3
ایک نظرنقطے سے پر
(Arithmetic Expressions)
3.1 چھوٹی اکائیو ں کی ضرورت
سو نو کی والدہ ایک کھلونا ٹھیک کر رہی تھیں ۔ وہ ایک پیچ کی مدد سے دو حصو ں کو جوڑنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔ سونو بڑی دلچسپی سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی ماں ان دونوں حصوں کو جوڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی ۔سونو نے و جہ جاننے کی کوشش کی۔ اس کی ماں نے بتایا کہ پیچ درست سائزکا نہیں ہے۔
انھوں نے ڈبے سے دوسرا پیچ نکالا اور کھلونے کو ٹھیک کر دیا۔ سونو کو دونوں پیچ ایک جیسے لگے ،لیکن جب اس نے غور سے دیکھا تو محسوس کیا کہ دونوں کی لمبائی میں تھوڑا سا فرق تھا۔
سونو کو یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ اتنا چھوٹا سا فرق بھی اتنی اہمیت رکھتا ہے۔اب سونو دونوں پیچوں کی لمبائی کا فرق جاننا چاہتا تھا۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ یہ فرق کتنا معمولی ہے کیوں کہ دونوں پیچ تقریباً ایک جیسے نظر آرہے تھے ۔
اگلے صفحہ پردی گئی تصویر میں پیچوں کو ایک پیمانے(Scale)پررکھا گیا ہے ۔ان کی پیمائش کیجیے اور دی گئی جگہ پر ان کی لمبائی لکھیے۔
●کس پیمانے نے آپ کی پیچ کی لمبائی درست طور پر ناپنے میں مدد کی اور کیوں ؟
●
2سینٹی میٹر (تیسری پیچ کی لمبائی)کا کیا مطلب ہے؟
جیسا کہ پیمانہ پر دیکھا جا سکتا ہے دو متواترا عداد کے درمیان اکائی کی لمبائی کو 10برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
2سینٹی میٹر کی لمبائی حاصل کرنے کے لیے ہم 0 سے2کی جانب جائیں گےاور پھر
کے سات حصے لیں گے ۔ پیچ کی لمبائی 2 سینٹی میٹر اور
سینٹی میٹر ہے ۔ اسی طرح ہم
3سینٹی میٹر کی لمبائی کوبھی سمجھ سکتے ہیں ۔
ہم
2 سینٹی میٹر کو دو اور سات دسواں سینٹی میٹر پڑھتے ہیں اور
3 سینٹی میٹر کو تین اوردودسواں سینٹی میٹر پڑھا
جا تا ہے۔
●کیاآپ بتا سکتے ہیں کہ ان پیچوں کی پیمائش کے لیے اکائی کو چھوٹے حصوں میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے۔
درج ذیل اشیا کی پیمائش پیمانے کی مدد سے کیجیے اور ان کی لمبائی سینٹی میٹر میں درج کیجیے (جیسا کہ پیچوں کی لمبائی کے لیے پہلے دکھایا گیا ہے) : قلم ، پنسل تراش اور آپ کی پسند کی کوئی اور چیز ۔
●تصویر میں دکھا ئی گئی چیزوں کی پیمائش تحریر کیجیے:
جیسا کہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے ،جب قطعی درست پیمائش درکار ہو تو ہم پیمائش کی چھوٹی اکائیوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔
3.2 دسواں حصہ (A Tenth Part)
نیچے دی گئی تصویر میں پنسل کی لمبا ئی
3 اکائی دکھائی گئی ہے، جسے 3 اکائی اور چارایک دسواں کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے، یعنی (
× 4) + (1 × 3) اکائیاں
= 10 times
= 10 ×
= 1 unit (اکائی)
یہ لمبائی34 ایک-دسویں( 34صحیح ایک بٹا دس )اکائیوں کے برابر ہے کیوں کہ10 ایک دسویں اکائیاں ایک مکمل اکائی بناتی ہیں ۔
34 ×
=
=
+
+
+
(ایک دسواں
)
(3 اور4 دسواں)
1+1+1+ =
ذیل میں کچھ اعداد کسری اکائیوں کے ساتھ دکھائے گئے ہیں اور انھیں پڑھنے کا طریقہ بھی بتایاگیا ہے۔
درج ذیل اشیا کی لمبائی دو طریقوں سے تحریر کیجیے اور بلند آواز میں پڑھیے ۔ایک مثال یو ایس بی(USB)کیبل کی لمبائی کی دی گئی ہے۔( نوٹ: ہر خاکے(Diagram) میں اکائی کی لمبائی مختلف ہیں۔)
یو ایس بی کیبل کی لمبائی 4 اور
ا کائیاں یا
اکائیاں ہے۔
ان لمبائیوں کو صعودی ترتیب (Increasing order)میں لگائیے:

●درج ذیل لمبائیوں کو صعودی (بڑھتی ہوئی)ترتیب میں لگایئے : 
●سونو اپنے جسم کے کچھ حصو ں کی پیمائش کر رہا ہے۔ سونو کے نچلے بازو کی لمبائی
2 اکا ئیاں ہے اور اس کے اوپر والے بازو کی لمبائی
3 اکا ئیاں ہے ۔تو بازو کی کل لمبائی کیا ہے ؟
کل لمبائی حاصل کرنے کے لیے ، ہم نچلےبازو اور اوپروالےبازو کی لمبائی کوبالترتیب 2اکائیاں اور7 دسواں اور 3اکائیاں اور6 دسواں مان لیتے ہیں۔
اس طرح یہاں (2+3)اکائیاں اور(7+6)دسویں حصے ہیں، جومل کر 5 اکائیاں اور 13 دسویں بنتے ہیں۔ لیکن 13 دسویں کا مطلب ہے 1اکائی اور 3 دسویں۔لہٰذا کل لمبائی 6 اکائی اور3دسویں حصے ہوں گے۔
(a) (2 + 3) + (
+
)
= (2 + 3) + (
)
= 5 + 
= 5 +
+
= 5 + 1 + 
= 6 + 
یا دونو ں لمبائیوں کو د سویں حصّہ میں تبدیل کر کے بھی جوڑکر سکتے ہیں :
27 دسویں اور 35 دسویں مل کربنتے ہیں 62 دسویں، یعنی
+
= 
کا مطلب ہے 60 دسویں حصے
اور 2 دسویں حصے
ہے جوکہ برابر ہے 6اکائیوں اور2دسویں حصوں کے، یعنی
6
●یہاں شہد کی مکھی کے جسم کے مختلف حصو ں کی لمبائیا ں دی گئیں ہیں ۔اس کی کل لمبائی معلوم کیجیے ۔
سر : 3/10 2 اکائیاں
سینہ: 5 * 4/10 اکائیاں
پیٹ : 7 * 5/10 اکا ئیاں
●شیلجا کے ہاتھ کی لمبائی
12اکائی ہے اور اس کی ہتھیلی کی لمبائی
6 اکائی ہے جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ سب سے لمبی انگلی (درمیانی انگلی)کی لمبائی کیا ہے؟
انگلی کی لمبائی اس طرح معلوم کی جاسکتی ہے :
(12 +
) – (6 +
)
اسے مختلف طریقوں سے حل کیاجا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر:
جس طرح سے ہم گنتی کے اعداد میں کرتے ہیں، یہاں بھی بہتریہی ہوگا کہ دسویں حصہ سے تفریق شروع کریں۔ چوں کہ ہم 4دسویں (
) میں سے 7 دسویں (
)کوگھٹانہیں سکتے ۔اس لیے ہم 12میں سے ایک مکمل اکائی کوالگ لے کر اسے 10 دسویں میں بدل دیتے ہیں۔اب اس عدد11 اکائیاں اور 14دسویں ہیں۔ ہم پہلے 14دسویں سے 7 دسویں کو گھٹاتے ہیں اور پھر 11اکائیوں میں سے 6 اکائیو ں کو گھٹاتے ہیں۔
●ان دونوں لمبائیوں کو دسویں میں تبدیل کر کے ان کا فرق معلوم کرنے کی کوشش کیجیے۔
●سیلسٹیل پرل ڈ ینیو(Celestial Pearl Danio)نامی مچھلی کی لمبائی
2سینٹی میٹر ہے اور فلیپن گوبی (Philipine Goby) نامی مچھلی کی لمبائی
سینٹی میٹر ہے۔ تو ان دونوں کی لمبائیوں میں کتنا فرق ہے؟
●آ پ کی انگلی کے مقابلے میں ان مچھلیوں کی لمبائی کتنی بڑی یا چھوٹی ہے؟
دیے گئے عددی تواتر کا مشاہدہ کیجیے۔ ہر رکن کے بعد آنے والی تبدیلی کو پہچانیے اور پیٹرن کوآ گےبڑھائیے:
- 4, 4
, 4
, _________, _________, _________, _________ - 8
, 8
, 9
, _________, _________, _________, _________ - 7
, 8
, _________, _________, _________, _________ - 5
, 5
, _________, _________, _________, _________ - 13
, 13, 12
, _________, _________, _________, _________ - 11
, 10
, 9
, _________, _________, _________, _________
3.3 سو واں حصّہ (A Hundredth Part)
کاغذ کی ایک شیٹ کی لمبائی
8 اکائیاں ہے،جسے ہم8اکائیاں اور9 دسویں حصے بھی کہہ سکتے ہیں۔اگر اس شیٹ کواس کی لمبائی کی طرف سے آدھا موڑا جائے تو اب اس کی لمبائی کیا ہوگی؟
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی لمبائی
4 اکائیوں اور
4 اکائیوں کے درمیان ہوگی۔ لیکن ہم اس کی درست پیمائش نہیں بتا سکتےکیوں کہ اس پر نشان موجود نہیں ہیں۔ پہلے ہم نے ایک اکائی کو 10 دسویں حصے میں تقسیم کیا تھا تاکہ چھوٹی لمبائیوں کی پیمائش کر سکیں۔اسی طرح ہم ہردسویں حصے کو بھی 10 مزیدحصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
●اس چھوٹے حصے کی لمبائی کیا ہے؟ ایک اکا ئی کی لمبائی میں اس طرح کے کتنے چھوٹے حصے ہوں گے؟
جیسا کہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے، ہر دسویں حصے کے 10 مزیدچھوٹے حصے ہیں اور ایک اکائی میں کل 10دسویں حصے ہوتے ہیں ۔لہٰذا،ایک اکائی میں کل 100چھوٹے حصے ہوں گے ۔پس ایک چھوٹے حصے کی لمبائی ایک اکائی کا
ہوگی۔
اب ہم اپنے سوال کی طرف واپس آ تے ہیں کہ موڑے ہوئے کاغذ کی لمبائی کیا ہے؟
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ
4 پہ ختم ہو رہی ہے، جسے 4اکائیاں اور 4 دسویں اور 5سوویں حصے پڑھاجاتا ہے۔
●کتنے سوویں حصےمل کر ایک دسویں حصے بناتے ہیں؟ کیا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لمبائی 4اکائیاں اور 45 سوویں حصے ہیں ؟
●نیچے دی گئی شکلوں کا مشاہدہ کیجیے۔ نشانات اور ساتھ میں د ی گئی لمبائیوں پر غورکیجیےجوصفر‘0’ سے ماپی گئی ہیں ۔ خا لی خانوں میں لمبائیا ں لکھیے ۔
پہلی تصویر میں تار کی لمبائی تین مختلف طریقوں سے دی گئی ہے ۔کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ سب ایک ہی لمبائی کو ظاہرکرتے ہیں؟
1 ایک اکائی اور ایک دسواں حصّہ اورچار سوویں حصّے
1 ایک اکائی اور چودہ سوویں حصّے
ایک سوچودہ سوویں حصّے
●نیچے دی گئی لمبائیوں کودیکھ کر الفاظ میں ان کی پیمائش لکھیے اورانھیں بلند آواز سے پڑھیے ۔

ہر گروپ میں لمبائی کے اعتبار سےسب سے بڑی اور سب سے چھو ٹی کی پہچان کیجیے۔ پیمانے پرہرلمبائی کی نشان دہی بھی کیجیے۔

●
15 اور
2کا حاصل جمع کیا ہو گا ؟
اسے مختلف طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے ۔کچھ طریقےنیچے دیے گئے ہیں۔
(a) (Method)طریقہ 1
(15 + 2) + (
+
) + (
+
)
= 17 +
+ 
10سوویں حصے1 دسویں حصے کے برابر ہے۔
= 17 +
+
+ 
= 17 +
+ 
= 18
(b) (Method) طریقہ 2
15

+ 2

= 17

= 17

= 18
●کیا یہ دونوں طریقے مختلف ہیں؟
●نیچے دیے گئے 268 + 483 کےحاصل جمع کا مشاہدہ کیجیے ۔ کیا آ پ کواس میں اوپر دکھائے گئے طریقوں میں کوئی مماثلت نظر آتی ہے؟
(400 + 80 + 3) + (200 + 60 + 8)
= (400 + 200) + (80 + 60) + (3 + 8)
= 600 + 140 + 11
= 600 + 150 + 1
= 700 + 50 + 1
= 751
ایک اورطریقہ یہ ہے کہ
2 +
15 کےسوویں حصے کو تبدیل کرکے حسب ذیل طریقے سے حاصل جمع نکالا جائے:
(c) (15 + 2) + (
+
)
100سوویں 1اکائی کے برابر ہے۔
= 17 + 
= 17 + 1 + 
= 18
(d) (
) + (
)
= 
=
+ 
= 18
15برابر ہوتا ہے 1500 سوویں کے اور 2 برابر ہوتا ہے 200 سو ویں کے۔
●
6 –
25کی تفریق کیا ہے؟
اسے حل کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے :
اسے سوویں حصے میں تبدیل کرکے حل کیجیے۔
2 –
15 کی تفریق کیا ہے؟
اسے حل کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے:
نیچے دی گئی653−268کی تفریق کا مشاہدہ کیجیے ۔کیا آپ کواس میں اور او پر بتائے گئے طریقوں میں کوئی مماثلت نظر آتی ہے؟
(600 + 50 + 3) – (200 + 60 + 8)
= (600 – 200) + (50 – 60) + (3 – 8)
= (600 – 200) + (40 – 60) + (13 – 8)
= (600 – 200) + (40 – 60) + 5
= (500 – 200) + (140 – 60) + 5
= 300 + 80 + 5
= 385
معلوم کیجیے
●جمع اورتفریق معلوم کیجیے:
3.4 اعشاری مقامی قدر (Decimal Place Value)
آپ نے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ جب بھی ہمیں کسی چیز کو زیادہ درستگی سے ناپنے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو ہم کسی ایک حصے کو دس (چھوٹے)برابر حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں یعنی ہم ایک ا کائی کو10 دسویں حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں ،پھرہر دسویں حصے کو مزید دس سوویں حصوں میں بانٹ لیتے ہیں، اور پھر انھیں چھوٹے حصوں کو پیمائش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
●کیا ہم ایک اکائی کو 4برابر حصوں، 5برابرحصوں ، 8برابر حصوں یا کسی اور تعداد میں برابر برابرتقسیم نہیں کر سکتے؟
جی ہاں، ہم بالکل ایسا کرسکتے ہیں۔ذیل کی مثال یہ دکھاتی ہے کہ جب ایک ہی لمبائی کو 10برابرحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر جب اسے 4برابرحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو وہ کیسے ظاہرہوتی ہے؟
اگر مزید درست پیمائش درکا ر ہو تو ہر چوتھائی حصے کو مزید 4 برابر حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہر حصہ ایک اکائی کا
حصہ پیمائش کرتاہے یعنی 16ایسے حصے مل کر ایک اکائی بناتے ہیں۔
●تو پھر ہم ہر بار ایک اکائی کو 10برابر حصوں میں ہی کیوں تقسیم کرتے ہیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مقامی قدری نظام(Indian place value system) میں 10کا ایک خاص کردارہے۔جب کسی صحیح عدد کو ہندوستانی مقامی قدری نظام کے تحت لکھا جاتا ہے تو ہرمقام کی قدراس کے دائیں والے مقام کی قدر سے 10 گنازیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً 284 میں2کی مقامی قدرسیکڑا(100)،8 کی مقامی قدردہائی(10)اور4 کی اکائی (1)ہے۔اسی طرح ہرمقام کی قدر اس کے بائیں والے مقام کی قدر سے 10گناکم ہوتی ہے:
10 اکائیاں مل کر1 دہائی بناتی ہیں۔
10 دہائیاں مل کر1 سیکڑابناتی ہیں۔
10 سیکڑا مل کر1 ہزار بناتے ہیں،اور یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھتا رہتا ہے۔

لہٰذا جب ہمیں ایک سے چھوٹی مقدار وں کو ظاہر کرنا ہوتا ہےتو ہم اسی مقامی عددی(قدری)نظام کے تحت ایک اکائی کو 10 برابر حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اس سےہمیں ایک دسواں حصہ حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم پھراس کودوبارہ 10حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تو ہمیں سوواں حصہ حاصل ہوتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
●کیا ہم اسے مزید آگےبڑھا سکتے ہیں؟
جب
کو10 برابر حصوں میں تقسیم کیاجائے تو حاصل ہونے والی کسرکیا ہوگی ؟
یہ
ہوگی ، یعنی کہ ایک ہزار ایسے حصے مل کر ایک اکائی بناتے ہیں۔
جیسے ہم 10,000کے بائیں جانب بڑھتے ہیں تو ہر قدم پر بڑی عددی قدریں حاصل ہوتی ہیں،اسی طرح ہم
کے دائیں جانب بڑھتے جائیں تو ہر قدم پر چھوٹی عددی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔
عدد لکھنے کا یہ طریقہ” ا عشاری نظام “(Decimal system)کہلاتا ہے چوں کہ یہ عدد 10 پر مبنی ہے؛لاطینی زبان میں”Decem“کا مطلب دس ہوتا ہے ،جو کہ سنسکرت لفظ दशسے مشابہ ہے، جس کا مطلب بھی 10ہے۔ ہندوستان کی بہت سی زبانوں جیسے اوڈیا ،کونکنی ،مراٹھی، گجراتی، ہندی، کشمیری، بوڈو اور آسامی میں 10 کے لیے اسی طرح کے الفاظ موجود ہیں۔اگلی جماعتوں میں ہم اعداد لکھنے کے دوسرے طریقے بھی سیکھیں گے ۔
کتنا بڑا ؟
ہم پہلے سےہی جانتے ہیں کہ 10سو مل کر 1000بنتے ہیں اور100 سومل کر 10000بنتے ہیں۔
●ہم کسری حصوں کے متعلق بھی ایسے ہی سوالات پوچھ سکتے ہیں:
(a) کتنے ہزار ویں حصے مل کر ایک اکائی بناتے ہیں؟
(b) کتنے ہزارویں حصے مل کر ایک دسواں بناتے ہیں؟
(c) کتنے ہزارویں حصے مل کر ایک سوواں بناتے ہیں ؟
(d) کتنے دسویں حصے مل کر ایک دہائی بنا تے ہیں ؟
(e) کتنے سو ویں حصے مل کر ایک دہائی بناتے ہیں ؟
●اسی طرح کے چند مزید سوالات بنائیے اور ان کے جواب دیجیے۔
اعداد کی علامت(Notation) ، تحریر اور پڑھت
ہم اعداد کو ایک خاص انداز سے لکھتے آئے ہیں۔ جیسے 456 ،کوبجائے اس کے ہم یوں بھی لکھ سکتے ہیں:
(6اکائیاں)1×+6(5دہائیاں)10× +5( 4سیکڑے)100×4
اسی طرح کیا ہم دسواں اور سوواں لکھے بغیر بھی کام چلا سکتے ہیں؟
کیا مقدار
4کو صرف 42 لکھا جا سکتا ہے؟(یعنی
×2 میں سے
کو چھوڑتے ہوئے)
اگر ہاں ،تو ہم یہ کیسے سمجھیں گے کہ 42 کا مطلب 4 دہائیاں اور 2اکائیاں یا 4 اکائیاں اور 2دہائیاں ہے ؟
اسی طرح 705کا مفہوم ہو سکتا ہے:
- 7 سیکڑے، 0 دہائیاں اور 5 اکائیاں (5 + 0 + 700)
- 7 دہائیاں ،0 اکائیاں اور 5 دسواں (
+ 0 + 70) - 7 اکائیاں ، 0 دسواں اور 5 سو واں (
+
7+)
چوں کہ یہ مختلف مقداریں ہیں، اس لیے ہمیں ان کو لکھنے کے مختلف طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
صحیح ا عداد (Integers)کی مقامی قدر کہاں ختم اورکسری حصے(Fractional parts)کہاں سے شروع ہوتے ہیں ،اس کی مقامی قدر پہچاننے کے لیے ،ہم ایک نقطہ یاعلامت کا(‘.’) استعمال کرتے ہیں، جسے ا عشاری نقطے (Decimal point)کہتے ہیں۔
مندرجہ ذیل مقداریں اعشاری علامت میں یوں لکھے جائیں گے:
|
مقدار (Quantity) |
اعشاری علامت (Decimal Notation) |
|
7 سیکڑےاور 5 اکائیاں (5 + 0 + 700) |
705 |
|
7دہائیاں اور 5 دسواں ( 5/10 + 0 + 70) |
70.5 |
|
7اکائیاں اور 5سوواں (7 + 0 + |
7.05 |
ان اعداد کومقامی قدرکے لحاظ سے کچھ اس طرح لکھا جاسکتا ہے:
چناں چہ اعشاری علامات ہندوستانی مقامی قدری نظام کا ایک ایسا فطری تسلسل ہے، جو اعداد میں کسری حصوں کوبھی شامل کرتا ہے۔جیسے کہ705 کا مطلب ہوتا ہے (1×100+5×7)،70.5 کا مطلب ہوتا ہے
(
×10+5×7)اور 7.05کا مطلب (
×5 1+×7)ہوتاہے۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ ا عداد کوا عشاری نقطے(’. ‘) کے ساتھ کیسے لکھتے ہیں ۔لیکن ہم ان اعدادکو پڑھتے یابولتےکیسے ہیں؟
ہم سب واقف ہیں کہ 705کو سات سو پانچ پڑھا جاتا ہے۔
70.5 کو سترا عشاریہ پانچ یا ستّر اور پانچ دسویں(مختصراً) پڑھاجاتاہے۔
7.05 کو سات ا عشاریہ صفر پانچ یا سات اور پانچ سوویں(مختصراً) پڑھاجاتاہے۔
0.274 کو صفر اعشاریہ دو سات چارپڑھتے ہیں ۔ہم اسے صفر اعشاریہ دو سو چوہترنہیں پڑھتے ہیں کیوں کہ 0.274 کا مطلب ہوتاہے 2 دسویں، 7 سوویں اور4 ہزارویں۔
●اوپر دی گئی جدول کےطرز پر ایک مقامی قدرکی جدول بنائیے ۔ہر مقدارکو اعشاری شکل میں اور مقا می قدرکے مطابق لکھیے اورپڑھیے:
(a) 2 اکائیاں، 3دسویں اور 5 سوویں
(b) 1دہائی اور5 دسویں
(c) 4 اکائیاں اور6 سوویں
(d) 1سیکڑا ،1اکائی اور 1سوواں
(e) 8/100 ا ور 9/10
(f) 5/100
(g) 1/10
(h)
2 ،
4 اور
7
ہم نے بڑے اعداد کے باب میں یہ سیکھا کہ23 سیکڑوں (سو)کو کیسے لکھا جائے ۔
23 سیکڑا (hundreds) = 23 × 100 = 2000 + 300 = 2300
|
اکائی |
دہائی |
سیکڑا |
ہزار |
|
23 |
|||
|
0 |
0 |
3 |
2 |
اسی طرح 23 دہائیاں ہوں گی:
23 دہائی (tens) = 23 × 10 = 200 + 30 = 230
|
اکائی |
دہائی |
سیکڑا |
ہزار |
|
23 |
|||
|
0 |
3 |
2 |
●234 دسویں ہم ا عشاری شکل میں کس طرح لکھ سکتے ہیں؟
234 دسواں = 
=
+
+ 
= 20 + 3 + 
= 23.4
|
سوواں |
دسواں |
اکائی |
دہائی |
سیکڑا |
|
234 |
||||
|
4 |
3 |
2 |
ان مقداروں کو اعشاریہ میں لکھیے: (a)
سوویں (b)
دسویں
3.5 پیمائشی اکائیاں (Units of Measurement)
لمبائی کی تبدیلی (Length Conversion)
ہم چند سالوں سے لمبائی کی پیمائش کے لیے پیمانہ کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ ہمیں پہلے سے ہی پتہ ہے کہ:
1سینٹی میٹر (cm)
ملی میٹر(mm)ہوتا ہے۔
●1 ملی میٹر میں کتنے سینٹی میٹر ہوتے ہیں؟
1 ملی میٹر=
سینٹی میٹر= 0.1 سینٹی میٹر (یعنی ایک سینٹی میٹر کا ایک د سواں حصّہ)
●کتنے سینٹی میٹر ہوتے ہیں (a)
ملی میٹر؟ (b)
ملی میٹر؟
5 mm =
cm = 0.5 cm
12 mm = 10 mm + 2 mm
= 1 cm +
cm
= 1.2 cm
5.6 سینٹی میٹر میں کتنے ملی میٹر ہوتے ہیں؟چوں کہ ہر 1سینٹی میٹر میں 10 ملی میٹر ہوتے ہیں،5.6 سینٹی میٹر (5سینٹی میٹر + 0.6 سینٹی میٹر )میں 56 ملی میٹر ہوتا ہے۔
درج ذیل خالی جگہوں کو پُر کیجیے( ملی میٹر<–>سینٹی میٹر )
|
12 mm = 1.2 cm |
56 mm = 5.6 cm |
70 mm = _______ |
|
________ = 0.9 cm |
134 mm =__________ |
________ = 203.6 cm |
نیچے کی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ چیزیں کتنی چھوٹی ہوتی ہیں !ہرچیز کی ایک تخمینی پیمائش کرنے کی کوشش کیجیے:
- تین نیلی لکیریں قلم کی مختلف نوکوں :(باریک ،درمیانی اور موٹی )کے حجم کی نمائندگی کرتی ہیں۔
- انسانی بال کی موٹائی تقریبا 0.1 ملی میٹر ہوتی ہے۔
- اخبار کی موٹائی 0.05سے 0.08ملی میٹر کے درمیان ہوسکتی ہے۔
- رائی کے دانوں کی موٹائی 2–1ملی میٹر ہوتی ہے۔
- اب تک دریا فت کی جانے والی سب سے چھوٹی چیونٹی کی نسل‘‘کارابیرا برونی’’(Carabera Bruni)ہے، جس کی کل لمبائی 0.8سے 1ملی میٹر تک ہوتی ہے۔ یہ سری لنکا اور چین میں پائی جاتی ہے۔
- خشکی میں اب تک پائی جانے والی سب سے چھوٹےگھونگھے کی قسم ‘‘ا یکمیلا نانا ’’(Acmella Nana)ہے،جس کے خول کا قطر 0.7 ملی میٹر ہوتاہے ۔یہ ملیشیا میں پایاجاتاہے ۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 1میٹر 100=(m) سینٹی میٹر (cm) ہوتا ہے اس کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ؛
1 cm =
m = 0.01 m
کتنے میٹرہوتےہیں 
10 cm =
m = 0.1 m
چوں کہ ہر سینٹی میٹر، میٹر کا سوواں حصہ ہوتا ہے،اس لیے 15سینٹی میٹر کو اس طرح لکھا جا سکتا ہے؛
15 cm =
m
=
m +
m
=
m +
m
= 0.15 m
●نیچے دیے گئے خانوں کوُ پر کیجیے (سینٹی میٹر <–> میٹر):
|
_______ = 0.89 m |
50 cm = _______ |
36 cm = _______ |
|
________ = 2.07 m |
325 cm = _______ |
4 cm = _______ |
●ایک میٹر میں کتنے ملی میٹر ہوتے ہیں؟
●کیا ہم1 ملی میٹر=
میٹر لکھ سکتے ہیں؟
یہاں فطرت میں موجود چھوٹی چیزوں کے متعلق کچھ اور دل چسپ حقائق دیے گئے ہیں!
- شکر خورا (Humming bird)کا انڈا عام طور سے 1.3سینٹی میٹر لمبا اور 0.9 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔
- فلیپن گو بی تقریباً 0.9 سینٹی میٹر لمبی ہوتی ہے ۔ یہ فلیپن اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں پائی جاتی ہے۔
- سب سے چھوٹی معروف جیلی مچھلی ایروکانڈجی(Irukandji)کی گھنٹی کا سائز 0.5سینٹی میٹر سے 2.5 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کے ریشہ ٔحاسہ (Tentacles) ایک میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں ۔یہ آ سٹریلیا میں پائی جاتی ہے۔ اس کا زہر انسانوں کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔
- وولفی آکٹوپس (Wolfi Octopus) جسے اسٹار سکرپیگمیآکٹو پس (Star-sucker Pygmy Octopus)بھی کہاجاتا ہے، دنیا کا سب سے چھوٹا معروف آکٹوپس ہے۔ ان کا عام سائز تقریبا ً2.5–1سینٹی میٹر ہوتا ہےاور ان کا وزن 1گرام سے کم ہوتا ہے۔ یہ بحرالکاہل (Pacific Ocean)میں پائے جاتے ہیں۔
وزن کی تبدیلی
آئیے کلوگرام پر نظر ڈالیں ۔ہم جانتے ہیں کہ 1کلو گرام
گرام(gm) ہوتا ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ؛
1 g =
kg = 0.001 kg
●5 گرام میں کتنے کلوگرام ہوتےہیں؟
5 g =
kg = 0.005 kg
●10گرام میں کتنے کلوگرام ہوتے ہیں؟
10 g =
kg =
kg = 0.010 kg
چوں کہ ہر گرام ایک کلو گرام کا ہزارواں حصہ ہوتا ہے ،تو 254گرام کو ایسے لکھ سکتے ہیں:
254 g =
kg
= (
+
+
) kg
= (
+
+
) kg
= 0.254 kg
خالی جگہوں کو ُپر کیجیے۔ (گرام <–>کلوگرام)
|
465 g = _______ |
68 g = _________ |
1560 g = ________ |
|
704 g = _______ |
________ = 0.56 kg |
_______ = 2.5 kg |
نیچے دی گئی تصویر کودیکھیے جس میں چاول کی مختلف مقداریں دکھائی گئی ہیں۔یہ 1گرام کے ڈھیر سے شروع ہوکر ہر اگلاڈھیر پچھلے ڈھیر سے 10گنا زیادہ وزنی ہیں۔ اس تصویر میں چاولوں کا کل وزن 11.111 کلو گرام ہے۔
ساتھ ہی،
1 گرام (
)=1000 ملی گرام (
)۔لہٰذا 1ملی گرام =
گرام=0.001گرام۔
روپےکوپیسے میں بدلنا (Rupee ─ Paise conversion)
آپ نے پیسے کے بارے میں سنا ہوگا۔ 100 پیسے 1روپے کے برابر ہوتے ہیں ۔ جیسے ہمارے پاس روپیوں کے لیے سکّے اور نوٹ ہوتے ہیں۔ اسی طرح پہلے پیسوں کے سکّے بھی عام استعمال میں تھے۔ماضی قریب میں 1پیسے، 2پیسے، 3پیسے، 5پیسے، 10پیسے، 20پیسے، 25پیسے اور 50پیسے کے سکّے رائج تھے۔ 25 پیسےاور اس سے کم مالیت والے تمام سکّے سال 2011 میں بندکردیے گئے۔لیکن ہمیں ابھی کہیں کہیں بِل، کھاتوں کےگوشواروں وغیرہ میں پیسےدکھائی دیتے ہیں۔
1 روپیہ = 100 پیسے
1 پیسہ =
روپیہ = 0.01 روپیہ
چوں کہ ہر پیسہ ایک روپے کا سوواں حصہ ہوتاہے،
75 پیسے =
روپے
●نیچے دیے خالی جگہوں کو پر کیجیے(روپیہ <–> پیسہ )
1970کی دہائی کے دوران ، ایک مصالحہ ڈوسہ کی قیمت صرف 50 پیسہ تھی، ایک کیلا 20 سے 25 پیسوں میں خریدا جا سکتا تھا ،مٹھی بھر پودینے کی گولیاں 2 یا 3 پیسوں میں ملتی تھیں اور ایک کلوگرام چاول کی قیمت 2.45 روپیہ تھی۔
گھریااسکول میں بڑوں سے گفتگو کیجیے کہ ان کے بچپن میں مختلف مصنوعات اور خدمات کی قیمتیں کیا تھیں ۔ پرانے سکوں (Coins)اور ڈاک ٹکٹوں(Stamps)کو تلاش کرنےکی کوشش کیجیے۔

3.6 اعشاری اعداد کوتلاش کرنا اورموازنہ کرنا
فرض کیجیے 1.4ایک اعشاری عدد ہے،جو 1 اکائی اور چاردسویں کے برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ1 اور 2کے درمیانی اکائی کو 10 برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ان میں سے 4حصے لیے گئے تو1 اور 2 کے درمیان 1.4ملا۔ اب ہم عددی خط بناتے ہیں اور 1اور 2کی درمیانی اکائی کو 10برابر حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔پھراس کا چوتھا حصہ لیتے ہیں، تب ہمارے پاس عددی خط پر 1.4آتاہے۔

●1اور1.1 کے درمیان موجود تمام تقسیمات کو عددی خط پردکھائیے ۔

●حروف کے ساتھ دیے گئے ا عشاریہ کی شنا خت کیجیے اورلکھیے ۔

صفر کی کشمکش!
●سونو کے مطابق 0.2 کو 0.200،0.20 کی شکل میں بھی لکھا جا سکتا ہے؛زارا کا خیال ہے کہ دائیں جانب صفر لگانے سے اعشاری عدد کی قدر بدل سکتی ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے؟
ہم اس بات کی تصدیق مقامی قدر کے ذریعے ان اعداد کی مقدار کو دیکھ کرکر سکتے ہیں۔
|
ہزارو اں |
سوواں |
دسواں |
اکائیاں |
اعشاری عدد |
|
2 |
0 |
0.2 |
||
|
0 |
2 |
0 |
0.20 |
|
|
0 |
0 |
2 |
0 |
0.200 |
|
2 |
0 |
0 |
0.02 |
|
|
2 |
0 |
0 |
0 |
0.002 |
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 0.20,0.2 اور0.200سب برابر ہیں کیوں کہ یہ ایک ہی مقداریعنی 2دسواں حصے کوظاہرکرتے ہیں ۔لیکن 0.02،0.2اور 0.002مختلف ہیں۔
●کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے چھوٹا اور کون سب سے بڑا ہے؟
●ان میں سے کون سے اعداد برابر ہیں: 4.5، 4.05، 0.405، 4.050، 4.50، 4.005 ،04.50؟
نیچے دی گئی شکل (a) میں دکھائے گئے عددی خط کا مشاہدہ کیجیے۔ہر سطح پر عددی خط کےکسی مخصوص حصے کو بڑھا چڑھا کردکھایاگیا ہے تاکہ اعشاری عدد 4.185 کی درست جگہ دکھائی جاسکے۔
●شکل (b) میں آخری عددی خط پر’؟‘سےظاہر کردہ اعشاری عدد کی شناخت کیجیے ۔
●ان اعشاری اعداد کے لیے ایسے ہی عددی خطوط بنائیے: 
●نیچے دکھائےگئے عددی خط میں ’b’،‘a‘ اور ‘c’ خانے کن اعشاری اعداد کوظاہرکرتے ہیں؟
‘b’ والے خانے کا تعلق اعشاری عدد7.5 سے ہے، کیاآپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے؟ 5اور 10 کے درمیان ‘5’ اکائیاں ہیں، جنھیں 10برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر 2تقسیمات1 اکائی بناتی ہیں اور اس طرح ہر تقسیم نصف اکائی
کے برابرہے ، توخانہ ‘a’ اور ‘c’ کن اعداد کو ظاہر کرتے ہیں؟
●اسی قسم کی دلیل کا استعمال کرتے ہوئے نیچے دیے گئے خانوں میں اعشاری اعدادکا تعین کیجیے ۔
●کون بڑا ہے : 6.456 یا 6.465 ؟
اس کا جواب دینے کے لیے، ہم عددی خط کااستعمال کرسکتے ہیں تاکہ دونوں اعشاری اعدادکی جگہ معلوم کی جائے اوردکھایاجائےکہ کون بڑا ہے۔
یہ کام ہرمقامی قدر پرمتعلقہ اعداد کا مواز نہ کر کے بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے، جیسے ہم مکمل اعداد
(Whole Number)کا موازنہ کرتے ہیں۔
یہ موازنہ نیچے بصری شکل میں مرحلہ وار دکھایا گیا ہے۔ نوٹ کیجیے کہ یہ بصری خاکہ درست تناسب (Scale)پرنہیں ہے۔
|
دونوں اعداد میں 6 اکائیاں ہیں ۔ |
|
|
دونوں اعداد میں 6 اکائیاں اور 4 دسویں ہیں ۔ |
|
|
دونوں اعداد میں 6 اکائیاں اور 4 دسویں ہیں ،لیکن پہلے عدد میں صرف 5 سوویں ہیں،جب کہ دوسرےعدد میں 6 سوویں ہیں۔ |
|
ہم سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے دواعداد(یعنی سب سے بڑی عددی قدروالےہندسے)سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر ہندسے ایک جیسے ہوں تو ،ہم اگلےچھوٹے مقامی قدر والےہندسےکا موازنہ کرتے ہیں۔ ہم اس وقت تک آگے بڑھتے ہیں جب تک ہمیں کوئی ایسا مقام نہ مل جائے جہاں دونوں ہند سےمختلف ہوں۔ اس مقام پرعدد میں جو بڑاہندسہ ہو، وہی ان دونوں عدد میں بڑاہوتاہے۔
●ہم اس مقام پر موازنہ کیوں روک سکتے ہیں ؟کیا ہم اس بات کایقین کر سکتے ہیں کہ اس کے بعد جو بھی ہند سے ہوں گے وہ ہمارے نتیجےپر اثرانداز نہیں ہوں گے؟
ان میں سےکون سا اعشاری عدد بڑا ہے؟
- 1.23یا 1.32
- 3.81 یا 13.800
- 1.009 یا 1.090
قریب ترین اعشاری اعداد
اعشاری اعداد 0.9 ،1.1، 1.01اور1.11 پر غور کیجیے۔ ایسا اعشاری عدد تلاش کیجیے جو1 کے سب سے قریب ہو ۔
آئیےان اعشاری اعداد کا موازنہ کرتے ہیں ۔انھیں صعودی ترتیب میں رکھنے پر ہمیں
حاصل ہوتا ہے۔1کے پڑوسیوں میں 1.01 کی دوری 1 سے صرف
ہے،جب کہ 0.9 کی دوری 1 سے
ہے۔ لہٰذا 1،1.01 کے سب سے قریب ہے۔
●مندرجہ بالا میں سے کون سا 1.09 کے قریب ترین ہے؟
●ان میں سے کون سا عدد 4 کے قریب ترین ہے: 3.56، 3.65، 3.099؟
●ان میں سے کون ساعدد1 کے قریب ترین ہے: 0.8، 0.69، 1.08؟
●نیچے دی گئی ہر شکل میں 4، 1، 8، 2 اور 5کے ہندسوں کوصرف ایک مرتبہ استعمال کرتے ہوئے ایسا اعشاری عدد بنائیے جو 25 کے سب سے قریب ہو۔
3.7 اعشاری اعدادکی جمع اور تفریق
پریا کو اپنی اسکرٹ کے لیے 2.7 میٹر کپڑے کی ضرورت ہے اور شیلجا کو اپنی قمیض کے لیے 3.5 میٹر کپڑےکی ضرورت ہے۔ کل کتنی مقدارمیں کپڑے کی ضرورت ہے؟
ہمیں 2.7 میٹر 3.5+ میٹر کا حاصل جمع نکالنا ہے۔
پہلے ہم نے دیکھا تھا کہ
3 +
2کوجمع کیسے کیا جاتا ہے؟(اسے نیچے بھی دکھایاگیا ہے)۔کیا آپ
اعشاری علامت کا استعمال کرتے ہوئے بھی اس جمع کوحل کرسکتے ہیں؟ اس کا طریقہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
اپنے مشاہدات بتائیے۔
کل درکارکپڑے کی مقدار 6.2 میٹر ہے۔
●شیلجا کا کپڑا پریا کے کپڑے سے کتنا لمبا ہے؟
اس کے لیے ہمیں 3.5 میٹر – 2.7 میٹر کا فرق معلوم کرنا ہے۔ پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ
2 –
3 کا فرق اور 3.5 میٹر – 2.7 میٹرکیسے حساب کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ آ پ دیکھ سکتے ہیں، مکمل اعداد کےجمع اور تفریق کے لیے جوعمومی طریقہ کار ہوتاہے وہی طریقہ اعشاری اعدادکی جمع اور تفریق میں بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔
691. 75.345+86کے حاصل جمع کےلیے مقامی قدرکی تفصیلی وضاحت نیچے دی گئی ہے۔اس کا مختصر طریقہ کاراس کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
●77.345 – 84.691کے لیے تفصیلی مقامی قدر کا حساب اور اس کامختصرطریقہ کاربھی لکھیے۔
معلوم کیجیے
1. حاصل جمع معلوم کیجیے
|
|
|
|
|
|
|
|
2 . تفریق کیجیے
|
|
|
|
|
|
|
|
اعشاریہ تسلسل(Decimal Sequences)
اس اعشاریائی تسلسل کا مشاہدہ کیجیے اور ہر رکن کے بعد آنے والی تبدیلی کوپہچانیے۔
4.4, 4.8, 5.2, 5.6, 6.0, …
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر رکن میں 0.4کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ اگلا رکن حاصل کیا جا سکے ۔
●اس تسلسل کو جاری رکھیے اور اگلے تین ارکان لکھیے ۔
اسی طرح تبدیلی کی شناخت کیجیے اور نیچے دیے گئے اور ہرتسلسل کے لیے اگلے 3 ارکان لکھیے ۔اس حساب کو ذہنی طور پر کرنے کی کوشش کیجیے۔
|
|
|
|
|
|
|
|
●اپنے تسلسل خود بنائیے اور اپنے ہم جماعتوں کو اس پیٹرن کو آگے بڑھانے کے لیے چیلنج کیجیے۔
جمع اور تفریق کا تخمینہ لگانا
سونو نے اعشاری اعداد کی جمع اور تفریق کے تخمینے کا مشاہدہ کیا اور کہاکہ” اگر ہم دو اعشاری اعداد کو جمع کرتے ہیں تو ان کا حاصل جمع ہمیشہ ان کے مکمل عددی حصوں کے حاصل جمع سے بڑا ہوگا ۔نیز یہ حاصل جمع ان کے مکمل عددی حصوں کے حاصل جمع میں 2 سےزیادہ عدد سے ہمیشہ کم ہوگا۔“
آئیے اس دعوے کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
اگر جمع کیے جانے والے دو اعداد 25.936 اور 8.202 ہوتوسونوکے دعوی کے مطابق ان کا حاصل جمع 25+8 (مکمل عددی حصّہ)سے بڑا ہوگااوران کا مجموعہ25+1+8+1 سے چھوٹا ہوگا۔
●اس دعوے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ 2اعشاریہ اعداد کے لیے ہمیشہ درست ہوگا؟
●25.93603259اور 8.202کےحاصل جمع کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟
●اسی طرح کوئی ایسا طریقہ بتائیے جس سے دواعشاری اعداد کی تفریق کے لیے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ان کی تفریق کن مکمل اعداد کے درمیان ہوگی۔
استاد کے لیے نوٹ: حساب کے پہلے نتیجے کا تخمینہ لگانا حل میں ہونے والی کسی غلطی کوپہچاننے میں مدد کرسکتا ہے۔
3.8 اعشاری نظام کے بارے میں مزید معلومات
اعشاری نقطےاور پیمائش کی غلطی کے خطرناک نتائج
اعشاری نقطہ اور اکائی کی تبدیلی میں ہونے والی غلطیاں بعض اوقات معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہاں کچھ اصل واقعات پیش کیے گئے ہیں جن میں ایسی غلطیوں کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔
- 2013 میں ایمسٹر ڈم سٹی کونسل (نیدرلینڈ)کے مالیاتی دفتر نے غلطی سے رہائشی امداد میں 188 €ملین بھیج دیے جب کہ مطلوبہ رقم 1.8 €ملین تھی، یہ غلطی ایک پروگرامنگ کی خرابی کی وجہ سے ہوئی، رقم یورو سینٹس کے بجائے مکمل یورو میں رقم ادا کردی گئی۔(1 یوروسینٹ = 1/100 یورو)
- 1983 میں، ایک اعشاری غلطی سے ایئر کینیڈا کی بوئنگ 767 پر ایک بڑاحادثہ ہوتے ہوئے بچا۔ گراؤنڈ اسٹاف نے ایندھن کا غلط حساب لگاتے ہوئے22,300پاؤنڈ لوڈ کیا جب کہ کلو گرام کی ضرورت تھی، جو کہ تقریبا نصف مقدار ہے (1پاؤنڈ ~ 0.453 کلوگرام)۔ اس لیےہوائی جہاز کا ایندھن پرواز کے دوران ختم ہو نے لگاجس کی وجہ سے پائلٹ کو ایک متروک ایئر فیلڈ پر ہنگامی (Emergency) لینڈنگ کرانی پڑی ۔خیر خوش قسمتی سے سبھی مسافرزندہ بچ گئے۔
دوائیاں دیتے وقت اعشاری اعداد کو غلط پڑھنےکی وجہ سے کئی حادثات پیش آئےہیں۔ مثال کے طور پر، 0.05 ملی گرام کو 0.5 ملی گرام پڑھنا دوائی کی مقدار کو تجویز کردہ مقدار سے 10گنا زیادہ استعمال کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ لہذا اکائیوں اور اعشاریہ نقطہ کی جگہ پر توجہ دینا اہم ہے۔
گمراہ کن اعشاری علامت
سریوکو ایک پیغام ملتا ہے: ‘‘بس 4.5گھنٹے بعد شام میں اسٹیشن پہنچے گی۔’’ بس کب اسٹیشن پہنچے گی : شام4:05، شام4:50 ، شام 4:25؟
ان میں سے کسی وقت بھی نہیں! یہاں 0.5گھنٹے کا مطلب ہے کہ ایک گھنٹے کو 10 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے اور اس میں سے 5 حصے لے لیے جائیں۔ ہر حصہ 6 منٹ (60 منٹ/10 ) لمبا ہوگا۔ 5 ایسے حصے 30 منٹ بناتے ہیں۔ لہذا بس شام 4:30 بجے اسٹیشن پہنچے گی۔
یہاں اعشاریہ غلطی کی ایک چھوٹی سی کہانی دی جارہی ہے: ایک لڑکی نے ایک کھلے حصے کی چوڑائی کو 2 فٹ 5 انچ ناپا لیکن بڑھئی سے 2.5 فٹ چوڑا دروازہ بنانے کے لیےکہا ۔بڑھئی نے2فٹ6 انچ چوڑا دروازہ بنایا (کیوں کہ 1فٹ= 12 انچ ،0.5 فٹ= 6 انچ) اور اس طرح دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
اگرآپ کرکٹ دیکھتے ہیں توآپ نے اعشاریہ جیسے دکھنے والے عدد دیکھے ہوں گے ۔ جیسے’ بقیہ اوور5.5 ‘ہیں ۔ کیا اس کا مطلب 5اوور اور 5 گیندیں ہیں یا 5 اووراور 3 گیندیں؟ یہاں 5.5 اوورکا مطلب
5 اوور ہے (چوں کہ ایک اوور= 6گیندیں) ،یعنی 5اوور اور 5 گیندیں۔
ہم اور کہاں ایسی ’غیر اعشاریہ‘علامات دیکھ سکتے ہیں، جو اعشاریہ جیسی نظرآتی ہیں؟
تاریخ کی ایک جھلک — وقت کے ساتھ اعشاری علامت
اعشاریہ کسرات( یعنی کسرات جن کے نسب نما
،
،
وغیرہ ہوں ) کا استعمال قدیم ہندوستانی ماہرین فلکیات اور ریاضی دانوں کے کاموں میں پایاجاتا ہے ۔جن میں آٹھویں صدی کے شر ی دھرآچاریہ کے حساب اور الجبرا پر اہم کام بھی شامل ہیں۔ اعشاری علامت ،جو کہ اپنی جدید شکل میں ہے ،کی تفصیلات عرب ریاضی داں ابو الحسن اقلیدسی نےتقریباً950 عیسوی میں ’کتاب الفصول فی الحساب الہندی‘( ہندوستانی حساب پر مبنی ابواب کی کتاب) میں بیان کی ہیں۔انھوں نے عدد0.059375 کو
کی صورت میں ظاہرکیا۔
15ویں صدی میں، مکمل اعداد کو کسری حصوں سے الگ کرنے کے لیے ،کئی مختلف علا مات استعمال کی گئیں:
- مکمل عددحصے کے آخری ہند سےکو عمودی نشان سے ظاہر کیا ( جیسا اوپر دکھایا گیا ہے)،
- مختلف رنگوں کا استعمال اور
- کسری اعشاریہ مقامات کی تعداددکھانے کے لیےعددی بالائی ہند سہ (مثلاً 0.36کو2^36کے طور پر لکھاجائے گا)۔
16 ویں صدی میں اسکاٹ لینڈ کے ایک ریاضی داں جان نیپئر (John Napier)اور جرمن ریاضی داں کرسٹوفر کلیوئس (Christopher Clavius)نے نقطہ( ’.‘) کو مکمل عدد اور کسری حصوں کو الگ کرنے کے لیے استعمال کیا، جب کہ فرانسیسی ریاضی داں فرینکوئس وئیٹے (François Viète) نے سکتہ(،) کا استعمال کیا۔
فی الحال، کئی ممالک صحیح عدد اور کسری حصہ کو الگ کرنے کے لیے سکتہ کا استعمال کرتے ہیں۔ان ممالک میں 1,000.5 عدد کو 1000,5کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ لیکن اعشاری نقطہ، مقامی قدرکےنظام میں کسری حصےوالے اعداد کو لکھنے کے لیے سب سے مقبول علامت کے طور پر برقرار ہے۔
معلوم کیجیے
1. مندرجہ ذیل کسروں کو اعشاریوں میں تبدیل کیجیے :
2. مندرجہ ذیل اعشاریوں کو دسواں، سوواں اور ہزارواں کے حاصل جمع میں تبدیل کیجیے:
.3. نیچے دیے گئے عددی خط پر درج ہر حرف کون سے اعشاری عدد کی نمائندگی کرتا ہے؟
4. مندرجہ ذیل مقداریں نزولی ترتیب (descending order)میں لکھیے ؟
- 11.01, 1.011, 1.101, 11.10, 1.01
- 2.567, 2.675, 2.768, 2.499, 2.698
- 4.678 g, 4.595 g, 4.600 g, 4.656 g, 4.666 g
- 33.13 m, 33.31 m, 33.133 m, 33.331 m, 33.313 m
5. ہند سے 8،0،4،1 اور6کا استعمال کرتے ہوئے درج ذیل اعداد بنائیے:
(a) 30سے قریب ترین اعشاری عدد
(b) 100اور 1000کے درمیان سب سے چھوٹا ممکنہ اعشاری عدد۔
6. کیا زیادہ ہندسوں والا اعشاری عدد کم ہندسوں والے اعشاری عدد سے بڑا ہوگا ؟
7. ماہی 0.25کلوگرام سیم ، 0.3 کلوگرام گاجر، 0.5 کلوگرام آلو ، 0.2 کلوگرام شملہ مرچ اور 0.05کلوگرام ادرک خریدتی ہے۔ اس کے ذریعے خریدی گئی اشیاکا کل وزن معلوم کیجیے۔
8. پنٹوشروعاتی تین دنوں میں دودھ کی ڈیری کو 3.79 لیٹر، 4.2 لیٹر اور 4.25 لیٹر دودھ فراہم کرتا ہے۔ 6 دنوں میں وہ کل25 لیٹر دودھ فراہم کرتا ہے۔ آخری تین دنوں میں ڈیری کو فراہم کی گئی دودھ کی مقدارمعلوم کیجیے۔
9. ٹنکوکا وزن جنوری میں 35.75کلوگرام اور فروری میں 34.50کلوگرام تھا۔ کیا اس کا وزن بڑھا یاکم ہوا؟کتنی تبدیلی آئی؟
10. پیٹرن کوآگے بڑھائیے: 5.5، 6.4، 6.39، 7.29، 7.28، 6.18، 6.17، ____
11. کتنے ملی میٹر مل کر ایک کلو میٹر بناتے ہیں؟
12. ہندوستانی ریلوے ای ٹکٹ بُک کرنے والے مسافروں کو اختیاری سفری انشورنس پیش کرتی ہے۔جس کی قیمت فی مسافر 45 پیسے ہیں۔ اگر ایک دن میں ایک لاکھ لوگ انشورنس کا انتخاب کریں، تو کل کتنی انشورنس فیس اداکی جائے گی؟
13. کون بڑا ہے؟
(a)
یا 
(b) ایک سوواں یا90 ہزارویں
(c) ایک ہزارواں یا90 سوویں
14. دیے گئے مقداروں کو اعشاریہ کی شکل میں لکھیے (ایک مثال دی گئی ہے):
(a) 87اکائیاں،5دسویں اور 60سوویں= 88.10
(b) 12دہائیاں اور12دسویں
(c) 10دہائیاں،10 اکائیاں،10دسویں اور10سوویں
(d) 25دہائیاں،25 اکائیاں،25دسویں اور25سوویں
15. ہرہندسے 0سے 9 کوزیادہ سے زیادہ ایک باراستعمال کرتے ہوئے ، نیچے دیے گئے خانوں کو اس طرح پُرکیجیے کہ حاصل جمع 10.5کے قریب ترین ہو:
16. مندرجہ ذیل کسروں کو اعشاریہ کی شکل میں لکھیے:
• ہم درست پیما ئش حاصل کرنے کے لیے ایک اکائی کو چھو ٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔
• ہم نے ہندوستانی عددی قدری نظام کو وسعت دی (بڑھایا) اور دیکھا کہ
- 1اکائی = 10دسویں حصے،
- 1دسواں = 10 سوویں حصے ،
- 1سوواں = 10ہزارویں حصے،
- 10سوویں حصے = 1دسواں،
- 100سوویں حصے = 1اکائی۔
• کسی عدد کا مکمل عدد ی حصہ اس کے کسری حصے سےالگ کرنے کے لیے ایک اعشاریہ نقطہ(’.‘) استعمال کیا جاتا ہے ۔
• ہم نے یہ بھی سیکھا کہ اعشاری اعداد کا موازنہ کیسے کیاجائے، انھیں عددی خط پر کیسے ظاہرکیاجائے نیزجمع اور تفریق کس طرح انجام دیےجائیں۔



