Skip to content
Qr








2

حسابی عبارات
(Arithmetic Expressions)



2.1 آسان عبارات

آپ نے اس طرح کے ریاضیاتی فقرے دیکھے ہوں گےجیسے کہ 13+2، 4 20، 5×12 ا ور 3÷18ایسے فقروں کو حسابی عبارات کہا جاتا ہے۔

ہر حسابی عبارت کی ایک قدرہوتی ہے جو کہ ایک عدد کے ذریعے دکھائی جاتی ہے۔مثال کے طور پر عبارت 2 + 13 کی قدر15ہے۔ اس عبارت کو 13جمع 2 یا 13اور2 کا جمع پڑھا جا سکتا ہے۔

ہم حسابی عبارت اور اس کی قدرکےبیچ کے رشتے کو دکھانے کے لیے‘=’ کے نشان کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر:

13+2=15

مثال1: ملّیکا اسکول میں دوپہر کے کھانے کے لیے 25 روپے روزانہ خرچ کرتی ہے ۔کل رقم جو وہ پورے ہفتے سوموار سے جمعہ تک خرچ کرتی ہے اس کے لیے ایک حسابی عبارت لکھیے۔

کل رقم کی حسابی عبارت ہوگی:25×5

25×5 کا مطلب ہے‘‘ 25کا 5گنا ’’یا ‘‘ 5 اور 25 کا حاصل ضرب۔’’

مختلف عبارات کی قدرایک جیسی ہو سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک عدد ہے 12۔ اس عدد کو کن ہی دو اعداد اور چارو ں حسابی عمل +،، × اور ÷ میں سےکسی ایک کا استعمال کر کے کئی طرح سے ظاہر کیا جا سکتا ہے جیسے:

10 + 2, 15 – 3, 3 × 4, 24 ÷ 2

یہ چاروں عبارات عدد 2 1کو ظاہر کرتی ہیں ، لیکن مختلف طریقے سے۔

اپنا ایک پسندیدہ عدد منتخب کیجیے اور اس کی قدرکو دکھانے کے لیے مختلف ممکن حسابی عبارات لکھیے۔

عبارات کا موازنہ

جس طرح ہم اعداد کا موازنہ کرنے کے لیے‘‘=’’، ‘‘<’’اور‘‘>’’کی علامتوں کا استعمال کرتے ہیں ، اسی طرح ہم عبارات کا بھی موازنہ کر سکتے ہیں۔ہم عبارتوں کا موازنہ ان کی قدرکی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس کے مطابق ‘‘برابر’’، ‘‘اس سے بڑا’’یا ‘‘اس سے چھوٹا’’کی علامتوں کا منا سب استعمال کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر

10 + 2 > 7 + 1

کیوں کہ 12 = 2 10+ کی قدر8=7+1کی قدر سے زیادہ ہے۔

اسی طریقے سے

13 – 2 < 4 × 3.

معلوم کیجیے

1. ‘=’کے نشان کےدونوں جانب عبارات کو برابر کرنے کےلیے خالی جگہوں کو پُرکیجیے:

(a) 13 + 4 = ____ + 6 (b) 22 + ____ = 6 × 5

(c) 8 × ____ = 64 ÷ 2 (d) 34 – ____ = 25

2. مندر جہ ذیل عبار ات کو صعودی ترتیب (بڑھتی ہوئی قدر )میں رکھیے ۔

(a) 67 – 19 (b) 67 – 20

(c) 35 + 25 (d) 5 × 11

(e) 120 ÷ 3

مثال 2:کون بڑا ہے؟1023 + 125 یا 1022+128؟

Screenshot 2025-12-02 at 17-19-17 gugp102.pdf

ایک ایسی صورت حال کا تصور کیجیے جو قدروں کو تلاش کیے بغیر اس کا جواب دینے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ راجا کےپاس 1023 کنچےتھےاورآج اسے125کنچےاورمل گئے ۔ اب اس کے پاس 1023+125 کنچے ہیں۔ جوائے کے پاس 1022کنچے تھے اور آج اسے 128کنچے اور مل گئے ۔ اب اس کے پاس 1022 + 128کنچے ہیں ۔ کس کے پاس زیادہ کنچے ہیں؟

اس صورت حال کو بائیں جانب دی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ شروع میں راجا کے پاس جوائے سے ایک کنچا زیادہ تھا لیکن آج جوائے کو راجا سے 3 کنچے زیادہ ملے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اب جوائے کے پاس راجا سے 2 کنچے زیادہ ہیں۔ وہ ایسے

1023 + 125 < 1022 + 128

مثال 3:کون بڑا ہے؟ 113 – 25یا 112 – 24؟

ایک ایسی صورت حال کا تصوّر کیجیے جس میں راجا کے پاس 113 کنچے تھے اور اس نے ان میں سے 25 کھو دیے ۔ اب اس کے پاس 113 – 25 کنچے ہیں۔ جوائے کے پاس 112 کنچے تھے اور آج اس نے 24 کنچےکھو دیے ۔ اب اس کے پاس 112 – 24 کنچے ہیں بتائیے اب کس کے پاس زیادہ کنچے بچے؟

راجا کے پاس جوائے سے ایک کنچا زیادہ تھا لیکن اس نے جوائے سے ایک کنچا زیادہ کھو دیا۔ اس لیے اب ان دونوں کے پاس کنچوں کی تعداد برابر ہے ۔

113 – 25 = 112 – 24

مندرجہ ذیل عبارات کا موازنہ کرنے کے لیے ہر ایک میں ‘>’،‘<’ یا‘=’علامتوں کا استعمال کیجیے ۔ کیا آپ اس کو پیچیدہ حساب کے بغیر کر سکتے ہیں؟ ہر معاملے میں اپنی سوچ کی وضاحت کیجیے ۔

(a) 245 + 289 246 + 285

(b) 273 – 145 272 – 144

(c) 364 + 587 363 + 589

(d) 124 + 245 129 + 245

(e) 213 – 77 214 – 76

2.2 پیچیدہ حسابی عبارتوں کوپڑھنااوران کی قدر معلوم کرنا

کبھی کبھی جب کسی عبارت کے ساتھ کوئی سیاق و سباق موجود نہ ہو تو اس کی قدر معلوم کرنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں ہمیں کچھ آلات اور اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جس سے یہ واضح کیا جا سکے کہ اس عبارت کی قدر کیسے نکالی جا ئے۔

مندرجہ ذیل جملوں میں زبان سے ایک مثال پیش کی جا ر ہی ہے دیکھیے:

(a) جملہ:شالینی کھلونوں کے ساتھ ایک سہیلی کے پاس بیٹھی ہے۔

مطلب :سہیلی کے پاس کھلونے ہیں اور شالینی اس کے پاس بیٹھی ہے۔

(b) جملہ:شالینی کھلونوں کے ساتھ ،ایک سہیلی کے پاس بیٹھی ہے۔ “

مطلب: شا لینی کے پاس کھلونے ہیں اور وہ انھیں لے کر اپنی سہیلی کے پاس بیٹھی ہے ۔

بغیر رموزِاوقاف کے اس جملے کی دو مختلف طریقوں سے تشریح کی جا سکتی ہے ۔ علامت ِسکتہ (،)کا مناسب استعمال بتاتا ہے کہ جملے کو کس طرح سمجھنا ہے۔

اب ہم ریاضی کی ایسی عبارتوں کو دیکھتے ہیں جس کی قدر کا اندازہ ایک سے زیادہ طریقوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔

مثال 4: ملّیش (Mallesh) کھیل کے میدان میں 30 کنچے لے کر آیا ۔ار ون کنچوں کی 5 تھیلیاں لےکر آیا ہر ایک تھیلی میں 4 کنچے تھے ۔ ملّیش اور ار ون دونوں کتنےکنچےلے کر کھیل کے میدان میں آئے ؟

ملّیش نے حسابی عبارت کے ذریعے اس کو مختصر طور پر یوں لکھا —

30 + 5 × 4

اس عبارت کا پس منظر جانے بغیرپورنا نے اس عبارت کی قدر140 نکالی، اس نےپہلے5 اور 30کو جمع کرکے 35 حاصل کیا پھر 35کو 4 سے ضرب دے کر 140 حاصل کیا۔

لیکن ملیش نے اس عبارت کی قدر50 نکالی۔ اس نے پہلے 5کو 4 سے ضرب دے کر 20 حاصل کیا اور پھر 20 کو 30 میں جمع کر کے 50 حاصل کیا۔

اس معاملے میں، ملیش صحیح ہے لیکن پورنا سے غلطی کیوں ہوئی ؟

صرف عبارت 30 + 5 × 4کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمیں پہلے جمع کرنا چاہیے یا ضرب۔

جس طرح زبان میں الجھن کو دور کرنے کے لیے اوقاف کے نشانات استعمال کیےجاتے ہیں، اسی طرح ریاضی میں قوسین اور ارکان کے تصورات کا استعمال عبارتوں کی قدر کی الجھن دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

قوسین والی عبارات

عبارت — 30 + 5 × 4 میں کنچے کی تعداد معلوم کرنے کے لیے ہمیں پہلے 5 کو 4 سے ضرب دینا ہوگا اور پھر اس حاصلِ ضرب کو 30 کے ساتھ جمع کرنا ہوگا ۔عمل کی اس ترتیب کو قوسین کے استعمال کے ذریعے اس طرح واضح کیا جاتا ہے:

30 + (5 × 4)

جب ہم کسی قوسین والی عبارت کا جائزہ لیتے ہیں توسب سے پہلے قوسین کے اندر والی عبارت کی قدرمعلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر دوسرے بچے ہوئے حسابی عمل کو انجام دینا ہوتا ہے۔ اس لیے ، اوپر والی عبارت میں سب سے پہلے ہم 5 × 4 کی قدرمعلوم کرتے ہیں ۔اس کے بعد اس میں30کوجمع کرتے ہیں۔ اس طرح یہ عبارت کنچوں کی تعداد کو بیان کرتی ہے :

30 + (5 × 4 ) = 30 + 20 = 50

مثال 5: عرفان نے 15 میں بسکٹ کا ایک پیکٹ اور 56 میں توردال کاپیکٹ خریدا۔ اس نے دکا ن دار کو 100 دیے۔ایک ریاضی عبارت لکھیے جو عرفان کو دکان دار سے واپس ملنے والی رقم کا حساب لگانے میں ہماری مدد کر سکے۔

عرفان نے 15 بسکٹ کے پیکٹ پر خرچ کیے اور 56 توردال پر۔ اس لیے کل رقم روپیہ میں 15 + 56 ہوگی ۔ اس نے دکان دار کو 100 دیے تو اسے 100میں سے خرچ کی گئی کل رقم گھٹا کر واپس ملنی چاہیے ۔ کیا ہم اس عبارت کو اس طرح سے لکھ سکتے ہیں—

100 – 15 + 56 ?

کیا ہم پہلے 100 میں سے 15گھٹائیں اور پھرجونتیجہ آئےاس میں 56 جوڑدیں؟ تو اس طرح کرنے سے ہمیں 141 حاصل ہو گا ۔ یہ با لکل غلط ہوگا کہ عرفان دکان دار کو دی گئی رقم سے زیادہ رقم حاصل کرلے!

اس معاملے میں ہم قوسین کا استعمال کر سکتے ہیں :

100 – (15 + 56)

سب سے پہلے ہم قوسین کے اندر والی عبارت کو حل کریں گے ،توہمیں 10071 ملے گا۔ اب اس سے ہمیں 29 حاصل ہوگا ۔ اس لیے، عرفان کو 29 واپس ملیں گے۔

عبارات میں ارکان

فرض کیجیے کہ ہمارے پاس ایک ایسی عبارت ہے جس میں کوئی قوسین نہیں ہے جیسے 30 + 5 × 4۔کیا اس کا کوئی مطلب نہیں نکلتا ہے؟

جب ہمارے پاس متعدد عمل والی عبارتیں ہوں اور ان پر عمل کرنے کی ترتیب قوسین کے ذریعے واضح نہ کی گئی ہو تو ہم عملوں کی ترتیب معلوم کرنے کے لیے ارکان کے اصول کو اپناتے ہیں۔

ارکان عبارت کے وہ حصے ہوتے ہیں جو علامت ‘+’سے جدا کیے گئے ہوں ۔مثال کے طور پر ، 12+7میں 12اور 7دو ارکان ہیں جن کی نشان دہی نیچے کی گئی ہے ۔

ہم اوپر کی طرح عبارت کے ہر رکن کو نشان زد کرتے رہیں گے۔ یاد رکھیے کہ ارکان کو نشان زد کرنے کا یہ طریقہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن یہ اس وقت تک کیا جائے گا جب تک آپ اس تصور سے مانوس نہیں ہو جاتے۔

اب 83 – 14 میں کون سےا رکان ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ کسی عدد کی تفریق کرنا اسی عدد کے جمع معکوس کو جوڑنے کے برابر ہے۔یاد کیجیےکہ دیے ہوئے عدد کا معکوس اسی عدد کے ساتھ مخالف علامت (نشان) لگا کر حاصل
کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر،14 کا جمع معکوس 14 ہے اور 14 کا جمع معکوس 14 ہے ۔ اس طرح سے83 میں سے 14کی تفریق با لکل ویسا ہی ہے جیسے کہ 83 میں 14 کوجمع کرنا۔

اس طرح سے ، عبارت 1483 کے ارکان 83 اور 14ہیں۔

جانچ کیجیے کہ اگر ہم تفریق کو جمع سے تبدیل کر تے ہیں توکیا عبارت کی قدر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی؟ مختلف مثالیں لے کر دیکھیے ۔

کیا آپ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایک عدد کی تفریق کرنا بالکل اس کے معکوس عدد کو جوڑنے کے برابر کیوں ہے۔ جیسا کہ ہم نے درجہ 6کی ریاضی کی کتاب میں ٹوکن ماڈل میں پڑھا تھا؟

عبارت میں موجود تمام تفریق اسی طرح جمع میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں تاکہ ارکان کو پہچانا جا سکے ۔

یہاں کچھ اورمثالیں پیش کی گئی ہیں جن میں ارکان دکھائے گئے ہیں:

نوٹ کیجیے کہ 4 × 6 روا 6 × 5واحد رکن ہیں کیوں کہ ان میں +کی علامت نہیں ہے ۔مندرجہ ذیل جدول میں کچھ عبارات دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جدول کو مکمل کیجیے۔

ارکان

رکنوں کے حاصل جمع کے طور پر عبارات

عبارات

13, – 2, 6

13 – 2 + 6

Screenshot 2025-12-03 at 09-12-47 gugp102.pdf

5 + 6 × 3

4 + 15 – 9

23 – 2 × 4 + 16

28 + 19 – 8

اب ہم دیکھیں گے کہ کس طرح سے ارکان کا استعمال کرتے ہوئے کسی عبارت کی قدر معلوم کرنے کے لیے ریاضیاتی اعمال کی ترتیب متعین کی جاتی ہے ۔

ہم ایسی عبارت سے شروع کریں گے جن میں صرف جمع ( اور تمام تفریق کو مناسب طریقے سے جمع میں بدلنے کے ساتھ) ہوں۔

کیا ارکان کو جمع کرنے کی ترتیب کوتبدیل کرنے سے عبارت کی قدرمیں فرق آتا ہے؟

تبادلہ اور گروپ بندی

آئیے ہم ایک ایسی آسان عبارت منتخب کرتے ہیں جس میں صرف دو ارکان ہوں۔

مثال 6 : مدھو اپنی چھت سے ایک ڈرون اڑا رہی ہے۔ ڈرون پہلے 6 میٹر اوپر جاتا ہے اور پھر 4 میٹر نیچے آ جاتا ہے۔ ایک ایسی عبارت لکھیے جو یہ دکھائے کہ آخر میں ڈرون چھت سے کتنی اونچائی پر ہے۔

ڈرون 6 – 4 = 2 میٹر چھت سے اوپر ہے ۔اس کو ارکان کی جمع کے طور پر لکھا جا سکتا ہے:

Screenshot 2025-12-02 at 17-20-13 gugp102.pdf

کیا ارکان کا آپسی تبادلہ کرنے سے جواب بدل جائے گا ؟

Screenshot 2025-12-02 at 17-20-19 gugp102.pdf

اس صورت حال میں تو یہ جواب نہیں بدلا۔

ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ جب دوارکان مثبت اعداد ہوں تو ارکان کا تبادلہ کرنے سے جواب نہیں بدلتا ۔

کیا یہ اصول تب بھی درست رہے گا جب ارکان میں منفی عدد بھی شامل ہوں ؟ کچھ مزید عبارتیں لے کر جانچ کیجیےاور تصدیق کیجیے ۔

کیا آپ ٹوکن ماڈل کے ذریعے اس کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ( جیسا کہ ہم نے گریڈ6 کی ریاضی کی درسی کتاب میں سیکھا تھا ؟)

چنانچہ ، جب کسی عبارت میں دو ارکان ہوں، تو ان کی جگہ بدلنے سے قدر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Screenshot 2025-12-02 at 17-21-04 gugp102.pdf

اب کوئی ایسی عبارت دیکھتے ہیں جس میں تین ارکان ہیں : (7) + 10 + ( 11) اب ہم ان ارکان کو مندرجہ ذیل دو مختلف ترتیبوں میں جمع کر کے دیکھتے ہیں:

Screenshot 2025-12-02 at 17-21-24 gugp102.pdf

(پہلے دو ارکان کو جمع کرنے کے بعد ان کے حاصل جمع کو تیسرے رکن کے ساتھ جمع کرتے ہیں)

Screenshot 2025-12-02 at 17-21-46 gugp102.pdf

(آخری دو ارکان کو جوڑکر ان کے حاصل جمع کو پہلے رکن کے ساتھ جمع کرتے ہیں)

اب آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں ؟ دونوں صورتوں میں حاصل جمع ایک ہی ہے۔

ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ جب ہم مثبت اعداد کو مندرجہ بالا دو طریقوں میں سے کسی ایک میں گروپ بندی کرکے جمع کرتے ہیں تو یکساں جواب حاصل ہوتا ہے۔

کیا یہ اصول اس وقت بھی برقرار رہے گا جب کچھ ارکان میں منفی عدد بھی ہوں ؟ مزید عبارات لے کر اس کی جانچ کیجیے۔

کیا آپ صحیح اعداد کے ٹوکن ماڈل کے ذریعے اس کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟جیسا کہ ہم نے گریڈ6کی ریاضی کی درسی کتاب میں پڑھا تھا۔

اس طرح ، عبارات کے ارکان کی گروپ بندی مندرجہ ذیل کسی ایک طریقے کو استعمال کر کے کی جاتی ہے تو ایک ہی قدرحاصل ہوتی ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 17-22-01 gugp102.pdf

آئیے اب ہم پھر سے عبارت (7)+10 + (11)پر غور کرتے ہیں۔ کیا ہوتا ہے جب ہم ترتیب میں تبدیلی کرتے ہیں اورپہلے 7 اور 11 کی جمع کرتے ہیں ، اس کے بعد حاصل جمع کو 10 کے ساتھ جمع کر دیتے ہیں ؟ کیا اب بھی ہمیں وہی حاصل جمع ملے گا جو کہ پہلے ملا تھا؟

ہم دیکھتے ہیں کہ عبارت (7) + (10) + (11)کے ارکان کو کسی بھی ترتیب میں جمع کرتے ہیں تو8 ہی حاصل ہوتا ہے۔

کیا کسی عبارت کے ار کان کو کسی بھی ترتیب میں جوڑنے پر یکساں حاصل جمع ملے گا؟ مزید عبارات لیجیے اور جانچ کیجیے۔تین سے زیادہ ارکان والی عبارتوں کا بھی جائزہ لیجیے۔

کیا آپ صحیح اعداد کے ٹوکن ماڈل کے ذریعے اس کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے جیسا کہ ہم نے گریڈ6 کی ریاضی کی درسی کتاب میں پڑھا تھا ؟

چنانچہ ارکان کو کسی بھی ترتیب میں جوڑنے پر وہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔

لہذا اگر کسی عبارت میں صرف جمع ہو تو ارکان کس ترتیب میں جوڑے جا رہے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا :سب کا حاصل جمع ایک ہی رہے گا ۔

اب آئیے ہم ایسی عبارات پر غور کرتے ہیں جن میں قوسین کے ذریعے بتائی گئی کارروائیوں کی ترتیب کے بغیر ضرب اور تقسیم شامل ہوتی ہے ۔ ایسی عبارت کی قدر معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے ہر رکن کی قدر معلوم کی جاتی ہے ۔ سبھی ارکان کی قدر معلوم کرنے کے بعد ان کو جمع کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر عبارت 30 + 5 × 4کو مندرجہ ذیل طریقے سے حل کیا جاتا ہے :

Screenshot 2025-12-02 at 17-22-32 gugp102.pdf

عبارت 5 × (3 + 2) + 7×8 + 3 کی قدر مندرجہ ذیل طریقے سے معلوم کی گئی ہے:

Screenshot 2025-12-02 at 17-22-39 gugp102.pdf

یہاں پر پہلے (3+2)کی قدر معلوم کی گئی ہے اور حاصل جمع کو 5 سے ضرب کر کے (25) حاصل کیا گیا۔

عبارت 7×8کی قدر(56)ہے۔ اس کا حل 25 + 56 + 3 =84ہے۔

منسا اعداد کی ایک لمبی فہرست جمع کرتی ہے ۔ ان سب کی جمع کرنے میں وہ 5منٹ لیتی ہے اور 11749 جواب حاصل کرتی ہے ۔اس کے بعد اس کو احساس ہواکہ وہ چوتھے عدد 9055کو شامل کرنا بھول گئی ۔کیا اسے صحیح حاصل جمع معلوم کرنے کے لیے دوبارہ شروع کرنا ہو گا؟

ریاضی میں ہم“ارکان کو آپس میں بدلنے سے حاصل جمع نہیں بدلتا” کہنے کے بجائے ’جمع کی تقلیبی خاصیت (Commutative Property of Addition)کا جملہ استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح اعداد کو گروپ (قوسین ) میں رکھنے سے بھی حاصل جمع نہیں بدلتا۔“اسے‘جمع کی تلازمی خاصیت(Association Property of Addition)‘کہا جا تا ہے۔

روز مرہ کی زندگی میں اشیا کا تبادلہ کرنا

منسا کھیلنے کے لیےباہر جا رہی ہے اس کی امی کہتی ہیں ‘‘اپنی ٹوپی اور جوتے پہنو!’’اسے ان میں سے پہلے کیا پہننا چاہیے ؟ وہ پہلے اپنی ٹوپی اور اس کے بعد جوتے پہن سکتی ہے۔یا وہ پہلے اپنے جوتے اور اس کے بعد اپنی ٹوپی پہن سکتی ہے۔

منسا دونوں صورتوں میں بالکل یکساں دکھائی دے گی ۔ مختلف صور ت حال کا تصوّر کیجیے: منسا کی امی کہتی ہیں کہ‘‘ اپنے موزے اور جوتے پہنو!’’اب ترتیب اہمیت رکھتی ہے۔ اسے پہلے موزے اور اس کے بعد جوتے پہننے چا ہیے ۔ اگر وہ پہلے جوتے اور بعد میں موزے پہنتی ہے، تو منسا بہت بے آرامی محسوس کرے گی اور بہت مختلف نظر آئے گی۔

مزید عبارات اور ان کے ارکان

مثال 7: امو ،چرن ، مدھو اور جان ایک ہوٹل میں گئے اور انھوں نے چار ڈوسوں کا آرڈر دیا۔ہر ڈوسے کی قیمت23 اور ساتھ ہی وہ شکریہ کے طور پر ویٹر کو 5 انعام دینا چاہتے ہیں۔ کل لاگت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک عبارت لکھیے ۔

چار ڈوسوں کی قیمت 4×23 =

کیا ٹپ کے ساتھ کل رقم 4 × 23 + 5لکھی جا سکتی ہے ؟ اس کو حل کرنے پر ہمیں ملتا ہے—

Screenshot 2025-12-02 at 17-23-21 gugp102.pdf

اس طرح 4 × 23 + 5اس عبارت کے لکھنے کا صحیح طریقہ ہے ۔

اگر دوستوں کی کل تعداد 7 ہو جاتی ہے اورانعامی رقم وہی رہتی ہے ، اب انھیں کتنی رقم ادا کرنی پڑے گی ؟ اس صورت حال کے لیے ایک عبارت لکھیے اور اس کے ارکان کی پہچان کیجیے ۔

مثال 8: ایک جماعت میں بچے کھیل رہے ہیں ‘‘پہاڑ پر آگ لگی ہے ، بھاگو ،بھاگو ،بھاگو! ’’جب بھی استادکوئی عدد پکارتا ہے تو طلبا کو اسی عدد کے گروپ میں خود کو ترتیب دیناہوتا ہے ۔جو بھی پکارے گئے گروپ کا حصہ نہیں بنتا،وہ کھیل سے باہر ہو جاتاہے ۔

Screenshot 2025-12-02 at 17-23-45 gugp102.pdf

روبی آرام کرنا چاہتی تھی اس لیے ایک طرف بیٹھ کر ان کا کھیل دیکھنے لگی۔ دوسرے 33 طلباجماعت میں کھیل کھیل رہے تھے۔

استاد نے‘‘5’’ پکارا۔ جیسے ہی بچوں نے اپنی اپنی جگہ لے لی تو روبی نے لکھا

6 × 5 + 3

(اس نے 6 × 5سے 3 زیادہ سمجھا)

سوچیے اور تبادلۂ خیال کیجیے کہ اس نے یہ کیوں لکھا ؟

عبارت ارکان کی جمع کی شکل میں اس طرح سے لکھی جاتی ہے—

Screenshot 2025-12-02 at 17-24-08 gugp102.pdf

نیچے دی گئی ہر صورت کے لیے ایک حسابی عبارت لکھیے اور ارکان کو پہچانیے :

اگر استاد نے ‘‘4’’ پکارا ہوتا تو روبی لکھتی ____________

اگر استاد نے ‘‘7’’ پکارا تو روبی لکھتی ____________

اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی تعداد کے لیے اوپر کی طرح عبارت لکھیے۔

مثال 9 : رگھو نے تھوک بازار سے 100کلو گرام چاول خریدا اور ان کو 2کلو گرام کے تھیلوں میں بھر دیا ۔اس کے پاس پہلے سے 2کلو کے 4 تھیلے تھے۔ اب اس کے پاس 2 کلوگرام والے چاول کے کتنے تھیلے ہیں؟اس تعداد کے لیے ایک عبارت لکھیے اور ارکان کی پہچان کیجیے۔

اس کے پاس 4تھیلے تھے ۔چاول کے 2 کلو کے نئے تھیلوں کی تعداد 100÷2 ہے،جسے ہم کی شکل میں بھی لکھتے ہیں ۔

اب اس کے پاس 2 کلو کے تھیلوں کی تعداد 4+ ہے ۔اس عبارت کے ارکان ہیں—

Screenshot 2025-12-02 at 17-24-32 gugp102.pdf

مثال 10: کنّن کو ایک دکان دار کو 432 ادا کرنے ہیں۔ 1اور 5کے سکے اور 10 ، 20 ، 50 اور 100 کے نوٹ کا استعمال کرتے ہوئے وہ یہ ادائیگی کس طرح سے کر سکتا ہے؟

اس کے لیے ایک سے زیادہ امکانات ہیں۔ مثال کے طور پر:

432 = 4 × 100 + 1 × 20 + 1 × 10 + 2 × 1

مطلب : 100 کے 4 نوٹ ، 20 کا1 نوٹ، 10 کا 1 نوٹ اور 1 کے 2 سکّے

432 = 8 × 50 + 1 × 10 + 4 × 5 + 2 × 1

مطلب: 50 کے 8 نوٹ، 10 کا 1 نوٹ، 5 کے4 سکّے اور 1 کے 2 سکّے

مندرجہ بالا دونوں عبارتوں میں ارکان کی پہچان کیجیے ۔

کیا آپ کسی کو 432 ادا کرنے کے لیے مزید طریقے سوچ سکتے ہیں ؟

مثال11 : یہا ں دو تصویریں دی گئی ہیں۔ ان میں سے کون سی دو ترتیب عبارت 5 × 2 + 3 سے میل کھاتی ہے ؟

Screenshot 2025-12-02 at 17-25-09 gugp102.pdf

آئیے اب ہم اس عبارت کو ارکان کی جمع کی شکل میں لکھتے ہیں ۔

اس عبارت 5 × 2 + 3 کو 5 × 2سے 3 زیادہ کے طورپرسمجھا جا سکتا ہے ، جو بائیں جانب کی ترتیب کو بیان کرتا ہے۔

پیلے اور نیلے مربعوں کی تعداد کا صحیح استعمال کرتے ہوئے دائیں جانب کی ترتیب کے لیےعبارت کیا ہو گی ؟

کیا آپ کو قوسین کا استعمال یاد ہے؟ ہمیں اس کے لیے قوسین کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

2 × (5 + 3)

غور کیجیے کہ اس ترتیب کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے

5 + 3 + 5 + 3

یا

5 × 2 + 3 × 2

معلوم کیجیے

1. ہرصورت میں ارکان لکھ کر درج ذیل عبارات کی قدر معلوم کیجیے ۔

(a) 28 – 7 + 8 (b) 39 – 2 × 6 + 11

(c) 40 – 10 + 10 + 10 (d) 48 – 10 × 2 + 16 ÷ 2

(e) 6 × 3 – 4 × 8 × 5

2. درج ذیل عبارات میں سے ہر ایک کے لیے ایک کہانی/صورت حال لکھیے اور ان کی قدریں معلوم کیجیے ۔

(a) 89 + 21 – 10 (b) 5 × 12 – 6

(c) 4 × 9 + 2 × 6

3. درج ذیل ہر صورت حال کے لیے ایک عبارت لکھیے جو اس صورت حال کو بیان کرتی ہے ،اس کے ارکان کی پہچان کیجیے اور عبارت کی قدر معلوم کیجیے۔

(a) رانی عالیہ نے پچھلے سال 100سونے کے سکّے شہزادی ایلسا ا ور 100 سونے کے سکّے شہزادی اناّ کو دیے۔ شہزادی ایلسا نے ایک کاروبار شروع کرنے کے لیے اپنے سکّوں کا استعمال کیا جس سے وہ دوگنے ہو گئے ۔ شہزادی اناّنے زیور خریدے اور اس کے پاس صرف آدھے سکّے بچے۔ ایک عبارت لکھیے جو یہ بیان کرے کہ شہزادی ایلسا اور شہزادی انّا کے پاس کل ملاکر کتنے سکّے ہیں ۔

(b) میٹرو ٹرین کے دو اسٹیشنوں کے بیچ کے ٹکٹ کی قیمت بالغ کے لیے 40 اور بچے کے لیے 20 ہے۔ ٹکٹوں کی کل قیمت کیا ہے:

(i) چار بالغ اور تین بچوں کے لیے ؟

(ii) دو ایسےگروپوں کے لیے جن میں ہر ایک میں تین بالغ ہیں؟

(c) تصویر میں دکھائی گئی پیمائش کے درمیان تعلق کو بیان کرنے والی عبارت لکھ کر کھڑکی کی کل اونچائی معلوم کیجیے۔

Screenshot 2025-12-03 at 09-22-44 gugp102.pdf

قوسین کو ہٹانا —I

آئیے ہم اس عبارت کی قدر معلوم کرتے ہیں —

200 – (40 + 3)

ہم پہلے قوسین کے اندر دی گئی عبارت کی قدرمعلوم کرتے ہیں جو 43 ہے۔ پھر اسے 200 سے تفریق کرتے ہیں۔

لیکن پہلے 200 میں سے 40 کی تفریق کرنا زیادہ آسان ہے۔

200 – 40 = 160

اور پھر 160 سے3کی تفریق کیجیے:

160 – 3 = 157

ہم نے یہاں 200 – 40 – 3کیا ہے ۔ غور کیجیے کہ ہم نے 200 – 40 + 3 نہیں کیا۔

اس لیے،

200 – (40 + 3) = 200 – 40 – 3

مثال 12: ہم نے اس سے پہلے عرفان کے معاملے میں بھی دیکھا تھا کہ اس نے 15 کا بسکٹ اور 56 میں توردال کا پیکٹ خریدا، جب اس نے 100 ادا کیے تو اسے جو روپیے واپس ملے:

100 – (15 + 56) = 29

واپس ملی رقم مندرجہ ذیل طریقہ سے بھی معلوم کی جا سکتی ہے:

(a) پہلے 100 سے بسکٹ کے پیکٹ (15 ) کی تفریق کیجیے :

100 – 15 = 85

یہ وہ رقم ہے جو دکان دار عرفان کو دے گا، اگر اس نے صرف بسکٹ ہی خریدے ہوں۔ جیسا کہ اس نے توردال بھی خریدی تھی، تو اس کی قیمت بچے ہوئے 85 روپیوں میں سےہی لی جائے گی۔

(b) اس لیے واپس کی گئی رقم معلوم کرنے کے لیے ہمیں 85 میں توردال کی قیمت گھٹانے کی ضرورت ہے۔

85 – 56 = 29

ہم نے یہاں پر 100 – 15 – 56 کیا ہے ۔ اس لیے،

100 – (15 + 56) = 100 – 15 – 56

غور کیجیے کہ کس طرح تفریق علامت کے بعد والے قوسین کو ہٹانے پر قوسین کے اندر کے ارکان کی علامات تبدیل ہوجاتی ہیں ۔پہلی مثال میں 40 اور 3 کے نشان اور دوسری مثال میں 15 اور 56 کے نشانو ں کا مشاہدہ کیجیے۔

مثال 13: عبارت 500 – (250 – 100) پر غورکیجیے ۔کیا اس عبارت کوبغیر قوسین کے لکھنا ممکن ہے؟

اس عبارت کی قدر معلوم کرنے کے لیے ہمیں250 – 100 = 150 کو 500 سے تفریق کی ضرورت ہے:

500 – (250 – 100) = 500 – 150 = 350

اگر ہم براہ راست 500 میں سے 250 گھٹاتے تو ہمیں جتنا گھٹانا تھا اس سے 100 زیادہ گھٹادیتے۔توپھرہمیں
500 – 250 میں 100 واپس جمع کرنا پڑتا ، جس سے عبارت کی قدر500 – (250 – 100)کے برابر ہوجائے ۔ اس عمل کی ترتیب 500 – 250 + 150بنتی ہے ۔چناں چہ

500 – (250 – 100) = 500 – 250 + 100

جانچ کیجیے کہ 500 – 250 – 100 ،500 – (250 –100) کے برابر نہیں ہے۔

پھر غور کیجیے جب قوسین سے پہلےوالی تفریق کی علامت کو ہٹایا جاتا ہے تو قوسین کے اندر ارکان کے نشان بدل جاتے ہیں۔اس صورت حال میں 250 اور 100 کے نشان بدل کر – 250 اور 100 ہو جاتےہیں ۔

مثال 14 : ہیرا کے پاس نایاب سکّوں کا ذخیرہ ہے ۔اس کے پاس ایک تھیلے میں 28اور دوسرے میں 35 سکّے ہیں۔ وہ دوسرے تھیلے سے 10سکّے اپنے دوست کو تحفہ میں دے دیتی ہے ۔ہیرا کے پاس بچےہوئے سکّوں کی تعداد کے لیے ایک عبارت لکھیے۔

اس کو اس طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے : 28 + (35 – 10)

ہم جانتے ہیں کہ یہ بالکل وہی تعداد ہے جو 28 + (35 + (–10)) سے حاصل ہوتی ہے ۔ چوں کہ ارکان کو کسی بھی ترتیب سے جمع کیا جا سکتا ہے، یہ عبارت سیدھے طور پراس شکل میں لکھی جا سکتی ہے ۔ 28 + 35 –10 یا 28 + 35 + (–10)۔ اس طرح ،

28 + (35 – 10) = 28 + 35 – 10 = 53

جب قوسین سے پہلے تفریق کی علامت نہیں ہوتی تو ان کے اندر والے ارکان کے نشان ،قوسین کو ہٹانے سے نہیں بدلتے۔ مندرجہ بالا عبارت میں ارکان 35اور 10پر غور کیجیے۔

ارکان کا پھیر بدل I

اگر ہم کسی عبارت کے کسی ایک رکن کی قدرمیں اضافہ یا کمی کرتے ہیں تو اس پوری عبارت کی قدر پر کیا اثر پڑتا ہے ؟

کچھ عبارات درج ذیل تین خانوں میں دی گئی ہیں۔ ہر خانے میں، پہلی عبارت سے ایک یا زیادہ ارکان کو تبدیل کیا گیا ہے۔ پہلے خانے میں دی گئی مثال کو غور سے دیکھیے اور خالی جگہوں کو پُر کیجیے۔جتنا ہو سکے، تحسیب کاری کم کیجیے گا ۔

Screenshot 2025-12-02 at 16-31-17 gugp102.pdf

معلوم کیجیے

1. خالی جگہوں کو اعداد سےاور خالی خانوں کو عملی علامتوں(Operation Signs) سے پُر کیجیے تاکہ عبارت کے دونوں اطراف برابر ہوجائیں ۔

(a) 24 + (6 – 4) = 24 + 6 _____

(b) 38 + (_____ _____) = 38 + 9 – 4

(c) 24 – (6 +4) = 24 6 – 4

(d) 24 – 6 – 4 = 24 – 6 _____

(e) 27 – (8 + 3) = 27 8 3

(f) 27– (_____ _____) = 27 – 8 + 3

2. قوسین کو ہٹاکر ایک ایسی عبارت لکھیےجس کی قدر قوسین کے ساتھ والی عبارت کے برابر ہو۔

(a) 14 + (12 + 10) (b) 14 – (12 + 10)

(c) 14 + (12 – 10) (d) 14 – (12 – 10)

(e) –14 + 12 – 10 (f) 14 – (–12 – 10)

3. درج ذیل عبارتوں کی قدر معلوم کیجیے۔ ہر ایک جوڑے کے لیے سب سے پہلے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کیجیے کہ کیا ان کی قدر برابر ہے ؟کب یہ دونوں عبارات برابر ہوتی ہیں؟

(a) (6 + 10) – 2 روا 6 + (10 – 2)

(b) 16 – (8 – 3) روا (16 – 8) – 3

(c) 27 – (18 + 4) روا 27 + (–18 – 4)

4. ذیل میں عبارتوں کے مجموعوں میں سے ہر ایک میں ان عبارتوں کو پہچانیے جن کی قدر برابر ہے۔ ان کی قدر کاحساب نہ کیجیے ، بلکہ اپنی ارکان کی سمجھ استعمال کیجیے ۔

(a) 319 + 537, 319 – 537, – 537 + 319, 537 – 319

(b) 87 + 46 – 109, 87 + 46 – 109, 87 + 46 – 109, 87 – 46 + 109, 87 – (46 + 109), (87 – 46) + 109

5. عبارتوں میں مناسب جگہ پر قوسین کا استعمال اس طرح کیجیےکہ وہ دی گئی قدروں کے مساوی ہو جائیں۔

(a) 34 – 9 + 12 = 13

(b) 56 – 14 – 8 = 34

(c) –22 – 12 + 10 + 22 = – 22

6. صرف استدلال کا استعمال کرتے ہوئے کہ ارکان اپنی قدروں کو کیسے بدلتے ہیں،خالی جگہوں کو اس طرح پُر کیجیے کہ عبارتوں کے دونوں اطراف برابر ہو جائیں ۔

(a) 423 + ______= 419 + ______

(b) 207 – 68 = 210 – ______

7. اعداد 2، 3 ،5 اور ریاضیاتی عمل+اور اور قوسین ، جیسی ضرورت ہو ،استعمال کرتے ہوئے ممکنہ مختلف انداز کی عبارات تشکیل کیجیے ۔مثال کے طور پر ،2 – 3 + 5 = 4 اور 3 – (5 – 2) = 0

8. جسودہ کو جب بھی کسی عدد میں سے 9کی تفریق کرنی ہوتی ہے تو وہ اس میں پہلے 10گھٹاتی ہے اور پھر1 جوڑتی ہے۔ مثال کےطور پر، 36 – 10 = 26 + 1

(a) کیا آپ کو لگتا ہے کے اسے ہمیشہ صحیح جواب ملتا ہے ؟ کیوں ؟

(b) کیا آپ اسی طرح کی دوسری حکمت عملیوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ اس کی کچھ مثالیں دیجیے۔

9. ان دو نوں عبارتوں 73 –14 + 1, (b) 73 –14 – 1 پر غور کیجیے ۔ہر ایک عبارت کے لیے مندرجہ ذیل مجموعہ میں سے ان عبارتوں کو پہچانیے جو ان کے عبارتوں کے برابر ہیں۔

(a) 73 – (14 + 1) (b) 73 – (14 – 1)

(c) 73 + (– 14 + 1) (d) 73 + (– 14 – 1)

قوسین کو ہٹانا —II

مثال 15: لامو اور نوربو ایک ہوٹل میں گئے، ان میں سے ہر ایک نے ایک سبزی کٹلیٹ اور ایک رس گُلامنگایا۔ایک سبزی کٹلیٹ کی قیمت 43 اور ایک رس گُلاکی قیمت 24 ہے۔ اس رقم کے لیے ایک عبارت لکھیے جو انھیں ادا کرنی ہے۔

جیسا کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک سبزی کٹلیٹ اور ایک رس گُلا ہے ۔ان میں سے ہر ایک کے حصّے
کی 43 + 24سے نمائندگی کی جا سکتی ہے۔

انھیں کل کتنی رقم ادا کرنی ہے؟ کیا اس کو عبارت 2 × 43 + 24کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے؟

اسے ارکان کے جمع کے طور پرلکھنے پر ملتا ہے:

Screenshot 2025-12-03 at 09-25-56 gugp102.pdf Screenshot 2025-12-03 at 09-26-03 gugp102.pdf

اس عبارت کا مطلب ہے 2 × 43 سے 24 زیادہ ہے۔لیکن ہم ایک ایسی عبارت چاہتے ہیں جس کا مطلب 24 + 43کا دوگنا ہو۔

ہم اس طرح کی عبارت لکھنے کے لیے قوسین کا استعمال کر سکتے ہیں :

2 × (43 + 24)

اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں کو ملا کر 2 × (43 + 24) ادا کرنے ہوں گے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ دو سبزی کٹلیٹ اور دو رس گلے کے لیے ادا کرنا:

2 × 43 + 2 × 24

اس لیے ،

2 × (43 + 24) = 2 × 43 + 2 × 24

اگر ایک اور دوست سنگمو، ان کے ساتھ شامل ہوتا اور وہی چیزیں منگاتا تو کل رقم ادا کرنے کے لیے عبارت ہو تی؟

مثال 16: یوم جمہوریہ کی پریڈ میں، اسکاؤٹ لڑکے اور گائیڈ لڑکیاں ایک ساتھ مارچ کر رہے ہیں۔ا سکاؤٹ 4 قطاروں میں مارچ کر رہے ہیں اور ہر ایک قطار میں ان کی تعداد 5 ہیں۔ گائیڈ 3 قطاروں میں مارچ کررہی ہیں اور ہر قطار میں ان کی تعداد بھی 5 ہیں ( نیچے دی گئی شکل کودیکھیے )تو کتنے اسکا ؤٹ اور گائیڈ اس پریڈ میں مارچ کر رہے ہیں؟

مارچ کرنے والے اسکاؤٹ لڑکوں کی تعداد 4 × 5ہے ۔مارچ کرنے والی گائیڈ لڑکیوں کی تعداد 3 × 5ہے۔

مارچ کرنے والے اسکاؤٹ اور گائیڈ کی کل تعداد 5×3 + 4×5ہوگی۔

یہ اس طرح سے بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پہلے ہم کل قطاروں کی تعداد جو کہ 3 + 4 ہے ،اس کا پتا کریں اور پھر حاصل جمع کو ہر قطار میں بچوں کی تعداد سے ضرب دیں۔ اس طرح لڑکے اور لڑکیوں کی کل تعداد (4 + 3) × 5 کےذریعے معلوم کی جا سکتی ہے۔

اس لیے ، 4 × 5 + 3 × 5 = (4 + 3) × 5

اس عبارت کو حل کرنے پرہمیں حاصل ہوتا ہے

Screenshot 2025-12-03 at 09-26-48 gugp102.pdfScreenshot 2025-12-03 at 09-26-40 gugp102.pdf

(4 + 3) × 5 = 7 × 5 = 35

5 × 4 + 3 5 × (4 + 3) ، کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایساکیوں ہے؟

کیا 5 × (4 + 3) = (4 + 3) × 5 = (3 + 4) × 5 ہے ؟

جو مشاہدے ہم نے پچھلی دو مثالوں میں کیے ہیں انھیں عمومی طور پر اس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

آئیے 10 × 98 + 3 × 98پر غور کیجیے۔ اس کا مطلب ہے 98کو 10بار جمع کرنا اور 98کو ہی 3 بار جمع کرنا ۔

واضح طور پر یہ 3 + 10 = 13بار98کے مثل ہی ہے۔ اس طرح،

10 × 98 +3 × 98 = (10 + 3) × 98

اس عبارت کو دوسرے طریقے سے لکھنے پر ہمیں ملتا ہے ،

(10 + 3) 98 = 10 × 98 + 3 × 98

مذکورہ بالا حاصِل ضرب میں اعداد کی ترتیب بدلنے پر اس خاصیت کو درج ذیل صورت میں دیکھی جا سکتی ہے:

روا، 98 × 10 + 9 × 83 = 98 (10 + 3)

98 (10 + 3) = 98 × 10 + 98 × 3

اسی طرح سے، آئیے اب ہم عبارت 14 × 10 – 6 × 10پر غور کرتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے 14 بار 10 میں سے 6 بار 10کوکم کرنا۔

Screenshot 2025-12-02 at 16-51-38 gugp102.pdf

واضح طور پر یہ 8 = 6 – 14 یعنی 8 بار10 ہے۔اس طرح،

14 × 10 – 6 × 10 = (14 – 6) × 10

ای

(14 – 6) × 10 = 14 × 10 – 6 × 10

اس خاصیت کو (جسے تقسیمی خاصیت کہتے ہیں)مندرجہ ذیل طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے:

کسی جمع (یا تفریق)کا حاصل ضرب، ارکان کے حاصل ضرب کے جمع (یا تفریق) کے برابر ہوتا ہے۔

ارکان کا پھیر بدل II

آئیے سمجھتے ہیں کہ جب ہم کسی حاصل ضرب میں شامل اعداد کو تبدیل کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔

مثال 17: 53 × 18 = 954 دیاگیا ہے۔63 × 18 کا پتہ لگائیے۔

کیوں کہ 63×18 کا مطلب 63 کا 18گنا ہے۔

63 × 18 = (53 + 10) × 18

= 53 ×18 + 10×18

= 954 + 180

= 1134

مثال 18: 97 × 25کی قدر معلوم کرنے کا کوئی آسان و موثر طریقہ معلوم کیجیے ۔

97 × 25کا مطلب 97 کا 25 گنا۔

ہم اس کو (100 – 3) × 25کی شکل میں بھی لکھ سکتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ 100 بار 25 اور 3 بار25 کے فرق کی طرح ہی ہے:

97 × 25 = 100 × 25 – 3 × 25

اس کی قدر معلوم کیجیے۔

مندرجہ ذیل حاصل ضرب معلوم کرنے کے لیے اس طریقہ کا استعمال کیجیے :

(a) 95 × 8

(b) 104 × 15

(c) 49 × 50

کیا یہ عام طور پر استعمال کیے جانے والے ضرب کے طریقہ کار سے زیادہ تیز ہے؟

کون سے دوسرے حاصل ضرب ہیں جنھیں اوپر دیے گئے حاصل ضرب کی طرح تیزی سے تلاش کیاجاسکتا ہے؟

1. خالی جگہوں کو اعداد سے اور خانوں کو علامات سے پر کیجیے تاکہ دونوں اطراف کی عبارات برابر ہوں۔

(a) 3 × (6 + 7) = 3 × 6 + 3 × 7

(b) (8 + 3) × 4 = 8 × 4 + 3 × 4

(c) 3 × (5 + 8) = 3 × 5 3 × ____

(d) (9 + 2) × 4 = 9 × 4 2 ×____

(e) 3 × (____ + 4) = 3 ____+____

(f) (____+ 6) × 4 = 13 × 4 + ____

(g) 3 × (____+____) = 3 × 5 + 3 × 2

(h) (____+____)×____= 2 × 4 + 3 × 4

(i) 5 × (9 2) = 5 × 9 – 5 × ____

(j) (5 – 2) × 7 = 5 × 7 – 2 × ____

(k) 5 × (8 – 3) = 5 × 8 5 × ____

(l) (8 – 3) × 7 = 8 × 7 3 × 7

(m) 5 × (12 –____) =____ 5 ×____

(n) (15 –____) × 7 =____ 6 × 7

(o) 5 × (____–____) = 5 × 9 – 5 × 4

(p) (____–____) × ____= 17 × 7 9 × 7

2. نیچے د یے گئے خانو ں کو بائیں طرف اور دائیں طرف کی عبارتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد‘<’، ‘> ’یا ‘= ’کے نشانوں سے پر کیجیے ۔ عبارت کی قدر معلوم کرنے کے بجائے ارکان اور قوسین کی استدلال اور تفہیم کا استعمال کرتے ہوئے درست نشان لگائیے ۔

(a) (8 3) × 29 (3 8) × 29

(b) 15 + 9 × 18 (15 + 9) × 18

(c) 23 × (17 9) 23 × 17 + 23 × 9

(d) (34 28) × 42 34 × 42 28 × 42

3. یہا ں 14 بنانے کا ایک طریقہ ہے: _2_ × ( _1_ + _6_ ) = 14۔کیا14حاصل کرنے کے دوسرے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں؟ ان کو نیچے خالی جگہوں میں پر کیجیے:

(a) _____× (_____+_____) = 14

(b) _____× (_____+_____) = 14

(c) _____× (_____+_____) = 14

(d) _____× (_____+_____) = 14

4. مندرجہ ذیل تصویروں میں دیے گئے اعداد کوکم سے کم دو مختلف طریقوں سے جمع کیجیے ۔ بیان کیجیے کہ آپ نے اسے عبارات کے ذریعے کیسے حل کیا ؟

Screenshot 2025-12-02 at 17-02-11 gugp102.pdf

معلوم کیجیے

1. نیچے دی گئی صورت حال کو پڑ ھیے ۔ ہر ایک کے لیے مناسب عبارات لکھیے اور ان کی قدرمعلوم کیجیے ۔

(a) بیگور کا ضلعی بازار ہفتے کے ساتوں دن کھلتاہے۔ رحیم اپنے باغ سے روزانہ 9کلو آم اور شیام اپنے باغ سے روزانہ 11کلو آم اس بازار میں بھیجتا ہے۔ ضلعی بازار میں ایک ہفتے میں ان دونوں کی طرف سے لائے گئے آموں کی مقدار معلوم کیجیے ۔

(b) بینو ہر مہینے 20,000 کماتی ہے۔ وہ ہر مہینے 5,000 کرایے پر، 5,000 کھانے پر، اور 2,000 دیگر اخراجات پر خرچ کرتی ہے۔ سال کے آخر تک بینو کتنی رقم بچائے گی؟

(c) دن کے وقت ایک گھونگا ایک کھمبے پر 3 سینٹی میٹر چڑھتا ہےاور رات کے وقت جب وہ سو رہا ہوتا ہے تو اتفاقاً 2 سینٹی میٹر نیچے پھسل جاتا ہے ۔ کھمبا 10 سینٹی میٹر اونچا ہے اور اس کی چوٹی پر ایک مز ے دار چیز رکھی ہے۔ گھونگا کتنے دنوں میں اس تک پہنچے گا؟

2. میلوِن ہر دن دو صفحات کی کہانی پڑھتا ہے، سوائے منگل اور ہفتہ والے دنوں کے۔ 8 ہفتوں میں وہ کتنی کہانیاں مکمل کرے گا؟ درج ذیل میں سے کون سی عبارت اس صورت حال کو بیان کر تی ہے؟

(a) 5 × 2 × 8

(b) (7 2) × 8

(c) 8 × 7

(d) 7 × 2 × 8

(e) 7 × 5 2

(f) (7 + 2) × 8

(g) 7 × 8 2 × 8

(h) (7 5) × 8

3. درج ذیل عبارتوں کو حل کرنے کے مختلف طریقے تلاش کیجیے :

(a) 1 2 + 3 4 + 5 6 + 7 8 + 9 10

(b) 1 1 + 1 1 + 1 1 + 1 1 + 1 1

4. درج ذیل عبارتوں کے جوڑوں کا آپس میں '<'، '>' یا '=' کی علامت کے ذریعے یا دلیل کے ساتھ موازنہ کیجیے ۔

(a) 49 – 7 + 8 49 – 7 + 8

(b) 83 × 42 – 18 83 × 40 – 18

(c) 145 – 17 × 8 145 – 17 × 6

(d) 23 × 48 – 35 23 × (48 – 35)

(e) (16 – 11) × 12 –11 × 12 + 16 × 12

(f) (76 – 53) × 88 88 × (53 – 76)

(g) 25 × (42 + 16) 25 × (43 + 15)

(h) 36 × (28 – 16) 35 × (27 – 15)

5. حساب کیے بغیر یہ شناخت کیجیے کہ درج ذیل میں سے کون سی عبارات دی گئی عبارت کے برابر ہیں۔ آپ ارکان کا استعمال کرتے ہوئے یا قوسین کو ہٹاتے ہوئے ان عبارتوں کو دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔ ایسی ایک سے زیادہ عبارتیں ہو سکتی ہیں جن کی قدردی گئی عبارت کے برابر ہوں ۔

(a) 83 37 12

  1. 84 38 12
  2. 84 (37 + 12)
  3. 83 38 13
  4. 37 + 83 12

(b) 93 + 37 × 44 + 76

  1. 37 + 93 × 44 + 76
  2. 93 + 37 × 76 + 44
  3. (93 + 37) × (44 + 76)
  4. 37 × 44 + 93 + 76

6. ایک عدد منتخب کیجیے اور اس سے دس مختلف عبارات تخلیق کیجیے جن کی قدرمنتخب کیے گئے عدد کے برابر ہوں۔


Screenshot 2025-12-03 at 09-29-21 gugp102.pdf
  • ہم کافی عرصے سے سادہ حسابی عبارات پڑھ رہے ہیں اور حل کر رہے ہیں۔ یہاں ہم نے کچھ سادہ عبارتوں اور ان کی قدروں کے مفہوم کو دہراتے ہوئے آغاز کیا ہے۔
  • ہم نے یہ سیکھا کہ بعض عبارتوں کا موازنہ مکمل حساب کیے بغیر، صرف دلیل سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔
  • پیچیدہ عبارتوں کو صحیح طریقے سے پڑھنے اور حل کرنے کے لیے، ہم ارکان اور قوسین کا استعمال کرتے ہیں۔
  • جب کوئی عبارت ارکان کے مجموعے کے طور پر لکھی جاتی ہے، تو ارکان کی ترتیب یا ان کومختلف طریقے سے گروپ بنانے سے عبارت کی قدرپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ جمع کی تقلیبی خاصیت اور جمع کی تلازمی خاصیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
  • جب کسی منفی علامت کے ساتھ قوسین کو ہٹایا جاتا ہے، تو قوسین کے اندر موجودارکان کے نشان (علامت) تبدیل ہو جاتے ہیں۔
  • ہم نے‘‘تقسیمی خاصیت ’’کے بارے میں بھی سیکھا—جس کے مطابق قوسین کے اندر دی گئی عبارت کو کسی عدد سے ضرب دینا اس کے برابر ہوتاہے کہ اس عدد کو قوسین میں موجود ہر رکن سے الگ الگ ضرب دیا جائے۔