشرطیکہ اس عمل سے کسی اور کی روزمرہ زندگی میں مداخلت نہ ہوتی ہو۔ |
|
جمہوریہ |
|
|
انصاف |
ریاست سبھی کو تمام ملازمتوں میں یکساں مواقع فراہم کرتی ہے، جنس؛ ذات، مذہب وغیرہ سے قطع نظر۔ |
|
آزادی |
|
|
مساوات |
|
|
اُخوت / بھائی چارہ |
اس سے پہلے کہ ہم آگےبڑھیں...
- آئین ِہند ایک رہنما کتاب یا ‘ضابطہ نامہ’ہے جو تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتاہے۔ شہریوں سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین میں شامل بنیادی فرائض پرعمل کریں۔
- ہندوستان کی بیش بہا تہذیبی ورثہ جدوجہد ِآزادی اور دوسرے ممالک کے آئینی تجربات نے آئین ِہند کی تالیف میں بنیادی کردار نبھایا ہے۔
- اس کی اہم خصوصیات ،ملک کی سماجی، معاشی اور سیاسی تشکیل اور پارلیمانی طرزِحکومت کو بیان کرتی ہیں۔
- یہ ایک زندہ رہنما دستاویز ہے جس میں ملک کی ضروریات کے مطابق ترمیمات کی جاسکتی ہیں۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. ’’مجلسِ آئین ساز میں مختلف پس منظرسے تعلق رکھنے والے نمائندگان شامل تھے ۔‘‘آپ کے خیال میں پورے ہندوستان سےمختلف نمائندوں کا ہونا کیوں ضروری تھا؟
2. ذیل کے بیانات کوغور سے پڑھیے اور پہچانیے ان میں ہندوستانی آئین کی کون سی اہم خصوصیات یااقدار جھلکتی ہیں۔
a. شینا، رجت اور ہرش ایک لائن میں کھڑے ہیں۔ وہ عام انتخابات میں پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے لیےپُرجوش ہیں۔
b. رادھا، ایمن اور ہرپریت ایک ہی اسکول میں، ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں۔
c. والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے۔
d. ہر ذات ، جنس اور مذہب کے لوگ گاؤں کا کنواں استعمال کرسکتے ہیں۔
3. یہ کہا جاتا ہے کہ ’ہندوستان کے تمام شہری ، قانون کی نظر میں برابر ہیں۔‘آپ کے خیال میں کیا یہ حقیقت ہے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اپنے دلائل پیش کیجیے۔
4. آپ نے سیکھا کہ ’ہندوستان وہ واحد ملک ہے جس نے شروع سے ہی اپنے تمام بالغ شہریوں کو حق رائے دہی عطا کیا ہے۔ ‘کیا آپ تفصیل سے بتا سکتے ہیں کہ ہندوستان نے ایسا کیوں کیا؟
5. تحریکِ آزادی نے آئینِ ہند کی تشکیل کی ترغیب کیسے دی؟ کی بیش بہا تہذیبی ورثے نے کس طرح آئینِ ہند کے مختلف خصوصیات کو جلابخشی؟وضاحت کیجیے۔
6. کیا آپ کو لگتا ہے کہ بحیثیت ایک معاشرہ کے ہم نے آئین ہند کے تمام مقاصد کو حاصل کرلیا؟آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر نہیں، تو ان مقاصد کےحصول کے لیے ہم سب بحیثیت شہری اپنے ملک کو ان مقاصد کے قریب تر لے جانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
7. اگلے صفحےپر لفظی معمہ (Cross Word)کو حل کرنے کے لیے دیے گئے اشارات کو غور سے پڑھیے تاکہ آئینِ ہند کے اہم نظریات وتصورات دریافت کیے جاسکیں۔
افقی (Across)
2. حکومت کی وہ شاخ جو قوانین بناتی ہے۔
7. آئین کا وہ حصہ جو ملک کے تئیں شہریوں
کے فرائض کی وضاحت کرتا ہے۔
8. ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت جو
آئین کی حفاظت کرتی ہے۔
9. ایک ایسا نظام جس میں سربراہ مملکت منتخب
کیا جاتا ہے، موروثی نہیں ہوتا۔
10. وہ عمل جس کے ذریعے آئین کو وقت کے
ساتھ بدلا جاسکتا ہے۔
عمودی (Down)
1. وہ گروہ جس نے آئین ہند تالیف کی۔
3. آئین کے شروع میں دیا گیا بیان جو ہمیں اقدار کے بارے میں بتاتا ہے۔
4. وہ دستاویز جو کسی ملک کے قوانین اور ضابطوں کو وضع کرتی ہے۔
5. وہ گیس جو اصل آئین جیسےاہم دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
6. بنیادی حقوق جو ہر شہری کو دیے جاتے ہیں جیسےآزادی اور مساوات ۔