Skip to content
Qr






باب 12
بازاروں کو سمجھنا (Understanding Markets)


بازار خوش حالی کا سرچشمہ ہیں جو اس وقت فروغ پاتے ہیں جب لوگوں کو ان اشیاوخدمات کی ضرورت پیش آتی ہے جنھیں وہ خود نہیں بناسکتے۔

— ایڈم اسمتھ

اٹھارویں صدی کا ایک ماہر معاشیات

اہم سوالات

  1. بازار کیا ہیں اور یہ کس طرح کام کرتے ہیں؟
  2. لوگوں کی زندگی میں بازاروں کا کیا کردار ہے؟
  3. بازاروں کے معاملے میں حکومت کیا کردار ادا کرتی ہے؟
  4. صارفین خریدی گئی اشیا اور خدمات کے معیار کا اندازہ کس طرح لگا سکتے ہیں؟

اگلے صفحے پر دی ہوئی تصویر میں آپ لوگوں کو سبزیاں، پھل،کپڑے، کریانے کا سامان، موبائل فون، ریفریجریٹر وغیرہ جیسی اشیا کو خریدتے اور فروخت کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ اشیا مختلف قسم کی معاشی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں جو ابتدائی، ثانوی اور سوئمی ہوسکتی ہیں جن کے بارے میں آپ گریڈ6میں پڑھ چکے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ اشیا ہم تک کیسے پہنچتی ہیں؟

market1 market-07_copy_-_Copy

بازار کیا ہے؟ (?What is Market)

وہ جگہ جہاں لوگ اشیا کی خریدوفروخت کرتے ہیں بازار(Market)کہلاتی ہے۔ہندی میں اسے ہاٹ اورکنّڑ میں مروکٹّےکہتے ہیں۔ آپ کے علاقے میں اسے کیا کہا جاتا ہے؟ یہ کسی مخصوص طبیعی مقام پر ہوسکتا ہے یا آن لائن بھی جو آج کل بہت مقبول ہو رہاہے۔ بازاروں کے ذریعے ہی اشیاوخدمات لوگوں، گھروں ا ور کاروباری اداروں تک پہنچتی ہیں۔ صدیوں سے لوگ اپنی ضروریات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے بازاروں پر منحصر ہیں۔ اس کے علاوہ بازار افراد، روایات اور خیالات کو بھی جوڑتے ہیں۔

آئیے سولہویں صدی کے ہندوستان کے ایک بازارکی مثال دیکھیں۔

بنیادی ضرورتیں(Needs):

معاشیات میں بنیادی ضرورت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا جیسے خوراک، پانی، کپڑے اوررہائش۔

خواہشات(Wants) :

معاشیات میں خواہش سے مراد وہ چیزیں ہیں جنھیں انسان چاہتا تو ہےمگر وہ بقا کے لیے لازمی نہیں ہوتیں۔

تجارت(Trade):

خرید و فروخت یا سامان و خدمات کا تبادلہ جو افراد یا ممالک کے درمیان کیا جاتا ہے۔


کرناٹک کا شان دارہمپی بازار (The Glorious Hampi Bazaar, Karnataka)

Screenshot 2026-02-03 at 16-18-12 gues112.pdf

شکل12.3:آج کا ہمپی بازار

کرناٹک کا ہمپی بازار وجے نگر سلطنت کے خوش حال بازاروں میں سے ایک تھا اور پھلتی پھولتی تجارت کا مرکز تھا۔ یہ بازار ویروپکش مندر کے سامنے واقع تھا۔ شہر کی خوش حالی اور فراوانی کا تذکرہ کئی غیر ملکی تحریروں میں کیا گیا ہے۔

پرتگالی سیاح، ڈومینگو پائزنے ہمپی کے بارے میں کہا ہے کہ ’’دنیا کا بہترین شہر جہاں آسائش کا تمام تر سامان مہیا تھا۔‘‘کیوں کہ بازار میں مختلف قسم کی مصنوعات کی تجارت ہوتی تھی مثلاً اناج، بیج، دودھ، تیل، ریشم اور گائے، خرگوش، گھوڑے جیسے جانور حتٰی کہ بٹیر اور تیتر جیسے پرندے بھی۔ ایک اور پرتگالی سیاح فرناؤ نونیز نے بازار کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ بازار کی گلیوں میں دست کار بھی بیٹھے ہوتے تھے، جہاں سونے کے زیورات اور دل کش اشیا تیار کی جاتیں اور آپ کووہاں ہر قسم کے قیمتی پتھر جیسے کہ لعل اورہیرے موتی فروخت کے لیے ملیں گے... زیادہ تر سوتی کپڑے فروخت کرنے والے بھی تھے...گھاس پھوس کی بھی بے پناہ کثرت تھی۔مجھے نہیں معلوم کہ کوئی کس طرح اس منظر کو بیان کرےگاتاکہ لوگ اس پر یقین کرسکیں۔کیوں کہ بظاہر تو یہ ایک بنجر سرزمین معلوم ہوتی ہے...یہ واقعی ایک معمہ ہے کہ ایسی جگہ پر ہر چیز کس طرح وافر مقدار میں موجود ہے۔‘‘

قیمت( Price):

قیمت وہ رقم ہے جس پر کوئی خریدار مخصوص اشیا و خدمات کو خریدنے پر تیار ہوتا ہے اور فروخت کنندہ سے فروخت کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔

آئیےمعلوم کریں

  • کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ بازار اپنے عروج کے وقت کیسا نظر آتا ہوگا؟
  • کیا آپ اپنی ریاست کے کسی قدیم بازار کے بارے میں جانتے ہیں؟ موجودہ بازاروں سے وہ کس طرح ملتے جلتے یا مختلف ہوں گے؟ اپنے خاندان یا معاشرے کے بزرگ افراد سے گفتگو کیجیے۔

آئیے بازاروں اور ان کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں مزید جانیں!

آئیے معلوم کریں

شکل12.4


تصویر کا مشاہدہ کیجیے ۔ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ تصور کیجیے کہ آپ اور آپ کا ساتھی امرود کے خریدار اور فروخت کنندہ ہیں۔آپ دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمات کا ایک مجموعہ تیارکیجیے اور اسے اپنی کلاس میں ایک مختصر ڈرامے کی شکل میں پیش کیجیے ۔

کسی جگہ کو بازار کہنے کے لیے کچھ خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ آپ نے شکل 12.2(جو دو صفحات پر محیط تعارفی صفحہ نمبر 248 پر دیا گیا ہے)میں دیکھا۔ ہر بازار میں ایک خریدار اور ایک فروخت کنندہ ہوتا ہے۔ ان دونوں کو ایک ایسی قیمت پر اتفاق کرناپڑتاہے، جس پر سودا طے ہوگا۔کسی بھی لین دین کی تکمیل میں قیمت ایک اہم خصوصیت ہے۔

اکثر خریدار اور فروخت کنندگان قابل قبول قیمت متعین کرنے کے لیے مول بھاؤ(Negotiation)اور سودے بازی (Bargaining)کرتے ہیں۔آپ کے ڈرامے میں مول بھاؤ اور سودے بازی کو کس طرح پیش کیا گیا۔

اس پر غورو فکر کریں

کیا آپ ایک ایسے بازار کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں مول بھاؤ عام نہیں ہیں اور کیوں؟

قیمتیں اور بازار (Prices and Markets)

جب کسی بازار میں کئی خریدار اور فروخت کنندگان ہوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ بازار میں خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان تعامل کا قیمتوں پر کیا اثرپڑتاہے؟

نیچے دی ہوئی شکل میں فروخت کنندہ80روپےفی کلوگرام کے حساب سے امرود فروخت کرنا چاہتا ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ خریدار اس قیمت پر خریدنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اگر خریدار کو قیمت بہت زیادہ لگتی ہے تو وہ ایسی قیمت کی پیش کش کرے گاجسے وہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ممکن ہے کہ فروخت کنندہ، خریدار کی پیش کی گئی قیمت پر فروخت کرنے کے لیے تیار نہ ہو کیوں کہ یہ اس کے لیے نفع بخش نہیں ہے۔ خریدار اور فروخت کنندہ اس وقت تک مول بھاؤ کرتے ہیں جب تک کہ ایسی قیمت پر نہ پہنچ جائیں جس پر دونوں متفق ہوں۔ اس کے بعد ہی لین دین کا عمل مکمل ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا نقطہ نہیں آتا ہے جہاں خریدار اور فروخت کنندہ ایک قیمت پر متفق ہوں، تو لین دین نہیں ہو پاتا ۔

آئیے اس کو سمجھنے کے لیے ذیل میں کچھ منظر ناموں پر غورکیجیے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-37-28 gues112.pdf

1. اگر فروخت کنندہ بہت زیادہ قیمت طلب کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

Screenshot 2026-02-03 at 16-37-35 gues112.pdf

2. اگر فروخت کنندہ بہت کم قیمت طلب کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

3. اس دوران امرود کی ایک ایسی قیمت طے ہو جاتی ہے جو نہ خریدار کے لیے بہت زیادہ ہےاور نہ فروخت کنندہ کے لیے بہت کم ! یعنی ایک مناسب اور متوازن قیمت طے ہوجاتی ہے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-37-40 gues112.pdf

تینوں مناظر سے سبق لیتے ہوئے، فروخت کنندہ اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ خریداروں کو امرود کی کتنی مقدار درکار ہےاور وہ آئندہ بازار میں اس مقدار کو پیش کرسکتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ، فروخت کنندگان کی طرف سے پیش کی گئی اشیاکی مقدار اور خریداروں کومطلوب اشیا کی مقدار کی مناسب قیمت کے تعین میں مدد کرتی ہے یعنی فروخت کنندہ کے لیے منافع بخش اور خریدار کے لیے کافی کم ہوتی ہے۔

اس پر غور وفکرکریں

ہفتہ وار بازاروں میں دن کی بہ نسبت دیر رات میں سبزیاں سستے داموں پر فروخت ہوتی ہیں۔ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟ سردی کاموسم ختم ہوجانے پر کپڑوں کی دکانیں اونی کپڑوں پر بھاری رعایت کی پیش کش کرتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ہمارے اطراف کے بازار (Markets Around Us)

بازار ہر جگہ اور مختلف شکلوں میں موجود ہوتے ہیں۔

طبیعی اورآن لائن بازار (Physical and Online Markets)

طبیعی بازار وہ ہے جہاں خریدار، فروخت کنندہ سےبراہ راست مل سکتے ہیں اور رقم کے بدلے اشیا یا خدمات خرید سکتے ہیں۔ یہ بازار کی سب سے عام قسم ہے۔ اس میں ہفتہ وار بازار اور ہاٹ شامل ہیں، جہاں دکان دار سبزیاں، دیگر ضروری سامان اور ٹھیلے پر سجی ہوئی دست کاری کی اشیا فروخت کرتے ہیں۔ دکانوں اور اسٹریٹ فوڈ، آرائشی اشیا(knick-knacks) وغیرہ فروخت کرنے والے دکان داروں سے گونجتے ہوئے مقامی بازار بھی طبیعی بازار ہیں۔ شہروں اور قصبوں میں کثیر منزلہ عمارتیں یعنی بڑے علاقوں میں پھیلے ہوئے مال (Mall)بھی ہیں جن کے اندربہت سی دکانیں ہوتی ہیں۔

آج خریداروں اور فروخت کنندگان کو لین دین کرنے کے لیے ذاتی طور پر ملنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دورہوتے ہوئے بھی کسی مناسب جگہ سے لین دین کرسکتے ہیں۔ وہ اس کے لیے فون یا کمپیوٹر پر شاپنگ ایپلی کیشن(ایپ) یا ویب سائٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ ایپ یا ویب سائٹ ان کاروباری اداروں کے ذریعے بنائی جاتی ہیں جو مختلف قسم کی اشیا و خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ہم مندرجہ ذیل حصے میں پڑھیں گے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔

کوئی بھی شخص کتابوں، کپڑوں، فرنیچر اور کریانہ کی اشیا سے لےکر
ٹی وی، موبائل فون اور لیپ ٹاپ جیسے الیکٹرانک سامان خرید سکتا ہے اور انھیں اپنے گھرپر منگوا سکتا ہے۔ مصنوعات ساز اشیا تیار کرنے کے لیے مادخل کے طور پر استعمال کیے جانے والے اجزا کو آن لائن بھی خرید سکتے ہیں۔ اشیا کے علاوہ، کوئی بھی فرد گھر سے باہر قدم رکھے بغیر آن لائن کلاس جیسی خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح کی خدمات کے لیے ادائیگیاں بھی آن لائن کی جاسکتی ہیں۔

پیداوار ی مادخل

:(Inputs for Production)

وہ مواد یا وسائل جن کا استعمال اشیا اور خدمات کی پیداوار کے لیےکیا جاتا ہے۔

مصنوعات ساز

(Manufacturer):

وہ شخص یا کمپنی جو فروخت کے لیے سامان بناتی ہے۔

اس پر غور وفکرکریں

  • آپ کے خیال میں آن لائن اور طبیعی خریداری کےبالترتیب فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟ فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کے لحاظ سے اس سوال کا جواب تلاش کیجیے ۔
  • کچھ خدمات جیسے کپڑوں کی سلائی کے لیے ذاتی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے اورانھیں آن لائن فراہم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیا آپ کچھ اور ایسی خدمات تجویز کرسکتے ہیں جہاں طبیعی بازاروں کی ضرورت ہے؟

بازار کی کچھ قسمیں بھی ہیں جہاں اشیاو خدمات کا لین دین نہیں ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک شیئر بازار یا اسٹاک مارکیٹ ہے۔

اپنے اہل خانہ، اساتذہ یا معاشرے کے افراد سے اس کے متعلق بات کیجیے۔ ہم سال کے آخر میں ان تصورات کی چھان بین کریں گے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-41-22 gues112.pdf

برآمد (Export):

کسی ملک میں تیار کی گئی اشیا یا خدمات کو دوسرے ملک کے خریداروں کو فروخت کرنا۔

درآمد(Import):

دیگر ممالک سے اشیا یا خدمات کو خریدنا اور انھیں اپنے ملک میں لانا۔

گھریلو اور بین الاقوامی بازار (Domestic and International Market)

ایک ایسا بازار جہاں سامان اور خدمات کی خرید و فروخت ملک کی جغرافیائی حدود کےاندر کی جاتی ہیں، اسے گھریلو بازار کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب کو چھاپنےکے لیے کاغذ پورے ہندستان میں واقع کاغذکے بڑے کارخانوں سےحاصل کیا گیا۔ خریدار اورفروخت کنندہ کے درمیان یہ لین دین ملک کے اندر ہی ہوا۔

بین الاقوامی بازار ملک کی سرحد سے باہر واقع ہوتے ہیں۔ ایک ملک کے فروخت کنندگان اپنی مصنوعات دوسرے ملک کو برآمد (Export)کرتے ہیں، یا ایک ملک کے خریدار دوسرے ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد (Import)کرتے ہیں۔ اس طرح، ملکوں کی سرحدوں کےآرپار تجارت ہوتی ہے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-42-18 gues112.pdf

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہندوستان 2024 میں پام،سورج مکھی اور سویا بین تیل جیسے خوردنی تیل کادنیا بھر میں سب سے بڑا درآمداتی ملک تھا۔ پام تیل سب سے زیادہ ملیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے درآمد کیا جاتا ہے۔

تھوک اور خوردہ بازار (Wholesale and Retail Markets)

بازاروں کے مؤثر نظام کو چلانے میں مختلف فریق اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

Screenshot 2026-02-03 164336

آئیے معلوم کریں

خاکے کا مشاہدہ کیجیے اور صنعت کار /پیداکار(Producer)سے صارفین تک سامان کے بہاؤ کی وضاحت کیجیے۔ بہاؤ میں تھوک اور خوردہ فروشوں کا کیا کردار ہے؟

طبیعی بازاروں کے معاملے میں، تھوک فروش صنعت کاروں یا پیداکاروں سے بڑی مقدار میں سامان خریدتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اناج، سبزیاں اور پھل تھوک فروش براہ راست کھیتوں سے خریدتے ہیں۔ اس کے بعد پیداوار کو بڑے ذخیرہ گاہ (Warehouse) میں رکھا جاتا ہے جنھیں مال گودام(Godown)کہتے ہیں۔جلدی خراب ہونے والی اشیا کے معاملے میں، ٹھنڈےگوداموں(Cold Storage)کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھیں بازار میں لایا جاتا ہے جسےمنڈی کہتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-44-34 gues112.pdf

شکل12.12: سبزیوں کے لیے ٹھنڈے گوداموں (Cold Storage)کی سہولت

Screenshot 2026-02-03 at 16-45-10 gues112.pdf

شکل12.13: اناج ذخیرہ کرنے والا گودام

شکل12.14: تھوک فروش تاجروں کے بڑے گودام

اسی طرح، کیمیائی اشیا، الیکٹرانک اشیا اور ان کے پُرزے، تعمیراتی مواد، موٹر گاڑیوں کے حصے وغیرہ جیسی دیگر اشیا کے لیے تھوک بازار موجود ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-45-43 gues112.pdf

شکل12.15: کھاری باؤلی مسالہ بازار، پرانی دہلی (مسالے اور خشک میوے جات)

شکل12.16: پھولوں کی منڈی، بنگلورو

ٹھنڈے گودام

:(Cold Storage)

جلد خراب ہونے والی اشیا کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص گودام جہاں ہلکے درجۂ حرارت کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

تھوک فروش گھروں کے نزدیک واقع دکانوں کو سامان فراہم کرتے ہیں۔ ان دکان داروں کو خوردہ فروش (retailers)کہا جاتا ہے۔ وہ ہم جیسے حتمی صارفین کو سامان فروخت کرتے ہیں۔ تھوک فروش تاجروں کے برعکس، خوردہ فروش کم مقدار میں سامان فروخت کرتے ہیں اور ان کی فروخت کا مقصد دوبارہ فروخت نہیں بلکہ براہِ راست استعمال ہوتا ہے۔ خوردہ فروش کی دکانیں صرف اشیا کے لیے نہیں بلکہ خدمات کے لیے بھی موجود ہوتی ہیں، جیسے سیلون، سنیما گھر اور ریستوراں وغیرہ۔ خوردہ فروش گھروں تک اشیا وخدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-46-28 gues112.pdf

شکل12.17: جوہری بازار، جے پور (جواہرات اور زیورات)

کچھ معاملوں میں، تھوک فروش تاجروں کے لیے طویل فاصلوں اوردشوار گزار علاقوں کی وجہ سے خوردہ فروش تاجروں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تقسیم کار (Distributors)اس خلا کو پر کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کیا آپ کو گریڈ 6 کی امول (AMUL)کی کہانی میں دودھ کے کاروبار سے جڑے ہوئے درمیانی افراد (بچولیے) یاد ہیں؟

تاہم، آن لائن بازاروں کے معاملے میں تقسیم کاری زنجیر (Distribution Channel) بالکل مختلف ہے۔ یہاں مصنوعات ساز اپنی مصنوعات کی بڑی مقدار آن لائن ایپ کے ذریعے فروخت کرنے والے کاروباریوں کے گودام میں بھیجتے ہیں۔ صارفین آن لائن (ویب سائٹ یا موبائل اپلی کیشن سے) مصنوعات خریدتے ہیں۔ ان کاروباریوں کو جمع کنندہ یا ایگری گیٹر (Aggregator)کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایگریگیٹر مصنوعات کی ڈبہ بندی کرتا ہے اور انھیں آن لائن خریدار تک پہنچاتا ہے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-47-00 gues112.pdf

شکل12.18: کپڑے کی دکان

شکل12.19: سیلون

Screenshot 2026-02-03 at 16-47-05 gues112.pdf

شکل12.20: مال(MALL)

شکل12.21:کریانے کی دکان

تقسیم کار(Distributors):

ایسے افراد یا کاروباری جو مصنوعات ساز اور تھوک فروش تاجروں کو سامان فراہم کرتے ہیں۔

جمع کنندہ(Aggregator):

ویب سائٹ یا موبائل اپلی کیشن جو متعدد فروخت کنندگان کی پیش کش کو منظم اور یک جا کرتی ہے اور صارفین کو ایک ہی جگہ پر فروخت کرتی ہے۔


آئیے دیکھتے ہیں کہ طبیعی بازاروں میں رسدی زنجیر (Supply Chain)کیسے کام کرتی ہے۔ سورت، گجرات میں ایشیا کی سب سے پرانی کپڑا منڈی جس کی بنا پر یہ شہر کپڑے کے مرکز کے طور پر مشہور ہے۔

سورت کپڑا منڈی میں کپاس اور مصنوعی کپڑا بنانے والی ہزاروں فیکٹریاں ہیں۔ سوتی کپڑے کے لیے یہاں خام کپاس آس پاس کی ریاستوں جیسے مہاراشٹر اورگجرات کے دیگر حصوں کی کپاس منڈیوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ پاور لوم پر بُنائی، پروسیسنگ یونٹوں میں رنگائی وغیرہ کے مختلف مراحل میں پروسیسنگ کے بعد اسے تیار فیبرک یا کپڑوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعات ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں ان بازاروں کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں جہاں بنے کپڑے، رنگے کپڑے اور تیار شدہ مصنوعات (جیسے ساڑیاں، ریڈی میڈ ملبوسات وغیرہ) فروخت ہوتی ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-48-55 gues112.pdf

مصنوعات سازی کی اکائیاں کپڑے سے تیارکردہ مال کوتھوک بازار میں بیچتی ہیں۔ تھوک فروش سپلائی کا ایک اہم وسیلہ ہیں کیوں کہ وہ ملک بھر میں اور بین الاقوامی سطح پر چھوٹے دکان داروں اور بڑے خوردہ اسٹوروں کو مصنوعات کی تقسیم کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ اس کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ خوردہ فروشوں کو کتنی مقدار میں مصنوعات کی ضرورت ہے۔ اس سے مصنوعات سازوں کے ساتھ سامان کے اسٹاک کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور حتمی صارف تک مصنوعات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-50-56 gues112.pdf

شکل12.23: آس پاس کے کپاس کے علاقوں سے سورت کو خام کپاس کی فراہمی

شکل12.25: سورت شہر کانقشہ

Screenshot 2026-02-03 at 16-51-03 gues112.pdf

شکل12.25:کپڑے کے تھوک فروش کا گودام

آئیے معلوم کریں

اپنے قریبی خوردہ فروش سےکسی تیارسامان کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے، وہ کس جگہ تیار ہوتی ہے اور کن مرحلے سے گزرکر اس دکان تک پہنچی ہے۔ ان معلومات کو ایک فلو چارٹ (Flow Chart)کی شکل میں درج کیجیے، جیسا کہ شکل 12.11 میں دکھایا گیا ہے اور اسے کلاس میں پیش کیجیے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

  • سورت پارچہ سازی (Textile)کے علاوہ ہیرے کی صنعت کا بھی دنیا کاسب سے بڑا مرکز ہے۔ تقریباً 15لاکھ کاریگر بڑے پیمانے پر ہیروں کو تراشنے اور پالش کرنے جیسی سرگرمیوں میں کام کرتے ہیں۔ سولہویں صدی کے بعد سے یہاں تجارت کو فروغ ملا۔ مغربی ساحل پر شہر کا محل وقوع،بندرگاہوں اور سڑکوں کے قیام کے لیے موزوں ثابت ہوا، جو آج بھی تجارت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ماہر کاری گروں اور ہنر مند افراد کی برادریاں صدیوں سے یہاں رہتی آئی ہیں۔ ان کی صلاحیتیں نسل در نسل منتقل ہوئیں جس سے سورت ایک ترقی یافتہ تجارتی مرکز بن گیا ۔
  • کیا آپ شکل 12.24میں نقشے پر بندرگاہ، شاہراہوں اور ریلوے کے جال کو دیکھ سکتے ہیں؟ آپ کے خیال میں ان سے سورت کو تجارتی مرکز بننے میں کس طرح مدد ملی؟

لوگوں کی زندگی میں بازاروں کا کردار

(The Role of Markets in People's Lives)

جیسا کہ ہم نے پچھلے سیکشن میں دیکھا ،بازار لوگوں کی معاشی زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ صنعت کاروں اور صارفین کے درمیان لین دین کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے افراد،خاندانوں اور کاروباری اداروں کو ان اشیا اور خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے جن کی انھیں ضرورت ہو اور جنھیں وہ خود تیار نہیں کرسکتے ہیں۔

اس پر غور وفکرکریں

ہم نےبازار کی مختلف جہتوں پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ بازاروں کے بغیر زندگی کیسی ہوسکتی ہے؟ اگر کسان چاول، گیہوں، دال، سبزیاں اور پھل بازار میں نہیں لائیں گے تو کیا ہوگا؟ اگر سورت کے پارچہ ساز بازاروں سے کپاس جیسی خام اشیاخرید تے تو کیا صورت حال ہوتی؟

اس حصے میں، ہم بازاروں کےکردارکی کچھ دیگر جہتوں کی دریافت کریں گے۔

آکرتی ایک پیشہ ور آرٹسٹ ہے جو کینوس پرآئل پینٹنگ بناتی ہے۔ اس کی مصوری کو سراہا جاتا ہے، لیکن اسے خریدار ڈھونڈنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ وہ فکرمند ہے کہ اپنی پینٹنگ کہاں فروخت کرے ا ور کس قیمت پر۔ امرود کے برعکس، فن پاروں کے لیے مقامی سطح پر خریدار اور فروخت کنندہ کم ہوتے ہیں۔

کیا آپ ایسی دیگر مصنوعات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن کے لیے باضابطہ بازار نہیں ہوتا؟ یہ بات خریدنے یا فروخت کرنے کے خواہش مند افراد کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ وہ کون سے مختلف طریقےاس زمانے میں ہیں جن میں فن کار اپنے فن کے لیے خریدار تلاش کرسکتے ہوں؟

بازارمعاشرے کو کیسے فائدہ پہنچاتے ہیں

(How Markets benefit the Society)

آئیے معلوم کریں

صارفین کم بجلی استعمال کرنے والے ریفریجریٹرخریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب صارفین کی ایک بڑی تعداد کم بجلی استعمال کرنے والے ریفریجریٹروں کے بارے میں پوچھنا شروع کرتی ہے تو آپ کے خیال میں خریدوفروخت کے اس عمل میں کیا ہوتا ہے جوآپ نے شکل 12.11 میں دیکھا ہے؟

اس سےمصنوعات سازوں کو ایک اشارہ ملتا ہے کہ صارفین کس قسم کے سامان خریدنا چاہیں گے۔ چناں چہ وہ ایسے ریفریجریٹر تیار کرتے ہیں جن میں کم بجلی استعمال ہو۔ اس سے توانائی کی بچت کرنے والے ریفریجریٹروں کی پیداوار کے ذریعے معاشرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اگرچہ خرید و فروخت ایک معاشی سرگرمی ہے جس میں مالیاتی لین دین شامل ہے، لیکن بازاروں میں بات چیت اکثر صرف مصنوعات یا خدمات کے بارے میں استفسار یا فریقین کے مابین مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے۔

اکثر خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان ایک رشتہ بنتا ہے جو نسل در نسل بھی جاری رہتا ہے۔ کچھ خاندانوں کے کئی دہائیوں سے اپنے درزی، سنار اور طبیب کے ساتھ دیرپا قابل اعتماد رابطےہوتے ہیں۔ ہندوستان میں بہت سے کنبے مقامی کرانہ دکان کے پاس کھاتہ رکھتے ہیں جو مہینے کے آخر میں چکایا جاتا ہے۔

لہذا اگرچہ بازار کا بنیادی کردار معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں اس کی غیر معاشی اہمیت بھی ہے۔


منی پور کی میتئی زبان میں ایما کیتھل یا اماں کا بازار(Mother's Market)، امپھال میں ایک انوکھا بازار ہے۔ تقریباً 3000 عورتیں اس بازار کی تمام دکانوں کی مالک ہیں اور انھیں چلاتی ہیں۔ وہ سبزیاں، کپڑے بشمول روایتی منی پوری لباس، ہینڈ لوم اور دست کاری، مقامی پیداوار اور روزمرہ کی ضروری اشیا بیچتی ہیں جن کی شہر اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طرف منڈی روزگار فراہم کرتی ہے، ہزاروں خاندانوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اوردوسری طرف بازار مختلف ثقافتوں کا سنگم بھی ہے۔ مختلف برادریوں کے لوگ خیالات کا تبادلہ کرنے اور مشترکہ روایات سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی یک جا ہوتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-56-29 gues112.pdf

شکل12.26: امپھال کی ایما کیتھل بازار کا ایک منظر

اسے دیکھنا نہ بھولیں

آج بھی ایسی بہت سی روایات پر عمل کیا جاتا ہے جو محض خرید و فروخت سے بالاتر ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں ہلدی اور کمکم (سندور) بیچنے والے لوگ خریدار کو تہنیت اور نیک خواہشات کی علامت کے طور پر تھوڑی سی ہلدی اور کمکم مفت میں الگ سے دیتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-03 at 16-56-52 gues112.pdf

آئیے معلوم کریں

کیا آپ نے اپنی برادری یا محلے میں اس طرح کے کسی عمل کا مشاہدہ کیا ہے؟ اس روایت کو خاکے کے طور پر یا ایک مختصر پیراگراف میں بیان کیجیے۔

طلب (Demand):

کسی مخصوص وقت میں کسی مخصوص قیمت پر وہ مقدار / شے یا خدمت جو صارفین خریدنے کے لیے تیار اور قادر ہوں۔

رسد(Supply)

کسی مخصوص وقت میں کسی مخصوص قیمت پر وہ مقدار / شے یا خدمت جو فروخت کنندگان بیچنے کے لیے تیار اور قادر ہوں۔

بازار میں حکومت کا کر دار(Government's Role in the Market)

بازار خریداروں سے طلب (Demand) اور فروخت کنندگان کی طرف سے رسد (Supply) سے چلتا ہے،تاہم بعض حالات میں توزیادہ کارآمدنہیں ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
وہ صارفین اور مصنوعات سازوں کے مابین تعامل اور قیمت کے منصفانہ تعین کی نگرانی کرتی ہے۔

خریداروں اور فروخت کنندگان کے تحفظ کے لیے قیمتوں کا انضباط

(Controlling Prices for Protecting Buyers and Sellers)

حکومت بعض اشیا کی قیمتوں کو قابو میں رکھتی ہے۔ مثال کے طور پروہ زیادہ سے زیادہ قیمت (Meximum Price)مقرر کرتی ہے جو بیچنے والا لے سکتا ہے۔ بہت سی ضروری اشیا اور خدمات، جیسے زندگی بچانے والی دوائوں کے لیےقیمتوں پر بالائی حد مقرر کرتی ہے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ حکومت کم سےکم کی امدادی قیمت (Minimum Support Price)طے کرتی ہے جس پر گندم، دھان اور مکئی جیسی ضروری زرعی مصنوعات فروخت کی جاسکتی ہیں۔ اس سے یہ یقینی بنایاجاتا ہے کہ کسانوں کو نقصان نہ ہو۔ حکومت ملازمین کی محنت کی کم از کم اجرت (Minimum Wages) بھی مقرر کرتی ہے تاکہ آجرین (Employers) انھیں معقول اور مناسب اجرت اداکریں۔

البتہ حکومت کو اس طرح کی قیمتوں کی حد کو احتیاط سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر قیمت بہت کم ہو تو پیدا کاروں کومصنوعات سازی کی کوئی ترغیب نہیں ملے گی اور اگر قیمتیں بہت زیادہ ہوں تو صارفین کو نقصان ہوگا۔

آئیے معلوم کریں

  • پیاز ہندوستان کے زیادہ ترحصوں میں پکوانوں کا ایک اہم جزہے۔ کچھ موسموں میں بازار میں پیاز کی رسدکم ہو جاتی ہے۔ آپ کے خیال سے اس صورت حال میں پیاز کی قیمت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
  • اگر پیاز کے فراہم کار مطلوبہ مقدار مارکیٹ میں نہیں لائیں گے توکیا ہوگا؟ آپ کے خیال میں حکومت کو اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟

افادیت اور حفاظت کے معیار کی ضمانت

(Ensuring Quality and Safety Standards)

صارفین کی بہبود کو یقینی بنانے اور انھیں غیر منصفانہ طریقوں سے بچانے میں حکومت کا کردار بنیادی ہے۔ حکومت یہ یقینی بناتی ہے کہ مصنوعات سازاشیاکی پیداوار اور خدمات کی فراہمی کے دوران مطلوبہ افادیتی اور حفاظتی معیارات پر عمل کریں۔ مثال کے طور پر دوا ساز کمپنیاں بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کرتی ہیں۔ حکومت دوائوں کی منظوری کے طریقے طے کرتی ہے اور یہ طے کرنے کے لیے نمونوں کی جانچ کرتی ہے کہ تیار کردہ دوا معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔ یہ ضوابط دوائوں کے معیار اور حفاظت کو یقینی بناتے ہیں تاکہ صارفین کی صحت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

بازاروں کے بیرونی اثرات کو کم کرنا

(Mitigating the External Effects of Markets)

بازارپر بعض اوقات خرید و فروخت سے ہٹ کر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پرکچھ مخصوص مصنوعات کی تیاری میں بازاروں کو کارخانوں میں ایسی پیداوار کی ضرورت ہوتی ہے جو ماحول کو آلودہ کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں حکومت بازاروں کے اس طرح کے اثرات کو سمجھنے اور ان پر قابورکھنےمیں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کچھ مصنوعات ، جیسے ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کی تیاری ماحول کو آلودہ کرتی ہے اور صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت ان منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کرکے مداخلت کرتی ہے۔

اسی طرح حکومت ڈبہ بند مصنوعات کے وزن اور پیمائش کی نگرانی کا نظام بھی قائم کرتی ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ڈبے میں درج شدہ مقدار واقعی موجود ہے یا نہیں۔

اس پر غور وفکرکریں

صارفین کی حفاظت کرنے والے حکمرانوں کا مذکورہ عمل جدید ہندوستان کا رجحان نہیں ہے۔ کوٹلیہ کی کتاب ارتھ شاستر میں دیسی گھی کے تاجروں کے لیے ہدایات موجود ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خریداروں کو پیمائش ڈبے میں لگ جانے والےگھی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پچاسواں حصہ (1/50) الگ سے زیادہ مانسراؤکے طور پر دیا جائے گا۔

حکومتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے قوانین بناتی ہیں کہ بازار منصفانہ طور پر کام کرے اور صارفین کا استحصال نہ ہو۔ تاہم حد سے زیادہ ضوابط بازاروں کے لیے مناسب طریقے سے کام کرنا مشکل بنا سکتے ہیں۔

عوامی سہولیات

(Public Goods):

ایسی خدمات یا اشیا جو معاشرے کے تمام افراد کے لیے دستیاب اور قابل رسائی ہوں۔ ان کا موجودہ استعمال ان کی آئندہ دستیابی کو کم نہیں کرتا۔

عوامی سہولیات کی فراہمی (Providing Public Goods)

پیدا کارمنافع کمانے کے لیے سامان اور خدمات تیار اور فروخت کرتے ہیں۔ تاہم کچھ اشیا اور خدمات ایسی ہیں جن پر پیداکار منافع کمانے کی توقع نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر عوامی پارک، سڑکیں، پولیس خدمات، وغیرہ۔ اس کے علاوہ آپ نے پچھلے باب میں شہریوں کے حقوق کے بارے میں پڑھا ہے جو مخصوص فلاحی خدمات کی فراہمی کے بارے میں ہیں۔ اسی لیے حکومت عوامی مفاد کے لیے یہ چیزیں اور خدمات فراہم کرتی ہے۔

اس پر غور وفکرکریں

وہ کون سے دیگر شعبے ہیں جہاں آپ حکومت کو بازاروں میں مداخلت کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں؟

کیا ایسے شعبے ہیں جہاں سرکاری مداخلت کو کم کرنے کی ضرورت ہے؟ خاندان یا رشتےداروں کے ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کیجیے۔

صارفین مصنوعات اور خدمات کے معیار کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں؟

(How can consumers assess the quality of products and services?)

بازار صارفین کوطرح طرح کی اشیا اور خدمات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ صارفین کیسے فیصلہ کریں گے کہ وہ کیا خریدنا چاہیں گے؟

اس پر غور وفکرکریں

آپ کے محلے میں ہمسایہ گلی کی ٹیم کے ساتھ کنچے کھیلنے کا مقابلہ ہونے والا ہے۔ آپ مقابلہ کے لیے نئے کنچے خریدنا چاہتے ہیں۔ 150 روپے لے کر کنچے خریدنے کے لیے ایک دکان پر جاتے ہیں۔ میں آپ کون سی خصوصیات تلاش کریں گے تاکہ آپ مقابلہ جیت سکیں؟

Screenshot 2026-02-03 at 17-01-33 gues112.pdf

کیا آپ نے کی قیمت، سائز، مضبوطی اور پرکشش رنگوں کے بارے میں سوچا؟ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہر صارف کو ان مصنوعات کے معیار کا اندازہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں وہ خریدتاہے۔

مندرجہ ذیل سیکشن میں، ہم ایسے مختلف طریقوں کو دیکھیں گے جن میں یہ کام انجام دیا جاسکتا ہے۔

فرض کیجیے کہ آپ کے والدآپ سے قریبی کریانے کی دکان سے بیسن کے ایک کلو کا پیکٹ لینے کے لیے کہتے ہیں۔ دکان پر کئی طرح کے پیکٹ دست یاب ہیں جیسے کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔ ان کا بغور مشاہدہ کیجیے۔ آپ اس بات کا تعین کیسےکریں گے کہ بیسن کا معیار مطلوبہ معیارات پر پورا اترتا ہے؟

Screenshot 2026-02-05 at 09-55-51 gues112.pdf

کیا آپ نے پیکٹ پر ایف ایس ایس اے آئی (FSSAI) کااستنادی نشان (Logo) دیکھا؟

ایف ایس ایس اے آئی کا مطلب فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا ہے اور کھانے کے پیکٹوں اور ڈبوں پر اس کی علامت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ حکومت کے ذریعے اس کی جانچ کی گئی ہے اور یہ کھانے کے لیے محفوظ ہے۔

fssai-seeklogo

سرکاری ایجنسیاں ایسے سرٹیفکیٹ فراہم کرتی ہیں جو خریداروں کو مصنوعات کے معیار کا اندازہ کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ مصنوعات یا اس کے پیکیج پر ان کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مصنوعات کم ترین معیار کی تکمیل پورا کرتی ہے۔

Agmark(1)

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان لیبلوں کا کیا مطلب ہے:

bee_5_star-rating

ایف ایس ایس اے آئی کی طرح بیورو آف انڈیا اسٹینڈرڈ (BIS) کا جاری کردہ انڈین اسٹینڈرڈانسٹی ٹیوٹ (ISI) کا نشان بھی ہے۔ یہ علامت عام طور پر برقی آلات، تعمیراتی مواد، گاڑیوں کے ٹائر، کاغذ وغیرہ پر موجود ہوتی ہے۔ یہ نشان اسےیقینی بناتا ہے کہ سامان معیاری اور استعمال کرنے کے لیے محفوظ ہے۔

  • اسی طرح اے جی ایم اے آر کے(AGMARK)‘اے جی’سے مراد زراعت ہے۔ زرعی مصنوعات جیسے سبزیوں، پھلوں، اناج، دالوں، مسالوں، شہد وغیرہ کے لیے سند کا نشان ہے۔
  • الیکٹرانکس اشیا جیسے ٹی وی، لیپ ٹاپ، کنڈیشنر وغیرہ میں بی ای ای اسٹار (BEE STAR)درجہ بندی ہوتی ہے۔ بی ای ای کا مطلب بیورو آف انرجی ایفیشینسی(Bureau of Energy Efficiency) ہے۔ یہ درجہ بندی مصنوعات کےپیکیج پر ستاروں کی شکل میں طبع کی جاتی ہے۔ ستاروں کی زیادہ تعداد یہ ظاہرکرتی ہے کہ متعلقہ برقی آلے میں بجلی کم خرچ ہوتی ہے ۔یہ صارفین کے لیے اچھا ہےکیوں کہ بجلی کا بل کم ہوگا اور ماحول کے لیے بھی بہترہوگا۔

آئیے معلوم کریں

اپنے گھر میں موجود برقی آلات پر بی ای ای(BEE) اسٹار لیبل کی جانچ کیجیے اور توانائی کی کارکردگی کا بڑھتی ترتیب میں تمام آلات کا چارٹ بنائیے۔

دوسری طرف مصنوعات کی شہرت لوگوں کی خریداری کے فیصلے پر اثراندازہوتی ہے۔ یہ شہرت اکثر زبانی تشہیر (word of mouth)سے قائم ہوتی ہے۔ کیا آپ کے خاندان کے افراد نے کوئی چیز صرف اس لیے خریدی ہے کہ ان کے دوستوں یا رشتہ داروں نے انھیں وہ تجویز کی تھی؟

مصنوعات اور خدمات کے بارے میں دوسرے صارفین سے آن لائن جائزے اورجوابی تاثرات (Reviews & Feedback)ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہیں کہ آن لائن خریداری کرتے وقت اس چیز کو خریدنا چاہیے یا نہیں۔

Screenshot 2026-02-05 at 09-59-24 gues112.pdf

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

بازار خریداروں اور فروخت کنندگان کے مابین باہمی طور پر متفقہ قیمت پر تبادلے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جو خریداروں کی طلب اور فروخت کنندگان کی طرف سے رسد کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔

بازاروں میں صنعت کار، تھوک فروش، تقسیم کار اور خوردہ فروشوں جیسے شرکا کی ایک زنجیر ہوتی ہے جو حتمی صارفین تک سامان کی فراہمی میں مدد کرتی ہے۔

بازار باہمی میل جول کی جگہیں بھی ہیں کیوں کہ وہ لوگوں کو یکجا کرتے اور خیالات اور روایات کے تبادلے کو ممکن بناتے ہیں۔

حکومت بازاروں میں مصنوعات اور خدمات کے معیار اور بازار میں منصفانہ طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ضابطہ بندی (Regulation) کا کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم صارفین سرکاری ایجنسیوں سے مصنوعات پر استنادی نشان اور آن لائن جائزوں کے ذریعے مصنوعات اور خدمات کے معیار کا اندازہ بھی کرسکتے ہیں۔


سوالات اور سرگرمیاں

1. بازار کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟ مصنوعات خریدنے کے لیے بازار کے حالیہ دورے کو یادکیجیے۔ بازار کی وہ مختلف خصوصیات کیا ہیں جو آپ نے اس سفر کے دوران دیکھیں؟

2. کیا آپ کو اس باب کے آغاز میں دیا گیا ایک مشہور ماہر معاشیات کا مقولہ یاد ہے؟ اس باب کے سیاق و سباق میں اس کی معنویت پر تبادلۂ خیال کیجیے۔

3. امرود کی خرید و فروخت کی مثال میں تصورکیجیے کہ بیچنے والے کو اچھی قیمت مل رہی ہے اور اسے منافع ہو رہا ہے۔ وہ کسانوں سے زیادہ سے زیادہ امرود حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ انھیں اسی قیمت پر فروخت کر سکے اور اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکے۔ اس طرح کی صورت حال میں کسان سے کس اقدام کی توقع ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اگلے موسم میں امرود کی مانگ کے بارے میں سوچنا شروع کر دے گا؟ اس کا جواب کیا ہوسکتا ہے؟

4. درج ذیل اقسام کے بازاروں کو ان کی خصوصیات کے ساتھ ملائیے:

معیار

طبیعی

نمبر شمار

اشیا اور خدمات جو ملک کی سرحدوں سے باہر بھیجی جاتی ہیں۔

طبیعی بازار

1

بہت زیادہ مقدار میں خریدو فروخت ہوتی ہے۔

آن لائن بازار

2

اشیا اور خدمات کو حتمی صارف تک پہنچاتاہے۔

گھریلو بازار

3

خریدار اور فروخت کنندہ کو طبیعی طور پر حاضر رہنا ضروری ہے۔

بین الاقوامی بازار

4

خریدار اور فروخت کنندگان ورچوئل وسیلے سے ملتے ہیں اور کسی بھی وقت لین دین کر سکتے ہیں۔

تھوک بازار

5

ملک کی سرحدوں کے اندر رہتا ہے۔

خوردہ بازار

6

5. قیمتوں کا تعین عام طور پر خریداروں کی طلب اور بیچنے والے کی فراہمی کے درمیان تعامل سے ہوتا ہے۔ کیا آپ ایسی مصنوعات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں خریداروں کی تعداد کم ہونے کے باوجود قیمتیں زیادہ ہوں؟ اس کے کیااسباب ہوسکتے ہیں؟

6. سبزیوں کے خوردہ فروش کی حقیقی زندگی کی صورت حال پر نظر ڈالیں: ایک خاندان سبزیوں کی خریداری کے لیے آیا۔ ٹھیلے پر بیچنے والا جو پھلیاں بیچ رہا ہے ، اس نے اس کی قیمت 30 روپے فی کلو بتائی ہے۔ خاتون نے فروخت کنندہ کے ساتھ سودے بازی شروع کردی تاکہ قیمت کو 25روپے فی کلو تک لایا جاسکے۔ بیچنے والے نے احتجاج کیا اور یہ کہتے ہوئے اس قیمت پر فروخت کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے اس قیمت پر نقصان ہوگا۔ خاتون چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ خاندان قریب کے ایک سپر بازار میں جاتا ہے۔ وہ سپر بازار میں سبزیاں خریدتاہے، جہاں وہ پلاسٹک کے تھیلے میں اچھی طرح پیک کی گئی پھلیوں کے لیے 40 روپے فی کلو گرام ادا کرتا ہے۔ خاندان کے ایسا کرنے کےکیااسباب ہیں؟ کیا
براہِ راست قیمت سے تعلق نہ رکھنے والے ایسے عوامل ہیں جوخریدوفروخت کومتاثر کرتے ہیں
؟

7. ہندوستان میں بعض اضلاع ایسے ہیں جو ٹماٹر کی پیداوارکے لیے مشہور ہیں۔ حالاں کہ کچھ موسموں کے دوران کسانوں کے لیے حالات اچھے نہیں ہوتے۔ اچھی فصل کے ساتھ ایسی اطلاعات ملتی ہیں کہ کسان اپنی پیداوار کو پھینک دیتے ہیں اور ان کی ساری محنت برباد ہو جاتی ہے۔ آپ کے خیال میں کسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ایسے حالات میں تھوک فروش کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ اس بات کو یقینی بنانے کے ممکنہ طریقے کیا ہیں کہ ٹماٹر ضائع نہ ہوں اور کسان بھی نقصان میں نہ رہیں؟

8. کیا آپ نے اپنے اسکول یا کسی دوسرے اسکول میں منعقد ہونے والے اسکول کارنیوال / اسکول کا جشن کے بارے میں سنا ہےیا اسے دیکھا ہے؟ اپنے دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے کہ وہاں طلبہ کی منعقد سرگرمیاں کس طرح کی تھیں؟ وہ کس طرح خریداروں کے ساتھ خرید و فروخت کرتے ہیں اور مول تول کیسے کرتے ہیں؟

9. کن ہی 5 مصنوعات کا انتخاب کیجیے اور باب میں زیر بحث استنادی نشانات والے لیبل کی جانچ کیجیے۔ کیا آپ کو ایسی مصنوعات ملیں جن میں استنادی نشان نہیں تھا؟ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟

10. آپ اور آپ کے ہم جماعتوں نے ایک صابن کی ٹکیہ بنائی ہے۔ اس کی ڈبہ بندی(Packaging) کے لیے ایک لیبل وضع کیجیے۔ آپ کی رائے مصنوعات کو بہتر طور پر جاننے کے لیے صارفین کی مدد کے لیے لیبل کون سے اندراجات ضروری ہیں؟