باب 11
مبادلہ کاری سے زر تک
(From Barter to Money)
زر یا پیسے کی اہمیت اس لیے ہے کیوں کہ وہ حال اور مستقبل کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔
— جان مینارڈ کینز
بیسویں صدی کا ایک ماہرِ اقتصادیات
شکل11.1
اہم سوالات
- زر/ پیسے کے وجود میں آنے سے پہلے لوگ لین دین کس طرح کرتے تھے؟
- زر/ پیسہ وجود میں کیوں آیا؟
- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زر/ پیسے نے کن کن شکلوں میں تبدیلی اختیار کی؟
باب ’ماضی کے نقوش‘ میں آپ نے پڑھا کہ لوگ کون سی فصلیں اُگاتے تھے مثلاً اناج، یا کون سی چیزیں بناتے تھے،جیسے عقیق کے موتی۔آپ کے خیال میں وہ لوگ ان اشیا کا اپنی ضروریات کی دوسری اشیا کے ساتھ کس طرح تبادلہ کرتے ہوں گے؟
لوگ ماضی میں ایک چیزیاخد مت سے دوسری چیزیا خدمت کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔ اسی کومبادلہ کاری کا نظام (Barter System)کہا جاتا ہے۔ یہ نظام کیسے کام کرتا تھا؟ فرض کیجیے کہ آپ کوایک پنسل کی ضرورت ہے اور آپ کے پاس ایک اضافی ربرہے۔ اِسی دوران آپ کا ساتھی طالب علم اپنی ربر لانا بھول گیا لیکن اس کے پاس ایک اضافی پنسل موجود ہے۔ آپ دونوں آسانی سے ایک دوسرے سے چیزوں کا تبادلہ کرسکتے ہیں— یعنی آپ اسے ربر دیں اور وہ آپ کو پنسل دے۔کیا یہ تبادلہ آپ دونوں کی ضرورت پوری نہیں کرے گا؟ اسی طرح مبادلہ کاری کا نظام کام کرتا ہے۔
آج ہم خرید و فروخت کے لیے سکّے اور نوٹ استعمال کرتے ہیں۔ لوگ اس طرح کے لین دین کے لیےاپنے موبائل فون اور کمپیوٹروں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔
مبادلہ کاری لین دین کی سب سے ابتدائی شکل تھی۔ اس نظام کے بہت سے شواہد دنیا بھر میں ملتے ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ مختلف اشیا کو بطور زرِ مبادلہ استعمال کرتے تھے جیسے کوڑیاں، نمک، چائے، تمباکو، کپڑا، مویشی (گائیں، بکریاں، گھوڑے، بھیڑ) اور بیج وغیرہ۔
مبادلہ کاری کا نظام
(Barter System):
ایسا نظام جس میں زریا پیسے کے بغیر اشیا اورخدمات کا لین دین کیا جاتا ہے۔
زر یا پیسہ (Money):
ایک عام ذریعہ جو ہر شخص اشیا اور خدمات کے لین دین کی ادائیگی یا وصولی میں قبول کرتا یا استعمال کرتاہے۔
لین دین (Transaction):
کاروبارکا ایک طریقہ جو لوگوں کے درمیان رائج ہے۔خاص طور سے خریدوفروخت کا عمل۔
اشیا(Commodities):
جنس یعنی وہ چیزیں جن کا تبادلہ یا خریدو فروخت ممکن ہو۔
شکل11.2.1: سنگی پیسے،چٹان کے بڑے بڑے گول پتھر، جنھیں رائے اسٹون کہا جاتا ہے، بحر الکاہل کے ملک مائکرونیشیا کے یاپ جزیرے میں پیسے کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔
شکل11.2.2: ایزٹک کاپر(Aztec Copper) ’تَجادیرو‘ (Tajadero)(ہسپانوی زبان میں دھاردار چاقو) وسطی میکسیکو اور وسطی امریکہ کے کچھ علاقوں میں استعمال ہونے والے پیسے کی ایک شکل تھی۔
شکل11.2.3: تیواو (چڑیوں کے سرخ پروں سے بنی چرخی) جو سولومن جزائر میں پیسے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
ہمیں پیسے کی ضرورت کیوں ہو تی ہے؟ (? Why do we need money)
آئیے معلوم کریں
تصورکیجیے کہ آپ ایک کسان ہیں اور آپ جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں لوگ مبادلہ کاری کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ کو مختلف چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً نئے جوتوں کا جوڑا، ایک سویٹر، اور اپنی دادی کے لیے دوائیاں۔ لیکن آپ کے پاس صرف ایک بیل ہے جسے آپ دے سکتے ہیں۔ اب سوچیے، کیا کوئی ایسا شخص آسانی سے مل جائے گا جسے ایک بیل چاہیے اور جس کے پاس یہ تینوں چیزیں ہوں! ظاہر ہے یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کو ایسا شخص تلاش کرنا ہوگا جسے بیل کی ضرورت ہو۔ اب، بیل کے بدلے صرف ایک جوڑی جوتے حاصل کرنا یقیناً انصاف پر مبنی تبادلہ نہیں ہوگا! ممکن ہے کہ آپ کوتبادلے کےکئی مراحل سے گزرنا پڑے۔ مثلاً، پہلے کسی سے بیل کے بدلے گندم کے کئی بورے حاصل کیجیے۔ پھر سارے گندم کو مختلف جگہوں پر لے جا کر، کسی فرد سے گندم کے ایک حصے کے بدلے جوتے حاصل کیجیے، دوسرے سے سویٹر اورپھر تیسرے سے دوائیاں۔
ان تمام صورتوں میں، طے شدہ مقدار تک پہنچنے کے لیے طویل گفت و شنید کی جاتی تھی کہ جوتوں یا سویٹر کے بدلے میں کتنا گندم دینا مناسب ہوگا۔

آپ کو بچے ہوئے گندم کے بوروں کو لے جاکر انھیں سنبھال کررکھنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ تلاش کرنی ہوتی تھی۔ اگلی بار جب آپ کو کسی چیز کی ضرورت پیش آتی، تو آپ کو وہ گندم کے بورے دوبارہ اپنے ساتھ لے جانے پڑتے!
اس پر غور و فکر کریں
مندرجہ بالا صورت ِحال میں آپ کو مختلف قسم کی کون کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
کسان کی کہانی میں تصورکیجیے کہ اُسے کوئی ایک ایسا شخص مل جاتا ہے جو نئے جوتوں کا جوڑا، ایک سویٹر اوردوائیاں سب کچھ اس کے بیل کے بدلے دینے کا خواہش مند ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ آسان ہوگا کہ اُسے ایسا موقع مل جائے؟
بالکل اسی کسان کی طرح ان لوگوں کو بھی روز مرہ کی زندگی میں مشکلات پیش آتیں جو مبادلہ کاری پر انحصار کرتے تھے۔ انھیں ایسا شخص تلاش کرنا پڑتا تھاجو نہ صرف وہی چیز چاہتا ہو جو وہ دینا چاہتے ہیں، بلکہ بدلے میں وہی چیز دے بھی سکتا ہو جس کی انھیں ضرورت ہو۔ اس صورتِ حال کو ضروریات کا دوہرا اتفاق (Double Coincidence of Wants) کہا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے کی اشیا لینا اور دینا چاہتے ہوں، تو ایک اور مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ان دونوں اشیا کا تبادلہ کس تناسب میں ہو؟ ایسی صورت میں ایک شے کی قیمت کا دوسری شے کے ساتھ موازنہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر فریقین میں سے ایک کو محسوس ہو کہ تبادلہ اس کے لیے نقصان دہ ہے، تو وہ اس میں دل چسپی نہیں لے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی مشترکہ معیارِ قیمت (Common Standard Measure of Value) موجود نہیں ہوتا۔
ضروریات کا دوہرا اتفاق
(Double Coincidence of wants)
ایک معاشی تصورجوایسی صورتِ حال کو بیان کرتا ہے جہاں دوافراد میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی مطلوبہ چیزیں ہوتی ہیں اور وہ اس کا براہِ راست تبادلہ کرسکتے ہیں۔
مشترکہ معیار قیمت
(Common Standard Measure of Value)
لین دین کے لیے کسی چیز کی طے شدہ یا متفقہ قیمت جو معیشت میں چیزوں اور خدمات کی قدر متعین کرنے میں مدد کرتی ہے۔
تقسیم کی صلاحیت (Divisibility):
کسی چیزیا مادّے کی ٹکڑوں یا حصوں میں تقسیم ہونے کی صلاحیت۔
نقل پذیری (Portability):
کسی چیز یا موادکو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی صلاحیت۔
اس پرغور وفکر کریں
اوپر دی گئی مثال میں ضروریات کا دوہرا اتفاق (Double Coincidence of Wants) کن مواقع پر ہوا ؟ اوپر دی گئی صور ت ِحال میں کن مواقع پر آپ کو مشترکہ معیارِ قیمت کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے؟
اسی طرح، آپ صرف بیل کے ایک حصے کو سویٹر کے بدلے نہیں دے سکتے؛ یہ تقسیم کی دشواری (Problem of Divisibility) ہے۔ بیل کو ہر جگہ ساتھ لے جانا ایک مسئلہ ہے، یہ نقل پذیری کی دشواری (Problem of Portability) کی طرف لے جاتا ہے۔ آپ نے گندم کی بوریوں کے بدلے بیل کا تبادلہ کرکے آدھا مسئلہ حل کرلیا۔ لیکن آپ اس گندم کو زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے؛ وہ یا تو سڑجائے گا یا اُسے چوہے کھا جائیں گے! اس طرح پائیداری کا مسئلہ (Problem of Durability)پیدا ہوجاتا ہے۔
اس پر غور وفکرکریں
مذکورہ صور تِ حال میں پیسہ کس طرح مختلف طریقوں سے کسان کے مسائل کو آسان بنا سکتا ہے؟
اسے دیکھنا نہ بھولیں
اگرچہ زر یا پیسے نے دنیا بھر میں روایتی مبادلہ کاری کی جگہ لے لی ہے، لیکن بعض جگہوں پر یہ نظام آج بھی موجود ہیں! ان میں سے ایک جَون بیِل میلہ (Jonbeel Mela)ہے (آسامی زبان میں‘ جَون’ کے معنی’ چاند‘ اور‘’بیل‘ کے معنی گیلی زمین ہے)۔یہ آسام کے ضلع موریگاوں میں واقع جَون بیل نامی مقام کا ایک سالانہ سماجی و ثقافتی میلہ ہے جو تین دن جاری رہتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ میلہ اگنی پوجا (آگ کی عبادت) سے شروع ہوتا ہے، جو کہ سب کی بھلائی کے لیے ایک اجتماعی دعا ہوتی ہے۔پندرھویں صدی کی شروعات سے، آسام اور میگھالیہ کی قبائلی برادریوں تیوا، کاربی، کھاسی اور جینتیا کے سردار ہر سال جمع ہوتے تاکہ سیاسی معاملات پر بات چیت کی جائے اور باہمی دوستانہ تعلقات قائم رکھے جائیں۔ ان برادریوں کے افراد اس موقع پر جمع ہونے لگے اور جلد ہی اس نےایک ایسےمیلے کی شکل اختیار کرلی، جہاں لوگ اپنی اجناس اوراشیا لاکر آپس میں تبادلہ کرنے لگے۔
یہ روایت آج بھی زندہ ہے اور یہ میلہ ایک اہم سماجی و ثقافتی تقریب کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مبادلہ کاری کا عمل صبح سویرے ہی مقامی اجناس مثلاً جڑیں، سبزیاں، پھل،جڑی بوٹیاں اور مسالوں کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ میلے میں ہاتھ سے بنائی گئی اشیا اور فن پارے بھی نظر آتے ہیں، جو پہاڑی علاقوں کے جنگلات سے حاصل کردہ قدرتی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان اشیا کا مبادلہ اکثر میدانوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ چاول کے کیک اور دیگر ایسی غذاؤں سے کیا جاتا ہے جو پہاڑوں میں نہیں اگائی جا سکتیں۔
پائیداری(Durability):
کسی چیز یا مادّے کی وہ خصوصیت جو اس کے ٹکا ؤ اور نقصان برداشت کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، اس خوبی کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک محفوظ رکھی جاسکتی ہے۔
� کتابوں کا تبادلہ: ایک تفریحی کلب کا تصورکیجیے جہاں آپ اپنی پرانی کتابیں دوستوں سے تبدیل کر سکتے ہیں! یہ کہانیوں کے خزانے کی تلاش جیسا ہے۔ آپ وہ کتابیں لاتے ہیں جو آپ پڑھ چکے ہیں اور بڑے ذخیرے سے نئی کتابیں چنتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ اپنی جنگلی مہماتی کتاب کے بدلے اپنے دوست کی پُر اسرار کہانی والی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پیسہ خرچ کیے بغیر نئی دریافت کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔
� ایک عام مثال جو آج بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ پرانے کپڑوں کے بدلے نئے برتنوں کا مبادلہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں، ایک خوانچہ فروش گھروں میں آتا ہے اور استعمال شدہ کپڑوں کے بدلے نئے گھریلو برتن یا دوسری گھریلو اشیا پیش کرتا ہے۔ یہ مبادلہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ گھریلو افراد غیرضروری اشیا سے نجات پاجاتے ہیں، جب کہ خوانچہ فروش ایسی چیزیں جمع کرلیتے ہیں جنھیں دوبارہ فروخت کیا جا سکتا اور
قابل استعمال یا کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
اوپردی گئی تصویروں میں کچھ ایسے طریقے دکھائے ہیں جن میں لوگ آج بھی مبادلہ کاری کا استعمال کرتے ہیں۔ کیا آپ نے اپنے علاقے میں اس طرح کے طریقے دیکھے ہیں؟ اس عمل کے دوران لوگ کس طرح کے تجربات سے گزرتے ہیں؟
زر کے بنیادی افعال(Basic Functions of Money)
کہا جاتا ہے کہ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔‘‘ جب مبادلے میں شامل اشیا کی اقسام اور تعداد میں اضافہ ہوا، اور جب یہ مبادلے دور دراز علاقوں تک پھیلنے لگے، تو یہ واضح ہو گیا کہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ یعنی مبادلے کا ایسا مشترکہ ذریعہ جو لین دین کو آسان بنائے۔ اسی لیے پیسہ وجود میں آیا۔جوں جوں زیادہ سے زیادہ لوگ اسے اشیا اور خدمات کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنے لگے، یہ ادائیگی کا مقبول ذریعہ بن گیا۔ جیسا کہ ہم نے کسان کی کہانی میں دیکھا، وہ اپنا گندم زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ وہ سڑ جاتا یا اسے چوہے کھا لیتے۔
اگر کسان گندم کے بجائے زر کو مبادلے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرے، تو وہ زر زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ سکتا ہے اور بعد میں اسے خریداری کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔اس طرح زر قیمت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ (Store of Value)بھی ہے۔ جسے بعد میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ دل چسپ بات نہیں ہے!
زر ایک ایسا مشترکہ پیمانہ (Common Denomination) بھی فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے اشیا اور خدمات کی قیمت معلوم کرنے اور مختلف اشیا کی قیمتوں کا تقابل کرنا ممکن ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، آپ کے والدین دکان داروں کو مختلف اشیا کے بدلے پیسے دیتے ہیں۔ دکان دار ان ہی پیسوں کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ ملازمین اسی لین دین کے ذریعےکو روزمرہ کی ضروریات کے سامان خریدنے اور دوسری اشیا اور بچوں کی اسکول فیس وغیرہ ادا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس پر غور و فکر کریں
فرض کیجیے کہ آپ کو ایک کتاب خریدنی ہے۔ آپ کی جیب میں 50 روپےہیں۔ آپ اپنے محلے کی کتابوں کی دکان پر جاتے ہیں، جہاں دکان دار بتاتا ہے کہ کتاب کی قیمت100 روپے ہے۔اس کتاب کو آج ہی خریدنے کے لیے آپ کے پاس کیا راستے ہیں؟کیا آپ دکان دار سے درخواست کریں گے کہ وہ باقی رقم بعد میں ادا کرنے کی اجازت دے دے؟
حقیقت یہ ہے کہ زر مؤخر ادائیگی کے طریقے کے طورپر قبول کیا جاتا ہے جو زر کو مؤخر ادائیگی کا معیار (Standard of Deferred Payment) بناتا ہے۔
زر کا سفر(The Journey of Money)
آئیے معلوم کریں
نیچے دیے گئے وقوعی ترتیب کے خاکے پر نظر ڈالیں۔ آپ زر میں کن کن تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں؟
سکّے کی ترویج (Coinage)
جیسا کہ آپ وقوعی ترتیب کے خاکے میں دیکھ سکتے ہیں، سکے زر کے ابتدائی اقسام میں سے تھے۔اس وقت، حکمراں اپنے اپنے علاقوں میں سکے جاری کرتے تھے، جنھیں رعایاان کی متعلقہ سلطنت میں روزمرّہ لین دین کے لیے استعمال کرتی تھی۔لہٰذا، ہر ریاست کے اپنے سکے ہوا کرتے تھے۔ اس لیے سکّوں کی ڈھلائی اور انھیں جاری کرنا مکمل طور پر حکمرانوں کے اختیار میں ہوتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ، طاقت ور بادشاہوں کے سکےنہ صرف ان کی سلطنتوں بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی قبول کیے جانے لگے۔ اس سے مختلف علاقوں کے درمیان تجارت میں سہولت ہوتی گئی۔
شکل11.10: بھارت میں زر کا ارتقا (ایک اجمالی و قوعی ترتیب)
سکّہ سازی(Minting): سکّے بنانے کا عمل۔ ٹکسال سے مراد مصنوعات سازی کا وہ مقام ہے جہاں سکّے بنائے جاتے ہیں جو کسی ملک کی کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
بھرت /مخلوط دھات (Alloy):
وہ دھات جو دو یا دو سے زیادہ دھاتی عناصر کو ملا کر بنائی جاتی ہے۔ یہ سکے کو مضبوط بناتی ہے۔
یہ سکےقیمتی دھاتوں مثلاً سونے، چاندی، تانبا یا ان کے مخلوط دھات سے بنائے جاتے تھے۔انھیں کارشاپن یا پن(چاندی کے سکے) کہا جاتا تھا۔ان پر مہر ثبت کی جاتی تھی جسے روپ کہا جاتا تھا۔کیا یہ لفظ آج کے بھارت میں زر کے لیے استعمال ہونے والے کسی لفظ سے مشابہت رکھتا ہے؟
اسے دیکھنا نہ بھولیں
- کیا یہ بات دل چسپ نہیں کہ ‘پَن’ (Pana) لفظ کی مختلف شکلیں آج بھی تمل، تیلگو اور ملیالم زبانوں میں پنم (Panam) کے طور پر اور کنڑ زبان میں ‘ہن’ (Hana) کے طور پر زر کے لیے استعمال کی جاتی ہیں؟
- چاندی اور تانبے کے مرکب سے سکے بنائے جاتے تھے۔آج جو سکے ہم استعمال کرتے ہیں، وہ بھی دھاتوں کے مرکب سے بنے ہوتے ہیں جن میں لوہے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ان میں کرومیم، سلیکان اور کاربن جیسی دھاتیں بھی خاص تناسب میں شامل کی جاتی ہیں۔آپ ان مرکبات کے بارے میں مز ید تفصیل سے اپنے سائنس کے اسباق میں پڑھیں گے۔
قدیم زمانے میں سکوں کے دونوں رخ یعنی چِت (head/obverse)اور پَٹ (tail/reverse) پر مختلف نقوش اور علامات نقش ہوتے تھے۔ان میں قدرتی مناظر جیسے جانور، درخت، پہاڑ، بادشاہوں یا ملکائوں اور دیوتاؤں کی شبیہیں شامل ہوتی تھیں۔
مثال کے طور پر : چالوکیہ خاندان کے سکوں پر ایک طرف وراہ (وشنو کے اوتار) کی شبیہ ہوتی تھی اور دوسری طرف تین منزلہ شاہی چھتری ہوتی تھی۔
چالوکیہ خاندان کے سکّے جن پر وراہ اوتار اور شاہی چھتری کندہ ہے
چول خاندان (850سے1279عیسوی) کا چاندی کا سکّہ جس پر ببر شیر کا نشان ہے
چِت(Obverse):
سکّے یا تمغے کا وہ رخ جس پر کسی اہم شخصیت کی تصویر یا بنیادی نقش و نگار کندہ ہوتا ہے۔
آئیے معلوم کریں
شکل 11.12 میں دکھائے گئے سکے تمل ناڈو کے پڈوکوٹّئی (Pudukkottai) علاقے کی کھدائی کے دوران ملے ہیں۔ان سکوں کے چِت کے رخ پر رومی بادشاہوں کے چہرے کندہ ہیں۔ایسی دریافت سے ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟
شکل11.12: رومن سونے کے سکّے جو پڈوکّوٹّئی، تمل ناڈو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے
سکّے کی ترویج سے ہندوستان کی سمندری تجارت کو عالمی سطح پر فروغ ملا۔مثال کے طور پر، ایسے سکے کیرالہ اور تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں پائے گئے ہیں۔یہ بات جنوبی ہندوستان کی بقیہ دنیا کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ان دریافتوں کی بنیاد پر ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ تجارت ہندوستان کے حق میں تھی۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ایک ’آنا‘ ایک روپے کے سولہویں حصے کے برابر ہوتا تھا۔1947 میں ایک آنے میں ایک درجن کیلے خریدے جا سکتے تھے۔
آج ہم مختلف قدروں کے لیے الگ الگ حجم کے سکے دیکھتے ہیں جن پر ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں معلومات درج ہوتی ہیں۔خصوصی موقعوں پر اہم قومی واقعات کی یاد میں خصوصی سکے بھی جاری کیے جاتے ہیں۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
حکومتِ ہند نے سال 2010 میں روپے کا نشان( ₹) اختیار کیا ۔اسے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بمبئی (ممبئی) کے اُدے کمار نے بنایا تھا۔یہ علامت دیوناگری کے‘‘ ₹’’ اور رومن’’ R‘‘ کا امتزاج ہے، جس میں دو متوازی افقی دھاریاں جو اوپر کی طرف چل رہی ہیں، قومی پرچم کی نمائندگی کرتی ہیں اور ’’برابر‘‘ کے نشان کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
آئیے معلوم کریں
پانچ پانچ طلبا کے گروپ بنائیے۔ اپنے خاندان کے افراد، پڑوسیوں، دکان داروں وغیرہ سے پرانے سکے جمع کرنے کے لیے ایک گروپ پروجیکٹ شروع کیجیے ۔ان کی مختلف خصوصیات کو دستاویزی شکل دیجیے کہ یہ سکے کس مواد سے بنے ہیں۔ ان پر کس سال کا نشان درج ہے؟ سکّوں کے چت اور پٹ کے رخوں پر آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟آپ اپنے مشاہدات سے کیا اندازہ لگا سکتے ہیں؟آپ کیسے جانیں گے کہ آپ کے اندازے درست ہیں؟
جب مبادلہ کاری میں غیر دھاتی پیسہ استعمال ہوتا تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، تو سکہ یعنی دھاتی پیسے نے زر کی دیگر شکلوں کا راستہ کھولا!
کاغذی زر یا کرنسی (Paper Money)
آئیے معلوم کریں
جب سکے ہر قسم کے لین دین میں استعمال ہونے لگے،چاہے سبزیاں خریدنے کے لیے ہوں یا زمین خریدنے کے لیے تو آپ کیا سوچتے ہیں؟کس طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہوں گے؟
جیسا کہ آپ نے تصور کیا ، سکوں کی بڑی مقدار کو لے کر چلنا مشکل ہو گیا تھا۔سکوں کو ذخیرہ کرنا بھی ایک مسئلہ بن گیا تھا۔زیادہ موزوں متبادل کی تلاش کاغذی زر یا کرنسی کے استعمال پر آ کر ختم ہوئی۔کاغذی زر یا کرنسی سب سے پہلے چین میں استعمال کی گئی تھی اور 18ویں صدی کے اواخر میں ہندوستان میں متعارف کرائی گئی۔
کرنسی(Currency):
زر کی وہ شکل جو کسی ملک میں استعمال کی جاتی ہے مثال کے طور پرسکے اور کاغذی نوٹ جو ہندوستان میں روپے کے طورپر استعمال کیے جاتے ہیں، یہ ہندوستانی کرنسی ہے۔
شکل11.15: بینک آف بمبئی کا دس روپے کا نوٹ اور بینک آف بنگال کا یک رخی نوٹ (بائیں) (ماخذ: آر بی آئی)
سکے عموماً کم قیمتوں (Small Denominations)کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، کاغذی کرنسی اونچی قیمتوں (Higher Denominations) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
آج آپ جوزیادہ تر کرنسی نوٹ دیکھتے ہیں وہ اس طرح نظرآتے ہیں...
شکل11.16: آج کے کاغذی نوٹ
قیمت (Denomination):
وہ اکائیاں جن میں سکّے اور کاغذی نوٹ جاری کیے جاتے ہیں، مثلاً: بھارت کی اکائیاں جن میں 50 پیسہ،
₹1، 2 ₹، 5 ₹،
₹10، ₹20 ،
اور کاغذی نوٹ
₹10، 20 ₹،
50 ₹،100 ₹،
200 ₹ اور500 ₹
آئیے معلوم کریں
50 اور 100روپے کے کرنسی نوٹ کو دیکھیے۔ کیا آپ ان نوٹوں کے پیچھے کی طرف ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو ظاہر کرنے والی علامات کی شناخت کر سکتے ہیں؟ ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
- نوٹوں کی سطح کو محسوس کیجیے۔ کرنسی نوٹ کی وہ کون سی اہم خصوصیات ہیں جو نقصِ بصارت والے افراد کو نوٹوں کی قیمتوں (Value) کی شناخت میں مدد دیتی ہیں؟
ہم نےاس باب میں پہلے پڑھا تھا کہ قدیم دور میں سکے حکمرانوں کی جانب سے جاری کیے جاتے تھے، لیکن آج ہندوستان میں ہمارے پاس واحد مرکزی ادارہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) ہے جو کرنسی جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اس کے اجرا کومنضبط رکھتا ہے۔ آر بی آئی (RBI) کے علاوہ کسی دوسر ےادارے یا شخص کا کرنسی جاری کرنا غیر قانونی ہے۔
زر کی نئی شکلیں (New Forms of Money)
جیسے جیسے وقت گزرا اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، زر کی دیگر شکلیں بھی سامنے آچکی ہیں اور آج کے دور میں استعمال ہونے لگی ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ پر نظر ڈالیں۔
کرشنپّا ایک ٹھیلے پر موسمی پھل بیچتا ہے۔ وہ ٹھیلے پر صفائی سے رکھے ہوئے رنگین پھلوں کے ساتھ ساتھ کیو آر کوڈ (QR Code) والا ایک چھوٹا سا کارڈ بھی رکھتا ہے۔ اس کے گاہک اپنے موبائل فون سے اس کوڈ کو اسکین کرتے ہیں اور سامان کی قیمت ڈیجیٹل طور پر ادا کرتے ہیں۔ پھر یہ ادائیگی براہ راست کرشنپّا کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے۔
سکوّں اور کاغذی نوٹوں جیسے مادی زرکے علاوہ، پیسہ اب غیر مادی شکلوں میں بھی آ چکا ہے جنھیں ہم چھو سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ اسے ڈیجیٹل کرنسی کہا جاتا ہے، جو الیکٹرانک شکل میں ہوتا ہے۔کیا آپ نے اپنے ارد گرد دیگر افرادکو نوٹ اور سکے استعمال کیے بغیر ادائیگی کرتے یا وصول کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ مختلف ادائیگی کے طریقے جیسے ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، نیٹ بینکنگ، یو پی آئی(UPI-Unified Payments Interface) (یونی فائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) وغیرہ بھی لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ طریقے پیسے کوایک شخص کے بینک اکاؤنٹ سے دوسرے کے اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کرتے ہیں۔آپ جدید مالیاتی لین دین کے طریقوں کے بارے میں مزید معلومات بعد میں حاصل کریں گے۔
کیوآرکوڈ(QR Codes):
یہ ’’کوِک رسپانس‘‘ کوڈ ہے۔ یہ کالے اور سفیدچوکورشکلوں کا مجموعہ ہے جو اسمارٹ فون اور QR اسکینر جیسے آلات کے ذریعہ پڑھے جاسکتے ہیں۔ان میں حاصل کرنے والے کے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں معلومات ہوتی ہے اور یہ کرنسی کے لین دین میں استعمال ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...
� مبادلہ کاری کا نظام زرکے وجود میں آنے سے پہلے موجود تھا، جسے مختلف اجناس کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
� مبادلہ کاری کا محدود دائرہ زر کے تبادلے کے ذریعے کے طور پر ترقی کا سبب بنا۔
� زر کی مختلف شکلیں وقت کے ساتھ ترقی کرتی گئیں جیسے کہ گھونگھے پھر سکے اور پھر اس کے بعد کاغذی کرنسی۔ یہ ارتقا آج بھی جاری ہے کیوں کہ ہم ادائیگیاں وصولی کے نئے اور آسان طریقے وضع کرتے ہیں، جن میں کیوآرکوڈ (QR Code) جسے آپ نے اوپر کی تصویر میں دیکھاہے۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. مبادلہ کاری کا نظام کیسے عمل میں آیا اور اس نظام کے تحت تبادلے کے لیے کون سی اشیا استعمال کی جاتی تھیں؟
2. مبادلہ کاری کی خامیاں کیا تھیں؟
3. قدیم ہندوستانی سکوں کی اہم خصوصیات کیا تھیں؟
4. وقت کے ساتھ ساتھ تبادلے کے ذریعے کے طور پرزرکا ارتقا کس طرح ہوا ہے؟
5. قدیم زمانے میں کون سے اقدامات کیے گئے ہوں گے کہ ہندوستانی سکّے دنیا بھر میں تبادلے کے ذریعے کے طور پر استعمال ہونے لگے؟
6. ارتھ شاستر کی مندرجہ ذیل عبارت کو پڑھیے:
’’سالانہ ساٹھ پنوں (Panas)کی تنخواہ کو روزانہ ایک اَڑھک(Adhaka) اناج سے بدلا جاسکتا تھا، جو چار وقت کے کھانوں کے لیے کافی ہوتا تھا ‘‘... (ایک اڑھک تقریباً تین کلو کے برابر ہوتا تھا)، یہ اقتباس ایک پَن کی قیمت کے بارے میں کیا ظاہرکرتاہے؟
مزید یہ کہ اگر کسی پڑوسی کی مدد نہ کرنے پر جرمانہ 100 پنو کا ہوتا تھا تو سالانہ تنخواہ کے مقابلے میں اس سزا سے کون سی انسانی قدریں نمایاں ہوتی ہیں؟
7. ایک مختصرڈراما لکھ کر پیش کیجیے جس میں یہ دکھایا جائے کہ لوگ کس طرح ایک دوسرے کو اس پر قائل کرتے ہوں گے کہ وہ گھونگھے کے خول (یا اسی طرح کی دوسری اشیا) کو تبادلے کے ذریعے کے طور پر استعمال کریں۔
8. ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو بھارت میں کاغذی کرنسی چھاپتااور تقسیم کرتا ہے۔ نوٹوں کی غیر قانونی چھپائی اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے، آر بی آئی نے کئی تحفظاتی تدابیر متعارف کرائی ہیں۔ ان میں سے کچھ تدابیر کیا ہیں؟ تلاش کیجیے اور کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
9. اپنے خاندان کے چند افراد اور مقامی دکان داروں کا انٹرویو لیجیے اور ان سے پوچھیےکہ وہ ادائیگیوں اور وصولیوں میں کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں —کیا وہ نقد رقم پسند کرتے ہیں یا یو پی آئی (UPI) اور کیوں؟
نوڈلس